53 ویں یومِ وفات پر خصوصی پیش کش
آج ۶ جولائی ہے— علم، ادب، سخاوت اور صوفیانہ روایات کے پاسدار،میرے جد امجد حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی کا یومِ وفات ہے. پچاس سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی بہرائچ کی مٹی ان کی فکری خوشبو اور علمی خدمات سے معطر ہے. آج ان کے یومِ وفات کے اس رقت آمیز اور یادگار موقع پر، راقم الحروف کی طرف سے ان کی حیات، تاجرانہ عظمت اور لافانی ادبی ورثے کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے یہ دستاویزی مضمون پیشِ خدمت ہے۔
بہرائچ کی سرزمین علمی، ادبی اور صوفیانہ روایات کے لحاظ سے ہمیشہ زرخیز رہی ہے. اس دھرتی نے ایسے نامور سخن ور پیدا کیے جنہوں نے اردو ادب کے دامن کو اپنی فکر و نظر سے مالامال کیا. انہی عبقری اور مقتدر شخصیات میں ایک نمایاں نام میرے پرنانا حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی کا ہے، جو بیک وقت ایک کامیاب اور دیانت دار تاجر، بلند پایہ شاعر، سرپرستِ ادب اور ایک معزز صوفی منش انسان تھے. وہ اپنے وقت کے مشہور صوفی بزرگ حضرت جگرؔ بسوانی کے ارشد تلامذہ میں سے تھے ۔
خاندانی پس منظر اور پیدائش:
حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی کی پیدائش 1902ء میں شہر بہرائچ کے تاریخی محلے ‘براہمنی پورہ، چوک بازار’ میں ہوئی. آپ کا تعلق شہر کے ایک معزز، متمول اور باوقار خاندان سے تھا. آپ کے والد اور میرے جدِ امجد الحاج براتی میاں نقشبندیؒ (چونا والے) اپنے وقت کے نامور تاجر، رئیس اور صوفی باصفا تھے، جو سلسلۂ نقشبندیہ میں بیعت تھے اور جن کا انتقال 23 جولائی 1950ء کو ہوا.
یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ایک صدی قبل جب بہرائچ شہر میں ایک ہولناک فرقہ وارانہ فساد برپا ہوا، تو میرے پردادا الحاج براتی میاں صاحب نے اپنی حکمتِ عملی، سماجی اثر و رسوخ اور دور اندیشی کے ذریعے اس فساد کو روکوانے اور شہر میں امن و امان بحال کرنے میں انتہائی کلیدی کردار ادا کیا. انگریز حکومت بھی ان کے اس امن پسندانہ جذبے اور وقار کی قائل تھی. حاجی شفیع اللہ صاحب کی پرورش اسی پاکیزہ، علمی اور دینی ماحول میں ہوئی.
علمی و ادبی سفر اور سنگم ہوٹل:
شفیعؔ بہرائچی نے روایتی دینی اور ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی. آپ کو بچپن ہی سے شعر و شاعری اور ادب سےگہرا لگاؤ تھا. آپ کے ادبی سفرکی شروعات 1930ء کے دور میں ہوئی اور شاعری میں آپ نے اردو ادب کے نامور استاد حضرت جگرؔ بسوانی سے خط و کتابت کے ذریعے اپنے کلام کی اصلاح کروائی. رافتؔ بہرائچی جیسے ہم عصر دیگر شعراء بھی جگرؔ صاحب کے شاگرد تھے ۔
آپ کی دکان اور آپ کا قائم کردہ مشہور "سنگم ہوٹل” بہرائچ میں علم و ادب کا ایک گہوارہ اور اہم ترین مرکز تھا. جہاں ہر شام شہر اور ضلع بھر کے نامور شعراء، ادیب اور دانشور اکٹھا ہوتے تھے، ادبی محفلیں جمتی تھیں اور علم و ادب کی ترویج پر گفتگو ہوتی تھی. اس دور کی مشہور ادبی شخصیات جیسے حضرت شوقؔ بہرائچی، رافتؔ بہرائچی اور وصفیؔ بہرائچی سے آپ کے انتہائی قریبی اور برادرانہ تعلقات تھے. آپ بہرائچ سے شائع ہونے والے معتبر ادبی رسالے "ماہنامہ چودھویں صدی” کے سرپرست بھی تھے.
تجارتی و سماجی زندگی:
آپ شہر بہرائچ کے صفِ اول کے تاجروں میں شمار ہوتے تھے اور چونا، بیڑی اور سگریٹ کا بڑا کاروبار کرتے تھے. تجارت میں آپ اپنی امانت، دیانت اور اعلیٰ اخلاق کے لیے دور دور تک مشہور تھے. آپ کی تجارتی سرگرمیوں میں NTC Industries Ltd.، WIMCO Ltd. (نکہ ماچس) کی ڈسٹری بیوشن اور سنگم ہوٹل بھی شامل تھے. سنہ 1963ء میں آپ نے حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی، جس کے بعد آپ کی شخصیت میں زہد و تقویٰ اور نکھر گیا.
اولاد، امجاد اور مجھ سے (راقم الحروف) خاندانی تعلق:
حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی کی شریکِ حیات مسماۃ تجن مریم (مریم خاتون) تھیں. اللہ تعالیٰ نے آپ کو پانچ صاحب زادے، جن کے نام محمد نعیم اللہ، محمد شمیم اللہ، حاجی محمد نسیم اللہ، حاجی محمد علیم اللہ، اور محمد شفیق اللہ ہیں. اور تین صاحب زادیاں ہوئیں ۔
میرا اور میری اہلیہ کا حاجی شفیع اللہ شفیعؔ صاحب سے انتہائی گہرا، دہرا اور قریبی خاندانی رشتہ ہے، کیوں کہ ہم دونوں میاں بیوی الگ الگ کڑیوں سے انہی کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں:
* میرا پدری سلسلہ (والد کی طرف سے): میرا شجرۂ نسب راقم الحروف بن رئیس احمد بن حاجی نور احمد بن حاجی قادر میاں بن الحاج براتی میاں نقشبندیؒ ہے. (یوں الحاج براتی میاں میرے حقیقی پردادا ہیں).
* میرا مادری سلسلہ (والدہ کی طرف سے): راقم الحروف بن دختر بنت محمد شمیم اللہ بن حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی بن الحاج براتی میاں نقشبندیؒ ہے. (یوں حاجی شفیع اللہ صاحب میرے حقیقی پرنانا ہیں).
* میری اہلیہ محترمہ کا سلسلۂ نسب: میری اہلیہ محترمہ، حاجی شفیع اللہ شفیعؔ صاحب کے پوتے (اور حاجی محمد نسیم اللہ صاحب کے فرزند) کی صاحب زادی ہیں. یوں وہ رشتے میں حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی کی حقیقی پڑپوتی ہیں.
شعری خصوصیات اور نمونۂ کلام:
شفیعؔ بہرائچی بنیادی طور پر غزل اور نعت کے شاعر تھے۔ ان کے کلام میں کلاسیکی رچاؤ، تصوف کا رنگ، سادگی اور سوز و گداز نمایاں تھا۔ انہوں نے اپنی حیات میں بہت کم کلام شائع کروایا اور ان کی بہت سی بیاضیں دیمک کی نذر ہو گئیں۔ ان کا مکتوبہ کلام جیسے (1) "آئینۂ سخن” غزلوں کا مجموعہ اور (2) "جلوۂ غازی” نعت اور منقبت کا مجموعہ، جو قریب سو غزلوں اور مجموعہ نعت پر مشتمل تھا، قریب دو ڈائریوں کی شکل میں تھا۔ یہ کلام بعد میں کتابی شکل میں ان کے پوتے (اور میرے خسر) محمد فیض اللہ فیضؔ بہرائچی کے پاس محفوظ رہا۔ بعد میں ان کے مجموعے "احساساتِ فیض” (2015ء) کی اشاعت کے بعد، شفیعؔ صاحب کا ایک الگ مجموعہ کلام "جذباتِ شفیع” سنہ 2019ء میں منظرِ عام پر آیا، جسے ریختہ کی لائبریری میں بھی محفوظ کیا گیا ہے۔
آپ کے کلام کی تعریف میں مشہور شاعر اظہارؔ وارثی صاحب لکھتے ہیں:
"شفیع صاحب کا قلم روایتی شاعری کی طویل و عریض سرزمین پر لگ بھگ پچاس سال تک طرح طرح کے گل بوٹے کھلاتا رہا۔
تاجرانہ عظمت، فیاضی :
حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی جہاں ایک بلند پایہ شاعر تھے، وہاں وہ بہرائچ کے ایک ممتاز، متمول اور انتہائی فیاض تاجر بھی تھے۔ آپ کا دل ضرورت مندوں اور اہل علم و ادب کی مدد کے لیے ہمیشہ کھلا رہتا تھا۔ ان کی اس فیاضی اور ادبی سرپرستی کے دائرے میں اردو دنیا کے مایہ ناز شاعر اور شہنشاہِ طنز و مزاح حضرت شوقؔ بہرائچی بھی شامل تھے، جو اکثر تنگیِ معاش کا شکار رہتے تھے۔
ان دونوں ہم عصر مخلص ساتھیوں کے درمیان تعلقات اور حاجی صاحب کی سخاوت کا ایک تاریخی دستاویزی ثبوت حضرت شوقؔ بہرائچی کا وہ مکتوب ہے، جو انہوں نے شدید علالت اور معاشی ضرورت کے وقت حاجی شفیع اللہ شفیعؔ صاحب کے نام تحریر کیا تھا۔ یہ خط (بشکریہ سجاد مہدی زیدی صاحب، کراچی تحریر و تحلیل از ساغر مہدی صاحب) اس دور کے سچے شعراء کی کسرِ نفسی اور حاجی صاحب جیسے معتبر تاجروں پر ان کے بھروسے کو ظاہر کرتا ہے۔
خط کا متن درج ذیل ہے:
مشفقی سلام و نیاز
آج بخار آنے کی وجہ سے حاضری سے مجبور ہوں اگر خلافِ مزاج نہ ہو تو ایک روپے کے پیسے دے دیں، ممنون ہوں گا۔
آپ کا شوق عفی عنہ
9 ستمبر 1960ء
اس دور میں جب جینوئن شاعر مفلسی اور گوشہ نشینی میں زندگی گزار دیتے تھے، حاجی شفیع اللہ شفیعؔ صاحب جیسے مقتدر تاجر اور سرپرستِ ادب اہل علم کے وقار کو ٹھیس پہنچائے بغیر ان کی مدد فرماتے تھے۔ ایک روپیہ (جو اس دور میں بڑی اہمیت کا حامل تھا) کا یہ طلب نامہ دراصل ان دونوں شخصیات کے مابین بے تکلفی، گہرے بھائی چارے اور حاجی صاحب کی اس تاجرانہ و انسانی عظمت کی روشن دلیل ہے کہ علم و ادب کا ہر بڑا نام ان کے آستانے سے فیضیاب ہوتا تھا۔
ہمارے خانوادے کی موجودہ ادبی و تحقیقی خدمات:
حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی کا قائم کردہ علمی و ادبی چراغ آج بھی ہماری نسلوں میں پوری آب و تاب کے ساتھ روشن ہے۔ موجودہ دور میں اس علمی تسلسل کو ہم آگے بڑھا رہے ہیں:
* میرے خسر محترم جناب محمد فیض اللہ فیضؔ بہرائچی (پوتے، حاجی شفیع اللہ شفیعؔ): آپ اردو ادب کی مایہ ناز شخصیت حضرت وصفیؔ بہرائچی کے لائق فخر شاگرد ہیں۔ آپ کا مایہ ناز شعری مجموعہ "احساساتِ فیض” سنہ 2015ء میں شائع ہو کر ادبی حلقوں سے داد حاصل کر چکا ہے۔ اگرچہ موجودہ وقت میں آپ اپنی تجارتی و کاروباری مصروفیات کی وجہ سے ادبی محفلوں اور مشاعروں سے دوری اختیار کر چکے ہیں، تاہم آج بھی آپ کا کلام ملک کے مختلف معتبر اخبارات اور ویب سائٹس پر باقاعدگی سے شائع ہوتا رہتا ہے۔ اردو ادب کے معتبر پورٹل "ریختہ” پر بھی آپ کا کلام اور مجموعہ کلام قارئین کے لیے دستیاب ہے۔
* میری (راقم الحروف کی) اپنی علمی و تحقیقی خدمات: اپنے اسلاف کے علمی و تحقیقی ورثے کو سنبھالتے ہوئے، میرے اپنے مضامین اور ادبی بلاگز مختلف ملکی و بین الاقوامی اخبارات اور ویب سائٹس پر تسلسل کے ساتھ شائع ہو رہے ہیں۔ تاریخِ بہرائچ اور یہاں کے ادبی سرمائے کو دستاویزی شکل دینے کے لیے میری مطبوعہ اور برقی تصانیف درج ذیل ہیں:
* "بہرائچ ایک تاریخی شہر” (حصہ اول – شائع شدہ 2019ء): تاریخِ بہرائچ پر میری پہلی تحقیقی پیشکش۔
* "بہرائچ ایک تاریخی شہر” (حصہ دوم – شائع شدہ 2021ء): بہرائچ کی اردو ادبی تاریخ پر مبنی تفصیلی تصنیف۔
* "خطباتِ بہرائچ” (برقی ایڈیشن – 2021ء): میری یہ کتاب ڈیجیٹل شکل میں ایمیزون کنڈل (Amazon Kindle) اور ریختہ (Rekhta) پر دستیاب ہے۔
* "تاریخ خانقاہِ نعیمیہ بہرائچ: تاریخ کے اوراق سے آج تک”: یہ میری ایک الگ اور مختصر انداز میں لکھی گئی برقی کتاب (E-book) ہے، جو برقی طور پر شائع ہو کر ریختہ اور دیگر ای-بکس ویب سائٹس پر قارئین کے لیے دستیاب ہے۔
* "تاریخ خانقاہِ نعیمیہ بہرائچ” (ضخیم علمی ایڈیشن): مذکورہ بالا برقی کتاب کے علاوہ، خانقاہِ نعیمیہ کی تفصیلی تاریخ پر مبنی میرا ایک تفصیلی اور ضخیم علمی پروجیکٹ بھی تین جلدوں پر مشتمل زیرِ ترتیب ہے، جس کی دو جلدیں الحمد للہ مکمل ہو چکی ہیں۔ اس کتاب کا خاکہ درج ذیل ہے:
* پہلی جلد: اس جلد میں بزرگانِ بہرائچ اور خانقاہِ نعیمیہ کے مشائخ کا تفصیلی ذکر اور ان کی خدمات کا احاطہ کیا گیا ہے۔
* باقی دو جلدیں: ان بقیہ دو جلدوں میں خانقاہِ نعیمیہ میں موجود مشاہیرِ علم و ادب و فضل کے قدیم، نادر اور نایاب مکتوبات (قلمی اور شائع شدہ) اور ان کے متن کو پہلی بار علمی و ادبی دنیا کے سامنے منظرِ عام پر لایا جا رہا ہے۔
* بابا جمالؔ بہرائچی کے مجموعہ کلام "صدائے وطن” کی ترتیب و تدوین، جسے میں نے مرتب کیا اور یہ سنہ 2025ء میں منظرِ عام پر آ چکا ہے۔
* "تذکرہ مشاہیر بہرائچ”: بہرائچ کے مشاہیر کی تاریخ و سوانح پر ایک معتبر دستاویز، جو اس وقت زیرِ طبع ہے اور ان شاء اللہ عنقریب منظرِ عام پر ہوگی۔
* ڈاکٹر نعیم اللہ خاں خیالی کے مرتب کردہ تاریخی تذکرے "سخن ورانِ بہرائچ” پر نئے سرے سے نظرِ ثانی اور ازسرِ نو ترتیب و تدوین کا کام بھی میرے زیرِ نگرانی جاری ہے۔
وفات:
بہرائچ کا یہ درخشندہ ستارہ علم و ادب اور انسانیت کی طویل خدمات انجام دینے کے بعد 6 جولائی 1973ء (مطابق 5 جمادی الثانی 1393ھ)، بروز جمعہ بوقتِ شام تقریباً پونے چھ بجے اپنے محلہ چاند پورہ واقع رہائش گاہ پر اس دارِ فانی سے کوچ کر گیا. آپ کی تدفین آپ کی وصیت کے مطابق درگاہ ریلوے کراسنگ کے پاس، احاطہ حیرت شاہؒ میں ان کے والد بزرگوار الحاج براتی میاں نقشبندیؒ کے پہلو میں ہوئی.
حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی آج جسمانی طور پر ہم میں نہیں ہیں، لیکن ان کی علمی و ادبی خدمات، ان کی سخاوت اور ان کی نسلوں کے کلام و تحقیق کے آئینے میں ان کا نام ہمیشہ زندہ اور تابندہ رہے گا۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

