اردو ناول کی تاریخ میں سب سے پہلا ناول قرۃ العین حیدر کا آگ کا دریا ہے جس نے پہلی بار ناول کی تفتیش کا عمل انسان کی داخلی کیفیات کوبنایا ۔ اس سے پہلے پریم چند کے ناولوں میں حقیقت نگاری کو بنیاد بنا کر ناولوں کے فن کو بلندیوں تک پہنچا دیا تھا لیکن قرۃالعین حیدر کے یہاں بقول محمود ایاز پہلی بار موجودہ رخ خارجیت سے داخلیت کی طرف ہوا ہے۔ قرۃ العین حیدر نے شعور کی رو یا آزادتلازمۂ خیال اوراندرونی خود کلامی وغیرہ تکنیک کا استعمال کرکے اردو ناول کو مغربی ناول کے ہم پلہ بنا دیا۔
آگ کا دریا کے علاو ہ جو دوسرے بڑے ناول ہیں ان میں عبد اللہ حسین کا اداس نسلیں ،شوکت صدیقی کا خدا کی بستی، خدیجہ مستور کا آنگن وغیرہ بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ مگر ان ناولوں میں پلاٹ اور تکنیک کی سطح پر کوئی بڑی تبدیلی نظر نہیں آتی۔ جیسا کہ قرۃ العین حیدر کے ناولوں میں نمایاں ہے۔ جدیدیت کے زمانے میں ۷۰ کی دہائی میں محض ایک ناول خوشیوں کا باغ ضرور ایسا نظر آتا ہے جس نے ناولوں میں خالص علامتی طرز بیان کو پیش کیا ہے ۔یہ ناول انور سجاد نے لکھا ہے لیکن یہ علامتی اندازِ بیان جدیدیت کے زمانے کا ایک فیشن بن چکا تھا۔ اور اس زمانے میں علامتی افسانہ کثرت سے لکھا جا رہا تھا ۔لیکن خوشیوں کاباغ بھی اپنی تمام تر خوبیوں کے باوجود ایک لمبے علامتی افسانے کی طرح نظر آتا ہے ۔ علامتی فکشن میں بیانیہ ،راست اور حقیقی نہیں ہوتا۔ اور کردار نگاری کے پورے جوہر بھی نہیں کھلتے۔ بلکہ کردار پرچھائیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔یہی سبب ہے کہ زیادہ تر علامتی افسانے تقریباً ایک جیسے ہی نظر آتے ہیں اور موضوع اور کردار نگاری کی سطح پر بے حد یکسانیت دکھائی دیتی ہے۔
اردو فکشن کی روایت میں خالد جاویدپہلانام ہے جس نے حقیقت پسند بیانیہ پر مبنی فکشن لکھتے ہوئے اس میں علامتی جہات بھی پیدا کر دیے۔ ان کا بیانیہ بے حد منفرد اور انوکھے انداز کا بیانیہ ہے ۔بقول:بورخیس کہــــــــــــــــ’’ــایکچیزادبہوتیہےاوردوسریچیزادبکیمابعدالطبیعات‘‘،خالدجاویدکےبیانیےمیںنہصرففکشنسمایاہواہےبلکہفکشنکیمابعدالطبیعاتبھیکارفرما ہے۔ اور اس نقطے پر بہت کم غور کیا گیاہے۔ بلند پایہ ناقد شمس الرحمن فاروقی کا خالد جاوید کی زبان کے بارے میں خیال ہے کہ :
’’خالدجاوید کی نثر کیکڑے کی طرح آگے بڑھتی ہے۔ یعنی وہ صرف سیدھی سیدھی سمت ہی سفر نہیں کرتی بلکہ آگے پیچھے اور دائیں بائیں سب کا احاطہ کر لیتی ہے۔‘‘
شمس الرحمن فاروقی کے اس قول کی تصدیق ناول نعمت خانہ کے ایک اقتباس سے بھی کی جا سکتی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
’’لوگ اپنی باری کا انتظار الگ بیٹھ کر کم کرتے ،وہ کرسیوں کے پیچھے اس طرح کھڑے رہتے جیسے کرسی غائب نہ ہوجائے وہ کھانے والوں کا ہرہر نوالہ گنتے اور بے چینی کے ساتھ کبھی ایک پائوں پر زور دے کر ٹیڑھے ہو جاتے تو کبھی دوسرے پیر پر ۔کھانے والے خود بہت جلدی جلدی کھاتے ۔اکثر بغیر چبائے ہی نوالہ منہ میں رکھ کر نگل جاتے ،وہ مر بھکوں کی طرح کھانے پر ٹوٹتے تھے ۔
کھانے میں بہت زیادہ اشیا نہیں ہوتی تھیں۔ زیادہ تر قورمہ روٹی (جسے وہ لوگ گوشت روٹی کہتے تھے) ورنہ اگر صاحب حیثیت لوگ ہوتے تھے تو پلائو اور زردہ بھی ، ہمارے اطراف میں بریانی کا رواج نہیں تھا۔ حالاںکہ آج کل تو پلائو کو بریانی ہیکہا جاتا ہے۔
روٹیاں خمیری اور تندوری ہوا کرتیں ۔ان روٹیوں کا حجم بہت بڑا ہوتا ،تقریباً ایک تھالی جتنا۔ کھانا لا لا کر رکھنے والے بہت شور مچاتے ،ادھر ادھر سے ایک دوسرے کو آواز لگاتے اور بے حد حواس باختہ نظر آتے ۔اکثر قورمے کا ڈونگہ کسی کھانے والے کے سر پر بھی چھلک جاتا، ایک ہائے توبہ مچی رہتی ۔
ڈونگہ جیسے ہی میز پر رکھا جاتا، لوگ اس میں سے بہتر بوٹیاں اور تار یعنی روغن نکالنے کے لیے ایک ساتھ جھپٹتے ۔کبھی کبھی ڈونگہ میزپر ہی پلٹ جاتا، مگر کھانے والوں کو اس کی مطلق پرواہ نہ ہوتی۔ کوئی کسی کو نہیں پوچھتا ، سب کو اپنی اپنی آنتوں کی فکر ہوتی۔ یہ ایسی ہی نفسا نفسی کا منظر ہوتاجو شاید میدان حشر میں بھی نہ دکھائی دے ۔
میزوں کے پاس المونیم کے ٹب رکھے رہتے جس میں جھوٹی رکابیاں پڑی رہتیں۔رکابیاں یا توالمونیم کی ہوتیں یا پھر سفید تام چینی کی ۔انھیںٹبوں میں بوٹیاں ،ہڈیاں اور روٹیوں کے پانی سے ترپھولے ہوئے، ٹکڑے بھی بھرے رہتے جن پر مکھیاں ہی مکھیاں بھنبھناتی رہتیں۔
اس قسم کے ایک دوسرے ٹب میں پینے کا پانی بھرا رہتا، اگر گرمیوں کے دن ہوتے توٹب پر لکڑی کا ایک تختہ رکھ کر اس پے برف کی سلیاں جما دی جاتیں ۔برف پگھل پگھل کر پانی میں گرتا رہتا اور اسے ٹھنڈا کرتا رہتا۔ اسی ٹب میں المونیم کے جگ ڈال ڈال کر پانی بھر کر میزوں پر رکھ دیا جاتا۔ بمشکل دو تین گلاس (وہ بھی المونیم کے ہی ہوتے) میز پر رکھے ہوتے یا پھر ادھر ادھر لڑھکتے پھرتے۔
کھانے والے، کھانا خوب برباد کرتے ۔رکابیوں میں ڈھیر سا سالن ،ہڈیاںاور چکنی بوٹیاں نکلاتے اور ناک تک کھانا ٹھونس لینے کے بعد ایسے ہی چھوڑ کر اٹھ جاتے ۔وہ اس بے ہنگم انداز سے اٹھتے کہ کرسیاں الٹتے الٹتے بچتیں اور میزیں اتنے زور سے ہلتیں کہ پانی سے بھرے جگ الٹ جاتے۔
روٹیاں بھی خوب برباد ہوتیں۔ بلکہ ان کی تو بے حد بے حرمتی بھی کی جاتی۔میں قسمیہ کہتا ہوں کہ میں نے کئی باریش حضرات کواپنی سفید داڑھی پر لگے ہوئے شوربے اور مسالے کو روٹیوں کے ٹکڑے سے صاف کرتے دیکھا ہے۔ بالکل اس طرح جیسے آج کل لوگ نیپکین کا استعمال کرتے ہیں۔ روٹیاں ہاتھ پوچھنے ،منھ ،ہونٹ اور تھوڑی صاف کرنے اور مرچ کی زیادتی کے سبب ناک سے نکلتے پانی کو صاف کرنے کے لیے اور شوربے میں بھیگی داڑھیاں پوچھنے کے لیے ایک بہترین اور مفت کے رومال کا کام انجام دیتی تھیں۔‘‘
خالد جاوید: نعمت خانہ، عرشیہ پبلی کیشنز ،دہلی ۲۰۱۴ء۔ص:۱۲۵ تا ۱۲۷۔
علاوہ ازیں خالد جاوید کی زبان پر فکشن کے معتبر ناقد وارث علوی کے مطابق:
’’خالد جاوید کی زنبیل گویا عمرو عیار کی زبان ہے۔ جس میںسے جب چاہو الفاظ نکل کر مشکل سے مشکل ماحول کی جزئیات نگاری کے لیے ان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے ہیں، چاہے وہ گھر کے کونیکھدرے ہوں، سڑک ہو، بازار ہو، یاداخلی کیفیات ہوں، ان کی بے مثال زبان ہمیشہ خالد جاویدبطور فکشن نگار کی حمایت کے لیے تیار رہتے ہیں۔‘‘
خالد جاوید نے فکشن کی زبان کو نہ صرف فنی بلندیاں عطا کیں بلکہ پلاٹ اور تکنیک کے اعتبار سے بھی اپنے نئے نئے سانچے بنائے۔بقول شمیم حنفی :
’’خالد جاوید کے فکشن میں غیر شعوری طور پر یونانی کلاسیکی المیوں کے تمام اوصاف اکھٹے ہوگئے ہیں۔‘‘
یہ حقیقت ہے کہ جس طرح قرۃ العین حیدر نے پہلی بار اردو ناول کو مغربی ناول کے ہم پلہ بنا دیا تھا ، ان کے بعد خالد جاوید واحد ناول نگار ہیں جنھوں نے اردو فکشن کو عالمی اور مغربی فکشن کے ساتھ رکھے جانے کے قابل بنایا۔ جیسا کہ سید خالد قادری ان کے ناول نعمت خانہ کے بارے میں لکھتے ہوئے کہتے ہیں۔ ان کا قول ہے:
’’میں نعمت خانہ کا شمار اردو کے ان چند نمایندہ ناولوں میں کرنا چاہوں گاجواس کے فکشن کو مغرب کے بہترین فکشن کے ہم پلہ ثابت کرنے میں اہم رول ادا کر سکتے ہیں۔‘‘
سید خالد قادری : نعمت خانہ بشمول اردو ادب سہ ماہی ،انجمن ترقی اردو (ہند) نئی دہلی (اپریل تا جون ۲۰۱۶ء) ص
خالد قادری ایک جگہ اور لکھتے ہیں:
’’دراصل دنیائے انسانی اور موت و زیست کے مسائل بہت وسیع ہیں اور ان سے متعلق فکشنل بیانیہ خود اپنے آپ میں کسی قدر کا حامل نہیں۔ اسے تخلیق کرنے والا ہی اس کا موضوع و مزاج متعین کرتا ہے۔ خالد جاوید اپنی فکری تجریدیت اور الفاظ و اسلوب کی ندرت سے ان سب سے متعلق اپنی تخلیقات کو ایک ایسا قالب عطا کردیتے ہیں جو اجنبی اور نامانوس ہوتے ہوئے بھی ذہن و ادراک کو متحرک کر سکتا ہے۔’’برے موسم میں‘‘ یا ’’آخری دعوت‘‘ کی کہانیاں ہوں یا ’’موت کی کتاب‘‘ یا ’’نعمت خانہ‘‘ کامتن ہو سبھی جمالیات کے روایتی تصورات یا نام و نہاد مطلق سچائیوں کی اپنے اپنے طور پر قلب ماہیت کرتی نظر آتی ہیں بلکہ کبھی کبھی تو انھیں الٹا کرکے سر کے بل بھی کھڑا کر دیتے ہیں۔ ان کا بیانیہ Causeاور Effectیا عمل اور رد عمل وغیرہ کے اصولوں سے بندھا نہیںلگتاکہ یہاں واقعات یا Happeningsکی لسانی تشکیل سے زیادہ کیفیت یا صورت حال کی لفظی تشکیل پرزور دکھائی دیتا ہے۔‘‘
ایضاً۔ص: ۱۹۲۔۱۹۳
خالد جاوید کے ناول ’’موت کی کتاب ‘‘ پر اظہار خیال کرتے ہوئے شمیم حنفی نے یہ بھی لکھا تھا کہ ’’دنیا کے بہترین لکھنے والوںکے یہاں جو کچھ بہترین (Best) ہے وہ سب ایک جگہ اکٹھا ہو کر خالد جاوید کے فکشن میں سما گیا ہے۔
زیر نظر ناول نعمت خانہ اردو ناول کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انتہائی انوکھا طرز بیان، گہری بصیرت، نادیدہ حقیقتوں کا گہرااور ملال انگیز احساس ،انسان اور کائنات کے درمیان پائے جانے والا پراسرار اور مابعد الطبیعاتی رشتہ اس ناول کی اہم خصوصیات ہیں۔
یہی نہیں اردو ناول میں پہلی بار شاید جادوئی حقیقت نگاری (Magical Raelism) کا استعمال خالد جاوید کے ناول نعمت خانہ ہی میں ہوا ہے۔ جہاں فطرت اور مافوق الفطرت کے درمیان پائے جانے والے علت و معلول کے کسی سرے کو دریافت نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ اردو فکشن میںاس سے پہلے تمثیل اور فینٹسی کا استعمال تو بہت کیا گیا ہے لیکن جادوئی حقیقت نگاری بالکل دوسری چیز ہے۔ یہ محض فینٹسی نہیں ہے۔ جس میں صرف تخیل ہی تخیل ہوتا ہے۔ بقول عالمی شہرت یافتہ ادیب گائبریل گارسیا مارکیز ’’جادوئی حقیقت نگاری کا ایک سرازمینی حقیقتوں میں پیوست رہتا ہے۔‘‘ نعمت خانہ میں یہ جادوئی حقیقت نگاری ناول کی تکنیک کو بالکل نیا رخ دینے میں بڑی کامیاب ثابت ہوئی ۔ اور کھانوں کے تعلق سے انسان کے وہم اور اس کی چھٹی حس اور بدشگونی وغیرہ کوجس طرح یہ ناول سامنے لاتا ہے ،اس سے اس ناول میں ایک قسم کے آرکی ٹائیپل ناول بن جانے کا امکان بھی صاف نظر آتا ہے۔ جو اپنے آپ میں بہت بڑی بات ہے۔ انسان کے انفرادی حافظہ اور اس کے اجتماعی حافظہ کا ٹکرائو نسلوں میں پیوست اجتماعی لاشعور سے کس طرح نبردآزما ہوتا ہے ،اس کی مثال دیکھنا ہو تو نعمت خانہ میں دیکھیے۔ ٹی ۔ ایس ۔لارنس نے ایک جگہ لکھا ہے کہ اگر کسی ناول کے ذریعہ اس میں پوشیدہ فلسفے اور مابعدالطبیعات کو دریافت نہیں کیا جا سکتا تو ناول لکھنا ہی بے کار ہے۔ اسی طرح موجودہ اردو کے عالمی شہرت یافتہ میلان کنڈیرا کا کہنا ہے کہ ’’ناول میں اگر انسان کے وجود کی کسی پوشیدہ جہت کو دریافت نہیں کیا جاتا تو ناول لکھنا کاررائیگاں ہے۔
اس طرح دیکھیں تو نعمت خانہ میں ایک گہری مابعدالطبیعات فکراور فلسفہ بھینظر آتا ہے۔ اور انسانی وجود کی پوشیدہ جہات پر جتنی روشنی اس ناول سے پڑتی ہے اتنی توقع تو خود میلان کنڈیر ا کو بھی نہیں رہی ہوگی۔ کمال اور حیرت کی بات یہ ہے کہ سب کچھ ایک سچے اور حقیقت پسندانہ بیانیہ پر مبنی ہے۔ خالد جاوید کوئی علامتی اور تجریدی انداز بیان اختیار نہیں کرتے اگرچہ کچھ لوگوں کو اس کا گمان ضرور گذرتا ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے پہلی بار سچے اور حقیقت پسندبیانیہ کی توسیع کی اور اس کے تمام امکانات کو کھنگال ڈالا۔ اس سلسلے میں ناول نعمت خانہ کا پہلا باب بعنوان ’’ہوا‘‘ااوردوسرا باب بعنوان ’’سناٹا‘‘ بغور پڑھنا چاہیے۔ جو بنیادی طور پر ایک روح کے سفر کی روداد ہے جو مدتوں ادھر ادھر بھٹکنے کے بعد گھر لوٹ آتی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں شوکت صدیقی کے ناول ــــــــ’’کمین گاہ ‘‘کا فنی جائزہ – ڈاکٹر شہناز رحمن)
یہاں کوئی علامتی یا تجریدی طرز بیان اختیار نہیں کیا گیا ۔بلکہ ناول کے مرکزی کردار حفیظ الدین بابر عرف گڈو میاں کی روح کی تجسیم ایک جیتی جاگتی شخصیت میںکی گئی ہے ، صاف نظر آتا ہے کہ کچھ ہے جو کہ پر اسرار ہے ،اور ناقابلِ فہم ہے۔ برخلاف اس کے اگر ان کے ناول کے دوسرے حصے یعنی ’’ شور ‘‘ میں بیانیہ کا دوسرا ہی رخ ہے۔ جہاں اصل زندگی ہے اور کرداروں کاجمگھٹ ہے۔واقعات میں کرداروں کا آپسی تصادم اور ان کی جذباتی کشمکش ہے۔ وغیرہ وغیرہ ۔ اور ہر جگہ انسان کی وجودی جہات اور ایک گہرا فلسفہ اپنی جھلکیاں دکھاتا چلتا ہے۔ اب تک یہ کہا جاتا تھا کہ وجودیت کے حوالے سے تجریدی اور علامتی طرز بیان ہی اس کاحق ادا کر سکتا ہے۔ مگر حقیت پسند بیانیہ میںیہ کرشمہ نمودار ہوا ہے۔ اور اردو فکشن کی تاریخ میںپہلی بار ہوا ہے ۔یوں تو نعمت خانہ کا پلاٹ بے حد سیدھاسادا ہے۔ یہ حفیظ الدین بابر نام کے ایک بچے کے کردار سے شروع ہوتا ہے۔ اور اس کی زندگی کے تمام نشیب و فراز سے گذرتا ہے ،اس کی موت پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ ناول میں پانچ حصے ہیں۔ پہلا حصہ’’ ہوا ‘‘ہے۔ جس میں حفیظ الدین بابر کو مرنے کے بعد اپنے گھر کی طرف سفر کرتے ہوئے دکھایا گیاہے یعنی یہ روح کا سفر ہے اور اس اعتبار سے اسے ایک ایسی زبان میں لکھا گیاہے جہاں شاعری کے بھی پر جلنے لگتے ہیں۔ دوسرے حصے کا عنوان’’ شور‘‘ رکھا گیا ہے۔ ’’شور‘‘ میں فلیش بیک کے ذریعہ ناول کی اصل کہانی یا ماجرا بیان کیا گیا ہے۔ اس حصے میں کرداروں کی ایک بھیڑ ہے۔ سارے واقعات اسی حصے میں رونما ہوتے ہیں۔ اس اعتبار سے ہی اسے’’ شور‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ تیسرے حصے کا عنوان نزلہ ہے جو کہ دراصل گزرتے ہوئے وقت کی علامت ہے۔ عام طور سے لوگ وقت کے بہائو کو بہتے ہوئے پانی سے تشبیہ دیتے ہیں ۔مگر خالد جاوید کی تخلیقی اپج دیکھیے کہ انھوں نے اس گزرتے ہوئے وقت کو نزلے سے تشبیہ دیتے ہوئے اس میں نئے امکانات روشن کر دیے ہیں۔دائمی نزلے کے جو اثرات جسم پر پڑتے ہیں اور گزرتا ہوا وقت جس طرح انسان کے جسم و روح کو جس طرح تبدیل کرکے رکھ دیتا ہے اس کو ایسی اور خوبصورت مثال کہیں اور نظر نہیں آتی۔ چوتھے حصے کا عنوان پھر شور رکھا گیا ہے۔ جو اسی مناسبت سے کہ اس حصے میں دوبارہ بڑا شور و شرابا ہے ،واقعات ہیں اور کرداروں کا آپسی تصادم ہے۔ پانچویں اور آخری حصے کا نام سناٹا ہے۔ اس کا رشتہ دوبارہ ناول کے پہلے حصے ’’ہوا‘‘ سے جا ملتا ہے۔ اور جو گویا انسان کے ازلی اور ابدی مقدر کے حصار کو مکمل کر دیتا ہے۔ ناول کے ہرحصے میں بیان کنندہ یا راوی کا بیانیہ موضوع کے لحاظ سے مختلف ہو جاتا ہے ۔ ایک ہی تخلیق میں راوی کی اتنی مختلف آوازوں کو بیانیے کی سطح پر الگ الگ ڈھنگ سے لکھنا کوئی معمولی بات نہیں۔ یہی نہیں نعمت خانہ کے اندر ہر عورت کا نام انجم ہی ہے پھر اس میں تھوڑا تھوڑا فرق کیا گیا ہے۔ مثلاً: انجم باجی، انجم آپا، انجم بانو اور انجم جان صرف اس لڑکی کا کوئی نام نہیں ہے جو حفیظ الدین بابر کے خوابوں میں آتی ہے۔ ہر عورت کا نام انجم رکھنا شاید اس بات سے عبارت رکھتا ہے کہ حفیظ الدین بابر کی زندگی میں جن عورتوں سے بھی سابقہ پڑا وہ اس کے لیے کسی نہ کسی طور پر بے حس اور بے وفا ہی ثابت ہوئیں یا محض کسی ہیجانی جذبے کے تحت ان عورتوں کا مرکزی کردار سے تعلق پیدا ہوا۔ نعمت خانہ میں خالد جاوید نے جو اسرار انگیز اور معنی خیز اسلوب اختیار کیا ہے اس کی دوسری مثال کہیں نظر نہیں آتی ۔اس سلسلے میں پروفیسر صغیر افراہیم لکھتے ہیں:
’’یہاں اس امر کی جانب اشارہ کرنا ضروری ہے کہ خالد جاوید کے افسانوں کی زبان نہایت شائستہ ،خوبصورت ،تہہ دار اور پر معنی ہوتی ہے۔ لیکن ناولوں کی زبان نہایت سخت، سفاک اور پر جلال ہوتی ہے جو حیرت میں ڈالتی ہے کہ مصنف فکشن کی ایک فارم سے دوسرے فارم میں کس طرح اپنا بدلتا ہوا لب و لہجہ اختیار کر لیتا ہے۔ ‘‘
(صغیر افراہیم ،خالد جاوید کاناول؛نعمت خانہ،بشمول ،آمد،پٹنہ،سہ ماہی ،جولائی۲۰۱۶)
صغیر افراہیم نے اسے ایک تہذیبی ناول بھی کہا ہے اور جو ایک صحیح بات ہے کیوں کہ اس ناول میں ماحول کی تصویر کشی اور تاریخی اور تہذیبی انسلاکات پر بہت زور دیا گیا ہے۔ باورچی خانے اور کھانوں کے جیسے ذکر ہیں وہ اردو فکشن میں کہیں اور نظر نہیں آتے ۔کھانے کی تباہ کاریاں اس ناول کو ایک انتہائی معنی خیز جہت عطا کرتی ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر جس طرح یہ ناول لکھا گیا ہے اس کی کوئی دوسری مثال نظر نہیں آتی اور اس کا سبب ایک یہ بھی نظر آتا ہے کہ بقول خالد جاوید وہ محض اپنے ذہن سے ہی نہیں لکھتے اپنے وجود کی پوری طاقت کے ساتھ لکھتے ہیں۔‘‘اور یہ عمل ہمیں فکشن کی دنیا میں بہت کم نظر آتا ہے ۔آخر میں یہ قبول کرنا بھی ضروری ہے کہ خالد جاوید نے اپنا قاری بھی خود ہی پیدا کیا ہے۔ انھوں نے محض اپنے زمانے کے قاری پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنے پڑھنے والوں کی ایسی تربیت بھی کی جس سے کہ ان میں بلوغت ،سنجیدگی ،ادبیت اور اظہاریت کے نئے نئے سانچوں کوسمجھنے میں مہارت حاصل ہو۔ ہر بڑا مصنف یہی کرتا ہے۔ وہ محض اپنے سامنے کا قاری دیکھ کر ہی نہیں لکھتا بلکہ ہمیشہ ایک نادیدہ قاری کے لیے لکھتا ہے۔ یہی کام خالد جاوید نے بھی کیا ہے۔
اردو فکشن کی تاریخ میں خالد جاوید کی کہانیاں اور ان کے ناول ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے ۔موت کی کتاب کے بعد نعمت خانہ بھی ایسا ہی ایک ناول ہے جس کو اردو فکشن کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جا ئے گا۔
Email Id: sadafparvez000@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

