غزل
ہم نے اُسے پہچان لیا مدتوں کے بعد
وہ بھی ہمیں مان گیا مدتوں کے بعد
کیا کیا وفائیں ہم نے نبھائیں سکوت میں
شکوہ لبوں پہ نہ آیا حسرتوں کے بعد
جھوٹے نقاب اُتر ہی گئے تیری ذات کے
سچ بھی نظر میں آیا بڑی عبرتوں کے بعد
شرافتوں کا دور تو کھویا زمانہ سا
دنیا بدل گئی ہے نئی فطرتوں کے بعد
یوں ہی نہیں وہ پھرتا ہے اب دربدر بہت
قدرِ وفا سمجھ میں آئی ٹھوکروں کے بعد
کانٹے بچھانے والوں کو اب نیند کب ملے
زخموں کی دھجیاں اُڑ گئیں نفرتوں کے بعد
صائمہ اب تو بدل جائے گا ہر ایک رویہ
دل کو سنبھالنا ہوگا بہت چاہتوں کے بعد
صائمہ مقبول
جموں و کشمیر
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

