ارم ندیم دہلی
انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ایک حقیقت پوری آب و تاب کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ قوموں کی تعمیر محض عظیم عمارتوں، مضبوط معیشتوں، ترقی یافتہ ٹیکنالوجی یا سیاسی طاقت کے ذریعے نہیں ہوتی، بلکہ ان کی اصل بنیاد ایسے انسان ہوتے ہیں جو اعلیٰ اخلاق، پاکیزہ کردار، متوازن فکر اور مضبوط اقدار کے حامل ہوں۔ اور ایسے انسان کسی یونیورسٹی، کسی ادارے یا کسی سرکاری نظام میں نہیں بلکہ سب سے پہلے ایک ماں کی گود میں پروان چڑھتے ہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اگر آپ ایک مرد کو تعلیم دیتے ہیں تو ایک فرد کو تعلیم دیتے ہیں، لیکن اگر آپ ایک عورت کو تعلیم اور تربیت دیتے ہیں تو درحقیقت ایک پوری نسل کو سنوارتے ہیں۔
ماں فطرت کا وہ عظیم شاہکار ہے جس کے وجود میں محبت، ایثار، قربانی، صبر، شفقت اور تربیت کے تمام رنگ جمع کر دیے گئے ہیں۔ وہ صرف ایک بچے کو جنم دینے والی ہستی نہیں بلکہ ایک ایسی معمار ہے جو خام مٹی کو شخصیت کا قالب عطا کرتی ہے، بے شعور وجود کو شعور بخشتی ہے اور ایک ننھے انسان کے دل و دماغ میں وہ نقوش ثبت کرتی ہے جو پوری زندگی اس کی راہ متعین کرتے ہیں۔ معاشرے کی اخلاقی اور فکری سمت کا تعین دراصل ان گودوں میں ہوتا ہے جہاں آنے والی نسلیں اپنی زندگی کے ابتدائی ایام گزارتی ہیں۔
بچے کی پہلی درسگاہ اس کا گھر اور اس کی پہلی معلمہ اس کی ماں ہوتی ہے۔ بچہ زبان سیکھنے سے پہلے رویے سیکھتا ہے، الفاظ بولنے سے پہلے احساسات کو سمجھتا ہے اور کتابوں تک پہنچنے سے پہلے ماں کے کردار کو پڑھتا ہے۔ وہ اپنی ماں کے چہرے سے محبت کا مفہوم سیکھتا ہے، اس کے لہجے سے احترام کا درس لیتا ہے اور اس کے طرزِ عمل سے زندگی گزارنے کے اصول اخذ کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی معاشرے کے اخلاقی معیار کو جانچنا ہو تو وہاں کی ماؤں کی تربیتی کیفیت کو دیکھ لینا کافی ہوتا ہے۔
ماں کے ہاتھوں میں دراصل مستقبل کی تقدیر لکھی جا رہی ہوتی ہے۔ آج جو بچہ اس کی انگلی پکڑ کر چلنا سیکھ رہا ہے، کل وہی کسی عدالت میں انصاف تقسیم کرے گا، کسی ہسپتال میں مریضوں کا علاج کرے گا، کسی درسگاہ میں علم بانٹے گا، کسی ادارے کی قیادت کرے گا یا کسی قوم کی رہنمائی کرے گا۔ اگر اس کے دل میں دیانت، رحم، عدل اور خدا خوفی کی شمع روشن ہوگی تو اس کے اثرات پورے معاشرے میں محسوس کیے جائیں گے، اور اگر اس کی شخصیت اخلاقی کمزوریوں کا شکار ہوگی تو اس کا نقصان بھی صرف اس فرد تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورا معاشرہ اس کی قیمت ادا کرے گا۔
آج کا دور ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکا ہے۔ سوشل میڈیا، ڈیجیٹل ذرائع، بدلتی ہوئی معاشرتی ترجیحات، بڑھتی ہوئی مادہ پرستی اور تیز رفتار زندگی نے بچوں کی تربیت کو پہلے سے کہیں زیادہ دشوار بنا دیا ہے۔ ایسے حالات میں ماں کی ذمہ داری کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ اب اسے صرف خوراک، لباس اور تعلیم کا انتظام نہیں کرنا بلکہ اپنے بچوں کو فکری انتشار، اخلاقی انحطاط اور نفسیاتی دباؤ سے بھی محفوظ رکھنا ہے۔ یہ ایک ایسا چیلنج ہے جسے صرف وہی سمجھ سکتی ہے جو روزانہ بچوں کی پرورش کے اس طویل اور صبر آزما سفر سے گزر رہی ہو۔
ہر بچہ اپنی فطرت، مزاج، ذہنی ساخت اور صلاحیتوں کے اعتبار سے منفرد ہوتا ہے۔ کوئی بچہ حساس ہوتا ہے، کوئی ضدی، کوئی بے حد متحرک، کوئی خاموش طبع اور کوئی غیر معمولی توجہ کا طالب۔ ایک ماں ہی وہ شخصیت ہوتی ہے جو اپنے بچے کی انفرادی خصوصیات کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ اس کی کمزوریوں کے باوجود اس سے محبت کرتی ہے اور اس کی خامیوں کے باوجود اس کے لیے امید کا چراغ روشن رکھتی ہے۔ یہی غیر مشروط محبت بچے کو نفسیاتی تحفظ عطا کرتی ہے اور اس کی شخصیت کو متوازن انداز میں پروان چڑھاتی ہے۔
افسوس ناک امر یہ ہے کہ جدید معاشرے میں ماں کی جدوجہد کو سمجھنے کے بجائے اکثر اس کا محاسبہ کیا جاتا ہے۔ اگر بچہ شرارتی ہو تو انگلی ماں پر اٹھتی ہے، اگر تعلیمی میدان میں پیچھے رہ جائے تو ماں کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے، اگر بچہ کسی غلطی کا مرتکب ہو جائے تو تربیت پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ گویا معاشرہ ہر مسئلے کا آسان حل یہ سمجھتا ہے کہ سارا بوجھ ماں کے کندھوں پر ڈال دیا جائے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تربیت ایک مشترکہ سماجی عمل ہے جس میں باپ، خاندان، تعلیمی ادارے، دوست، ماحول اور پورا معاشرہ شریک ہوتے ہیں۔
مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ آج ماؤں کا موازنہ بھی ایک مستقل بیماری بن چکا ہے۔ کسی کی اولاد تعلیمی میدان میں کامیاب ہے تو دوسری ماں کو احساسِ کمتری دلایا جاتا ہے۔ کسی کا بچہ زیادہ فرمانبردار ہے تو باقی بچوں کو اسی پیمانے پر پرکھا جاتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ نفسیاتی طور پر نقصان دہ بھی ہے۔ ہر بچہ ایک الگ دنیا ہے اور ہر ماں کا سفر الگ ہے۔ دو بچوں کی تربیت بھی یکساں نہیں ہو سکتی، چہ جائیکہ پوری دنیا کی ماؤں کے لیے ایک ہی معیار مقرر کر دیا جائے۔
یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ کوئی ماں اپنی اولاد کا برا نہیں چاہتی۔ وہ اپنے حصے کی نیند قربان کرتی ہے، اپنی خواہشات پسِ پشت ڈالتی ہے، اپنی آسائشوں سے دستبردار ہوتی ہے اور اکثر اپنی تھکن کو مسکراہٹ کے پیچھے چھپا لیتی ہے۔ اس کی زندگی کا بڑا حصہ اولاد کے گرد گھومتا ہے۔ اگر کبھی اس سے کوئی غلطی ہو جائے، اگر کبھی وہ غصہ کر بیٹھے یا کسی مرحلے پر کمزور پڑ جائے تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اس کی محبت میں کمی آ گئی ہے۔ وہ بھی ایک انسان ہے، اس کی بھی حدود ہیں، اس کی بھی اپنی تھکن اور آزمائشیں ہیں۔
ماؤں کو سب سے زیادہ ضرورت تنقید کی نہیں بلکہ تعاون، حوصلہ افزائی اور سمجھ بوجھ کی ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جو اپنی ماؤں کو مسلسل احساسِ ناکامی میں مبتلا رکھے، وہ دراصل اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کو کمزور کر رہا ہوتا ہے۔ ماں جتنی ذہنی طور پر مطمئن، خوش اور متوازن ہوگی، اتنا ہی اس کے بچوں کی شخصیت پر مثبت اثر پڑے گا۔
موجودہ دور کا ایک بڑا چیلنج موبائل فون اور ڈیجیٹل اسکرینوں کا بڑھتا ہوا استعمال بھی ہے۔ بچپن جو کبھی کھیل کے میدانوں، کتابوں، تخیل اور سماجی تعلقات سے عبارت تھا، اب بڑی حد تک اسکرینوں کے حصار میں قید ہوتا جا رہا ہے۔ بہت سے بچے کھانا کھاتے وقت، سوتے وقت اور جاگتے وقت بھی موبائل فون کے محتاج بن چکے ہیں۔ بلاشبہ والدین کی اپنی مجبوریوں اور مصروفیات کا ایک پہلو موجود ہے، مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس رجحان نے بچوں کی توجہ، تخلیقی صلاحیتوں، سماجی روابط اور ذہنی صحت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ماں اگر اس معاملے میں حکمت اور اعتدال کے ساتھ رہنمائی کرے تو وہ اپنے بچوں کو ایک بڑے خطرے سے بچا سکتی ہے۔
بچوں کی عمر جب دس سے پندرہ سال کے درمیان پہنچتی ہے تو تربیت کا مرحلہ مزید حساس ہو جاتا ہے۔ یہی وہ زمانہ ہے جب شخصیت کے بنیادی خدوخال واضح ہونے لگتے ہیں اور عادات مستقل شکل اختیار کرنے لگتی ہیں۔ اس عمر میں بچوں کو سچائی، دیانت، ذمہ داری اور خود احتسابی کی تعلیم دینا نہایت ضروری ہے۔ انہیں یہ سمجھانا چاہیے کہ زندگی کی اصل کامیابی محض امتحانات میں نمبر حاصل کرنے یا دنیاوی ترقی کے حصول میں نہیں بلکہ اچھا انسان بننے میں ہے۔
دینی تربیت بھی اسی مرحلے کا ایک بنیادی ستون ہے۔ عبادت کو محض ایک رسمی عمل کے طور پر پیش کرنے کے بجائے بچوں کے دلوں میں اللہ کی محبت، اس پر اعتماد اور اس کے سامنے جواب دہی کا احساس پیدا کرنا ضروری ہے۔ جب دل میں ایمان کی روشنی پیدا ہوتی ہے تو اعمال میں پائیداری آ جاتی ہے۔ ماں اگر خود نماز، دعا، ذکر اور اللہ پر توکل کی عملی تصویر بن جائے تو اس کے اثرات بچوں پر الفاظ سے کہیں زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔ بچے کانوں سے کم اور آنکھوں سے زیادہ سیکھتے ہیں۔
مثبت سوچ بھی تربیت کا ایک اہم جزو ہے۔ ماں کی امیدیں، دعائیں اور توقعات بچوں کی شخصیت پر غیر معمولی اثر ڈالتی ہیں۔ جو ماں ہر وقت مایوسی، خوف اور بدگمانی میں مبتلا رہتی ہے، اس کے احساسات لاشعوری طور پر بچوں تک منتقل ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس جو ماں اپنی اولاد کے لیے خیر کی امید رکھتی ہے، ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کرتی ہے اور ان کے لیے دعا گو رہتی ہے، وہ ان کے اندر خود اعتمادی اور حوصلے کے بیج بوتی ہے۔
صحت کے حوالے سے بھی ماں کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ آج فاسٹ فوڈ، کولڈ ڈرنکس اور غیر متوازن غذاؤں نے بچوں کی جسمانی صحت کو شدید متاثر کیا ہے۔ صحت مند جسم اور متوازن غذا دراصل اچھی ذہنی کارکردگی اور مثبت شخصیت کی بنیاد ہیں۔ ماں اگر بچوں کی خوراک کے معاملے میں شعوری رویہ اختیار کرے تو وہ ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
اسی طرح بچوں کی حوصلہ افزائی بھی تربیت کا ایک اہم اصول ہے۔ ہر بچہ اپنی جگہ منفرد صلاحیت رکھتا ہے۔ بعض بچے تعلیمی میدان میں نمایاں ہوتے ہیں، بعض فنون میں، بعض کھیلوں میں اور بعض سماجی مہارتوں میں۔ انہیں دوسروں سے موازنہ کرنے کے بجائے ان کی انفرادی خوبیوں کو نکھارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایک چھوٹی سی تعریف، ایک محبت بھرا جملہ اور ایک حوصلہ افزا رویہ بچے کی زندگی کا رخ بدل سکتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ عظیم شخصیات کے پیچھے عظیم ماؤں کا کردار موجود رہا ہے۔ جن لوگوں نے دنیا میں علم، فکر، قیادت اور اخلاق کے چراغ روشن کیے، ان کی شخصیت سازی میں ماؤں کی دعاؤں، قربانیوں اور تربیت کا حصہ نمایاں تھا۔ ماں کی دعا بظاہر خاموش ہوتی ہے، مگر اس کی تاثیر وقت کے پردوں کو چیر کر انسان کی زندگی میں روشنی بکھیر دیتی ہے۔ کتنے ہی لوگ ہیں جن کی کامیابیوں کے پس منظر میں ایک ماں کی سجدوں میں بھیگی ہوئی دعائیں موجود ہیں۔
آخرکار یہ حقیقت تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ معاشروں کی تعمیر پارلیمانوں، عدالتوں اور تعلیمی اداروں سے پہلے گھروں میں ہوتی ہے۔ گھر کی فضا اگر محبت، اخلاق، احترام اور ایمان سے معطر ہوگی تو اس کے اثرات پورے معاشرے میں پھیلیں گے۔ اور اگر گھروں کی بنیادیں کمزور ہوں گی تو بیرونی ترقی بھی معاشرے کو حقیقی استحکام فراہم نہیں کر سکے گی۔
ایک ماں صرف ایک بچے کی پرورش نہیں کرتی بلکہ درحقیقت ایک پوری نسل کی تعمیر کرتی ہے۔ اس کے ہاتھوں میں قوموں کا مستقبل ہوتا ہے، اس کی آغوش میں کل کے قائد پروان چڑھتے ہیں اور اس کی دعاؤں میں آنے والے زمانوں کی تقدیریں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ اسی لیے یہ کہنا مبالغہ نہیں کہ ماں صرف ایک رشتہ نہیں، ایک ادارہ ہے؛ صرف ایک فرد نہیں، ایک تہذیب ہے؛ صرف ایک گھر کی بنیاد نہیں بلکہ پورے معاشرے کی روح اور اساس ہے۔ جب مائیں مضبوط، باوقار، باشعور اور تربیت کے اعلیٰ شعور سے آراستہ ہوں گی تو ان کی گود سے نکلنے والی نسلیں بھی اخلاق، کردار اور انسانیت کے روشن مینار ثابت ہوں گی، اور یہی وہ راستہ ہے جو ایک مضبوط، مہذب اور بااخلاق معاشرے کی تشکیل کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

