تحقیق کیا ہے؟
انسان نے اس دنیا میں آتے ہی نئی سے نئی تخلیق سے یہ ثابت کیا ہے کہ انسان ازل سے ہی کھوج اور پر امن کا خواہاں ہے انسان کی تخلیقی صلاحیت ہی اس کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیتی ہے ۔یہ تحقیق کی صلاحیت ہے جس نے آدم کو آگ پیدا کرنے سے لے کر گول پہیہ کی سواری بنانے تک درس دیا ہے۔ذہین آدمی غوروفکر کا عادی ہوتا ہے۔ زندگی کے عام مسائل سے متعلق عموما اور جن مسائل سے اسے دلچسپی ہوتی ہے ان سے متعلق خصوصا سوچتا رہتا ہے یا سوچنے پر مجبور ہوتا ہے اور اپنے حالات کو بدلنا یا بہتر بنانا چاہتا ہے ۔اس لیے اس کے دماغ میں نئے مسائل پیدا ہوتے ہیں یا پرانے مسائل سے متعلق نئے پہلو اور شکوک اس کے سامنے آتے ہیں مسائل کو حل کرنا یا شکوک کو دور کرنا یا یقین سے بدلنا چاہتا ہے یہی سے تحقیق کی ابتدا ہوتی ہے۔
تحقیق ابتدائے آفرینش تخلیق انسانی کے اجزا کا جزو لاینفک ہے ۔عَلَمَ آدم الاسماء پر غور کریں تو اسماء اشیاء کا علم وجودو ماہیت اشیا کاعلم کی جستجو اور تحقیق میں سرگرداں نظر آتا ہے ۔پھرحقیقت اور ماہیت کا علم وجود اشیاء کے حدوث و قدم کے علم کا متلاشی نظر آتا ہے۔ جب اشیاء کی حقیقت و ماہیت اور حدوث و قدم کا علم فکر انسانی کی کسی نہ کسی منزل کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ جب اشیاء کی حقیقت و ماہیت اور حدوث و قدم کےعلم کی تحصیل کے لیے فکریں میدان ِتحقیق میں اپنے گھوڑے دوڑ اتی ہیں تو کچھ صاف شفاف چشموں پر پہنچ کر اپنی تشنہ لبی کرتی ہیں ۔گویا تحقیق پر ت در پرت علم کے بریک ریشمی پردوں میں لپٹی ہوئی دھات کا نام ہے ۔جس کی وجہ سے صیقل چیزیں کند بھی ہو سکتی ہیں اور کندچیزیں صیقل بھی ہو سکتی ہیں۔ بات صرف استعمال کی ہے۔ تحقیق کا عمل بنی نوع انسان کے بچپن سے نیز ایک فرد کے بچپن سے حین حیات جاری رہتا ہے ۔قدیم قبائلی انسان نے مظاہر فطرت مثلاً سورج کا نکلنا اور ڈوبنا ،رات ہونا ،آندھی ،بارش ،سیلاب ،زلزلہ وغیرہ کی اپنے فہم کے مطابق تاویلیں کیں۔ زلزلے کے لیے کہا گیا کہ زمین ایک گائے کے سینگ پر رکھی ہے وہ سینگ بدلتی ہے تو زلزلہ آتا ہے۔
بچے بھی فطرت اور صنعت انسان کوسمجھنے کے لئے بڑوں سے طرح طرح کے سوال کرتے ہیں ۔اور بچے ہی کیوں ہم بڑے بھی زندگی میں طرح طرح کی چھان بین کرتے ہیں ۔مثلاً سامنے پڑوسی کے گھر کے باہر گاڑی آکر رکے تو ہم اپنی کھڑکی سے تانک جھانک کرتے ہیں۔ کہ اس کے یہاں کون آیا ہے ۔ڈرائی کلین کرنے والا دوبھی کپڑوں کے ڈبوں کو دیکھ کر دریافت کرتا ہے کہ یہ کا ہے سے پڑےہیں ۔سبزی سے ،چائے سے، یا گریز ؟اور ان کی تشخیص کرنے کے بعد ان کا ازالہ کرتا ہے۔ ہم خانہ باغ کے پودوں کے پتوں کو مڑا ہوا یا کرم خوردہ دیکھ کر قیاس کرتے ہیں کہ اس کا کیاسبب ہے اور اس کے علاج کےلیے کون سی دواچھڑکی جائے اس قسم کی اطلاقی تحقیق حکیموں اور ڈاکٹروں کے معالجےکا عمل ہے ۔وہ دریافت کرتے ہیں کہ مریض کو کن اسباب کی بنا پر مرض لاحق ہوا ۔ تحقیق علوم کو حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے جب ہم کسی موضوع پر کام کر رہے ہوتے ہیں تو کام کے دوران کئی نئی نئی چیزیں معلوم ہوتی ہیں ۔اس طرح تحقیقی عمل ہمارے لئے کئی دروازے کھولتا ہے اور ہماری سوچ کیلئے فکر کے بہت سے راستے کھل جاتے ہیں۔
تحقیق ادبی میدان میں ادیب شاعر اور نقاد کے کارناموں پر روشنی ڈالتی ہے اور ان کے قد اور حیثیت کا تعین کرتی ہے تحقیق کسی فن پارے کے عہد کا تعین کرتی ہے فن پارے کی زبان کا اندازہ لگاتی ہے کہ جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں وہ کس زمانے میں رائج تھے اور ان کی املا کیا ہے تحقیق کا اہم کام گمشدہ دفینوں کی دریافت کرنا اور ماضی کی تاریکیوں کو دور کر کے اسے روشنی مہیا کرنا ہے تحقیق ماضی کی گمشدہ کڑیاں دریافت کرتی ہے اور تاریخی تسلسل کی بحالی کا فریضہ انجام دیتی ہے اردو ادب کو اس کی ارتقاء کی صورت میں تحقیق کسی شاعر یا ادیب کی تاریخ پیدائش کا تعین کرتی ہے جس سے اس شاعر یا ادیب کے عہد کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے اور اس کے عہد کی روشنی میں ہیں اس کے فن پارے کو صحیح تفہیم و تعبیر ممکن ہوتی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں تحقیقی خاکہ نگاری – نثار علی بھٹی )
مفہوم۔
تحقیق عربی زبان کا لفظ ہے ۔اس کا مادہ "ح ق ق” ہے باب تفیل سے مصدر ہے ۔یعنی حق کو ثابت کرنا اور عربی میں تحقیق کے لئے لفظ” بحث "انگریزی میں” ریسرچ ” اردو میں تحقیق ،ہندی میں اس کے لئے”انو سندھان” استعمال ہوتا ہے ۔مختلف الفاظ کی لغت میں تحقیق کے کھوج ،تفتیش ،دریافت ،چھان بین، تلاش ،اور کسی چیز تک رسائی کے معنی پائے جاتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن مجید میں مذکورہے۔ .
"پھر اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کریدتا تھا تاکہ دکھلائے کہ اپنے بھائی کی لاش کو کس طرح چھپانا ہے”
تحقیق کا لفظی معنی کسی چیز کی اصلیت معلوم کرنا، کریدنا ،تلاش کرنا ،دریافت کرنا ،کھوج لگانا ،تفتیش کرنا ، بار بار تلاش کرنا اور اس کی حقیقت کے لیے خوب خوب کوشش کرنا۔
اسی طرح تحقیق کی وضاحت کرتے ہوئے مولانا کلب عابد پروفیسر شعبہ دینیات مسلم یونیورسٹی نے اپنی کتاب "عمادۃ التحقیق” میں تحقیق کے لفظ کی یہ تشریح کی ہے۔
"تحقیق عربی لفظ ہے یہ باب تفعیل سے ہے اس کے اصلی حروف ‘ح ق ق ‘ہے اس کا مطلب ہے حق کو ثابت کرنا یا حق کی طرف پھیرنا”۱
(یہ بھی پڑھیں ما بعد نو آبا دیات :حدود ، تعارف ،اہمیت – امبرین کوثر )
تحقیق سے مراد صرف نئے حقائق کی تلاش نہیں بلکہ معلوم شدہ حقائق میں اضافہ بھی ہے ۔تحقیق کا مفہوم تلاش حقیقت ہے یہی مفہوم انگریزی لفظ "ریسرچ "بھی رکھتا ہے ۔حق ٹھوس اور ناقابل انکار حقیقت کا نام ہے حق ایک معروضی شے ہے ۔اس کے موجود ہونے پر اختلاف نہیں کیا جاسکتا یہ ایک ایسا نتیجہ ہے جو سب کے لئے یکساں ہوتحقیق کے مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتی ہیں۔
ڈاکٹر ایم سلطانہ بخش : ۔
"تحقیق ایک جامع عمل ہے جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے مختلف پہلوؤں کا حامل ہے چند پہلو ایسے ہیں جو اپنے مقاصد کے لحاظ سے اہم اور قابل توجہ ہیں ان میں نظریاتی یا بنیادی پہلو اطلاقی پہلو اور عملی پہلو نمایاں ہیں”۲
تحقیق صداقت کی تلاش کا نام ہے جو ٹھوس مستقل اور ناقابل انکار ہوں مگر اس کی تلاش کے ذرائع کئی قسم کے ہیں ۔یقینی ،غیریقینی ،مشکوک جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بہت کم کلی کامیابی ہوتی ہے۔اس کے بارے میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ کیا تحقیق کا مقصد واقعات کی کتھونی جمع کرنا ہے یا اس کا کوئی دوسرا مقصد بھی ہے اس سوال کےجواب میں
سیدجمیل احمد لکھتےہیں:۔
"تحقیق اس عمل کا نام ہے جس کے ذریعے سے مسائل کے قابل اعتبار حل تک پہنچا جاتا ہے اور اس میں منصوبہ بندی اور باضابطہ طریقے سے معلومات کو جمع کیا جاتا ہے ،ان کا تجزیہ کیا جاتا ہے اور پھر ان توجیہ و تعبیرکی جاتی ہے ۔”۳
تحقیق کے ذریعے سے علم کو دریافت کیا جاتا ہے۔گویا تحقیق کا مقصد واقعات کی کھتونی جمع کرنا نہیں بلکہ مقدمات کےذریعے نتائج تک پہنچنا ہےمقدمات جنہیں منطق کی زبان مقدمہ صغری ٰ اور مقدمہ کبری ٰ کہاجاتا ہے۔
تحقیق انہماک کے ساتھ جستجویا چھان بین ،مخصوص یا عموما ًناقدانہ اورسیر حاصل تفتیش یا جستجو جس کا مقصد نئے حقائق کا انکشاف اور ان کی صحیح تاویل اور پھر نئے حقائق کے انکشاف کی روشنی میں مروجہ نتائج نظریات یا قوانین پر نظرثانی کرنا یا نئے یا نظر ثانی کیے ہوئے نتائج کا عملی استعمال وغیرہ نیز کسی شخصیت یا مضمون یا اسی قبیل کی کسی دوسری چیز سے متعلق مخصوص چھان بین جس کے ذریعہ چھان بین کرنے والا اپنا انکشاف پیش کرے ۔آکسفورڈ ڈکشنری نے تحقیق کے یہ معنی دیے ہیں۔
کسی مخصوص چیز یا شخص سے متعلق گہری یا محتاط تلاش کا عمل۔
کسی حقیقت کے انکشاف کی غرض سے محتاط غوروفکر یا کسی مضمون کے مطالعہ کے ذریعے تلاش یا چھان بین ناقدانہ یا سائنسی سلسلہ تلاش۔
کسی مضمون کی چھان بین یا مسلسل مطالعہ۔
دوسری بار یا بار بار کی تلاش۔
تحقیق حقائق کی تلاش ہے اس لیے المک کے قول کے مطابق:۔
"ہر قسم کی تفتیش یا چھان بین کو جو بنیادی ذرائع سے کی گئی ہو تحقیق کہا جا سکتا ہے”۴
لیکن محض مواد جمع کر لینا یا اسے ترتیب دے دینا تحقیق نہیں ہے اسی طرح کسی حقیقت کاپتہ لگا لینا تحقیق نہیں ہے بلکہ اس کے اثرات کا کھوج لگانا ضروری ہے کیوں کہ تحقیق نشو نما کا مظہر ہے اور اس کا ماحصل ارتقاء ہے۔
قاضی عبدالودود کے مطابق :
"تحقیق کسی امر کو اس کی اصل شکل میں دیکھنے کی کوشش ہے”۵
ڈاکٹر سید عبداللہ تحقیق کی تعریف اسی طرح بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
"تحقیق کے لغوی معنی کسی شے کی حقیقت کا اثبات ہے اصطلاحاًیہ ایک ایسےطرز مطالعہ کا نام ہے جس میں موجود مواد کے صحیح یا غلط کو بعض مسلمات کی روشنی میں پرکھا جاتا ہے”۶
ڈاکٹر عبدالرزاق قریشی اس حوالے سے لکھتے ہیں
"تحقیق نہ صرف شک کو رفع اور تحیر کو دور کرتی ہے بلکہ آدمی کے لیے نئی راہیں کھولتی ہے وہ مسائل کو حل کرتی اور غلطیوں کو سلجھاتی ہے وہ خامیوں کو دور کرتی اور خوب کو خوب تر بناتی ہے”۷
بقول ڈاکٹر تبسم کاشمیری
"تحقیق کا کام حال کو بہتر بنانا مستقبل کو سنوارنااور ماضی کی تاریکیوں کو روشنی عطا کرنا ہے”۸
According to C.Crawford:
“research define as a method of studying problems whose solutions are to be derived partly or wholly from facts”۹
(یعنی تحقیق کی تعریف اس طرح کی جاسکتی ہے کہ یہ ایسے مسائل کے مطالعہ کا ایک طریقہ ہے جن کے حلو ںکا استخراج جزوی طور سے یا کلی طور سے حقائق سے کیا جاتا ہو) ۔تحقیق ایک ایسا عمل ہے جس کی بنیاد تلاش و جستجو مشاہدات تجربات اور علوم پر ہوتی ہے۔ اس سے علم و فن کی نئی راہیں دریافت ہوتی ہیں نئی حقیقتیں ابھرتی ہیں اور نئے انکشافات جنم لیتے ہیں ۔یہ وہ سوالات اٹھاتی ہے جو ابھی تک اٹھائےنہ ہو ں ۔تحقیق حقیقت کو منکشف کرتی ہے تحقیق ایک ایسا عمل ہے جس میں مختلف امور کے درمیان موازنہ وتقابل کیا جا تا ہے تاکہ صحیح کو غلط سے جدا کیا جا سکے۔یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں کسی حقیقت کو نمایاں کرنا،ناقص کو مکمل کرنا،یا کسی بھی قسم کے ثقافتی ،اخلاقی ،معاشرتی، سیاسی مسئلے کو حل کرنا یا کسی غلط نظریے کی تصحیح کرنا ہے۔
اسی طرح تحقیق کے بارے میں ہندی میں بھی کی اصطلاحیں استعمال ہوئی ہیں۔ "انوسندھان "اس کا” مادہ دھا "ہے جس کے معنی برقرار رکھنا ہیں۔سندھان کےمعنی لکش لکش یعنی مقصود برقرار رکھنا یا نشانہ لگانا ۔انو کے معنی ہیں پیچھے یعنی مقصود یا نشان کا تعاقب کرنا یعنی ان دونوں کو ملا کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک معنی ٹوٹے بکھرے دھاگوں کو جوڑنا بھی ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں اردو میں تدوین متن کی روایت – نثار علی بھٹی )
V.Redman and A.V.H Mory:
"Research is a systemated systematized effort to gain new knowledge.۱۰ "
تحقیق نئے علم کے حصول کے لئے منظم کوشش ہے ۔تحقیق نئے حقائق کو روشنی میں لانے کا نام ہے جیسے گوہر نوشاہی نے نوشہ گنج بخش کی گنج الاسرار کا سراغ لگا کر اردو کے ایک گمشدہ مصنف کا سراغ لگایا مولوی عبدالحق اور ڈاکٹر جمیل جالبی نے بعض دکنی مصنفین کی تصانیف کا سراغ لگایا۔
اسی طرح اسلام میں بھی تحقیق کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے قرآن کریم میں متعدد آیات تحقیق کی طرف رہنمائی کرتی ہیں۔قرآن مجید میں اللہ تعالی کا فرمان ہے
لكل جعلنا منكم شرعه ومنهاجا
"اور ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے راستہ اور منہاج متعین کیا ”
منہاج واضح اور صاف راستے کو کہتے ہیں دور حاضر میں علمائے تحقیق منہج کی اصطلاح اسی لغوی معنی کو بنیاد بنا کر استعمال کرتے ہیں۔ لہذا مناہج سے مراد وہ ایسے واضح راستے لیتے ہیں جنہیں کسی موضوع پر تحقیق کرنے والے اپنی تحقیق کے دوران اپنا جادہء منزل بناتے ہیں ۔جہاں تک بحث کےلغوی معنی کا تعلق ہے تو اس سے مراد طلب وتفتیش اور کسی حقیقت یا کسی معاملے کی کھوج لگانے کے لیے جستجو کرنا ہے۔ اور جہاں تک علمی کے لفظ کا تعلق ہے تو یہ علم کی طرف منسوب ہے۔اور علم سے مراد معرفت و آگاہی ،درایت اور حقائق اور ان کے متعلق تمام چیزوں کا ادراک ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے:۔
: يا ايها الذين امنوا ان جاءكم فاسق بنبا فتبينوا ان تصيبوا قوما بجهالتٍ فتصبحوا على ما فعلتم نادمين
ترجمعہ :”اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اگر کوئی فاسق آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کوئی نقصان پہنچا بیٹھو کسی قوم کوبے علمی کی بنا پر تو پھر اس کے نتیجے میں تمہیں خود اپنے کیے پر شرمندگی اٹھانی پڑے”
اسی طرح قرآن کریم میں متعدد مقامات پر لوگوں کے سوال نقل کرکے جواب کا ذکر ہے تاکہ ان کی معلومات میں اضافہ اور تحقیق کی راہیں ہموار ہوں۔
حدیث کے مطابق:۔
"حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو جب رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کا قاضی بنا کر بھیجا تو آپ صلی اللہ وسلم نے ان سے فرمایا تم کس طرح فیصلہ کرو گے؟ جب تمہارے پاس کوئی مقدمہ پیش ہو جائے تو انہوں نے کہا اللہ کی کتاب سے فیصلہ کروں گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی کتاب میں وہ مسئلہ نہ پاؤ تو ؟عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق فیصلہ کروں گا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر سنت رسول میں بھی نہ پاؤ تو اور کتاب اللہ میں بھی نہ پاؤ ؟تو انہوں نے کہا کہ اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اور اس میں کوئی کمی کوتاہی نہیں کروں گا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینہ کو تھپتھپایا اور فرمایا کہ اللہ ہی کے لئے تمام تعریفیں ہیں جس نے اللہ کے رسول کے رسول (معاذ)کواس چیز کی توفیق دی جس سے رسول اللہ ﷺراضی ہیں ۔”
یہ حدیث بھی بڑی وضاحت سے تحقیق کی اہمیت کو بیان کر رہی ہے دینی اور شرعی امور کے علاوہ دنیاوی باتوں کی تحقیق بھی کی جاسکتی ہے استاد طلباء سے ایسے سوالات کر سکتا ہے جن سے ان کے علم میں اضافہ ہو بزرگوں اور بڑوں کی مجالس میں ادب و احترام کے تقاضوں کو ملحوظ رکھا جائے ۔جس چیز کا علم نہ ہو اس کے بارے میں پوچھنے سے شرم نہیں کرنی چاہیے اسی طرح تحقیق کو ہم وسیع پیمانہ پر تلاش و جستجو کا نام دے سکتے ہیں ۔کسی اور کی شکل پوشیدہ یا مبہم ہو تو اس کی اصلی شکل کو دریافت کرنا تحقیق کہلاتا ہے ۔کسی موضوع کے مواد کی تحقیق تلاش کرنا یا باریک بینی سے مطالعہ کرنا بھی تحقیق ہے۔ تحقیق ایک ایسا امر ہے جو انسان پر ہمیشہ غالب رہتا ہے اور کبھی بھی ختم نہیں ہوتا۔ زندگی کے ہر میدان میں اس کے بغیر کام ممکن نہیں۔ گویا حقیقت پنہاں یا حقیقت مبہم کو افشا کرنے کا پتہ عمل ہے اور اس سے ان کا مقصد بھی صاف ہوجاتا ہے ۔نامعلوم یا کم معلوم کو جاننا یعنی جو حقائق ہماری نظروں کے سامنے نہیں ہیں انہیں کھوجنا اورانہیں آئینہ کر دینا۔
بقول رشید حسن خان :۔
"تحقیق ایک مسلسل عمل ہے نئےواقعات کا علم ہوتا رہے گا کیوں کے ذرائع معلومات میں اضافہ ہوتا رہتا ہے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کون سی حقیقت اتنے پردوںمیں چھپی ہوئی ہے ۔اکثر صورتوں میں یہ ہوتا ہے کہ حجابات بتدریج اٹھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ تحقیق میں اصلیت کا تعین اس وقت تک حاصل شدہ معلومات پر مبنی ہوتا ہے یعنی تحقیق سے مراد صرف نئے حقائق کی تلاش نہیں بلکہ معلوم شدہ حقائق میں اضافہ بھی ہے”۱۱
ان مختلف جامع تعریفوں کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ تحقیق کا مقصد نامعلوم حقائق کی تلاش اور معلوم حقائق کی توسیع، اوران کی خامیوں کی تصحیح ہے۔ ان دونوں کا نتیجہ حدود علم کی توسیع ہے اور حدود علم کی توسیع انسانی ترقی کا باعث ہے ۔اسی لئے تحقیق سب سے مشکل کام ہے جسے سماج نے دوسری تمام سرگرمیوں سے ممیز کیا ہے ۔صرف چند لوگ مشغول رہتے ہیں وہ کسی نئے انکشاف کو جنگ میں مارے جانےیا مذہب کے لیے زندگی وقف کردینے پر ترجیح دیتے ہیں ۔تحقیق ایک محتاط سرگرم جستجو اور مسلسل کاوش اظہار ہے۔ اس سے علم و فن کی نئی راہیں دریافت ہوتی ہیں نئی حقیقتیں ابھرتی ہیں اور نئے انکشافات جنم لیتے ہیں۔
تحقیق کی ہر شعبہ علم میں اہمیت ہے۔ سائنس اور سماجی سائنس کی دشوار گزار را ہیں اس کے بغیر طےنہیں ہوسکتیں ۔نفسیات جسے ابھی اہم علم بنناہے ہر قدم پر تحقیق کا محتاج ہے ۔شعور کا نازک نکتہ ہو یا لاشعور کی گتھیاں سب اس کے دائرے میں آتی ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بے شمار مراکز میں اہل علم اس کی تحقیق و تنقید میں مصروف ہیں سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں ہم بیگانہ محض رہ کر جدید انکشافات سے دور نہیں رہ سکتے۔ ہمیں اپنے عروج کو کسی حد تک یقینی تحقیق سے مانوس رکھنا پڑے گا تاکہ معلومات کے پس پردہ اعلم کی معرفت اور دانشوری کو حاصل کر پائیں ورنہ آج کی کی دنیا میں ترقی اور بقا ممکن نہیں ۔نیز تحقیق کے فن میں مہارت حاصل کرنے کی ضرورت وقت کا اہم تقاضا ہے۔ان تمام خیالات میں تحقیق کے بارے میں ایک مشترک عنصر ملتا ہے ۔حقیقت کی تلاش کا جذبہ اور حقائق کی بازیافت ہے جو مختلف ذرائع سے حاصل کیے گئے اعداد و شمار کی چھان بین کے بعد نئی معلومات پیش کرتے ہو گویا تحقیق ایک موضوع اور فکری لائحہ عمل ہے جو کسی حالات کو معلوم کرنے میں حل کیا جاتا ہے۔ تحقیق کےعمل کے ذریعے ہی انسان نے اپنے مسائل کو حل کر کے اپنی زندگی کو آسان بنایا۔تاریخ گواہ ہے کہ پرانے زمانے کا انسان درختوں کے پتوں اور کھال پر لکھتا تھا جبکہ آج کل کا انسان دل کش خوبصورت کاغذ پر لکھ رہا ہے ۔طباعت و اشاعت میں ترقی ہوئی قدیم چھاپہ خانوں کی جگہ جدید مشینوں نے طباعت کے کاموں میں تیزی پیدا کر دی یہ سب کچھ تہذیبی ترقی کی بدولت ہی ممکن ہو پایا ۔ (یہ بھی پڑھیں تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین )
تحقیق کی خصوصیات
تحقیق کا فن ایک ایسا فن ہے جس میں جذبے کی لطافتوں رنگینی اور تخیل کی حنا بندی یا طرز ادا کی پُر کاری پر قناعت نہیں کی جا سکتی ۔یہ بڑی دیدہ ریزی زہرہ گدازی اور ریاضت و مشقت کا کام ہے۔ تحقیق محض ایک علمی سرگرمی یا حصول اسناد کا وسیلہ نہیں بلکہ یہ ایک طرز زندگی بھی ہے اور مقصد زندگی بھی یہ سچائی کی تلاش اور اس کے عرفان کا دوسرا نام ہے ہر علم اور فن میں تحقیق اس کو آگے بڑھاتی اور ذہن و فکر کو نئے دوائر سے آشنا کرتی ہے ۔کسی قوم میں علم اور فکر کا سفر رک جائے تو وہ ذرا آشنا ہو جاتی ہے آگے بڑھاتی ہے اور اسے ہر منزل پر آمادہ پیکار رکھتی ہے ۔تحقیق کے چراغ جلتے رہیں تو قومی زندگی کا سفر سہل ہو جاتا ہے۔
کرافورڈ نے تعلیمی تحقیق کی درج ذیل خصوصیات بتائی ہیں ۔ان میں سے اکثر علمی و ادبی تحقیق کے لیے بھی اہم اور ضروری ہیں۔
اس کا مرکز کوئی مسئلہ ہوتا ہے۔
اس میں کوئی نئی بات کہی جاتی ہے۔
اس کا دارومدار جستجو پسندوں اور دماغی وجہ ان پر ہے۔
اس کے لئے کھلے دل و دماغ کی ضرورت ہے۔
اس کا انحصار اس مفروضے پر ہے کہ دنیا کی ہر چیز میں تبدیلی ممکن ہے۔
اس کا مقصد قوانین کا انکشاف کرنا اور پھر انہیں عام بنانا ہے۔
یہ سبب اور اثر کا مطالعہ ہے۔
اس کی بنیاد پیمانہ پر ہے۔
اس کے لئے ایک بیدار فنی طریقہ کار لازمی ہے۔
اس میں منظم پہیم محنت درکار ہوتی ہے۔
کسی خاص پہلو کے متعلق تمام معلومات درج کی جاتی ہیں۔
تحقیق نہ صرف شک کو رفع کرتی اور نہ تحیر کودور کرتی ہے بلکہ آدمی کیلئے نئی راہیں کھولتی ہے۔ وہ مسائل کو حل کرتی اور غلطیوں کو سلجھاتی ہے۔ وہ خامیوں کو دور کرتی اور خوب کو خوب تر بناتی ہے وہ آئینوں کی قدر سکھاتی ہے وہ انسان کے مقاصد کی تکمیل میں معین ثابت ہوتی ہے ۔تحقیق کی بدولت ہم دنیا کی گوناگوں تہذیبوں کو اپنا سکتے ہیں ۔غیر مرئی چیزوں کو دیکھ سکتے ہیں۔ اس طرح تحقیق آدمی کو پوری کائنات سے رشتہ جوڑنے میں مدد دیتی ہے ۔موجودہ دور بہت سی ذہنی و مادی ترقیوں کا سبب یہی تحقیق ہے ۔ ریل اور جہاز کی تیز رفتاری نے سفر اور رسل و رسائل میں آسانیاں پیدا کر دی ہیں ۔انجینرنگ کے کارناموں نے اولاد آدم کو مبہوت کر رکھا ہے۔ بجلی کی روشنی سے تاریک دیہات جگمگانے لگے ہیں ریڈیو اور ٹرانسسٹر نے ایک ملک کو دوسرے ملک سے بہت قریب کر دیا ہے۔بنجرزمین لہلہاتے ہوئے کھیتوں میں بدل رہی ہے۔بہت سے خطرناک امراض کا تقریباً خاتمہ ہو چکا ہے ۔یا ان کا کامیاب علاج تلاش کیا جا چکا ہے غرض علوم و فنون کی ترقی تعلیم و تربیت کے ماہرانہ طریقے راحت کے سامان کی فراوانی انسانی دکھوں کا علاج اور مشکلات کا حل تحقیق ہی کی بدولت ہے اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ تحقیق کا مقصد انسانیت کی خدمت ہے۔
حوالہ جات
۱۔پروفیسر ،کلب عابد صدر شعبہ ،دینیات شیعہ "عماد التحقیق "مسلم یونیورسٹی علی گڑھ،۱۹۷۸،ص:۱۴
۲۔ ایم سلطانہ سلطانہ بخش ،ڈاکٹر ،”اردو میں اصول تحقیق "اردو ا اکیڈمی لاہور سن اشاعت۲۰۱۲ ،ص،۹
۳۔امجد علی شاکر،” تحقیق وتدوین اصول و مبادی "عکس پبلی کیشنز،۲۰۱۸،ص،۱۴
۴۔عبدالرزاق قریشی،” مبادیات تحقیق "انجمن اسلام اردو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ممبئی ،۲۰۱۴،ص،۱۶
۵۔گیان چند ،”تحقیق کا فن "قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان 1آر کے فورم نئی دلی ۲۰۰۸، ص،۱۹
۶۔ایضاً
۷۔محمد ہارون قادر ،ڈاکٹر ،”ابجد تحقیق ” گنج شکر پریس لاہور،۲۰۱۰،ص،۱۳
۸۔ تبسم کاشمیری ،ڈاکٹر ،”ادبی تحقیق کے اصول "اسلام آباد مقتدرہ قومی زبان،۱۹۹۲،ص،۲۴
۹۔ ایم سلطانہ سلطانہ بخش ،ڈاکٹر ،”اردو میں اصول تحقیق "اردو ا اکیڈمی لاہور، سن اشاعت۲۰۱۲ ،ص،۷
yogesh kumar singh,fundamental,of research methodology and statistics,pg.3۱۰۔
۱۱۔رشید حسن خان ،” ادبی تحقیق مسائل اور تجزیہ "اترپردیش اردو اکادمی لکھنؤ ۱۹۹۰،ص،۹،۱۰
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


4 comments
[…] شہناز… حالیؔ کے حالات زندگی اور ان کی خدمات… تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول تذکروں کی قدر و قیمت نکات الشعراء کے… اردو ادب میں […]
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اَنیسِ مَن: امیدِ واصل ہے کہ آپ عافیت کے ساتھ ہوں گے۔۔ تحقیقی حوالے سے تحریر کافی اچھی ہے اور اردو کے تطوّر میں اس کا کردار ان نا گفتہ بہ احوال میں اہمیت کا حامل ہے۔
آپ کی تحریر سے کچھ ناقدانہ توجیہات حدود و دوائر کے اندر رہتے ہوئے عرض کرنے کو دل تھا اگر آپ مفتوح الغیظ نہ ہوں،کیونکہ کسی کے تحریری سقم کی نشاندہی کرتے وقت احتیاط کو ملحوظ رکھنا اَز حد ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کے جواب کا متربّص و منتظر
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اَنیسِ مَن: امیدِ واثق ہے کہ آپ عافیت کے ساتھ ہوں گے۔۔ تحقیقی حوالے سے تحریر کافی اچھی ہے اور اردو کے تطوّر میں اس کا کردار ان نا گفتہ بہ احوال میں اہمیت کا حامل ہے۔
آپ کی تحریر سے کچھ ناقدانہ توجیہات حدود و دوائر کے اندر رہتے ہوئے عرض کرنے کو دل تھا اگر آپ مفتوح الغیظ نہ ہوں،کیونکہ کسی کے تحریری سقم کی نشاندہی کرتے وقت احتیاط کو ملحوظ رکھنا اَز حد ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کے جواب کا متربّص و منتظر
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
مؤلف نے اتنے اختصار اور جامع الفاظ کے ساتھ اس موضوع پر بحث کی ہے کہ میں تبصرہ کیے بغیر نہ رہ سکی ۔ اللہ آپ کے علم میں مزید اِضافہ فرمائے آمین ۔