by adbimiras
0 comment

قدیم کامی- عمران شمشاد

(سید کامی شاہ کے مجموعہ کلام قدیم کے لیے لکھا گیا)

یہ پچھلی صدی کی بات ہے جب کامی سے ملاقات ہوئی۔ ان دنوں میں اپنے کمپیوٹر سینٹر میں سارا دن مانیٹر کی اسکرینوں اور کی بورڈز سے کھیلتا۔ اور رات کتابوں، غزلوں، نظموں اور کہانیوں کے ساتھ جیتا۔ ایک مشاعرے میں ہماری ملاقات ہوئی اور پھر ہم ہر ہفتے ملنے لگے۔

 

اسٹوڈنٹس کے جانے کے بعد ون گروپ آف ایجوکیشن میں جیسے ایک پنڈال سج جاتا۔ کامی شاہ، علی بابا، شکیل احمد، علی عمران اور دیگر دوست رات کی تاریکی میں ون گروپ آف ایجوکیشن میں پوری تیاری کے ساتھ اکٹھے ہوتے۔ میں نظمیں سناتا، شکیل غزلیں اور کامی زیادہ تر اپنی کہانیوں کے ساتھ ظاہر ہوتا۔ ان دنوں کامی کی غزلوں میں بھی کہانیوں کی جھلکیاں دکھائیں دیتیں۔ جیسے کہ یہ مصرع ’’جیسے کوئی تنہا لڑکی خالی گھر میں‘‘۔ اس مصرع میں آپ اپنی کوئی بھی کہانی سجا سکتے ہیں۔

ساری ساری رات ہم شعروں، فلسفوں، فلموں اور المیوں پر باتیں کرتے، انجانی سرحدوں پر قدم رکھتے۔ ایک دوسرے کی تخلیقات کی گہرائیوں میں سفر کرتے اور سورج چڑھتے ہی اپنے اپنے گھروں کی طرف روانہ ہوجاتے۔

یوں ہمارا تخلیقی سفر آباد ہوتا رہا۔ اور ون گروپ آف ایجوکیشن تباہ و برباد۔ ون کے بعد ہمارا اگلا مسکن تھا اللہ والا ہاﺅس۔ جہاں سردیوں کی راتوں میں آگ دہکائی جاتی، آگ کی لپٹیں چہرہ چہرہ سفر کرتیں اور ہم شعر شعر سانس لیتے۔ وقت کے ساتھ ساتھ وقت اور مقام بدلتے گئے لیکن ہماری دوستی اور شاعرانہ روشنی بڑھتی گئی۔ اس تمام عرصے میں چاہ کے کئی در کھلے لیکن کامی ایک ہی راہ کا راہی رہا۔ بڑی بڑی مشکلوں سے گزرا لیکن اس کے قلم کی جنبش کبھی مدہم نہیں ہوئی۔ عجیب عجیب سانحات سے نبرد آزما ہوا لیکن تخلیقی وفور کہیں کم نہیں ہوا بلکہ بڑھتا گیا۔ کامی کا تجسس اسے راتوں کے اندھیروں میں پراسرار گلیوں میں بھی لیے پھرا۔ نیوز چینلز کی صحافتی ذمے داریاں بھی پیروں میں پڑیں، معاشی مسائل نے اسے جڑوں سے اکھاڑنے کی کوشش بھی کی لیکن ہرمشکل، ہر آفت، ہر مصیبت کی آگ اسے جلا کر اور نکھار دیتی۔

جہاں پیدل یار دوست گاڑیوں میں سفر کرنے لگے، پیسہ زبان کے الفاظ، آنکھوں کے اشارے اور چہروں کے تیور بدلتا رہا لیکن کامی شاہ ان سب سے بے گانہ اپنے شعر و ادب کے خزانے میں غزلوں اور نظموں کے سکے جوڑتا رہا۔ یہ جو لفظ ”جوڑ“ ہے، اس لفظ کا کامی کی شخصیت سے بڑا گہرا تعلق ہے۔ جہاں کہیں اچھا شعر سنا تو سمجھ لیجئے وہ شاعر کامی سے جڑ گیا۔ ادب کے میدان میں آنے والے نئے کھلاڑی اکثر اس کے گھر کا رخ کرتے۔ کامی ان کی غزلیں نظمیں لے کر رسالوں میں بھیجتا۔ ان نئے کھلاڑیوں کو مشاعروں میں بلواتا، انہیں نئی راہیں دکھاتا۔ انہیں شاعری کے رموز سکھاتا لیکن اکثر نئے پرندے کامی شاہ کے کاندھے سے اڑ جاتے، کبھی نہ واپس آنے کےلیے۔ کامی ان سب سے بے نیاز تخلیق کی نئی پرواز پر دھیان مرکوز رکھتا۔ ( یہ بھی پڑھیں اردو میں تضمین نگاری کی روایت -طفیل احمد مصباحی )

دھیان اور آگہی کے ملاپ کا پہلا صلہ کامی کو ’’تجھ بن ذات ادھوری ہے‘‘ کی صورت میں ملا اور دوسرا صلہ دس برس بعد ’’قدیم‘‘ کی شکل میں ہم سب کے سامنے ہے۔

میں سمجھتا ہوں کسی بھی مقصد کے حصول کےلیے بنیادی شرط یکسوئی ہے۔ اور کامی شاہ میں یکسوئی کی طاقت جڑوں تک موجود ہے۔ وہ زمانے سے بے پرواہ بس ایک ہی کنواں کھودتا رہا کیونکہ اسے یقین تھا پانی یہیں سے نکلے گا۔

وہ ذات اور کائنات کا مطالعہ کرتا رہا۔ میں، خدا اور کائنات کی تثلیث پر غوروفکر کرتا رہا۔ نابود و بود کے منظر بناتا مٹاتا رہا۔ اپنی تخلیقی آگ سے اشعار کے کندن بدن تراشتا رہا۔ کامی کی ذہین آنکھیں جہاں اسے زمانے کی اونچائی نیچائی سے آشنا کرتی رہیں، وہیں اس کا وجدان اسے من کی کائنات کی حیرت انگیزیاں دکھاتا رہا۔ دنیا اسے کچھ بھی کہتی رہی، لیکن وہ من سمندر کی دلکشی میں کھویا رہا۔ ایک عجیب سا تخلیقی وفور اس کی انگلیوں میں مچلتا ہے۔ یہ ہی وفور اسے معلوم سے نامعلوم کی طرف کھینچتا رہا۔ اور نامعلوم سے معلوم کے بیل بوٹے بنواتا رہا۔ اور میں سمجھتا ہوں یہ ہی وفور اسے زمان و مکان کی وسعتوں کے پار نئی دنیا کی وہ سیر کراتا ہے جہاں مقصد اور حسن کا ملاپ ہوتا ہے۔

کامی شاہ کیفیت سے خیال کو جنم دیتا۔ خیال کو خواہش کی بھٹی میں پکاتا۔ خواہش کو ارادے کی راہ پر گامزن کرتا اور ارادے کو نتیجہ سے ملا کر دم لیتا۔ اس سفر میں کامی کا ندیم وہ صبر قدیم ہے جو اسے ہار ماننے نہیں دیتا۔ اور ناکامی کی کسی دلیل سے متاثر ہونے نہیں دیتا۔ کیونکہ وہ جو بھی کام کرتا ہے دھڑلے سے کرتا ہے۔

کسی سے نفرت ہے تو سامنے کی ہے۔ کسی سے محبت کرتا ہے تو بے دھڑک کرتا ہے۔ جو بات غلط محسوس ہو، منہ پر پھٹ پڑتا ہے۔ یہ ہی سچائی اس سے منہ پھٹ نظمیں تخلیق کرواتی ہے۔ یہ ہی سچائی اسے اپنے اندر کے تیزاب اور آگ سے روشناس کراتی ہے۔ یہ ہی سچائی اسے اس بے ہنگم معاشرے میں حسن کی تکمیل کی سنہری جھیل دکھاتی ہے۔

میں نے بہت کم لوگ دیکھے ہیں جو ایک ہی خواب مسلسل دیکھتے ہیں۔ ایک ہی خواہش میں مسلسل جیتے ہیں۔ ایک ہی راہ پر مسلسل چلتے ہیں۔ ایک ہی آگ میں مسلسل جلتے ہیں۔ لیکن کامی شاہ میرا دوست ایسا ہی ہے۔

آج سے پندرہ بیس برس قبل اس کے پاس ایک نعرہ تھا۔ ایک ادارہ تھا۔ ایک ارادہ تھا۔

ایک فرد، ایک کتاب، ایک چراغ

آج بھی وہ اپنے اسی نعرے پر قائم ہے۔ اپنے ارادے پر قائم ہے۔ اور کامی شاہ کا یہ قائم رہنا ہی اسے دائم رکھنے کے لیے کافی ہے۔ کامی میری دعا ہے خالقِ کائنات تمہارا تخلیقی سفر قائم و دائم رکھے اور تمہارے قدیم خوابوں کی تعبیر تمہارے قدموں میں رکھ دے۔

کامی کی شاعری میں میر کی تہذیب کی جھلکیاں بھی ہیں، غالب کی نکتہ آفرینی بھی ہے، آتش کے منہ زور شعلے بھی ہیں، ثروت کی اثاتیری پراسراریت بھی ہے اور جدید دور کی مشینوں میں پستے ہوئے گلابوں کے عذاب بھی ہیں۔

میں آپ سب کو دعوت دیتا ہوں۔ آیئے کامی شاہ کی رنگین، حسین، سنگین اور بہترین دنیا کا دروازہ کھٹکھٹائیے۔ اور پھر دیکھئے آپ سے رنگ کیسے باتیں کرتے ہیں۔ شہزادیوں اور پریوں کے لبوں سے کیسے کیسے جھرنے بہتے ہیں۔ کیسے کیسے پھول، پودے، دریا، سمندر، پربت اور موسم آپ پر کھلتے ہیں۔ آئیے بھیدوں بھرا قدیم دروازہ آپ کا منتظر ہے۔

یہ سب زمین کے موسم یہ آسمانِ قدیم
مری نگاہ میں رکھے ہیں سب زمانے قدیم

سمے کے ساتھ میں پھیلا ہوا ہوں تا بہ ابد
مرے وجود سے قائم ہے یہ جہانِ قدیم

فلک نژاد ستاروں کے سلسلے سے پرے
مرا چراغ بنایا ہے اس خدا نے قدیم

میں بارگاہِ ہوس سے فرار کیسے ہوا
کبھی سناﺅں گا تم کو یہ داستانِ قدیم

کھلا رہے گا ابد تک برائے دل زدگاں
یہ خواب زارِ محبت، یہ آستانِ قدیم

تری گلی میں بھی ہنگامہِ ہوس ہے وہی
کھلی ہوئی ہے یہاں بھی وہی دکانِ قدیم

نہ جانے کون سی منزل کی راہ تکتا ہے
خلا میں گھومتا پھرتا یہ خاکدانِ قدیم

یہ دل یہ سینۂ آدم میں روشنی کا سراغ
،،یہ سنگ سرخ ہے کامی مرا نشانِ قدیم

 

تحریر : عمران شمشاد، کراچی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

You may also like

Leave a Comment