ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی
آراضی باغ، اعظم گڑھ
یہ حقیقت ہے کہ دین اسلام ایک ایسا جامع مذہب ہے جس نے نہ صرف خواتین کو غلامی کی
زنجیروں سے آزاد کرا کر اسے ملکہ کا شرف بخشا بلکہ زندگی کے وہ زریں اصول فراہم کئے جن
پر عملدرآمد سے ہی زندگی کی کامیابی و ترقی مربوط ہے۔
لیکن ہندوستانی سماج کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ اسی دین کے نام پر زندگی کے کچھ اصول سے پہلو تہی برتی جاتی ہے اور بالخصوص خواتین کے حقوق کا استحصال کیا جاتا ہے ۔ ایسے معاشرے میں والدین کی تربیت میں ایک ایسا بدنما داغ پایا جاتا ہے جو بیٹا اور بیٹی کے درمیان بھید بھاؤ کی صورت میں نمودار ہوتا ہے اور اس کا منفی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بیٹے کی نشوونما اس فکر کے ساتھ ہوتی ہے کہ وہ اس جاگیر کا تنہا مالک ہے جس میں کسی کی اجارہ داری قبول نہیں تو دوسری جانب بیٹی ایک ایسی فکر کے ساتھ اپنی زندگی کی گاڑی کو آگے بڑھاتی ہے کہ وہ دوسرے کی جاگیر ہے جہاں اس کی اپنی ذات کا کوئی حق نہیں۔
اسی منفی سوچوں کے بھنور میں جب ایک بیٹا اپنی کشتی کو زندگی کے ساحل پر لانے کی کوشش کرتا ہے تو تربیت کا وہ منفی کردار اس کی سوچوں کا رخ محض ایک جانب موڑ دیتا ہے جہاں اسے صرف اپنے حقوق کی وکالت تو آتی ہے مگر اپنی ساتھی یا کسی بھی خاتون کے حقوق کی وکالت برداشت نہیں ہوتی۔
ہندوستانی سماج جو ایک کثیر جہتی تہذیب و ثقافت کا آئینہ دار ہے جس میں اکثریتی فرقہ ان روایات کا پابند ہے جہاں خواتین کو مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کا حق تو بہت دور انہیں با عزت طریقے سے سر اٹھا کر چلنے کی بھی اجازت نہیں بلکہ وہ ایک دبی کچلی قوم ہے جسے اپنی خواہشات کی تکمیل کی قطعی اجازت نہیں۔ اور شاید اسی کے منفی اثرات آج مسلم سماج میں بھی رچ بس گئے ہیں.
جو مسلم مردوں کے ذہن و دماغ میں ایک جاہلانہ فکر کو پروان چڑھا رہا ہے۔ اور وہ یہ کہ مرد ایک
مرد ہے لہذا وہ جو چاہے اپنی مرضی کے مطابق انجام دے سکتا ہے خواہ وہ ظلم کا کوہ گراں بن کر کسی کی شخصیت کو پاش پاش کیوں نہ کر رہا ہو لیکن ایک عورت اس پر چوں چراں بھی نہیں کر سکتی کیونکہ وہ ایک عورت ہے۔
اسی فکر کے تحت پروان چڑھنے والا شخص جب اپنی ازدواجی زندگی میں قدم رکھنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ منفی فکر اس کی طبیعت پر حاوی ہوجاتی ہے جو بالآخر اس کے رشتے کی کمر توڑنے پر منطبق ہوتی ہے۔ ایسا شخص سب سے پہلے معاشرے میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے لئے اہل معاشرہ کے سامنے یہ ڈھونگ رچاتا ہے کہ اسے ایک نئی زندگی شروع کرنے کے لئے صرف ایک دیندار لڑکی کی ضرورت ہے جہاں نہ جہیز کا مطالبہ ہے اور نہ ہی بارات اور دیگر رسوم کی ادائیگی کی ضرورت ہے مگر بند دروازے سے اسے ہر اس چیز کی ضرورت ہوتی ہے جسے وہ سماج کے سامنے منع کرچکا ہوتا ہے۔ اور اس کے ان مطالبات کے پورا نہ ہونے کی صورت میں وہ”الرجال قوامون علی النساء” کی تفسیر تو یاد رکھتا ہے لیکن اس کے پیچھے” و بما انفقوا من اموالھہم” کی توجیہ کو بالائے طاق رکھ دیتا ہے۔ اسے ” و للرجال علیھن درجہ” کی تاویل تو ازبر ہوتی ہے لیکن وہ "عاشروھن بالمعروف” کی سچی توضیح سے پہلو تہی کرتا ہے۔ اسے فرمان رسول کے مفہوم ” شوہر اگر اپنی بیوی کو بلاوجہ پہاڑ پر چڑھنے کا حکم دے تو وہ اس کی پابند ہے ” تو ازبر ہوتے ہیں لیکن اسے حجہ الوداع کے موقع پر زبان رسالت سے نکلنے ہوئے قیمتی فرمودات ” اتقوا اللہ فی النساء ” یاد نہیں رہتے۔ اسے شوہروں کے حقوق پر مبنی تمام حدیثیں تو یاد رہتی ہیں مگر ” خیر المتاع الدنیا : المرأة الصالحہ ” والی حدیث پر نظر نہیں پڑتی۔ اسے چوہدرانہ نظام کے تحت محکومیت کی زندگی گزارنے والی عورتوں کی سیرت تو بخوبی یاد رہتی ہیں لیکن ہادی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنی بیویوں کے ساتھ حسن سلوک نظر نہیں آتے۔ اسے اکثریتی طبقہ کے زیر اثر پروان چڑھنے والی عورتوں کے کردار تو یاد رہتے ہیں مگر ازواج رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانے کی باتوں پر نظر نہیں جاتی جو اس بات کی غماز ہے کہ شریعت محمدیہ نہ صرف مردوں کے حقوق کی پابند ہے بلکہ عورتوں کے حقوق کی بھی محافظ ہے۔ لیکن شریعت کے ان تمام زریں اصولوں سے قطع نظر ہندوستانی سماج کے زیر اثر پروان چڑھنے والے مرد حضرات اور بالخصوص وہ مرد حضرات جو بظاہر متدین اور شریعت اسلامیہ کے اصولوں کے پابند نظر آتے ہیں جن کی پہچان سماج کے پنج وقتہ نمازی کے طور پر ہوتی ہے اور جن کی شناخت ایک دیندار شخص کے طور پر ہوتی ہے لیکن ایسے ہی شخص کا سابقہ جب خواتین سے پڑتا ہے تو وراثت کے نام سے بہنوں کے حصے کی بات پر ایک بھائی آپے سے باہر ہوجاتا ہے اور شب و روز درس و وعظ کا اہتمام کرنے والا شخص قطع رحمی کا مرتکب ہوتا نظر آتا ہے اور ایسے ہی شخص کا واسطہ جب خاتون خانہ سے پڑتا ہے تو جہیز کے سلگتے انگارے پر محبت و مودت کا قطرہ ڈال کر اسے بجھانے کے بجائے پچھلے دروازے سے ڈاکہ ڈالنے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔ ایسے ہی لوگوں کے دوہرا معیار کو دیکھ کر یہ مقولہ ثبت کرنا بے جا نہ ہوگا:
” ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور ہیں کھانے کے اور”
آئے دن معاشرے میں رونما ہونے والے حادثات اس بات کا پردہ فاش کرتے نظر آتے ہیں جہاں کبھی جہیز نہ ملنے کی صورت میں ایک معصوم کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے تو کبھی بظاہر متدین اور شریعت کا پابند شخص اپنی پاکیزہ صفت بیوی کے کردار پر کیچڑ اچھالنے میں دیر نہیں کرتا جس کا منفی نتیجہ یا تو طلاق کی صورت میں ابھرتا ہے یا پھر وہ لڑکی گھٹ گھٹ کر جینا سیکھ جاتی ہے کیونکہ بچپن سے اسے یہ تربیت دی جاتی ہے کہ جس گھر میں رخصت ہوکر جائے وہیں سے اس کا جنازہ اٹھے یا پھر کمزور ایمان والی لڑکی دلبرداشتہ ہو کر انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ آخر ان واقعات کی وجوہات کیا ہیں؟ سماج کے دانشوروں نے شاید اس سے صرف نظر کیا اور اثر و رسوخ والے افراد نے اس کا قلع قمع کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔
اس کی وجوہات مندرجہ ذیل ہیں:
1) شریعت اسلامیہ کا کامل علم نہ ہونا
2) والدین کا اولاد کی تربیت کے تئیں سنجیدہ نہ ہونا
3) والدین کا بیٹی اور بیٹے کے درمیان بھید بھاؤ کرنا
4) با اثر افراد کا رونما ہونے والے حادثات پر عملی قدم نہ اٹھانا
5) جہیز اور دیگر رسوم کی ادائیگی میں ملوث افراد کا بائیکاٹ نہ کرنا۔
اب ایسی صورت میں جب دین کے نام پر خواتین کے حقوق کا استحصال ہو رہا ہو اور اس کے ازالہ
میں خاطر خواہ کامیابی نظر نہ آ رہی ہو تو درجہ ذیل نکات پر عملدرآمد کاریگر ثابت ہو سکتا ہے:
1) ائمہ دین سب سے پہلے والدین کو اولاد کی دینی تربیت کی تاکید کریں نیز شریعت اسلامیہ کا مکمل بنیادی علم حاصل کرنے پر زور دیں۔
2) منبر خطبہ سے جہیز کے خلاف آواز اٹھائیں اور شریعت میں مقرر کردہ وراثت کے اصول
سے متعارف کرائیں اور بالخصوص عورتوں کے وراثت میں حقوق کی بات پر زور انداز میں
پیش کریں اور عدم ادائی کی صورت میں آئی وعد و وعید سے روشناس کریں۔
3) والدین اپنی اولاد کی تربیت میں بھید بھاؤ نہ کریں بلکہ اگر بیٹی کو صبر و تحمل کی تعلیم
سے مالا مال کرتے ہیں تو وہیں پر بیٹوں کو بھی اچھے اخلاق کا حامل بننے کی تاکید کریں۔
انہیں اس بات سے باور کرائیں کہ وہ اگر کسی بہن کا بھائی ہے تووہ اس کی وراثت کی ایک
تہائی کی حقدار ہے، وہ اگر کسی عورت پر قوام ہے تو اس کے روز مرہ مصارف زندگی کا
ذمہ دار بھی وہی ہے۔ اس کی زندگی میں آنے والی لڑکی کی ہر ضرورت کی تکمیل اس کی
ذمہ داری ہے نیز اس کی بیوی کے اوپر اگر اس کے حقوق ہیں تو کچھ فرائض بھی اس کے
ذمہ اس کی بیوی کے تئیں ہیں جس کی ادائیگی اسی پر فرض ہے اور عدم ادائیگی کی
صورت میں وہ عند اللہ جوابدہ ہوگا۔ اس کے سامنے یہ حقیقت آشکار کریں کہ اگر تمہارے
سینے میں دل ہے اور ہر گہری بات کی چوٹ تم پر لگتی ہے تو تمہاری ساتھی کے سینے میں
بھی دل ہے۔ غرض یہ کہ والدین اپنی اولاد کو حقوق اور فرائض دونوں سے آگاہ کریں۔
4) معاشرے میں رونما ہونے والے ناپسندیدہ واقعات پر سماج کے اثر و رسوخ والے افراد اس
کے خلاف سخت قدم اٹھائیں اور ملزم کو سخت سزا دلوائیں۔
5) جو شخص ہاتھی کے دانت کے اصولوں کو اپنائے اس کا چہرہ بے نقاب کرنے میں با اثر
افراد کوئی کسر نہ چھوڑیں۔
6) معاشرے کے تعلیم یافتہ افراد وقتا فوقتا پری میرج کانسلنگ کے موضوع پر سیمینار یا
ورکشاپ کا انعقاد کریں جہاں زوجین کے حقوق و فرائض پر سیر حاصل گفتگو ہو۔ اور اسی
پلیٹ فارم پر ان وجوہات کو سامنے لانے کی کوشش کریں جو دور جدید میں زوجین کے
باہمی تعلقات کے بگاڑ کا سبب بنتی ہیں مثلا، جھوٹ، ضد، ہٹ دھرمی، انا پرستی، شکوک
و شبہات اور سوشل میڈیا کا بے جا استعمال وغیرہ اور اس کے فعال رزلٹ کے لئے اس کے
ازالہ کی تدابیر سے روشناس کریں۔
غرض یہ کہ موجودہ دور میں تمام مسائل کا حل پیش کرنے والے دین کی آڑ میں خواتین کے حقوق کے استحصال کی جو ناپاک کوشش ہورہی ہے اس کا واحد حل یہ ہے کہ صحیح معنوں میں دین اسلام کی تعلیمات سے بہرہ ور ہوں اور علماء دین اور بالخصوص والدین اپنی اولاد کی تربیت اسلامی نہج پر کریں اور ایسا تبھی ممکن ہے جب ایک طرف دل حب الہی سے سرشار ہو اور دوسری طرف خوف آخرت پوری طرح سے پیوست ہو تو اس کا مثبت نتیجہ یہ سامنے آئے گا کہ والدین اولاد کی اسلامی تربیت کے لئے سنجیدہ ہوں گے اور اس نہج پر پروان چڑھنے والی اولاد نہ صرف کسی خاندان کی سربراہ ہوگی بلکہ وہ معمار قوم بن کر ملت کی رہنمائی کرے گی۔
اللہ تعالٰی ملت کے بیٹوں کو ایک دوسرے کے حقوق و فرائض سے روشناس کرے اور انہیں قائد ملت کے تمغے سے نوازے۔ آمین یا رب العالمین
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

