ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ ہما شیرازی

by adbimiras
1 comment

دنیا میں کتنی ہی زبانی ہیں اور کتنی ہی بولیاں ہیں  ہر زبان اور ہر بولی میں فکر و احساس کا تخلیقی ادب موجود ہے۔ اس خزانے سے لطف اندوز ہونے کے لیے ترجمے کا سہارا  لینا پڑتا ہے۔ ہر زبان اور بولی میں لوگ گیت، سنگیت، اساطیر، حکایتیں،  داستانیں، قصے کہانیاں اور ہر پل بدلتے ہوئے  حالات کے عکس حرکت پذیر ہوتے ہیں اور مخصوص تہذیب میں پرورش پاتے ہیں۔ اس پس منظر میں مختلف اقسام کے  ادب اور علوم ظاہر ہوتے ہیں دنیا کے مختلف ممالک ان تک رسائی  حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس کی ایک کوشش ترجمہ ہے۔

”کسی تحریر، تصیف، یا تالیف کو کسی دوسری زبان میں منتقل کرنے کا عمل  ترجمہ کہلاتا ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ ترجمہ کسی متن کو دوسری زبان میں منتقل  کرتے ہوئے اس کی تعبیر کرتا ہے۔ یعنی ترجمے کا عمل ایک علمی یا ادبی پیکر کو دوسرے پیکر میں ڈھالنے کا عمل ہے۔”

ترجمہ اپنے اندر اہمیت و افادیت کے بہت سے پہلو رکھتا ہے غالباَ ان سب  پہلوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے گوئٹے نے کہا تھا

”جملہ امورِ میں جو سرگرمیاں سب سے ذیادہ اہمیت اور قدروقیمت رکھتی ہیں،ان میں ترجمہ بھی شامل ہے”(1)

ترجمے کی ضرورت و اہمیت نہایت مسلمہ ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں ترجمہ انسانیت کی خدمت کر رہا ہے۔  اگر دیکھا جائے تو دنیا کو گلوبل ولیج بنانے میں ترجمے کا کردار نہایت اہمی کا حامل ہے۔

ترجمے کا تعلق اصل تصنیف یا عبارت سے تقریباً وہی ہے جو شہابِ ثاقب کا نجوم و کواکب سے ہوتا ہے جس طرح ایک ہی سیارے سے مختلف وقتوں میں ایک سے زائد شہابِ ثاقب نمودار ہوتے رہتے ہیں اسی طرح مختلف ادوارِ ادب میں ایک ہی کارنامے سے بار بار ترجمے نمودار ہوتے ہیں۔دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جس طرح کوئی بھی شہابِ ثاقب حتمی اور آخری نہیں ہوتااسی طرح کسی بھی ترجمے کو حرفِ آخر نہیں کہاجاسکتا۔غالباً یہی وجہ ہے کہ ’ترجمہ‘کو’رَجَمَ‘یا ’تَرَجَمَ‘سے مشتق قرار دیا گیاہے . ( یہ بھی پڑھیں ہندوستان میں اردو فن ترجمہ کی روایت – نثار علی بھٹی)

تقابلی ادبیات کے فرانسیسی نژاد امریکی پروفیسر ایلبرٹ گیرارڈ نے اپنی مایہ ناز تصنیف  World Literature  کے مقدمہ میں لکھا تھا کہ  ’’عالمی ادب کے تصور کو ایک ٹھوس حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے ترجمہ ایک ناگزیر وسیلہ ہے۔ ’’

ترجمے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ دیکھا جائے تو اس میں سب سے پہلی ضرورت مذہبی یا دینی اشاعت و اقدار کو فروغ دینا ہے۔ جس کے نتیجے کے طور پر قرآن مجید کے تراجم مختلف ادوار میں مختلف زبانوں میں ہو چکے ہیں اس کے ساتھ ساتھ انجیل کا  ترجمہ  دنیا کی مختلف زبانوں میں ہو چکا ہے۔ مگر مذہبی نوعیت کے تحریری مواد کے ترجمے کے دوران احتیاط کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔ اس ترجمے  میں عقیدت کی نسبت محتاط رہنا زیادہ ضروری ہے۔ اسی طرح اگر اردو زبان میں مذہبی تراجم کے حوالے نظر آتے ہیں۔ اردو زبان میں مذہبی تراجم کا سلسلہ  عیسائیوں سے شروع ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں بنجمن شیلر کا نام قابل ذکر ہے۔  جس نے بائبل کے چند حصوں کا ترجمہ کیا تھا۔ اس سلسلے کی کڑی آگے چل کر قرآن کے ترجمے سے جا ملتی ہے۔ جہاں پر 1772ء میں شاہ رفیع الدین نے قرآن کا اردو میں لفظی ترجمہ کیا۔ اس سلسلے  کو چلاتے ہوئے شاہ عبدالقادر 1795ء میں قرآن مجید کا اردو ترجمہ کیا۔ جو کہ نسبتاً سلیس اور رواں ہے۔ یہاں سے قرآن مجید اور دیگر اسلامی کتب کا اردو میں ترجمہ شروع ہونے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

یوں ان تراجم کے ذریعے وہ مذہبی  تقاضے جو پیغام الہی کی نشرو اشاعت کے لیے ضروری تھے ان کو پورا کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اور یوں ایک عام آدمی تک اس کی زبان میں اللہ تعالیٰ  کا پیغام پہنچ جاتا ہے۔

ترجمے کا فن قدیم دور سے رائج ہے۔ اس کی ضرورت و اہمیت ہر دور میں مسلم رہی ہے۔ والٹر بنجمن تو ترجمے کو ادب کی حیات بعد الموت کہتا ہے۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ دسویں صدی قبل مسیح اور  پانچویں صدی قبل مسیح کے درمیان قدیم ہندوستانی ادب جو کہ دیسی زبان میں تھا اور یہ زبانیں اپنا وجود کھو رہی تھیں۔ ان تمام کتب کا ترجمہ سنسکرت  میں کیا گیا۔ جو کہ ادبی حیثیت رکھتی تھی۔ اس کے بعد گیارہویں  صدی عیسوی میں مغربی ایشیا کے سپاہیوں کے ذریعے ہندوستان میں ترکی، عربی اور فارسی زبان کا عمل دخل شروع ہوا تو سنسکرت  سے تراجم ان زبانوں میں بھی کیے گئے۔ مغل دور حکومت میں بادشاہ اکبر اعظم نے کئی نوجوانوں کو باقاعدہ ترجمے کی تربیت دلا کر دربار میں ان کے تقرری کی۔ تا کہ یہ لوگ حکومت نظم و نسق میں اہم کردار ادا کرتے رہیں۔ اس طرح آج کے دور میں ہمارے پاس وہ تمام معلومات ہیں جو کہ ان زبانوں میں تھیں۔ جب کہ وہ زبانیں مکمل طور پر متروک ہو چکی ہیں۔ یا سمجھی اور بولی نہیں جاتیں۔ یہ صرف  ترجمے کی بدولت ہوا ہے کہ ان متروک شدہ زبانوں کا ادب جدید زبانوں میں موجود ہے۔ اسی کی بنا پر ایک زبان سے معلوم دوسری زبان میں پہنچ رہی ہیں۔ یعنی  وہ زبانیں جو مردہ ہو چکی تھیں ان کے علم وہ فن کے تراجم کی وجہ سے وہ زبانیں آج بھی حیات ہیں۔ اس طرح کی مثالیں ہمیں ہر دور میں ملتی ہیں۔

دنیا بھر  میں علم و فنون کی منتقلی ہو یا تہذیب و ثقافت ہو، اس کے پھیلاؤ میں ترجمے کی بہت اہمیت ہے۔ دوسرے کی بات سمجھنے اور اپنی بات سمجھانے کے لیے کسی مشترک زبان کا ہونا ضروری ہے۔ اس لیے تراجم کا عمل انسانی تہذیب و تمدن، مزاج اور تاریخ کی دریافت و شناخت کا اہم ذریعہ بن جاتا ہے۔ ترجمہ زبان کو علمی اور ادبی سطحوں پر ایک وسیع تناظر بھی مہیا کرتا ہے جس کے ذریعہ زبانیں تجربہ اور اعتماد حاصل کرتی ہیں۔ جن تہذیبوں میں دوسری تہذیبوں سے رابطہ قائم کرنے کا یہ عمل رک جاتا ہے ان کی ترقی کی راہیں محدود یا مسدود ہو جاتی ہیں، ترجمہ کی مدد سے ہی انسانی تاریخ میں فلسفہ، حکمت و تہذیب کے ارتقا کی کھوئی ہوئی کڑیاں بھی مل جاتی ہیں۔اب چاہے وہ افلاطون  یا ارسطو کی لکھی گئی قدیم یونانی زبان کی کتب ہوں، فلسفہ ہو یا بو علی سینا، رازی، فارابی یا غزالی کی عربی و علمی کتابیں ہو یا نیوٹن کی انگریزی کلیات ہوں یا کنفیوشش کے چائنی زبان میں لکھے گئے شاہکار خیالات واحساسات  ہوں۔سب کے سب ترجمہ کے عمل سے گزر کر بنی نوع آدم کا مشترکہ سرمایہ بنے ہیں۔

بقول پروفیسر محمد حسن :

”اس میں کوئی شک نہیں کہ آج جب دنیا کی طنابیں کھنچ رہی ہیں اور عالم گیر سطح پر ایک اکائی بنتا جا رہا ہے کوئی بھی زبان ترجمہ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ جب تک نئے خیالات کا خون اور نئی آگہی کا نور رگ و پے میں سرایت نہ کرے زندگی دشوار ہے۔ یہی نہیں بلکہ آج کی دنیا میں زبانوں کی مقبولیت پھیلائو اور اہمیت کا دارو مدار بڑی حد تک ان کے مفید ہونے پر ہے۔ اور افادیت کا پیمانہ یہ ہے کہ کوئی زبان اپنے زمانے کے علمی سرمایے اور ادبی ذخیرے کو کس حد تک اپنے پڑھنے والوں تک پہنچانے کی اہل ہے۔ اردو زبان کی خوش بختی ہے کہ اس نے ترجمے کی روایت کو ابتدا ہی سے اپنایا اور اپنے دریچے باہر سے آنے والی ہواؤں کے لیے کھولے اور بین الاقوامی کلچر کے نقوش سے اپنی محفل کو آباد کیا۔ اس دور تک آتے آتے وہ پرانی روایت بھی ناکافی ہوئی اور نئی دنیاکے تہذیبی سیاق و سباق نے برق رفتاری کے ساتھ ترجمے ترجمہ ایک مشکل اور کبھی کبھی ناممکن عمل ہے۔ اس کے باوجود بنیادی ضرورتوں کے پیش نظر اس امر مشکل کو کرنا ہی پڑتا ہے جس میں بے انتہا دشواریاں اور پریشانیاں در پیش ہوتی ہیں۔ مترجم کو خاردار جھاڑیوں سے اپنا دامن بچا کر منزل مقصود تک پہنچنا ہوتا ہے۔ ادبی تراجم کے سفر میں بہت ساری پریشانیاں اور کلفتوں سے دو چار ہوناپڑتا ہے۔ نثری ادب کے مقابلے شعری ادب کے تراجم میں پریشانیاں اور بڑھ جاتی ہیں۔ علوم کے ترجمے میں صرف مواد کو منتقل کرنا ہوتا ہے اسلوب کو نہیں۔ جب کہ ادبی تراجم میں ایک تہذیبی سانچے کو دوسرے تہذیبی سانچے میں، ایک شعری و نثری روایت کو دوسری نثری و شعری روایت میں منتقل کرنا ہوتاہے۔ جملوں کی ساخت، آہنگ اور اسلوب کی نیت کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے اور اسے بھی مطلوبہ زبان میں منتقل کرنا ہوتا ہے۔ اصل زبانوں کے لفظوں کے جادو کو مطلوبہ زبان کی لفظیات میں جگانا ہوتا ہے جو کہ آسان امر نہیں ہے کیوں کہ زبانوں کی نفسیات، صوتیات، نحوی ترکیب، لغات، لہجے اور محاورے ایک دوسرے سے کافی مختلف ہوتے ہیں اور ان میں ترجمہ بہت مشکل ہوتا ہے۔ مترجم کو کافیchanllengesکا سامنا ہوتا ہے اور بیک وقت بہت سارے لوازمات کو ملحوظ خاطر رکھنا ہوتا ہے”۔

غرض یہ کہ زمانہ قدیم ہو یا جدید، جتنا بھی مواد ہو چاہے علمی ہو ادبی، سائنسی ہو یا معاشرتی، ترجمے کی بدولت ہی دوسرے لوگوں تک منتقل ہو رہا ہے۔ اور بنی نوع آدم کا مشترکہ سرمایہ بن رہا ہے۔ اس لیے ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ دنیا کی ترقی و تہذیب و تمدن کی ترقی میں ترجمہ کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ ترجمے کی بدولت ہی تمام اقوام ہوں یا تہذیبیں ایک دوسرے کے علوم اور تجربے  سے روشناس ہوتے ہیں ترجمے نے ہی اس کے جمالیاتی اور وجدانی تجربے میں اضافہ کیا ہے۔ اگر ہمیں کسی تہذیب و ثقافت  کو جاننا ہے تو اس کے لیے ترجمہ ایک بہترین ذریعہ ہے اس کی مدد سے دوسری تہذیبوں کے بارے میں جانا جا سکتا ہے۔ یہ ایک دشوار ترین کام ہے کیونکہ ترجمے کا نام لیتے ہی ذہن میں جو چیز سامنے آتی ہے وہ یہ ہی ہے کہ ایک زبان کے متن کو کسی دوسری زبان میں منتقل کرکے سامنے لانا ہوتا ہے حالانکہ یہ ایک نہایت مشکل مرحلہ ہے جسے مترجم بہت مشکل سے طے کرتا ہے۔

تراجم کا عمل انسانی مزاج، تاریخ و تمدن کی دریافت کا ایک اہم اور بھرپور ذریعہ ہے انسان جو زبانوں، رنگوں اور جغرافیائی  بندشوں اور سیاسی تفرقات کے ہوتے ہوئے  بھی ایک دوسرے کی ذات کے لیے اجنبی ہوتے ہیں۔ ترجمے کے ذریعے ایک زبان کو جسے وہ جانتے نہیں ہیں اپنی زبان میں ڈھالتے ہیں اور اس چیز یا علم سے آشنائی حاصل کرتے ہیں۔

جیلانی کامران لکھتے  ہیں کہ:

”ترجمہ جہاں الفاظ کے ذریعے انسانی علوم  میں اضافہ کرتا ہے۔ اور ذہن کی سرحدوں کو کشادہ کرنے میں مدد فراہم  کرتا ہے تو اس میں ترجمہ کی تمدنی اور ثقافتی ضرورت بھی مضمر ہو جاتی ہے۔ وہاں ترجمہ کا عمل زبان کی ساخت کو بھی متاثر کرتا ہے۔ خیالات و جذبات کو بیان کرنے کے نئے نئے اسلوب مل جاتے ہیں۔ نئے الفاظ وضع کرنے پڑتے ہیں۔ پرانے الفاظ کو دوبارہ استعمال کرنے سے ان میں وسعت  پیدا ہو جاتی ہے نئے محاورے اور نئے محاکات دستیاب ہوتے ہیں۔ نئے علوم سے آشنائی ہوتی ہے علاوہ ازیں نئی نئی اصناف کے ساتھ ذہن کا تعارف ہوتا ہے۔ اور فکر اور تحقیق کے نئے نئے سانچے اور نئے اسالیب مل جاتے ہیں۔”

بہر حال ترجمے کی معرف نہ صرف نئے نئے خیالات پیدا ہوتے ہیں بلکہ ہم جس زبان میں ترجمہ کر رہے ہوتے ہیں اس کی قوت اظہار میں بھی نئے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ نئے اسالیب اظہار وضع کرنے کی طرف تخلیق کاروں کی طبیعت مائل ہوتی ہے۔ علم انسانی میں اضافہ اور انسانی ذہن میں کشادگی  پیدا ہوتی ہے۔

جہاں تک ترجمے کی ضرورت کا معاملہ ہے۔ ہم اس حقیقت سے کبھی نظر نہیں چراسکتے ہیں اور نہ ہی ادبی سرحدوں  پر پہرے بیٹھا سکتے ہیں۔ بالکل اسی طرح کسی مخصوص علاقے، تہذیب یازبان کے بولنے والے کے تخلیقی کام سے فائدہ حاصل کرنے میں کوئی مضائقہ یا پابندی عائد کرنا ممکن نہیں ہے۔ اور آج کے جدید دور  نے جہاں ذرائع ابلاغ کے ذریعے دنیا کو ایک دوسرے سے قریب سے قر یب  تر کر دیا ہے وہیں ہمارے لیے ضروری ہوتا جارہا ہے کہ ہم دوسری اقوام کے تہذیب وتمدن اور رسوم ورواج سے آگاہ ہوں۔ ان کے بارے میں جانتے ہوں کیونکہ کسی کے مزاج کو جانے بغیر ہم اس قوم سے دوست یا دشمنی مول نہیں لے سکتے۔ ڈاکٹر رشید امجد اس حوالے سے کچھ اس انداز میں لکھتے ہیں کہ:

”ترجمہ: وہ دریچہ ہے۔ جس سے دوسری قوموں کے احوال ہم پر کھلتے ہیں۔ لیکن جدید عہد میں یہ ایک ضرور بھی ہے۔ جس کے بغیر ہم عالمی سطح کی علمی و ادبی سرگرمیوں میں شریک نہیں ہو سکتے ہیں”

اصل میں ترجمہ دو تہذیبوں یا دو زبانوں ے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتا ہے۔ جس کے ذریعے خیالات و جزبات، تصورات ایک تہذیب سے دوسری تہذیب کی طرف یا ایک ملک سے دوسرے ملک کی طرف جاتے ہیں۔ ترجمہ بڑا مشکل کا م ہے۔ یہ نگینہ جڑ نے کا فن ہے۔ جو بڑی مہارت اور ریاضت چاہتا ہے۔ ایک زبان کے معانی اور مطالب دوسری زبان میں اس طرح منتقل کرنے کے لیے اصل عبارت کی خوبی اور مطلب جو کا توں باقی  رہے۔ دونوں زبانوں پر یکساں قدرت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو عام طور  پر کامیاب ہوتی ہے ۔

کسی بھی قوم، تہذیب یا معاشرے میں ترجمے کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے۔ تہذیبی زندگی کے آغاز سے لے کر موجود سائنسی بلکہ ایٹمی دور ی تعمیر و تشکیل نو میں ترجمعہ کا کردار اہم رہا ہے۔ کیونکہ قدیم ترین علوم و فنون اگر آج بھی زندہ ہیں، اس کی وجہ صرف ترجمہ ہی ہے۔ کیونکہ گذشتہ دور میں ذرائع اس قدر ترقی یافتہ نہ تھے۔ اس لیے لوگوں کی ہجرت یا سیاحت کی بدولت ترجمے کا عمل و وقوع پزیر ہوتا رہا۔ یوں مختلف اقوام تراجم کے ذریعے طب، فلسفہ، نفسیات، معاشیات، عمرانیات، سیاحت، سیاسات، سائنس حتیٰ کہ کمپوٹر سائنس اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں ترقی سے مستفید ہوتی رہی ہیں۔ اور تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی کمزور ممالک کو عتاب کا نشانہ بنایا  جاتا رہا تو اس میں بنیادی کردار ترجمہ کا ہی ہے۔ جس کے ذریعے ا پنی ثقافت کا زہر پلا کر ان کو زیر کر لیا جاتا ہے۔ یا یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ موجودہ دور میں ہوننے والی سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی سے جسں طرح ترقی یافتہ  اقوام فائدہ اٹھار ہی ہیں اسی طرح ترقی پذیر اقوام بھی فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں تو تراجم سے استفادہ حاصل کرنا ہو گا۔ (یہ بھی پڑھیں نا معلوم لاش/نجیب محفوظ – ترجمہ: فیصل نذیر

ترجمے کی سر گرمی  کی بدولت ہی ترقی پذیر اقوام ترقی یافتہ قوموں کے تجربوں کو جان سکتی ہے۔ اور ان تجربات سے استفادہ حاصل کر سکتی ہے۔ اس قسم کے استفادہ سے افلاطون اور سقراط جیسے لوگوں کو عربوں نے  یونان کی تہذبی کھنڈروں  سے نکال کر دنیا کے سامنے پیش کیا۔ اور ان کے ذریعے عربوں کے افکار مغرب میں  پہنچے۔ دراصل ان تراجم کی بدولت ساری دنیا کے انسانوں کے درمیان رواداری او ربھائی چارے کو بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے

موجود دور میں اگر دیکھا جائے تو دنیا کے تمام ترقی یافتہ ملکوں میں علم و ادب کو سب سے زیادہ فروغ تراجم کی بنا پر ہی ہوا ہے۔ فن ترجمہ کی ہی بنیاد  پر کسی ایک ملک کے زبان ادب کے خزانوں کو کھنگالنے میں مدد ملتی ہے۔ اور اس کے ذریعے افکار وقدار کے بیش بہا خزانے ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل کیے جا سکتے ہیں۔ بقول ڈاکٹر اطہر پرویز:

”اگر ہم کسی زبان کے اول درجے کی تصانیف کو اپنی زبان میں منتقل کرلیں اور اس سے استفادہ کریں تو کیا یہ ہمارے لیے قابل قدر اور قابل فخر نہ ہو گا۔ دانشوری اسی طرح نشونما پاتی ہے۔”

ترجمہ ایک زبان کے ادب کو دوسری زبان سے اور ایک زمانہ کو دسرے زمانے سے ملاتا ہے۔ اس طرح سے علم و آگہی کا تسلسل جاری و ساری رہتا ہے۔ کسی ایک ملک یا کوئی  ایک زبان کے  جاننے والوں کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ دوسری زبان کے فن پاروں سے تراجم کے ذریعے واقف ہوں۔ کیونکہ انسانی علوم  سے واقفیت کے لیے اور ان و فروغ دینے کے لیے ترجموں کے بغیر چارہ نہیں۔ اسی طرح ایک ادب دوسرے ادب سے وہ تمام  چیزیں تہذیبی وثقافتی ا پنے یہاں منتقل کر لیتا ہے -جنھیں وہ کسی نہ کسی حیثیت سے اپنے ادبی مزاج  سے ہم آہنگ اور مفید پاتا ہے۔ یوں کسی ایک قوم کے ادبی و علمی شہ پارے دوسری قوم تک پہنچتے ہیں۔ اور یہ دوسری قوم کی مراث بننے چلے جاتے ہیں۔ تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عربی مترجمین نے عربوں کو علمی میدان میں قدیم  علوم و فنون سے روشناس کریا۔ پھر عربی سے لاطینی زبان میں تراجم کر کے دنیا کے تمام تہذیبی و تمدنی علم و حکمت کو ایک نسل سے دوسری نسل تک متعارف کروایا۔ اسی طرز مغربی ادیب فان ہیمر نے خواجہ حافظ کے دیوان کا ترجمہ کیا۔ جس کی اشاعت سے جرمن ادیبان میں مشرقی تحریک کا آغاز ہوا۔ نشاۃ ثانیہ کے بعد یورپی زبانوں کے ادب پر ہر ایک کی نظر پڑی اور اس طرح مغربی ادبیات نے غیر معمولی طور پر فروغ حاصل کیا۔ انگریزی زبان میں یورپ کی مختلف زبانوں کی  تصانیف کے تراجم شائع کیے گئے۔ اردوزبان نے بھی انگریزی زبان سے خاطر خواہ استفادہ کیا۔علم ترجمہ کسی زبان کے خیالات و افکار اور احساسات و جذبات ہی کو نہ صرف دوسری زبان میں منتقل کرتا ہے۔ بلکہ یہ اس زبان کی علمی و ادبی اصطلاحات، محاوروں اور مترافات کو بھی دوسری زبان میں منتقل کرتا ہے۔۔ یہ مترجم پر منصر ہے کہ وہ کسی زبان کی لغت، اصلاحات، محاوروں اور خاص طور پر مترادفات سے کہاں تک واقف ہے۔ ماہرانہ اور قدرت ہی کی بدلت مترجم ایک زبان کی سرمائے کو دوسری زبان میں بخوبی منتقل کرتا ہے۔ حسن الدین احمد رقمطراز ہیں کہ:

”ترجمہ کے بغیر آج کوئی بھی زبان ترقی یافتہ نہیں کہلا سکتی۔ کیونکہ وہ ترجمہ ہی ہے جس کے ذریعے کوئی زبان نئے الفاظ، اصطلاحات، محاوروں اور کہاوتوں کو اپنے دامن میں سمیٹتی ہے۔

دنیا کی کوئی بھی زبان دیگر زبانوں کے الفاظ و خیالات کو جذب کر لینے لیے بعد ہی ترقی کی منازل تک پہنچتی ہے۔ اسی صلاحیت کی بدولت آج انگریزی زبان دنیا کی دیگر زبانوں پر فوقیت کادرجہ رکھتی ہے۔”

بقولِ ڈاکٹر جمیل جالبی:

”ترجمہ کی اہمیت یہی ہے کہ ایک طرف تو اس کے ذریعے نئے خیالات زبان میں داخل ہوتے ہیں۔ جس سے ذہنی جذب و قبول کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ دوسرے زبان کی قوت اظہار میں نئے امکانات  پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی جس زبان میں ترجمے کیے جائیں اس کے ادب کو جدید خیالات کے ساتھ ساتھ نئی تشبیہات اور استعارے ملتے ہیں۔ اور اس زبان کو نئی جہت اور وسعت حاصل ہوتی ہے۔ زبان ایک نئی مزاج کے ساتھ روشناس ہوتی ہے۔نئے لیجوں کو اپنے مزاج میں جذب کرتی ہے۔”

ترجمے ہی کی بدولت زبانوں تزئین اور توسیع ممکن ہے۔ ادبی الفاظ، تلمیحات، تشبیہات، استعارے، کنائے، مثالیں، علامتیں، تراکیب اور محاورے منظم لائحہ عمل کے تحت ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل ہوتے ہیں۔ اس طرح سے نہ صرف اس زبان کی ترقی ہوتی ہے بلکہ زاق عالمی ادب کی بھی خدمت ہوتی ہے۔

اگر اردو زبان کی بات کریں تو اس کی تزئین اور توسیع میں فارسی اروہندی زبان کا بڑا دخل ہے۔ اردو کی بے شمار تصانیف مثلاً طویل داستانیں، مثنویاں، ڈرامے و غیرہ فارسی یا سنسکرت تصانیف کا ترجمہ ہیں۔ جو اردو زبان و ادب کے لیے ایک بیش بہا خزانہ ہے۔

دنیا کی کسی ایک زبان میں جب اتنی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے کہ اس زبان میں ادبی تخلیقات کی جا سکیں تو تخلیقی ادب کے ساتھ ساتھ اس امر کی طرف بھی توجہ دی جاتی ہے کہ دوسری زبان کی اہم تصانیف کو اس زبان میں منتقل کیا جائے۔ اس طرح اس زبان کے ادب میں آہستہ آہستہ ترقی ہوتی چلی جاتی ہے۔ جو کسی بھی انسانی تہذیب کی بنیادی اساس ہے۔ انگریزی ادب اور ادب کی اس حوالے سے کئی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں نہ صرف ادب تخلیق کیا بلکہ دوسری زبانوں سے تراجم کر کے ادب کو وسعت دی۔ اگر دیکھا جائے تو اردو کے کلاسیکی ادب کا بہت بڑا حصہ تراجم پر مشتمل ہے۔ خصوصاً نثری ادب بلکہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ نثری ادب کی ابتدائی ”سب رس”، ”آرائش محفل ”،” باغ وبہار”،”نوطرز مرصع” وغیرہ سے ہوتی ہے۔ اس طرح اردو میں سلسلہ در سلسلہ دوسری زبانوں سے تراجم کیے جاتے رہے۔ جنھوں نے اردو ادب کو وسعت عطا کی۔ مولوی عنایت اللہ دیلوی کے تراجم کی اس  سلسلہ میں مثال دی جا سکتی ہے۔ جنھوں نے شیکسپیر کے تمام ڈراموں کے تراجم اردو میں کیے۔ اور بلاشبہ ادب کو اوج کمال تک پہنچایا۔ اس کے علاوہ اختر حسین رائے پوری، نیاز فتح پوری، مجنوں گور کھپوری، شاہد احمد دہلوی، عبدالمجید سالک، عزیز احمد ، غلام عباس نے نثری و شعری ادب کے تسلی بخش تراجم کر کے ادب کو وسعت عطا کی۔ ( یہ بھی پڑھیں جمالیات کیا ہے؟ – شازیہ بتول )

کھوج انسان کی فطرت ہے۔ انسان ازل سے ہی کائنات کے ذرے ذرے کی چھان بین میں مصروف عمل ہے۔ گویا اشیا کی حقیقت کو جانا بنی نوع انسان کی ضرورت کے ساتھ ساتھ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ بنی انسان اس چیلنج کو ہمیشہ قبول کرتا ہو آرہا ہے۔ اور سامنے آنے والی رکاوٹوں کو بھی بڑی حد تک دور کرنے کی کوشش میں مصروف رہا۔ وہی ترجمہ کا ہے۔ انسانی فطرت ترجمے کی مشکلات اور رکاوٹوں سے بے نیاز ہو کراجنبی قوموں کے تخلیقی شہ پاروں اور ان کی رنگینیوں سے آگاہی حاصل کرنے پر مجبور ہے۔ چونکہ جاننا تمدن اور ثقافت واقفیت حاصل کرنے کے لیے تراجم کو وسیلہ بناتا ہے۔ حسن الدین احمد کے مطابق:

”توشب آفریدی چراغ آفریدم، کے شاعرانہ تخیل کے بموجب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ رہا ہو کہ تو نے زبانیں بنائیں ہم نے ترجمے کیے۔ اپنی اس قدر اہمیت و افادیت کے باوجود ترجمہ کاری کا فن بڑی نزاکت،دقتِ نظر اور باریک بینی کا متقاضی ہے،یہ کام میکانیکی انداز میں نہیں کیا جاسکتا۔ترجمہ کاری کے دوران مترجم کو دونوں زبانوں کی اصطلاحات (Terms)سے واسطہ پڑتا ہے۔والٹئیرنے کہا تھا ’’اگر مجھ سے گفتگو کرنا چاہتے ہو تو پہلے اپنی اصطلاحات کی تعریف کرو۔‘‘اصطلاحات کی وضاحت کے بغیر خاص سیاق و سباق کے حامل مواد کا ترجمہ گمراہ کن ثابت ہوتا ہے۔ ہر اصطلا ح اپنا مخصوص تہذیبی پس منظر رکھتی ہے۔سادہ ترجمہ کاری اس پس منظر کو منتقل نہیں کرسکتی لہٰذا اس طرح نامکمل اور غلط ترجمہ ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔”

ترجمہ کاری کے ضمن میں ایک رکاوٹ یہ بھی ہے کہ مترجم،ترجمہ کرتے ہوئے اپنی ذات،اورخیالات کو الگ نہیں رکھ سکتا۔ دو زبانوں کے بیچ مترجم کی اپنی ذات بھی اپنا اظہار کرتی ہے۔ اس طرح عبارت کی تفہیم میں بعض اوقات مترجم خود ایک رکاوٹ بن کر کھڑا ہوجاتا ہے۔مترجم اپنی ذہنی صلاحیت، رجحانات، ماحول اور تہذیبی پس منظر کے لحاظ سے عبارت کا مفہوم سمجھتا ہے اور اسی طرح عبارت کا ترجمہ بھی کرتا ہے۔ تراجم کی تاریخ میں مترجمین حضرات کی غلطیوں نے نہ صرف سادہ نثر بلکہ بڑے مفکرین کی عبارات کا مفہوم بھی کچھ کا کچھ کردیا اور کافی عرصے کے بعد ان غلطیوں کی اصلاح ممکن ہوسکی۔

حوالہ جات:

1۔      مرزا حامد بیگ، ڈاکٹر، اردو ترجمے کی روایت، دوست پبلی کیشنز، اسلام آباد، 2012ء،

2۔      نثار احمد قریشی، ترجمہ روایت اور فن، مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد، 1985ء

3۔      مرزا حامد بیگ، ڈاکٹر، اردو ترجمے کی روایت، دوست پبلی کیشنز، اسلام آباد، 2012ء۔

4۔      نثار احمد قریشی، ترجمہ روایت اور فن، مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد، 1985ء۔

5۔      ترجمہ، تالیف، تلخیص اور اخذ کرنے کا فن: ترجمہ روایت اور فن، مقدرہ قومی زبان اسلام آباد، 1985ء

6۔      دور تراجم روایت اور فن، اسلام آباد، مقتدرہ قومی زبان 1985ء

7۔      فن ترجمہ نگاری، مرتبہ خلیق انجم، اشاعت سوم، 1994ء دہلی،

8۔      فن ترجمہ کے اصول از ڈاکٹر حامد بیگ، مطبوعہ اوراق لاہور اکتوبر نومبر 1986ء

9  ۔        ترجمہ اور علم ترجمہ، کیاکیوں کیسے، مرتبہ ڈاکٹر انعام الحق غازی، مشمولہ، حسن الدین (فن ترجمہ)

10۔      پروفیسر محمد حسن  نوعیت اور مقصد، مشمولہ قمر رئیس (مرتبہ) ترجمہ کا فن اور روایت،  تاج پبلشنگ ہاؤس، 1974

 

سیدہ ہما شہزادی

You may also like

1 comment

Leave a Comment