اکیسویں صدی ناول کی صدی ہے اس میں بہت سے ناول نگاروں نے اپنا لوہا منوایا ہے ان میں ایک نام محمد حفیظ خان ہے محمد حفیظ خان اردو دنیا میں بحیثیتِ مترجم نقاد ارد ناول نگار پہچانے جاتے ہیں اس سے پہلے اپ نے آدھ ادھورے لوگ سرئیکی میں لکھا اور پھر اس کا اردو ترجمہ کیا انواسی اپ کا دوسرا ناول ہے یہ ایک ایسا ناول ہے کہ پڑھنے والے کو اپنی سحر میں لے لیتا ہے انواسی میں برطانوی نوآبادیات کا دوسرے علاقوں پر قبضہ کرنا اور ان کے اصل باشندوں کو غلام بنانا ان کے وسائل کا بے دریغ استعمال کرنا اصل باشندوں پر نا انصافی اور جبری مشقت کروانا ان کا استحصال کرنا جیسے مسائل کو بیان کیا ہے تو دوسری طرف ان نو آبادیات کو مضبوط کرنے والے مقامی اشرافیہ کا ذکر بھی کیا ہے جو ان کو مضبوط کرنے کے لیے طرح طرح کے حربے استعمال کرتے ہیں تاکہ ان کی چوہدراہٹ قاہم ہو سکے یہ سامراج اپنے مقاصد کے لیے ان اشرفیہ کو قابو میں رکھتے ہیں جو عوام میں مقبول ہوتے ہیں تاکہ ان کے ذریعے عوام سے اپنی مرضی کے کام کرواے جاسکیں ان میں ایک کردار مولوی جار اللہ کا ہے جو اس سامراج کو مضبوط کرنے کے لیے بھر پور تعاون کرتا ہے. 1872 لودھران اور بہاولپور کے در میان دریائے ستلج کے شمال کی جانب آباد بستی. آدم واہن ریلوے ٹریک بچھانے کے لیے چیف پریزیڈنٹ انجنیئر جان برنٹن کو اس منصوبے کی ذمہ داری دی جاتی ہے اس ٹریک کے بنانے میں ایک بڑی رکاوٹ قدیمی آبائی قبرستان ہے جس کو انگریز سرکار اکھاڑ کر ٹریک بنانا چاہتے ہیں اس کے خلاف مقامی لوگ مزاحمت کرتے ہیں کہ ان کے آبائی قبرستان کو نہ اکھاڑا جائے ان میں ایک نوجوان سیدا ہے جو ان کے خلاف مزاحمت کرتا ہے. اس ناول میں دو کہانیاں ساتھ ساتھ چلتی ہیں ایک کہانی جان برنٹن اور اس کی بیوی ایما کی ہے جو کو اپنے ساتھیوں کی مکاری کی وجہ سے نوکری سے ساتھ دھونا پڑتا ہے اور دوسری کہانی انواسی، ملا جار اللہ ملوکان، سیدا، اورمنگر، کی ہے. انواسی ناول کا مرکزی کردار ہے جو سیدے کی بچپن کی منگیتر ہے سیدا انواسی کی عصمت دری کے بعد اس کو طلاق دے کر چلا جاتا ہے انواسی اس کے بعد ایک مزاحمتی کردار کے طور پر سامنے آتی ہے اور ایک مرد کے مرد بچے کے سہارے اور اپنی حفاظت کے لیے کہ کئی معاشرہ اسے بدچلن قرار دے کر سنگسار نہ کر دے ایک مولوی جار اللہ کی چوتھی بیوی بنتی ہے یہ شادی نہیں محض ایک سمجھوتہ ہے اور اس کی وفات کے بعد انواسی ہر اس مرد کو پاؤں تلے روندتی ہے جو اس کی عزت سے کھیلنے کی کوشش کرتا ہے ،سنگری نے ماں کے تیور دیکھے تو اس کے قدموں میں بیٹھ کر رونے لگی یہ سب لوگ مل کر میرے منتو کو جانوں مار دینا چاہتے ہیں تاکہ مولوی وراثت اس تک. نہ پہنچے جب کہ یہ. بخشو مجھ پر بد کاری کا الزام لگا کر اس گھر سے نکالنے کے در پے ہے. تو بتا میں کیا کروں مجھے اپنے طریقے سے کام کرنا آتاہے بس تو مجھ پر بھروسہ کر، میں کوئی تھنداگراں نہیں کہ جو چاہیے مجھے نگل لے، میں تو ترکنڈ مچھی کا کنڈا ہوں ایک بار گلے میں پھنس گئی تو گلا چیر کر باہر آتی ہوں، سنگری نے انسو پونچھتے ہوئے ماں کے گوڈے پر سر رکھ دیا لیکن اس کی طرف دیکھے بغیر محسوس کر رہی تھی کہ اسے اپنی بیٹی کی بات پر بھرسہ نہیں،، منگر کا کردار ایک ایسا کردار ہے جو ہر موقع پر انواسی کی حفاظت کے لیے کھڑا ہوتا ہے لیکن کسی اور کے کیے کی سزا اسے بھگتنا پڑتی ہے. یہ ناول سنگری یعنی انواسی کے باکرہ سے انوسی بننے تک کی کہانی ہے وہ انواسی اپنی مرضی سے نہیں بنی بلکہ زبردستی بنا دی گئی لیکن وہ کئ باکرہ سے بہتر ہے. انواسی اردو کا ایک منفرد ناول ہے. ادب کے طالب علم اس کا مطالعہ لازمی کریں۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

