ارم ندیم دہلی
چند دن پہلے ایک نوجوان نے مجھ سے پوچھا: "جب قربانی کا مطلب sacrifice ہے تو ہم جانور ذبح کرنے کے بجائے اتنے پیسے کسی غریب کو کیوں نہیں دے دیتے؟ کسی کی مدد کرنا زیادہ بہتر نہیں؟”
اُس کا سوال غلط نہیں تھا۔ آج کی نوجوان نسل ہر معاملے کو عقل، منطق اور احساس کے ترازو پر تولنا چاہتی ہے۔ وہ صرف اندھا دھند رسموں کی پیروی نہیں کرنا چاہتی بلکہ ہر عبادت کے پیچھے حکمت تلاش کرنا چاہتی ہے۔ یہ سوچ اپنی جگہ قابلِ قدر ہے، کیونکہ اسلام نے کبھی انسان کو سوچنے سے نہیں روکا۔ قرآن بار بار انسان کو غور و فکر، تدبر اور تعقل کی دعوت دیتا ہے۔ اسلام کوئی جامد مذہب نہیں بلکہ فطرت، عقل، روح اور انسانیت کا ایک حسین امتزاج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا تعلیم یافتہ نوجوان جب قربانی کے متعلق سوال کرتا ہے تو وہ دراصل دین کی حقیقت کو سمجھنا چاہتا ہے، نہ کہ محض اعتراض کرنا۔ وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ آخر اللہ تعالیٰ کو جانور کے خون کی کیا ضرورت ہے؟ اگر مقصد صرف مدد اور خیر خواہی ہے تو پھر غریبوں میں پیسہ تقسیم کرنا زیادہ بہتر اور زیادہ مفید کیوں نہیں؟ بظاہر یہ سوال بڑا معقول محسوس ہوتا ہے، مگر اس سوال کے پس منظر میں ایک بہت بنیادی غلط فہمی پوشیدہ ہے، اور وہ یہ کہ دین کو صرف انسانی عقل کے پیمانے پر ناپنے کی کوشش۔
حقیقت یہ ہے کہ دین صرف اُن چیزوں کا نام نہیں جو انسان کو فوری طور پر سمجھ میں آجائیں یا جن کی حکمت اس کی محدود عقل پر پوری طرح منکشف ہوجائے۔ دین کا اصل جوہر بندگی ہے، اور بندگی کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دے۔ انسان کی عقل محدود ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کا علم لامحدود۔ انسان زمان و مکان کے حصار میں قید ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ ماضی، حال اور مستقبل سب کا جاننے والا ہے۔ اسی لیے ایمان کا حسن صرف یہ نہیں کہ انسان ہر بات کی حکمت سمجھ لے، بلکہ ایمان کا اصل حسن یہ ہے کہ بندہ اللہ کے حکم پر اعتماد کرے، چاہے اس کی مکمل حکمت اس کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔
اگر دین کو صرف انسانی عقل کے تابع کر دیا جائے تو پھر ہر شخص اپنے ذوق، اپنی خواہش اور اپنی سوچ کے مطابق عبادتوں کی شکلیں بدلنے لگے گا۔ کوئی کہے گا کہ نماز کی بجائے مراقبہ کر لیتا ہوں کیونکہ دل کی یکسوئی ہی اصل مقصد ہے۔ کوئی کہے گا کہ روزے کی بجائے dieting کافی ہے کیونکہ دونوں میں بھوک برداشت کرنی پڑتی ہے۔ کوئی کہے گا کہ حج پر اتنا خرچ کرنے کے بجائے وہی پیسے کسی یتیم خانے کو دے دینا زیادہ مفید ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پھر عبادت اور انسانی خواہش میں فرق کیا باقی رہ جائے گا؟ اگر ہر انسان اپنی عقل کو شریعت پر حاکم بنا لے تو دین کی اصل صورت باقی نہیں رہے گی۔ دین انسان کی خواہشات کے تابع نہیں، بلکہ انسان کو اپنے نفس اور خواہشات کو دین کے تابع کرنا ہوتا ہے۔
قربانی بھی انہی عظیم عبادات میں سے ایک ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے مخصوص طریقے اور مخصوص روح کے ساتھ مشروع فرمایا ہے۔ یہ صرف ایک جانور ذبح کرنے کا عمل نہیں بلکہ اطاعت، محبت، تسلیم اور بندگی کا ایک عظیم مظہر ہے۔ اس عبادت کی بنیاد محض معاشرتی فائدہ نہیں بلکہ روحانی تربیت ہے۔ یہ عبادت انسان کے اندر اس احساس کو زندہ کرتی ہے کہ اللہ کے حکم کے مقابلے میں کوئی چیز بڑی نہیں، نہ مال، نہ خواہش، نہ محبت، نہ اولاد، نہ دنیا کی کوئی اور محبوب شے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی دراصل اسی اطاعت کا استعارہ ہے۔ وہ انسان جنہیں اللہ تعالیٰ نے "خلیل اللہ” یعنی اپنا دوست قرار دیا، ان کی پوری زندگی امتحانات سے عبارت تھی۔ کبھی آگ میں ڈالے گئے، کبھی وطن چھوڑنے کا حکم ملا، کبھی بیوی اور شیر خوار بچے کو بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑنے کا حکم دیا گیا، اور پھر وہ وقت آیا جب بڑھاپے میں عطا ہونے والے بیٹے کو قربان کرنے کا حکم ملا۔ غور کیجیے، یہ محض ایک خواب نہیں تھا، بلکہ اللہ کی طرف سے آزمائش تھی۔ ایک ایسا بیٹا جس کے لیے برسوں دعائیں کی گئیں، جسے بڑھاپے کی تنہائی کا سہارا بنایا گیا، اسی کو اللہ کی راہ میں ذبح کرنے کا حکم دیا گیا۔
یہاں انسانی عقل ٹھہر جاتی ہے۔ دل کانپ اٹھتا ہے۔ جذبات بغاوت کرتے ہیں۔ لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ نہیں کہا کہ "یا اللہ! اس کے بجائے میں سونا چاندی صدقہ کر دیتا ہوں” یا "میں ہزار غریبوں کو کھانا کھلا دیتا ہوں۔” نہیں، انہوں نے فوراً سر جھکا دیا، کیونکہ ان کے نزدیک اصل چیز حکمِ خداوندی تھی، اپنی رائے نہیں۔
اور اس منظر کی عظمت صرف ابراہیم علیہ السلام تک محدود نہیں۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اطاعت بھی اتنی ہی حیران کن ہے۔ جب باپ نے بیٹے سے کہا کہ "میں خواب میں تمہیں ذبح کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں”، تو بیٹے نے جواب دیا:
"اے ابا جان! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے اسے کر گزریے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔”
یہ وہ مقام ہے جہاں عقل محبت کے سامنے، اور محبت اطاعت کے سامنے سرنگوں ہوجاتی ہے۔ یہی قربانی کی روح ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو ہر سال عید الاضحیٰ کے موقع پر تازہ کیا جاتا ہے کہ بندہ اپنے رب کے حکم کے سامنے اپنی خواہشات، محبتوں اور مفادات کو قربان کرنا سیکھے۔
قرآن مجید نے قربانی کی حقیقت کو نہایت جامع انداز میں بیان کیا ہے:
"اللہ تک نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ان کے خون، بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔”
یہ آیت قربانی کی پوری فلسفیانہ اور روحانی حقیقت کو واضح کر دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو نہ گوشت کی ضرورت ہے، نہ خون کی۔ وہ تو تمام جہانوں سے بے نیاز ہے۔ پھر قربانی کیوں؟ اس لیے کہ اللہ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ اس کا بندہ اس کے حکم کے سامنے کس حد تک جھکتا ہے۔ وہ اپنے نفس، اپنے مال اور اپنی محبتوں کو اللہ کی رضا پر قربان کرنے کے لیے کس قدر تیار ہے۔
آج کے دور میں انسان نے ہر چیز کو utility اور practicality کے ترازو میں تولنا شروع کر دیا ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ اس عبادت کا practical فائدہ کیا ہے؟ حالانکہ ہر چیز کا فائدہ صرف مادی نہیں ہوتا۔ کچھ چیزیں روح کو زندہ کرتی ہیں، انسان کے باطن کو پاک کرتی ہیں، اس کے دل میں اللہ کی عظمت پیدا کرتی ہیں۔ قربانی انہی عبادات میں سے ہے۔ جب ایک انسان اپنے ہاتھ سے اپنے پالتو اور محبوب جانور کو اللہ کے نام پر ذبح کرتا ہے تو دراصل وہ اپنے دل میں یہ اعلان کرتا ہے کہ اے اللہ! تیری رضا کے مقابلے میں کوئی چیز عزیز نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ نفس کو ذبح کرنے کا نام ہے۔ تکبر کو ذبح کرنے کا نام ہے۔ مال کی محبت کو ذبح کرنے کا نام ہے۔ دنیا پرستی کو ذبح کرنے کا نام ہے۔ انسان جب قربانی کرتا ہے تو وہ دراصل اپنے اندر یہ احساس پیدا کرتا ہے کہ اگر اللہ مجھ سے کسی اور بڑی چیز کا مطالبہ کرے تو میں اس کے لیے بھی تیار ہوں۔
اسلام نے غریبوں کی مدد کو کبھی نظر انداز نہیں کیا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ قربانی خود ایک اجتماعی خیر اور سماجی ہمدردی کا ذریعہ بنتی ہے۔ قربانی کا گوشت غریبوں، مسکینوں اور محتاجوں تک پہنچتا ہے۔ کتنے ہی ایسے گھر ہوتے ہیں جہاں سال بھر گوشت نصیب نہیں ہوتا، مگر عید الاضحیٰ کے دن ان کے چولہے بھی جلتے ہیں۔ ان کے بچوں کے چہروں پر بھی خوشی آتی ہے۔ اسلام نے قربانی کے ذریعے عبادت اور انسانیت کو ایک ساتھ جمع کر دیا ہے۔
لیکن یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ غریب کی مدد اپنی جگہ ایک مستقل نیکی ہے، جبکہ قربانی ایک مستقل عبادت۔ دونوں کو ایک دوسرے کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔ جس طرح زکوٰۃ نماز کا بدل نہیں بن سکتی، اسی طرح صدقہ قربانی کا بدل نہیں بن سکتا۔ ہر عبادت کی اپنی روح، اپنی حکمت اور اپنی حیثیت ہے۔
قرآن مجید میں بنی اسرائیل کا ایک واقعہ اسی حقیقت کو سمجھانے کے لیے کافی ہے۔ انہیں ہفتے کے دن شکار سے منع کیا گیا تھا۔ لیکن کچھ لوگوں نے ظاہری اطاعت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے چالاکی شروع کر دی۔ وہ ہفتے کے دن جال بچھا دیتے اور اتوار کو مچھلیاں نکال لیتے۔ بظاہر وہ کہتے تھے کہ ہم نے حکم کی خلاف ورزی نہیں کی، لیکن حقیقت میں وہ اللہ کے حکم کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس ظاہری چالاکی کو قبول نہیں فرمایا، کیونکہ اللہ صرف ظاہری شکل نہیں دیکھتا بلکہ دلوں کی کیفیت اور نیتوں کی حقیقت کو دیکھتا ہے۔
آج بھی بعض لوگ دین کو اپنی عقل کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ “اصل مقصد تو غریب کی مدد ہے، طریقہ بدل گیا تو کیا فرق پڑتا ہے؟” لیکن سوال یہ ہے کہ اگر اللہ نے ایک خاص طریقہ مقرر کیا ہے تو پھر بندے کو اختیار کس نے دیا کہ وہ اپنی طرف سے اس میں تبدیلی کرے؟ بندگی کا حسن یہی ہے کہ انسان اپنے رب کے مقرر کردہ طریقے پر عمل کرے۔
قربانی دراصل انسان کو یہ سبق دیتی ہے کہ زندگی صرف مادیت کا نام نہیں۔ انسان صرف کھانے، پینے، کمانے اور لطف اٹھانے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا۔ اس کی زندگی کا ایک روحانی مقصد بھی ہے، اور وہ ہے اللہ کی رضا کا حصول۔ آج کا انسان ترقی یافتہ ضرور ہو گیا ہے، لیکن روحانی طور پر بے سکون ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے پاس آسائشیں بہت ہیں مگر اطمینان کم ہے۔ قربانی انسان کو اس مادی دوڑ سے نکال کر یہ یاد دلاتی ہے کہ اصل کامیابی اللہ کی قربت میں ہے۔
یہ عبادت انسان کے اندر ایثار بھی پیدا کرتی ہے۔ وہ انسان جو اپنی کمائی کا ایک بڑا حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، وہ دراصل اپنے دل کو بخل سے پاک کرتا ہے۔ قربانی انسان کو سکھاتی ہے کہ مال انسان کا معبود نہیں ہونا چاہیے۔ آج دنیا میں سرمایہ پرستی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ لوگ مال کے لیے رشتے قربان کر دیتے ہیں، ضمیر بیچ دیتے ہیں، سچ چھوڑ دیتے ہیں، مگر قربانی انسان کو یاد دلاتی ہے کہ مال اللہ کی امانت ہے، اور جب اللہ چاہے تو اس کی راہ میں خرچ کرنا چاہیے۔
البتہ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بعض لوگوں نے قربانی جیسی عظیم عبادت کو دکھاوے اور نمود و نمائش کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ مہنگے جانوروں کی نمائش، سوشل میڈیا پر تصاویر، قیمتوں پر فخر، اور ایک دوسرے سے بڑھنے کی دوڑ — یہ سب قربانی کی روح کے خلاف ہے۔ اللہ کے نزدیک جانور کی قیمت نہیں بلکہ دل کی کیفیت اہم ہے۔ ممکن ہے ایک غریب آدمی کا چھوٹا سا جانور اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب ہو کیونکہ اس نے خلوص سے قربانی کی، جبکہ ایک مالدار شخص کی بڑی قربانی ریاکاری کی وجہ سے بے وزن ہو جائے۔
اسلام نے ہمیشہ اعتدال کی تعلیم دی ہے۔ نہ فضول خرچی، نہ بخل۔ نہ ریاکاری، نہ بے حسی۔ ایک سچا مسلمان وہ ہے جو قربانی بھی کرتا ہے اور غریبوں کا خیال بھی رکھتا ہے۔ وہ عبادت بھی کرتا ہے اور انسانیت کی خدمت بھی۔ وہ اللہ کے حقوق بھی ادا کرتا ہے اور بندوں کے حقوق بھی۔
نوجوان نسل کے سوالات کو رد کرنا یا ان کا مذاق اڑانا درست نہیں۔ ہمیں ان کے سوالات کا جواب محبت، حکمت اور دلیل کے ساتھ دینا چاہیے۔ کیونکہ آج کا نوجوان جب سوال کرتا ہے تو دراصل وہ دین کو سمجھنا چاہتا ہے۔ اگر ہم نے اس کی رہنمائی نہ کی تو دنیا کے مختلف نظریات اسے اپنے جال میں لے لیں گے۔ ہمیں یہ سمجھانا ہوگا کہ اسلام عقل کا دشمن نہیں بلکہ عقل کی رہنمائی کرنے والا مذہب ہے۔ لیکن عقل کی بھی ایک حد ہے۔ کچھ مقامات ایسے آتے ہیں جہاں بندہ اپنی عقل سے آگے بڑھ کر اپنے رب پر اعتماد کرتا ہے۔ یہی ایمان ہے۔
"سمعنا و اطعنا” صرف ایک جملہ نہیں بلکہ بندگی کی معراج ہے۔ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی۔ یہی وہ جذبہ ہے جس نے صحابۂ کرام کو عظمت دی، یہی وہ روح تھی جس نے ابراہیم علیہ السلام کو خلیل اللہ بنایا، اور یہی وہ کیفیت ہے جو قربانی کے ذریعے ہر مومن کے دل میں پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
قربانی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اللہ کی راہ میں دیا ہوا کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ انسان بظاہر ایک جانور قربان کرتا ہے، مگر حقیقت میں وہ اپنے دل کو زندہ کرتا ہے۔ وہ اپنی روح کو پاک کرتا ہے۔ وہ اللہ سے اپنا تعلق مضبوط کرتا ہے۔ اور یہی وہ دولت ہے جو دنیا کے کسی خزانے سے زیادہ قیمتی ہے۔
آج جب دنیا میں خود غرضی بڑھ رہی ہے، رشتے کمزور ہو رہے ہیں، اور انسان صرف اپنی ذات تک محدود ہوتا جا رہا ہے، قربانی ہمیں ایثار، محبت، تقسیم اور انسانیت کا سبق دیتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دوسروں کے لیے جینا بھی عبادت ہے، مگر عبادت کا اصل حسن تب ہے جب وہ اللہ کے حکم کے مطابق ہو۔
لہٰذا قربانی کو صرف ایک تہوار، ایک رسم یا ایک معاشرتی روایت سمجھنا بہت بڑی غلطی ہے۔ یہ دراصل ایمان کی تجدید ہے۔ یہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی بے مثال اطاعت کی یاد ہے۔ یہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ ایک مومن کی زندگی کا محور اس کا رب ہے، نہ کہ اس کی خواہشات۔
جب ایک مومن "بسم اللہ، اللہ اکبر” کہہ کر قربانی کرتا ہے تو گویا وہ اپنے رب سے یہ عہد کرتا ہے کہ اے اللہ! میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب تیرے ہی لیے ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قربانی کی حقیقی روح سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیں اپنی عبادات میں اخلاص نصیب فرمائے۔ ہمارے دلوں کو تقویٰ، محبت اور اطاعت سے بھر دے۔ اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جو صرف رسمیں ادا نہیں کرتے بلکہ عبادتوں کی روح کو بھی اپنے اندر زندہ رکھتے ہیں۔ آمین
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

