رشید امجد : فکر و فن/ڈاکٹر آفتاب احمد فریدی – نوشاد منظر
اردو میں جدیدیت نے جن افسانہ نگاروں کو اپنی جانب متوجہ کیا یا جو لوگ اس نظریے سے متاثر ہوئے ان میں ایک اہم نام رشید امجد کا بھی ہے. رشید امجد افسانہ نگار تو تھے ہی انہوں نے تنقیدی مضامین بھی لکھے ہیں. ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ” بے زار آدم کے بیٹے ” 1974 میں شایع ہوا تھا، جب کہ ان کے تنقیدی مضامین کا پہلا مجموعہ” نیا ادب” کے نام سے 1969 میں منظر عام پر آیا. اس مجموعہ مضامین کے علاوہ بھی ان کے چار مجموعے مضامین شائع ہوئے.میرا جی کے حوالے سے انھوں نے ریسرچ کی تھی جو کتابی شکل میں شایع ہوکر ادبی حلقے میں مقبول بھی ہوچکی ہے۔ رشید امجد آخری لمحے تک ادبی کی آبیاری میں اہم رول ادا کیا ہے۔ انھوں نے درس و تدریس کے ساتھ کئی رسالوں کی ادارت بھی کی، ان کی ادارت میں کئی خاص اور اہم نمبر بھی شایع ہوئے۔
(اس کا مطالعہ بھی کریں: رشید امجد – ڈاکٹر ناصر عباس نیّر )
زیر نظر کتاب ” رشید امجد :فکر و فن” کے مصنف آفتاب احمد فریدی ہیں. انہوں نے پروفیسر قاضی افضال حسین(علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ) کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا ہے۔
زیر تبصرہ کتاب کو مصنف نے پانچ ابواب میں تقسیم کیا ہے. کتاب کا پہلا باب” رشید امجد کا تخلیقی ارتقا ” ہے. اس باب میں مصنف نے رشید امجد کی زندگی اور اس سے متعلق تفصیلات کو پیش کیا ہے. کتاب کا دوسرا باب ” رشید امجد کے افسانوں کے موضوعات ” ہے. مصنف نے رشید امجد کی کہانیوں کے موضوعات کو چار ذیلی عنوانات ” معاشرتی مسائل، وجودی مسائل، مابعد الطبیعاتی تجربات اور عشقیہ افسانے ” میں تقسیم کیا ہے.رشید امجد کے افسانوں میں علامت، تجریدیت، استعارے اور تمثیل کے ساتھ اساطیری عناصر بھی موجود ہیں۔جدید افسانوں کے متعلق یہ کہا جاتا رہا ہے کہ شعری فضا نے اسے نقصان پہنچایا ہے مگر رشید امجد اس خیال سے اتفاق نہیں کرتے بلکہ ان کا خیال ہے کہ شعری وسائل یعنی علامت، تشبیہات اور استعارے نے کہانیوں میں معنوی دبازت پیدا کی ہے. آفتاب احمد فریدی نے رشید امجد کے افسانوں پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ان کے یہاں وجودیت، معاشرتی، قومی و ملی مسائل کے ساتھ حکومت کے جبر اور مارشل لاء سے پیدا ہونے والے خوف، بے یقینی اور یہاں تک کہ تشکیک کا موضوع ملتا ہے ۔اس کے علاوہ مصنف نے رشید امجد کے بعض افسانوں میں رومانیت اور جنسی مسائل کی نشاندہی بھی کی ہے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ رشید امجد کے یہاں موضوعاتی سطح پر تنوع پایا جاتا ہے. بہر حال یہاں رشید امجد کے افسانوں اور ان کے نظری مباحث پر گفتگو کرنے کا موقع نہیں۔ آفتاب احمد فریدی نے اپنی کتاب میں تفصیل کے ساتھ ان نکات پر گفتگو کی ہے۔
کتاب کا تیسرا باب ” رشید امجد کا فن” ہے. اس باب میں بیانیہ، کردار نگاری، روئیداد اور زبان جیسے عنوانات قائم کر افسانہ نگار کے فن پر گفتگو کی گئی ہے۔. رشید امجد نے بعض مخصوص الفاظ اور علامتوں مثلاً موت، قبر، رات، تاریکی اور دھند وغیرہ کا استعمال کیا ہے اس کے علاوہ پرندوں اور جانوروں کا ذکر بھی ان کے افسانوں میں نظر آتا ہے.
کتاب کا چوتھا باب ” رشید امجد کی تنقید نگاری ” ہے. جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا رشید امجد کے پانچ مجموعہ مضامین شائع ہو چکے ہیں. آفتاب احمد فریدی نے کتاب کے اس حصے میں رشید امجد کے نظریاتی، نثری اصناف اور شاعری کے حوالےسے لکھی گئی تحریروں پر اپنے خیالات پیش کیے ہیں.رشید امجد کی تنقید کے متعلق یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے نئے افسانے کی دفاع کی پوری کوشش کی ہے،باوجود اس کے ان کے یہاں ادبی مسائل پر سنجیدہ گفتگو ملتی ہے، اور انہوں نے خود کو غیر جانب دار رکھنے کی پوری کوشش کی ہے.انہوں نے ترقی پسند اور رومانوی افسانوں اور اس کے فنی مباحث پر بھی گفتگو کی ہے ،رشید امجد کا اسلوب سادہ، وضاحتی اور عام فہم ہے۔
کتاب کا آخری باب ” رشید امجد کی خود نوشت” ہے اس میں سوانحی کوائف، افراد، علمی اکتسابات، تحریکات اور ادبی مسائل جیسے عنوانات قائم کیے گئے ہیں.
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو آفتاب احمد فریدی کی یہ کتاب رشید امجد کے فکر و فن کا بڑی حد تک احاطہ کرتی ہے. مصنف نے رشید امجد کے افسانوں اور ان کے مضامین کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہوئے ان پر اپنے خیالات و تاثرات بھی پیش کیے ہیں. میں جناب آفتاب احمد فریدی کو اس خوبصورت اور ایک اچھے علمی کام پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ رشید امجد کے حوالے سے ان کی اس کوشش کو اہل علم پسند کی نگاہ سے دیکھیں گے.
نوشاد منظر، نئی دہلی
20 ستمبر 2018
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

