مولانا آزاد: ایک عبقری شخصیت
مہمان مدیر: ڈاکٹرسلمان فیصل
مجاہد آزادی اور آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام محی الدین احمد آزاد ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ مقدس سرزمین پر ولادت ، دینی گھرانے میں تربیت اورعلماء و مشائخ کی صحبت نے مولانا کی عبقری شخصیت میںاہم کردار اداکیاہے۔ بقول سید عابد حسین مولانا آزاد جیسا انسان صدیوں میں ایک بار پیدا ہوتا ہے۔ مولانا آزاد کی ذات دنیائے صحافت میں روشن مینار کی حیثیت رکھتی ہے، جس کم عمری میں انھوں نے صحافت کا اعلی نمونہ پیش کیا اپنی مثال آپ ہے۔ خطابت میں بھی آپ ایک نابغہ روزگار تھے۔ دینی فہم و فراست میں بھی آزاد تھے ۔ترجمان القران جیسی عظیم الشان کتاب آپ ہی کا خاصہ ہے۔خطابت میں مولانا آزاد کا جادو سر چڑھ کر بولتاتھا۔ معاملہ فہم اور ایک مدبر انسان تھے تبھی انھوں نے جامع مسجد کی سیڑھیوں سے چیخ چیخ کر مسلمانوں کو عدم ہجرت پر ابھارنے کی حتی الامکان کوشش کی تھی۔ وہ ایک ہشت پہلو شخصیت کی مالک تھے جن کا ہر پہلو درخشاں اور تابناک تھا۔ مولانا آزادؔکی شخصیت بے پناہ علم و فضل ، تیز ذہانت، ہمہ گیر حافظہ، نفاست پسندی، اولوالعزمی، عوام دوستی، ترقی پسندی اور اعلی و آفاقی تمدن جیسی نمایاں خصوصیات کی حامل تھی۔
گیارہ نومبر مولاناآزاد کا یوم ولادت ہے۔ اس تاریخ کو یوم آزاد کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس دن ہندوستان میں قومی یوم تعلیم بھی منایا جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے ادبی میراث کا یہ خصوصی گوشہ پیش کیا جا رہا ہے۔ ادبی میراث کے بانی مدیر ڈاکٹر نوشاد منظر قابل مبارکباد ہیں کہ انھوں نے اپنی ویب سائٹ پر اس طرح کے اہتمام کا آغاز کیا ہے۔
اس خصوصی گوشے میں کل گیارہ مضامین شامل ہیں جو متنوع موضوعات پر مشتمل ہیں۔ان مضامین میں مولانا آزاد کے مختلف نظریات اور ان کے فکری جہات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ مولانا آزاد ماہر تعلیم تھے اور ہندواستان کی پہلے وزیر تعلیم بھی۔ تعلیم سے متعلق ان کا ایک مستحکم نظریہ تھا۔ اس حوالے سے ڈاکٹر شمیم احمد نے مولانا آزادکو جدید نظام تعلیم کے معمار سے تعبیر کیا ہے۔ انھوں نے اپنے مضمون میں ذکر کیا ہے کی مولانا آزادنے جو تعلیمی پالیسی پیش کی تھی اس میں ہندوستان کے ترقی تمام راذ پنہاں تھے۔ انھوں نے اس زمانے میں سائنس اور ٹیکنالوجی پر زور دیاتھا۔مزید یہ کہ تمام علوم و فنون اور فنون لطیفہ کی ترقی اور ترویج و اشاعت ان کی پالیسی کا حصہ تھی۔ مولانا آزادنے تعلیم نسواں پر بہت زور دیا تھا۔ اس حوالے سے ڈاکٹر محمد اختر نے عورتوں کے تعلیم سے متعلق مولانا آزادکے نظریات پر گفتگو کی ہے۔ محمد خوشتر نے اپنے مضمون میں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ عہد حاضر میں فکر آزاد کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ ملک کی موجودہ صورت حال میں در پیش چیلینجز کا سامنا مولانا آزاد کے تعلیمی نظریات کی روشنی میں کرکے ان مسائل سے نپٹنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
ایک بہت تفصیلی مضمون کرمیندو شِشِر کا ہی جس کا ترجمہ ڈاکٹر عبدالسمیع نے کیا ہے۔ اس کا عنوان ہے ’’مسلم نشاۃ ثانیہ کے عظیم قائد: مولانا آزاد‘‘۔ اس مضمون میں مولانا آزادکے سیاسی نظریات اور ان کی سیاسی حیات پر فاضل مضمون نگار نے بہت تفصیل سے خامہ فرسائی کی ہے۔ یہ ایک قال مطالعہ مضمون ہے۔ ترجمے میں جو روانی اور سلست ہے اس سے مضمون کے طبع زاد ہونے کا گماں ہوتا ہے۔
ڈاکٹر شمس کمال انجم نے مولانا آزاد کی کتاب غبار خاطر کا مطالعہ عربی ادبیات کے حوالے سے پیش کیا ہے۔ غبار خاطر میں مولانا آزاد نے عربی ادبیات کی جو مثالیں پیش کی ہیں اور ان پر جو گفتگو کی گی ہے مضمون نگار نے ان کا بالاستیعاب جائزہ لیا ہے۔ کامران غنی صبا اور محمد وسیم نے مولانا آزادکی شاعری پر مختلف زاویوں سے گفتگو کی ہے۔ ڈاکٹر عزیر احمد کا ایک منفرد مضمون بھی اس گوشے میں شامل ہی جس کا عنوان ہے: ’’دو ہم تخلص اردو نثر نگار،مولانا ابوالکلام آزاد اور محمد حسین آزاد:اشتراک واختلاف کے چند زاویے‘‘۔ اس مضمون میں ڈاکٹر عزیر احمد نے دونوں آزاد کی نثر کا ایک تقابلی جائزہ پیش کیا ہے۔ نہ صرف بلکہ ان شخصیات میں جو امتزاج و افتراق تھا ان کو بھی اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایک نئے پہلو سے دونوں کا مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ نازیہ ممتاز نے جریدہ ہفتہ وار ’’پیغام‘‘ کی روشنی میں مولانا آزاد کی صحافت پر اپنے تاثرات پیش کیے ہیں۔
اس پیش کش کا مقصد صرف اور صرف مولانا آزاد کو خراج عقیدت پیش کرنا ہے۔ ان موضوعات پر بے شمار کتابیں اور مضامین پہلے سے موجود ہیں، کوئی نیا اضافہ نہیں، بلکہ ان قارئین تک مولانا آزاد کی شخصیت کے چند پہلوؤں کو پہنچانا ہے جنھوں نے ابھی مولانا آ زاد کو کم پڑھا ہے یا ابھی نوواردان بساط ادب ہیں۔ممکن ہے یہ پیشکش مولانا آزاد کی کتابوں کے مطالعہ پر باعث تحریک ثابت ہو۔آخر میں بس اتنا کہوں گا کہ مولانا آزاد کو کئی کئی بار پڑھنا چاہیے۔
٭٭٭٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
بہت عمدہ۔ ڈاکٹر سلمان فیصل کی ہر تحریر ہی منفرد ہوتی ہے۔ سلامت رہیں