ناول ہندو مسلم اتحاد کی بے نظیر مثال پیش کرتا ہے:ڈاکٹر ہیتو بھاردواج
شعبۂ اردو، سی سی ایس یو میں پرو فیسر وکاس شرما کے ناول’’ راہ کے پتھر ‘‘ کا اجراء
میرٹھ10؍ نومبر2021ء
’’پرو فیسر وکاس شرما کا ناول ’’راہ کے پتھر‘‘ دور حاضر کا تخلیقی بیا نیہ ہے جو بظا ہر محبت کے مثلث کو پیش کرتا ہے۔ دل و دماغ کی کشاکش کا خوبصورت اظہار،نہایت مربوط پلاٹ قاری کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے کہ دل کا اظہار کرنے والے سیاست سے پرے ہوتے ہیں۔ وہ سود وزیاں کا سودا نہیں کرتے بلکہ محبت ،انسانیت اور بھائی چارے کو فروغ دیتے ہیں جیسا کہ صابر اور چنتا کے توسط سے کہانی ابھرتی ہے۔رحمت حسین اور لالہ لکشمی نرائن بھی ہندوستانی تہذیب و ثقافت کو عزیز رکھتے ہیں اور مذہب و ملت سے زیادہ بھا ئی چارے کو فوقیت دیتے ہیں مگر مفاد پرست عناصر اسے قبول نہیں کرتے اور وہ محبت کو مذہب کے خانے میں رکھتے ہیں۔یہ گنگا جمنی تہذیب کو اُجاگر کرنے والا نہایت مربوط اور موثر ناول ہے جو دور حاضر کو ایک نیا پیغام دیتا ہے۔‘‘یہ االفاظ تھے علی گڈھ مسلم یونیورسٹی سے تشریف لائے پرو فیسر صغیر افراہیم کے جو شعبۂ اردو چو دھری چرن سنگھ یونیورسٹی کے پریم چند سیمینار ہال میں منعقد میرٹھ کے معروف فکشن ناقد اور ناول نگار پرو فیسر وکاس شر ما کے نئے ہندی ناول’’ راہ کے پتھر‘‘ کی رسم اجراء کے دوران مہمان ذی وقار کی حیثیت سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ادا کر رہے تھے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغاز مولا نا جبرئیل نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ بعد ازاں مہمانوں کا استقبال پھولوں کے ذریعے کیا گیا اور شمع روشن کی گئی۔ صدا رت کے فرائض ڈین فیکلٹی آف آرٹس ،چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی ، میرٹھ پرو فیسر نوین چند لوہنی نے انجام دیے اور مہمانان خصوصی کی حیثیت سے سا بق ڈین فیکلٹی آف آرٹ پروفیسرپرتیبھا سنگھ اور معروف کہانی کار اور ناقد ڈاکٹر ہیتو بھاردواج نے شرکت کی۔اور مہمان مکرم کے بطور پرو فیسر چندر پال شرما نے شرکت کی۔مصنف کا تعارف ڈاکٹر ارشاد سیانوی اور ناول پر تبصرہ فیض عام ڈگری کالج کے استاد ڈاکٹر اسلم صدیقی نے پیش کیا۔ اور نظا مت کے فرائض انتر راشٹریہ کلا منچ کے صدر اور معروف ہندی کوی ڈاکٹر رام گو پال بھارتیہ نے انجام دیے۔ اس موقع پر صدر شعبۂ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے استقبالیہ کلمات اداکرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر وکاس شرما کا ناول’’راہ کے پتھر‘‘ ہندو مسلم اتحاد کا علمبردار ہے اور وہ فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ناول کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ ہندو مسلم اتحاد کو پھر سے زندہ کرنے کی ایک کامیاب کوشش ہے۔
اس مو قع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو ئے ڈاکٹر ایس این شرما نے کہا کہ پروفیسر وکاس شر ما با صلاحیت فکشن نگار ہیں۔انہوں نے اس ناول کے ذریعے معاشرہ کو اتحاد کا سبق دیا ہے مجھے قوی امید ہے کہ یہ ناول نئی نسل میں مقبول ہوگا۔ڈاکٹر ہیتو بھاردواج نے کہا کہ ناول میں جذبات نگاری بہت زیادہ ہے لیکن ناول ہندو مسلم اتحاد کی بے نظیر مثال پیش کرتا ہے۔
اپنے صدارتی خطبے میں پرو فیسر نوین چند لو ہنی نے کہا کہ ناول میں جن سوا لات کو وکاش شر ما نے اٹھایا ہے وہ سماج کا اہم حصہ ہیں۔ ناول کی تکنیک اور اسلوب پر ہونے والی گفتگو سے اندازہ ہو تا ہے کہ ناول آج کے وقت کو سامنے رکھتے ہوئے تحریر کیا گیا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ جب بھی ناول میں نئے مضا مین یا مدعے آئیں گے تو وہ سماج کو اور عام لوگوں کو چو نکانے کا کام کریں گے۔
پرو گرام کے آخر میں مہمانوں کو مومنٹو پیش کیے گئے۔پرو گرام میں ڈاکٹر گوتم گمبھیر،ڈاکٹر راجیش گرگ،ڈاکٹر امیتا شرما، ڈاکٹر لوی شرما ،ڈاکٹر ستپال سنگھ تو مر، ڈاکٹر بھگتوش گوجر، ندھی گپتا،جینت تو مر،محمد شمشاد، سعید احمد سہارنپوری، ادینی مشرا،جیا بھار دواج ،آفاق خاں، ذیشان خاں،مدیحہ اسلم،ارشد احمد،جینت تومر،پرمود کمار،دیوانشو شہراوت،ادیتی مشرا،نیہا بالیان،ودھی اروڑا، انو، سدھارتھ، چندن، سنی،پرینکا، آصفہ سمیت عمائدین شہر اور کثیر تعداد میں طلبہ و طالبات موجود رہے۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

