تنویر احمد تما پوری کا افسانہ کیمیاگر – نثار انجم

by adbimiras
0 comment

مطالعاتی وصف سے مزین ایک نۓاور تجرباتی اسلوب میں تحریر کیا گیا ہے۔ سفر یا رداد کے پیراۓ اظہار ایک پر تعیش زندگی کا snap shot الگ الگ زاؤۓ سے لیا گیا ہے ۔ یہاں شیخ جاسم ایک تقدس بھر انام نہیں ہے بلکہ مالک اور مزدور کی علامت بن کر آرہا ہے۔ عرب ایک تقدس بھرے نام سے الگ ملک بھی ہے۔راوی کی حیثیت ایک مہاجر مندوب کی ہے ۔وہ اپنے سابقہ تجربے کی روشنی میں مجبور مزدوروں کی محنت ، کام ، اجرت،قطر کی پیٹرو ڈالر کی پر تعیش معاشرے والی زندگی اور قطر کے شیوخ مالکوں کو انکی بنیادی ثقافتی تناظر میں دیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ (افسانہ پڑھیں کیمیاگر –  تنویراحمد تماپوری)

انٹر نیشنل لیبر لاز international labour laws کا زاویہ نظر بھی ایمان سالم کے ذہن میں کہیں ہو جو اس کیمسٹری سے اسے سو چنےکے لۓ اکسا رہا ہو۔ راوی عرب میں کام کرنے والے مجبور مزدوروں کو اسلامی محنت اور صلے کے میزان پر رکھ کر دیکھ رہا ہے۔۲۵سالہ تجربہ مشاہدہ اور عربی کفیلی نظام کے جانکار کے قلم سے نکلنے والی تحریر ہے۔( یہ بھی پڑھیں ‘‘آخری سردار’’ :ایک علامتی اور استعاراتی افسانہ : ڈاکٹر زاہد ندیم احسن)

بہترین لینڈ اسکیپ کے ساتھ افسانہ طلسم ہوش ربا بیان ،ڈوبتے سورج کی مٹکی سے ٹپکنے والی مادی قطرینی رس بھری زندگی کے ساتھ لذت کو انگیز کرتا ہوا قاری کی فکر پر دستک دیتا ہے۔فکر پر دستک دینے والی یہ فطری زندگی شناختی بحران کی عکاسی کرتی ہے۔گر چہ اس کے جلو میں شوق کو انگیز اور شہوت کو بجلی بھرنے والی خوش رنگ تتلیاں بھی ہیں۔پام کے پیڑ جیسے لمبے قد کی میلین مسکراہٹ والی فضائی حسینہ بھی ہیں۔بوٹیکس ،لاریال،ڈینم سے نکھاری گئ زندگی کے ریمپ پر کیٹ واکcat walk کرتی ہوئی شامی نزاد زیرو سائز دوشیزائیں بھی ہیں۔راوی اسی نظام زندگی کا ایک حصہ ہے ۔یہاں ہم ایک تعئش بھری زندگی کی تھری ڈی متحرک تصویریں دیکھتے ہیں ۔

ریشم کے تھان اور کیمرج کے کاک ٹیل سے مرصع اور مقفی زبان والی خوش باش زندگی بھی جو پانچ ستارہ ہوٹل کے شیراٹن میں عمر خیام کی غزل پر تھرکتی رہی ہے ۔ نئ تہزیب اور کاک پٹ کوئین cockit queen میں بیٹھی کمفورٹ زون کی لکژریس زندگی اپنی عبا سے باہر لینڈینگ لپس landing lips کے کوسموٹک سفوف کے ساتھ اپنی عشوہ طرازیاں بکھیرتی epicentre بنی ہوی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں  ذکیہ مشہدی کا افسانہ اجن ماموں کا بیٹھکہ – نثارانجم)

افسانہ کیمیا گر ترسیلی ٹرافک کنٹرول traffic control کے رڈار سے اشارہ پاتے ہی مصنف کے تخیلی ہیلی پیڈ سے ٹیک آف take off کرتا ہوا اسلوب کے رن وے پر سحر انگیز بیانیہ کے سے لیس مرصع ادبی اسلوب افسانوی ایروڈرم aerodram لینڈنگ ایریا پر اترتاہے۔ افسانوی رموز کنٹرول ٹاورcontrol tower کے رابطہ میں ہے۔۔انکھوں کو خیرا کرنے والا یہ سفر فلائی بوائز،

کاؤ بوائز اور پام قامت ہوأئی حسینہ کے ساتھ رن وے پر کھڑا ہے۔راوی چیک ان ، چیک ان ڈیسکcheck in desk کے مراحل سے گذرتا ہو بورڈنگ پاس کے ہمراہ اسکینرscanner کی سیکوریٹی پھر بیگیج ایریا کو عبور کرتا ہوا زندگی کو زومzoom کرکے دیکھنے کی خواہش میں راوی ریمپ ریٹ ramp ratسے اپنی زندگی کاندھے پر ڈال افسانوی فلائٹ پر سوار ہوجاتا ہے۔یہاں زندگی کو دیکھنے کے الگ الگ زاوۓ ہیں ،الگ الگ حد فاصل ہیں، وقت کے الگ الگ ٹأئم اسٹامپ ہیں،الگ الگ انسانی نفسیات ہیں۔قطر ائیر ویز کے tail دم میں بیٹھ کر زندگی کا ایک Bird view دراصل زندگی کے معا ئب سے بے خبری اور اس کے محاسن کی باخبری بن کر منظر میں چھن کر أیا ہے۔ پانچ ستارہ کے گہوارے میں ایک پر تعیش زندگی کا قریبی مشاہدہ ماضی اور حال کے حوالے سے افسانے میں ایا ہے ۔جسمیں ہم بدو سے جاسم شیخ تک کی تہذیب کے ٹوٹ کر بکھرنے اور بننتے ہوۓ دیکھتے ہیں۔خیمے سے برج خلیفہ والی تہذیب کے سفر میں الگ الگ متحدہ عمارت والی تہذیب دف سے مغر بی فیوژن تک الگ الگ رنگ اور ڈھنگ میں أئی ہے۔

"آج سے کچھ سال پہلے تک یہاں کسی عوامی مقام پر اس طرح کسی حسین لڑکی کا بے پردہ گھومنا ناممکنات میں سے تھا لیکن اب زمین کے اوپر حالات بدل رہے ہیں لہذا نظریات بھی بدل رہے ہیں اور نظارے بھی ”

نظارے کے ساتھ افکار کی بدلی ہوئی نئی معاشرتی ثقافت مادی راحتوں کے ساتھ زندگی گلاب مسک اور عود کے میٹھے حمام میں غسل کیف میں مست ہے جبکہ دوسری طرف مزدور کے ہاتھ کان سے ہیرا نکالنے میں مصروف۔

ان تمام الگ الگ رنگوں میں ایک رنگ مزدوروں کے استحصال کے خلاف احتجاج کا رنگ ہے جو نیم جان مادیت اور مفاہمت کے شوخ رنگوں میں اوور شیڈیڈ ہوگیا ہے۔”أدھی صدی پہلے تک اونٹ نا می ریگستانی جہاز پر سفر کرنے والے ان خانہ بدوشوں میں سے کچھ کے پاس آج خود کا اپنا ہوائی جہاز ہے۔ کئی صدیوں تک کپڑے کے خیموں میں سردی گرمی جھیلنے والے یہ بدو اب بلڈنگ بلڈنگ کھیل رہے تھے”

پاولو کوہیلو کے Alchemist کا مرکزی کردار خواب اور عقل کی مدد سے وہ خزانہ تلاش کرنے کے لۓ نگری نگری خاک چھانتا ہے ۔جو خزانہ اسے اپنے سفر کے پہلے ہی پڑاؤ پر پڑا ہوا تھا۔جہاں سے اس نے تلاش شروع کی تھی۔یہاں زندگی کو کندن بنانے والے alchemist وہ مجبور مزدور ہیں جو اپنے بیوی بچوں سے دور انکی کفالت کی روٹی کی خاطر شیخ جاسم جیسے لوگوں کے لۓ ہیرے کے کانوں سے ہیرے نکالتے ہیں۔ ایمان سالم یہاں کردار نہیں بلکہ حالات سے مطابقت رکھنے والی وہ عقل ہے جسے خوب پتہ ہے کہ یہ پیٹرو ڈالر جدوجہد کی کیمیا گری نہیں بلکہ ان غیر ملکی مزدوروں کی عرق ریزی کے وہ کوہ نور ہیں جو ان کی پیشانیوں پر نمودار ہوتے ہیں جنہیں یہ شیوخ کشید کر لیتے ہیں۔  (یہ بھی پڑھیں سرشاخ گل – صائمہ ذوالنور)

"یہ کیمسٹری اصل میں غریب اور مجبور غیر ملکی مزدوروں کے خون پسینے کی ہے۔”

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

You may also like

Leave a Comment