ترے بیمار کی بھی کچھ دوا ہے – حقانی القاسمی
دنیا میں مسیحا نفسی کا دعویٰ کرنے والے لوگ تو بہت ہیں، مگر صحیح معنوں میں مسیحا نفسوں کی تعداد بہت کم ہے۔ ڈاکٹر سیداحمد خان ان اقل قلیل افراد میں سے ہیں، واقعی جن کے اندر مسیحائی کی ساری خوبیاں اور خصوصیات ہیں۔ وہ کبھی اپنی مسیحائی کا دعویٰ نہیں کرتے مگر ان کے قول و عمل سے اس کی دلیل ملتی رہتی ہے۔
مجھے ان کا اندازِ مسیحائی دیکھ کر ہی ممرضہ کا لفظ یاد آیا جو عربی میں ’نرس‘ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ نرسیں رات دن مریضوں کی نگہداشت اور دیکھ بھال اور خیال رکھتی ہیں مگر نرس کو مرض سے تسکین دلانے والے سے زیادہ بیمار کرنے والی قرار دیا گیا کہ دراصل نرسوں کی نگہداشت کا اندازو اطوارایسا ہوتا ہے کہ اس کیCaring کو دیکھ کر اچھا خاصا آدمی بیمار سا ہوجاتا ہے۔
مجھے یاد نہیں کہ سید صاحب سے پہلی ملاقات کہاں اور کس مقام پر ہوئی تھی، مگر شاید اس پہلی ملاقات نے ہی مجھے اس مسیحا کا بیمار بنا دیا تھا۔ وہ نہ صرف خبر خیریت پوچھتے بلکہ طبیعت اور مزاج کے لحاظ سے بیماری کی تشخیص اور دواؤں کی تجویز کے ساتھ اس کا انتظام و انصرام بھی فرماتے تھے۔ یہی ان کی غم گساری کا طریق ہے جو مریضوں کو ان کا اسیر بنا دیتا ہے۔طب ان کی شناخت ضرور ہے مگر اس کے علاوہ بھی ان کے جنون نے ان سے وہ بہت سارے کام لیے ہیں جو جامعات کے پروفیسروں اور اساتذہ کے کرنے کا ہے۔ انھیں اپنی زبان اور تہذیب سے بے پناہ انسیت ہے، اسی لیے وہ اپنی اس تہذیب کے تحفظ اور بقا کے لیے ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں۔ وہ زبان اردو کے فروغ کے لیے سرکاری بجٹ یا فنڈ کا انتظار نہیں کرتے بلکہ اپنی جیب خاص سے سارے امور انجام دیتے ہیں۔ یہ وہ اضافی خوبی ہے جس کی وجہ سے طب کے علاوہ اردو داں حلقے میں بھی وہ بہت قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں ۔ اردو زبان و ادب سے ان کا بہت گہرا رشتہ ہے۔ اس تعلق سے ان کی تحریریں شائع بھی ہوتی رہتی ہیں۔
طب یونانی اور اردو زبان و ادب دونوں ایک دوسرے سے لازم و ملزوم کا رشتہ بھی رکھتے ہیں۔ عہد قدیم کے بہت سے ایسے شعرا و ادبا رہے ہیں جو علوم طب سے بھی نہ صرف واقفیت رکھتے ہیں بلکہ طبی اصطلاحات اور لفظیات کا شعر و ادب میں استعمال بھی بہ کثرت کرتے رہے ہیں۔ جہاں معالجاتی اصطلاحات، تشریحی اصطلاحات سے ان کی گہری واقفیت ہوتی ہے وہیں انسانی نفسیات پر بھی ان کی گہری نظر ہوتی ہے۔ مومن خاں مومن کی مثال سامنے کی ہے۔ یہ اہم اور ممتاز کلاسیکی شاعر تھے مگر طب پر بھی ان کو مکمل عبور حاصل تھا۔ مختلف ادوار میں ایسے افراد اور اشخاص رہے ہیں جن کا ادب اور طب سے ایک مضبوط اور مستحکم رشتہ رہا ہے۔ ابھی حال ہی میں کئی کتابیں اس رشتے کے حوالے سے شائع ہوئی ہیں جن میں الدکتور عبدالجبار دیۃ کی ’اطباء ادباء‘ ، الدکتور فخری الدباغ کی ’الاطباء… الادباء‘ اور د۔خان شمس باشا کی ’ الطباء لکنھم والدباء‘ قابل ذکر ہیں۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ ادب اور طب میں مغائرت نہیں بلکہ ایک موافقت کی نسبت ہے۔ آج کے عہد میں کئی ایسے ڈاکٹرز ہیں جو ادب میں بھی بہت بلند مقام رکھتے ہیں ۔ مصطفی محمود، نوال السعداوی، احمد خالق توفیق، منذر القبانی، یوسف ادریس جیسے ادبا عرب دنیا میں اپنی ایک الگ شناخت اور امتیاز رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر سید احمد خان نے بھی اپنی بے پناہ مصروفیات کے باوجود زبان اور ادب کے لیے اپنا قیمتی وقت صرف کیا ہے کیونکہ ان کا اردو زبان و ادب سے پیشہ ورانہ نہیں بلکہ ایک گہرا ذہنی، جذباتی اور تہذیبی رشتہ ہے اور جب کسی چیز سے ایک جذباتی رشتہ قائم ہوجائے پھر انسان سود و زیاں، منافع و خسارہ کی پرواہ نہیں کرتا۔ ڈاکٹر صاحب نے بھی کبھی نہ پیسے کی پرواہ کی اور طنز و تعریض اور طعن و تشنیع کی۔ ان کا یہی مشن ہے کہ:
اپنا تو کام ہے کہ جلاتے چلو چراغ
وہ نہ صرف 9 نومبر کو علامہ اقبال کی یوم پیدائش کی مناسبت سے ملک گیر سطح پر عالمی یوم اردو کا اہتمام کرتے ہیں بلکہ مختلف شعبۂ حیات سے تعلق رکھنے والے ممتاز شخصیات کی خدمات کے اعتراف میں ایوارڈ بھی پیش کرتے ہیں اور اس موقعے پر کسی مقتدر شخصیت پر ایک یادگاری مجلہ کی اشاعت کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ ’عالمی یوم اردو‘ کے کئی دستاویزی شمارے اس حوالے سے شائع ہوکر مقبول خاص و عام ہوچکے ہیں۔
یومِ اردو کے تعین کے سلسلے میں اختلافات اور اعتراضات کی گنجائشیں بہت ہیں، مگر دراصل یوم اردو منانے کے پیچھے جو مقاصد جلیل ہیں اس کی افادیت اور معنویت پر کسی طرح کا شک و شبہ یا اعتراض نہایت مہمل اور عبث قرار پائے گا۔ چونکہ زبان ہو یا تہذیب اس کے لیے کسی خاص دن کو مشخص نہیں کیا جاسکتا۔ ہر دن زبان اور تہذیب کے ہی نام ہے۔ بس یوم اردو منانے کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ الگ الگ علاقوں سے دور دراز کے قریات و مضافات سے اردو کے نام پر لوگ جمع ہوجاتے ہیں، اردو کے کچھ مسائل، مشکلات اور ان علاقوں سے تعلق رکھنے والے اردو داں طبقے کے حال احوال سے واقفیت ہوجاتی ہے۔ یہ ایک طرح سے انٹرکشن کی ایک شکل ہے۔ اس تعاملی ارتباط سے بہت سے ان علاقوں کے لسانی و ادبی منظرنامے سے آگہی کی ایک اچھی صورت نکلتی ہے، جن کے بارے میں ہماری معلومات کا دائرہ نہایت محدود ہوتا ہے۔
شخصی اعتبار سے د یکھا جائے تو ڈاکٹر سید احمد خان بہت سی خوبیوں کا مجموعہ ہیں۔ ان کی شخصیت میں بلا کی کشش اور جاذبیت ہے۔ جو ایک بار ان سے مل لے وہ ان کا مرید ہوجاتا ہے۔ میری جب بھی ان سے ملاقاتیں ہوئیںوہ مجھے کچھ نہ کچھ دوائیاں ضرور دیتے ہیں، مگر میری زبان حال یہی کہتی رہتی ہے کہ:
مسیحا کر نہ اب اچھا ہمیں بیمار رہنے دے
اور کبھی کبھی میں مضطرخیرآبادی کا یہ شعر بھی دل ہی دل میں دہراتا رہتا ہوں کہ:
علاجِ درد دل تم سے مسیحا ہو نہیں ہوسکتا
تم اچھا کر نہیں سکتے میں اچھا ہو نہیں سکتا
ڈاکٹر سید احمد خان سے جب بھی ملاقات ہوئی ذہن میں یہی ایک خیال گردش کرتا رہا کہ سید صاحب جیسی متنوع الصفات شخصیت کے آثار کو الگ سے ہمارے علمی اور ثقافتی معاشرے کو روشناس کرانا ضروری ہے کہ ان کی شخصیت نئی نسل کے لئے تحریک و ترغیب کا ایک سرچشمہ ہے۔ ایسی انپائریشنل پرسنالٹی کو فراموش نہیں کیا جانا چاہئے۔ وہ ایک ایسے Phitanthopistہیں جس کی ہمارے سماج کو شدید ضرورت ہے۔
٭٭٭
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
حقانی القاسمی صاحب نے ایک نہایت دلچسپ خاکہ پیش کیا ہے، جس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔