تحفظ اردو کے لئے  امارت شرعیہ کی مثالی جدو جہد – مفتی محمد ثناء  الہدیٰ قاسمی

by adbimiras
0 comment

امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ کا قیام ۲۶/ جون۱۹۲۱ء مطابق ۱۹/ شوال۱۳۳۹ھ میں عمل میں آیا، امارت شرعیہ نے پہلے دن سے اس کا اہتمام کیا کہ خط وکتابت، دفتری کارروائی،دار القضاء میں سماعت، فیصلے، دار الافتاء میں فتاوے اور خطابات سب کی زبان اردو ہو، شعبہ جات کی جو تختیاں دفاتر میں لگائی جائیں وہ بھی اردو میں ہی ہوں، بانی امارت شرعیہ ابو المحاسن حضرت مولانا محمد سجاد صاحبؒ اور ساتوں امیر شریعت نے اس سلسلہ کو باقی رکھا، ان حضرات نے جو مضامین لکھے وہ اردو میں ہی لکھے، ان کی تصنیفات وتالیفات کی زبان بھی اردو رہی، ایسا نہیں کہ یہ دوسری زبانوں سے نا بلد تھے، ان میں سے کئی انگریزی، لکھنے بولنے پر پوری قدرت رکھتے تھے؛ لیکن اس کے باوجود ان حضرات کی تحریروں میں انگریزی الفاظ کا استعمال نہیں ہوا کرتاتھا، موجودہ امیر شریعت مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی دامت برکاتہم کی انگریزی بہت اچھی ہے، لکھنے، بولنے اور تقریر کی صلاحیت اس زبان میں موجود ہے؛ لیکن وہ خود بھی اردو میں لکھتے ہیں اور خدام امارت شرعیہ کو بھی اس کی تاکید کرتے رہتے ہیں کہ ممکنہ حد تک اردو کا استعمال کریں اور غیر ضروری طور پر اپنے مضامین ومقالات اور خطابات کو انگریزی الفاظ کا استعمال کرکے بوجھل نہ بنائیں، چنانچہ اس پر سختی سے عمل ہو رہا ہے۔

ماضی کے اوراق الٹیں تو معلوم ہوگا کہ بانی امارت شرعیہ نے ۲۵/ اگست۱۹۳۵ء کو مسلم انڈی پنڈنٹ پارٹی قائم کی تو اس کے بنیادی اغراض ومقاصد کے دفعہ ۹/ میں صراحت کیا کہ اس پارٹی کے مقاصد میں ‘‘مادری (اردو) زبان اور رسم الخط کو ذریعہ تعلیم علوم وفنون قرار دیے جانے کی سعی کرنا، عدالتی اور دیگر محکموں میں اردو زبان ورسم الخط رائج کرانے کی سعی کرنا، سیاسی مسائل اور دیگر اہم امور کی اشاعت کے لیے اردو میں رسائل وکتب شائع کرنا“ بھی شامل ہے(نقیب ۲۵/جمادی الاخریٰ ۱۳۵۴ ھ مطابق ۵/ ستمبر ۱۹۳۵)

مسلم انڈی پنڈنٹ پارٹی نے انتخاب میں حصہ لیا اور اس کے تئیس(۲۳) امیدوار میں بیس (۲۰)جیت گئے اورجب بعض وجوہ سے کانگریس نے بہار میں حکومت سازی سے انکار کر دیا تو مسلم انڈی پنڈنٹ پارٹی ن 1937ء میں حکومت بنائی گو یہ حکومت صرف ایک سو بیس (۱۲۰) دن چلی؛ لیکن اس درمیان اس حکومت نے جو کام کیے ان میں ایک بڑی خدمت سرکاری دفاتر میں کام کاج کے لیے اردو زبان کا استعمال تھا، بانی امارت شرعیہ کی مسلسل کوششوں کے نتیجہ میں پہلی بار اردو کا سرکاری کاموں کے لیے چلن ہوا، اس دور میں اردو عوامی زبان تھی اور اس وقت اس کو کسی خاص مذہب کی زبان نہیں سمجھا جاتا تھا، بلکہ گاندھی اور موتی لال نہرو تک بھی اردو لکھتے بولتے تھے، آپ نے پنڈت جواہر لال نہرو کی شادی کا کارڈ اردو میں دیکھا ہوگا، اور گاندھی جی کے کئی خطوط اردو میں دستیاب ہیں، اس لیے عوام سے روز مرہ کے کام کاج میں اردو کے فروغ کی بات کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی، البتہ سرکاری دفاتر کی یہ زبان نہیں تھی، بانی امارت شرعیہ نے اس کام کو اپنی پارٹی کے مختصر ترین دور حکومت میں کردکھایا، اس کام میں مولانا ابو المحاسن محمد سجاد ؒ کے جو حضرات دست وبازو بنے ان میں امیر شریعت رابع حضرت مولانا منت اللہ رحمانیؒ، مولانا محمد عثمان غنیؒ، قاضی احمد حسینؒ، حضرت مولانا عبد الصمد رحمانیؒ، حافظ محمد ثانیؒ، مسٹر محمد یونس وغیرہ کے نام خاص طور سے قابل ذکر ہیں، یہ سب امارت شرعیہ کے فدائین تھے، ان کی آواز پر لبیک کہنے والے تھے، اس لیے اردو کے حوالہ سے یہ خدمت انجام پا گئی۔ تاریخ امارت میں حضرت مولانا عبد الصمد رحمانی ؒ نے لکھا ہے۔

”صوبہ بہار کی عدالتی زبان ہندی تھی، جس کی وجہ سے اردو داں طبقہ کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً بہت زیادہ دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا، امارت شرعیہ کی مساعی سے صوبہ بہار کی عدالتی زبان میں اردو کو بھی جگہ مل گئی“۔

بہار میں اردو کے فروغ کے لئے جب بھی کوئی تحریک چلی یا چلائی گئی تو امارت شرعیہ کے لوگوں نے زمینی سطح پر اسے کامیاب کرنے کے لیے کام کیا، معاملہ بہار میں اردو کو دوسری سرکاری زبان قرار دینے کا ہو یا اسکولوں میں اساتذہ کی بحالی کا، ہر موقع سے امارت شرعیہ نے حکومت وقت کی آنکھ سے آنکھ ملا کر بات کی، اور اس اہم کام کو انجام دینے کے لئے دباؤ ڈالا، آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔

نقیب کی پرانی فائل دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مختلف موقعوں سے یہاں شعری نشستیں ہوتی رہی ہیں اور امارت شرعیہ کے قائدین کی شرکت بھی اس میں ہوا کرتی تھی، موجودہ امیر شریعت کے دور میں بھی یہ سلسلہ جاری ہے اور آج بھی اردو کے حوالہ سے کوئی پروگرام ہوتا ہے اور حضرت صاحب کو دعوت دی جاتی ہے تو وہ ترجیحی بنیاد پر اس میں شریک ہوتے ہیں اور اردو کی ترویج واشاعت اور فروغ کے حوالہ سے آپ کا پُر مغز خطاب ہوا کرتا ہے، اردو کے لیے جو عملی جد وجہد موجودہ امیر شریعت کرتے رہے ہیں اس کا ذکر کرتے ہوئے شاہ عمران حسن لکھتے ہیں۔

”مولانا محمد ولی رحمانی کے اہم کاموں کی فہرست میں اردو زبان کا فروغ بھی شامل ہے، اس زبان کے تعلق سے وہ مختلف شکلوں میں اپنی کوشش کرتے نظر آتے ہیں، مولانا نے اردو کے فروغ کے لیے عملی طور پر بھی قدم اٹھایا، مثلاً رحمانی فاؤنڈیشن کے بینر  تلے مونگیر شہر کے غیر اردو داں طلبہ وطالبات کو اردو زبان سکھانے کا  ایک بہتر نمونہ عمل جاری کیا ہے، جو مسلسل جاری ہے، اس سلسلہ کی کڑی کے طور پر اردو املا کی درستگی کے لیے انہوں نے اپنے شاگرد مولانا رضاء الرحمان رحمانی (مونگیر) کے ذریعہ اپنی نگرانی میں ایک مختصر سا کتابچہ ”اردو صحیح لکھیے“ قلم بند کرایا۔’’ (حیات ولی۔۱۴۴)

یوم اردو کے موقع سے دفتر امارت شرعیہ میں بھی مجلس کا انعقاد ہوتا ہے، اس سال بھی ایک شعری نشست کا انعقاد کیا گیا تھا، جس میں امارت شرعیہ کے علماء ادباء اور شعراء نے شرکت کی اور اپنے کلام سے سامعین کو مستفید اور محظوظ کیا۔

اردو میں کتابوں کی تصنیف وتالیف کا کام بھی امارت شرعیہ کے علماء کے ذریعہ پڑے پیمانے پر ہوا، ان میں سے کئی صاحب طرز ادیب ہوئے، امیر شریعت رابع حضرت مولانا سید شاہ منت اللہ رحمانیؒ کے بارے میں ڈاکٹر وقار الدین لطیفی نے لکھا ہے کہ ”اردو زبان وادب میں آپ کی خدمات سے انکار نہیں کیا جا سکتا، آپ کی تحریروں کا گراں مایہ سرمایہ خطبوں، فتووں اور دینی وشرعی کتابچوں کی شکل میں موجود ہے، اس کے علاوہ سفرنامہ مصر وحجاز اور مکاتیب گیلانی کی زبان اور انداز تحریر بلاشبہ ادب اردو میں ایک نئے باب کا اضافہ کرتا ہے۔(سوانح حضرت امیر شریعت۔۸۷)

ڈاکٹر محمد طیب صاحب لکھتے ہیں:

”ان کی ادبی، دینی، تاریخی، ثقافتی، معاشرتی اور بین الاقوامی مسائل پر ان کے مضامین سے اردو ادب کا دامن وسیع ہوا ہے، اس کے علاوہ ان کے اسلوب میں سادگی کے باوجود رعنائی اور توانائی موجود ہے، ان کی نثر میں بعض فقرے اور بعض جملے ایسے بھی نظر آجاتے ہیں، جن کی آب وتاب کے سامنے ہیرے جواہر کی چمک ودمک بھی ماند ہے“۔قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ؒ بھی ہمیشہ اردو تحریک کے ساتھ رہے، انہوں نے دا رالقضاء کے فیصلے میں بھی ثقیل زبان کے استعمال سے اجتناب کیا اور بہت سارے فقہی اور عدالتی استعمال کے اصطلاحات کو سہل اور آسان بنانے کا کام کیا۔ امراء شریعت میں پانچ وہ ہیں، جن کی شاعری سے اہل علم واقف ہیں، چھٹے امیر شریعت مولاناسید نظام الدین صاحب ؒکا تو مجموعہ کلام باضابطہ چھپ بھی چکا ہے۔ امارت شرعیہ سے منسلک لوگوں کو بھی اس میں شامل کر لیں تو اردو کے دوسرے مراکز سے زیادہ ان حضرات کی تصنیف وتالیف کی تعدا د ہو گی، جس میں علمی مواد بھی ہے، ادبی اسلوب بھی اور اردو کے فروغ کے لیے عملی جد وجہد بھی۔

امارت شرعیہ نے تحفظ اردو کے لیے جو مثالی جد وجہد کی ہے اس کا ذکر ایک مضمون میں اور وہ بھی نقیب کے ایک صفحہ میں ممکن نہیں، یہ تو پوری کتاب کا موضوع ہے، چنانچہ اس مضمون میں صرف اس حوالہ سے اشارے کیے گئے ہیں۔

اب ہفتہ ترغیب تعلیم اور تحفظ اردو (یکم فروری تا ۷/ فروری) کے ذریعہ امارت شرعیہ نے اپنی خدمات کو تسلسل بخشاہے اور اردو کے عوامی استعمال کی گاؤں اور دیہات تک راہ ہموار کی ہے، اردو کے مسائل کی طرف لوگوں کو متوجہ کیا اور سرکاری سطح سے جو کام اردو کے ہونے چاہیے اس کے لیے بھی بر سر اقتدار لوگوں تک بات پہونچائی گئی، توقع ہے کہ اس کے بڑے مثبت اور مفید نتائج بر آمد ہوں گے۔

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

مفتی محمد ثناء  الہدیٰ قاسمی

نائب ناظم امارت شرعیہ ،پٹنہ

You may also like

Leave a Comment