ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی
آراضی باغ، اعظم گڑھ
بابا میرے پیار سے تیرے کاندھے پر چڑھ جاؤں میں
بچپن کے وہ دن تھے سہانے جنہیں بھلا نا پاؤں میں
انگلی پکڑ کر چلتے چلتے راہ میں جب رک جاؤں میں
پیار سے تیرے کاندھے کو ہی اپنا سہارا پاؤں میں
دنیا کے مشکل ریلے سے جب بھی گھبرا جاؤں میں
بیٹھ کے بابا گود میں تیری امن و سکوں پا جاؤں میں
جب بھی اداسی دل کو چھوئے تری باتوں میں کھو جاؤں میں
ٹھنڈی کہر ہو یا دھوپ کی شدت تجھ کو ہی آگے پاؤں میں
دنیا مجھ سے جب بھی پوچھے فخر سے ہی بتلاؤں میں
عظمت کے وہ راز بتا کر بالکل خوش ہو جاؤں میں
عزم و ارادے کی راہوں میں تجھ سے حوصلہ پاؤں میں
راہ کٹھن ہو یا ہو مبہم بالکل نا گھبراوں میں
بن تیرے عنبر یہ بولی بالکل رہ نا پاؤں میں
رب کا کرم ہو تجھ پر ہردم دعا یہ کرتی جاؤں میں
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

