Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
ناول شناسینصابی مواد

اکیسویں صدی میں ناول کی اہمیت،انکشافات اور امکانات – ڈاکٹر ابوبکر عباد

by adbimiras اکتوبر 23, 2021
by adbimiras اکتوبر 23, 2021 0 comment

اکیسویں صدی میں یہ بات مختلف طریقوں سے کہی جارہی ہے اور نئی نسل کو باور کرایا جا رہا ہے کہ آج کی تیز رفتار دنیا میں فکشن اور شاعری یا کہیے تخلیقی ادب کی ملک اور معاشرے کو ضرورت نہیں ہے۔کہ تخلیقی ادب نہ تو نوجوانوں کو ملازمت اور روزگار فراہم کرتے ہیں نہ ملک وقوم کی ترقی میں معاونت کرتے ہیں۔ اسٹبلشمنٹ کے عملی اقدام،انسٹی ٹیوشنس کی کاؤنسلنگ اورتشہیر کے دیگر ذرائع سے یہ بھی بتانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ حکومت اور والدین جتنے پیسے روایتی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں اس کا کوئی خاص out put نہیں ہوتا، بلکہ اس طرح کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ بالعموم بے روزگاری، بے راہ روی کا شکار ہوتے اورحکومت ووالدین کے لیے دردِ سر بنتے ہیں۔ چنانچے سارا زور پیشہ ورانہ تعلیم اور اسکل ڈیولپمنٹ کی تشہیر وترویج پر دیا جارہا ہے اور نئی زرخیز نسل کو بلوغت یا کہیے گریجویشن کے بعد کسی نہ کسی ملازمت سے وابستہ ہوجانے کی ترغیب دی جارہی ہے۔ تو کیا اکیسویں صدی کی اس بھاگتی دوڑتی دنیا میں اس غیر اعلانیہ اینٹی ادب کی تھیوری کو تسلیم کر لیا جائے ؟ یا یہ مان لیں کہ یہ ایک مخلصانہ اور ہمدردانہ مشورہ ہے جس میں مکمل نہ سہی جزوی صداقت بہر طور موجود ہے؟ اور ادب تخلیق کرنے کے مقابلے کوئی ہنر سیکھنا خود اپنے ،اپنے خاندان اورملک وقوم کے حق میں زیادہ سود مندہے ؟

واقعہ یہ ہے کہ یہ تھیوری نہ تو مخلصانہ اور ہمدردانہ مشورے پر مبنی ہے ، نہ اس میں رتی برابر صداقت ہے ۔دراصل یہ تحریک ، ترغیب اور اس کی جانب اس شدت سے توجہ دہی  صاحبان اقتدار اور کارپوریٹ دنیا کی ایسی حیلہ گری ہے جس کا مزہ میٹھا اور اثر خواب آوری کے سوا کچھ نہیں۔ یقین کیجیے کہ یہ پوری تھیوری ہی صاحبان اقتدار کے خوف کی نفسیات اور ہوس ِملک گیری کو بے روک ٹوک مستحکم رکھنے کی خواہش کازائیدہ ہے۔ادب اوردوسرے علوم میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ دوسرے تمام علوم اپنے حاصل کرنے کو ہر حال میں انھیں اپنی فیلڈتک محدود رہنے کا خوگر بناتے ہیں۔جب کہ لٹریچر اپنے عاشقوں میں عالمی ویژن پیدا کرتا ہے ساتھ ہی انھیں ہر طرح کی صورت حال سے متعلق سوچنے اور سوال کرنے پر اکساتا ہے۔ ان کے مزاج میں احتجاج،بغاوت اور انقلاب پیداکرتا ہے ، ان کے اظہار کے نت نئے طریقے سکھلاتا ہے اورصرف اپنی ہی نہیں بلکہ سماج اور ملک کی آزادی کا خوگراورانسانیت کا سفیر بناتا ہے۔ بس ادب کی پیدا کردہ یہی وہ صفات ہیں جو صاحبان اقتدار کو بے چین رکھتی اور دنیا کے تمام حکمرانوں کو خوف میں مبتلاکرتی ہیں۔ مثال کے لیے دو طرح کے بالکل تازہ واقعات کو سامنے رکھیے۔ اترپردیش کے ایک چھوٹے سے شہر میں ایک بالکل عام سے آدمی کو ایک خاص ذہنیت کے لوگوں کے ہجوم نے قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صرف اس شک کی بنا پر پیٹ پیٹ کر مار ڈالا کہ اس کی فریج میں وہ چیز رکھی تھی جسے بعض لوگ کھانا پسند نہیں کرتے۔پھراسٹبلشمنٹ کی سرپرستی یا سسٹم کی کاہلی کی وجہ سے یہ وبارکنے کے بجائے ملک کے دوسرے حصوں میں پھیلتی چلی گئی ۔جس کے خلاف ادیبوں اور فنکاروں نے سخت احتجاج کیا۔یہاں تک کہ اس ظلم اور ناانصافی کے خلاف احتجاج کرنے والے ادیب کلبرگی کو 30اگست کے دن قتل کردیا گیا۔ ساہتیہ اکیڈمی نے نہ تو اس قتل کی مذمت کی ، نہ ہی تعزیتی قرار داد پیش کی۔چنانچہ اس ہجومی تشدد، ادیبوں کے قتل اور ساہتیہ اکیڈمی کے رویے کے خلاف ملک بھر کے ادیبوں اور فنکاروں نے احتجاجی جلوس نکالے،حکومت کے خلاف تقریریں کیں، نعرے لگائے ، بیانات دیے ، شعروادب کے ذریعے اپنے غم و غصے کا اظہار کیااور سرکاری یا نیم سرکاری اداروں سے ملے ہوئے اپنے اپنے ایوارڈ احتجاجاً لوٹانے شروع کیے۔5ستمبر کو ادے پرکاش نے اور پھر تقریباً پچاس اور ادیبوں اورفنکار وںنے اپنے اپنے ایوارڈز اور اعزازات لوٹا دیے۔ ادیبوں کی جانب سے بطور احتجاج حکومت کے اعلیٰ اعزازات کو لوٹانے کایہ بڑااور بے چین کرنے والایہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا ۔اس پہلے ملک میں ایمرجینسی لگائے جانے کے خلاف خوشونت سنگھ اور پورن سنگھ نے بھی اپنے اعزازات حکومت کو واپس کردیے تھے۔ اور اُس سے بھی پہلے 1919میں جلیانوالہ باغ قتل عام کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پنیشور ناتھ رینو نے حکومت کو اپنا’نائٹ ہڈ‘ لوٹا دیا تھا۔ پاکستان میں مارشل لاء اور ہندوستان میں ایمرجینسی کی مخالفت میں لکھا گیا فکشن کا ایک پورا ذخیرہ موجود ہے۔

دوسرے نوع کا واقعہ یہ ہے کہ حال ہی میں حکومت کی جانب سے جی۔ایس۔ٹی( GST)لگائے جانے پر ملک کے تاجروں کی جانب سے دو مقامات پرزبردست احتجاجی جلوس نکالے گئے ۔ایک ملک کی راجدھانی دہلی کے جنتر منتر پر، دوسرا گجرات کے شہر سورت میں۔آپ کو حیرت ہوگی کہ اپنے ہی خلاف زیادتی (تاجروں کے مطابق)اور سسٹم کے خلاف احتجاج کرنے کے دوران جنتر منتر پر ان لوگوںنے کسی طرح کے نعرے بلند کرنے اور غصے کا اظہار کرنے کے بجائے ہَوَن کیا اوربھجن گائے ،کوئی جد وجہد نہیں کی۔سورت میں جی۔ ایس ۔ٹی کے خلاف کپڑا ویوپاریوں کا ایسا اژدہام تھا کہ شہر میں جگہ کم پڑ رہی تھی لیکن وہاں بھی خود پر کی گئی زیادتی کے تعلق سے لوگ حکومت کے خلاف مردہ باد یا ہائے ہائے تک کا نعرہ لگانے کے بجائے رو رہے تھے ،سائیں بھجن گارہے تھے۔آپ بھی سنیے: ’’کپڑا ویوپاری کہتا ہے دل سے ؍کپڑے سے جی۔ایس۔ٹی کو ہٹاؤ؍دلی والے مودی جی سن لو؍آیا ہے در پہ کپڑا ویوپاری۔‘‘سو، یقین کیجیے کہ دنیا کی کسی بھی حکومت کو پہلی قسم کی سوال کرنے ، ناانصافیوں کے خلاف احتجاج اور ظلم کے خلاف بغاوت کرنے والی نہیں، اس دوسری قسم کی فرمانبردار ، گڑگڑانے اور روتے گاتے سب کچھ قبول کرلینے والی عوام چاہیے۔

کہنے کی ضرورت نہیں کہ سائنٹسٹ، سوشل سائنٹسٹ،ڈاکٹرز، تمام ڈسپلین کے انجینیرس، بیوروکریٹس،تاجر، صنعت کار اور دوسرے ورکرس اپنے کام سے کام رکھتے ہیں اور اپنی فکراور اپنی جدوجہدکومحض اپنی ذات ،اپنے طبقے یا اپنے کلاس تک محدود رکھتے ہیں۔ لیکن رائٹرز اور تخلیق کارکا میدان عمل محض اُن کی ذات،ان کاطبقہ یا کلاس نہیں، یا صرف اپنا ہی ملک نہیں،پوری کائنات ہے ۔ وہ سڑک کے کنارے بھیک مانگنے والی بے بس بوڑھی عورت کے دکھ،کسان، مزدور اور بے روزگاروں کے درد، طوائف، دلال اورسماجی حاشیے پرجانوروںسی زندگی گزار رہے انسانوں کی بدحالی سے لے کر فرقہ وارانہ ذہنیت کی کاشت کرنے والے انسان نما حیوان، سرکاری کرپشن، سماجی نابرابری،مذہبی اور سیاسی جبر اور دنیا کے کسی بھی کونے کے مظلوم لوگ ان کی نگاہوں میں ہوتے ہیں۔جن کی تلاش،اُن سے ہمدردی کا اظہار، اوران کے دکھوں کے سدباب کے لیے عوامی ذہن سازی تخلیقی فنکاروں کے بنیادی وظائف میں شامل ہے ۔ گویا تخلیق کاروں کا طبقہ خلق خدا کی وہ آواز ہے جو مظلوموں ، محکوموں،مجبوروں اوربے کسوں کے حق میں انصاف کی صورت اٹھتی اور جابروں ، ظالموں، بدعنوانوں اور بے ایمانوں کے سروں پر بجلی بن کر گرتی ہے۔ واضح رہے کہ تخلیقی اظہار کے وسائل میں سے شعرو فکشن کے علاوہ فلم اور تھیٹر بھی شامل ہیں ۔اور ان سے وابستہ افرادبھی ایک معتدل معاشرہ ،جمہوریت پسند ملک ،اور ایک حسین،انسان دوست اور امن پسند دنیا تعمیر کرنے کے لیے شاعراور فکشن نگار کی طرح ہی اپنا خون جگر صرف کرتے ہیں اور اپنے فن سے ملک و قوم کو سجانے سنوارنے میں مصروف ہیں۔

رہا یہ کہناکہ ادب یا لٹریچر میں روزگار سے جڑنے کی صلاحیت نہیں ہے ،تویہ کوئی بے حد بھولا انسان ہی کہہ سکتا ہے۔فلم، میڈیا، رسائل و جرائد اوردوسرے شعبہ جات سے وابستہ تخلیق کاروں کو جانے دیجیے صرف کالجز اور یونیورسٹیز میں عالمی، ملکی اور علاقائی زبانوں کے اساتذہ کوہی شمار کرکے دیکھ لیجیے ۔کسی طور ڈاکٹرز، انجینیر اور سائنٹسٹ سے تعداد اور حصول روزگار میں کم نہیں ہوں گے۔اور کہنے کی اجازت دیجیے کہ لٹریچر کے حوالے سے ملک وقوم کی ترقی کی بات تو جانے دیجیے پوری دنیا اور انسانیت کے فروغ میں لٹریچر کا جوحصہ ہے کسی اور سبجیکٹ کاکیا ہوگا۔یہ جو دنیا کا حسن اور انسانی آسائش کے اسباب ہم دیکھ رہے ہیںان کا پہلا اور بنیادی تصور لٹریچر نے ہی دیا ہے ۔ شعر و فکشن نے تخیل کے ذریعے عالم انسانی کو جو جو خواب دکھائے ہیں،اب سائنس دھیرے دھیرے ٹی۔وی، تیزرفتار جیٹ،موبائل اور انٹر نیٹ کی صورت میں ان کی تعبیریں پیش کر رہی ہے۔اور یہ کہ ادب آدمی کواکاؤنٹنٹ ،سائنٹسٹ،انجینیر اور ساہوکار توبنائے ، نہ بنائے انسان ضرور بناتا ہے ۔ ادب انسان کے جذبات و احساسات کو ہر لمحے تازگی اور نمو بخشتا ہے، اسے روحانی سکون عطا کرتا ہے ۔ شفقت و ہمدردی اور پیار ومحبت کی سطح پر زندہ رہنے اور زندہ رہنے دینے کے گُر سکھاتا ہے ۔ ادب پڑھنے والوں کو دنیا کی ہر بوڑھی کاکی اپنی کاکی نظر آتی ہے،ہر امراؤجان اور ’کھول دو‘ کی سکینہ اپنی ہی اغواشدہ بہنیں دکھتی ہیں، اور فسادات میں لُٹنے اورمرنے والاہر کوئی انھیں اپنا سگا سمبندھی محسوس ہوتاہے۔ دراصل ادب یا تخلیقی اظہار کے اور دوسرے طریقے ہی سماج اور معاشرے کو انتشار، انارکی اورناانصافی سے بچاتاہے، تہذیب، امن اور انسانیت کی ڈور میں باندھتا اورمختلف النوع خیالات رکھنے والوں کو ایک ہی گل دستے میں پروتا ہے۔ سو، یقین کیجیے کہ آج کے دور یا اس اکیسویںصدی میں پہلے سے کہیں زیادہ اورضروری ادب پڑھنے پڑھانے اور ادب تخلیق کرنے کی ضرورت ہے۔ سو ، آئیے تخلیقی اظہار کے ذرائع فلم ،تھیٹر ،دوسری زبانوں کے ادب اور اردوزبان کی تمام ادبی اصناف کے ذخیرے میں سے صرف اردو ناول اور وہ بھی محض اکیسویں صد ی میں لکھے گئے ناولوں کے حوالے سے تھوڑی سی گفتگو کرتے ہیں ، کہ یہی ممکن ہے اتنی عجلت میں ۔

گبرئیل گارسیا مارکیز نے ناول کو خفیہ کوڈ میں بیان کی گئی حقیقتوں کانام دیا تھا ، ورجینیا وولف کا کہنا ہے کہ ناول میں دنیا کا سب کچھ موجود ہوتا ہے اور ڈی۔ایچ لارنس نے اپنے کسی مضمون  میں (غالباً1920میں)لکھا تھا کہ ’ناول دوربین کی ایجاد سے زیادہ بڑی ایجاد ہے‘۔اور لارنس نے یہ غلط نہیں کہا تھا ۔کہ ناول نگار ناولوں کے ذریعے محض اپنی دنیا اور آس پاس کی ہی نہیں، دوسری دنیاؤں میں بھی ہورہی معمولی سی ہلچل،ہلکے سے ارتعاش،بے چینی، گھٹن ،نامعلوم آہٹ اور آنے والی تبدیل کے آثار تک کو دیکھتا اور اپنے قارئین کو سلیقے سے دکھاتا ہے۔اچھا ناول نگار صرف کہانی نہیں گھڑتا۔ وہ ذات کے دروں میں جھانکتاہے، نفسیات کی صد رنگ پہیلیوں کو منکشف کرتا ہے،مختلف ادوار اور حالات کی پرتیں کھولتا ہے، سیاسی، مذہبی اور سماجی رموز کی گتھیاں سلجھاتا ہے اور عام لوگوں کی جانی، دیکھی اور برتی دنیاؤں کواپنے مشاہدے ، مطالعے ، محسوسات اور فن کے توسط سے انھیں دلکش بیانیے میں ڈھالتا ،اور حیرتوں کا انکشاف بھی کرتاہے۔ ایسا انکشاف جو آپ کے تعصبات وتحفظات کو ختم کر تا ہے اور آپ کی شخصیت، آپ کی سوچ اور آپ کے نظریے کو یکسر بدل کر رکھ دیتاہے۔

اچھے اور معیاری ناول کی ایک اہم صفت تشکیک، بے یقینی، تعصب، جھوٹ،جبر اور غیر سائنسنی انداز فکر کا بطلان بھی ہے ، جس کے لیے ضروری ہے کہ واقعات کی سرزمین سے حقیقت پسندی اور دلائل کی کونپلیں پھوٹیں، چاہے اس سفر میں ناول نگار کو طبیعات سے مابعد الطبیعات تک کا  ہفت خواںکیوں نہ طے کرنا پڑے۔ انگریزی میں انقلاب فرانس، ہٹلر کے مظالم، روسی زبان میں تبدیلیِ نظام کی آہٹ ، عوامی بے چینی ،انسانی نفسیات، شخصیت کے اندرون صدرنگ تنوعات کا بیان اور اردو میں تقسیم ملک، فرقہ وارانہ فسادات ، تہذیبوں کی ازسرنو دریافت،ماضی اور حال کے سیاہ وسفید کی دریافت ، جسمانی آزار، روحانی کرب اور قلبی بے چینی کے سیاق میں لکھے گئے ناولوں میں صداقت جب اپنا ظہور کرتی ہے تو قارئین حیرت زدہ رہ جاتے ہیں۔ ناول ختم کرنے کے بعد وہ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ یہ تو ہم نے دیکھتے ہوئے بھی دیکھا نہ تھا اور سنتے ،جانتے ہوئے بھی اس سے لا علم تھے۔ اور غالباً ناول کا یہی وہ انکشاف ِحیرت ہے جو قارئین کے شعور وادراک کو بالیدگی عطا کرتاہے ،انھیں تاریکی سے اجالے کی طرف رہنمائی کرتا ہے اوربالآخر مبہم چیزوں کو منور شکل میںدیکھنے اور ذہنی جالوں سے نجات دلاکرواضح فیصلے کی منزل تک پہنچنے میں مدددیتاہے ۔ آپ چاہیں توناول کی ؛اس خوشبو سی نہ دِکھنے والی ترغیب کو تجسس سے تحیر اور وضاحت سے بصیرت تک کا سفر کہہ لیں۔

اکیسویں صدی کے اس دوسرے عشرے کے قریب ہماری ناول نگاری کی عمر کم و وبیش ایک کم ایک سو پچاس سال ہورہی ہے۔ اس عرصے میں اس صنف نے ٹیڑھے میڑھے راستے طے کیے ، اونچی نیچی گھاٹیاں سر کی ،گلشن و صحرا کی سیر کی ،دنیا کے خدوخال اور انسان کے دروں کے مشاہدے کیے ،اور ماضی کے تحت الثریٰ سے لے کر حال کی فضاؤں اور مستقبل کے افلاک تک کو اپنے حیطۂ بیان میں سمونے کی کوششیں کیں۔اور کافی حد تک اس میں کامیاب رہی۔اس ثروت خانے کی زیارت کے بعد ہمیںکافی حد تک تفاخر اور یک گونہ اطمینان کا احساس ہوتا ہے کہ اس میں کیسے کیسے جواہر پارے ہیں۔ توبۃ النصوح، امراؤ جان ادا، فردوس بریں، گئو دان،آگ کا دریا،اداس نسلیں، باگھ، بستی، ٹیڑھی لکیر،گریز، دشت سوس،شب گزیدہ، راجہ گدھ،فائر ایریا،کئی چاند تھے سرِآسماں،غلام باغ، صفر سے ایک تک،نولکھی کوٹھی اور خواب سراب وغیرہ۔ایسے ہی کرداروں کی بھی ایک قابل ذکر کہکشاں ہے جس میں مرزا ظاہردار بیگ،امراؤ جان ادا، خوجی،شیخ علی وجودی،گوتم، چمپا، شمن ، ایلی، منصور حلاج ، قیوم ،سہدیو، کبیر مہدی ،وزیر بیگم اور ولیم وغیرہ جو کوششوں کے باوجود ہمارے ذہنوں سے دوراور آنکھوں سے اوجھل ہونے کو تیار نہیں۔( یہ بھی پڑھیں شموئل احمد کی ناول نگاری – ڈاکٹر محمد غالب نشتر )

کہنے کی اجازت دیجیے کہ اکسویں صدی کے اس سولہ سترہ برسوں میں فکشن کی دنیا میں جس تیزی سے تبدیلی آئی ہے اور جس کثرت سے فکشن لکھا گیا ہے شاید انسانی تاریخ کی کسی نسل نے فکشن کی ایسی باڑھ نہیں دیکھی ہوگی ۔ پروفیسر جان مولین (professor jhon mullan)سے جب ’گارجین ‘اخبار نے برطانیہ میں فکشن کی صورت حال پر تبصرہ کرنے کو کہا تو ان کا جواب تھا:“one of the most extraordinary publishing phenomena of recent decades.” واقعہ یہ ہے کہ اگر اردو ناول کی کثرت اشاعت کوبھی اکیسویں صدی کا غیر معمولی واقعہ قرار دیا جائے تو یقینا غلط نہ ہوگا ۔ تسلیم یہ بھی کرنا چاہیے کہ ناول کی تخلیق، تشہیر اور قرأت کے فروغ میں دو اداروں نے اہم رول ادا کیے ہیں۔ایک تعلیمی ادارے نے جن میں یونیورسٹی، کالجز اور کسی حد تک دینی مدارس کو شامل کرنا چاہیے۔ اور دوسرے بعض ویب سائٹس جیسے ریختہ اور سوشل میڈیا نے۔اس میں اردو چینل، القلم،ہندی ساہتیہ اور ٹیلی گرام جیسے پورٹل کو شامل کیا سکتا ہے ۔بلا شبہ ان اداروں کے ساتھ بعض اُن افراد کی بھی ستائش کی جانی چاہیے جو ایک زبان کے فکشن کو دوسری زبان میں ترجمہ کرکے فکشن اور قاری کے درمیان سے اجنبیت اور لا علمیت کے پردے کو ہٹا کر ہمکلامی کے مواقع فراہم کررہے ہیں۔

سو تسلیم کرنا چاہیے کہ ترجمے اور نشر و اشاعت کی اس آسانی کی بنا پر لوگوں کا رجحان ادب کی طرف قدرے بڑھا ہے ۔ادب خواہ ہندی،انگریزی اور اردوکا ہو ،یادیگر علاقائی زبانوں کا ۔ اگرچہ بازار اس با ت پر مصر ہے کہ جتنے ناول لکھے جارہے ہیں اُتنے بک نہیں رہے ہیں ، یاقاری ان سے دلچسپی کا ویسا اظہار نہیں کر رہے ہیں،جیسا وہ پچھلی صدی میں کرتے تھے۔شاید اسی لیے لی سیگل کو اعلان کرنا پڑا کہ

“fiction has become a museum-piece genre,” that readers wanting to be  challenged and illuminated had better turn to nonfiction.

ان کی اس بات سے کم لوگ انکار کریں گے کہ فکشن جو کبھی قاری کو چیلنج قبول کرنے پر آمادہ کرتا تھا اور ادراک و بصیرت کی روشنی عطا کرتا تھا،اب اس کی صورت حال نان فکشن کی سی لگتی ہے۔ سو یہی وہ لمحہ ہے جب ناول کی کثرت اشاعت پر بہتوں کے جشن منانے کے مقابلے میں بعض لوگ ا س کے گرتے معیار اور اس کی وجہ سے قاری کی عدم دلچسپی پر فکرمندی کے اظہار کو ترجیح دیں گے ۔

اکیسویں صدی کے اس سولہ سترہ برسوں میں ایک محتاط اندازے کے مطابق تقریباً ڈیڑھ سو ناول شائع ہوئے ہیں۔جن میں کچھ ناول نگار وہ ہیں جو پچھلی صدی سے لکھتے آرہے ہیں جن میں خاصی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو پچھلی صدی میں کچھ اور لکھ رہے تھے نئی صدی میں انھوں نے ناول لکھنے کا فیصلہ کیا اور بعض ناول نگار ایسے ہیں جنھوں نے لکھنا ہی اکیسویں صدی میں شروع کیاہے۔بہر حال اکیسویں صدی کے اس عرصے میں تحریرکردہ ناولوں میں اگر چار پانچ ناول بہت ہی عمدہ اور معیاری،آٹھ دس ناول اچھے اوربارہ پندرہ ذرا کم اچھے ہیں تو مایوس ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں، بلکہ کافی حد تک ناول نگاری کے تعلق سے مطمئن اور پُر امید ہونے کا مقام ہے۔ ان میں شمس الرحمٰن فاروقی،کا ناول ’کئی چاند تھے سرآسماں‘مرزا اطہربیگ کے ناول ’صفر سے ایک تک‘ اور ’غلام باغ‘ اور انیس اشفاق کا ناول ’خواب سراب‘ ایسے ناول ہیں جو ہمیں خوش ہونے کا جواز فراہم کرتے ہیں،مستنصر حسین تارڑ کے ناول ’خس و خاشاک زمانے‘، قربت مرگ میں محبت‘ حسین الحق کا’اماوس میں خواب‘ ،مشرف عالم ذوقی کا ’نالۂ شب گیر‘ ، رحمٰن عباس کا ’نخلستان کی تلاش میں‘، شائستہ فاخری کا ’نادیدہ بہاروں کے نشاں‘اور صدیق عالم کا ناول ’چارنک کی کشتی‘مطمئن کرتے ہیں۔ان کے علاوہ متعدد ناول یہ یقین دلاتے ہیں کہ اردو ناول کا مستقبل روشن اور امید افزا ہے۔ناول کی تنقید یا کہیے تذکرے کی کم از کم چارکتابیں اور کئی ایک مضامین دیکھنے کے بعد حیرت ہوئی کہ سترسے زیادہ ناول نگاروں کے حوالے سے گفتگو اورسوا سوکے قریب ناولوں کی فہرست سازی کرنے والے ناقدوں میں سے کسی نے بھی انیس اشفاق یا ان کے ناولوں کا ذکر تک نہیں کیا ہے۔یہ تو ممکن ہے ہم کسی ناول نگار کو پسند نہ کریں لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ ناول زبان، ادب ، تاریخ اور آنے والی نسلوں کا سرمایہ اور ان کی امانت ہوتا ہے اس سے صرف نظر مناسب نہیں۔

اس صدی میں لکھے گئے ناولوں کے تعلق سے گفتگو ایک الگ مقالے کی متقاضی ہے۔سو، کچھ ناول اور ناول نگاروں کے بارے میں جاننے کے لیے رحمٰن عباس کی تحریرسے یہ اقتباسات دیکھیے:

1’’ترنم ریاض کا ناول ’مورتی (2004)میں شائع ہوا۔۔۔ لیکن سپاٹ پلاٹ اور مرکزی کرداروں کی محدود دنیا کے سبب یہ ناول اپنے موضوع کوبھی عمدگی کے ساتھ پیش نہیں کرسکا۔۔۔۔ اس ناکام ناول کے بعد ترنم ریاض نے ’برف آشنا پرندے‘ (2009)کی صورت میں ایک ضخیم ناول لکھا۔۔۔۔ چونکہ ناول کا سارا منظر نامہ شیبا کے ارد گرد پھیلایاگیا ہے اس لیے شیبا کے کردار کی یکسانیت اور اکتاہٹ پورے منظر نامے کو بے رس کردیتی ہے۔۔۔اسی لیے ناول کو پڑھنا مشقت سے کم نہیں۔

2۔نورالحسنین نے ’اہنکار ‘کے عنوان سے(2005) میں ناول سی کوئی چیز لکھی تھی اور عتاب دوستاں اور قہر دشمناں کو دعوت دی تھی۔۔۔۔ اس حسیں دعوت کے سات برسوں کے سوگ کے بعد یہاں ان کا ناول ’ایوانوں کے خوابیدہ چراغ‘ (2013) میں شائع ہوا ہے۔ ۔۔۔ ’اہنکار‘ کے پیش لفظ میں بشر نواز نے لکھا تھا کہ         ’’ ۔۔ نورالحسنین کی فنکاری یہی ہے کہ انھوں نے کہانی کی تمام شرائط کو پورا کیا ہے۔‘‘ ۔۔ ناول اگر اچھا نہ ہوتو کوئی پیش لفظ ناول کو سہار نہیں سکتابلکہ ادیب کی رسوائی میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔

3۔۔۔۔ صادقہ نواب سحر کا ناول (کہانی کوئی سناؤ متاشا)2008میں شائع ہوا ۔سلام بن رزاق نے اس ناول کے بارے میں لکھا تھا کہ ’’اس ناول میں سماج میں عورت کے استحصال کی داستان  بڑی دل سوز ہے۔۔۔۔ ناول ختم ہوجاتا ہے مگر متاشا قاری کے ذہن پر دیر تک دستک دیتی رہتی ہے۔‘‘۔۔۔۔ ’’۔۔۔ اور میں سوچتا رہا اس بیان سے سلام بن رزاق کا گھاٹا کتنا ہوا اور صادقہ کا کیا نہیں گھٹا۔متاشا کوئی غیر معمولی کردار نہیں ہے اور نہ ہی اس کی زندگی غیر معمولی ہے۔یہ ایک سادہ سا کردار ہے ۔ ناول کی دوسری بڑی کمزوری عورت کے ساتھ ہونے والی ناانصافیاں ہیں۔ یہ بہت پامال موضوع ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں ہجور آما: تجرید سے پرے ایک نیا قدم – خلیل مامون )

4۔خالد جاوید کے ناول ’موت کی کتاب‘(2011) میں شائع ہوئی تھی ۔خالد جاوید نے ناول کے پیش لفظ میں لکھا ہے کہ: ’’میں نے بارہا ایمانداری کے ساتھ یہ سوچا ہے کہ مجھے لکھنا بند کردینا چاہیے مگر میری بدمذاقیوں کے یہ سلسلے ختم ہی نہیں ہوتے‘‘ ۔۔۔۔ ’’اچھا ہوتا خالد جاوید کو اپنی بدمذاقیوں پر قابوہوتا اور وہ اپنے دل کی بات سن لیتے ۔ناول نگار کہلانے کے لیے کتنی غیر فنی مشقت کی ہے۔(رحمٰن عباس،اکیسویں صدی میں اردوناول اور دیگر مضامین،عرشیہ پبلی کیشنز، دہلی،  2014،ص، 16-33 )

ظاہر ہے یہ اقتباسات رحمٰن عباس کے طویل مضمون سے ماخوذ ہے۔ ،جس میں انھوں نے ضرب لگانے کے ساتھ چمکارنے کا کام تو کیاہے ، مگر اپنی ذاتی پسند وناپسندپہ پردہ ڈالنے کی کوشش نہیں کی ہے۔چنانچہ اسی مضمون میں وہ چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی کئی ایسے ناول اور ناول نگاروں کی ایسی خوبیاں بھی ڈھونڈ لاتے ہیں جو شاید اُن میں نہیں ہیں، اور بعض ناولوں کی دکھائی دینے والی خامیوں کوبھی یوں نظر اندازکر جاتے ہیں جیسے انھوں نے سچ مچ دیکھا ہی نہ ہو۔ ممکن ہے یہاں رحمٰن عباس کا معاملہ دوستی نبھانے اور دشمنی جگانے کا نہ ہو،لیکن پورا مضمون ان کی ذاتی پسند و ناپسند کی جھلملاہٹوں سے جگ مگ کررہا ہے ۔ تاہم یہ ہے بڑے دل گردے کی بات کہ وہ اس دہائی میں بلند آہنگی اور بے باکی سے اپنی باتوں کو رقم کررہے ہیں جس دہائی میں لوگ اپنے کان اور اپنی آنکھیں کھلی رکھنے کے باوجود پوری شدت سے زبانیں بند اور قلم روکے رکھتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ زبان کُھلنے اور قلم چلنے کے ساتھ ہی ان کے نامۂ اعمال کی فائلیں بھی کھلنے لگ جائیں۔

فی الوقت ان ناقدوں کے حوالے سے گفتگو مقصود نہیں جو پہلے درجے سے لے کر تیسرے درجے تک کے ناولوں کے تعلق سے اس طرح کے دعوے کر رہے ہیں : ’’اس ناول کے شائع ہوتے ہی ادبی دنیا میں تہلکہ مچ گیا‘‘ ۔ ’’اب تک اردو میں ایسا ناول نہیں لکھا گیا‘‘۔اردو میں یہ اپنے موضوع کا انوکھ اور اچھوتا ناول ہے ‘‘ ۔’’ معاصر ناولوں میں یہ ناول سب سے الگ اور ممتاز حیثیت کا حامل ہے‘‘، وغیرہ ۔ اب تخلیق کاروں سے کون کہے کہ ہر اشاعت پر تہلکہ سنانے اور انوکھا پن دکھانے والے ایسے ناقدوں کے بیانات کی حیثیت،عام آدمی کے اکاؤنٹ میں پندرہ لاکھ کی آمد جیسے اعلان سے زیادہ کی نہیں ہے جس پر خوش ہولینے میں کوئی ہرج نہیں ، لیکن اگرہمارے تخلیق کار ایسے بیانات،تبصروں اور تنقیدوں پرواقعی یقین کررہے ہیں توسچ مچ وہ بڑے ہی بھولے ہیں ۔

مذکورہ حضرات کے علاوہ اورجن لوگوں نے اس صدی کے ناول نگاروں میں اپنے نام درج کروائے ہیں ان میں کوثر مظہری (آنکھ جو سوچتی ہے)،اچاریہ شوکت خلیل(اگر تم لوٹ آتے)،شاہد اختر (شہر میں سمندر)،نسرین بانو(ایک اور کوسی)، افسانہ خاتون (دھند میں کھوئی ہوئی روشنی)،سید جاوید حسن (سیاہ کوریڈور میں ایلین)،مشتاق انجم(رانگ نمبر)، نیلوفر( اوٹریم لین)،ادریس صدیقی(تنہا ہم سفر)،اقبال نظامی(آخر کب تک)،ایم ۔ مبین(انگوٹھا)،سلمان عبدالصمد (لفظوں کالہو)، ثروت خان (اندھیراپگ)، اختر آزاد(لمنٹڈ گرل) اور سفینہ بیگم(خلش)، وغیرہ شامل ہیں۔ اکیسویں صدی کے ابتدائی سولہ سترہ برسوں کے ان ناول نگاروں میں اساتذہ سے لے کر ریسرچ اسکالرز تک شامل ہیں۔ظاہر ہے یہ ناول فکری اور فنی اعتبار سے بہت معیاری نہ سہی ، بعض میں سائنسی،فنی اور فیکٹس کی غلطیاں در آئی ہیں پھر بھی یہ ٹھیک ٹھاک ضرور ہیں، کہ ان میں ایک نوع کی readibility ہے، موضوع کا تنوع ہے اور اظہار کا سلیقہ بھی ہے۔ان میں سے بیشتر حضرات ایسے ہیں جنھوں نے اپنا پہلا ہی ناول لکھا ہے ۔ سو، یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پہلی بار میں تو گھروندہ بھی ٹھیک سے نہیں بن پاتا ہے،تاج محل بنانے کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے ۔ یہ بات بھی نشان خاطر رہے کہ ان میں سے بعض پہلے تنقید لکھ رہے تھے ،بعض افسانے اور بعض نے تو بسم اللہ ہی ناول سے کی ہے ۔ اگر یہ سلسلہ دیانتداری سے جاری رہا تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے اس تخلیقی ذخیرے میں لعل وگہر کا اضافہ نہ ہو۔کہ ناول نگاری کافن کثرت مطالعہ،وسیع النظری،مسلسل ریاضت اور تحریر کو سجانے سنوارنے اور لفظوں کے مزاج سے آشنائی کے بہت طویل نہ سہی ایک معقول وقت کا مطالبہ کرتا ہے۔

تسلیم کرنا چاہیے کہ اکیسویں صدی میں ناول نگاری کی صورت حال تسلی بخش ہے اور ہمارے ناول نگار فن کی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں۔وہ فکشن کے بیانیہ کی نزاکتوں سے واقف ہیں،کردارسازی، مکالمہ نویسی اور جزئیات بیانی کے رموز سے بھی آگاہ ہیں اور کافی حد تک زبان پر بھی دسترس رکھتے ہیں۔البتہ اس کیمیاگری کے عمل میں ایک آنچ کی کسر رہ جانے سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ سو ہم پُر امید ہیں کہ آنے والے برسوں میں ہمارے ناول نگار کثرت مطالعہ اور فنی ریاضت سے اس کمی پر قابو پالیں گے ۔ ہندوستان میں انگریزی میں لکھے گئے ناولوں مثلاً پچھلی صدی میں وکرم سیٹھ کا ’’اے سوٹیبل بوائے‘‘ ارون دھتی رائے کا ’’ دی گاڈ آف اسمال تھنگس‘‘ اور نئی صدی میں امیتاو گھوش کا ’’وھائٹ ٹائیگر‘‘ ، ششی تھرور کا ’’رایٹ‘‘ اور ارن دھتی رائے کا ’’دی منسٹری آف اٹموسٹ ہیپی نیس‘‘ اہم ناول ہیں۔ان کے علاوہ راج کمل جھا، سی،آر کرشنن اور جھمپا لہری کے ناول بھی بہت ہی اہم اور معیاری ہیں۔

ہمارے یہاں ایک آنچ کی کسر رہ جانے کی ایک وجہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ ہمارے ناول نگار(ایک آدھ کے استثنا کے ساتھ) خود اردو کی کلاسیکی اوردوسری زبانوں کے ناولوں کا اتنا مطالعہ نہیں کرتے جتنا انھیں کرنا چاہیے۔ کہ کوئی بھی فنکار تخلیق ِادب کی ہنرمندی دوسرے عظیم فن پاروں اور تجربہ کار تخلیق کاروں ہی سے سیکھتا ہے ۔ دوسری وجہ یہ کہ وہ تخلیقی کاوش و ریاضت سے زیادہ تعجیل پسندی اورتشہیری حربوں پر یقین رکھتے ہیں۔سوتسلیم کیجیے کہ یہ چیزیں نہ تو ناول نگار کے نام ونمود کے لیے سود مند ہیں نہ فن ناول کے نشوونماکے لیے۔تخلیق کار چاہے اپنے فن پارے کی جتنی تعریف کروالے،اور نقاد اس کی چاہے جتنی تنقیص کریں، قصیدے پڑھیں، فن پارہ تو بالکل وہی اور ویسا ہی رہے گا جو اصل میں وہ ہے۔فلم مغل اعظم کا ایک مشہور ڈائیلاگ ہے کہ ’’ عمر خیام کی رباعی اگر سنہرے اوراق کے بجائے ریتیلی زمین پر لکھ دی جائے تو اس سے خیام کی رباعی کی وقعت کم نہیں ہوگی ۔‘‘ سو ، یقین کیجیے کہ ناول پرتعریفی مضامین اور کتابیں لکھوانے سے،یا کسی دوسری زبان میں اس کا ترجمہ کروانے ، یا کوئی اعزاز، انعام یا ایوارڈ مینیج کرنے سے یہ تو ممکن ہے کہ ناول نگار وقتی خوش فہمی اور ادبی حلقہ عارضی مرعوبیت کا شکار ہوجائے ، لیکن ان سب چیزوں سے ناول کے معیارپر کوئی فرق نہیںپڑے گا کیونکہ اس کے اچھے یا برے ہونے کا تعین بہرطور خود فن پارہ، گزران ِوقت اورسنجیدہ قاری کرتاہے ،ایونٹ مینیجمنٹ نہیں۔اب تووطن عزیز کے بھولے بھالے ووٹرس بھی اتنے نادان نہیں رہے کہ وہ اصل کام اورڈررامے اور جملے بازیوں میں تمیز نہ کرسکیں، قارئین تو خیر پڑھے لکھے، ذہین اور کافی حد تک غیر جانبدار ہوتے ہیں۔

 

٭٭٭

Abu Bakar Abbad

(M)9810532735

bakarabbad@yahoo.co.in

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

ابو بکر عباداکیسویں صدی میں اردو ناول
0 comment
1
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اگلی پوسٹ
تحقیق میں ماخذات کی ضرورت واہمیت اور طریقہ کار – عمیرؔ یاسر شاہین

یہ بھی پڑھیں

ناول ’آنکھ جو سوچتی ہے‘ ایک مبسوط جائزہ...

نومبر 17, 2024

ناول ”مراۃ العُروس “ایک مطالعہ – عمیرؔ یاسرشاہین

جولائی 25, 2024

ڈاکٹر عثمان غنی رعٓد کے ناول "چراغ ساز”...

جون 2, 2024

گرگِ شب : پیش منظر کی کہی سے...

اپریل 7, 2024

حنا جمشید کے ناول ’’ہری یوپیا‘‘  کا تاریخی...

مارچ 12, 2024

طاہرہ اقبال کے ناول ” ہڑپا “ کا...

جنوری 28, 2024

انواسی :انیسویں صدی کے آخری نصف کی کہانی...

جنوری 21, 2024

مرزا اطہر بیگ کے ناولوں کا تعارفی مطالعہ...

دسمبر 10, 2023

اردو ناول: فنی ابعاد و جزئیات – امتیاز...

دسمبر 4, 2023

نئی صدی کے ناولوں میں فکری جہتیں –...

اکتوبر 16, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں