خاکی نے ہسپتال کی تجربہ گاہ میں لگے بڑے سے آئینے میں خود کو سر سے پاؤں تک دیکھا۔ وہ اپنے اُسی…
افسانہ
-
-
جب میں پشاور سے چلی تو میں نے چھکا چھک اطمینان کا سانس لیا۔ میرے ڈبوں میں زیادہ تر ہندو لوگ بیٹھے…
-
بلدیہ کا اجلاس زوروں پر تھا۔ ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور خلافِ معمول ایک ممبر بھی غیر حاضر نہ تھا۔…
-
ایک چیز لومڑی کا بچہ ایسی اس کے منہ سے نکل پڑی۔ اس نے اسے دیکھا اورپاؤں کے نیچے ڈال کر روندنے…
-
گزرے زمانوں کا ذکرہے کہ ملک عدم میں زیبارونام کی کوئی شہزادی تھی،سانولارنگ،کھڑی ناک،لمبوتراچہرہ،بڑی بڑی آنکھیں اوربائیں گال پرتل۔وہ اپنی آنکھوں سے…
-
فرمان علی بیٹے قربان علی کی پیٹھ پر لمبا لیٹ گیا تھا۔اور بیٹا بھی قریب المرگ باپ کو اینیس Aeneas کی طرح …
-
امرتسر سے اسپیشل ٹرین دوپہر دو بجے کو چلی اور آٹھ گھنٹوں کے بعد مغل پورہ پہنچی۔ راستے میں کئی آدمی مارے…
-
لالٹین کی روشنی مدھم ہونے لگی۔ اس کا تیل ختم ہورہا تھا۔ شام ہوئے دیر ہوچکی تھی۔ ستمبر کی اداس اور ابر…
-
’’ہتھ لائیاں کمھلاں نی لاجونتی دے بوٹے‘‘ (یہ چھوئی موئی کے پودے ہیں ری، ہاتھ بھی لگاؤ کمھلا جاتے ہیں) ایک پنجابی…
-
اپنی ننگی پیٹھ پر سورج اٹهاے.گئو رکهشک کا سنہری خواب آنکهوں میں سجائےاپنا ناتواں جسم گھسیٹتے ہوئے دور تک پهیلی ہوئ سڑک…

