دو گھنٹے کا مسلمان(افسانہ)
افسانہ نگار: شہادت
ہندی سے ترجمہ: وسیم احمد علیمی
پچھلے دو برسوں میں یہ دسواں شہر ہے جہاں میں اپنے لیے ایک ٹھکانہ ڈھونڈ رہا ہوں۔ ایک محفوظ ٹھکانہ۔ کبھی کبھی اس ’تحفظ‘ کے لفظ پر غورو فکر کرتا ہوں تو خود ہی حیران رہ جاتا ہوں۔ ایک ایسی شے جس کا تذکرہ تو دور، کبھی خیال تک جی میں نہ آیا تھا، اب چوبیس گھنٹے میرے اعصاب پر سوار رہتی ہے۔
اس شہر سے میری کوئی شناسائی نہیں، اور اس شہر کے لیے میں بھی محض ایک اجنبی ہوں۔ اس سے پہلے میں اورنگ آباد میں مقیم تھا۔ وہ شہر میری رگ و پے میں بسا تھا۔ اجین کے بعد اگر میں نے کہیں جی بھر کر وقت گزارا، تو وہی اورنگ آباد تھا۔ وہیں سے میں نے اردو میں ایم-اے کیا اور پھر پی-ایچ-ڈی کی خارزار وادی میں اترا۔
جب میں اجین کی جھلملاتی روشنیوں کو خیرباد کہہ رہا تھا تو دل کسی پرانے قبرستان کی طرح بوجھل تھا۔ مگر ٹرین کی سامنے والی نشست پر اس اداس چہرے والی لڑکی کو دیکھا تو اک گونہ سکون سا ملا۔ چلو، اب کم از کم اپنی محبت کے سائے میں زندگی تو کٹ جائے گی۔ مگر افسوس، ایسا نہ ہو سکا۔ آخر اس ملک میں اپنی پسند کے جیون ساتھی کے ساتھ دو پل چین کے گزارنا اتنا کٹھن کیوں ہے؟
’’تمہیں اتنی جلدی ہمت نہیں ہارنی چاہیے،‘‘ میرے پروفیسر صاحب نے کہا، جن کی خدمت میں، میں اپنے مقالے کے سلسلے میں مشورہ لینے حاضر ہوا تھا۔ ’’اپنے گرد و پیش پر نظر ڈالو۔ اس سماج کی نبض پہچانو۔ یہ وہی معاشرہ ہے جو دن کے اجالے میں عورت کو دیوی بنا کر پوجتا ہے اور رات کی تاریکی میں اس کی آبرو ریزی کرتا ہے۔ ایسے دوغلے سماج سے تم اپنی محبت کی وکالت کی توقع کیسے کر سکتے ہو؟‘‘
یہ انہیں کا مشورہ تھا کہ مجھے کچھ دن اورنگ آباد میں گزارنے چاہئیں۔ میں ان کی اس تجویز پر ششدر رہ گیا۔ وہ شہر، جو اجین کے بعد میری سب سے محفوظ پناہ گاہ ہوا کرتا تھا اور جس کے بارے میں ہر واقف کار جانتا تھا کہ اگر میں دنیا میں کہیں نہ ملا تو اورنگ آباد میں ملوں گا، ایسے پُر آشوب حالات میں وہاں جا کر رہنا اپنی گردن خود پھانسی کے پھندے میں ڈالنے کے مترادف تھا۔ پروفیسر صاحب نے میری پیشانی پر ابھرنے والے خدشات کی لکیروں کو پڑھ لیا۔ کہنے لگے،’’دیکھو میاں، ان لوگوں نے سب سے پہلے تمہیں وہیں ڈھونڈا ہوگا۔ اب وہاں ان کے دوبارہ آنے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔‘‘ ان کی منطق میں وزن تھا، سو میں مان گیا۔ انہوں نے ہماری رہائش کا بندوبست کیا اور پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے ایک ہائی اسکول میں معلم کی نوکری بھی دلوا دی۔ وہ دن اچھے تھے۔ ایک طویل اور تھکا دینے والی مسافت کے بعد ہماری زندگی میں ٹھہراؤ آیا تھا۔ ہم زندگی کو بالکل اسی طرح جینے کی تگ و دو کر رہے تھے جیسے خواب ہم نے اپنی بند آنکھوں میں سجا رکھے تھے۔ مگر جینے کی یہ آرزو اس روز ادھوری رہ گئی جب شام کو اسکول سے لوٹتے وقت اس رکشے والے نے جس کا میں پکا گاہک بن چکا تھاسرگوشی کی کہ دوپہر کو بس اسٹینڈ پر کچھ مشکوک لوگ میرے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے تھے۔ ان کے پاس میری ایک تصویر تھی جو وہ ہر راہ چلتے کو دکھا رہے تھے اور اعلان کر رہے تھے کہ جو بھی اس شخص کی مخبری کرے گا، اسے بھاری انعام سے نوازا جائے گا۔
انعام؟ میری زندگی کی قیمت ایک انعام بن چکی تھی۔
اسی ہفتے میں نے اپنا مقالہ مکمل کیا تھا۔ اب بس اسے یونیورسٹی میں جمع کروانا باقی تھا۔ جب میں پروفیسر صاحب کے دستخط لینے ان کے کیبن میں داخل ہوا، تو مجھ پر یہ انکشاف ہوا کہ وہ اس سارے قصے سے پہلے ہی باخبر تھے۔ مقالہ جمع ہوا تو انھوں نے ناندیڑ کے ’پیپلز کالج‘ کے پرنسپل کے نام ایک رقعہ میرے ہاتھ میں تھما دیا اور ہدایت کی کہ اگلی ہی صبح وہاں پہنچ جاؤں۔
ایک بار پھر ہمیں اپنا آشیانہ اجاڑنا پڑا۔ اب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو اسے محض ’ٹھکانہ‘ کہنا اس جگہ کی توہین معلوم ہوتی ہے، وہ تو ہمارا گھر تھا۔ وہ گھر، جہاں زندگی کی ہر وہ شے موجود تھی جس کا ہم نے کبھی خواب دیکھا تھا۔ میں اس گھر کے در و دیوار سے وابستہ کچھ یادیں اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا، مگر اس نے منع کر دیا۔ دہلیز پر کھڑے ہو کر اس نے ایک سرد آہ بھری اور بھرپور نظروں سے پورے گھر کا جائزہ لیا۔ جیسے دیکھ رہی ہو کہ ہر چیز اپنی جگہ پر سلامت ہے یا نہیں۔ پھر دھیرے سے کواڑ بند کیے، انھیں پیار سے تھپتھپایا اور یوں الوداع کہا جیسے کسی جیتے جاگتے عزیز کو ہمیشہ کے لیے رخصت کر رہی ہو۔
اب ہم مراٹھواڑہ کی سمت جانے والی سڑک پر دھول اڑاتے جا رہے تھے۔
اگلے روز میں وقتِ مقررہ سے ذرا پہلے ہی کالج پہنچ گیا۔ تھوڑی دیر کے انتظار کے بعد پرنسپل صاحب نے مجھے اندر طلب کیا۔ خط پڑھا اور اگلے دن دوبارہ آنے کا حکم دیا۔
اس بار ملاقات انٹرویو کے کمرے میں ہوئی۔ وہاں دو صاحب اور بھی موجود تھے۔ ایک ادھیڑ عمر کے تھے اور دوسرا ایک وجیہہ نوجوان۔گورا رنگ، چھوٹی مگر گہری آنکھیں اور چوڑے شانے۔ گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ وہ عمر رسیدہ شخص کالج کے شعبۂ اردو کے صدر ہیں۔ پرنسپل اور وہ صدرِ شعبہ مجھ پر سوالات کے نشتر چلاتے رہے۔
آخر میں اس وجیہہ نوجوان نے انگریزی میں ایک سوال داغا:’’انشاء اللہ خان انشاء کی کتاب ’رانی کیتکی کی کہانی‘ کس زبان میں لکھی گئی ہے؟‘‘
میں نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا،’’اردو میں۔‘‘
’’کیا آپ اس کا پہلا شعر سنا سکتے ہیں؟‘‘ اس نے چیلنج کیا۔
میں نے فوراً پڑھا:
’یہ وہ کہانی کہ جس میں ہندی چھٹ
کسی بولی کا نہ میل ہے نہ پٹ‘
اس نے جرح کی،’’مصنف تو خود کہہ رہا ہے کہ یہ کہانی ہندی میں ہے، پھر آپ اسے اردو کیسے کہہ سکتے ہیں؟‘‘
میں نے جواب دیا،’’حضور، آغاز میں اردو کو ہی ہندی کہا جاتا تھا۔ میرؔ اور غالبؔ جیسے اساتذہ نے بھی اپنے اردو کلام کو ہندی کلام ہی قرار دیا ہے۔ اس زبان کا نام ’اردو‘ تو بہت بعد کی ایجاد ہے۔‘‘
سوال و جواب کی اس مشق کے بعد میں پرنسپل کے دفتر میں تھا، جہاں تقرر نامہ میرے حوالے کیا گیا اور میں نے آنے والے پیر سے کالج جوائن کر لیا۔شروع کے چند دن دفتری ضابطوں اور رسمی کارروائیوں کی نذر ہو گئے۔ پھر میں کالج کی عملی سرگرمیوں میں جٹ گیا، جہاں میرا ہم سفر وہی وجیہہ نوجوان تھا جس سے پہلی ملاقات انٹرویو کے کمرے میں ہوئی تھی۔ اس کا نام وجے پاٹل تھا۔ وہ انگریزی ادب میں ایم-اے کرنے کے بعد اب پی-ایچ-ڈی کی تیاری کر رہا تھا اور ساتھ ہی کالج میں اپنی خدمات انجام دے رہا تھا۔ اس کا انگریزی بولنے کا ڈھب کمال کا تھا۔ ہم ایک زمانے تک انگریزوں کے غلام رہے ہیںبلکہ میری بیوی کی صلاح مانیں تو ہم ’ذہنی طور پر‘ اب بھی غلام ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری انگریزی پر برطانوی چھاپ ہے، مگر وجے پاٹل کا انداز امریکی تھا۔ وہ بھی ایسا انداز جو وہاں کا حکمران طبقہ بولتا ہے، جسے دنیا میں ان کے سوا شاید ہی کوئی دوسرا اپنا سکے۔
میں شاعر تھا اور بحیثیتِ شاعر تھوڑی بہت شہرت میرے حصے میں آ چکی تھی۔ وجے پاٹل کو شاعری سننے کا چسکا تھا۔ وہ اکثر مجھ سے میرؔ، غالبؔ اور ذوقؔ کے اشعار سنانے کی فرمائش کرتا اور جب کبھی اس کا اپنا موڈ اچھا ہوتا تو وہ مجھے اپنی پسندیدہ انگریزی نظمیں سنایا کرتا۔
کالج کا احاطہ کسی قلعے کی طرح وسیع تھا، جس کی شاندار عمارت پر یورپی طرزِ تعمیر کی مہر لگی تھی۔ خاص بات یہ تھی کہ ہر شعبے کی اپنی لائبریری تھی اور ہر لائبریری کے ساتھ ایک باغیچہ متصل تھا، جہاں رنگ برنگے پھول کھلے رہتے۔ ان باغیچوں کا راستہ لائبریری کے وسط سے ہوکر گزرتا تھا، تاکہ آپ وہاں کی تازہ ہوا میں بیٹھ کر سکون سے مطالعہ کر سکیں، نوٹ لکھ سکیں یا کسی موضوع پر بحث چھیڑ سکیں۔
ان شعبوں اور لائبریریوں کے پہلو سے طویل اور کشادہ گیلریاں گزرتی تھیں، جو ہر عمارت کو دوسری سے جوڑتی ہوئی آخر میں ایڈمنسٹریشن بلاک پر جا کر دم لیتی تھیں۔ میں اور وجے پاٹل اپنا خالی وقت اکثر انہی گیلریوں کی خاک چھانتے گزار دیتے۔ کبھی کسی گوشے میں بیٹھ کر اپنی پسندیدہ کتابیں پڑھتے، کوئی بات جی کو لگتی تو ڈائری کی نذر کر دیتے، اور کبھی ان کتابوں پر بحث کے دفتر کھول لیتے۔
ایسے موقعوں پر گجانن تامن بھی ہمارے ساتھ ہوتا۔ سانولا رنگ، گھونگریالے بال اور گھنی مونچھوں والا ایک تلگو نوجوان۔ چوڑا ماتھا، گول ناک اور پتلے ہونٹوں پر ایک دبی دبی سی مسکراہٹ۔ وہ انگریزی زبان کا اسسٹنٹ پروفیسر تھا اور وجے پاٹل کا رفیقِ کار۔
وجے پاٹل جب اپنی پڑھی ہوئی کتابوں پر جرح کرتا یا ان سے پیدا ہونے والے خیالات کا جال بنتا اور میں اس کی علمیت کے سامنے خود کو کمزور پاتا، تو گجانن تامن میری ڈھال بن جاتا۔ اس کا مطالعہ بھی گہرا تھا اور اسے انگریزی ادب سے ویسا ہی عشق تھا جیسا وجے کو۔
میں ٹھہرا اردو کا معلم۔ انگریزی مجھے بھی آتی تھی مگر ان جیسی نہیں۔ نہ ہی انگریزی ادب پر میری ویسی گرفت تھی۔ میں ان کی بحثوں میں شامل تو رہتا، مگر محض ایک خاموش سامع کی طرح۔ ہاں، کبھی موڈ خوشگوار ہوتا تو میں انھیں اپنی لکھی ہوئی کوئی غزل سنا دیتا یا پھر پرانے اساتذہ کے اشعار سے محفل گرم کرتا۔ اس دن بھی ہم شعبوں کے باہر لمبی گیلری میں باتوں کے جال بن رہے تھے کہ گجانن تامن نے انکشاف کیا کہ کالج کے سالانہ جلسے کی تاریخیں کسی بھی وقت پھٹ پڑیں گی، اس لیے اب مٹر گشتی چھوڑ کر کمر کس لینی چاہیے۔
اگلے روز پرنسپل کے دفتر کے باہر نوٹس بورڈ پر چسپاں ایک کاغذ نے بتایا کہ سالانہ جلسے کی کمیٹی میں میرا اور وجے پاٹل کا نام بھی شامل ہے۔ یہ ایک اضافی کام تھا جس کے لیے ہمیں کالج کے بعد بھی وہاں رکنا پڑتا۔ ہمارا کام محض انتظامات دیکھنا ہی نہ تھا، بلکہ ان لڑکوں کی ریہرسل کروانا بھی تھا جنھیں اسٹیج پر اپنی فنکاری کا جوہر دکھانا تھا۔
میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب معلوم ہوا کہ وجے پاٹل خود بھی ایک پروگرام پیش کر رہا ہے اور اس کی تیاری وہ کسی خفیہ مشن کی طرح الگ سے اپنے شاگردوں کو کروا رہا ہے۔ میں نے کریدا تو مسکرا کر بولا،’’قاصد صاحب! ڈرامہ پڑھنے کی شے نہیں، دیکھنے کی چیز ہے۔‘‘
جوں جوں جلسے کے دن قریب آنے لگے، بازار کے چکروں میں تیزی آ گئی۔ ایک بار میں، وجے پاٹل اور ہندی کے ایک پروفیسر وزیر پورہ سے گزر رہے تھے۔ اچانک وجے نے ایک طرف اشارہ کر کے مراٹھی میں آواز لگائی،’’بگھا، بگھا! دیکھو دیکھو‘‘۔
ہماری نظریں ادھر اٹھیں جہاں وجے کی انگلی اٹھی تھی۔ سامنے ایک ننھے سے گنیش مندر کی دیوار پر ایک کتا ٹانگ اٹھائے نہایت اطمینان سے پیشاب کر رہا تھا۔
پاٹل کے لبوں پر ایک زہریلی مسکراہٹ رینگنے لگی۔ کہنے لگا،’’سوچو! اگر یہ کام غلطی سے کسی مسلمان نے کر دیا ہوتا تو کیا ہوتا؟‘‘
خیر، وقت سے پہلے سب ٹنٹے ختم ہوئے اور تیاریاں مکمل ہو گئیں۔ تین دن کا میلہ تھا۔ آخری دن وجے کا ڈرامہ پیش ہونا تھا جس کا میں شدت سے منتظر تھا۔ اس روز شہر کے معززین کے علاوہ ریاستی سطح کے لیڈر اور فلمی اداکار بھی مدعو تھے۔
ڈرامے کا عنوان سن کر ہی میرے ذہن میں کئی سوال کلیلیں بھرنے لگے تھے’دو گھنٹے کا مسلمان‘۔ میں سوچتا رہا، کیا یہ کسی ایسے شخص کی کہانی ہے جو صرف دو گھنٹے کے لیے مسلمان ہوا، یا جو دو گھنٹے کے لیے مسلمان ہونا چاہتا تھا؟
جب پردہ اٹھا اور میں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ وہ کھیل دیکھا تو احساس ہوا کہ میرا اندازہ حقیقت کے کتنا قریب تھا۔ وہ ایک ایسے خاندان کی بپتا تھی جن کے اسلاف کبھی مسلمان ہوئے تھے۔ وہ آزادی سے پہلے تک تو سکھ کی بانسری بجاتے رہے، مگر بعد میں سیاست اور سماج کے ڈھائے ہوئے قہر نے انھیں اس ملک میں دوسرے درجے کا شہری بنا کر رکھ دیا۔
اسٹیج پر جھونپڑی نما ایک کچے مکان میں مرکزی کردار اپنے بال بچوں کے ساتھ بیٹھا، بچپن سے بڑھاپے تک کی وہ تمام اذیتیں رو رو کر بیان کرتا رہا جو اسے محض ’مسلمان‘ ہونے کی پاداش میں جھیلنی پڑیں۔ اس کی بیوی سہمے ہوئے چہرے کے ساتھ بار بار کھڑکی سے باہر جھانکتی، جیسے موت باہر کھڑی دستک دے رہی ہو۔ اس پوری روداد کو بیان کرنے میں اسے دو گھنٹے لگے، اسی لیے اس کا نام ’دو گھنٹے کا مسلمان‘ رکھا گیا تھا۔
ڈرامے کے آخر میں وہ شخص دھاڑیں مار کر کہتا ہے:’’اس دیس میں مسلمان اس لیے نہیں مارا جاتا کہ اس نے کوئی جرم کیا ہے، اسے تو صرف اس لیے مار دیا جاتا ہے کیونکہ وہ مسلمان ہے۔‘‘
اس جملے کے ساتھ ہی اسٹیج پر گہرا اندھیرا چھا گیا اور ایک دردناک موسیقی ابھری۔ ذرا دیر بعد ممدھم سی روشنی ہوئی جس میں وہ شخص کسی ڈھانچے کی طرح کھڑا ہوا اور بلند آواز میں اعلان کیا کہ اب وہ اسلام سے کنارہ کشی اختیار کر کے اپنے اصل دھرم یعنی اکثریت کے مذہب میں لوٹ رہا ہے۔ کم از کم اب اسے فساد میں مارے جانے یا اپنا گھر جلائے جانے کا خوف تو نہیں رہے گا۔
ہال تالیوں کی گونج سے تھرا اٹھا۔ لوگ اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے۔ وہ ایک ’اسٹینڈنگ اوویشن‘ تھا، مگر میری آنکھوں میں آنسو تھے۔ اگلے دن اخبارات کے پہلے صفحے پر اسی ڈرامے کا چرچا تھا۔
اسی تقریب میں پاٹل نے میرا اور میری بیگم کا تعارف ایک لڑکی سے کرایا۔ گھنے بال، گوری رنگت اور گہری آنکھوں والی اس لڑکی کا نام فریدہ تھا۔ وہ ’خانم‘ تخلص کرتی تھی۔ میری بیگم اس سے یوں ملیں جیسے برسوں کی سہیلی ہوں۔ انھوں نے فریدہ اور پاٹل کو آنے والے اتوار چائے پر مدعو کر لیا۔ جلسے کے بعد والا ہفتہ مصروفیت کی نذر ہو گیا۔ کالج میں ملاقاتیں تو ہوئیں مگر سرسری۔ خیر، اتوار کی شام وہ دونوں ہمارے گھر کی چھت پر بیٹھے تھے اور اپنی محبت کی داستان سنا رہے تھے۔ پہلی ملاقات، پھر باتوں کا سلسلہ اور پھر ساتھ جینے مرنے کا وہ خواب جسے وہ حقیقت بنانا چاہتے تھے۔
وجے پاٹل نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے بڑی بے نیازی سے کہا تھا،’’مجھے اپنی طرف سے کوئی فکر نہیں قاصد صاحب! میری صرف ماں ہے، اور اسے اپنی اولاد کی خوشی کے آگے کوئی اعتراض نہیں۔ رہا سوال دور کے رشتے داروں کا، تو ممبئی والوں سے ہمارا ناتا کب کا ٹوٹ چکا ہے۔‘‘
فریدہ کو بھی پورا یقین تھا کہ وہ اپنے گھر والوں کو منا لے گی۔ اس نے اپنے خاندان کے بارے میں جس ڈھب سے بتایا، اس سے ہمیں بھی ڈھارس ہوئی۔ ان کے جانے کے بعد میں نے اپنی بیوی سے کہا،’’جو مسلمان خاندان اپنی بیٹی کو اتنی تعلیم دلوا سکتا ہے، اس کے قدامت پسند ہونے کی گنجائش بہت کم رہ جاتی ہے۔‘‘
بیوی نے ایک انجانے خوف کے سائے میں میری طرف دیکھا اور کوئی جواب دیے بغیر کچن میں چلی گئی۔
سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ سمسٹر کے امتحانات ختم ہو چکے تھے۔ وجے کبھی کبھار چکر لگا لیتا، مگر پھر ایک طویل وقفہ آ گیا۔ جب وہ دوبارہ لوٹا تو چہرے پر تھکن کی گرد تھی۔ کہنے لگا،’’گزشتہ کئی دنوں سے فریدہ کے گھر والوں کو منانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ ابھی تک کوئی معقول جواب نہیں ملا۔ اب آنے والے اتوار کو آخری بار ان کے گھر جاؤں گا۔ اگر اب بھی نہ مانے، تو ہم کورٹ میرج کر لیں گے۔‘‘
وہ خاموش ہو گیا، پھر کسی بچے کی طرح اپنی چھوٹی چھوٹی پیلی آنکھوں سے میری طرف دیکھ کر بولا،’’کیا اس دوران ہم کچھ وقت آپ کے یہاں ٹھہر سکتے ہیں؟‘‘
میں نے اس کے چہرے کو دیکھا اور خاموشی سے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر دبا دیا۔ میرا یہ لمس ہی میرا جواب تھا۔
طے یہ پایا کہ اگر بات نہ بنی تو وہ فریدہ کو لے کر سیدھا میرے پاس آئے گا اور اگلی صبح کچہری کھلتے ہی دونوں شادی کر لیں گے۔ اتوار کی شام میں نے کھانا کھایا، کچھ دیر ٹہلا، چائے پی اور پھر دروازے کے قریب کرسی ڈال کر بیٹھ گیا۔ میں اسی آس میں تھا کہ دستک ہوتے ہی کواڑ کھول دوں گا۔
وقت گزاری کے لیے میں نے منٹو کے افسانوں کی کتاب اٹھا لی۔
نہ جانے کب آنکھ لگ گئی۔ ایک کھٹکے سے ہڑبڑا کر اٹھا تو دیکھا کہ ہاکر اخبار پھینک کر جا رہا تھا۔ دن نکل آیا تھا۔ میں نے دروازہ کھولا تو باہر سڑک گیلی تھی اور درختوں کی ٹوٹی ہوئی شاخیں اور سبز پتے ادھر ادھر بکھرے ہوئے تھے۔ شاید رات بارش ہوئی تھی یا کوئی طوفان آیا تھا۔
میں نے اخبار اٹھایا اور اندر آ گیا۔ کھڑے کھڑے بے دھیانی میں اخبار کھولا تو کلیجہ دھک سے رہ گیا۔ یوں لگا جیسے کسی نے اندھیرے میں پیچھے سے میری پیٹھ پر خنجر گھونپ دیا ہو۔ میں وہیں کرسی پر ڈھیر ہو گیا اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ کیا وہ نادان اس سماج کو نہیں جانتا تھا؟
٭٭٭
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(کہانی میں پیش کردہ آرا افسانہ نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

