ڈیجیٹل ٹکنالوجی نے ویب پورٹل کی شکل میں قلم کار اور قاری کو ایک نئی دنیا سے روشناس کرایا ہے اور ان دونوں کے درمیان مکانی فاصلوں کو بھی کم کیا ہے۔جس نے نہ صرف اہم ادبی مواد تک ہماری رسائی آسان کردی ہے بلکہ مدیران کی Monopoly کو بھی ختم کیا ہے کہ بعض رسائل کے مدیران تخلیقات کی اشاعت میں مہینوں اور برسوں کا وقت لگا دیتے ہیں اور بے چارہ قلم کارمضمون کی اشاعت کے انتظار میں گھل کر نحیف و نزار ہو جاتا ہے۔ اب تخلیق کاروں کو بھی اپنی تحریروں کی فوری اشاعت سے نہ صرف مسرت ہوتی ہے بلکہ مزید لکھنے کی تحریک و ترغیب ملتی ہے اور انھیں ملک و بیرون ملک قارئین کا بڑا حلقہ مل جاتا ہے اور فوری ردِّعمل سے قلم کار کی تخلیقی توانائی بھی بڑھتی ہے۔
علوم و فنون اور ادبیات کے حوالے سے جن موضوعات اور مباحث کے لئے ہمیں بڑی جد و جہد کرنی پڑتی تھی اب وہ ہمیں بہ آسانی نیٹ پر دستیاب ہے۔ ’ادبی میراث‘ بھی ایک ایسا ادبی پورٹل ہے جس نے اپنے موضوعاتی تنوع کی وجہ سے مختصر عرصہ میں اپنی الگ شناخت قائم کی ہے اور ادب و ثقافت، سیاست و معاشرت کے جملہ زاویوں کا احاطہ کرتے ہوئے اس پورٹل نے اردو کے مستند اور معتبر قلم کاروں میں ہی اپنا اعتبار قائم نہیں کیا ہے بلکہ نئی نسل کے لکھنے والوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کیا ہے ۔اس طرح درجاتی اور طبقاتی فاصلوں کو مٹاتے ہوئے ’ادبی میراث‘ نے ہمارے بیش قیمت ادبی ورثہ اور وراثت کی برقی ترسیل کی ایک اچھی صورت نکالی ہے۔ اس کا دائرہ اثر صرف برصغیر نہیں بلکہ دیگر ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔ نوجوان ناقد اور صاحبِ نظر نوشاد منظر نے اپنے تنقیدی وژن اور ادارتی جوہر کا استعمال کرتے ہوئے ادبی پورٹل ’میراث‘ کو ایک افادی شکل و صورت عطا کی ہے جس سے اردو زبان و ادب، تہذیب و ثقافت سے وابستہ ہر طبقے کے افراد اپنے ذہن اور ذوق کے مطابق استفادہ کر سکتے ہیں۔ ادبی میراث یوں تو بیشتر ناحیہ سے مکمل ہے مگر مزید کچھ موضوعات اور وصلات کی ضرورت ہے۔اگر عصر حاضر کے تقاضوں اور مطالبات سے ہم آہنگ جملہ زاویوں کا احاطہ کیا گیا تو مستقبل قریب میں ادبی میراث کو صرف حوالہ جاتی نہیں بلکہ ادبی اور ثقافتی جامِ جہاں نما کی حیثیت بھی حاصل ہو سکتی ہے۔
حقانی القاسمی،نئی دہلی
Cell:9891726444
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

