تعلیمی ادارے کسی بھی معاشرے کی فکری، اخلاقی اور سماجی ترقی کے بنیادی مراکز ہوتے ہیں جن کا بنیادی مقصد صرف کتابی علم منتقل کرنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی کردار سازی، ان میں تنقیدی سوچ کو پروان چڑھانا اور ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے موزوں شہری تیار کرنا ہوتا ہے۔ صدیوں سے اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں نظم و ضبط، باہمی احترام اور علمی فضیلت کے ایسے مقدس استعارے رہے ہیں جہاں نوجوان ذہنوں کو زمانے کے چیلنجز سے نمٹنے کے قابل بنایا جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں کی بقا اور ان کا وقار دراصل پورے ملک کے مستقبل کا آئینہ دار ہوتا ہے کیونکہ یہیں سے وہ رہنما، مفکر، سائنسدان اور ماہرین پیدا ہوتے ہیں جنہوں نے آگے چل کر قوم کی باگ ڈور سنبھالنی ہوتی ہے۔ تاہم، حالیہ برسوں میں دنیا بھر کے تعلیمی نظام اور بالخصوص اعلیٰ تعلیمی اداروں کو ایسے ہمہ جہت اور سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے جنہوں نے ان کے روایتی ڈھانچے، تعلیمی ماحول، انتظامی استحکام اور طویل عرصے سے قائم محنت سے کمائی گئی ساکھ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ زوال پذیر رجحانات جہاں معاشی ناہمواریوں، ناقص تعلیمی پالیسیوں، اور گرتے ہوئے سماجی معیار کے مرہونِ منت ہیں، وہاں موجودہ دور میں سوشل میڈیا کا بے لگام اور غیر ذمہ دارانہ استعمال ایک ایسی سب سے طاقتور اور اثر انگیز قوت بن کر ابھرا ہے جس نے اس بحران کو مزید سنگین اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ڈیجیٹل دنیا کے ان جدید پلیٹ فارمز نے اگرچہ دنیا کو ایک عالمی گاؤں میں تبدیل کر دیا ہے اور معلومات تک رسائی کو ہر انسان کے لیے آسان بنا دیا ہے، لیکن تعلیمی اداروں کے تناظر میں یہ ٹیکنالوجی ایک دو دھاری تلوار ثابت ہو رہی ہے جو تعمیری اصلاح کے بجائے اکثر تخریبی عناصر کو ہوا دینے کا باعث بن رہی ہے۔
فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام، یوٹیوب اور واٹس ایپ جیسے مقبول ترین پلیٹ فارمز نے انسانی مواصلات، معلومات کے تبادلے اور عوامی سطح پر رائے سازی کے روایتی طریقوں کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب کسی بھی واقعے، رائے یا شکایت کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے کسی رسمی واسطے یا وقت کی ضرورت نہیں رہی بلکہ ایک کلک کی دوری پر موجود عالمی رسائی نے ہر فرد کو ایک پبلشر اور رپورٹر بنا دیا ہے۔ تعلیمی اداروں سے وابستہ مختلف اسٹیک ہولڈرز جیسے طلباء، اساتذہ، سابق طلباء، والدین اور انتظامیہ اب ان پلیٹ فارمز کے ذریعے حقیقی وقت میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور کسی بھی فیصلے یا واقعے پر اپنی فوری رائے دینے کی سکت رکھتے ہیں۔ ایک چھوٹی سی پوسٹ، ایک مبہم تصویر یا چند سیکنڈ کی ویڈیو چند منٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ کر ایک بہت بڑا طوفان کھڑا کر سکتی ہے جس سے بے مثال سطح کی عوامی رابطہ کاری اور متحرک پن پیدا ہوتا ہے۔ اگرچہ اس ڈیجیٹل انقلاب کے اندر شفافیت کو فروغ دینے، اداروں کو جوابدہ بنانے اور کمیونٹی کی شمولیت کو وسیع کرنے کے روشن مواقع بھی چھپے ہوئے ہیں، لیکن جب اس طاقت کو بغیر کسی اخلاقی ضابطے، مصلحت اندیشی اور ذمہ داری کے استعمال کیا جائے تو یہ اداروں کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے والے سب سے بڑے خطرے کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ فوری ابلاغ کی یہی صلاحیت اکثر اوقات افواہوں کو سچ ثابت کرنے اور تعلیمی ماحول کے پرسکون تالاب میں ہیجان انگیز لہریں پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔
موجودہ دور میں تعلیمی اداروں کے اندرونی ماحول کو خراب کرنے والا ایک مسلسل اور نمایاں مسئلہ طلباء اور انتظامیہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعات اور دوریوں کی صورت میں نظر آتا ہے۔ یہ اختلافات عام طور پر انتظامی فیصلوں، امتحانی پالیسیوں، فیسوں کے ڈھانچے میں اضافے، تادیبی کارروائیوں، کیمپس کے انفراسٹرکچر کی صورتحال، یا طلباء کے حقوق و آزادیوں کی مبینہ پامالیوں جیسے امور کے گرد گھومتے ہیں۔ کسی بھی ایسے ماحول میں جہاں ہزاروں نوجوان ذہن یکجا ہوں اور فکری آزادی کا دعویٰ کیا جاتا ہو، وہاں آراء کا اختلاف نہ صرف ایک فطری امر ہے بلکہ اسے ایک زندہ اور متحرک تعلیمی ماحول کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔ صحت مند اور جاندار مباحثے ہمیشہ بہتری کا راستہ دکھاتے ہیں اور اداروں کو اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ لیکن کسی بھی ادارے کی اصل پختگی، دانشمندی اور طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ ان ابھرتے ہوئے اختلافات کو اندرونی گفت و شنید، باہمی احترام، باوقار مکالمے اور پہلے سے طے شدہ شکایات کے ازالے کے رسمی اور قانونی طریقہ کار کے ذریعے کس طرح حل کرتا ہے۔ جب تک معاملات کیمپس کی چہار دیواری کے اندر منطقی اور علمی اصولوں کے تحت حل ہوتے رہتے ہیں، تب تک ادارہ زوال سے محفوظ رہتا ہے اور اس کا وقار قائم رہتا ہے۔
مگر بدقسمتی سے، سوشل میڈیا کے اس دور نے اندرونی نوعیت کے معمولی اختلافات کو بھی سیکنڈوں میں ایک مکمل عوامی جنگ اور تماشے میں تبدیل کرنے کا چلن عام کر دیا ہے۔ اب طلباء یا دیگر متاثرہ افراد اپنے مسائل کو حل کرنے کے لیے طلباء کونسل، فیکلٹی کمیٹیوں، پراکٹر کے دفاتر یا باقاعدہ تحریری شکایات جیسے اندرونی اور باوقار چینلز کا رخ کرنے کے بجائے فوراً اپنے اسمارٹ فونز اٹھاتے ہیں اور شکایت کو آن لائن دنیا کی عدالت میں پیش کر دیتے ہیں۔ جو معاملہ انتہائی سنجیدگی، رازداری اور ٹھنڈے دماغ کے ساتھ نجی ملاقاتوں میں حل ہو سکتا تھا، وہ اچانک شدید جذباتیت، ذاتی نوعیت کے الزامات، یکطرفہ اور غیر مصدقہ دعووں، اور سنسنی خیز قیاس آرائیوں سے بھری ہوئی وائرل مہم کا روپ دھار لیتی ہے۔ جب کیمپس کا ایک اندرونی معاملہ پبلک ڈومین میں آتا ہے، تو بیرونی دنیا کے لوگ جن کا ادارے کے حقیقی پس منظر، قوانین اور روایات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، وہ بھی اس بحث میں کود پڑتے ہیں اور اپنی غیر ضروری آراء سے آگ کو مزید بھڑکاتے ہیں۔ یہ سرعام تماشہ نہ صرف ادارے کی عشروں کی محنت سے کمائی گئی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتا ہے بلکہ بند دروازوں کے پیچھے فریقین کے درمیان کسی بھی دوستانہ، لچکدار اور پائیدار حل تک پہنچنے کے امکانات کو بھی انتہائی پیچیدہ اور دور کر دیتا ہے کیونکہ کوئی بھی فریق عوامی دباؤ کے بعد پیچھے ہٹنے کو اپنی توہین سمجھنے لگتا ہے۔
یہ صورتحال اس وقت اور زیادہ ابتر اور بے قابو ہو جاتی ہے جب ادارے کے سابق طلباء یا ان کی انجمنیں اور بیرونی مبصرین بھی اس ڈیجیٹل اکھاڑے میں شامل ہو کر کسی ایک فریق کی حمایت شروع کر دیتے ہیں۔ سابق طلباء کا اپنے مادر علمی کے ساتھ ایک گہرا اور دیرینہ جذباتی رشتہ ہوتا ہے جو ان کی جوانی کی خوبصورت یادوں، حاصل کردہ کامیابیوں اور ادارے کی تاریخی میراث کی حفاظت کے جذبے سے جڑا ہوتا ہے۔ ان کی تشویش اکثر اوقات مخلصانہ اور ادارے کی بہتری کے لیے ہوتی ہے، لیکن جب یہ سابق طلباء موجودہ حالات کے حقیقی زمینی حقائق کو پوری طرح سمجھے بغیر سوشل میڈیا پر جاری تنازعات میں فریق بن جاتے ہیں، تو وہ غیر ارادی طور پر جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں۔ آن لائن گروپس اور فورمز تعمیری مشورے دینے کے بجائے سخت قسم کی جانبدارانہ مہمات کا میدان بن جاتے ہیں جہاں تعصب اور ضد کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ سابق طلباء کی بااثر اور معتبر آوازیں، جو بحران کے وقت ایک ثالث کا کردار ادا کر سکتی تھیں، بحث کو مزید پولرائز یعنی قطبی بنانے کا باعث بن جاتی ہیں جس سے طلباء اور انتظامیہ کے درمیان خلیج کم ہونے کے بجائے بڑھتی چلی جاتی ہے اور معمولی نوعیت کے تنازعات مہینوں تک طول پکڑ لیتے ہیں۔
زیادہ تر دیکھا گیا ہے کہ تنازعات کا اصل مرکز موجودہ طلباء اور ادارہ جاتی انتظامیہ کے درمیان کے معاملات ہی ہوتے ہیں، جہاں دونوں ہی فریقین کے پاس اپنے اپنے تئیں جائز دلائل، تشویشات اور آئینی حدود ہوتی ہیں۔ طلباء کا یہ موقف ہو سکتا ہے کہ ان کی فلاح و بہبود کے فیصلوں میں ان کی رائے کو شامل نہیں کیا گیا یا ان کے جائز مطالبات کو بیوروکریسی کی نذر کر دیا گیا ہے، جبکہ دوسری طرف انتظامیہ کے کندھوں پر پورے ادارے کو چلانے، مالی نظم و ضبط برقرار رکھنے، ریگولیٹری قوانین کی پاسداری کرنے اور تعلیمی معیار کو گرنے سے بچانے کی بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ ایسے نازک اور حساس مواقع پر صرف اور صرف آمنے سامنے بیٹھ کر کیا جانے والا بامعنی، مخلصانہ اور سنجیدہ مکالمہ ہی وہ واحد راستہ ہوتا ہے جو کسی قابلِ قبول سمجھوتے کی طرف لے جا سکتا ہے۔ لیکن سوشل میڈیا کی دنیا اس مکالمے کی سب سے بڑی دشمن بن کر سامنے آتی ہے، کیونکہ جیسے ہی کیمپس کے اندر مذاکرات کار کسی حل کے قریب پہنچنے لگتے ہیں، سوشل میڈیا پر موجود انتہا پسند حامیوں اور مبصرین کے تند و تیز تبصرے، طنز آمیز پوسٹس اور نئی لہریں پرانے زخموں کو دوبارہ ہرا کر دیتی ہیں۔ آن لائن ماحول میں بیٹھے لوگ نئے نئے مطالبات سامنے لے آتے ہیں اور سمجھوتہ کرنے والے طلباء یا منتظمین پر بزدلی یا سودے بازی کا الزام لگا کر حل کی راہ میں نئی اور ناقابلِ عبور رکاوٹیں کھڑی کر دیتے ہیں۔
سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کا اپنا ایک خاص الگورتھمک ڈیزائن اور نفسیات ہے جو تعمیری سوچ کے بجائے ہیجان اور سنسنی کو فروغ دیتی ہے۔ یہ الگورتھم پیچیدہ، کثیر الجہتی اور گہرے مسائل کو بھی ہیرو اور ولن کی ایک سادہ، یکطرفہ اور بلیک اینڈ وائٹ کہانی میں تبدیل کرنے کا رجحان رکھتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ کلکس اور شیئرز حاصل کیے جا سکیں۔ تاہم، تعلیمی اداروں کے اندرونی معاملات اور تنازعات کبھی بھی اتنے سادہ یا سیاہ و سفید نہیں ہوتے کہ انہیں ایک دو جملوں کی پوسٹ میں بیان کیا جا سکے۔ ان مسائل کے پیچھے عام طور پر دہائیوں پر محیط تاریخی سیاق و سباق، مالیاتی وسائل کی شدید کمی، حکومتی اور قانونی پابندیاں، اور مختلف اسٹیک ہولڈرز کی متصادم ترجیحات کارفرما ہوتی ہیں۔ جب سوشل میڈیا صارفین معاملے کے پورے پس منظر اور متوازن تناظر سے واقف ہوئے بغیر محض ایک وائرل پوسٹ یا جذباتی ویڈیو دیکھ کر کسی ایک فریق کی اندھی حمایت شروع کر دیتے ہیں، تو وہ معاشرے میں تفہیم اور درگزر کے بجائے ایک خطرناک قسم کی نفرت اور تقسیم کو جنم دیتے ہیں۔ یہ ڈیجیٹل پولرائزیشن فریقین کو اپنے اپنے موقف پر مزید سخت کر دیتی ہے اور یوں باہمی عدم اعتماد کا ایک ایسا لامتناہی چکر شروع ہو جاتا ہے جو ادارے کے تعلیمی اور اخلاقی ڈھانچے کو برباد کر کے رکھ دیتا ہے۔
اس پورے منظرنامے کا ایک سب سے زیادہ خطرناک اور تبہ کن پہلو سوشل میڈیا کے ذریعے غلط معلومات، افواہوں اور من گھڑت کہانیوں کا انتہائی تیز رفتاری سے پھیلنا ہے۔ موجودہ ڈیجیٹل دور میں سچ کو ابھی جوتے پہننے کا موقع بھی نہیں ملتا کہ جھوٹ پوری دنیا کا چکر لگا چکا ہوتا ہے۔ ادھوری تفصیلات، سیاق و سباق سے کاٹ کر بنائی گئی ویڈیوز، فوٹوشاپ یا آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے تیار کردہ جعلی اسکرین شاٹس اور من گھڑت افواہیں کسی بھی سرکاری وضاحت کے سامنے آنے سے بہت پہلے ہی وائرل ہو کر پبلک اوپینین کا حصہ بن جاتی ہیں۔ ایک بار جب عوامی تاثر کسی مسخ شدہ، جھوٹی یا یکطرفہ کہانی کے گرد پکا ہو جائے، تو بعد میں ادارے کی طرف سے جاری کی جانے والی سچی اور دستاویزی وضاحتیں یا حقائق پر مبنی پریس ریلیز کوئی اہمیت نہیں رکھتیں کیونکہ لوگ پہلے ہی اپنا ذہن بنا چکے ہوتے ہیں۔ تعلیمی اداروں کو اس کا خمیازہ طویل مدتی ساکھ کے نقصان کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے، اور وہ بدنامی کا وہ داغ دھو نہیں پاتے جو کسی غلط فہمی یا سازش کے نتیجے میں ان پر لگایا گیا ہوتا ہے، چاہے وہ اصل مسئلہ بعد میں قانونی یا اندرونی طور پر مکمل طور پر حل ہی کیوں نہ ہو چکا ہو۔
اس کے علاوہ، سوشل میڈیا نے معاشرے میں جس فوری ردعمل اور "کینسل کلچر” کی ترویج کی ہے، وہ تعلیمی اداروں کی روایتی گورننس اور سنجیدہ فیصلہ سازی کے اصولوں کے بالکل برعکس ہے۔ تعلیمی پالیسیوں، نصاب کی تبدیلیوں، اساتذہ کے تقرر اور طلباء کے فلاحی منصوبوں جیسے اہم امور انتہائی گہرے تجزیے، طویل مشاورت، اعدد و شمار کے جائزے، اور بے پناہ صبر و تحمل کے متقاضی ہوتے ہیں۔ ایک اچھا تعلیمی فیصلہ وہ ہوتا ہے جو فوری جذباتی فائدے کے بجائے آنے والی کئی نسلوں کے مفاد کو مدنظر رکھ کر کیا جائے۔ اس کے برعکس، آن لائن دنیا فوری ردعمل، سنسنی خیز بیانات، اور دکھاوے کے غصے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کیونکہ وہاں سنجیدہ گفتگو کو بورنگ سمجھا جاتا ہے اور غصے، طنز یا گالی گلوچ پر مبنی مواد کو زیادہ ویوز اور فالوورز ملتے ہیں۔ اس کی وجہ سے بہت سے طلباء اور حتیٰ کہ اساتذہ بھی عملی، دیرپا اور خاموش حل تلاش کرنے کے بجائے سوشل میڈیا پر اپنی ذاتی مقبولیت، فالوورز کی تعداد بڑھانے اور عارضی واہ واہ سمیٹنے کے لیے تعلیمی ماحول کو داؤ پر لگانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
ان تمام منفی پہلوؤں کے باوجود، سوشل میڈیا کو ایک مکمل طور پر تخریبی یا شیطانی قوت قرار دینا بھی ناانصافی اور حقیقت سے منہ موڑنے کے مترادف ہوگا۔ ٹیکنالوجی خود بری یا اچھی نہیں ہوتی بلکہ اس کا استعمال اسے مثبت یا منفی بناتا ہے۔ اگر سوشل میڈیا کو ذمہ داری، شعور اور اخلاقی حدود کے اندر رہ کر استعمال کیا جائے، تو یہ تعلیمی نظام میں مثبت تبدیلی اور اصلاحات کا ایک بہترین اور طاقتور ترین آلہ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ ان حقیقی مسائل، انتظامی بدعنوانیوں، یا طلباء کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو سامنے لانے کا ذریعہ بن سکتا ہے جنہیں روایتی طور پر دبا دیا جاتا تھا یا جو بااثر حلقوں کی نظروں سے اوجھل رہ جاتی تھیں۔ یہ اداروں کے اندر شفافیت کو بڑھانے اور عام طلباء کو اپنی آواز اعلیٰ حکام تک پہنچانے کا ایک جمہوری اور آسان پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔ اسی طرح، سوشل میڈیا کے تعمیری استعمال کے ذریعے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے سابق طلباء اپنے مادر علمی کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہ سکتے ہیں، یونیورسٹیوں کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز اکٹھے کر سکتے ہیں، موجودہ طلباء کے لیے اسکالرشپس اور کیریئر کونسلنگ کے بہترین پروگرام ترتیب دے سکتے ہیں، اور علمی و تحقیقی میدان میں نئی ایجادات کو متعارف کروانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اس لیے، اصل مسئلہ سوشل میڈیا کا وجود یا اس کی ایجاد نہیں ہے، بلکہ اصل تشویش ناک امر یہ ہے کہ ہماری تعلیمی برادریوں، طلباء اور انتظامیہ نے اس سے نمٹنے اور اسے استعمال کرنے کا کیا طریقہ کار اپنا رکھا ہے۔ موجودہ دور کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ تعلیمی اداروں کے اندر اور باہر "ذمہ دار ڈیجیٹل شہریت” کی ایک مضبوط، مربوط اور اخلاقی ثقافت کو پروان چڑھایا جائے۔ ہر فرد، خواہ وہ طالب علم ہو، استاد ہو یا والدین، کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ انٹرنیٹ پر کسی بھی چیز کو شیئر یا پوسٹ کرنے سے پہلے اس کے حقائق کی مکمل تصدیق کرنا ان کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ کسی بھی فیصلے پر تنقید کرنا سب کا حق ہے، لیکن یہ تنقید تعمیری، شائستہ، حل پر مبنی اور باوقار زبان میں ہونی چاہیے، نہ کہ ذاتی حملوں، گالی گلوچ اور اشتعال انگیز جملوں پر مشتمل ہو جو ماحول کو مزید زہر آلود کر دیں۔ ڈیجیٹل دنیا میں لکھی گئی ایک سطر بھی معاشرے یا کسی ادارے کی تباہی کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے الفاظ کا انتخاب انتہائی سوچ سمجھ کر کیا جانا چاہیے۔
اس سلسلے میں تعلیمی اداروں کی قیادت اور انتظامیہ پر سب سے زیادہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ جدید دور کے منتظمین کو اپنی پرانی اور روایتی سوچ کو بدلنا ہوگا اور طلباء، فیکلٹی اور سابق طلباء کے ساتھ رابطے کے لیے کھلے، فعال اور جدید مواصلاتی چینلز قائم کرنے ہوں گے۔ افواہوں اور غلط فہمیوں کی سب سے بڑی وجہ معلومات کا بروقت نہ ملنا اور انتظامیہ کا پراسرار رویہ ہوتا ہے۔ اگر یونیورسٹیوں اور کالجوں میں باقاعدگی سے ٹاؤن ہالز منعقد کیے جائیں، طلباء کی شکایات سننے کے لیے ڈیجیٹل پورٹلز بنائے جائیں اور ہر اہم فیصلے کے پیچھے چھپے اسباب سے طلباء کو بروقت آگاہ کیا جائے، تو سوشل میڈیا پر افواہیں پھیلانے والوں کو کبھی کامیابی نہیں مل سکتی۔ جب طلباء کو یہ یقین ہوگا کہ ان کی بات کو سنجیدگی سے سنا جا رہا ہے اور ان کے مسائل کو حل کرنے کے لیے مخلصانہ کوششیں ہو رہی ہیں، تو وہ کبھی بھی اپنے ادارے کے معاملات کو سڑکوں پر یا سوشل میڈیا کے پبلک پلیٹ فارمز پر لے جا کر تماشہ بنانے کی کوشش نہیں کریں گے۔ انتظامیہ کی طرف سے مستقل، شفاف اور سچی گفتگو ہی اعتماد کی اس دیوار کو مضبوط کر سکتی ہے جو کسی بھی ادارے کا اصل سرمایہ ہوتی ہے۔
دوسری طرف، طلباء کو یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ وہ اس پورے تعلیمی نظام کے سب سے اہم اور بنیادی اسٹیک ہولڈر اور مستفید ہونے والے عنصر ہیں۔ اپنے حقوق کا تحفظ کرنا، تعلیمی نظام میں بہتری کے لیے آواز اٹھانا اور ناانصافی کے خلاف پرامن احتجاج کرنا ان کا آئینی اور جمہوری حق ہے، لیکن ان کوششوں کا ایک دائرہ کار اور اخلاقی طریقہ کار ہونا ضروری ہے۔ حقوق کی وکالت ہمیشہ احترام، صبر، پختگی اور اپنے ادارے کی مجموعی فلاح و بہبود کے مخلصانہ جذبے کے ساتھ مشروط ہونی چاہیے۔ جب طلباء جوشِ خطابت یا چند لائیکس کی خاطر اپنے ہی ادارے کی ساکھ کو سوشل میڈیا پر اچھالتے ہیں اور اسے بدنام کرتے ہیں، تو وہ غیر ارادی طور پر اپنے ہی مستقبل پر کلہاڑی مار رہے ہوتے ہیں۔ کل جب وہ اسی ادارے کی ڈگری لے کر عملی زندگی اور جاب مارکیٹ میں جائیں گے، تو اس ادارے کی بدنامی ان کی اپنی تعلیمی قابلیت، ملازمت کے مواقع اور پیشہ ورانہ نیٹ ورکس کو بری طرح متاثر کرے گی۔ ادارے کا وقار دراصل طالب علم کا اپنا وقار ہوتا ہے، اور اس کی حفاظت کرنا ان کا اولین فریضہ ہونا چاہیے۔
اسی طرح، سابق طلباء کی تنظیموں اور اولڈ بوائز یا گرلز ایسوسی ایشنز کو بھی اپنے منفرد اور بااثر مقام کا درست استعمال کرنا سیکھنا ہوگا۔ ان کا طویل تجربہ، معاشرے میں قائم پیشہ ورانہ نیٹ ورکس اور مالیاتی و اخلاقی سرمایہ انہیں اس قابل بناتا ہے کہ وہ طلباء اور انتظامیہ کے درمیان پیدا ہونے والی کسی بھی خلیج کو پُر کرنے کے لیے بہترین ثالث کا کردار ادا کر سکیں۔ انہیں سوشل میڈیا پر جاری کسی بھی یکطرفہ مہم کا حصہ بن کر کیمپس کی سیاست یا تقسیم کو بڑھانے کے بجائے ہمیشہ حقائق پر مبنی تفہیم، مفاہمت اور درمیانی راہ نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ان کا پورا دباؤ اور توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ ادارے کی طویل مدتی بقا، تعلیمی معیار، ریسرچ کلچر اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک پرسکون، محفوظ اور سازگار تعلیمی ماحول کو ہر صورت برقرار رکھا جائے، خواہ اس کے لیے انہیں کسی بھی فریق کی تلخ باتوں کو برداشت ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
تعلیمی ادارے تب ہی اپنی اصل بلندیوں کو چھو سکتے ہیں اور زوال سے بچ سکتے ہیں جب ان سے وابستہ تمام اسٹیک ہولڈرز ذاتی مفادات، انا اور عارضی جذباتیت سے بالاتر ہو کر تعلیمی فضیلت کے ایک مشترکہ اور عظیم وژن کے گرد متحد ہو جائیں۔ طلباء کو ایک ایسا ماحول چاہیے جہاں انہیں معیاری تعلیم ملے، ان کے ساتھ انصاف ہو اور ان کی فکری صلاحیتوں کو نکھارنے کے مواقع میسر ہوں۔ انتظامیہ کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ادارہ مالی طور پر مستحکم رہے، وہاں نظم و ضبط قائم رہے اور وہ قومی و بین الاقوامی معیار پر پورا اترے۔ سابق طلباء یہ چاہتے ہیں کہ ان کے مادر علمی کا نام ہمیشہ فخر سے لیا جائے اور اس کی ڈگری کی اہمیت بازارِ عمل میں برقرار رہے۔ اگر غور کیا جائے تو یہ تمام خواہشات اور مقاصد ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہیں بلکہ یہ سب ایک ہی زنجیر کی مختلف کڑیاں ہیں جو ایک دوسرے کو مضبوط کرتی ہیں۔ اصل چیلنج اور امتحانی گھڑی یہ ہوتی ہے کہ روزمرہ کے عارضی اور معمولی اختلافات یا انتظامی غلطیوں کو تعلیم کے اس اعلیٰ، مقدس اور اجتماعی مشن پر غالب نہ آنے دیا جائے جس کے لیے یہ ادارے قائم کیے گئے ہیں۔
حاصل کلام یہ ہے کہ اگرچہ تعلیمی اداروں کا موجودہ زوال صرف ایک وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے فنڈز کی کمی، ناقص سرکاری پالیسیاں، سیاسی مداخلت اور مجموعی سماجی انحطاط جیسے متعدد باہم جڑے ہوئے عوامل کارفرما ہیں، لیکن سوشل میڈیا کا غیر ذمہ دارانہ، جلد باز اور ہیجان انگیز استعمال اس زوال کے عمل کو تیز کرنے والا ایک انتہائی خطرناک محرک بن چکا ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے پاس یہ طاقت موجود ہے کہ وہ معاشرے کو باخبر کریں، لوگوں کو آپس میں جوڑیں، مظلوم کو بااختیار بنائیں اور اداروں میں مثبت اصلاحات لے کر آئیں۔ لیکن یہی طاقت جب غلط ہاتھوں میں چلی جائے یا بغیر کسی سوچ سمجھ کے استعمال ہو، تو یہ دیرینہ تعلقات کو تباہ کرتی ہے، نفرتوں کی خلیج کو گہرا کرتی ہے اور اداروں کی ساکھ کو ایسا دیرپا نقصان پہنچاتی ہے جس کی تلافی ممکن نہیں ہوتی۔ طلباء اور انتظامیہ کے درمیان پیدا ہونے والے تمام تر مسائل اور تنازعات کو سوشل میڈیا کے وائرل تماشوں اور عوامی عدالتوں کے بجائے ہمیشہ بند کمروں کے سنجیدہ، بالغ اور ہمدردانہ مکالمے اور رسمی ادارہ جاتی قواعد و ضوابط کے ذریعے ہی حل کیا جانا چاہیے۔ سابق طلباء اور دیگر بیرونی معاون گروپس کو بھی جانبدارانہ آن لائن مہمات کا حصہ بننے کے بجائے ہمیشہ مخلصانہ اور تعمیری تعاون کو اپنی ترجیح بنانا ہوگا۔ جب تعلیمی برادری کا ہر فرد ذمہ دارانہ ابلاغ، باہمی احترام، درگزر اور علمی فضیلت کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا ثبوت دے گا، تبھی ہمارے تعلیمی ادارے جدید دور کے ان پیچیدہ چیلنجز کا کامیابی سے مقابلہ کر سکیں گے اور آنے والی نسلوں کے لیے علم، فضل اور اخلاق کے روشن مینار کے طور پر اپنا مقدس کردار ہمیشہ زندہ رکھ پائیں گے۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

