کتاب میلے کے انعقاد کا مقصد علمی، تہذیبی اور ثقافتی لین دین ہے:پروفیسر ملند سدھاکر مراٹھے
کتابوں کے سب سے عظیم جشن چنار بک فیسٹول کے تیسرے ایڈیشن کا شاندار افتتاح
سری نگر/دہلی: نیشنل بک ٹرسٹ،انڈیا، کے زیر اہتمام اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی و ضلع انتظامیہ، سری نگر کے باہمی اشتراک سے منعقد ہونے والے کتابوں کے سب سے عظیم جشن ، ’چنار بک فیسٹول 2026‘ کا شاندار افتتاح عزت مآب جناب منوج سنہا (لیفٹیننٹ گورنر، صوبہ جموں و کشمیر) کے ہاتھوں آج ایس کے آئی سی سی، سری نگر میں کیا گیا۔ افتتاحی تقریب کے اس سنہری موقعے پر نیشنل بک ٹرسٹ، انڈیا کے چیئرمین پروفیسر ملند سدھاکر مراٹھے، این بی ٹی کے ڈائرکٹر جناب یووراج ملک، قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال، ڈپٹی کمشنر،سری نگرجناب اکشے لابرو، سیکرٹری جمو و کشمیر جناب اتل دلو اور سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن، جموں و کشمیر جناب رام نواس شرما شریک رہے۔
افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی عزت مآب لیفٹیننٹ گورنر جناب منوج سنہا نے اس موقعے پر اپنے خیالات کے اظہار کا آغازبشیر بدر کے چند اشعار سے کیا اور کہا کہ چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم، تہذیب اور وراثت کی علامت بن گیا ہے۔وادیِ کشمیر کے لیے یہ فیسٹول صبر، تسلسل ا ور استقامت کی نشانی ہے۔ یہ اب محض کتابوں کی نمائش نہیں ہے بلکہ خیالات کے لین دین کا مرکز بن کر ابھرا ہے۔چنار بک فیسٹول میں قومی یکجہتی بھی نظر آتی ہے اور انیکتا میں ایکتا کی صورت بھی۔ یہ فیسٹول نوجوانوں کو پیغام دیتا ہے کہ قلم کی طاقت سب سے بڑی طاقت ہے۔ کتابیں زندگی سے مکالمہ قائم کرتی ہیں اور ہمیں بہتر بننے کی ترغیب دیتی ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ چنار بک فیسٹول نے ہندوستان کی مختلف زبانوں میں ادب اطفال کو پیش کرکے ایک گراں قدر خدمت انجام دی ہے۔ جب بچہ اپنی مادری زبان میں پڑھتا ہے تو اپنی جڑوں سے وابستہ ہوتا ہے۔ کتاب میلوں کی کامیابی کا اندازہ کتابوں کی فروخت کی در کے بجائے علمی و ادبی خیالات کے تبادلے اور ڈسکورس سے لگانا چاہیے۔ فیسٹول تبھی کامیاب تصور کیا جائے گا جب یہ خیالات یہاں سے نکل کر کالج اور یونیورسٹی میں سنجیدہ ڈسکورس کا حصہ بن جائیں۔ انھوں نے اس بک فیسٹول کے منتظمین کو مبارکباد دیتے ہوئے اپنی گفتگو کو گوپال داس نیرج کے ان اشعار پر ختم کیا۔
ہم تری چاہ میں اے یار وہاں تک پہنچے
ہوش یہ بھی نہ جہاں ہے کہ کہاں تک پہنچے
ایک اس آس پہ اب تک ہے مری بند زباں
کل کو شاید مری آواز وہاں تک پہنچے
چاند کو چھو کے چلے آئے ہیں وگیان کے پنکھ
دیکھنا یہ ہے کہ انسان کہاں تک پہنچے
اس سے قبل استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے نیشنل بک ٹرسٹ انڈیا کے چیئرمین پروفیسر ملندسدھاکرمراٹھے نے تمام مہمانوں کا استقبال کیا اور چنار فک فیسٹول کے نام کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ چنار کا درخت گھنی اور شیتل چھاؤں کے لیے جانا جاتا ہے، اس کے علاوہ اس درخت میں ایک قسم کی سرخی بھی ہوتی ہے۔ جو سرخی گیان کی روشنی سے میل کھاتی ہے۔ یہ درخت کشمیر کی تہذیبی اور علمی وراثت کا نشان بھی ہے۔ انہی باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے بک فیسٹول کا نام چنار بک فیسٹول منتخب کیا گیا ہے۔انھوں نے اسے کشمیر کی عوام، طلبہ اور اساتذہ کا فیسٹول قرار دیااور کہا کہ اس فیسٹول کو کشمیر کے باشندوں نے نہایت محبت سے اپنا بنا لیا ہے۔ اس سال بک فیسٹول کی تھیم ’Together We Read, Together We Lead”ہے ۔ قرآن کے پہلے لفظ ’اقرا‘ سے بھی یہی پیغام ملتا ہے کہ پڑھائی کو اولیت دی جائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ نیشنل بک ٹرسٹ ،انڈیا کی یہی خواہش ہے کہ وہ پہاڑی، گجری اور دیگر علاقائی زبانوں کو ہندوستان کی ترقی یافتہ زبانوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ان میں مواد فراہم کرے ۔ کتاب میلے کے انعقاد کا ایک بڑا مقصد علمی، تہذیبی اور ثقافتی لین دین ہے۔
اخیر میں نیشنل بک ٹرسٹ انڈیا کے ڈائرکٹر جناب یووراج ملک نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ چنار بک فیسٹول محض ایک فیسٹول کا انعقاد نہیں بلکہ تہذیبی وراثت کا نام ہے۔ اس فیسٹول سے لٹریری ٹورزم کو فروغ ملا ہے اور عالمی پیمانے پر چنار بک فیسٹول کی ستائش کی جارہی ہے۔
اس فیسٹول میں دو سو سے زیادہ ناشرین اور آٹھ سو سے زیادہ فنکاروں کی شرکت متوقع ہے۔
چنار بک فیسٹول کے اس تیسرے ایڈیشن کی افتتاحی تقریب میں چند اہم کتابوں کا اجرا بھی عمل میں آیا۔ اس افتتاحی اجلاس میں بڑی تعداد میں دانشور ، ادبااور طلبا و طالبات کی شرکت رہی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ فیسٹول شائقین علم و ادب کے دلوں میں خاص جگہ بنا چکا ہے۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

