بہار میں اردو کی صورت حال – ڈاکٹر ریحان غنی

by adbimiras
0 comment

بہار میں اردو عجیب و غریب صورت حال سے دوچار ہے۔ اردو میں کتابوں اور رسائل و جرائد کی اشاعت میں بے تحاشہ اضافہ ، اردو اخبارات خاص طور پر روزنامے کی بڑھتی ہوئی تعداد اور مختلف یونیورسیٹیوں اور ادبی اداروں کے زیر اہتمام تقریباً روزانہ منعقد ہونے والے سیمینار اور مشاعرے سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ریاست میں اردو رواں دواں ہے، پھل پھول رہی ہے اور تیزی سے ترقی کر رہی ہے لیکن حقیقت ِ حال اس کے برعکس ہے۔ اردو اخبارات و رسائل اور کتابوں کی اشاعت میں روز افزوں اضافہ ، بڑے بڑے اور مہنگے سیمینار اور مشاعرے اور بڑی بڑی کانفرنسوں کا انعقاد محض پتیوں پر چھڑکائو ہے۔ اردو کی جڑوں کی ا?بیاری نہیں ہو رہی ہے۔ جس کی وجہ سے اردو سمٹتی جا رہی ہے اور اس کی جڑیں سوکھ رہی ہیں۔ اس کا اندازہ اردو اخبارات سے وابستہ کارکن صحافیوں کو زیادہ ہے کیونکہ اردو والوں سے ان کا براہ راست واسطہ اور تعلق ہے۔ وہ روزانہ ہی اردو کے دوست نما دشمنوں کو جھیلتے رہتے ہیں۔ اگر کارکن صحافی اردو اخبارات کے دفاتر میں روزانہ موصول ہونے والے مضامین ، پریس ریلیز، بیانات، مراسلوں، نامہ نگاروں اور نمائندوں کی ارسال کردہ خبروں اور رپورٹ کو من و عن چھاپ دیں اور اس کی نوک و پلک درست نہ کریں تو اردو رسوا ہو جائے۔ یہ تو اردو صحافیوں کا احسان ہے کہ انہوں نے اردو کے نام نہاد بہی خواہوں اور اردو کو رسوا ہونے سے بچا لیا ہے۔ا?ج کے اردو صحافی سنگ تراش کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ جس طرح ایک سنگ تراش پتھر کو کاٹ چھانٹ کر خوب صور ت شکل دے دیتا ہے اسی طرح اردو صحافی بھی اپنی فن کارانہ صلاحیتوں سے خام مال کو حسن بخش رہے ہیں۔ اردو اخبارات کی میز پر بیٹھے کارکن صحافیوں کی بے بسی کا اندازہ عام لوگ نہیں کر سکتے۔ ہاں، اردو کو رسوا ہونے سے کسی حد تک مدارس اسلامیہ اور ان کے اساتذہ نے بچا لیا ہے۔ بہار میں اردو کی زبوں حالی کے لیے حکومت اور اردو والے یکساں طور پر ذمہ دار ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں عوامی سطح پر اردو کا استعمال – مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی )

بہار میں تقریبا تیس (30)برسوں کی لگاتار جدو جہد کے بعد 17 اپریل 1981کو حکومت نے سات مخصوص مقاصد کے لئے پہلے مرحلہ میں ریاست کے 15اضلاع پورنیہ، کٹیہار، دربھنگہ، سیتامڑھی ،بھاگلپور، مدھوبنی ، بیگوسرائے، مظفرپور، سہرسہ، مشرقی چمپارن، نوادہ ، دھنباد، مغربی چمپارن، گیا اور سیتامڑھی میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا۔ اس کے بعد پھر 29جون 1989کو 11اضلاع اور 16اگست 1989 کو 13اضلاع میں نوٹیفیکیشن جاری کر کے اردو کو بہار میں دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا۔ اس طرح متحدہ بہار کے 39اضلاع میں اردو کو سرکاری مراعات حاصل ہو گئیں۔ لیکن اس میں بہت ہی سفاکی کے ساتھ نوکر شاہوں نے اردو والوں کی آنکھوں میں دھول جھونک دی۔ اردو والوں نے جن سات مخصوص مقاصد کے لئے بہار میں اردو کو دوسری سرکاری زبان بنائے جانے اور اسے سرکاری مراعات دینے کا مطالبہ کیا تھا ان میں پرائمری سے یونیورسٹی سطح تک اردو کی تعلیم کو یقینی اور لازمی بنانے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ لیکن جب محکمہ راج بھاشا سے پہلے مرحلے میں 15اضلاع میں اردو کو دوسری سرکاری زبان بنائے جانے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا تو اس میں اردو تعلیم کو با لکل نظر انداز کر دیا گیا۔ جب کہ محبان اردو کا حکومت سے یہ بنیادی مطالبہ تھا۔ نوٹیفیکیشن میں کہا گیا کہ راج بھاشا ہندی کے علاوہ اردو کا استعمال دوسری راج بھاشاکے طور پر درج ذیل سرکاری کاموں کے لئے کیا جائے گا:

1.اردو میں عرضیوں اور درخواستوں کی وصولی اور اس کا جواب

2.اردو میں تحریر شدہ دستاویزات کا رجسٹری آفس کے ذریعہ قبول کیا جانا

  1. اہم سرکاری قوانین ، ضابطوں اور نوٹیفیکیشن کی بھی اردو میں اشاعت
  2. عوامی اہمیت کے حامل سرکاری احکامات اور سرکلر کا اردو میں جاری کیا جانا۔
  3. اہم سرکاری اشتہارات کی اردو میں بھی اشاعت۔
  4. ضلع گزٹ کی اردو میں بھی اشاعت۔

7.اہم سائن بورڈوں کو بھی اردو میں آویزاں کرنا۔

مذکورہ بالا نکات کے جائزہ سے یہ بات بہ خوبی معلوم ہو جاتی ہے کہ اس میں اردو تعلیم کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ جب سرکاری سطح پر اردو تعلیم کو یقینی بنائے جانے کی بات نہیں کی جائے گی تو پھر اردو کی ترقی کیسے ممکن ہے؟ اس سے اردو کے سلسلہ میں حکومت کی ذہنیت کا بہ خوبی اندازہ لگا یا جا سکتا ہے۔ مذکورہ نکات میں ایک اور خامی بھی تھی۔ نکات نمبر 3،5اور 7میں ’’اہم‘‘ لفظ کا استعمال کیا گیا تھا۔ اس لفظ کے استعمال سے اندیشہ یہ تھا کہ متعصب سرکاری عملہ یہ کہہ کر ان نکات پر عمل نہیں کرے گا کہ وہ انہیں اہم نہیں سمجھتا۔ اس اندیشے کے پیش نظر تقریباً 12برسوں کے بعد 20مارچ 1993 کو محکمہ راج بھاشا کی طرف سے نوٹیفیکیشن جاری کر کے اس خامی کی اصلاح کی گئی اور لفظ ’’اہم‘‘ کو نکات سے حذف کر دیا گیا۔ لیکن اردو تعلیم کو یقینی بنانے کا معاملہ آج بھی نکات میں شامل نہیں ہو سکا۔ نتیجہ یہ ہے کہ پرائمری سے لے کر یونیورسٹی سطح تک اردو تعلیم کا برا حال ہے۔ 30جولائی 2009کو بہار قانون ساز کونسل میں اردو کے عملی نفاذ کے تعلق سے رکن قانون ساز کونسل ڈاکٹر تنویر حسن نے حکومت کی توجہ مبذول کرائی تھی۔ اس کے بعد کونسل کے چیرمین نے ان کی سربراہی میں ہی ایوان کی راج بھاشا کمیٹی کو بہار میں اردو کی صورت حال کے بارے میں ایک جامع رپورٹ پیش کرنے کی ذمہ داری سونپی۔ اس کمیٹی نے 7دسمبر 2010کو اپنی رپورٹ ایوان میں پیش کی۔ اس رپورٹ میں ڈاکٹر تنویر حسن نے واضح طور پر تحریر کیا کہ’’ دوسری سرکاری زبان کی حیثیت سے اردو کو جو حقوق ملنے چاہئے تھے وہ اب تک نہیں مل سکے ہیں۔‘‘رپورٹ میں کہا گیا کہ ’’کمیٹی اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ بہار میں قوانین ِ اردو کے نفاذ کی راہ میں سب سے اہم رکاوٹ ریاست کی بیوروکریسی کی شعوری چشم پوشی اور کہیں کہیں کھلے عام ان کے ذریعہ کی گئی رخنہ اندازی ہے۔‘‘رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ’’اس بات سے انکا ر نہیں کیا جاسکتا کہ حکومت نے اردو کے لئے کئی قابل قدر اقدام کئے لیکن اگر افسر شاہی کے ذریعہ اردو کے ارتقا ء میں پیدا کئے گئے تعطل کے ازالے کی پوری ایمانداری سے کوشش کی گئی ہوتی تو ا?ج ریاست میں اردو ترقیات کے کئی مراحل طے کر چکی ہوتی اور افسر شاہوں کو بھی شاید اردو زبان کے تئیں منفی رجحانات اختیار کرنے کی جرأ۳۵ت نہیں ہوتی‘‘۔

کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق محکمہ راج بھاشا کے اردو مترجم کے 314منظور شدہ عہدوں میں60،نائب مترجم کے449 منظور شدہ عہدوں میں 81اور اردو ٹائپسٹ کے 471منظور شدہ عہدوں میں 134یعنی مجموعی طور پر 275عہدے خالی پڑے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ بہار میں نئے تشکیل شدہ اضلاع اور بلاکوں میں اردو ملازمین کے نئے عہدے آج تک تشکیل نہیں دئے گئے۔ اسی طرح محکمہ راج بھاشا کہ اردو ڈائرکٹوریٹ نے مولانا مظہر الحق، حضرت شیخ شرف الدین احمد یحیٰ منیری اور عبدالقیوم انصاری کے نام سے تین بڑے ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ ڈائرکٹوریت نے 2007-08اور 2008-09 میں یہ تینوں ایوارڈ اردو کے دانشوروں، ادیبوں اور شاعروں کو دئیے۔ اس کے بعد سے یہ سلسلہ آج تک موقوف ہے۔محکمہ کا ترجمان بھاشا سنگم کے ایڈیٹر کے مستقل عہدے کی بھی تشکیل نہیں کی گئی ہے جبکہ اسی محکمہ کے تحت ہندی میں شائع ہونے والے رسالے کے ایڈیٹر کا عہدہ منظور شدہ ہے۔ یہ امتیاز اردو کے ساتھ محکمہ کے تعصب کو ظاہر کرتا ہے۔ اردو ڈائرکٹوریت کے تحت ایک اردو مشاورتی کمیٹی بھی ہے۔ لیکن اس کمیٹی کو کوئی آئینی اختیارات نہیں ہے جس کی وجہ سے یہ بہت ہی بے اثر کمیٹی ہے۔ اردو کے معاملہ میں یہی حال بہار کی یونیورسٹیوں کا بھی ہے۔2003 کے بعد گذشتہ سال اردو کے 86 اسسٹنٹ پروفیسر کا تقرر ہوا۔ اس خوش آئند پیش رفت کے باوجود سرکاری سطح پر اردو کی صورت حال انتہائی افسوس ناک اور مایوس کن ہے۔ دوسری طرف اردو والوں کا بھی حال اس سے بد تر ہے۔ بہار اردو اکادمی اور انجمن ترقی اردو یہ دو ایسے بڑے ادارے ہیں جنھیں حکومت کی طرف سے گرانٹ ملتے ہیں۔ ان دونوں اداروں میں سرکاری رقم کا استعمال ٹھیک طریقے سے نہیں ہورہا ہے۔ اکادمی کا حال یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے پہلی مرتبہ 2008-09میں ایک مشت ایک کروڑ روپئے گرانٹ کے طور پر ملے لیکن اکادمی یہ رقم خرچ نہیں کر سکی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اسے دی جانے والی گرانٹ کی رقم بتدریج کم ہوتی چلی گئی۔اس کے ساتھ ہی اردو اکادمی میں پیشہ وارانہ کورس شروع کر کے اردو کی سرگرمیوں میں مبینہ طور پر رکاوٹ پیدا کی گئی۔امتیاز احمد کریمی اردو اکادمی کے کارگذار سکریٹری اور مشتاق احمد نوری سکریٹری تھے تو اکادمی کی سرگرمیاں عروج پر تھیں۔ ابھی حالت یہ ہے کہ اردو اکادمی صرف ایک سرکاری افسرکے ماتحت چل رہی ہے۔ اکادمی کے صدر بہ جہت عہدہ وزیر اعلی ہوتے ہیں۔انہیں سرکاری کام سے ہی فرصت کہاں کہ وہ اردو کے اس معمولی ادارے کی طرف توجہ دیں۔اردو اکادمی میں سکریٹری کے علاوہ دو نائب صدور اور مجلس عاملہ کے اراکین ہوتے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ دونوں نائب صدور، سکریٹری اور مجلس عاملہ کے اراکین کی مدت ختم ہوئے تقریبا 2 سال ہو چکے لیکن ابھی تک اس کی تشکیل نو نہیں کی گئی ہے۔ جس کا براہ راست اثر اکادمی کے کام کاج پر پڑ رہا ہے۔اس وقت اردو اکادمی ایک سرکاری افسر کے رحم و کرم پر ہے۔انجمن ترقی اردو بہار کو پہلے حکومت چار لاکھ روپئے گرانٹ دیا کرتی تھی لیکن اب اسے تقریبا آٹھ لاکھ روپئے گرانٹ کے طور پر مل رہے ہیں لیکن یہ انجمن بھی مفلوج ہے۔

بہار میں اردو کے عملی نفاذ کی راہ میں یہی تمام عوامل رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ گزشتہ کچھ دہائیوں کے دوران اردو تحریک کے منظر نامے پر جب ہم غور کرتے ہیں تو یہ پتہ چلتا ہے کہ ریاست میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ ملنے کے بعد اردو سے تعلق رکھنے والے لوگ مطمئن ہو گئے اور الحاج غلام سرور کی قیادت میں جس طرح بہار میں تحریک مضبوط ہوئی تھی اور عروج پر پہنچی تھی اس کا گراف اچانک نیچے آ گیااور اردو تحریک کا کارواں سست پڑ گیا۔صرف اتنا ہی نہیں بلکہ خود اردو والوں کی دلچسپی اپنی زبان سے ختم ہو گئی۔ اردو اخبارات پڑھنااور اسے ڈرائنگ روم میں رکھنا اردو والے کسر شان سمجھتے ہیں۔ بچوں کو اردو پڑھانے کی طرف بھی ہمارا رجحان کم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ سرکاری سطح پر مسلسل اردو کے ساتھ ناانصافیاں ہو رہی ہیں لیکن ان ناانصافیوں کے خلاف کوئی آواز بلند کرنے والا بھی نہیں ہے۔ بہار میں اردو تحریک دم توڑ چکی ہے۔ جسے زندہ کرنے کی درمیان میں کوششیں کی گئیں لیکن معاملہ پھر سرد پڑ گیا۔

اردو مشاورتی کمیٹی حکومت کا ایک ایسا ادارہ ہے جسے کوئی آئینی اختیارات حاصل نہیں ہیں جس کی وجہ سے اردو کے فروغ اور نفاذ کے تعلق سے اس کی سفارشات سرد خانے میں پڑی رہ جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ بہار اردو اکادمی ، گورنمنٹ اردو لائبریری، ادارہ تحقیقات عربی و فارسی، مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ، سنی اور شیعہ وقف بورڈ جیسے بڑے اداروں میں کثیر تعداد میں منظور شدہ عہدے خالی پڑے ہوئے ہیں۔ ان عہدوں پر تقرری کے لیے کہیں سے بھی کوئی دباؤ نہیں ڈالا جارہا ہے۔ بہت پہلے غالباً پھلواری شریف میں دانش مرکز رجسٹرڈ کی اردو کانفرنس میں اردو والوں نے بہار میں سرکاری سطح پر اسکول کے نفاذ کی نگرانی کے لیے حکومت سے اردو نفاذ کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کیا تھا، جس کی بازگشت بھی اب سنائی نہیں دیتی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر اردو کی مضبوط تحریک شروع کی جائے۔ اس سلسلے میں امارت شرعیہ کی سرگرمی لائق ستائش ہے۔ اردووالوں کو اس کے ساتھ بھرپور تعاون کرناچاہیے۔

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

You may also like

Leave a Comment