Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
ناول شناسی

موت کی کتاب :سیاہیوں کی تہہ داریاں – پروفیسر انتخاب حمید

by adbimiras فروری 14, 2021
by adbimiras فروری 14, 2021 1 comment

تمثال ناز جلوۂ صد رنگِ اعتبار

ہستی عدم ہے آئینہ گر روبرو نہ ہو

(غالبؔ)

کوئی پھول، پتہ یا پودا کتنا ہی نازک، کتنا ہی خوبصورت،حیرت انگیز کیوں نہ ہو،کسی اناڑی کی آنکھ کو وہ زیادہ دیر تک مسرت نہیں بخش سکتا۔نباتات کی رنگا رنگی سے حظ اٹھانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ مختلف پودوں کے آپسی رشتوں، ان کی خصوصیات اور ان کی انفرادیت کا کچھ علم ضرور ہو اور سب سے زیادہ علم تو مٹی کا ہونا چاہئے۔

                                    ———– ژاںژاک رُوسو

دیار اہل معنی بے نصیباں بیشترا دارد

زپیشانی خط تقدیر زائل می کنندایں جا

———– ناصر علی سر ہندی

مجھے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ "موت کی کتاب "برصغیر کے اردو فکشن میں ایک انوکھاناول ہے جس کا اپنا ایک اسلوب، اپنی زبان اوراپنے موضوعاتی سروکار ہیں۔نقطئہ نظر،بیان کنندہ/راوی،بیانیہ اورزبان کے درمیان ارتباط اس ناول کا امتیاز ہے۔اسی ارتباط کے توسط سے یہ ناول بیسویں صدی کے نصف آخر کے غالب رجحانات اورموضوعات کی توسیع ہی نہیں کرتا بلکہ متنوع موضوعات اوران کے نامیاتی لوازمات کے عین مطابق فکشن و بیانیہ کی مختلف تکنیکوں کے مرکبات کااضافہ بھی درج کرتا ہے۔دوسرا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ عہدِ رواں کے اہم ڈسکورسز کی شمولیت کے باوجود ناول کے بنیادی بیانیہ کے ارتکاز میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔اس ناول کا مجموعی تاثر ،صنفی توازن اوراختصاروایجازایک اعجاز سے کم نہیں ہے۔اس کا بیانیہ افسانے کی طرح چست اورنثر شعر کی طرح گٹھی ہوئی ہے۔حشووزوائدسے پاک جتنا شفاف بیانیہ ہے اس سے زیادہ کئی پرکاریاں اس کے متن میں پیوست ہیں۔

"موت کی کتاب ” کی ابتداء جن تمہیدی عبارات یا epigraphs سے ہوتی ہے وہ بیانیہ کے بیشتر پہلوئوں پرمحیط اورمنتج بھی ہیں۔ناصر علی سرہندی کا شعرتعذیب آگہی ، متن و معنی کے ترسیل کے المیہ اورحرماں نصیبی کا اعلامیہ ہے توبرگمین کی فلم کا مکالمہ جنسی ابتذال کا۔ژاں ژاک روسوکی عبارت قاری سے استہزائیہ انداز میں قرأت کے کچھ اہم تقاضے کرتی ہے جو”عرضِ مصنف”کے انکسار کے بالکل برعکس ہے جہاں مصنف استدعاکرتا ہے کہ متن میں جی نہ لگے تو اسے یکسرمسترد کیاجائے۔جرمن فلسفی والٹر بنجامن کے حوالہ کا مقصد آرٹ کی ایسی تھیوری کی سمت اشارہ ہے جواجتماعی ثقافت (Mass Culture)کی ادبی سیاست اورانقلابی تقاضوں کی تعمیر میں کارآمدثابت ہو سکے۔ حوزے سارا ماگو کی عبارت اس عرفان کا مظہر ہے جو جہدِ مسلسل کے بعد نصیب ہوتا ہے ۔ یہ تمام تمہیدی عبارات پیچیدہ متن میں داخلے کی راہیں ہموار کرتی ہیں ۔ بظاہر غیر مربوط یہ عبارات ناول کے موضوعاتی، ہیئتی اور لسانی اسٹرکچر اور مصنف کے تخلیقی موقف کے ساتھ ساتھ قاری سے کچھ توقعات کی سمت بھی معنی خیز اشارے فراہم کرتی ہیں ۔ "موت کی کتاب "جدیدیت اساس Complexبیانیہ ہے جس کی تعمیر ،تاثر اورتکثیریت جدید اور مابعدجدید فکشن دونوں پرحاوی ہے۔ جدید شعری اور افسانوی متن ، خصوصا ً مغرب کے حوالے سے  ، عالمانہ طرز رسائی پر اصرار کرتا ہے ۔یہ ناول بھی ایک تفکر آمیز مخاطبہ ہے جو مضطرب اورمتجسس شرکتوں کا متقاضی ہے۔اسے نہ تو یونہی سرسری طور پرپڑھا جاسکتا ہے نہ ہی تفنن طبع کی خاطر اس سے ربط استوار کیا جاسکتا ہے ۔ (یہ بھی پڑھیں نعمت خانہ:ایک منفرد بیانیہ – ڈاکٹرصدف پرویز )

” موت کی کتاب ” اپنے وقت کی واحد کتاب ہے جس پر اس قدر وسیع پیمانے پر مختلف اور متضاد آراء قائم کی گئی ہیں ۔ ان آراء میں کہیں تعریف کی گئی ہے تو کہیں منفیت اس قدر غالب ہے کہ گمان ہونے لگتا ہے گویا متن میں اثباتیت کانام و نشان نہیں۔ بیانیہ کے ظاہری تناظر اور راست تاثر کے پیش نظر اسے’ ہذیان ‘ ،  اخلاق سوزکہا گیا تو کہیں اسے اینٹی ناول قرار دیا گیا ہے۔دراصل یہ ناول کی خامی یا ناکامی نہیں بلکہ دبیز سیاہیاں تمام بیانیہ پر کچھ اس ہنر مندی سے تان دی گئی ہیں کہ کہیں ہلکی سی روشن کرن کا شائبہ تک نظر نہیں آتا۔سیاہ تہہ داریوں کی بافت میں سیاقی حقائق اور علائم و استعاروں کا نظم اس اہتمام سے کیا گیا ہے گویا یہی راست تاثر اس متن کا منشا و مقصود ہو۔

ہر بڑا فکشن نگار کسی قدر مغالطہ ساز بھی ہوتا ہے اور یہی وہ مغالطے ہیں جو متن کو ماورائیت اور پائیداری سے ہم آمیز کرتے ہیں۔ اسی لئے تفہیم و ترسیل کے موانع کے باوصف سب کچھ متن کے سرتھوپ دینا قرأت اور تنقید دونوں ہی کی صحت کے لئے مُضِر ہے ۔ اس طرح کے ناول کی قرأت کا مسئلہ دراصل قرأتوں کا مسئلہ بھی ہے ۔ ہماری بیشتر قرأتیں روایتوں اور مفروضات کے تحت ہوتی ہیں جو لسانی ‘ ساختی اور جمالیاتی ترجیحات کے تئیں اپنی قدر شناسی کے معیار مقرر کرتی ہیں ۔ اِجتماعی ذوق مطالعہ بھی اپنے ثقافتی تحرک اور مطالعہ کی سماجیات کے رہنما اصولوں سے ہوکر متن سے معاملہ کرتا ہے لیکن ” موت کی کتاب ” کی نوعیت کے متن کا مطالعہ کچھ زیادہ ہی قرأتوں کی تہذیب کا تقاضہ کرتا ہے ۔ ویسے بھی خالد جاوید کی افسانوی تخلیق ‘ اولین کہانیوں سے لے کر” نعمت خانہ ” تک اور خصوصا ً اس ناول کی قرأت گل گشت نہیں بلکہ سیاہ راتوں میں خار دار جھاڑیوں کا سفر ہے جو ہمیں لہولہان کرتا چلا جاتا ہے ۔ وہ قاری جو قدم ملا کر ان کے ساتھ نہیں چل پا تا، زندگی کی ناگریز کثافتوں سے چشم پوشی کرتا ہے، اکتاجاتا ہے ،  بِلبِلاتا ہے ، تحمل کا دامن چھوٹنے لگتا ہے ۔ اور وہ جو قرأت کا ہنر جانتا ہے اپنی بے یقینی کو معطل کرکے نہ جانے کِن کِن گلیوں اور تاریک، مکروہ و متعفن کونے کھدروں میں بھٹکتا رہتا ہے ۔ پے بہ پے صدمات سے دوچار ہوتا ہے ۔ اس کی روح زخموں سے نڈھال اور ضمیر شرمسار ہوتا ہے ۔ یہی خالد جاوید کے فکشن کا بنیادی سرو کار ہے ۔ وہ قاری کو صدمہ پہنچانا چاہتے ہیں ،  اُسے معاشرہ کے ان کثیف حقائق اور اُن رویوں کے بالمقابل کرنا چاہتے ہیں جو اخلاقی اقدار اور انسانی عظمتوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں ۔ پکاسو کا یہ خیال ان پر پوری طرح چست بیٹھتا ہے کہ” کلا کار میں جس وقت دوسروں کو سُکھ نہ دینے کا حوصلہ پیدا ہوجاتا ہے، وہی لمحہ اس کی زندگی کا حاصل بن جاتا ہے "…..

” موت کی کتاب "زندگی کے ناگذاریوں میں محبوس ایک ایسے سیاہ بخت کی کہانی ہے جو ابتدا، بلکہ پیدائش کے قبل ہی سے اذیتوں اور ذلتوں کا شکار رہا ہے ۔ اس کی زندگی کا ہر پہلو تاریک ہے ۔ یہ بے نام مرکزی کردار جو اس ناول کا راوی اور متکلم بھی ہے ،ظاہری اور معنوی دونوں ہی سطحوں پر سیاہیوں کی تجسیم ہے ۔ سکھ، شانتی اور صحت مندی جس کے لئے جنس نا یاب ہے۔ اس کا اپنا گھر اسکے نفسیاتی خلفشار کا منبع ہے ۔ ماں میراثن کی بیٹی ہے ۔ باپ جاگیردانہ نظام کاوارث اور ایک ہوس پرست آدمی ہے ۔اس لحاظ سے اس کی شادی از خود ایک المیہ ہے ۔ باپ کے ظلم اور جبر نے بچپن ہی سے اسے جنسی بے راہ روی اور بغاوت کی طرف مائل کردیا تھا ۔ نتیجتاً آتشک، جذام، وحشت ، جنون اور دوسرے نفسیاتی امراض میں مبتلا یہ شخص انسان کم اور مضحکہ خیز شبیہ یامسخی کردارزیادہ نظر آتا ہے ۔ اس کی اپنی شادی ،جسے اس کا علاج تصور کیا گیا تھا، اس کی صورت حال کو مزید ابتر کرتی چلی جاتی ہے ۔ ماں غائب ہوگئی ہے، بیوی دوسرے مرد کے خواب دیکھتی ہے ۔ باپ اور بیٹے کے درمیان اگر کوئی رشتہ ہے تو صرف نفرتوں کا ۔ یہ نفرتیں اتنی بڑھتی چلی جاتی ہیں کہ وہ اپنے باپ کو قتل کردینا چاہتا ہے ۔ ہمیشہ چاقو اپنے ساتھ رکھتا ہے ۔ زندگی کی لغویت سے تنگ آکر وہ بار بار خود کشی کرنا چاہتا ہے ۔ غلاظتیں اور جنون جب انتہا کو پہنچتے ہیں تو اسے پاگل خانہ میں شریک کردیا جاتا ہے ۔ جہاں اسے الیکٹرک شاک دیئے جاتے ہیں ۔آخر میں اسے رہا کردیا جاتا ہے لیکن ذہنی کوائف میں بظاہر کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی اختتامیہ باب کورے صفحات پر مشتمل ہے ۔ کہانی بہر حال قاری ہی کومکمل کرنا ہے ۔

مرکزی کردار کی دبی ‘ کچلی نفسیات اور اسکے مسخ شدہ کردار کا طرزِ ادراک اس بیانیہ کا ظاہری بنیادی سروکار ہے ۔ لسانی ‘ سماجی و ثقافتی انسلاکات اور سیاہیوں کے تلازمات اس کی نفسیات کی تحت الثّریٰ سے گذر کر سارے بیانیہ پر آسیبی اندھیروں کی مانند چھا جاتے ہیں ۔ یہی و ہ شیطانی سیاہیاں ہیں جو اس کردار کی نس نس میں زلزلے بپا کرتی رہتی ہیں ۔ رِستے ہوئے ناسور، پھوڑے،پھنسیا ں، بڑھتے ہوئے ناخون ،  ٹوائلٹ کی غلاظتیں اور ذلتیں اس کا روز مرہ ہیں۔ ان سب سے زیادہ ہیبت ناک اس کی شدیدحسّاسیت ہے۔ البرٹ کامیو کے  سِسی فَس کی طرح اس پر بھی زندگی عذاب کی

صورت مسلط کردی گئی ہے ۔ یہ کردار بھی ذلتوں اور اذیتوں کی چٹان ہر لمحہ ڈھوتا رہتا ہے۔

بیانیہ کی یہ نہج نفسیاتی حقیقت نگاری کی قابلِ تحسین مثال ہے۔کردار کی سائکی اوراس کی بدترین صورتِ حال کے بیان کے لیے Realistic – Naturalistic   طرز کا استعمال کچھ اس کمالِ فن سے کیا گیا ہے ، جزوی تفصیلات اوراذیت ناک  محاکات کچھ اس انداز میں بیان کیے گئے ہیں کہ  بالزاک (Balzac) اور ایمیلی زولا(Emilie Zola) کے بیانیے بے ساختہ یاد آنے لگتے ہیں۔ متن کے سیاق و سباق ، متکلّم/راوی کی لاحاصلی اوربے بسی، اس کے کلبی اورباغیانہ رویّوں اور متن کی لسانی سطح کے مابین ربط و توازن کا ازحد خیال رکھا گیا ہے۔کہیں کوئی تجاوز،تحریف یاتصنّع نظر نہیں آتا۔بیانیہ کی حقیقت نگاری کو کیمرہ کی آنکھ یاphotographic realism   بھی کہہ لیں تو مبالغہ نہیں ہوگا۔پرت درپرت راوی کے اسرار، اس کی نفسیاتی گتھیاں مزید الجھتی جاتی ہیں۔خالد جاوید کی نثر کا چکرویو قاری کو دائرہ دردائرہ بھٹکاتا رہتاہے اورقاری متن کی بھول بھلیوں سے ہوتا ہواپھر اسی نقطئہ ارتکاز،اسی مرکزی کردارکی طرف لوٹ آتاہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں یک بعدی اور closed reading کے خدشات درآتے ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں تخلیقی صلاحیتوں اورفنّی مہارتوں کواپنے جوہردکھانے ہوتے ہیں۔

کائنات اس کے نزدیک لایعنیت سے منسوب ہے۔دنیا کی سفاکیوں کے بالمقابل اپنے آپ کو بے حد ناتواں اورذلیل وخوار پاکر وہ اپنی ذات کی اتھاہ گہرائیوں میں اترتا چلاجاتا ہے۔اس تناظر میں کردار کا خودکلامیہ اس کی خارجی وداخلی کیفیات کے کربناک تاثر کی شدتوں کوقائم کرتاچلتاہے:

lجسم ایک تاریک اور پر سرار ِبل کے سوا کچھ نہیں ۔ آدمی اس میں رہتا ہے اس لئے اتنا غیر محفوظ ہے ۔ سب کچھ اس کے اندر گم ہوجاتا ہے ۔

lمیرا تمام وجود اپنے پوشیدہ ممکنات کے سا تھ کھا ل اور ہڈیوں کو توڑتا ہوا باہر آرہا ہے ۔

lمیں دراصل اپنے دل پر چبھتی ہوئی ایک سفید نکیلی ہڈی سے گھبرا کر یہاں آبیٹھا ہوں ۔ کئی دن سے ایسا ہورہا ہے ، یہ ہڈی میرے دل کے اندر پیوست ہوتی جاتی ہے اور شام سے لے کر آدھی رات تک میں اسی طرح مکان میں جگہ جگہ اکڑوں بیٹھا پھرتا ہوں ۔ کبھی ادھر زینے کی بوسیدہ سیڑھیوں پر ، کبھی کچے آنگن میں اور کبھی اپنے سونے کے کمرے میں ۔

lمیں خود کو ہڈیوں اور گو شت کا نہیں بلکہ برف کا بنا ہوا آدمی تصور کرتا ہوں، محض ایک واہمہ ،ایک مفروضہ ۔

lمیرے اندر کا بخار اپنا  بھنور بنا کر کیچڑ کودریائی وسعت عطاکرتا ہے۔میں اس کائی،کیچڑ بھرے پانی سے سن جائوں گااوروہ تمام منحوس جھاڑ جھنکاڑ  میرے سر،پیٹھ اورپیٹ سے چمٹے ہوں گے جومیری اپنی بے ہوشی اور نیند سے ہی پیدا ہوئے ہیں۔واپسی کاسفرآسان ہوگا۔

lمجھے ڈر تھا کہ کہیں میرا جسم کسی کے پیٹ میں پہنچ کر ایک دن پیٹ کے کیڑے کی طرح فضلے میں لپٹا ہواپانی کے ایک زبردست ریلے کے ساتھ گندی نالی میں نہ بہہ جائے۔

ایساکرداری بیانیہ اورایسا کردار خلق کرناجوبیک وقت اسکیزوفرینیا،پیرانوئیا،ہائپوکنڈریا،انسومنیااوردوسرے کئی موزی امراض میں مبتلاہو،جس کے ذہن و دل پرنفرتیں،غیض وغضب اورکلبیت حاوی ہو،پھران غیرمعمولی کیفیات کواس طرح قائم رکھنا کہ بعینہ بیانیہ کا فطری جزو معلوم ہو،ایک بڑا چیلنج ہے جس سے دوچارہونے کے لیے تخلیقی بصیرت کے علاوہ صنفی/ہیئتی نزاکتوں اورلسانی تفاعل کے شعورکی بھی اشد ضرورت ہوتی ہے۔یہی وہ نقطئہ ارتکاز ہے جہاں فکشن نگاروں کی گرفت لاشعوری طورپرڈھیلی پڑتی جاتی ہے۔غیرضروری یا ثانوی قسم کی تفصیلات در آتی ہیں جو متن کے شدتِ تاثر اوربیانیہ کی روانی پراثر اندازہوتی ہیں۔پلاٹ ڈھیلاپڑنے لگتا ہے اورناول میں غیرضروری صفحات کااضافہ ہوتا چلاجاتاہے،قاری کی توجہ مرکوزنہیں رہ پاتی۔”مو ت کی کتاب”کی طرح کے منفیت آمیزکردارکوخلق کرنے اوربیانیہ کی مرکزیت کوقائم رکھنے میں کئی طرح کے خطرات لاحق ہیں۔

صدیق عالم نے ناول کے بنیادی تشکیلی عناصر کے توسط سے” موت کی کتاب” کا پُر مغز تجزیہ کیا ہے لیکن وہ ناول کی ایک کمزوری سے بہت "ڈسٹربڈ ” ہیں کہ”کتاب میں مرکزی کردار اپنی زندگی جی نہیں پاتا جب کہ اس نے مصنف سے بغاوت کرنی چاہئے تھی ۔” بات اپنی جگہ درست ہے کہ کردار اپنی روش پر نہ چلے،اس کے عمل اورردّعمل عین اس کی شخصیت کے مطابق نہ ہوں تووہ مصنف کے تصورات کا مقلد اس کا مائوتھ پیس (mouth piece) کہلاتا ہے۔ مگر یہاں معاملہ قدرے مختلف ہے ۔ یہاں معاملہ دراصل یہ ہے کہ کردار واقعتا اپنی زندگی جی نہیں پاتا ۔ اگر وہ اپنی زندگی جینے میں کامیاب ہوجاتا تو ناول کے معنوی امکانات کی راہیں مسدود ہوجاتیں ۔ اور یہی ناکامی اس کے مبازرت طلب رویّے ،غیض وغضب اورنفسیاتی خلفشار کا موجب بھی ہے۔اسی کتاب میں خالدجاوید نے بالتّاکید یہ بات دہرائی ہے کہ وہ فن اورفنکار میں دوئی یاافتراق کے قائل نہیں ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ،”آدمی کو آلۂ موسیقی کا استعمال تب ہی کرنا چاہئے جب وہ خود ایک راگ میں تبدیل ہو جائے۔”یہاں اس کردار کا المیہ یہی ہے کہ وہ بہت حساس واقع ہوا ہے۔اس کی آگاہیاں اس کے لیے سوہانِ روح ہیں۔اس کی بغاوت اس کی نفرتوں ، عیاریوں ، اس کے جنسی رویوں ، سماج اور انسان کے تئیں اس کے غم و غصہ کی شدتوں میں اپنی منطق کے ساتھ واضح طور پر نظر آتی ہے ۔ مگر وہ کرب و بلا کے طوفان میں بے بس و لا چار بہتا چلا جاتا ہے ۔ اُسے نہ تو اپنی زندگی پر کوئی اختیار ہے نہ لامتنا ہی اذیتوں سے فرار ممکن ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے گویا اس کی ذات و حیات پر فلسفہ جبر کا تسلط ہو، کسی سادیت پسند نقاش نے اس کے خطوط متعین کردیئے ہوں:

یہ سزائے موت ہے جس کا اندراج کتاب میں کئی جنم پہلے ہوچکا تھا ۔موت کی کتاب میں خردبین کے ذریعہ میرا نام اب پڑھ لیا گیا ہے ۔ یہ نام کرموں کے ان لگا تار بہتے ہوئے سنسکاروں نے گڑھا ہے جن پر خود میرا کوئی اختیار نہ تھا ۔ میرے سارے اعمال اور سارے گناہ میرے جنم لینے سے پہلے ہی میرے تعاقب میں تھے ۔

سنسکار، ان کا گڑھا جانا ، خود کا اختیار نہ ہونا، اعمال اور گناہوں کا تعاقب میں ہونا عصر مرکوز ثقافتی بیانیے ہیں جو نہ صرف کردار بلکہ روح عصر پر بھی فرد جرم عائد کرتے ہیں ۔ ” موت کی کتاب” میں متعدد بیانات اسی طرز کے ہیں ۔ اذیتیں تو اس کا مقدر اس وقت سے ہیں جب وہ حمل کی شکل میں تھا ۔ اپنی اس پاکیزہ زندگی کا آٹھواں مہینہ بھی مکمل نہ کرپا یا تھا کہ باپ کے اس کی ماں کے ساتھ بالجبر مباشرت نے اس کے سر پر شدید چوٹ پہنچائی، گو یا آسودگیوں کا خون بہا ۔ مادئہ منویہ کاتعفن اور غلاظتیں اس کے ننھے سے وجود میں حل ہوکر رہ گئیں تھیں۔ روز مرہ کی اذیتوں اور غلاظتوں سے تنگ آکر وہ اپنی ماں کے رحم میں واپس جانا چاہتا ہے تاکہ وہاں اسے پاکیزگی اور سکون میسر آسکے ۔اورفروئڈ کے بیس(۲۰)سالہ رفیقِ کار

Otto Rankکا نفسیاتی فلسفہ راوی کی اس خواہش کی تصدیق کرتا ہے ۔

"موت کی کتاب "کی توانائی اوراس کا استدلال بین السطور میں ہے۔بیان سے زیادہ وقفوں اورخموشیوں میں ہے، ظاہر سے زیادہ اس کے ماخذ میں ہے اورحاضر وموجود سے زیادہ کہیں غیاب یاقطعی طورپرنہ ہونے یاپھر فقدان کے مکاشفہ میں ہے جو شر کی فراوانی اورخیر کی پسپائی کا اعلامیہ بھی ہے۔ "موت کی کتاب”صرف مرکزی کردار کا المیہ نہیں ہے بلکہ اپنے وسیع مفہوم میں یہ ایک عصر معکوس بیانیہ ہے کیوں کہ شخصیت اپنے عصرکی زائدہ اورپروردہ ہوتی ہے۔فردومعاشرہ نہ صرف ایک دوسرے کی تشکیل و تعمیربلکہ ایک دوسرے کی تخریب میں بھی کلیدی کردار اداکرتے ہیں۔اسی لیے میرے نزدیک بے نام مرکزی کردار کے علاوہ ایک اورکردار ہے جومرکزی کردار سے کم اہمیت کا حامل نہیں، اوروہ ہے معاشرہ، عصری پس منظر۔یہ پس منظر کثافت آمیز گہری سیاہ دھند میں ڈوبا ہواغائب پس منظر ہے جوجادوئی حقیقت نگاری کے توسط سے بارباراپنے ہونے کی دلیلیں فراہم کرتا ہے۔

بیشتر مغربی مفکرین اور ماہرین سماجیات و نفسیات جن میں ایرک فرام ، آر-ڈی-لینگ بھی شامل ہیں ، فرد و معاشرہ کے مابین رشتہ کی سریت پر بے شمار مضامین اور کتابیں لکھ چکے ہیں ۔ کسی نے معاشرہ کو جبر و قہر کی علامت قرار دیا تو کسی نے اجنبیت ، بے رشتگی اور تنہائی سے تعبیر کیا، تو کسی نے’ تنہا بھیٖڑ ‘سے۔ اسے حواس باختہ معاشرہ بھی ٹہرا یا گیا ۔ لیکن بیشتر دانشورمعاشرہ کو ” پاگل خانہ ” کے مماثل قرار دیتے ہیں ۔ اسی لئے جنون یا پاگل پن ہی اس طرح کی ایبسرڈ(Absurd) صورتِ حال کا فطری نتیجہ ہوسکتا ہے ۔ آر-ڈی-لینگ کہتا ہے کہ پاگل پن ہی پاگل معاشرہ سے منطقی ارتباط ہوسکتا ہے ۔ مشہور جاپانی فلم ڈائریکٹر اکیرا کروساوا کہتا ہے کہ پاگل دنیا میں صرف پاگل ہی سیا نے ہوتے ہیں۔کرشنا مورتی کا خیال ہے کہ اپنے آپ کو پاگل دنیا کے ساتھ ایڈجسٹ کرلینا صحت مندی کی علامت نہیں ہے ۔ ایسی صورت میں پاگل پن یا جنون کا بقائے وجود کے لئے ایک کارگر ذریعہ ہونا یا ایک طریقہ مدافعت یاپھرطرزتحفظ (defense mechanism) ہونا بھی خالی از امکان نہیں ۔ جیسے شیکسپیئر کے ڈرامے  ”  ہملیٹـ ” کیزبانسےاداکردہشدتسےمعمورالفاظکچھاسیطرحکےتصورکےمظہرہیں۔

یوں تو دنیا میں مجھ پربڑ ے برے وقت آئے ہیں ۔ عجیب قسم کی ذلتو ں کا سامنا کرنا پڑا ہے مگر میں سب کچھ چکنا گھڑا بن کر جھیل گیا ، دنیا جگہ ہی ایسی ہے ۔

میں خود کو اور اپنے جسم کو سب کی نظروں سے چھپانا چاہتا تھا ۔ میں اپنی بڑھتی ہوئی ڈاڑھی سے نہ صرف اپنے چہرے بلکہ پورے بدن کو ڈھک دیناچاہتا تھا ….. اس لئے میںنے اپنے ناتواں جسم کو غلیظ ڈاڑھی ،میل، غلاظت اور بدبو کے اندر احتیاط کے ساتھ چھپا کر رکھ دیا ہے ۔

مغرب میں مابعد جدید فکشن کی ایسی طویل فہرست ہے جس میں hipster  ،  psychopath  اور نفسیاتی مریض مرکزی کردار ہیں ۔ یہ سبھی مردم بیزار ہیں، اپنے معاشر ہ کے جبر سے آزادی کے لئے بغاوت کرتے ہیں ،ان تمام اصول و ضوابط کی نفی کرتے ہیں جو بظاہر انسانی آزادی  اور صحت مند معاشرہ کے ضامن ہیں لیکن در حقیقت انسانی زندگی پر قد غن لگاتے ہیں ۔و ہ بیزار ہیں ریاکارانہ رفاقتوں کے عذاب سے ،کذب و ریا اور بے تعلقی سے، صارفیت کے غلبہ اورسرمایہ دارانہ سازشوں سے، لغویت،بے ضمیری اوربے خدائی سے۔جو سیف ہیلر کی ناول Catch 22  کا مرکزی کردار مقتدرانہ نظام سے اپنے تحفظ کے لیے پاگل پن کا سوانگ رچاتا ہے،  سڑکوں پر برہنہ گھومتا ہے۔

لغویت(Absurdity)”موت کی کتاب”کی زیریں سطح پر ایک متوازی متن(parellel text)ہے اورایک مؤثر افسانوی طرزِ بیان بھی ہے جو "موت کی کتاب”کے متنی مزاج سے مطابقت رکھتا ہے:

میں اناڑی پن کے ساتھ ایک انجان زبان کی فلم کے مکالموں میں تال میل بٹھانے کی ناکام کوشش کرتا رہااس لیے میرا بیڑا غرق ہوا اورسب کچھ گڈمڈ ہوگیا…..سب کچھ اسی طرح ہوا۔غم، خوشی ، غصہ،  انتقام  ،محبت نفرت، نشہ،بیماری،پسینہ اورپاگل پن۔ سب آگے پیچھے ہو گئے۔سارا تھیٹر لایعنی تھیٹر میں تبدیل ہو گیا۔میں افسوس اورملال کے ساتھ سوچتا ہوں آخر میرے ساتھ ایسا کیوں نہیں ہوا جوعام انسانوں کے ساتھ ہوتا ہے۔

میں خلامیں چاقو سے لکیریں بناتاہوں۔میں اپنے باپ کو قتل کردینا چاہتا ہوں۔ میں اپنے باپ کا خون اپنے چہرے پر ملنا چاہتا ہوں۔ یہ سب کیا ہے؟کوئی کامیڈی؟ یا کوئی المیہ۔یاشاید دونوں؟مگر اس کاہیروکون ہے،میں تونہیں ہوں اگرچہ اس ڈرامہ کا اسکرپٹ میں نے ہی لکھا ہے،مگر میں تو ایک براکردار بن کر بھی اسٹیج پر آنے سے معذور ہوں۔میں ایک مایوس کن پرچھائیں ہوں۔یہ انسانی پرچھائیں نہیں، یہ کسی شئے کی پرچھائیں بھی نہیں…..یہ ہوامیں جھولتی ہوئی ایک گندی گالی کی پرچھائیں ہے۔ کمزور، شرمساراورٹھوکرکھاتی ہوئی لڑھکتی ہوئی چیخ کبھی کسی المیے کے لیے لکھے گئے سنگیت سے ربط نہیں رکھتی۔اس کا کوئی آہنگ، کوئی سُر نہیں ہوتا۔وہ صرف پیٹ کے کیڑے کی دبی دبی اورناقابل ِشناخت آواز ہے۔  یہ وہ چیخ ہے جو اس ٹریجڈی کوکامیڈی میں تبدیل کردیتی ہے۔ اس لیے المیے کا عظیم اوراخلاقی اسٹیج اسے حقارت سے ٹھوکرمارکر وہاں سے نکل جانے کا حکم صادر کرتا ہے۔پردہ گرتاہے، پھراٹھتا ہے…..تھیٹر جاری ہے۔مایوس کن چیخ اپنے حصے کی ایک تالی بھی نہیں حاصل کرپاتی۔ تب یہ چیخ روتی ہے،پھر ہنستی ہے اورپھر پاگل ہوجاتی ہے۔وہ اسی پاگل غلیظ ہوا کی طرف گھسٹنے لگتی ہے جس سے وہ بنی تھی۔ اُدھر اندھیرے میں بیٹھی ہوئی۔ اِدھر تھیٹر چلتا رہتا ہے۔

صرف ایبسرڈ موڈز(absurd modes)ہی نہیں بلکہ جدید اورمابعد جدیدفکشن نگاری کے مختلف perceptions، طرز ہائے تحریر وتفہیم اس فنی مہارت سے جڑدیے گئے ہیں کہ فی نفسـہ”ِموت کی کتاب ” کافطری جزومعلوم ہوتےہیں۔متن اورماحول کی پراسرارفضاءاورہولناکیوں کو قائم کرنے اور برقرار رکھنے کے لیے  horror fiction کی تکنیک اس خوبی سے استعمال کی گئی ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے گویاہم کوئی ہولناک فکشن پڑھ رہے ہوں۔ایڈگرایلن پواورجان ہاکس کے ناول نظروں میں گھوم جاتے ہیں۔دادائی اورسریالسٹ طرزِ فکرونظر کئی مقامات پرماورائیت اورمابعدالطبیعاتی سرّیت کوتیزترکرتا ہے۔ناول کی ابتدا ہی اس ہولناک بیان سے ہوتی ہے:

ایسی راتیں بہت کم آتی ہیں۔ پندرہ بیس سال میں شاید ایک بار۔آج کی رات بھی ایسی ہی ہے۔ جب چاندسے زمین کی دوری کم ہوجاتی ہے اوراس کی چمک میں بھی اضافہ ہوجاتاہے۔میں گھبراکر، یہاں اندروالے کمرے میں اکڑوں بیٹھا ہواہوں۔چاند کی یہ حالت تقریباً چار گھنٹے رہے گی اور یہ وقت دنیا پر بھاری ہوگا۔تباہ کُن طوفان اورزلزلے آنے کے اندیشے اورامکانات ہیں۔تمام گھروں میں سنّاٹاہے۔گلی میں بھی کسی کے قدموں کی چاپ سنائی نہیں دیتی۔سب خوفزدہ ہیں۔اوراپنی اپنی عبادت میں مشغول ہیں۔یوں بھی چاند کی روشنی کے مضر اثرات سے کون واقف نہیں۔ گھبراہٹ، خون کا دباؤ بڑھ جانااورخود کو ہلاک کرنے کی شدیدخواہش۔ اس کمرے کی عقبی دیوار میں ایک روشندان ہے جس سے آج کی رات کے خوفناک چاند کاایک کونہ جھانک  رہاہے۔روشندان کے فریم پر ایک گرگٹ کی لمبی دم چپکی ہوئی ہے۔وہاں ایک سوکھا کنوں ہے جس میں لوگ کوڑاکرکٹ اورلاوارث کتے، بلیوںکی لاشوں کو ڈالتے  ہیں۔کیا آج کی رات کا یہ غصّہ ورچانداس سوکھے ہوئے کنویں کے مردہ سوتے کودوبارہ زندہ کرے گا….تاریک کنویں کومدوجذر سے آشنا کرے گا؟

اسی طرح ناول کے ہر ورق(باب)سے پہلے پینسل سے بنائے گئے اسکیچزمتن کی سریت آمیزمقصدیت کواستناد فراہم کرتے ہیں”موت کی کتاب” میں باختن اورکارنیول کا برسبیل تذکرہ ذکرکیاگیا ہے۔کہیں کوئی تفصیلی گفتگو نہیں ملتی ۔یہ پرکار طرزِ بیان معاصر فکشن نگاروں میں خالد جاوید ہی کا حصہ ہے۔باختن اورکارنیول کاذکراس متن کی مابعد جدید،ساختی اور آئیڈیالوجیکل جہات کی سمت ایک بلیغ اشارہ ہے کیونکہ اس ناول میں اذیتوں کے میلے ہیں،رستے ہوئے زخموں کے چراغاں ہیں، خوف و دہشت کے کثیرالصوت قہقہے ہیں آدھی ادھوری سچائیوں کی ہیبت ناک بزم آرائیاں ہیں۔ کثافتوں کے جشن ہیں:

وہ خواب دراصل فحاشی کوایک ساتھ دھن یا شوک گیت کی طرح گاتے تھے….میرے جسم ….کے خون کے اندرایک محفل سجتی تھی۔ایک گندی اوررکیک گالی جھوم جھوم کر وقالی کابہروپ بھرتی تھی۔پاکیزگی کو نجاست سے ،باکرہ کوفاحشہ سے اورآنکھ کوناف سے وہاں الگ نہیں کیاجاسکتا تھا۔وہ خواب مکمل طورپر جمہوری تھے…..آہستہ آہستہ میں بے نام اندیشوں کی ایک ناقابلِ تشریح زنجیر  سے بندھتا چلاگیا۔

موت کی کتاب کا ایک اور اہم مابعدجدیدپہلو حقیقت اورفکشن(Fact and Fiction) اورجادوئی حقیقت نگاری کاامتزاج ہے۔خالد جاوید ناول کی ابتداسے قبل "مقدمہ”ہی سے ترسیل کی راہیں ہموارکرتے ہوئے چلتے ہیں۔وہ کتاب اور اس کے ترجمے اور مقاصد کاذکرکرتے ہیں۔  ناول کے پیش و پس منظر کی تعمیر میں فنطاسیہ اوررابرٹ شولز کی اصطلاح میںfabulation   /farbricationکے توسط سے ایسا تناظر ترتیب دیتے ہیںجو اس ناقابلِ یقین متن کوقابلِ یقین شکل عطاکرتا ہے۔گرگٹ تل ماس،کھنڈرات،شہر کا غرقاب ہونا،دوبارہ ابھرنا، دوسوسال بعد کتاب کا صحیح وسالم دستیاب ہونا ایسے ناقابلِ یقین گھڑے ہوئے جھوٹ ہیں جن پر سچ کایقین ہونے لگتا ہے۔یہیں سرسری طورپرپاگل خانہ کاذکر بھی کیا گیا ہے جواس متن کی معنویت کامعنی خیز استعارہ ہے۔

جنسیتsex) (موت کی کتاب ” کا اہم ترین مخاطبہ ہے اسے راوی کے ہیجان و انتشار سے اس طرح آمیز کیا گیا ہے کہ قاری کو احساس نہیں ہوتا کہ وہ ایسے موضوع سے متعلق مباحث سے دوچار ہے جو کائناتی حقیقت(universal truth)کی مانند ساری دنیا میں لکھے جانے والے فکشن پر آسمان کی طرح چھا ئے ہوئے ہیں ۔یہ مباحث تانیثی فکشن میں تو شدید رویوں کی شکل میں نموپذیر ہوئے ہیں لیکن "موت کی کتاب”میں یہ مخاطبہ متن کی خلقی ضرورت کے تحت رونما ہوا ہے۔ ظاہر ہے سیکس کے پہلو کے بغیر کردار کی شبیہہ ادھوری رہ جاتی ۔ بیانیہ کے اس نہج پر مصنف کے دو طریقہ ہائے کارقابل ذکر ہیں ۔ ایک تو یہ کہ وہ متنی سیاق سے تجاوز نہیں کرتا اور دوسرے یہ کہ ناول کے صنفی خطوط، اس کے لسانی اسٹرکچر کو مجروح کئے بغیر اس ڈسکورس کا محاسبہ کرتا ہے جو کردار کی مجموعی شخصیت ، اپنے اطراف و اکناف سے اس کی واقفیت اور اس کے ادراکات کے عین مطابق ہے ۔”موت کی کتاب”صرف چند سطورمیں اس ڈسکورس کامحاسبہ کرتی ہے۔ویسے توصنفِ نازک پرجبر وقہر کے بیانات کئی جگہ ہیں لیکن مذکورہ ناول کے بیانیہ کے کچھ حصے اس بحث کو فکشنلائزکرتے ہیںجن میں مخاطبہ کے دونوں پہلوؤں کااحاطہ کیا گیا ہے:

میں نے گدلے پانی کے پوکھرمیں جھک کر ابھی اپنا چہرہ دیکھا ہے۔یہ ایک ببر شیرکاچہرہ ہے۔مجھے مباشرت کی شدید خواہش ہوئی ہے۔میں کسی شیرنی سے مباشرت کرناچاہتاہوں۔میری بیوی اورآس پاس کی عورتیں مجھے حقیرچوہیوں کی مانندزمین پررینگتی ہوئی نظر آتی ہیں۔میں ان ساری عورتوں کواپنے وزنی پائوں کے نیچے دیر تک دبانے کے بعد مار دینا چاہتا ہوں،پھر ان کی چٹیوں کو ان کی دموں کی طرح پکڑ کر نالی میں دورپھینک دینا چاہتاہوں۔میرے پیٹ میں برہماراکشس آکر بیٹھ گیا ہے۔میری بھوک اب ختم نہیں ہوتی….

درج ذیل اقتباسات میں مرد کی جسمانی توانائی ،جنسی قوت کے بھرم اور اس کی کھوکھلی انا پر کڑی ضرب لگائی گئی ہے:

بے چارے مرد کا جسم ، اس کا سینہ،اس کا دل اس کے پھیپھڑے اور اس کی کمر کی گریاں سب ایک جان لیوا محنت میں لگ کر اس دہشت سے لڑتے تھے …. جب مرد اس طاقت کامظاہرہ کرتا جو اس کے اندرکبھی تھی ہی نہیں ۔ یہ ایک خطرناک تضاد کا منظر ہے…. اپنے پھیپھڑوں اور گردوں کو تقریبا ً پھٹ جانے اور اپنی ریڑھ کی ہڈی کو توڑ بیٹھنے کے قریب لے جاتے ہوئے …. وہ موت کے انتہائی قریب آجاتا ہے ۔ کیا کوئی ایسے مرتے ہوئے آدمی کا چہرہ دیکھ سکا ہے ۔

تمہارے اور اس کے درمیان ایک کالی لکیر کھینچ جاتی ہے ۔ تم بے بسی سے اُسے اس لکیر کے دوسرے طرف کھڑی دیکھتے ہو ۔ یہ ایک بھیانک طاقت ہے، سب کچھ تباہ کردینے کے درپے…. تمہارے دل کا اندھیرا نکل کر دیواروں پر چلا آتا ہے ۔ تم کسی درخت کی مانند خاموش ،اداس ، ایک نا قابل یقین کالی رات میں اپنی ہی ہوامیں جھولتے رہ جاتے ہو ۔ یہ ایک ذلیل ہوا ہے جس سے خود کو بچانے کی کوشش میں تم اور بھی زیادہ خوار ہوئے جاتے ہو ۔

آئرنی اس ڈسکورس کاایک اہم وصف ہے۔درج ذیل اقتباس میں تناسلی فوقیت کی نفی اورجنس کے مابعدالطبیعاتی تلازمات قابلِ توجہ ہیں۔متن کی مخصوص تلفیظ ملاحظہ کیجئے۔

اب میں نے اپنے اندر ایک عظیم نامرد کے وجود کومنکشف کیاہے۔ایستادہ عضو تناسل مجھے بے حد چھچھورا،  پرتشدداورلمحاتی اقتداروالا ایک حکمراں نظر آنے لگا، اس حکمراں کو ایسی بصیرت کی ضرورت تھی جس کے بعد اسے ایک بیراگی فقیربن کراپنے وجود کے تاریخ غار میں چلے جاناچاہئے تھا۔ او ر انجام رسیدہ عورت کا اندام نہانی میری دیکھی ہوئی اشیا میں سے شاید سب سے اداس شئے تھی۔پیڑ سے گری ہوئی ایک سوکھی زرد پتی۔میں اس سوکھی پتی کودیکھ کر چپکے چپکے رونا شروع کردیتا۔جنسی عمل اب میرے لیے ایک براحادثہ بن گیا تھا۔

یہاں مسئلہ خالص ہوس، جنسی آسودگی یا اس کو منتج جسمانی و ذہنی اضطراب کا نہیں ہے بلکہ جنس کی مقصدیت کے تعین کا ہے۔ راوی کی بیوی سے لپٹ کر سونے کی شدیدخواہش بھی جبلت کی تسکین نہیں بلکہ شدیداحساسِ تنہائی اوران اذیت ناک ادراکات کے تحت ہے جو اس کی راتوں کوہیبت ناک بناتے ہیں۔ بیوی کاجسم جنسیت کی تسکین کاوسیلہ نہیں ،ایک پناہ گاہ ہے۔ یہ عمل صرف جسمانی عمل نہیں ہے ۔ ماہرین نفسیات و سماجیات اسے انسانی خصلتوں اور زندگی کے تئیں مختلف رویوں کا مظہر قرار دیتے ہیں ۔ جرمن ماہر نفسیات و سماجیات و لہلیم رائخ اسے توانائی کا سرچشمہ قرار دیتا ہے ۔ دنیا کے بہترین فکشن نگاروں نے سکیس کے متعددد ابعاد کی تصویر کشی کی ہے جن میں ہمینگوے ‘ ڈی ایچ لارنس اور جان اپڈائک کے نام خاص اہمیت کے حامل ہیں جنہوں نے اسے کہیں خالص جسمانی ہوس بیز عمل توکہیں اسے جاں بخش اور روح افزا عمل قرار دیاہے ۔ ہوس بیز عمل ” موت کی کتاب ” میں مذمتی انداز میں رقم کیا گیا ہے ۔ حشرات الارض اور جانوروں کے استعارے تحقیر و تضحیک آمیز موقف کی دلالت کرتے ہیں :

میں نے کہیں کوئی کام سیدھا نہیں کیا ۔ کتوں اور سانپوں کی زبان میں ذائقے نہیں خلیے ہوتے ہیں ۔ میں کتا تھا یا سانپ مجھے کسی ذائقے کی فورا ً ہی تمیز نہیں ہوتی تھی ۔ میں صرف بدنیتی کے ایک پوکھر میں کود تا یا رینگتا پھر رہا تھا ۔

(الف ) کئی عورتوں کے ساتھ ( جن میں میری بیوی اور وہ زرد ہاتھوں والی لڑکی بھی شامل ہے ) جنسی ملاپ کرنے کے بعد مجھے پوری طرح یہ علم ہوگیا تھا کہ جسم تو واقعی ایک قسم کا بلیک ہول تھا ۔ محبت ہی کیا ‘ قربانی ‘ ہمدردی ‘ تکلیف اور بیماری سب اس کے پاس آکر اسی کے ہوجاتے ہیں۔ اس کی کشش ثقل سے کوئی نہ جیت سکتا تھا ۔

(ب) اور روح وہ بے چاری روح جس کا محاورہ محبت اور روشنی کے حرف و نحو سے لکھا گیا تھا ،وہ تو جسم کے اندر نظر انداز کئے جانے والے کرایہ دار کی مانند ہکلا ہکلاکر اپنے حصہ کی توجہ طلب کرتی رہ گئی پھر باقی گیارہ جاتا تھا ؟

راوی اپنے خو د کلامیہ بیانات میں ،اپنی مخصو ص کیفیات میں، سیکس کے متعلق مختلف النوع خیالات اور تاثرات درج کرتاچلتا ہے لیکن یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ انہیں فحش نگاری نہیں کہا جاسکتا ۔ فحش نگاری کو لارنس ناول کے منھ پر کیچڑ پوتنے کے مترادف سمجھتا ہے ۔ فحش نگاری دراصل ترغیبات جنسی اور خالص لذت کوشی سے منسوب ہوتی ہے جبکہ” موت کی کتاب "میں سیکس کا کہیں کوئی  celebrationکوئی جشن نظر نہیں آتا۔اس کے برعکس جسم کو” بلیک ہول ” سے تعبیر کیا گیا ہے ۔بیانیہ سیکس ، گناہ اور روح کی ایک مثلث قائم کرتا ہے جس کاہر ایک زاویہ دوسرے میں پیوست، اورراست متناسب ہے۔ تناسب سے تجاوز یا غیرمتناسبیت متکلم کی وحشت کی شکل میں رونما ہوتی ہے۔ وہ اپنے آپ کو انسان کے ازلی گناہ میں ملوث دیکھتا ہے ، وہ دنیا کی بے جہتی اور بے حسی اور لغویت پر آنسوبہانا چاہتا ہے ۔ مگر اس کی آنکھ کو آنسو نہیں ملتا ۔ قطروں کی شکل میں بے نمک ،آ نسو، قابل رحم اور خالی دنیا کی حالت زار کے بالمقابل بہت چھوٹے ہیں ۔ تزکیہ و تطہیر کے لئے قدآدم آنسو درکار ہے جسے وہ اپنی پُتلیوں میں سمو لینے سے معذور ہے ۔ ‘  قدِ آدم ‘آنسو کابلیغ استعارہ غالب ؔو میر ؔ کے”شعر شور انگیز” کی شدتوں کے حوالے کی طرف ہماری توجہ مبذول کرتا ہے۔ اسی تسلسل میں بیانیہ خدا ، شیطان ،گناہ، سزائوں ، ذلتوں اور روح کے بیانات کو کچھ اس طرح ہم آہنگ کرتا ہے کہ متن کے تہہ نشین امکانات پرمعر کہ ٔ  خیر و شر کا گمان ہونے لگتا ہے :

l میرے ساتھ ایک ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ میرے سارے گناہ ان پھلوں کی طرح تھے جن کی گٹھلیاں ہوتی ہیں ۔ ان پھلوں کو کھا کر آپ ان کی گٹھلیوں کو گِن سکتے ہیں ۔ وہ پڑی رہتی ہیں ۔ آپ کے سامنے ، رکابی میں ، اخبار پر یا فرش پر ۔ چوسی ہوئی ، بد نما اور کریہہ گٹھلیاں جو آپ کے منہ کے تھوک اور رال میں لپٹ کر مضحکہ خیز انداز میں ادھر سے ادھر لڑھکتی پھرتی ہیں ۔ آخر کیوں میرے حصے میںا یسے محفوظ اور بھرپور گناہ نہ آسکے جو صرف گود نے دار پھلوں کی طرح ہوتے ہیں ۔

lاور اس کے بعد خود کو روح کی تنگ اور پیچ دار گلیوں میں ‘ کالے پانی والی نالیوں میں اوندھے منہ گرا ہوا دیکھتا ہوں ہمیشہ سے یہی ہوتا آیا ہے ۔

lبے چارہ جسم روح کے آگے طشتری میں رکھ کر اپنا خون بھرا کلیجہ پیش کرتا ہے مگر روح کی ہوس نہیں مٹتی ۔ وہ مذہب میں پناہ ڈھونڈتی ہے ۔ ناشکری کہیں کی ۔

lٹھنڈے پیسنے : اگرچہ یہ مجھے باطنی طور پر مالا مال کرتے گئے ۔ یہ مجھے گیان اور درشن ہی نہیں دیتے تھے بلکہ ایک سخت گیر گرو کی طرح مجھے میرے گناہ کی سزا بھی دیتے تھے ۔ میرے گناہ اندر اور باہر ہر طرف تھے ۔ گناہ میرے جسم کے مساموں میں پیسنے سے لت پت تھے اور میں جس پر بیٹھا تھا وہ بھی گناہوں کی سوکھی لکڑیوں کا ایک گٹھر تھا ۔

lمیں دیکھ رہا ہوں کہ میرے گناہوں کی بوریاں اندر سے سفید ہیں۔مگر کوئی انہیں کھر درے فرش پر گھسیٹ رہا ہے تو ان سے خون کی ایک لکیر رِستی جاتی ہے ۔ فرش گندا اور گیلا ہورہا ہے ۔ دل کی رگوں میں نکلا ہوا مواد بھرا ایک دانہ ، کچالہو۔ گناہوں کی سفید بوریوں کو کون فرش پر گھیسٹ رہا ہے ؟…. اندھیرا تھوڑا اور گہرا ہوتا ہوا ہے۔ اس نے مجھے اطلاع دی ۔ میں خوش رہنا چاہتا ہوں ، بہت خوش رہنا چاہتا تھا۔میں نے اپنی بنجر ،اجاڑ اور عدم میں رہنے والی روح میں جسم کے نام، رو پ، جسم کے بیج اسی لئے ڈالے تھے مگر کوئی روح خوشی اور مسرت کی بھیانک تھکان کو برداشت کرسکی ہے ؟خوشی جو محبت کرنے اور پانے سے ملتی تھی اور مسرت جو نجات کے راستے پر چلنے سے حاصل ہوئی تھی۔ افسوس کہ محبت اورنجات کے راستے ہی تو ہیں جو دکھ میں ڈالتے ہیں۔ محبت جوشہوت کامزہ بھی لینے نہیں دیتی ،جو جسم حاصل کرتے وقت روح کو افسردہ کرکے رکھ دیتی ہے۔نجات کے، مکتی کے ،بلکہ سارے راستے کتنے الٹے پلٹے ہیں۔وہ ادھر کو نہیں جاتے جدھر کی تیر نما نشان بناہوا نظر آتا ہے۔جسم و روح ‘ ثواب و گناہ اور خیر و شر کے جدلیاتی بیانات کے درو انیے میں بھی روای محبت کے تقدس اور اس کے نجات سے انسلاکات کے امکان کوقائم رکھتا ہے :

l میرا سب سے بڑا جرم تو یہ تھا کہ میں نے محبت کو ہمیشہ گناہ کی طرح تلفظ کرکے پکارا ۔ میرے دل کی کرچیاں گناہ کی روشن لکیر پر چیونٹیوں کی مانند چپک گئی ہیں ۔ دکھی دل گناہ چاٹ کر کھا رہا ہے جیسے دیمک مکان کو کھا جاتی ہے اور خونی پیچش آنتوں کو ۔ میں نے اپنی محبت کو گناہوں کی طرح بزدلی سے چھپا کر الگ رکھ دیا توکیا برا کیا ؟ وہ الگ ایک چٹان جس پر پھپھوند نہیں جمے گی ۔ وہ برف کا ایک سفید تودا ، ایک عظیم اور پاک و صاف گلیشیئر ۔ مگر افسوس کارٹون تو محبت اور نیکیوں کے بھی بنتے ہیں ۔ یہ نام نہاد اور ذی ہوش دنیا کا رٹون کی شکل ہی میں ہر صورت کو پہچانتی ہے ۔ محبتیں کارٹون بن کر گناہو ںکی صورت میں نظر آتی ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ ہولناک، اس لئے محبت کو سنبھال کر رکھنا ہوگا ۔ ہر کمینی  فلش لائٹ سے بچ کر رہنا ہوگا ۔

” موت کی کتاب ” کا اعترافی طرزِ بیان احساس گناہ اور راہ ِ نجات کی تلاش کے رنگوں کو مزید گہرا کرتا ہے ۔ اپنے عہد کی سفاکی اور سفلہ پروری اور اپنی ذات کی تاریکیوں کا عرفان اُسے یونہی حاصل نہیں ہوتا ۔ وہ نہ صوفی ہے نہ سنت ۔ یہ عرفان اُسے اپنے عہد کے جہنم میں جل کر، اپنی ذات کی اتھاہ تاریکیوں میں بھٹک بھٹک کر حاصل ہوتا ہے ،اس کی ہڈیاں توڑ کر برآمد ہوتا ہے ۔ تب ہی تو وہ خدا کو نیند آنے ، شیطان کے ساتھ ٹھٹھا کرنے اور موت کی کتاب اس کے حوالے کرنے کی معنوی گہرائیوں سے آگاہ ہوتا ہے اور یہی آگہی اس کے لئے عذاب ہے ۔” پاگل خانہ ’’میں الیکٹرک شاک کے بعد اُس پر حیات و کائنات کے کئی راز منکشف ہوتے ہیں۔ یہ اس کے لئے "درس گاہ ہے ” جہاں کے طالب علم” سب سے ہوش مند” انسان ہیں :

اسی درس گاہ نے مجھ پر یہ اسرار عیاں کیا ہے کہ خدا اور شیطان موت کی کتاب پر جھکے ہوئے آخر کس بات سے نبرد آزما تھے ؟اس پر یہ آشکار ہوگیا ہے کہ یہ دنیا بے ہوش انسانوں کی لا یعنی جگہ کا نام ہے :

l مگر یہ درس گاہ ایک متوازی دنیا ہے خدا اور شیطان کی بنائی ہوئی دنیا سے یکسر مختلف اور اصل ہوش مند انسانوں کی دنیا  یہ وہ دنیا نہیں جہاں کوئی چپکے سے انسان کے ہاتھ میں خنجر تھما کر چلا گیا ہے تاکہ اس کا مقدر کبھی ختم نہ ہونے والی ایک سعی رائیگاں میں بدل کر رہ جائے اور وہ تمام عمر تصویروں پر خنجر بازی کرتا رہے ۔ ساری اشیاء اور سارے انسان بھی محض تصویریں ہیں کیونکہ نہ تو وہ مکمل طور پر حقیقی ہیں اور نہ ہی غیر حقیقی ۔ و ہ سب ایک دوسرے پر مبنی ہیں ان کا کوئی مطلق اور خود مکتفی وجود نہیں  ۔

زندگی کی ساری سچائیاں ، متضاد سچائیاں ،جھوٹ اور سچ و جھوٹ کے درمیان یگانگت اور نتیجتاً پیدا ہونے والے تناؤسے نیم فلسفیانہ آگاہیاں نیم روشن سی نظر آتی ہیں ۔ مکمل طور سے عیا ں یا روشن ہونا اس لئے بھی ممکن نہیں کہ تجلی یا نورانی روشنی اس عہد اور اس عہد کے انسان کا مقدر نہیں ہے ۔ لاکھ جتن کے بعد اُسے کوئی روشنی میسر ہے تو اس کی ماہیت بھی عجیب ہے  :

میں سورہاہوں، میری آنکھ میں روشنی آرہی ہے ۔ دیوار ہے اور دیوار میں ایک درار ہے ۔ درار سے ایک میلی سی روشنی نکل رہی ہے جو کوڑا جلاتی ہوئی آگ سے پیدا ہوتی ہے ۔ لگتا ہے دور آسمانوں میں سورج کو گرہن لگ رہا ہے ۔ ہر روشنی میں ایک کالی چھا یا موجود رہتی ہے ۔  اسی میلی روشنی میںجہاں راہ ِنجات کے دھندلے سے نقوش نظر آتے ہیں ، لا یقینی کے کہر میں تیقن کی ہلکی سی جھلک دکھائی دیتی ہے ،وہیں کچھ اور بھی نظر آتا ہے جس کا راست تعلق عہدرواں کے اس ڈسکورس سے ہے جو پاور، ظلم و زیادتی اور خوف و ہراس کو مرکزی حیثیت سے انگیز کرتا ہے کسی نا تجربہ کار فکشن نگار کے یہاں یہ عمل خالص پیوند کاری ہو کے رہ جاتا :

اس میلی روشنی میں ایک چھوٹا سا شہر دکھائی دے رہا ہے،شہر ، پیچ دار گلیاں، اونچے نیچے اور چھوٹے بڑے مکان سب کڑا کے کی سردی اور کہر ے ہیں اور خاموش کہرے کی چادر میں لپٹے ہوئے ہیں ۔ کسی مکان میں کہیں کوئی روشنی نظر نہیں آتی…. ہر گھر کی کھڑکیوں اور روشن دانوں کے شیشوں کو کالے کاغذ سے منڈھ دیا  گیا ہے ۔ کہیں کوئی آواز نہیں سنائی دیتی ، کوئی باہر نکل کر نہیں آتا…. جنگی طیارے اپنی دہشت ناک آواز کے ساتھ گھروں کی چھت کے اوپر سے نکل جاتے ہیں ۔

گلیوں میں اپنے بھاری بوٹوں کے ساتھ فوج گشت کرتی ہے …. چولہوں میں جلتی ہوئی آگ تک کو معاف نہیں کرسکتے ۔ بیانیہ کے مجموعی کردار کی مناسبت سے مذکورہ بالا اقتباس بظاہر غیر متعلق سا لگتا ہے لیکن اس دہشت ناک رات کے سائے کو خالد جاوید سایہ افگنی کے طور پر بیانیہ میں ضم کرتے ہیں ۔ یہی وہ سایہ ہے جو راوی کی ماں سے تعلقات اور اخلاق ابتری کے بنیادی مسائل کی ایک اہم کڑی ہے اور ازدواجی زندگی کے کہرام کی علامت بھی ۔راوی کا عرفان مزید شدت اختیار کرتا چلا جاتا ہے ۔ وہ سمجھ چکا ہے کہ یہ دنیا سیاہیوں اور گناہوں کا دلدل ہے اس کا ختم ہوجانا ہی بہتر ہے :

اچھا ہے کہ براعظموں یا زمینوں میں نئی نئی دراریں بن رہی ہیں ۔ زمین کے اندر سے نکلنے والے لاوے کا فرض ہے کہ وہ جلد ہی ایک نیا سمندر بن کر زمین کے ایک اور بڑے ،بے حس اور بہرے حصے کو بہا کر لے جائے ۔ ایسی گھاٹیوں اور دراروں کا فرض ہے ک وہ لال ساگر سے جاملیں ۔ کم از کم وہ انسان کے شہوت بھرے خون کے سمندروں سے کم و حشی ،کم بد بو دار اور کم جھاگ اُنڈیلنے والا ہوگا  بیکراں تاریکیوں کے باوصف ” موت کی کتاب ” کو قنوطیت پر محمول نہیں کیا جاسکتا ۔ اختتامیہ سے پہلے ورق میں یہ ناول اثباتیت کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ راوی کی ذات جو ایک ڈوبا ہوا جزیرہ تھی ، اب وہ اس تک پہنچ چکا ہے ۔ بیٹی کا تصور، بقائے حیات کا اور رشتوں کی پاکیزگی کے روشن امکان کی تصدیق ہے ۔ خود کشی، نہ صرف راوی کی بلکہ اس کے معاشرہ کے ہر فرد کی ہمزاد ہے، جو بار بار زندگی کی سیاہیوں سے فرار کی روشن راہ کا  illusionگھڑتی ہے ، اسے ورغلاتی ہے کہ موت زندگی سے بہتر ہے ،اب اس کی مطیع و فرما نبردار ہے ۔ راوی اس کا آقا ہے، اس کا جوتا خودکشی کا مسکن ہے۔کتے کی ٹانگیں چیر کر گویا وہ اپنے باپ کو اس کے گھنائونے جرائم کی پاداش میں کیفر کردار تک پہنچا چکا ہے۔ ناول کا اختتام open endedہے ۔ قطعیت نہ” موت کی کتاب ” کے خمیر میں شامل ہے اور نہ ہی مصنف کے موقف میں ۔ اس لئے” موت کی کتاب” کے آخری باب / ورق کے صفحات کورے چھوڑ دیئے گئے ہیں ۔ مابعد جدید فکشن کی یہ ایک معنی خیز تکنیک ہے کہ قاری اپنے صواب دید،اپنے علم و دانش کے مطابق کتاب زندگی ؍ ناول کو پایہ تکمیل تک پہنچاسکے ۔ اُسے استحاق حاصل ہے کہ جس طرح کے رنگ وہ چاہے بھر تا چلے ۔ جو سمت چاہے اختیار کرے ۔بالآخر یہ قاری اور قرأتیں ہی تو ہیں جومتن میں معنویت کے رنگ بھرتی ہیں ، تاہم "موت کی کتاب”کا انتباہ ملحوظ رہے کہ:

لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی

چمن زنگار ہے آئینہ بادِ بہاری کا۳۳

(غالب ؔ)

        پروفیسر انتخاب حمید

        مولانا ابوالکلام آزاد چیئر،(یو-جی-سی، نئی دہلی)

        شعبہ انگریزی

        ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر مراٹھواڑہ یونیورسٹی،

اورنگ آباد431001 –       مہاراشٹر

        drhameed.khan@gmail.com

        Mobile:9422291825

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

خالد جاویدموت کی کتاب
1 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
تحفظ اردو کے لئے  امارت شرعیہ کی مثالی جدو جہد – مفتی محمد ثناء  الہدیٰ قاسمی
اگلی پوسٹ
محمد حفیظ خان کے ناول ’انواسی‘ – محمد تیمور خان

یہ بھی پڑھیں

ناول ’آنکھ جو سوچتی ہے‘ ایک مبسوط جائزہ...

نومبر 17, 2024

ناول ”مراۃ العُروس “ایک مطالعہ – عمیرؔ یاسرشاہین

جولائی 25, 2024

ڈاکٹر عثمان غنی رعٓد کے ناول "چراغ ساز”...

جون 2, 2024

گرگِ شب : پیش منظر کی کہی سے...

اپریل 7, 2024

حنا جمشید کے ناول ’’ہری یوپیا‘‘  کا تاریخی...

مارچ 12, 2024

طاہرہ اقبال کے ناول ” ہڑپا “ کا...

جنوری 28, 2024

انواسی :انیسویں صدی کے آخری نصف کی کہانی...

جنوری 21, 2024

مرزا اطہر بیگ کے ناولوں کا تعارفی مطالعہ...

دسمبر 10, 2023

اردو ناول: فنی ابعاد و جزئیات – امتیاز...

دسمبر 4, 2023

نئی صدی کے ناولوں میں فکری جہتیں –...

اکتوبر 16, 2023

1 comment

Wasi Haider فروری 15, 2021 - 8:11 صبح

Buy your copy from
https://www.urdubazaar.in/products/maut-ki-kitab-author-khalid-javed-fiction-urdu-books

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں