Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
تحقیق و تنقیدنصابی مواد

تحقیق میں ماخذات کی ضرورت واہمیت اور طریقہ کار – عمیرؔ یاسر شاہین

by adbimiras اکتوبر 23, 2021
by adbimiras اکتوبر 23, 2021 1 comment

            ماخذ  : ۔

ماخذعربی زبان کالفظ ہے ۔لفظ ماخذ اسم  مذکر ہے۔انگلش میں اس کے لیے   (Source) کالفظ استعمال ہوتا ہے۔جس کے معنی مادہ،بنیاد،اصل،مرکز،منبع،مخرج اورسرچشمہ کے ہیں۔ماخذکے لیے جڑ،بیخ،بنیاد،مبدا، مادہ،دھاتو،چشمہ،مول، مصدر، نکاس اورمبدارجیسے مترادفات استعمال ہوتے ہیں۔ماخذ سے مراد وہ جگہ جہاں سے کوئی چیز اخذ کی جائے یا اخذ کرنے کی جگہ کے ہیں ۔مختلف اُردولغات میں ماخذکے معنی ومفہوم بھی تقریباََ ملتے جلتے ہیں ۔چند لغات سے ماخذ کے معنی ملاحظہ ہوں ۔

1۔فیروزاللغات میں ماخذکے معنی اس طرح ملتے ہیں ۔

"(ما۔خذ)،(ع۔ا۔مذ)        1۔   وہ جگہ جہاں سے کوئی چیز نکلے،اخذ کرنے یا لینے کی جگہ۔ منبع ،نکاس2۔اصل ،بنیاد3۔مادہ ،مبدا”

2۔فرہنگِ آصفیہ میں ماخذ کے معنی یہ ہیں ۔

"ماخذ۔اسم مذکر(1) اخذ کرنے یعنی لینے کی جگہ،منبع ،نکاس ،چشمہ،وہ جگہ جہاں سے کوئی چیز نکلے (2) اصل،بنیاد،جڑ،بیج(3)مادہ،مبدا”

3۔فرہنگِ تلفظ میں ماخذ کے معنی ہیں۔

"جہاں سے کوئی چیز اخذ یاحاصل کی جائے۔مصدر،مخرج،منبع،اصل۔”

4۔عصری اُردو لغت میں ماخذ کے معنی ہیں ۔

"وہ جگہ جہاںسے کوئی چیز نکلے،نکاس،منبع۔”

5۔ لغاتِ کشوری میں ماخذکے معنی ہیں۔

"مصدرجگہ اخذکی،وہ جگہ جہاں سےکوئی چیز لیں۔”

6۔جہانگیراُردولغت میں ماخذکے معنی ہیں ۔

"جہاں سے کوئی چیزاخذ یاحاصل کی جائے،مصدر،مخرج،منبع،اصل۔”

ماخذکے درج بالا معنی ومفہوم سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ماخذسے مراد وہ بنیادہے جہاں سے کوئی چیز لی جاتی ہے۔ہرچیزکاماخذ ومنبع مختلف ہوتاہے۔مختلف علوم وفنون میں ماخذ مختلف ہوں گے ۔یہاں ہم ادب کے ماخذات پر بات کرتے ہیں توادب کے ماخذات دوسرے علوم وفنون کی نسبت مختلف ہوں گے اور پھرادب کی مختلف شاخوں کے لیے ماخذ مزید مختلف ہوسکتے ہیں ۔ ادبی تحقیق کے مختلف موضوعات کے لیے بھی ماخذات کی نوعیت مختلف ہوگی۔ان سب پرآگے تفصیلی بحث کی جائے گی یہاں پرہم ماخذکی اقسام پربات کرتے ہیں ۔

ماخذ کی اقسام

1)۔ بنیادی ماخذات

2)۔ ثانوی ماخذات

3)۔ثلاثی ماخذات

1)۔ بنیادی ماخذات

بنیاد کے معنی جڑ،نیو،طاقت اور بساط کے ہیں ،بنیاد سے بنیادی ہے جس کے معنی اصلی ،حقیقی اور ابتدائی کے ہیں ،انگلش میں بنیادی ماخذات کے لیے (Primary Sources)کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں ۔بنیادی ماخذات میں مصنف کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تمام تحریریں شامل ہوں گی جس پر آپ کام کررہے ہیں، جن میں مصنف یاشاعرکی تمام چھوٹی بڑی  تخلیقات مخطوطے،دستاویزات،کتب ،مضامین،ذاتی ڈائریاں،علمی اسناد،تشخیصی ریکارڈ،خطوط،ملازمت کے ریکارڈاورقانونی ریکارڈ جن سے معلومات اخذ کی جارہی ہوں بنیادی ماخذات کہلاتے ہیں ۔ بنیادی ماخذات کے حوالے سے پروفیسر ڈاکٹر عطش درانی اپنی کتاب "لسانی وادبی تحقیق وتدوین”میں لکھتے ہیں ۔

"وہ تمام اساسی شواہد و دستاویزات مخطوطے ، کتابیں،تصانیف،مسودے،ڈائریاں،خطوط،حوالہ جات،لغات،قاموس،تصاویر،ویب سائٹس،وغیرہ بنیادی ماخذ کہلاتے ہیں جن پر تحقیقی کام انجام دیا جا رہا ہو”(1)

ہرموضوع کے بنیادی ماخذات کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔اگرآپ کسی شخصیت پر کام کررہے ہیں تو اس کے بنیادی ماخذات میں اس کی تمام تر نثری و شعری تخلیقات ،ذاتی ڈائریاں ،تعلیمی ریکارڈ،تشخیصی ریکارڈ،زرعی ریکارڈ،خاندانی ریکارڈ اوروہ تمام دستاویزات بنیادی ماخذات میں شامل ہوں گی جواس کی سوانح وشخصیت کے علاوہ اس کے علمی وادبی حوالے ہوں گے۔مثال کے طورپرہم شخصیت کے حوالے سےایک موضوع لے کر اس کے بنیادی ماخذات دیکھتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں  تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول )

"احمدندیم ؔقاسمی حیات وخدمات "

بنیادی ماخذات  :

1)۔ افسانوی مجموعے

1)چوپال2)بگولے   3)طلوع وغروب 4)گرداب5)سیلاب6)آنچل7)آبلے8)آس پاس9)درودیوار10)سناٹا11)بازارِحیات

12)برگِ حنا  13)گھرسے گھرتک 14) کپاس کا پھول 15)نیلا پتھر 16) کوہِ پیما17)پت جھڑ

شعری مجموعے

1)دھڑکنیں (قطعات)2)رم جھم (قطعات ورباعیات)3)جلال و جمال 4)شعلہ گل 5)دشتِ وفا6)مُحیط 7)دوام 8)لوحِ خاک

9)جمال(نعتیہ)10) بسیط 11) ارض وسما

تنقیدوتحقیق

1)ادب اور تعلیم کے رشتے2) تہذیب وفن 3) پسِ الفاظ 4)معنی کی تلاش

سوانحی خاکے

1)میرے ہم سفر2) میرے ہم قدم 3) تذکرے

ترتیب وتدوین

1)انگڑائیاں 2)نقوشِ لطیف3)کیسر کیاری(انگریزی مضامین اور ڈراموں کے تراجم)4)کیسر کیاری(منتخب فکاہی کالم)

5) نذرِحمیداحمدخان(ترتیب)

ناولٹ

1)اس راستے پر

شخصیت کے حوالے سے اسی طرح بنیادی ماخذات لیے جائیں گے ۔مصنف کی جملہ تصانیف بنیادی ماخذات شمار ہوں گی۔لیکن اگر کسی مصنف کے کسی ایک پہلوکو موضوع تحقیق بنایا گیا ہو تو مخصوص پہلوسے متعلقہ تصانیف بنیادی ماخذات تصور کی جائیں گی۔مثال کے طور پردرج بالا موضوع کواگر اس طرح کرلیا جائے۔”احمدندیم قاسمی بطور شاعر”تواب صرف شعری تخلیقات بنیادی ماخذ ہوں گے اور اگر”احمدندیم قاسمی بطورنثرنگار” کرلیا جائے تو شعری تخلیقات کو نکال کر باقی تمام تخلیقات بنیادی ماخذ ہوں گے۔

اسی طرح ہرموضوع کے بنیادی ماخذات موضوع کی نوعیت کے مطابق ہوں ۔اگرآپ کسی ادارے پر تحقیق کررہے ہیں توادارے کی تمام خدمات وتخلیقات بنیادی ماخذ ہوں گے۔کسی تحریک پر کام کررہے ہوں تو تحریک کی تمام خدمات وتخلیقات بنیادی ماخذات ہوں گے۔اسی طرح اگرآپ کسی مخصوص علاقے کی علمی وادبی خدمات پرکام کررہے ہیں تواس علاقے کی تخلیقات بنیادی ماخذات شمار ہوں گے۔ مختصراََ یہ کہ ہرموضوع کے لیے ماخذات کی نوعیت بھی بدل جائے گی،بعض اوقات ایک موضوع کے لیے جوتخلیقات بنیادی ماخذات ہوں گے تھوڑی سی موضوع میں تبدیلی سے وہی ماخذات ثانوی ماخذت میں تبدیل ہوجائیں گے۔مثال کے طورپرآپ شخصیت پرکام کررہے ہیں تواس شخصیت کی جملہ تخلیقات بنیادی ماخذات ہوں گے اور اس شخصیت پر لکھی گئی تخلیقات ثانوی ماخذات ہوں گےمگر اسی موضوع کو شخصیت شناسی میں بدلنے سے ان تخلیقات کی نوعیت یکسر بدل جائے گی۔لہذاہرموضوع کے لیے مثالوں سے کام لیاجائے توطوالت کا خدشہ ہے ۔

بنیادی ماخذات کو مزید تقسیم کیا جائے تواس کی مزید دواقسام سامنے آتی ہیں ۔

1)۔شخصی ماخذات   :  ۔     شخصی ماخذات میں مصنف سے ملاقات کے ذریعے  کچھ غیر تحریری معلومات حاصل ہوتی ہیں ،جن میں اس کی ذاتی زندگی کے اتار چڑھاؤ،ازدواجی زندگی سے متعلق معلومات ،اپنی عادات واطوار کا ذکر، خاندانی رسم ورواج کا ذکر،اپنی ملازمت کی داستان اور اپنی نجی زندگی کے مخفی گوشے جن کو احاطہ تحریر میں نہ لایا گیا ہو،محقق دورانِ ملاقات ان کو کسی کاغذ یاڈائری پر لکھ لیتا ہے تویہ بھی بنیادی ماخذات شمار ہوں گے،ان ماخذات کو شخصی بنیادی ماخذات کہا جاسکتاہے۔

2)۔ غیر شخصی ماخذات  :۔ غیر شخصی ماخذات میں تمام تحریری موادشمار ہوگا جس کا اوپر تفصیل سے ذکر کیا جا چکا ہے۔ مگراس کو بھی مزیددوحصوں میں تقسیم کیا جاسکتاہے ۔

1)۔غیرمطبوعہ مواد،جس میں مسودے ،مخطوطے اور مصنف کے ہاتھ سے لکھی ہوئی ،یامصنف نے کسی سے لکھوائی ہوئی ہوں مگر وہ شائع نہ ہوئیں ہوں ،یہ بھی بنیادی ماخذات ہوں گے۔

2)۔مطبوعہ مواد،جس میں کتب ،مضامین اوردستاویزات جو شائع شدہ ہوں ۔

2)۔ ثانوی ماخذات

ثانی کے معنی دوسرا،مانند،مُقابل اور جوڑکے ہیں۔ثانی سے ثانوی ہے جس کے معنی ثانی کی طرف منسوب کے ہیں۔ثانوی ماخذات کے لیے انگلش میں (Secondary Sources) کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ ثانوی ماخذات میں مصنف کی شخصیت وفن پرلکھی جانے والی تمام تحریریں  شامل ہوں گی ۔جن میں تحقیقی وتنقیدی کتب،سوانحی کتب ،مضامین ، تحقیقی مقالات،اخبارات ورسائل میں شامل مضامین اور کتب پر تبصرے اور فلیپ  وغیرہ شامل ہیں ۔اس کے علاوہ جس شخصیت پر آپ کام کر رہے ہیں اس کی ادبی جہات جن میں شاعری(غزل،نظم)،نثر نگاری(افسانوی وغیرافسانوی )وغیرہ شامل ہیں ،ان سب اصناف پر نظری واطلاقی کتب اور مضامین جن میں اُن اصناف کے بارے میں مباحث ملتے ہیں ثانوی ماخذات شمار ہوں گے۔ثانوی ماخذات کے لیے امدادی ماخذات کے الفاظ بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں ۔ثانوی ماخذات کے حوالے سے پروفیسر ڈاکٹر عطش درانی اپنی کتاب "لسانی وادبی تحقیق وتدوین”میں لکھتے ہیں ۔

"وہ تمام مواد،کتابیں،مقالات،کیسٹ،نقشے،آلات،ویب سائیٹس وغیرہ جن کے ذریعے بنیادی ماخذوں پر کام کیاجارہا ہویا جو بنیادی ماخذوں کا حوالہ دے رہی ہوں یا اُن کی مددسے بنیادی ماخذوں سے تقابل یا نشان دہی ہوتی ہو اور اُنکی حیثیت امدادی مواد کی ہو۔”(2)

بنیادی ماخذات کی طرح ثانوی ماخذات بھی ہر موضوع کی نوعیت کے مطابق ہوں گے یہاں ہم مثال کے لیے  بنیادی ماخذات میں زیر بحث لایا گیا موضوع لے کر اس کے ثانوی ماخذات کو زیرِ بحث لاتے ہیں ۔ (یہ بھی پڑھیں تحقیقی خاکہ نگاری – نثار علی بھٹی )

 

"احمدندیمؔ قاسمی حیات وخدمات”

ثانوی ماخذات  :

مطبوعہ کتب

1)۔ ندیم کی شاعری اور شخصیت       از جمیل ملک

2)۔ احمد ندیم قاسمی شاعر اور افسانہ نگار     از ڈاکٹر فتح محمد ملک

3)۔  ندیم کی غزلوں کا تجزیاتی مطالعہ    از  ڈاکٹر ناہید قاسمی

4)۔ احمد ندیم قاسمی ۔۔ایک لیجنڈ   از ڈاکٹر شکیل الرحمن

5)۔ گل پاشی     مرتبہ  منصور آفاق۔منصورہ احمد

6)۔ مٹی کا سمندر  مرتبہ ضیا ساجد

مقالات

1)۔احمدندیم قاسمی کی تنقید نگاری   ،        مقالہ برائے ایم۔فل   ،مقالہ نگار  ،  حسن رضا

2)۔احمدندیم قاسمی کی ادبی شخصیت ،مقالہ برائے ایم۔اے ،مقالہ نگار م،حمد عباس

3) احمدندیم قاسمی:بحیثیت شاعرو افسانہ نگار،ایک تجزیاتی مطالعہ،مقالہ برائے پی۔ایچ۔ڈی، مقالہ نگار، افشاں ملک

4)۔احمدندیم قاسمی کی افسانہ نگاری،مقالہ برائے پی۔ایچ۔ڈی،مقالہ نگار،طارق احمد شاہ

5)۔احمد ندیم قاسمی بطور شاعر،مقالہ برائے پی۔ایچ۔ڈی،مقالہ نگار،عمارہ اقبال

6)۔احمد ندیم قاسمی کی نثر نگاری کا تنقیدی جائزہ ،مقالہ برائے پی۔ایچ۔ڈی،مقالہ نگار،سبینہ اویس

رسائل وجرائد

1)۔ رسالہ "عبارت” ندیم نمبر،1996

2)۔ جریدہ "عالمی اُردو ادب”ندیم نمبر،1996

3)۔رسالہ "افکار”ندیم نمبر،1975

4)۔ مجلہ”صحیفہ”،احمدندیم قاسمی نمبر،2011

5)۔سہ ماہی "ادبیات”ندیم نمبر،2006

بنیادی ماخذات کی طرح ثانوی ماخذات بھی موضوع کی نوعیت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں ۔اگردرج بالا موضوع کو "ندیم شناسی” میں بدل دیا جائے تو ماخذات بھی الٹ جائیں گے۔اور یہی صورت ہر موضوع کی ہے۔محقق کو اپنے موضوع کے حوالے سے مکمل جان کاری ہوگی تب ماخذات کے انتخاب میں وہ مکمل طور پر سرخرو ہوسکے گا۔بنیادی ماخذات کی طرح ثانوی ماخذات کو بھی مزید دواقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ،جن میں  یہ ہیں۔

1)۔شخصی  ماخذات : ثانوی شخصی ماخذات میں وہ معلومات آتی ہیں جو آپ کسی شخصیت پر کام کرنے والی شخصیت سے ذاتی ملاقاتوں کے ذریعے لیتے ہیں اور جو مطبوعہ یا تحریری نہیں ہوتی ،ان کو شخصی ماخذات میں شمارکیا جائے گا۔

2)۔غیر شخصی ماخذات:غیر شخصی ماخذات کی بھی مزید دواقسام بنتی ہیں ۔

1)۔ غیر مطبوعہ: غیر مطبوعہ ماخذات میں قلمی نسخے،مسودے، بیاض،ذاتی ڈائریاں اور غیرمطبوعہ تحریریں شامل ہیں ۔

2)۔مطبوعہ : مطبوعہ ماخذات میں کتب،رسالے،تذکرے ،مضامین اور تبصرے وغیرہ شامل ہیں ۔

 

3)۔ثلاثی ماخذات :

ثلاثی،ثلاثہ سے اخذ کیا گیا ہے جس کے معنی تین،تین گناہ،سہ حرفی اور تیسرے کے ہیں ۔تحقیق میں بنیادی اورثانوی ماخذات کے علاوہ ثلاثی ماخذات بھی ہوتے ہیں جو روزمرہ مضامین ،رپوٹوں ،مقالوں اور مباحث کی صورت میں اکثر شائع ہوتے رہتے ہیں ۔جیسے اخباری ،سیاسی،مذہبی،عمومی صحافیانہ مضامین اور درسی ونصابی کتب وغیرہ ۔مطالعہ کی حد تک  اور بنیادی وثانوی ماخذات تک رسائی کے لیے ان ذرائع سے استفادہ کیا جاسکتاہے لیکن تحقیقی حوالے سے ان پر انحصاریا استنادنہیں کیا جاسکتا۔ ان کی حیثیت پس منظری مطالعے کی سی ہے جس کے ذریعے اصل ماخذ تک رسائی ممکن بنائی جاسکتی ہے۔ ان کے علاوہ انٹرنیٹ،ویب گاہیں وغیرہ بھی شامل کرلی جائیں تویہ سب ثلاثی ماخذ شمار کیے جائیں گے جن سے اصل ماخذ تک رسائی میں زیادہ آسانی ہوگی۔

بنیادی ،ثانوی اور ثلاثی ماخذات کی نوعیت اضافی ہوتی ہے،یہ مختلف تحقیق میں مختلف نوعیت اختیار کرجاتے ہیں۔ایک ہی ماخذ ایک قسم کی تحقیق میں بنیادی اور دوسری قسم میں ثانوی حیثیت اختیارکر جائے گا۔اگر ہم کسی مصنف کی تخلیقات کا جائزہ لے رہے ہوں تو اس کی تخلیقات بنیادی ماخذ ہوں گے اور اس پر ہونے والا کام ثانوی ماخذ شمار ہوگا،مگر اس کی تخلیقات پرہونے والی تحقیق وتنقید کا تقابلی جائزہ لے رہے ہوں تو اس پر ہونے والا کام بنیادی جب کہ اس کی تخلیقات ثانوی ماخذ کے زمرے میں آتے ہیں ۔ لہذاماخذات کی حیثیت ونوعیت موضوع کے ساتھ ہے ،موضوع کے بدلنے سے ماخذات  کی حیثیت ونوعیت بھی تبدیل ہوگی۔

تحقیق میں ماخذات کی ضرورت ،اہمیت اور افادیت

تحقیق میں ماخذات کی ضرورت،اہمیت اور افادیت سے انکار ممکن نہیں ،کیوں کہ ماخذکے بغیر تحقیق کا وجود ممکن نہیں ۔تحقیق کا کام ہی کسی شے کی حقیقت کا اثبات ہے ،کوئی شے پہلے سے موجود ہے جس میں موجودخوبیوں اور خامیوں کا سراغ لگا کر اصل حقائق کو منظرِ عام پر لانا تحقیق کا کام ہے ۔ تحقیق کے مقاصد کے حوالے سے ڈاکٹر جمیل جالبی اپنی تحقیقی کتاب ” ادبی تحقیق”میں لکھتے ہیں ۔

"تحقیق کا کام سچ کو جھوٹ سے ،صحیح کو غلط سے الگ کرکے اصل حقیقت کو دریافت کرناہے۔ اس کا فائدہ یہ ہےکہ تحقیق کے ذریعے کسی نتیجے پر پہنچنے کے بعد جورائے قائم کی جائے گی یا جو لائحہ عمل مقرر کیا جائے گا وہ بھی صحیح ودرست ہوگا ۔اسی لیے زندہ معاشروں میں تحقیق کو وہی اہمیت دی جاتی ہے جو نوزائیدہ مملکت کے نوزائیدہ شاعر اپنی محبوبہ کو دیتے ہیں۔(3)

تحقیق ہرشعبہ زندگی میں ضروری اور اہمیت کی حامل ہے کیوں کہ تحقیق کے ذریعے ہی ترقی ممکن ہے ،تحقیق معاشرے میں موجود جھوٹ ، من گھڑت سچائیوں ،عیوب ،کسی چیزمیں موجود خامیوں اور خرابیوں کو دور کرکے اس کو اپنی اصل شکل دیتی ہےجس سے معاشرے ترقی کرتے ہیں ۔آج مغرب میں جتنی ترقی نظر آتی ہے سب تحقیق کی دین ہے اور مشرق خصوصا برصغیرپاک وہندکی موجودہ صورت ِ حال تحقیق سے دوری کامنہ بولتا ثبوت ہے ۔

یہاں ہم ادبی تحقیق کی بات کررہے ہیں تو لہذا ادبی تحقیق کی ضرورت ،اہمیت اور افادیت کاذکرکرتے ہیں ۔دوسرے شعبہ ہائے زندگی کی طرح ادب میں بھی تحقیق کی ضرورت واہمیت مسلم ہے ۔ادبی تحقیق ادب میں موجود خامیوں اور نقائص کو دور کرکے ان کواپنی اصل حالت میں منظرِ عام پر لاتی ہے۔ جس سے آنے والوں کے لیے اصل متن تک رسائی ممکن ہوتی ہے۔ خامیوں ،نقائص اور کمزوریوں کو دور کرکے حقیقت اور سچائی کو منظر عام پرلانے کے لیے ماخذات کی ضرورت ہوگی جس کو مدنظر رکھ کر محقق فیصلہ کرسکے گا کہ کون کون سی چیزیں جھوٹ،خرابی اور نقص کو جنم دے رہی ہیں ۔ماخذات کے بغیر ہوا میں یہ فیصلہ ممکن نہیں کہ محقق خواب یا خیال میں یہ سب کچھ کر سکے ۔لہذاماخذ تحقیق کی بنیاد ہے جس پر چل کر تحقیق کی پوری عمارت قائم ہوتی ہے ۔

جب ماخذات محقق کے سامنے ہوں گے تو وہ اپنے مطلوبہ ہدف کے مطابق یہ فیصلہ کرے گا کہ کن ماخذات کو بنیادی ماخذات کے طور پر رکھناہے اور کون سے ثانوی ماخذات ٹھہرے گے ۔بنیادی ماخذات سے وہ حقائق تلاش کرے گا اور ثانوی ماخذات کودلیل اور ثبوت کے طور پر رکھے گا،کیوں کہ تحقیق ایک منطقی اور مدلل چیز کا نام ہے اس لیے منطق اور استدلال کے بغیر چارا نہیں ۔جب محقق نے یہ تعین کرلیا کہ یہ ماخذات بنیادی ہوں گے اور یہ امدادی یاثانوی ماخذ کے طور پر کام آئیں گے تو پھر اس کے لیے ضروری ہے کہ بنیادی ماخذات پر بھرپور توجہ دے اورجتنے بنیادی ماخذات ہیں ان کو تلاش کرے ،کیوں کہ بنیادی ماخذکے بغیر کام شروع نہیں کیا جاسکتا اور اگر شروع کیا جائے تواس میں نقائص پیدا ہوں گے جن کی وجہ سے تحقیقی کام معیاری اور مستند ہونے کی بجائے تاثراتی رہے گا اور کئی طرح کے شکوک وشبہات کو جنم دے گا۔ ایسے کام سے محقق کی پہچان اور نام کی بجائے الٹا بدنامی ہوگی۔اُردوادب میں اس طرح کی بہت سی مثالیں موجود ہیں ۔حافظ محمود شیرانی نے اپنی کتاب "پنجاب میں اُردو”میں غیر تحقیقی انداز اپناتے ہوئے جس طرح اُردوکی ابتدا پنجاب سے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ،انھی کے الفاظ میں ملاحظہ ہو۔

"اُردودہلی کی قدیم زبان نہیں بلکہ وہ مسلمانوں کے ساتھ دہلی جاتی ہے اور چو ں کہ مسلمان پنجاب سے ہجرت  کرکے جاتے ہیں ۔اس لیے ضروری ہے کہ وہ پنجاب سے کوئی زبان اپنے ساتھ لےگئے ہوں ۔”(4)

اب یہاں کوئی زبان سے مراد کون سی زبان ہے ؟اسی طرح مسعود سعدسلمان کے کلام کا بھی انھوں نے کوئی نمونہ پیش نہیں کیا۔جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے پاس ماخذات موجودنہیں تھے اگر ماخذ ہوتا تو وہ ضرورکوئی شعر درج کرتے ،ان غیر تحقیقی رویوں کی وجہ سے آج تک ان پر اعتراضات کا سلسلہ جاری ہے ،کیوں کہ تحقیق ٹھوس دلائل کاتقاضاکرتی ہے ۔

اسی طرح اُردوادب کی مقبول ترین تاریخ "اُردوادب کی مختصرترین تاریخ”میں بھی  تحقیقی مسائل دیکھنے میں آئے ہیں ۔علامہ اقبال پر بات کرتے ہوئے جہاں ڈاکٹر سلیم اخترنے علامہ اقبال کامشہور زمانہ شعر،

؎نسیم وتشنہ ہی اقبالؔ کچھ اس پر نہیں نازاں
مجھے بھی فخر ہے شاگردی داغِ سخن داں کا!(5)
درج کیا ہے وہاں یہ لکھاہے کہ یہ شعر علامہ اقبال کی "بانگِ درا”میں موجود نظم "داغ” میں ہے مگر حقیقیت یہ ہے کہ یہ شعر اس نظم میں موجود نہیں بلکہ پورے” کلیاتِ اقبال” میں موجود نہیں اور یہ شعر”کلیاتِ باقیاتِ شعراقبال "مدون صابر کلوروی میں موجودہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈاکٹر سلیم اختر صاحب نے بنیادی ماخذ کی بجائے ثانوی ماخذ سے استفادہ کیا ہے جس وجہ سے ایسی صورت پیداہوئی ہے۔اگروہ بنیادی ماخذ سے استفادہ کرتے تو ایسا ہرگز نہ ہوتا۔ایسی ہی وجوہات کی بنا پر سنجیدہ محققین اب اس کتاب سے بیزار نظر آتے ہیں ۔اگراس میں ایسی تحقیقی اغلاط نہ ہوتیں تو شکوک وشبہات کا جو سلسلہ چل نکلا ہے یہ نہ ہوتا،ان مثالوں کو درج کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ماخذات کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ۔یہ تو چندمعروف مثالیں ہیں اس کے علاوہ سینکڑوں ایسی مثالیں مل جاتی ہیں جن میں ماخذات تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے جو تحقیقی خلا پیداہوتاہے اس سے تحقیقی کام شکوک وشبہات کی نظر ہوکر غیرمعیاری و غیر مستند ٹھہرتاہے۔

تحقیق ایک محنت طلب کام ہے اور ادبی تحقیق عام تحقیق سے زیادہ محنت طلب ہے کیوں کہ یہ علمی کی بجائے کتابی زیادہ ہے ،اور پھر ان کتب تک رسائی ممکن نہیں ہوتی ۔ادبی تحقیق میں لکھنے کی بجائے ماخذات کی جمع آوری میں وقت زیادہ لگتا ہے ۔بلکہ ڈاکٹر گیان چند جین تومواد کی تلاش کو بڑی ریسرچ کا نام دیتے ہیں ،وہ اپنی تحقیقی کتاب "تحقیق کا فن ” میں اس حوالے سے رقم طراز ہیں ۔

"کتابیں ہوں کہ مخطوطات،اُردو میں تو انھیں تلاش کرکے فراہم کرنا ہی سب سے بڑی ریسرچ ہے ۔”(6)

ادبی تحقیق میں ماخذات کی ضرورت واہمیت  پسِ منظری مطالعہ سے لے کر تحقیق کے آخری مرحلے کتابیات تک مسلمہ ہے۔ ماخذات کے بغیر تحقیق ممکن ہی نہیں ،تحقیق میں ماخذات کی مثال جسم میں روح جیسی ہے اگر جسم سے روح نکل جائے تووہ مردہ ہوجائے گااسی طرح تحقیق سے ماخذات کو نکال دیا جائے تواس کاحال بھی بغیر روح کے جسم جیسا ہوگا ۔

ذرائع ماخذات:۔

1)لائبریریاں:۔

ماخذات کی تلاش میں پہلا اور بنیادی ذریعہ لائبریری ہے ۔قدیم دور میں صرف اور صرف لائبریاں ہی ماخذات کاذریعہ تھیں اور انھی سے تحقیق میں استفادہ کیا جاتا تھامگردورجدید میں ان کے علاوہ بھی بہت سے ذرائع موجودہیں مگر پھر بھی بنیادی اور مستند ذریعہ لائبریری ہی ہے۔ ماخذات کی تلاش شروع کرتے وقت سب سے پہلے اگر آپ کی ذاتی لائبریری ہے تواس سے استفادہ کیا جائے اوراپنے موضوع سے متعلق کسی کتاب کی جانچ پڑتال کرلی جائے ۔اگرموضوع سے متعلق کوئی کتاب مل جائے تواس کے حوالہ جات اور کتابیات کوغورسے دیکھا جائے اور اپنے متعلقہ موضوع سے متعلق موجود کتب، مضامین اور دوسرے ماخذات کی ایک فہرست تیار کرلی جائے تاکہ بعد میں آسانی رہے۔

اپنی ذاتی لائبریری کے بعد اپنے قریبی علم دوستوں کی  نجی لائبریری سے استفادہ کیا جائے ،اوراپنے پاس موجود فہرست میں سے متعلقہ کتاب تلاش کی جائے ۔اگرتیارکردہ فہرست سے اضافی ماخذات کاادراک ہورہا ہوتوان کو فہرست میں درج کرلیا جائے۔دوست احباب کی ذاتی لائبریوں کے بعد اساتذہ کی ذاتی لائبریریاں ماخذات کی تلاش کے لیے مفید ثابت ہوسکتی ہیں ۔

اس کے بعد اپنے علاقے میں موجود سکولز،کالجز اور عوامی لائبریریوں سے استفادہ کرنا چاہیے۔ان لائبریریوں میں رجسٹر اوراب توبہت سی لائبریوں کے آئن لائن کیٹالاگ موجود ہیں ان سے استفادہ کیا جائےاور اپنی مطلوبہ چیزیں اکٹھی کی جائیں ۔علاقے کے بعداپنی تحصیل،ضلع،صوبہ اور ملک میں موجودکالجز،یونی ورسٹییزاورپبلک لائبریریوں سے استفادہ کیا جائے۔جن کے آئن لائن کیٹالاگ موجودہیں ان کوگھربیٹھ کرہی وزٹ کرلیاجائے بشرطیکہ آپ کوانٹرنیٹ کااستعمال آتاہواورجوابھی آئن لائن نہیں ہیں اُن کوجاکروزٹ کیاجائے ۔وہاں پررجسٹرموجودہوتاہے اس کی فہرست دیکھی جائے ،لائبریرین سے مددلی جاسکتی ہے کیوں ان کوعلم ہوتاہے کہ کون کون سی کتب کاذخیرہ موجودہے ،اس کے علاوہ الماریوں کی اگرترتیب ہوتوان کے اوپردرج ہوتاہے کہ یہاں تنقیدی،تحقیقی،تاریخی اور فلاں فلاں چیزوں کاذخیرہ موجودہے۔اس طرح موادتک رسائی ممکن ہے ۔

ہمارے ملک کی اہم لائبریوں میں یونی ورسٹی آف سرگودھا کی لائبریری، اویئنٹل کالج پنجاب یونی ورسٹی کی لائبریری، گورنمنٹ کالج جی۔سی یونی ورسٹی لاہور کی لائبریری،جھنڈیرلائبریری،غالب لائبریری سرگودھا،الزبیر لائبریری اور اسی طرح پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں لائبریریاں موجود ہیں ان سے استفادہ کیا جائے۔

بین الاقوامی سطح پردیکھا جائے تو انڈیااُردوادب کاایک اہم مرکزومنبع ہے ۔اُردوکا پرانا مواد انڈیا کی مختلف علمی درسگاہوں کی لائبریریوں اور کچھ عوامی لائبریریوں میں موجودہے ۔مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ کی لائبریری اور دوسری اہم جامعات کی لائبریزحوالے کادرجہ رکھتی ہیں ۔انڈیا کے بعد انڈیا آفس لائبریری لندن بھی اُردوادب کے حوالے سے اہم ہے بلکہ زیادہ ترکلاسیکی مخطوطات اورمسودے اسی لائبریری میں موجودہیں ۔ان تک عام محقق کی رسائی بہت مشکل ہے اگران تک رسائی ممکن ہوجائے توادبی تاریخ کے کئی گم شدہ در واہوں گے۔

لائبریری سے ماخذات تلاش کرتے وقت کتب اور رسائل وجرائد دونوں سے استفادہ کیا جائے کیوں کتب کے ساتھ ساتھ رسائل وجرائد بھی اتنی ہی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ،بلکہ ڈاکٹر جمیل جالبی صاحب تورسائل وجرائدکوکتب سے اہم گردانتے ہیں ۔ان کا خیال ہے کہ رسائل وجرائدمیں معلومات تازہ ترین ہوتی ہیں اور ان میں جدید اندازِ تحقیق سے کام لیا گیا ہوتا ہے اس لیے وہ کتب سے اہم ہوتے ہیں ۔کتب کے حوالہ جات،کتابیات اوراہم تحقیقی وتنقیدی کتب کے علاوہ اہم تاریخی کتب سے بھی استفادہ کرناچاہیے کیوں کہ ان سے ماخذات کی تلاش میں آسانی ہوتی ہے۔یاپھرمتعلقہ موضوع پرموجود کتاب کے حوالہ جات،حواشی،کتابیات اور اگراشاریہ موجود ہے تووہ دیکھنا بہترہوگا۔اسی طرح رسائل وجرائد میں شامل مضامین کے حوالہ جات ،کتابیات اور حواشی سے رہنمائی ملے گی۔اگرمختلف رسائل وجرائدکے اشاریے مل جائیں توان کودیکھنا بہتر رہے گا۔

2)۔اشاعتی ادارے

لائبریری کے بعد ماخذات کی تلاش کااہم ذریعہ اشاعتی ادارے ہیں ۔قدیم دورمیں یہ ذریعہ بہت مشکل لگتاتھامگرآج کل یہ زریعہ بہت آسان ہے ۔زیادہ تراشاعتی اداروں کے فیس بک پیج اور دوسرے آئن لائن ذرائع موجودہیں جن کے ذریعےاس ادارے سے شائع ہونے والی کتب تک رسائی آسانی سے ممکن ہے ۔اشاعتی اداروں نے اپنی فہرست کتب آئن لائن کردی ہیں جن سے تلاش میں آسانی ہوتی ہے۔ اگرآپ خود ادارے میں چلے جائیں تووہاں پر ان کی فہرست موجود ہوتی ہے جس میں سے آپ اپنی مطلوبہ معلومات آسانی سے تلاش کرسکتے ہیں ۔پاکستان میں ادبی کتب کی اشاعت کے حوالے سے جوادارے زیادہ فعال نظرآتے ہیں اُن میں مجلس ترقی ادب لاہور،انجمن ترقی اُردوکراچی،اقبال اکادمی لاہور،ادارہ تالیف وترجمہ پنجاب یونی ورسٹی لاہور،نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد،اکادمی ادبیاتِ پاکستان اسلام آباد،مثال پبلشرز فیصل آباد،بک کارنرجہلم اور ادارہ نشریات لاہورقابل ذکرہیں ۔

رسائل وجرائد بھی ماخذات کی تلاش میں اہم کرداراداکرتے ہیں لہذاان میں سے اکثراداروں کے جریدے بھی نکلتے ہیں جن سے ماخذات کی تلاش میں مدد لی جاسکتی ہے۔جن اداروں کے رسائل نکلتے ہیں ان میں مجلس ترقی ادب کا”صحیفہ”، اقبال اکادمی کامجلہ”اقبالیات "اور "اقبال ریویو”،انجمن ترقی اُردوکا”اُردو”اوراکادمی ادبیات کا”ادبیات” قابل ذکرہیں۔

رسائل وجرائدکے علاوہ اشاعتی اداروں کی ذاتی لائبری بھی موجود ہوتی ہے اور اس میں مخطوطات،مسودے اور اہم کلاسیکی وجدیدکتب کاذخیرہ موجودہوتاہے جو ماخذات کی تلاش میں اہم ذریعہ ثابت ہوسکتاہے۔اشاعتی اداروں کی ذاتی لائبریریوں میں مجلس ترقی ادب لاہور،اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد،انجمن ترقی اُردوکراچی اور اقبال اکادمی لاہور قابل ذکر ہیں ۔

3)رسائل وجرائد

ماخذات کی تلاش میں رسائل وجرائد بھی اہم کرداراداکرتے ہیں ۔کتب سے زیادہ ماخذات رسائل وجرائد سے بھی تلاش کیے جاسکتے ہیں ۔اگرآپ کلاسیکی ادب پرکام کررہے ہیں تو پرانے رسائل وجرائد اہم کرداراداکرسکتے ہیں ۔کیوں کہ بہت ساری چیزیں کتابی شکل میں موجود نہیں مگر رسائل وجرائد میں منتشر حالت میں موجود ہیں ۔کلاسیکی مجلات میں ادب لطیف، ادبی دنیا،محمڈن اینگلو کالج میگزین،دلگداز،اودھ پنچ،مخزن نکات،مخزن،اُردوئے معلی،ہمایوں ،ساقی،سیپ اور ماہِ نو قابل ذکر ہیں۔

اس کے بعداوراق،ادب لطیف،فنون ،زمین داراور کامریڈ جیسے رسائل وجرائد قابل ذکرہیں ۔یہ تمام نجی اورذاتی رسائل وجرائدہیں ۔اس کے علاوہ تعلیمی اداروں کے رسائل وجرائدعصری ادب کے حوالے سے اہم ماخذ کاکام دیتے ہیں ۔تعلیمی اداروں کے جرائدمیں بنیاد لمزیونی ورسٹی لاہور،دریافت نمل اسلام آباد،تحقیق نامہ جی۔سی لاہور،بازیافت پنجاب یونی ورسٹی لاہور،زبان وادب جی۔سی فیصل آباد اورالماس شاہ عبدالطیف بھٹائی یونی ورسٹی خیرپور شامل ہیں ۔اشاعتی اداروں کے رسائل وجرائد کاذکر اشاعتی اداروں کی ذیل میں کیا جا چکا ہے۔

4)۔ انٹرنیٹ

عصرِ حاضرکمپیوٹر،انٹرنیٹ اورجدید ٹیکنالوجی کا دور ہے۔جدید ٹیکنالوجی نے ہرشعبہ زندگی کو متاثر کیا ہے اور جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے آج ہرشعبہ زندگی جدیدسہولیات وآسائشات سے مزین نظر آتاہے۔جدید ٹیکنالوجی نے ہرشعبہ زندگی کوآسان اور تیزتربنادیاہے ۔اسی طرح علمی وادبی ذرائع میں بھی جدید ٹیکنالوجی نے خاطر خواہ اضافے کیے ہیں ۔جس سے علمی وادبی حلقوں میں ترقی دیکھنے کو ملتی ہے ۔پہلے تحقیق میں ایک ماخذ کی تلاش میں کئی ماہ لگ جاتے تھے مگر اب وہ کام منٹوں اور سیکنڈوں میں ہوجاتا ہے ۔دیکھتے ہیں جدید ٹیکنالوجی نے ادبی تحقیق کے لیے کیا کام کیا ہے ۔

ماخذات کی تلاش میں کمپیوٹر،انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے کافی آسانیاں پیداہوچکی ہیں ۔بہت سی لائبریری نے اپنے آئن لائن کیٹالاگ بنالیے ہیں جس سے محقق کوگھربیٹھے اس لائبریری میں موجود موادتک رسائی ممکن ہے اور بعض لائبریری نے اپنی تمام کتب کو پی۔ڈی۔ایف میں بدل کرآئن لائن کررکھا ہے جس سے پوری پوری کتب گھر بیٹھے حاصل کی جاسکتی ہے ۔اورکچھ آئن لائن لائبریریاں بن چکی ہیں جن میں کافی کتب آئن لائن مل جاتی ہیں جس سے تحقیق میں ماخذات والا کام کافی حد تک آسان نظر آنے لگا ہے جو کہ خوش آئین قدم ہے ۔

آج کل آئن لائن شمارے شائع ہورہے ہیں جن سے ماخذات تک رسائی زیادہ آسان ہوگئی ہے ۔ایچ۔ای۔سی سے منظور شدہ اور باقی تمام اہم رسائل وجرائد کتابی صورت کے علاوہ آئن لائن بھی شائع کیے جاتے ہیں جس سے ماخذات تلاش کرنا قدرے آسان ہوچکاہے۔اور ان کے بہت زیادہ شمارے آئن لائن ویب گاہوں پر موجود ہیں جن سے استفادہ کیا جاسکتا ہے ۔

اشاعتی اداروں نے انٹرنیٹ کااستعمال کرتے ہوئے اپنی ویب گاہیں ،فیس بک پیج اور وٹس ایپ پیج بنا رکھے ہیں جن سے ان اداروں سے شائع ہونے والی کتب کی فہرستیں دیکھی جاسکتی ہیں جس سے ماخذات کی تلاش میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے۔ کیوں کہ ان کی فہرستیں ان کی ویب گاہوں پرموجود ہیں اور وہ ان کو گاہے گاہے بہتر کرتے رہتے ہیں ۔فیس بک پیج اور وٹس ایپ پیج پر بھی گاہے گاہے ان کی فہرستیں شئیرہوتی رہتی ہیں ،اوران کے روزانہ کے سٹیٹس بھی نئی شائع ہونے والی کتاب کا پتا دیتے ہیں ۔

انٹرنیٹ کی وجہ سے عہدحاضر میں مواد کوایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجنے یا منگوانے  میں دقت نہیں رہی،اب چندمنٹ میں دنیاکے کسی کونے سے موادمنگوایا یا بھیجا جاسکتاہے ۔جس کے لیے ای۔میل،وٹس۔ ایپ،ٹویٹراورمسنجروغیرہ کا استعمال کیا جاتاہے اور ان جدید ذرائع سے موادکی آمدورفت میں آسانی اور تیزی آئی ہے۔

کمپیوٹر،انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی نے تحقیق کے مراحل میں بھی بہتری لانے میں کے لیے اپنا کردارادا کرکے اس میدان میں بھی خاطرخواہ اضافے کیے ہیں جن کوبروئے کار لاکرایک محقق اپنے کام کو جلد اور بہترین سائنسی اصولوں پراستوار کرسکتاہے۔انٹرنیٹ نے فاصلے مٹا دئیے ہیں اب آپ پوری دنیاسے جہاں چاہئیں  اپنی مطلوبہ معلومات سے مستفید ہوسکتے ہیں ۔انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی نے وقت ،پیسے اورفاصلوں میں کمی پیداکرکے تحقیق کوآسان اور تیز کردیاہے پہلے جوکام دس سال میں ہوتا تھا آج پانچ سالوں میں ممکن ہے بشرطیکہ محقق کوجدید ٹیکنالوجی کا استعمال بخوبی آتا ہو وگرنہ پھر تحقیق پہلے سے بھی زیادہ مشکل نظر آئے گی۔

ماخذات  کی تلاش میں پیش آنے والی مشکلات اور روکاوٹیں

تحقیق  ایک مخنت طلب کام ہے ۔جس کاہرمرحلہ محنت طلب اور دشوار گزارہے مگرماخذات کی تلاش اور جمع آوری باقی مراحل سے دشوار گزارہے ۔اس مرحلے کی اہم داشواریاں ذیل میں حسب ذیل ہیں ۔

1)۔ ہماراکلاسیکی سرمایہ زیادہ تریورپ یاانڈیا میں ہے جس تک عام محقق کی رسائی ممکن نہیں ۔

2)۔حکومت کی علم وادب سے عدم دل چسپی جس کی وجہ سے تحقیق کےمیدان میں کافی مشکلات کاسامناکرناپڑتا ہے۔

3)۔تحقیقی  ماحول اورفضا کا فقدان۔

4)۔لائبریریوں میں نظم وضبط کا فقدان۔

5)۔علمی وادبی محفلوں کافقدان ۔

6)۔علمی وادبی شخصیات سے روابط کی کمی اور دوری۔

7)۔مادیت پرستی اور مال ودولت کی ہوس۔

8)۔ غیرتحقیقی اورغیرعلمی مشاغل میں دل چسپی اور تحقیقی وعلمی مشاغل سے دوررہنا۔

9)۔مطالعہ کی کمی(کتاب سے دوری)

10)۔کتاب کی قیمت میں آئے روزاضافہ

تحقیقی عمل میں ماخذات کی حیثیت بنیادی اور مرکزی ہے۔تحقیق میں موضوع کے انتخاب سے لے کر کتابیات تک بلکہ اشاریہ سازی تک ماخذات کا عمل ودخل لازمی اور بنیادی ہے۔ تحقیقی عمل میں ماخذات کی حیثیت جسم میں روح کی مانند ہے ،جیسے جسم سے روح کو نکال دیاجائے توجسم مردہ ہوجاتاہے اور اس کی کوئی حیثیت نہیں رہتی اسی طرح تحقیق سے ماخذات کونکال دیا جائے تو تحقیق کا نام ونشان نہیں رہتا۔تحقیق کا بنیادی اوراولین تقاضا ماخذہے اور ماخذات کے سہارے تحقیقی عمل پایہ تکمیل کوپہنچتا ہے۔

حوالہ جات:۔

1)۔پروفیسرعطش درانی،ڈاکٹر؛لسانی وادبی تحقیق وتدوین،(اسلام آباد:نیشنل بک فاؤنڈیشن،طبع اول،مارچ2016)،ص267۔

2)۔ پروفیسرعطش درانی،ڈاکٹر؛لسانی وادبی تحقیق وتدوین،(اسلام آباد:نیشنل بک فاؤنڈیشن،طبع اول،مارچ2016)،ص267۔

3)۔جمیل جالبی،ڈاکٹر؛ادبی تحقیق(لاہور: مجلس ترقی ادب ،طبع دوم،اکتوبر2020)،ص11۔

4)۔محمود شیرانی،حافظ؛ پنجاب میں اُردو،حصہ اول،( اسلام آباد:مقتدرہ قومی زبان،اپریل 1998)،ص114۔

5)۔صابرکلوروی؛مدون،کلیاتِ باقیاتِ شعرِ اقبال(لاہور:اقبال اکادمی)،ص248۔

6)۔گیان حیدر،ڈاکٹر؛تحقیق کا فن ،(لاہور: زبیر بکس)،ص143۔

کتابیات:

1)۔مولوی فیروزالدین،الحاج؛فیروزاللغات اُردو،لاہور:فیروزسنز،بارِاول،2010ء

2)۔سیداحمددہلوی ،مولوی؛فرہنگِ آصفیہ،لاہور:اُردوسائنس بورڈ،بارِ ششم،2010ء

3)۔شان الحق حقی؛فرہنگِ تلفظ،اسلام آباد:مقتدرہ قومی زبان،طبع اول،1995ء

4)۔ڈاکٹرمعین الدین عقیل،پروفیسر؛اُردوتحقیق صورتِ حال اور تقاضے،لاہور:القمرانٹرپرائزز،بارِ دوم،2014ء

5)۔محمدعارف،پروفیسر؛تحقیقی مقالہ نگاری(طریق کار)،لاہور:ادارہ تالیف وترجمہ پنجاب یونی ورسٹی،اشاعتِ اول،مارچ 1999ء

6)۔ظفرالاسلام خان،ڈاکٹر؛اُصولِ تحقیق(جدید ریسرچ کے اصول وضوابط)،اسلام آباد:پورب اکادمی،طبع اول،فروری 2015ء

7)۔محمدعلی اثر،ڈاکٹر؛نوادراتِ تحقیق(تحقیقی وتنقیدی مضامین)،حیدرآباد:ادارہ شعروحکمت،1996ء

8)۔تنویراحمدعلوی،ڈاکٹر؛اُصولِ تحقیق وترتیبِ متن،دہلی:ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،2009ء

 

عمیرؔیاسرشاہین

پی۔ایچ۔ڈی (اسکالر)

یونی ورسٹی آف سرگودھا

03037090395

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

اردو میں تحقیقتحقیق کیسے کریںعمیر یاسر شاہین
1 comment
1
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اکیسویں صدی میں ناول کی اہمیت،انکشافات اور امکانات – ڈاکٹر ابوبکر عباد
اگلی پوسٹ
اُتر پردیش میں کانگریس کی حد سے بڑھی ہوئی سرگرمیوں کے حقیقی معنیٰ کچھ اور تو نہیں ؟ – ڈاکٹر صفدرا مام قادری

یہ بھی پڑھیں

کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس...

مئی 5, 2026

تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –...

جنوری 10, 2026

دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –...

جولائی 10, 2025

جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

جون 20, 2025

شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

دسمبر 5, 2024

کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –...

نومبر 19, 2024

کوثرمظہری کے نصف درجن مونوگراف پر ایک نظر...

نومبر 17, 2024

کوثرمظہری کا زاویۂ تنقید – محمد اکرام

نومبر 3, 2024

علامت کی پہچان – شمس الرحمن فاروقی

مئی 27, 2024

رولاں بارتھ،غالب  اور شمس الرحمان فاروقی – ڈاکٹر...

فروری 25, 2024

1 comment

- Adbi Miras اکتوبر 27, 2021 - 11:32 صبح

[…] تحقیق و تنقید […]

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (119)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں