Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      فروری 5, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کے نصف درجن مونوگراف پر ایک نظر…

      نومبر 17, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادب کا مستقبل

      اجمل نگر کی عید – ثروت فروغ

      اپریل 4, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر نجمہ رحمانی کی شخصیت اورحیات انتہائی موثر:…

      مارچ 25, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      متفرقات

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      متفرقات

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      متفرقات

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      فروری 5, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کے نصف درجن مونوگراف پر ایک نظر…

      نومبر 17, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادب کا مستقبل

      اجمل نگر کی عید – ثروت فروغ

      اپریل 4, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر نجمہ رحمانی کی شخصیت اورحیات انتہائی موثر:…

      مارچ 25, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      متفرقات

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      متفرقات

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      متفرقات

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
ادب کا مستقبل

علامہ شبلی نعمانی کی حیات زندگی اور ان کی علمی وادبی خدمات – اسلم رحماؔنی 

by adbimiras اگست 7, 2022
by adbimiras اگست 7, 2022 0 comment

علامہ شبلی نعمانی کی ولادت اعظم گڑھ ضلع کے ایک گاؤں بندول جیراج پور میں 3/ جون 1857 میں عین اس ہنگامہ خیززمانہ میں ہوئی جو عام طور پر غدر کے نام سے مشہور ہے۔ والدین نے آپ کا نام شبلی رکھا۔ان کے استاذ مولانا فاروق چریا کوٹی نے ان کا لقب نعمانی رکھ دیا تھا۔مولانا نے ابتدائے جوانی میں اردو میں اپنا تخلص تسنیم رکھاتھا۔

 

تعلیم و تربیت:

دستور زمانہ کے مطابق قرآن پاک اور فارسی کی ابتدائی تعلیم گاؤں ہی میں حاصل کی،مزید تعلیم کے لئے مدرسہ عربیہ اعظم گڑھ میں داخل ہوئے۔شبلی نعمانی کی تعلیمی سفر کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے آپ کے شاگرد رشید مولانا سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں کہ:

علامہ مرحوم نےدرسیات کی تکمیل اگرچہ مولانا فاروق ہی سے کرلی تھی،لیکن ان کے ذوق علمی نے ان کو دوسرے خرمنوں کی خوشہ چینی پرآمادہ کیا،ہندوستان کے مختلف گوشوں میں ادب،فقہ اور حدیث کے جو اساتذہ اپنےاپنے فن میں یگانہ عصر سمجھے جاتے ان سے بھی استفادہ کرنے کا شوق دامن گیرہوا،مولانا کے والد مرحوم اس کو غیر ضروری سمجھتے تھے۔علاوہ بریں و بلاضرورت شدید اپنے نوریدہ کو آنکھ سے اوجھل کرنا بھی پسند نہ کرتے تھے،مگر مولانا کی والدہ نے جو بہت باہمت خاتون تھیں، مولانا کی بےتابی شوق کو دیکھنا گوارا نہ کیا،ان ہی کی ہمت افزائی کا اثر تھاکہ بالآخر مولانا نے طلب علم کےشوق میں دیار وطن کی دل چسپیوں کو خیرباد کہا۔

(حیات شبلی،ص:94 دارالمصنّفین شبلی،اکیڈمی  اعظم گڑھ، یوپی)

 

شعر و سخن:

شبلی نعمانی کی مایہ ناز شخصیت اردو ادب میں ناقد، شارح،مورخ،سوانح نگار،سیرت نگار اور انشاپرداز کی حیثیت سے مسلم اور لاثانی ہے،ان کی شاعری پر روشنی ڈالتے ہوئے سید سلیمان ندوی رقمطراز ہیں کہ:

مولانا شبلی نعمانی شاعر نہ تھے،مولانا شبلی نعمانی شاعرتھے،دونوں باتیں اپنی اپنی جگہ درست ہیں،وہ شاعر نہ تھے۔کیوں کہ ان کا نام شاعروں کی فہرست میں نہیں اور پبلک میں شاعر کی حیثیت سے ان کی شہرت نہیں، لیکن وہ شاعر تھے،کیوں کہ ان کا اردو اور فارسی کا دیوان موجود ہے۔

(کلیات شبلی اردو،ص:3/ دارالمصنّفین،شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ، یوپی)

شبلی نعمانی کی ابتدائی شاعری کا ذکر کرتے ہوئے سید سلیمان ندوی مزید لکھتے ہیں کہ:

مولانا شبلی جب اوپر کی کتابیں پڑھنے لگے تواردو اور فارسی میں اکثر شعر کہنے لگے،فارسی شاعری کاذوق تو بہت اچھا تھا، مگر اردو شاعری ایسی ہی تھی ،جیسے اکثر نوجوان علم کے زور یاجوانی کے جوش سے شعر کہنے لگتے ہیں، حاضر جوابی یہ تھی کے فورا شعر کہتے تھے۔ اس زمانہ میں مولانا کا تخلص تسنیم تھا۔

(کلیات شبلی اردو،ص: 4/ دارالمصنفین، شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ، یوپی)

شبلی کے اردو کلام میں شعری اور فنّی محاسن کےلحاظ سے ان کی مندرجہ ذیل مثنوی ” صبح امید” درجہ اول پرہے۔

ادارک حال مازنگہ ہی تواں نمود

جب قوم تھی مبتلائے آلام

 

کیا یاد نہیں ہمیں وہ ایام؟

جب قوم تھی مبتلائے آلام

 

وہ قوم کہ جان تھی جہاں کی

جوتاج تھی فرق آسمان کی

 

تھےجس پہ نثار فتح واقبال

کسری کو جوکر چکی تھی پامال

 

گل کردئے تھےچراغ جس نے

قیصر کودیے تھے داغ جس نے

 

وہ نبزۂ جوں فشاں کہ چل کر

ٹھہراتھا فرانس کےجگرپر

 

روماکے دھوئیں اڑادتےتھے

اٹلی کو کنوئیں جھنکا دیے تھے

 

بایں ہمہ جاہ وشوکت وفر

اقلیم ہنر بھی تھے مسخر

 

ہیت میں بلند پایہ اس کا

تھافلسفہ زیر سایہ اس کا

مندرجہ بالا کلام کے مطالعے سے یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ شبلی نعمانی بلند افکار و خیالات کےمالک تھے۔،سید سلیمان ندوی ان کی مرثیہ نگاری کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

مولانا کی طبیعت بہت ہی حساس تھی،اس لئے وہ فوری واقعات سےبہت جلدمتاثر ہوتےتھے،اوریہی تاثیر ان کی شاعری کی روح تھی، یہی سبب ہےکہ مولانا نے اپنے زمانہ کے اکثر ناموروں کی وفات پر مرثیے لکھے،اور بڑے پردرد لکھے،مگر یہ سب مرثیے فارسی میں لکھے گئے ہیں، اپنی زندگی کے سب سے آخری سانحہ یعنی اپنے بھائی مولوی اسحاق وکیل ہائی کورٹ الہ آباد کی وفات پر جودلدوز نوحہ لکھاہے،وہ اردو ہی میں لکھا ہے،اور حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک اردو مرثیہ، ہماری زبان کے  شریں مرثیوں کےلئے ایک عمدہ نمونہ ہے،مرثیہ کیاہے دردکی پوری تصویر ہے۔

(ایضا)

وہ برادرکہ مرایوسف کنعانی تھا

وہ مجموعۂ ہرخوبی انسانی تھا

 

وہ کہ گھربھر کےلئےرحمت یزدانی تھا

قوت دست ودل شبلی نعمانی تھا

 

جوش اسی کاتھاجومیرےسرپر سور میں تھا

بل اسی کا یہ مرے خامۂ پرزور میں تھا

 

نثر نگاری و فنی صلاحیت:

شبلی نعمانی ایک باکمال شخصیت کےمالک تھے۔شبلی نے تاریخ اور فلسفہ جیسے موضوعات کوبھی مزیدار اور دلچسپ بناتے ہوئے اپنی فنی صلاحیتوں کا ثبوت دیاہے۔وہ اپنے مفہوم اور مطلب کو واضح کرنے کےلئے عربی اور فارسی کے لفظوں سے بھی گریز نہیں کرتے تھے۔ان کی ہر تصنیف درجہ اول کےادب میں شمار کی جاتی ہے۔ان کی طرز تحریر صاف،رواں اورسادہ ہواکرتی تھی جوایک عام قاری کوبھی بڑی آسانی کےساتھ سمجھ میں آجاتی ہے۔ عہد شبلی کے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے حیات شبلی میں سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں کہ:

علماء جوکچھ لکھتے تھےوہ عربی فارسی میں، مولانا بھی علی گڑھ آنے سے پہلے تک اسکات المعتدی عربی میں لکھی،فارسی نامے بڑی کوشش سے لکھتے تھے،صرف ایک رسالہ "قرآۃ فاتحہ خلف الامام” کے رد میں اردو میں لکھا،مگر اس کو اپنے نام سے نہیں چھپوایا،لیکن جس طرح ہمارے علمائےکرام نے زمانہ کی زبان بدلنے کے ساتھ عربی کی جگہ مفید عام تالیفات فارسی میں شروع کردیں اور پھرفارسی کاچلن بدلنے پر،مولانا نے عربی اور فارسی کو چھوڑ کراردو کی طرف توجہ فرمائی اور اس زبان کو جس نسبت بہ طور معذرت سیرۃ النعمان میں یوں فرماتے ہیں ” حرف بہ اردو زدن آئیں نہ بود” اپنی نکتہ سنجیوں اور خوش بیانیوں سے عروج بخشا کہ علماء زمانہ کےلئے اس میں لکھنا پڑھنا مطلق عار نہ رہا اور بےشمار کتابیں ان کے قلم سے اس زبان میں تالیف پائیں،اس سےآگے بڑھ کریہ کہ اس میں بعض علمائے اسلام نے بھی کتابیں لکھیں جو اپنی ہدایت وافادیت اور مضامین کی بلندی وندرت کے لحاظ سے قابل قدر ہیں۔مگر بیان کے اشکال، تعبیر کی دقت،علمی وفنی اصطلاحات کی کثرت اور فلسفیانہ طرزبیان کے تتبع کےسبب سےعوام تو عوام خواص کے دسترس سے بھی وہ باہر ہیں،مولانا نےاپنے لیے بیان کی سہولت، عبارت کی روانی، ترتیب کی خوبی،عام فہم الفاظ کے انتخاب اور تشبیہ واستعارہ کی عمدگی سے وہ طرز نکالا کہ ان کی کتابیں ادب انشا کا اعلی نمونہ قرارا پائیں اور تعلیم یافتہ تو تعلیم یافتہ حضرات علماء کو بھی بالآخر اس کی تقلید سےچارہ نہ رہااور ادب تووہ علمی و مذہبی علوم کی ٹکسالی زبان بن گئی ہے۔

(حیات شبلی، ص:22تا23/ دارالمصنفین، شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ، یوپی )

فنی خصوصیات:

شبلی نعمانی مشرقی زبانوں میں، عربی، فارسی،اور اردو تینوں سے نہ صرف واقف بلکہ تینوں میں صاحب ذوق وصاحب تصانیف تھیں،تنوع، رنگارنگی،ان کی تحریر کی نمایاں خصوصیت ہے۔ ان کی فنی کمالات اور حسن اسلوب کا اعتراف کرتے ہوئے ظفر احمد صدیقی لکھتے ہیں کہ:

مولانا شبلی ادیب وانشا پرداز بھی ہیں اور شاعر وناقد بھی،متکلم ومعقولی بھی ہیں اور مورخ وسوانح نگار بھی ،اور بلند پایہ مقالہ نگاربھی،پھران کے کارناموں کا الگ الگ جائزہ لجیئے، تو ہرجگہ ایک سےزیادہ ہی پہلو نظر آئیں گے۔مثلا ان کی انشا پردازی نہ حالی کی طرح سادہ،سپاٹ اور خشک ہے،نہ محمد حسین آزاد کی طرح مرصع، رنگین اور پراز تشبیہات و استعارات، بلکہ دونوں کی ملی جلی کیفیت لیے ہوئے ہے۔اسی طرح بحیثیت شاعر وہ نظم گوبھی ہیں اور غزل گوبھی، انھوں نے قصیدے بھی لکھے ہیں اور مثنویاں بھی،رباعیاں کہی ہیں اور مرثیے بھی،پھر سنجیدہ شاعری بھی کی ہے اور طنزیہ بھی۔فارسی میں بھی طبع آزمائی کی ہے اور اردو میں بھی،یہی حال ان کی تنقید نگاری کا بھی ہے،ایک طرف انھوں نے حافظؔ،سعدیؔ،اور خسروؔ جیسے شاعروں کے کلام کو تنقید،تبصرے اور محاکمے کا موضوع بنایاہے،تودوسری طرف اردو شاعروں میں انیسؔ ودبیر کےکلام کا موازنہ ومقابلہ بھی کیا ہے۔

(ہندوستانی ادب کا معمار ،ص:25/ ساہتیہ اکادمی، نئی دہلی)

 

مقالہ نگاری:

شبلی ہر فن مولا تھے انہوں نے اردو ادب کی تمام ہی اصناف میں طبع آزمائی کی اور اپنے مشاہدے اورتجربے کی روشنی میں ادب کی میدان میں گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ان کی تصنیفات کی طرح ان کے مقالات بھی بڑی اہمیت کے حال ہیں۔انہوں نے علمی ادبی تنقیدی، تاریخی، تعلیمی،فلسفیانہ اور مذہبی مقالات لکھے جو اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہے۔ ان کے مقالات بہت ہی اہمیت کے حامل ہیں۔ ظفر احمد صدیقی رقمطراز ہیں کہ:

مولانا شبلی نے مستقل تصانیف کےعلاوہ گوناگوں موضوعات سےمتعلق درجنوں بلند پایہ مقالات بھی یادگار چھوڑے ہیں۔ان سے ان کے مطالعے کی وسعت اور علمی ذوق وشوق کے تنوع کا اندازہ ہوتا ہے۔

(ہندوستانی ادب کے معمار، ص:94/ ساہتیہ اکادمی،نئی دہلی)

مندرجہ بالا اقتباس کے مطالعہ کے بعد یہ کہنا بجا ہوگا کہ ایک کامیاب مصنف کے اندر جو خوبیاں ہونی چاہیے تھیں وہ تمام خوبیاں شبلی نعمانی کی تحریر اور تصانیف میں موجود ہیں۔

 

تحریری کمالات:

پیرایہ بینا کی دل نشینی اور زور بیان وقوت استدلال شبلی نعمانی کی تحریر کی اہم ترین خصوصیت ہے۔ ظفر احمد صدیقی لکھتے ہیں کہ:

پیرائہ بیان کی دل نشینی اور طرزادا کی رعنائی میں بھی مولانا شبلی نعمانی کا کوئی جواب نہ تھا،ان کے مخالفین بھی اس بات کے معترف رہا کرتے تھےکہ وہ اپنی گفتگو سے مخاطب کو بہت جلد اپنا ہم نوا بنالیتے ہیں۔وہ جہاں بھی موجود ہوتے،گل افشانی گفتار کی وجہ سے میر مجلس بنے رہتے، مقدمات کی تمہید دلائل کی ترتیب اور مطلوب ومدعا کی تعبیر پر انھیں غیر معمولی قدرت حاصل تھی۔

(ہندوستانی ادب کے معمار ،ص:4/ساہتیہ اکادمی، نئی دہلی )

شبلی نعمانی اردو زبان کے مایہ ناز مصنفین میں شمار کیےجاتے ہیں۔ان کی تصانیف اردو زبان کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان کی نثر عالمانہ متین اور شگفتہ ہوتی ہے۔موضوع کے لحاظ سے ان کی تحریریں تاریخ،سوانح، سیرت،اور علم کلام اپنے آپ میں ایک عمدہ مثال ہیں۔

 

نظریہ تاریخ نویسی:

تاریخ کافن بہت قدیم ہے لیکن مسلم مورخین نے اس میدان میں خو تنوع پیدا کیا اور اسکو جتنی ترقی دی اس کے اعتبار سے یہ کہنا بیجا نہ ہوگاکہ اس فن میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ ڈاکٹر اسپرنگ ” اصابہ” کے دیباچہ میں لکھتے ہیں کہ:

نہ کوئی قوم دنیا میں ایسی گزری نہ آج موجود ہے جس نے مسلمانوں کی طرح اسماءالرّجال کا سا عظیم الشان فن ایجاد کیا ہو جس کا بدولت آج پانچ لاکھ شخصوں کا حال معلوم ہوسکتا ہے۔

(سیرۃ النبی (فٹ نوٹ) ص:28/ مطبوعہ نامی پریس کانپور )

شبلی نعمانی نے تاریخ نویسی کی اس اعلی روایت کے مطابق تاریخ نگاری کی دنیا میں انقلاب برپا کردیا آپ کی دیگر تصانیف میں الفاروق ایک نایاب تصنیف ہے۔شبلی نے اس کتاب میں نہایت محققانہ انداز، عالمانہ اسلوب اور ادبی طرز کو ملحوظ رکھتے ہوئے جا باتیں تحریر کیں ہیں اس نے اس کتاب کو منفرد اور مثالی بنادیاہے۔اہل ذوق اس کتاب کے مطالعہ کے بعد یہ کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ شبلی فقط ایک مورخ نہیں یا سوانح نگار نہ تھیں بلکہ شبلی تو غیر منقسم ہندوستان کے ابن خلدون اور ابن کثیر تھے۔ شبلی کی اردو تصنیفات سمیت عربی اور دیگر تمام زبانوں کی تصنیفات شائقین ادب کے لئے نایاب سرمایہ ہے۔اس  کی ترویج و اشاعت اور شبلی فہمی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔شبلی جیسی شخصیت کسی زبان کو بہ مشکل نصیب ہوتی ہے۔بقول علامہ اقبال

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

شبلی نے اردو قاری کے دلوں میں اردو ادب کے مطالعے کا ذوق پیداکیا۔خودبڑی اچھی اور علمی سوانح عمریاں اور تاریخیں لکھیں۔انہوں نے ادب ،سیاست، تعلیم، مذہب ،فلسفہ سب کو متاثر کیا اور سب پر اپنا کچھ نہ کچھ اثر اور نقش چھوڑا، انہوں نے اردو نثر کادامن بہت وسیع کیا ساتھ ساتھ اردو نثر کو ایک نمایاں مقام عطاء کیا۔

 

اسلم رحماؔنی

متعلم:شعبۂ اردو نتیشور کالج مظفرپور

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
ڈاکٹر احسان عالم کی کتاب’’رام پرکاش کے خطو ط بنام اظہر نیر‘‘ کی تقریبِ اجراء
اگلی پوسٹ
یوم عاشورہ کی فضیلت – ابوشحمہ انصاری

یہ بھی پڑھیں

غزل – عقبیٰ حمید

نومبر 1, 2024

ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ...

اگست 3, 2024

نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –...

جون 25, 2023

اجمل نگر کی عید – ثروت فروغ

اپریل 4, 2023

نئی صبح – شیبا کوثر 

جنوری 1, 2023

غزل – دلشاد دل سکندر پوری

دسمبر 26, 2022

تحریک آزادی میں اردو ادب کا کردار :...

اگست 16, 2022

جنگ آزادی میں اردو ادب کا کردار –...

اگست 16, 2022

خلوص کی خوشبو۔۔۔! – تزئین فاطمہ نورالغوث نقشبندی

اگست 4, 2022

سر سید احمد خان : ایک رہنماۓ قوم...

جولائی 27, 2022

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (182)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (117)
  • تخلیقی ادب (593)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (18)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (127)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,042)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (535)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (204)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (402)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (214)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (475)
  • گوشہ خواتین و اطفال (97)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,130)
    • ادب کا مستقبل (112)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (896)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں