Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
ناول شناسی

ہجور آما: تجرید سے پرے ایک نیا قدم – خلیل مامون

by adbimiras جولائی 5, 2021
by adbimiras جولائی 5, 2021 0 comment

عہدِ حاضر میں ہندوستان ہی نہیں ،عالمی سطح پر بھی ناول پر ایک عجیب سی دھند چھائی ہوئی ہے۔ یہ صورت ِحال موجودہ ٹیکنالوجی کی پیدا کردہ ہے۔ انسانوں کو اب سوچنے سمجھنے کا یہاں تک کہ جینے کابھی وقت میسر نہیں ہے۔ اگر کوئی پڑھتا بھی ہے تو وقت گزاری کے لیے۔ اس میںکسی سنجیدہ جذبے کا کوئی عمل دخل نہیں۔ لیکن اس کے باوجود کچھ لوگ ہیں جو ادب لکھ رہے ہیں اورکسی حد تک پڑھ بھی رہے ہیں۔ایسے لوگ ہماری بے انتہاداد کے مستحق ہیں۔اور اردوجیسی پسماندہ زبان میں کسی سنجیدہ نثری تحریر کے لیے قلم اٹھانا اور بھی مشکل کام ہے۔شاعری کی بات الگ ہے۔شاعری کے لیے موزونیت ضروری ہے۔ اگر کسی کے پاس موزنیت ہے اور وہ شاعری کا تھوڑا بہت علم بھی رکھتا ہو تو اس کے لیے باقی راستے اپنے آپ بنتے چلے جاتے ہیں، جب کہ میرا یہ ماننا ہے کہ اچھا فکشن ؍ ناول لکھنے کے لیے ادیب کو بڑی سوجھ بوجھ درکار ہے۔تخیلات، تجربات اور مشاہدات کے علاوہ نظم و ضبط کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔یہ بڑا صبر آزما کام ہے۔لہٰذا یہ کام ہر کسی کے بس کا نہیں ۔ واقعات کو ایک خاص ترتیب میں اس طرح سجانا کہ وہ فطری لگے اور پڑھنے والا پوری انہماک کے ساتھ اس کی جانب متوجہ ہو جائے کوئی معمولی کام نہیں۔ ناول میں تو یہ کام اور بھی جوکھم والا ہوجاتا ہے۔سب سے بڑا کام تو پلاٹ کی تشکیل ہے اور یہی اچھے ناول کی بنیاد بھی ہے۔ اس لیے ناول نگار کے لیے یہ لازمی ہوجاتا ہے کہ وہ ایسے واقعات کو اپنے پلاٹ کا حصہ بنائے جو گذشتہ دور کے ناولوں سے مختلف اور نادر ہوں۔نیز ہم عصرناولوں میں بھی اسے امتیازی درجہ حاصل ہو۔ کیوں کہ ناول کا مطلب ہی تو Novelty(ندرت اور نیاپن) ہے۔ اگر ناول میں کوئی ندرت نہیں تو ہم اسے ناول نہیں کہہ سکتے۔ زبان کا استعمال بھی ایسا ہو کہ قاری ناول کی طرف کھنچا چلا جائے اور اس کی توجہ مستقل طور پرمتن پر مرکوز ہوجائے۔یعنی چار پانچ سطور پڑھ کراگر کوئی شخص پوراناول پڑھنے کا تہیہ کر لے تو یہ سمجھنا چاہیے کہ ناول کامیاب ہے۔اس لحاظ سے شبیر احمد کا ناول ’ہجور آما‘ ایک کامیاب ناول ہے۔ اردو والوں کے لیے یہ نادر اور انوکھا بھی ہے۔ اس کے تھیم اورواقعات عام ناولوں سے ہٹ کر ہیں۔نیز اس کے زبان و بیان کے سحر سے قاری چاہتے ہوئے بھی خود کو نہیں بچا سکتا۔اس اعتبار سے بھی یہ ایک کامیاب ناول ٹھہرتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں موت کی کتاب :سیاہیوں کی تہہ داریاں – پروفیسر انتخاب حمید )

ناول کواکثر دو درجوں میں منقسم کیا جاتا رہاہے ۔ایک مقبول عام ناول جو وقت گزاری کے لیے پڑھے جاتے ہیں، جس میں گلشن نندہ اوردت بھارتی کے ناول رکھے جاتے ہیں۔ دوسرا وہ ناول جس میں مصنف فرد اور سماج کے باطن کی سیر کراتا ہے۔ ایسے ناولوں میں زبان و بیان کا خاص لحاظ رکھا جاتا ہے۔اس میں تخلیقی نثر کو خاص دخل ہوتا ہے۔ ایسے نالوں میں طرح طرح کے تجربے بھی ہوتے رہے ہیں۔کبھی کسی خاص مقصد کے تحت کسی مخصوص نظریے کو ابھارا جاتا ہے تو کبھی انسانی نفسیات کو موضوعِ بحث بنایا جاتا ہے، کبھی تاریخ کے اوراق سے کسی معروف شخصیت کو اٹھا کرفکشن کے قالب میں ڈھال دیا جاتا ہے اورکبھی سماج کا کریہ چہرہ دکھایا جاتا ہے۔ غرض یہ کہ اس قسم کے ناول مصنف سے انتہا درجے کی فن کاری اور عمیق درجے کے تجربوں کا متقاضی ہوتے ہیں۔
چیک ادیب میلان کندیرا نے اس حوالے سے ’’L’ Art Du Roman ‘‘نام کی ایک مبسوط کتاب لکھی ہے، جس کا The Art of Novel کے نام سے انگریزی میں ترجمہ ہوچکا ہے۔یہ کتاب اس صنف کے متعلق بہت سی باریکیوں کا خلاصہ کرتی ہے۔ اردو کے ادیب اور قاری کو یہ کتاب پڑھنی چاہیے۔اس میں کندیرا نے سروانتیس ، رابیلی، دیدر و ، فلوبیر وغیرہ کی تخلیقات کے آئینہ میں یوروپی ناول نگاری کا جائزہ لیا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ یوروپی ناول کا موضوع زندگی کے کرداروں کو جاننے کا ٹھوس ذریعہ ہے۔وہ مزید کہتا ہے، سروانتیس کے ناول کا جوہرمہم جوئی ہے، جب کہ بالزاک کو تاریخ میں انسان کی جڑوں کی تلاش ہے۔دوسری طرف فلوبیرزمانے کی غیرمعروفیت کے فراق میں ہے۔ ٹالسٹائے انسانی عادات کے غیرعقلی ہونے سے متحیر ہے۔اپیل ؍ کشش کے نقطۂ نظر سے میلان کندیرا نے ناول کو چارطبقات میں منقسم کیاہے:
1) واقعیت کی کشش ((The Appeal of Play
2) خواب کی کشش ((The Appeal of Dream
3) فکر کی کشش ((The Appeal of Thought
4) وقت کی کشش ((The Appeal of Time
ان میں بالترتیب کرداروں کے باطن میں نفوذ، استعارات کا استعمال، نثریت یا پیروڈی، خوابوں کی تفسیر، فکری اور فلسفیانہ مضامین اور وقت کے اثرات آجاتے ہیں۔ میلان کندیرا نے وقت کے تعلق سے باطن میں مفارقاتی صورتِ حال کا بھی ذکر کیا ہے ۔ میں نے یہاں مفارقہ بہ معنی Paradox استعمال کیا ہے۔اردو میں بہت کم ناول ہیں جو ان پیرامیٹرس پر کھرے اتر سکیں ۔ ترقی پسندی کے دور میں توچند ایسے ناول لکھے گئے ہیں جو ایک حد تک اس معیار کے قریب پہنچتے ہیں لیکن اس کے بعد کوئی قابلِ ذکر ناول ہمارے سامنے نہیں آتا۔ ویسے بھی شمس الرحمن فاروقی اور محمود ہاشمی نے شب خون کے ذریعہ تجریدیت کوفروغ دے کراردو فکشن سے اس کا قاری چھین لیا۔ نتیجہ میں ’وہ‘ اور’یہ‘ جیسے غیر مرئی کردار ابھرکر خلا میں منڈلا نے لگے۔ یہ سب امریکی تجریدی ناول نگار Burroughs William کی بھونڈی نقالی میں کیا گیا۔ جس کے سبب اردو فکشن کاجنازہ نکل گیا۔ اور پھر شمس الرحمٰن فاروقی قرۃالعین حیدر کے’ آگ کے دریا‘ کے پیچھے پڑگے۔ اس میں شبہ نہیں کہ بقول محمودایازجو کسی کا قول دہراتے تھے ’’بٹیا ناول میں ڈرامہ بہت ڈال دیتی ہے۔‘‘مگر سرے سے اسے رد کردینا بددیانتی کی دلیل ہے۔ آگ کادریا اپنی تمام ترکمزوریوں کے باوجود ہمارے عہد کا ایک بڑا ناول ہے۔اس کے بعد سونے پرسہاگہ یہ کہ فاروقی نے پہلے سے موجود کسی سوانحی خاکہ کی بنیاد پر کڑی محنت اور بڑے چاؤ سے ایک ایسا ناول لکھا جسے دوربین اور دس بارہ لغات کی مدد سے بھی پڑھنا دشوار ہے۔ان کا یہ ناول اول تو بہت بوجھل ہے پھر کوئی تاثر چھوڑنے میں بھی کامیاب نہیں ۔مندرجہ بالا حقائق کے پس منظر میں شبیراحمد کاناول’’ ہجورآما‘‘ جدیدیت کی خمارآلود آنکھوں کو نسیم سحر کے خوشگوار جھونکے کی طرح جگاتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں نذیر احمد کا ناول ایامیٰ اور نو آبادیاتی جدیدیت – پروفیسر ناصر عباس نیرّ )

ہجور آما کی سب سے بڑی خوبی اس کے بیانیہ کی روانی ہے جو کسی خاموش ندی کی طرح رواں دواں ہے۔ قاری اس کے دھارے میں بس بہتا چلا جاتا ہے۔ کہیں رکنے کو اس کاجی چاہتا ہی نہیں۔تاہم شبیراحمد نے سر ورق پر ایک فکشن نگار کا جولیبل چسپاں کیا اس سے ناول کا استعجاب کسی حد تک کم ہوگیاہے ۔ قرۃالعین حیدرسمیت کئی فکشن نگاروں نے ادب کو کئی ایسے نسوانی کرداردئیے ہیں جنہیں یاد رکھاجائے گا۔ اس اعتبار سے ہجور آما کے کردار کو لازوال قرار دینا مناسب نہیں لگتا۔
بودھ فلسفہ اور Albert Einsteinکی Theory of Relativity ہمیں یہ باور کراتے ہیں کہ کائنات میں روایتی وقت کا کوئی وجود نہیں ہے۔ عین اسی طرح اس ناول میں بھی اول تا آخر کہیں بھی وقت اپنا کوئی وجود نہیں رکھتا۔ پورا ناول انسانی کرداروں سے بھرا ہوا ہے۔ یہاں واقعات کا تانابانا بھی کرداروں کی ضروریات اور ان کے تعملات کی رہینِ منت ہے۔ یہ ایک طرح کا لاوقتی وجود ہے۔ اسی طرح اس میں مذہب اور خدا کے وجود کا بھی احساس نہیں ہوتا۔ زندگی گویا ایک خودرو درخت کی شکل میں سامنے آتی ہے۔ اور وہ درخت اگتا چلاجاتاہے۔ پہاڑوں سے نکلا ہوا پانی کا ایک ریلاہے جوبہتا جارہاہے۔ایک روایت ہے جسے لوگ بس جی رہے ہیں۔ یہ صورت حال ناول میں فطری طورپر اجاگر ہوئی ہے اور یہی اس ناول کی کامیابی کی دلیل بھی ہے۔
ناول نگار نے ناول کے ہر باب کے شروع میں مختلف شعرا کا ایک ایک شعر دے رکھا ہے۔ ممکن ہے اس شعر سے ان کی نظرمیں اس باب پر روشنی پڑتی ہو۔مگر مجھے کسی شعر سے کسی رمزکی آگہی نہیں ہوئی۔ میرے لیے ان کی شمولیت یا عدم شمولیت سے ناول کے ابواب پر کوئی اثرپڑتا نظرنہیں آتا۔ بہرحال اگران کی شمولیت سے ناول نگار کے دل کو تسکین ہوتی ہے تویوں ہی سہی۔ہاں مجھے جو بات اس ناول میں شدت سے محسوس ہوئی وہ یہ ہے کہ شبیراحمد نے کسی اقلیدسی پیٹرن پر پلاٹ کے تانے بانے جوڑے ہیں ،جو بے حد مربوط اور منضبط ہے۔بالکل اس طرح کہ زندگی کے نقش پر کردار، واقعات، مکالمے ،مناظرسب شطرنج کے مہروں کی طرح بیٹھ جاتے ہیں ۔ اس معاملے میں ناول نگار کا ذہن کامل ہے۔ایسا لگتا ہے کہ ناول تخلیق کرتے وقت شبیر احمد کے ذہن میں صرف اور صرف انسان اور اس کی سرگرمیاں تھیں ۔ زندگی، موت ،تقدیر ،سب کچھ اسی سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس کے باہر کچھ نہیں۔ نہ کوئی غیرمنطقی حادثہ، نہ کوئی سنجوگ،نہ کوئی ان دیکھی قوت اور نہ کوئی بے وجہ استعجاب! لیکن یہ صورت حال اچھی ہے یا بری، فطری ہے یاغیرفطری اس بارے میں کوئی حتمی رائے قائم کرنا آسان نہیں۔ (یہ بھی پڑھیں غلام باغ اور بدلتی ہوئی سماجی صورتحال – سیدہ ہما شیرازی )

شبیراحمد کے ناول کی زبان اور کیفیت بڑی رومانی ہیں ۔ منظر نگاری اور جزیات نگاری بھی غضب کی ہیں۔ کہیں کہیں تو کیمرے کا دھوکہ ہوجاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ شبیراحمد نے بنگال کے ترائی علاقے، دارجیلنگ کی پہاڑی اور مشرقی ہمالیہ کی وادیوں کی جیتی جاگتی زندگیوں کی ایک قاش تراش کر ہمارے سامنے رکھ دی ہو۔تاہم کہیں بھی ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ اردو کے ایک نام نہاد فکشن نگار ( نام لینا مناسب نہیں، اشارہ ہی کافی ہے)کی طرح شبیراحمد نے اپنی تحریر کو اسکرین پلے بنانے کی کوشش کی ہے۔ حالاں کہ وہ معروف نام نہاد فکشن نگار اسکرین پلے کا ڈھیرلگا لگا کرانھیں ناول قراردیتا جارہا ہے۔
’ہجورآما‘یوں تو دیب لینا اور اس کے سنگھرش کی کہانی ہے، مگر اس خاتون کی زندگی کو دکھاتے دکھاتے ناول نگاربڑی چابک دستی سے اس کے اردگرد کی ساری کائنات کا منظر بھی دکھا تا چلا جاتا ہے۔ دارجیلنگ، سیلی گوڑی ، کالمپونگ اور اس کے اطراف کی سیاسی رساکشی ، جغرافیائی مناظر، بھادی سماج کی خود عاید کردہ ذلت بھری زندگی، جنسی ہوس، شرافت کا بہروپ، خواب، تاریخی عوامل، نفسیاتی پیچ وخم وغیرہ، سب ایک ہی دھاگے میں پرودیئے گئے ہیں۔ یہاں انصاف کرنے والا کوئی خدا نہیں ہے۔ظلمت کی طرف کھینچنے والے کسی ابلیس کابھی وجود نہیں ۔ کہانی میں ڈھیروں کردار ہیں۔کچھ بڑے، کچھ چھوٹے، کچھ پیچیدہ ،کچھ سیدھے سادے! مرد ،عورت ،بوڑھے، بچے، امیر، غریب ،ان پڑھ ، تعلیم یافتہ، پہاڑی ،میدانی ! بھانت بھانت کے لوگ ہیں۔ دیب لینا،ارباز احمد، پروفیسر نظرامانوی، غزالہ، کانن بالا، سونم داجو، پھلوا، مانسی، سندھیا، ڈورجی ،چندر ماما،ہر ایک کا الگ الگ روپ ہے۔ الگ الگ رنگ ہے۔ لیکن کمال یہ ہے کہ ناول نگار ( راوی) ان کے بارے میں خود کچھ نہیں کہتا ۔ہر کردار اپنے عمل ہی سے، اپنے تشخص کا اظہار کردیتا ہے۔ لیکن ان کے علاوہ ناول میں ایک کردار ایسا بھی ہے جو تقریباً ہر جگہ ،ہر واقعہ میں موجود ہے ، واضح طور پر نہیں، درپردہ۔پردے کے پیچھے چھپا یہی کردار دراصل سب سے اہم کردار ہے جو اپنا کام بڑی خاموشی سے کر گزرتاہے۔ناول نگار نے شاید دانستہ طور اسے خاموش تماشائی بنائے رکھا ہے۔ میرا مطلب پرساشن(Establishment) سے ہے جو ہر جگہ چپکے سے اپنی چال چل دیتا ہے اورلوگ اس کے دام میں الجھ جاتے ہیں۔جمہوری نظام میں پرساشن کا ایسا شاطرانہ کردار ! جمہوریت کے لیے اس سے بڑا طنزاورکیا ہوسکتا ہے۔ اس سے بھی اہم چیز جس کی طرف ناول نگار نے انگشت نمائی کی ہے وہ یہ ہے کہ آج کا انسان اس قدر بے حس ہو چکا ہے کہ ہزار کوششوں کے باوجود اپنی فطرت سے باز نہیں آتا۔ لہٰذا بھادی عورتوں کو جسم فروشی کے دلدل سے نکالنے کے لیے مہم چلائی جاتی ہے مگر بار باروہ اسی دھندے کی طرف چل دیتی ہیں۔ان کے مرد بھی اس کھیل میں پیچھے نہیں رہتے۔
سیاسی اور سماجی سطح پر تبدیلیاں لانے کی غرض سے وقتاً فوقتاً انسانوں نے مختلف قسم کی تحریکیں چلائی ہیں۔ کچھ تحریکیں کامیابی سے ہمکنار ہوئیں، تو کچھ کو ناکامی کا منہ بھی دیکھنا پڑا ہے ۔ اس ناول میں بھی الگ الگ وقت میں،الگ الگ مقام پر کئی تحریکیں چلتی ہیں۔ایک تحریک ہمرو دیش (گورکھالینڈ )کی تحریک ہے ، دوسری تحریک کمیونسٹوں کی ہے جو آؤٹومیشن کے خلاف مزددورں کی حمایت میں چلائی جاتی ہے۔یہ دونوں تحریکیں سیاسی نوعیت کی ہیں۔اسی طرح چائے کے باغات میں بھی مالکوں اور کارپوریٹ سیکٹر کے ذریعہ کیے گئے استحصال کے خلاف تحریک چلائی جاتی ہے۔ ناول نگار نے ان تحریکوں کے توسط سے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ سماج میں تبدیلیاں لانے اور انقلاب برپا کرنے کی کوششوں سے بالآ خرعام آدمی کی زندگیوں میں توکوئی مثبت بدلاؤ نہیں آتا الٹے ان تحریکوں کے نتیجے میں کمزور اور غریب افراد ہی پس جاتے ہیں اور مفاد پرست عناصر ہر طرح کے فائدے اٹھاتے ہیں۔ اس نکتے کو اگراورکھل کر ناول میں ابھاراجاتا توبہت خوب ہوتا،مگر ناول کی ضرورت کے اعتبارسے جو ہے وہ بھی ٹھیک ہے۔ دارجلنگ کی پہاڑیوں میں خود مختاری کی جو تحریک چلائی جاتی ہے وہ اکثر مقام پرنرا ج کا شکار ہوجاتی ہے ۔ شبیراحمد مغربی بنگال کے کمیونزم کوبھی اسی پس منظر میں دیکھتے ہیں اگر چہ اس کا اظہار ایک منجھے ہوئے ادیب کی طرح غیرراست طریقے سے ہی کرتے ہیں۔
ناول کا تانا بانا بڑی ہنر مندی سے بنا گیا ہے،پھر بھی کئی جگہوں پر کچھ نقائص رہ گئے ہیں۔ مثلاً دیب لینا کا بیٹا بن کر بصر کا پیدا ہونا اور اپنی محبوبہ کے ساتھ خوابوں کی تفتیش کے سلسلے میں بھادی گاؤں میں جانا ، ارباز اوردیب لینا کے واقعات کا پنرجنم معلوم ہوتا ہے۔ یہ واقعات 1973 میں Max Ehrlich کے لکھے گئے ناول The Reincarnation of Peter Proudکی یاد دلاتے ہیں جس پر 1975 میں ایک فلم بھی اسی نام سے بنی تھی۔ ایسے واقعات ادبی سطح پر ناول کو کمزور بناتے ہیں اور ناول عوامی خواہشات کے دھارے میں بہنے لگتا ہے۔یہ مقبول عام ناول کے لیے تو مناسب ہو سکتے ہیں مگرادبی ناولوں کے لیے نہیں۔ایسی چیزیں رتوک گھٹک کی’’ مدھومتی‘‘ جیسی فلمیں بنانے کے لیے توکارگر ثابت ہوسکتی ہیں ، لیکن ’ہجور آما‘ جیسے ناولوں کے لیے شاید نہیں۔تاہم یہ جھول قابلِ توجہ نہیں ہے۔ یہ کمزوری ناول کے کلی پس منظرمیں ڈوب جاتی ہے۔اس سے ناول کے مجموعی تاثرات میں کوئی فرق نہیں آتا۔پھر بھی ایسا نہ ہوتا تو بہتر تھا۔ مگر اس امر سے بھی رو گردانی نہیں کی جاسکتی کہ کہانی کے سلسلے کو آگے بڑھانے کے لیے یہ ایک تکنیکی ضرورت تھی۔ اس پر حتمی رائے دینا غیرضروری ہی نہیں، ادبی بداخلاقی بھی قرار دیا جائے گا۔ یہ تخلیق کار کی آزادی ہے،کسی مکتب کا پرچہ نہیں۔اس پر قدغن ٹھیک نہیں۔ (یہ بھی پڑھیں مرزبوم : یہ توہم کا کارخانہ ہے – ڈاکٹر عبد السمیع )

سچ کہوں تو مجھے فرانز کافکا کا The Trial ، ممتازمفتی کا ’ علی پور کا ایلی‘، فلوبیر کا’ مادام بویری‘ اور عبد للہ حسین کا’ اداس نسلیں‘ پڑھتے وقت بھی اتنا ہی لطف آیا تھا جتنا شبیراحمد کے ناول ’ہجورآما‘ کو پڑھتے وقت آیا ہے ۔ مگر میں کافکا کو پہلے اور ممتاز مفتی کو دوسرے نمبر پر رکھنا چاہوں گا۔ زبان، بیانیہ اور موضوعات کی بنیاد پر تیسرا نمبر شبیر احمد کا ہے۔ کیونکہ ان کا ناول ایک دھیمی لہر کی طرح چلتا ہے۔ اس میں بھی اتنی ہی کشش ہے جتنی پہلے اور دوسرے ناول میں۔ عبداللہ حسین کے ناول کا موضوع بہت وسیع ہے اس لیے کہیں کہیں وہ اس وسعت کو سنبھال نہیں پاتے ۔ اس کے باوجود اس سے انکار نہیں کہ ’اداس نسلیں‘ اپنے وقت کا ایک اہم ناول ہے۔ لیکن ’آگ کا دریا‘ کو میں اس عہد کا سب سے بڑا ناول مانتا ہوں۔موضوعات کی وسعت اور خیالات کی گہرائی کے سبب قاری کو جگہ جگہ ٹھہرجانا پڑتا ہے، مگر اکثر مقام پر قرۃ ا لعین حیدرہنستی،بولتی،باتیں کرتی گزرجاتی ہیں۔
’ہجورآما‘ کا ایک اور پہلو دیب لینا اور سندھیا کے خواب ہیں جن کی تفتیش پہلے ارباز کرتا ہے، پھراس کا بیٹا،بصر اور بصر کی محبوبہ، پرمیتا ۔ ان کی تحقیق انہیں بھادی سماج تک لے جاتی ہے۔یہاں یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ ناول نگار نے خواب کو ایک ٹول کی طرح استعمال کیا ہے۔ٹائم لائن پر دیکھا جائے تو سب سے پہلا خواب چار دانت والے سفید ہاتھی کا ہے جسے دیب لینا پہلی بار اپنے طالب علمی کے زمانے میں دیکھتی ہے۔اور اس کے ساتھ ہی تفتیش و تحقیق کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔لیکن متن میں سب سے پہلے ہم جس خواب سے دوچار ہوتے ہیںوہ پہاڑ پر ہونے والے سیاسی انتشار سے متعلق ہے۔دیب لینا اب عمر رسیدہ ہوچکی ہے۔کھڑکی کے پاس بیٹھی شراب پیتی ہے۔ راکنگ چیئر پر ڈول رہی ہوتی ہے کہ خواب میں اسے بارش،دھند اور آگ کے شعلے ایک ساتھ دکھائی پڑتے ہیں ۔ اس نے یہ خواب جاگتے ہوئے دیکھا یا غنودگی کی حالت میں ، اس کی وضاحت ناول نگار نے نہیں کی ہے۔اگر یہ مان لیا جائے کہ اس نے مستقبل کا یہ منظر جاگنے کی حالت میں دیکھاہے تو بھی کوئی مضائقہ نہیں ۔کچھ لوگوں میں ایسی قوت ہوتی ہے کہ وہ مستقبل سے باخبر ہوجاتے ہیں۔میں اسے کشف یا الہام نہیں کہوں گا۔خواب بھی نہیں کہوں گا۔میں اسے فراست کہوں گا۔فراست بھی ایک غیرمعمولی قوت ہی ہے جس کے لیے بے انتہا تجربات و مشاہدات درکار ہوتے ہیں۔صرف چند علامتوں کی آگاہی سے آدمی صحیح نتیجہ اخذ کر لیتا ہے۔ خصوصی طور پر وہ لوگوں جن کی جبلی قوت ادراک کو ’تہذیب‘ کے بھوت نے شل نہ کردیا ہو۔ یہ باتیں قبائلیوں اور پہاڑیوں میں اکثر پائی جاتی ہیں۔اس سلسلے میں میری خود کی زندگی سے ایک واقعہ اس بات کو تقویت پہنچائے گا ۔ میرے آئی پی ایس کے ایک دوست رخوماپچھاو ، میزو تھے ۔ ایک بار میرے ساتھ کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ناک سکیڑ کر کہنے لگے ،’’بارش ہونے والی ہے!‘‘ حالاں کہ مجھے بارش کے آثار نظر نہیں آئے تھے، مگر اس کے ٹھیک آدھے گھنٹے بعد موسلا دھار بارش شروع ہوگئی۔ناول کی Protagonist دیب لینا بھی تجربات و مشاہدات کی بھٹی میں تپ تپ کراپنے بال سفید کر چکی ہے۔نیز اس کا تعلق بھی ایک قبیلہ سے ہے۔ لہٰذا وہ بھی اگر اپنی فراست سے پہاڑ پر آنے والی مصیبت کو بھانپ لیتی ہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔اور اگر یہ مان لیا جائے کہ دیب لینا مذکورہ بالا منظر غنودگی کے عالم میں دیکھ رہی تھی، تب بھی ناول کے پلاٹ میں کسی قسم کا کوئی سقم نہیں آتا۔ہوسکتا ہے ناول نگار دیب لیناکے ذہن کی مابعدالطبیعاتی قوت کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہو۔ایسا اکثر دیکھنے میں آیا ہے۔اس سے ملتا جلتا ایک اور واقعہ 1976 کا ہے۔جب میں بنگلور میں محمود ایاز کے روزنامہ سالار میں کام کرتا تھا۔ جس دن پولس میں میرے تقرر کی خبر اخبار میں نکلی تھی اس سے پہلے والی رات کو میں نے خواب میں دیکھا تھاکہ محمود ایاز مجھے ایک پروانہ ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہہ رہے ہیں ’’لویہ ہے تمہارا تقرر نامہ ۔‘‘ ایسی قوتیں اکثر صوفی سنتوں اور پیمبروں کووہبی طور پر اور ریاضت کے ذریعہ حاصل ہوجاتی ہیں۔ اسلام میں ایسے خوابوں کو ایک طرح کے روحانی احساس کا نام دیا گیا ہے۔ صحیح مسلم کی رو سے ایک حدیث ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کسی نیک آدمی کا خواب پیمبری کا چالیسواں حصہ ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ کبھی کبھی عام انسانوں کو بھی اس قسم کاالہام ہو جاتا ہے۔میں یہاں اپنی زندگی سے کچھ اور واقعات کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ یہ 1972 کی بات ہے ۔میری نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ میں اس وقت دلی میں تھا اور ریڈیو میں ملازم تھا۔ایک رات میں نے خواب میںدیکھا کہ میری ایک پھوپی زاد بھانجی جس کا نام ثروت تھا مر گئی ہے اور میں اپنے ایک سردار جی دوست کے ساتھ قبرستان میں اسے دفن کر ریا ہوں۔ میں نیند سے جاگ پڑااور اپنی بیوی کو وہ خواب سنایا۔ اس نے کہا کہ یہ محض کوئی خیال خام ہوگا ۔ مجھے حیرت اس وقت ہوئی جب کچھ دنوں بعد یہ اطلاع ملی کہ ویلوراسپتال میں کینسر کے سبب ثروت کا انتقال ہوگیا ہے۔ ایک اور واقعہ سنئے۔میں نے 1972میں ایک خاتون کو ایک خواب میں اپنے ساتھ بار میں بیٹھا دیکھا ۔ وہ کوئی نظم سنارہی تھی۔ مجھے اس نظم کا پہلا مصرعہ اب تک یاد ہے :
ع رات نیزے کی طرح سینے میں پیوست ہوئی
جب کہ اس خاتون سے میری ملاقات 1986ء میںہوئی اور میں نے اس کی انگریزی نظموں کا اردوترجمہ ’ انیس للہی نظمیں‘ کے عنوان سے شائع کیا۔ اس طرح کے اور بھی بہت سارے واقعات ہیں کہ جن کی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔لیکن دیب لینا کے خوابوں میں کسی طرح کا کوئی روحانی عنصر نہیں ملتاہے۔ ارباز اور بصر کی تحقیق بھی زیادہ گہری نظر نہیں آتی۔ ایسا لگتا ہے شبیر احمد نے واقعات کے سلسلے کو آگے بڑھانے کے لیے چار دانت والے سفیدہاتھی کا ذکر چھیڑ دیا ہے۔ مگر آگے چل کر یہ عقدہ بھی کھلتا ہے کہ یہ خواب وہ خواب نہیں جو انسان کے لاشعور میں دبی خواہشات کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ یہ تو ایک طرح کا آرکی ٹائپ ہے۔یعنی ناول نگار جہاں ایک طرف سگمنڈ فرائیڈ کی ڈریم تھیوری کی نفی کرتا ہے تووہیں دوسری طرف کارل یونگ کی آرکی ٹائپ کی پیروی کرتا نظر آتا ہے۔چار دانت والے سفیدہاتھی کا خواب دراصل ان خوابوں میں سے ہے جنھیں بھگوان مہاویرکی ماں ،تری شالا دیوی نے دیکھے تھے۔اس وقت چوبیسواں تیر تھنکرماں کے پیٹ میں تھے۔ دگمبرمکتب کے مطابق 16 خواب اور سو یتمبر کے حساب سے 14 خواب دیکھے گئے۔ دیب لینا ان میں سے آٹھ خواب دیکھ چکی تھی۔آٹھواں خواب کو لے کر جینولوجی کی پروفیسر ڈاکٹر پراجنا تذبذب میں پڑ جاتی ہے۔ اس خواب کی تعبیرتک اس کی رسائی نہیں ہو پاتی ہے اور وہ اٹھ کر چلی جاتی ہے۔ ویسے بھی خواب کی تعبیر سمجھ پانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ خواب اکثر علامات اور نشانات کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں، جس کی تشریح آسان نہیں ۔ بابل کی تلمودی عہد میں ( 200 ۔ق۔م۔) ایک یہودی ربی حسدا نے کہا تھا وہ خواب جس کی تشریح نہیں ہوئی ہواس خط کی طرح ہے جسے پڑھا نہ گیا ہو۔اور چوں کہ ڈاکٹر پراجنا اس خط کو پڑھنے سے خود کو قاصر پاتی ہے،اسی لیے جھلّا کر چلی جاتی ہے اوراس طرح مقدس خواب کا جو سلسلہ ہمارے سامنے نمایاں ہوتا رہا تھا ایک دم سے گم ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی رہی ہو کہ شبیر احمد کی دلچسپی خوابوں کے تحلیل وتجزیہ کے بجائے کارل یونگ کی آرکی ٹائپ کو تمثیلی طور پر پیش کرنے میں ہے اور اس میں وہ بہت حد تک کامیاب بھی نظر آتے ہیں۔دیب لینا اور سندھیاکا تعلق بھادی سمودائے سے ہے ۔بھادیوں کے آباؤ اجدادویشالی کے لچھوی قبیلہ سے تھے ۔ امرپالی اور تری شالا کا تعلق بھی اسی قبیلے سے تھا۔ دونوں ہی جو خواب دیکھتی ہیں ان کے ڈانڈے اسی لچھوی قبیلے سے جا ملتے ہیں۔اور چوبیسویں تیرتھنکر کی ماں تری شالا دیوی کے خوابوں سے اسے جوڑ کر ناول نگار نے انھیں مذہب کا رنگ دینے کی سعی کی ہے۔ہم سبھی جانتے ہیں کہ چوبیسواں تیرتھنکرمہاویر جین مذہب کا بانی تھا۔اسلام میں بھی کچھ خوابوں کو ایک طرح کے روحانی احساس کا نام دیا گیا ہے۔ ابن عربی، ابن سیرین اور ابن خلدون جیسے مفکروں نے خواب اور ان کی تعبیروں کے بارے میں بہت کچھ لکھا بھی ہے۔اسی طرح انجیل میں فرعون کے اس خواب کا بیان ملتا ہے جس میں اس نے سات فربہ اور سات لاغر گایوں کو دیکھا تھا۔مگر ناول نگار نے خوابوں کواس انداز میں بیان نہیں کیا جس سے ان کے مقدس ہونے کی دلیل حاصل ہو سکے۔ محض تری شالا دیوی سے منسوب کر دینے سے کام نہیں بنتا۔انھیں خواب کو فکری اور معنوی سطح پر بھی اجاگر کرنا چاہیے تھا۔ہوسکتا ہے اس سے ناول کی ضخامت مزید بڑھ جاتی ۔غالباً اسی سے دامن بچانے کی غرض سے ناول نگار نے ایسا کیا ہو۔ویسے بھی ناول میں اس بات کا اشارہ بھی موجود ہے کہ وہ خوابوں کو مذہبی عقائد سے جوڑ کر دیکھنا نہیں چاہتے ، سماجی اور تاریخی پس منظر میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ کیوں کہ خواب کے متعلق یہ نظریہ عام ہے کہ خواب کا تعلق ہمارے لاشعور سے ہے اور ہم یہ جانتے ہیں کہ ہمارا لاشعور انفرادی ہوتے ہوئے بھی اجتماعی ہوتاہے۔ یعنی ہمارے اجداد کے لاشعورکا بھی اس میں دخل ہے۔تو اس اعتبار سے کیا یہ ممکن نہیں کہ دیب لینا اور سندھیا کے لاشعور میں ہزاروں برس پرانے لچھوی قبیلے کا لا شعور بھی کارفرما ہو۔ دوسرے لفظوں میں شبیر احمد فرائیڈ کے بجائے یونگ کے نظریے کو فوقیت دیتے ہیں۔ایسا کرتے ہوئے انھوں نے ناول میں سرسری طور پر ہی سہی خواب کے مختلف پہلو پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اس میں ان کا اصل مقصد کہانی کو آگے بڑھانا اور اس بہانے دیب لینا کے بیٹے کو ماں سے ملانا تھا اور یہ کام انھوں نے اس خوبی سے انجام دیا ہے کہ قاری کی توجہ خواب کی طرف دوبارہ مبذول نہیں ہوپاتی ۔ویسے بھی اگر ناول کا کوئی موڑ خصوصی طور پر اس امر کا متقاضی ہوتا تو شاید اس پر وہ مزید تفصیل سے لکھتے۔ بہرحال ناول کے فنی احتساب میں اس پہلو کو ذہن میں رکھنا اور اس کی تحسین بھی لازمی ہے۔
غرض یہ کہ شبیر احمد کا یہ ناول جدید اردو فکشن کی طرف ایک نیا قدم ہے۔یہ ایک اہم اور بڑا ناول ہے۔پھر بھی میں اسے شاہکار نہیں کہوں گا بلکہ شبیراحمد کے قلم سے آئندہ نکلنے والے شاہکار کا پیش خیمہ کہوں گا۔

شبیراحمد کے ناول کی زبان اور کیفیت بڑی رومانی ہیں ۔ منظرنگاری اور جزیات نگاری بھی غضب کی ہیں۔ کہیں کہیں تو کیمرے کا دھوکہ ہوجاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ شبیراحمد نے بنگال کے ترائی علاقے، دارجیلنگ کی پہاڑی اور مشرقی ہمالیہ کی وادیوں کی جیتی جاگتی زندگیوں کی ایک قاش تراش کر ہمارے سامنے رکھ دی ہو۔

٭٭٭

Khaleel Mamoon,
146/A-2, 1st Main, 4th Cross,
Bhuvaneshwari Nagar,
C.V.Raman Nagar Post, Bangalore-560093.
Mob. 9019211001

 

 

 

 

 

 

 

خلیل مامونشبیر احمدہجور آما
0 comment
3
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
قیمت – محمودہ قریشی
اگلی پوسٹ
مختلف ادوار میں ادیب کی بدلتی ہوئی سماجی حیثیت ۔ سیدہ ہما شہزادی

یہ بھی پڑھیں

ناول ’آنکھ جو سوچتی ہے‘ ایک مبسوط جائزہ...

نومبر 17, 2024

ناول ”مراۃ العُروس “ایک مطالعہ – عمیرؔ یاسرشاہین

جولائی 25, 2024

ڈاکٹر عثمان غنی رعٓد کے ناول "چراغ ساز”...

جون 2, 2024

گرگِ شب : پیش منظر کی کہی سے...

اپریل 7, 2024

حنا جمشید کے ناول ’’ہری یوپیا‘‘  کا تاریخی...

مارچ 12, 2024

طاہرہ اقبال کے ناول ” ہڑپا “ کا...

جنوری 28, 2024

انواسی :انیسویں صدی کے آخری نصف کی کہانی...

جنوری 21, 2024

مرزا اطہر بیگ کے ناولوں کا تعارفی مطالعہ...

دسمبر 10, 2023

اردو ناول: فنی ابعاد و جزئیات – امتیاز...

دسمبر 4, 2023

نئی صدی کے ناولوں میں فکری جہتیں –...

اکتوبر 16, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں