پروفیسر عبدُ البرکات
شعبۂ اردو
بی۔آر۔امبیڈکر بہار یونی ورسیٹی، مظفرپور(بہار)
Mob. : 8210281400
اُردو ادب میں کتنے دبستان ہیں منجملہ برعظیم، اور اس کی حد بندی کس زاویے سے ہوئی ہے یا کس لسانی بنیاد پر دبستان تشکیل پاتی ہے یا دی جاسکتی ہے؛غور طلب امر ہے۔علاوہ ازیں کن لسانیاتی نکات اور امتیازات کی بناپر ایک قریہ یا خطہ کی زبان کو ؛ ایک دوسرے سے منقطع کی جاسکتی ہے، اس کو نشان زد کرنا لازمی ہے۔کیوںکہ اردو میں جن دبستانوں کا تذکرہ ہوتاہے وہ شعرا ادبا اور فن کار و قلم کار کے ادبی تناسب یا ادبی معیار کو مدِنظر ان کا وجود عمل میں آیاہے یا ادبی میلانات و رجحانات کی بنیاد پر،اس کا محاکمہ و محاسبہ دورِ رواں میں لازم ہوگیاہے کہ ہرجانب سے دبستان! دبستان کی صدائیں بلند ہورہی ہیں۔دراصل اردو زبان و ادب کے ابتدائی دور میں شعری و ادبی میلانات و رجحانات کی بنیاد پر دبستانِ دہلی، لکھنؤ،عظیم آباد اور دیگر دبستانوں کی تشکیل عمل میں آگئی لیکن جدید دور؛ جس میں سیاسی نظام، معاشی حالات، تہذیبی و تمدنی معاملات اور عالمی سطح پر لسانیاتی اختلاط نے ایک نیا منظرنامہ پیش کیاہے۔ اس تناظر میں زبان و ادب کی حد بندیوں سے اردو زبان کی توسیع میں خلل ممکن ہے۔ اس سے انکار نہیں کیاجاسکتاکہ بولیاں اور ان کے محاورے کسی بھی زبان کی شیریانوں میں تازہ خون کی مانند کام کرتے ہیں جس کی وجہ سے اصل زبان تروتازہ اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہوتی ہے۔جب کہ زبان کے املے، جملہ کی ساخت اور افعال و ضمائر پر ہی، زبان ایستادہ ہوتی ہے۔ گویا اسی بنیاد پر تیار عمارت اصل اردو زبان ہے۔درحقیقت نئے نئے الفاظ کے دخول سے اس کے تذکیر و تانیث کا تعین ، واحد جمع بنانے کے قاعدے، اصطلاحی تراکیب اور لب و لہجہ ضرور متاثر ہوتے ہیں مگر سیاسی تغیرات اور اصل زبان کے دھارے میں رل مل جانے سے ان کی ہیئت اور تلفظ تبدیل ہوجاتے ہیں جس کی سیکڑوں مثالیں اردو زبان میں موجود ہیں۔لہٰذا اس پس منظر میں دبستان کی تشکیل میرے خیال میں درست نہیں ہے،نقصان ممکن ہے۔
اکیسویں صدی کی دوسری دہائی سے علاقائی یا صوبائی ادب کو بھی نصاب میں جگہ دینے کی عمدہ اور لائقِ ستائش روایت قائم ہوئی ہے لیکن اس خوش آئند رویہ سے کئی نزاکتیں رونما ہورہی ہیں جس سے مستقبل میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہونے کا امکان بڑھ جاتاہے کیوںکہ ہر خطہ یا شہر،جہاں شعرا و ادبا اور فن کار و قلم کار؛تناسب میں زیادہ ہیںان کی توقعات میں شدت آگئی ہے اور قریہ قریہ ، شہر شہر کو دبستان سے منسوب کرکے اس حوالے سے اپنی تخلیقات و تصنیفات کو شاملِ نصاب کرنے کی دعویداری پیش کی جارہی ہے۔ پھر جوڑتوڑ سے اپنی کتابیں شاملِ نصاب کرانے میں کچھ حضرات کامیاب بھی ہوجاتے ہیں جو نہ مقابلہ جاتی امتحانات کے لیے کارآمد و مفید ہوتی ہیں اور نہ ہی معاشرتی نظام میں کسی زاویہ سے معاون ہوتی ہیں۔ یہ صورتِ حال حساس قاری کو غلطاں وپیچاں میں مبتلا کردیتاہے کہ آخر دبستان ہے کیا؟اور ابھی تک اردو زبان میں کتنی دبستانیں قائم ہوچکی ہیں اور کم از کم ہندوستان میں ابھی تک جن دبستانوںکا ذکر ہوتاہے، اس کی حد بندی کس لسانے ضابطے پر ہوئی ہے اور کیا مزید دبستانوں کی حاجت ہے؟دورِ حاضر میں اس طرح کے سوالات اٹھنا لازمی ہے۔ عام طور پر خیال کیاجاتاہے کہ ایک طرح کے فکری خیال اور مخصوص لب ولہجہ اور اندازِ بیان اختیار کرنے کی وجہ سے اس خطہ یا قریہ کو دبستان یا اسکول کا درجہ حاصل ہوجاتاہے۔ دبستان کے تعلق سے پروفیسر نجم الہدیٰ صاحب لکھتے ہیں:
’’ہر شعبۂ فکر و فن میں میلانات و نظریات کا تنوع پایاجاتاہے۔ یہ تنوع فطرت کا خاصہ ہے۔ انسان کی سرشت بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ،طبیعتیں جدا جدا، مزاج الگ الگ، ذہن کی ساخت ایک دوسرے سے مختلف، خیالات متفرق، سوچنے کے ڈھنگ متخالف، غرض ہر آدمی دوسرے سے ممیز ہے۔ پھر بھی جلووںکی کثرت میں جو وحدت مستور ہے اُسے ڈھونڈ نکالنا کچھ زیادہ مشکل نہیں۔ بصارت اور بصیرت شرط ہے۔‘‘ ۱؎
دبستان کی مذکورہ تعریف یا اس نوعیت کی تعریفیں؛ زبان و ادب میں رواں دواں رجحانات و نظریات کو آشکار کرتے ہیں لہٰذا کسی بھی زبان کے ادبی میلانات ورجحانات اور نظریات کی بنیاد پر دبستان کی شیرازہ بندی نہیں کی جاسکتی کیوںکہ وہ سمندر میں اٹھنے والی لہروں کی طرح ہیں جس طرح سمندر میں جوار بھاٹا آتارہتا ہے اور جوار کے وقت بہت ساری قیمتی اشیا ساحل پر بکھرجاتی ہیں اور بھاٹا کے دوران سب کچھ معمول پر آنے کے بعد اس کو سمیٹ لیاجاتاہے،سمندر کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔اردو زبان و ادب بھی ایک سمندر کی طرح ہے۔ برعظیم ایک کثیر اللسان خطہ ہے جہاں کے بارے میں کہاجاتاہے کہ ’’کوس کوس پر پانی بدلے چار کوس پر بانی‘‘لہٰذا اس خطہ کے مخصوص علاقہ یعنی شمالی ہند ومدھیہ پردیش میں ’دہلی سلطنت‘ کے ساتھ ہی دہلی کے گرد ونواح میں متعدد زبان اور بولیوں کے اختلاط سے جو زبان معرضِ وجود میں آئی، وہ اردو سے منسوب ہے۔ گویا رائج الوقت اردو زبان وہی ہے جس کے تعلق سے پروفیسر مسعود حسین خاںرقم طراز ہیں:
’’ہندوستان کی زبانوںمیں جو اہمیت آج اردو کو حاصل ہے وہ محض اتفاق نہیں بلکہ یہ سیکڑوں سال کی تمدنی اور سیاسی تحریکات کا لازمی نتیجہ ہے۔آریوں کی آمد سے لے کر مسلمانوں کی فتوحات تک ہندوستان میںجس علاقہ کی زبان کا رواج رہاہے وہ مدھیہ پردیش(مغربی یوپی اور مشرقی پنجاب ) کی کسی نہ کسی بولی پر مبنی ہے۔‘‘۲؎
اس تناظر میں کہاجاسکتاہے کہ دہلی کی نواحی کھڑی بولی کی ساخت پر پروان چڑھنے والی زبان جو رواں صدی میں عالمی سطح پر رائج ہے، اصل اردو زبان ہے۔اس زبان میں بالخصوص ہندوستان، عرب، ایران، ترکستان کے علاوہ دیگر زبانوںکے الفاظ، محاورے، اصطلاحی تراکیب، جملہ بندی، گنگا جمنی تہذیب اور مخلوط ثقافت کی جلوہ گری ملتی ہے۔تاہم اس مشترکہ تہذیبی و ثقافتی اختلاط کے درمیان سے ابھرنے والی اردو زبان؛اپنا مخصوص آہنگ یا پچ بنانے میں کامیاب ہے۔ اس لیے مختلف زبانوں کی شیرینیت اور کھٹے میٹھے معاملات کی ترجمانی کے ساتھ مختلف روایات اور تہذیبوں کے سنگم کا اجتماع اردو میں موجود ہے۔اس کی طرزِ ادا میں نزاکت و نفاست کے ساتھ لب ولہجہ کی انفرادیت نے اردو زبان کو عالمی سطح پر پہچان بنادی ہے۔ اس پس منظر میں متذکرہ دبستانیں جیسے دہلی، لکھنؤ، عظیم آباد وغیرہ کس منہج سے تشکیل دی گئی ہیں، اس پر غور و فکر کی ضرورت ہے کیوںکہ قریہ قریہ اور شہر شہر کو دبستان قرار دینے کے لیے جو صدا بلند ہورہی ہے، اس سے کس حد تک اصل اردو زبان متاثر ہوسکتی ہے نیز اس طرح سے اصل اردو زبان میں بکھراؤ ممکن ہے!! اس کا محاسبہ ناگزیر ہوگیاہے۔لہٰذا میرے خیال کے مطابق زبان و ادب کو متاثرکرنے والے چار امور توجہ طلب ہیں:
(۱) سیاسی و معاشی معاملات (۲) شعری وادبی میلان و رجحان
(۳) جغرافیائی پس منظر (۴) لسانیاتی تناظر
سیاسی و معاشی حالات: زبان کی بقا و فروغ میں اقتداری سیاست کی حمایت اور مالی تعاون کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ دنیا کی کتنی زبانیں سیاسی تغیرات کی نذر ہوگئیں اور مالی امداد کی قلت سے کتنی زبانوںکے دم گھٹ گئے۔ لہٰذا جدید نظریہ کے تحت یا دوسرے لفظوں میں جمہوری ملکوں میں علاقائی زبانوں پر بھی توجہ صرف کی جارہی ہے تاکہ عوام تک سرکار کی رسائی ممکن ہوسکے اور عوامی حمایت حاصل ہوجائے۔ اردو زبان کے ابتدائی دور میں دہلی اُجڑتی اور آباد ہوتی رہی۔ ان سیاسی تغیرات نے معاشی حالات کو بھی بُری طرح متاثر کیا جس کے اثرات اردو زبان و ادب پر بھی مرتسم ہوئے۔ ڈاکٹر نور الحسن ہاشمی لکھتے ہیں:
’’سیاسی واقعات کا زندگی، تمدن و ادب پر براہِ راست اثر پڑتا ہے۔ایسے پُرآشوب زمانے میں دہلی کے حالات کا صحیح تصور بھی تکلیف دہ ہے۔مغلیہ سلطنت اپنی زندگی کے دن پورے کر رہی تھی۔ ایک شمع تھی جو بجھنے کے لیے آخری سانس لے رہی تھی۔ تمام ملک عموماً اور دہلی میں خصوصاً افلاس، بے چینی، پریشان حالی اور بدامنی تھی۔کسی کو کل کی خبر نہ تھی۔ہرشخص سراسیما تھا۔مالی بے بسی کے ساتھ جان، عزت و ناموس کی حفاظت کا نہ تو یقین تھا اور نہ کوئی انتظام۔‘‘ ۳؎
مذکورہ صورتِ حال میں دہلی کی مرکزی قیادت روبہ زوال ہوگئی اور صوبائی حکومتیں آزاد اور مالی اعتبار سے متمول ہوگئیں۔دہلی حکومت اور تمدن کے تعلق سے تواریخ کی کتابوںمیں وافر معلومات دستیاب ہیں کہ کس شان اور کر وفر کے ساتھ دہلی آباد ہوکر اپنی تہذیبی، ثقافتی اور علمی و ادبی جلوہ بکھیرتی اور اسی طرح اس کی تباہی و بربادی کا بھی ذکر ملتاہے۔لہٰذا اس صورتِ حال میں اہلِ حرفہ، شعرا و ادبا، فن کار و قلم کار اور دہلی کے حساس مکینوں کو دوسری ریاست میں منتقل ہونا فطری امر ہے۔خصوصاً وہ اودھ کا دارُ الخلافہ لکھنؤ، دکن میں حیدرآباد اور صوبۂ بنگال کے کلکتہ میں اپنا جائے مستقر اختیار کرنے لگے، جہاں شعر و ادب کی پُر رونق محفلیں سجائیں جاتیں، خاص طور پر لکھنؤ اور حیدرآباد کی ریاستیں فارغ البالی کے دور میں اور منصوبہ بند طریقے سے آباد ہوئی تھیں اور پُربہار تھیں، وہاں کی سرکاریں شعرا و ادبا اور اہلِ حرفہ کو وظیفے مقرر کررہی تھیں۔ نیز ریاستی حکمرانوں اور نوابین کے یہاں نرالے انداز میں شعر و ادب کی محفلیں آراستہ ہوئیں،جس میں نشست و برخاست، تہذیب و شائستگی و آراستگی، حفظِ مراتب کا خیال، شمع روشن کرنے کے طریقے، اندازِ نظامت اور شعر خوانی کے انوکھے انداز کے ساتھ داد دینے کے سلیقے وغیرہ کی نئی طرح پڑگئی۔آدابِ محفل میں تصنع و تکلف نے راہ پائی اور آسمانِ اردو شعر و ادب پر قوس قزح بکھر گیا جس سے انفرادی شناخت کے ساتھ ایک نئی روایت قائم کی گئی جس کی پاسداری بہت حد تک آج بھی ملحوظ ہے۔تاہم دہلی سے ہجرت کرکے لکھنؤ میں براجمان شعرا و ادبا اور فن کاروں کے حواس اور دل ودماغ پر دہلوی تہذیب و ثقافت ، زبان و اندازِ بیان، لب ولہجہ اور اظہارِ جذبات پر اخلاص و صداقت ملتی ہے جس میں داخلیت حلول ہے۔لہٰذا اس تضاد سے دہلوی اور لکھنوی شعرا و ادبا کے درمیان میں معرکہ آرائیاں شروع ہوگئیں۔ دہلی والے کہتے ’’بگڑا شاعر مرثیہ گو‘‘جب کہ لکھنؤ اور حیدرآباد میں سیاسی و اقتداری حمایت سے مرثیہ کو نئی جہت و جہان ملا۔ نئے نئے موضوعات کے اختراع ہوئے۔ اس طرح دو مکتبۂ فکر یا تصورات پروان چڑھے جس کو دبستان کے بجائے ایک دور سے تعبیر کرنا چاہیے۔تاہم اس وقیع پس منظر کی بناپر ابتدائی دور کے محققین و ناقدین نے انھیں اسکول یا دبستان قرار دیا جو بجاہے۔ لہٰذا اس منظرنامہ پر تیار ڈاکٹر نور الحسن ہاشمی صاحب کی کتاب ’’دلّی کا دبستانِ شاعری‘‘ کا پہلا ایڈیشن ۱۹۴۶ء میں انجمن ترقی اردو(ہند) کراچی سے طبع ہوئی، اس وقت تک سیاسی تغیرات نے سماجی سروکار کو بدل دیاتھا جس نے اردو شعر و ادب پر نمایاں اثرات مرتسم کردیا اس لیے سوال اٹھنا لازمی تھا، جس کے جواب میں وہ رقم طراز ہیں:
’’بعض صاحبانِ دہلی اور لکھنؤ دبستان کے وجود سے انکار کرتے ہیں کہ دہلی میں بھی ویسی شاعری ہوتی تھی جیسی کہ لکھنؤ میں۔ عرض ہے کہ ایسی چند مثالوں کو مستثنیات میں شمار کرنا چاہیے اور مستثنیات کلیات کو رد نہیں کرسکتے۔‘‘ ۴؎
اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ زبانوںکی نشو ونما اور شعر و ادب کو پروان چڑھانے میں سیاسی و معاشی حالات کا ہردور میں نمایاں رول رہاہے۔ لہٰذا اردو شعر و ادب اور زبان و بیان کے حوالے سے دہلی اور لکھنؤ کے مابین افتراق کو وقتی قرار دیاجانا چاہیے یا ایک دور سے منسوب کرنا چاہیے، کسی دبستان سے نہیں۔کیوںکہ سیاسی تغیرات اور معاشی حالات نے اس خلیج کو پاٹ دیا اور ان کی دوریاں نزدیکیاں میں بدل گئیں۔ دراصل نومبر ۱۹۱۷ء کو انقلابِ روس نے پوری دنیا میں ایک نئی بساط بچھادی اور یکے بعد دیگرے راج شاہی اور شخصی حکومتوں کا خاتمہ ہوتا چلاگیا اور عوامی حکومت یعنی جمہوریت کی روایت چل پڑی جس کے گہرے اثرات ہندوستانی سیاست اور معیشت پر بھی مرتسم ہوئے اور آزادیٔ وطنِ عزیز کی تحریک مضبوط ہوئی لیکن حصولِ آزادی کے ساتھ ہزاروں ہزار سالہ ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے تانے بانے بکھرگئے جس نے اردو شعرا و ادبا کے رویہ کو بھی بدل دیا اور آزاد ہندوستان میں ایک نیا جمہوری سماج پروان چڑھا۔پھر آئینِ ہند کی رو سے قومی زبانوں کی فہرست میں اردو زبان کو بھی شامل کیاگیا اور سرکاری سطح پر اردو زبان کی ترقی و ترویج کے لیے لائحہ عمل تیار ہوئے اور ایک نیا منظرنامہ اردو زبان و ادب میں ابھرکر سامنے آیا۔لسان اور تہذیب و تمدن کی بنیاد پر ہندوستان میں ریاستوںکی تشکیل ہوئی لہٰذا بیسویں صدی کی دوسری دہائی میں صوبۂ بنگال سے ریاستِ بہار کا وجود عمل میں آیا، پھر بہار سے اُڑیشہ، جہاں اُڑیا زبان کا غلبہ رہاہے وہ خطہ اُڈیشہ ریاست اور اکیسویں صدی کی بالکل ابتدائی دہائی میں جھارکھنڈ ریاست معرضِ وجود میں آیا جہاں سنتھالی، اُڑیا اور دیگر علاقائی زبانوں کا غلبہ ہے۔ بہرکیف! بہار کی راجدھانی پٹنہ جو کبھی عظیم آباد کے نام سے موسوم تھا اور نامورانِ علم و ادب کا مرکز رہاہے، وہاں کے اردو شعرا و ادبا اپنے نام یا تخلص کے ساتھ ’عظیم آبادی‘ لکھتے رہے ہیں جس کی بناپر دبستانِ عظیم آباد کی روایت نکل پڑی۔
ادبی میلان و رجحان: اٹھارہویں صدی کی پہلی دہائی یعنی ۱۷۰۷ء میں اورنگ زیب کے انتقال کے بعد سلطنتِ مغلیہ روبہ زوال ہوگیا اور دربارِ مغلیہ جاہ پرستوں اور مکاروں کا آماجگاہ بن گیا اور مفاد پرستوں کی سازش سے کوئی شہزادہ تخت پر جلوہ افروز ہوتا پھر مکر سے مفلوج کرکے سلاخوں کے اندر کردیتے اور دربار میں اپنا دبدبہ بنائے رکھتے۔اس طرح تختِ دہلی کا وارث برائے نام ہوتا۔جس کی وجہ سے اندرون اور بیرونِ ہند سے دہلی پر حملے ہوتے رہے۔ نتیجتاً ریاستیں خود مختار ہوگئیں۔ اہلِ حرفہ اور علم و ادب کے شیدائی امان کی تلاش میں دوسری جگہ منتقل ہوتے گئے جہاںمرفع حالی تھی، خصوصاً اودھ اور حیدرآباد میں،جہاں اردو کے شعرا و ادبا کی قدر بڑھ گئی تھی اور دربار سے ان کو وظیفے بحال ہوتے۔ اس لیے سوداؔ، میرؔ، مصحفیؔ، جرأتؔ اور دیگر شعرا نے اودھ کی راجدھانی لکھنؤ کو جائے مستقر بنایا۔لہٰذا دہلی کے ساتھ لکھنؤ اور حیدرآباد بھی اردو زبان و ادب کے مراکز بن گئے اور اردو زبان بامِ عروج کو پہنچ گئی۔
اٹھارہویں صدی تک اردو زبان و ادب پر مشرقی تمدن اور اسلامی تعلیمات سایہ فگن رہا، جس میں تصوف اور داخلیت کا رجحان نمایاں رہاہے۔لہٰذا دہلوی شعرا نے تصوف کو اپنی شاعری کا محور بنایا اور داخلیت عشقِ حقیقی کا ترجمان بن گئی۔ دہلوی شعرا میں ضبط و احتیاط اور حقیقت پسندی کا رویہ پروان چڑھا تو دوسری طرف لکھنوی شعرا نے تصوف کو سرے سے خارج کردیا اور ان کا میلان خارجیت کی طرف تھا۔ انھوں نے عشقِ مجازی کو معرفت کا وسیلہ بنایا اور خارجی معاملات و مسائل پر خصوصی توجہ مبذول کی۔ اس طرح دہلوی اور لکھنوی شعرا کے درمیان چشمک پیداہوگئی۔ بقول ڈاکٹر ابواللیث صدیقی:
’’دلّی والے اپنی رفتار اور گفتار پر ناز کرتے تھے اور لکھنؤ والے لکھنؤ کو فخر البلاد سمجھتے اور ہر چیز میں اپنی روِش کو دلّی والوں سے علیحدہ رکھنا چاہتے۔‘‘۵؎
دراصل لکھنؤ شہر فارغ البالی میں آباد ہوا تھا اور منصوبہ بندی سے خوبصورت محلات اور باغات سے آراستہ کیاگیا، وہاں کے مکین فکرِ معاش سے آزاد و بے نیاز تھے اور شعر و ادب کی محفلیں خوب خوب سجتی تھیں لہٰذا فکرِ معاش سے آزادی نے بہت سے شعرا و ادبا کو لاابالی بنادیا، جس سے میلانِ نسوانیت نے فروغ پایا اور ایک نئی صنفِ شاعری کی اختراع ہوئی جس کے تعلق سے ڈاکٹر ابواللیث صدیقی لکھتے ہیں:
’’نسائیت اور فخش گوئی سے مل کر ریختی کی بنیاد پڑی۔یہ ایسی صنف ہے جو اردو کے سوا دنیا کی کسی اور زبان کی شاعری میںموجود نہیں ہے۔اس کا سلسلہ کچھ کچھ ہندی شاعری سے ملتا ہے کیوںکہ ہندی شاعری میں عورتوں کے جذبات انھیں کے محاورہ میں ادا کیے جاتے ہیں۔ریختی میں صرف عورتوں کی زبان کا لحاظ نہیں رکھاجاتا بلکہ پیشہ ور عورتوں کے مبتذل جذبات، بازاری اور عامیانہ زبان میں ادا کرتے ہیں۔‘‘ ۶؎
انیسوی صدی کی شروعات ہی سے اردو زبان و ادب نے ایک نئی کروٹ لی اور مذکورہ منظرنامہ بدلنے لگا کیوںکہ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کی، ہندوستانی سیاست اور معیشت میں مداخلت بڑھ گئی۔ لہٰذا مشرقی تمدن اور زبان و بیان کے ساتھ مغربی زبان و ادب اور تہذیب و ثقافت کے اثرات؛اردو زبان و ادب پر نمایاں ہونے لگے۔۱۸۰۱ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی ایما پر فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں قائم ہوا جس میں اردو کے ساتھ دیگر ہندوستانی زبانوںمیں درس و تدریس اور ترجمہ نگاری کے کام بڑ ے پیمانے پر ہونے لگے، جس کے واضح اثرات ہندوستانی زبانوںپر مرتب ہوئے اور صوبۂ بنگال کی راجدھانی کولکاتا بھی علم اور شعر و ادب کا مرکز بن گیا۔اس ادارہ سے اردو زبان و ادب کو خاطر خواہ فائدہ ہوا جس کی تفصیلات بابائے اردو مولوی عبد الحق کی کتاب’’مرحوم دہلی کالج‘‘ میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ مدرسہ غازی الدین، دہلی کو ۱۸۲۵ء میں ’’دہلی کالج‘‘ میں منتقل کردیا گیا جس میں تمام علوم وفنون میں درس و تدریس کے لیے اردو زبان و ادب کو ذریعۂ تعلیم بنایاگیا اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے اخراجات سے انگریزی اور دیگر زبانوں کی تصنیفات کا ترجمہ؛ اردو زبان و ادب میںہونے لگا۔ اس طرح اردو زبان وادب کا دامن کافی وسیع ہوگیا۔ جس میں انگریزی اور دوسرے مغربی زبان کے الفاظ و محاورے بھی شامل ہوگئے۔ اس دور میں زمین کے دستاویز اردو میں لکھے جانے لگے اور عدالتوں سے بھی اردو میں فیصلے صادر ہونے لگے جس میں انگریزی الفاظ اور طرزِ ادا نظر آتے ہیں۔کولکاتا سے اردو شعر و ادب کی کتابیں طبع ہونے لگیں اور اردو اخبار پہلی بار وہیں سے طبع ہوا۔صوبۂ بہار کے اردو شعرا و ادبا نے خصوصی طور پر کولکاتا کو اپنا مستقر بنایا اور وقت کے تغیر نے ان کی تخلیقات میں اعتدال پیدا کردیا۔انگریزی کے الفاظ، اصطلاح اور اصناف کا دخول بھی اردو زبان و ادب میں ہوا۔اس طرح نئے رنگ وآہنگ سے اردو زبان و ادب آشنا ہوئی۔لہٰذا وقت کی تبدیلیوں نے یہ ثابت کردیا کہ ادبی میلانات و رجحانات کی بنیاد پر دبستانوں کی تشکیل ممکن نہیں ہے کیوںکہ ادب میں نئے نئے رجحانات و تحریکات کا ورود فطری ہے اور اس سے اصل زبان کو کوئی فرق بھی نہیں پڑتا بلکہ ادب میں وسعت پیدا ہوتی ہے اور عالمی سطح پر پہچان بنتی ہے، معیار و وقار بڑھتاہے۔
جغرافیائی پس منظر: فرد و معاشرہ کے تمام شعبے؛ جغرافیائی اثرات کے تابع ہوتے ہیں، خواہ جسمانی ساخت ہو یا ذہنی و نفسیاتی فکر و عمل یا لباس و اطوار، سب پر جغرافیائی اثرات مرتسم ہوتے ہیں۔حتیٰ کہ موسمی تغیر و تبدل کا انحصار بھی زمینی نشیب و فراز کا تابع ہوتاہے۔ جنگل، پہاڑ، پٹھار، سمندر، ندی،نالے اور مسطح زمین یہ تمام فرد وسماج کو متاثر کرتے ہیں۔ پروفیسر شکیل الرحمن کے مطابق:
’’انسان کی زبانیں اور بولیاں سیاسی، سماجی اور جغرافیائی حادثوںپر منحصر کرتی ہیں۔ یہی حادثے زبانوں اور بولیوں کو جوان کرتے ہیں اور بعض وقت یہی حادثے انھیں ضعیف بناکر مفلوج بھی کردیتے ہیں۔‘‘۷؎
زبان،قدرت کا عظیم تحفہ ہے اور جغرافیائی افتراق بھی قدرتی نظام کا حصہ ہے۔ لہٰذا زبان و بیان اور لب ولہجہ کا متاثر ہونا فطری امر ہے۔ اس لیے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بھی علاقائی زبان، بولیوں اور لب ولہجہ کے اثرات سے خود کو محفوظ نہیں کرپاتے اور بھری محفل میں بھی پہچان لیے جاتے ہیں۔ شمال مشرقی علاقے اور مدھیہ پردیش اور جنوبی ہند کے اردو داں میں اس فرق کو نمایاں طور پر دیکھا جاتاہے۔ پروفیسر علی رفاد فتحی کے مطابق:
’’دکنی اردو کی ایک نمایاں خصوصیت اس کی آواز اور لہجے میں پنہاں ہے۔لہجے کی ادائیگی اکثر اس خطے میں بولی جانے والی دراوڑی زبانوں سے متاثر ہے۔دکنی اردو میں سُر اور لہجے کی فراوانی اس کی موسیقیت میں اضافہ کرتی ہے جو سامعین کے لیے ایک مخصوص سمعی تجربہ فراہم کرتاہے۔یوں تو دکنی اردو نے اردو مصمتوں کے معیاری سیٹ کو برقرار رکھاہے لیکن بعض مصمتوں کی ادائیگی میں تلفظ میں فرق محسوس ہوتاہے۔ مثلاً دکنی میں ’ق‘ کی ادائیگی ’خ‘ کی طرح کی جاتی ہے۔ تیلگو اور مراٹھی جیسی علاقائی زبانوں کا اثر کچھ مخصوص اصوات کے تلفظ میں دیکھا جاسکتاہے۔‘‘ ۸؎
اردو، برعظیم کی مقبول اور ہردلعزیز زبان ہے جو وسیع و عریض خطۂ ارض پر بولی، پڑھی لکھی اور دفتری زبان کے بطور بھی رواج پاچکی ہے۔ ظاہر ہے اتنے وسیع، جہاں ندیوں کا میدانی علاقہ پھیلا ہواہے تو پٹھاروں اور پہاڑیوں کا سلسلہ بھی دراز ہے۔سمندر کا ساحلی علاقہ ہے تو جنگلوں اور ریگستانوں سے وابستہ، انسانی بستیاں بھی آباد ہیں۔ مختصر یہ کہ ان تمام تفاوت سے موسمیات سے لے کر ہر خطہ کے مکینوں کی وضع قطع، طرزِ زندگی، اسلوب، زبان و بیان اور لہجہ کا متاثر ہونا فطری ہے۔پھر سیاسی تغیرات، معاشی حالات اور حکمرانی لائحہ عمل بھی اردو زبان و ادب سے عیاں ہے۔لہٰذا اردو زبان کا ایک معیار و ماڈل کو بہرحال ملحوظ رکھنا چاہیے، جغرافیائی اثرات کی بنیاد پر دبستان کی سبیل نکل سکتی ہے لیکن اس سے جملہ کی ساخت اور زبان کی افہام و تفہیم میں فرق نہیں پڑتاہے لہٰذا اس پس منظر میں بھی انفرادی دبستان کا دعویٰ مضبوط نہیں ہے۔
لسانیاتی تناظر: سچائی یہ ہے کہ ندیوںکے میدانی علاقہ سے ہند آریائی/ہند ایرانی خاندانِ السنہ کی بولیوں سے مخلوط زبان’اردو‘ معرضِ وجود میں آئی۔ اس لیے شمال ہند اور مدھیہ پردیش کے خطہ کی اردو کو اصل اور معیاری اردو قرار دیاجاتاہے کیوںکہ اردو زبان کو خطہ دکن پہنچنے اور پروان چڑھنے سے قبل، بقول ڈاکٹر محی الدین قادری زورــ:
’’دہلی میں یہ زبان سو ڈیڑھ سو سال تک رہنے کے بعد گجرات اور دکن کا رخ کرتی ہے۔ اس عرصہ میں ہریانوی اور ایک حد تک برج بھاشا اور اس کی عام بول چال کی شکل کھڑی بولی کے اثرات اس پر کارگر ہوچکے تھے مگر وہ مؤخر الذکر سے پوری طرح متاثر نہ ہونے پائی تھی۔گجرات اور دکن میں جب پھیلنے لگی تو شمال اور دکن و گجرات سیاسی اسباب کی بناپر ایک دوسرے سے جدا ہوگئے تھے اور اس کی سیاسی جدائی نے ہندوستانی زبانوںکو خاص طور پر متاثرکیا۔‘‘۹؎
دراصل آریہ جب ہندوستان کے خطہ ٔ ارض پر داخل ہوئے تو ندیوں کے میدانی علاقہ کو اپنی تحویل میں کرلیا کیوںکہ اس وقت معاشرتی زندگی اور معاشرتی نظام مکمل طور پر کاشتکاری پر منحصر تھا۔جس پر آریائی قابض ہوگئئے اس لیے دراوڑی خاندانِ السنہ کی زبانیں بولنے والی قوم بندیاچل پروت کی دوسری طرف خطہ دکن میں منتقل ہوگئی۔ اس طرح اردو زبان کی توسیع دکن تک ہوگئی لہٰذا جغرافیائی اور لسانیاتی اثرات کی وجہ سے اردو زبان کے املا، جملہ کی ساخت، زبان و بیان اور لب ولہجہ میں فرق نمایاں ہوگیا جس کا تفصیلی جائزہ پروفیسر عبد الستار دلوی نے اپنے مضمون ’’دکنی اردو: سماجی لسانیات کی روشنی میں‘‘ پیش کرکے واضح کیاہے کہ اصل اردو زبان اور دکنی اردو میں کیا فرق ہے۔بطور مثال ایک مختصر عبارت ملاحظہ کریں:
’’چاہے یہ دکنی حیدرآباد اور اس کے قریبی اضلاع کی ہو یا مغربی ساحل پر کوکن کے علاقے میں بولی جانے والی زبان ہو۔یہ زبان پرتگیزی اثرات سے بھری پڑی ہے۔
پجن زبان کی ایک خصوصیت اس کا تسہیل کا رجحان بھی ہے۔ یہاں قواعد کی شکل اور پیچیدہ اصول آسان بن جاتے ہیں۔ادبی زبان کے برعکس پجن کا واحد مقصد صرف ابلاغ و ترسیل ہوتاہے۔ لہٰذا قواعد کی پیچیدگیاں اور اصول پسندیاں پجن کے سامنے نرم پڑجاتی ہیں۔معیاری زبان کے انہی اصولوں پر پرورش پائی ہے۔ ذیل میں پجن اور ادبی زبان کے لفظی اختلافات کی چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں:
اردو : میں نے اس سے کہا۔
دکنی اردو: میں انوں کو بولا
اُردو ـ: تجھے کیا چاہیے۔
دکنی اروو: تیرے کو کیا مانگتا
اُردو : مجھے نہیں چاہیے۔
دکنی اردوـ: میرے کو نکو ہونا‘‘ ۱۰؎
مذکورہ مباحث کی بناپر کہاجاسکتا ہے کہ لسانیاتی تفریق کی بنیاد پر ہی دبستانوں کی تشکیل ہونی چاہیے۔ منقولہ حوالہ ثابت کرتاہے کہ سیاسی اسباب، معاشی حالات اور ادبی میلانات و رجحانات کے سبب ہونے والی تبدیلیاں دائمی نہیں ہوتی ہیں۔ وقت، حالات اور دور کے بدلتے ہی زبان وبیان معمول پر آجاتے ہیں جب کہ لسانیاتی تبدیلی سے زبان اور اس کے قواعد میں بھی فرق پڑتا ہے۔دکنی اردو ادب اس کی نمایاں مثال ہے۔ لہٰذا اس کو ’’دکنی دبستانِ اردو‘‘ قرار دیاجانا چاہیے کیوںکہ خاندانِ السنہ کی وجہ سے دکنی اپنی انفرادی شناخت رکھتی ہے۔ تاہم اس کی افہام و تفہیم میں اردو زبان و ادب کو کوئی دشواری پیش نہیں آتی ہے جب کہ بہت سی ایسی تحریر ہند سے زیادہ پڑوسی ملک کی؛ نظروں سے گزرتی ہیں جن کا رسمِ خط فارسی ہے لیکن فارسی داں بھی اس کی قرأت سے قاصر رہتے ہیں؛ افہام و تفہیم تو دیگر بات ہے۔ مختصر یہ کہ لسانیاتی تناظر سے قطعِ نظر مقبولِ عام، ہردلعزیز اور عالمی شناخت قائم کرنے والی اردو زبان کو متعدد دبستانوں کی تشکیل سے اصل زبان کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ لاحق ہے۔ میرے خیال میں علاقائی یا صوبائی ادب کے ذیل میں تصنیفات و تخلیقات کو شاملِ نصاب کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ عمل زبان و ادب کو فروغ دینے اور اردو زبان و ادب کو وسیع و وقیع بنانے میں مددگار ہوگا۔
حواشی:
(۱) فنِ تنقید اور تنقیدی مضامین: نجم الہدیٰ۔ص۳۵،طبع سوم ۱۹۸۹ء۔آزاد پریس، پٹنہ
(۲) مقدمہ تاریخ زبان اردو: ڈاکٹر مسعود حسن۔ ص۹۷،طبع ششم ۱۹۸۲ء۔علی گڑھ
(۳) دلّی کا دبستانِ شاعری: ڈاکٹر نور الحسن ہاشمی۔ص۷۰،پانچواں ایڈیشن ۲۰۰۹ء۔لکھنؤ
(۴) ایضاًص۱۰
(۵) لکھنؤ کا دبستانِ شاعری: ڈاکٹر ابوللیث صدیقی۔ص۳۷، اشاعت اوّل ۲۰۰۸ء۔دہلی
(۶) ایضاً ص ۳۵
(۷) زبان اور کلچر: ڈاکٹر شکیل الرحمن۔ص۲۳، اشاعت اوّل ۱۹۰۸ء، سری نگر (کشمیر)
(۸) بحوالہ’’ایوانِ اردو‘‘ خصوصی شمارہ دکنی ادب‘‘۔ص۳۱، شمارہ ستمبر ۲۰۲۴ء
(۹) ایضاً ص ۱۸
(۱۰) ایضاً ص ۲۹
٭٭٭
عبد البرکات
Prof. Abdul Barkat
University Deptt. of Urdu,
B.R.A.B.U., Muzaffarpur
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

