Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
تحفظ مادری زبان

عوامی سطح پر اردو کا استعمال – مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

by adbimiras فروری 1, 2021
by adbimiras فروری 1, 2021 2 comments

عوامی سطح پر اردو کوجو سب سے بڑا مسئلہ ان دنوں در پیش ہے ، وہ ہے اردو کا عوامی استعمال، ہم اردو کومادری زبان کہتے ہیں اور اسے مسلمانوں کے ساتھ خاص کرتے ہیں، کہ یہ مسلمانوں کی مادری زبان ہے ، ایک تو زبان کو مذہب کے ساتھ خاص کرنا غلط ہے، دوسرے یہ بھی صحیح نہیں ہے کہ عملی طورپر یہ ہماری مادری زبان ہے ، عملی کا لفظ میں نے شعوری طور پر استعمال کیا ہے، عوامی سطح پر دیکھیں تو روز مرہ اور بول چال کی زبان نوے فی صد لوگوں کی اردو نہیں ہے ، ہمارے گھروں میں زبان بولی ہی نہیں جاتی ، ہم مختلف قسم کی بولیوں کو زبان سے تعبیر کرتے ہیں، ہمارے گھروں میں جو زبان بولی جا رہی ہے، وہ کہیں بھوجپوری ہے، کہیں میتھلی ہے، کہیں مگہی ہے، کہیں سنتھالی ہے ، کہیں بنگالی ہے،کہیں اڑیہ ہے ،کہیں کوکنی ہے، کہیں وجیکا ہے، کہیں کچھ اور ہے ، ان میں سے کچھ زبان (Language)کے زمرے میں آتے ہیں اور بیش تر بولیاں (Dialect)ہیں،ہمیں یہ بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ بقول اختر اورینوی ’’ابھی تک کوئی ایسا ماہر لسانیات پیدا نہیں ہوا، جو بولی اور زبان کے درمیان واضح اور مستقل خط فاصل کھینچ سکے ۔لطیفہ یہ ہے کہ ڈاکٹر محی الدین زور نے اردوکو ہندوستانی یاکھڑی قدیم ویدک بولیوں میں سے ایک بولی ہی قرار دیا ہے، جو ترقی کرتے کرتے یا یوں کہئے کہ ادلتے بدلتے پاس پڑوس کی بولیوں کو دیتے اور کچھ ان سے لیتے اس حالت کو پہونچی جس میں آج ہم اسے دیکھتے ہیں۔

ہمارے بچے اور عوام بھی انہیں بولیوں میں سے کسی ایک کا استعمال کرتے ہیں، اس لیے میرے نزدیک عوامی سطح پر اردوکو جو سب سے بڑا مسئلہ در پیش ہے وہ اسے بولی سے نکال کر اردو زبان تک لانے کا ہے ، تاکہ یہ عوام کی زبان بن سکے ، اس مسئلہ کا حل سمینار سمپوزیم سے زیادہ گاؤں اور محلہ کی سطح پر اسے مہم کے طور پر متعارف کرانا ہے، مہم بہت پتہ ماری کا کام ہوتا ہے ، جبکہ سمینار وسمپوزیم میں وہ جان کا ہی نہیں کرنی ہوتی ہے ، اس لیے معذرت کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہم سمینارو سمپوزیم کرکے مطمئن ہو جاتے ہیں کہ ہم نے بڑا کام کر لیا ،جب کہ عوامی سطح پر اس کے اثرات کچھ نہیں ہوتے اور بات نشستند، گفتند، برخاستند سے آگے نہیں بڑھ پاتی ،یقینا کہیں آگ لگی ہو توپانی پانی چلا نا بھی ایک کام ہے ، لیکن آگ بجھانے اور پانی کے حصول کے لیے بالٹی میں پانی لے کر دوڑنا یا دم کل والے کو بلالینا بالکل دوسرا کام ، پہلے سے بڑا بھی اور نتیجہ کے اعتبار سے مفید بھی ، میں سیمینار، سمپوزیم کی افادیت کا انکار نہیں کر تا ، میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ سمینار سمپوزیم سے موضوع کو متعارف کرایا جا سکتا ہے، اردو کے مخلصین تک بات پہونچائی جا سکتی ہے ،لیکن عوام کو بولیوں سے نکال کر زبان تک لانے کے لیے ٹولیوں کی ضرورت ہے جو ہر دروازے پر دستک دے اور ہر دماغ کو اپیل کرے اور لوگوں کو متوجہ کرے کہ وہ اردو میں بات کرنا شروع کریں، اس کے لئے ضروری ہے کہ ہر ضلع میں ضلع سے بلاک سطح تک کمیٹی بنائی جائے جو گاؤں گاؤں ، دیہات دیہات میں جاکر تحریک چلائے اور اردو بیداری کی لہر گاؤں گاؤں تک پہونچائے۔

اب تو صورت حال یہ ہے کہ ہم سوچتے ہندی اورانگریزی ہی میں ہیں ، ہماری زبان پر جو کلمات فوری طور پر جاری ہوتے ہیں وہ ارد وکے علاوہ ہوتے ہیں، ہمیں اردو میں لکھنا بولنا ہوتا ہے تو ہم اس کے متبادل الفاظ تلاش کرتے ہیں، کامیابی نہیں ملی، ذہن متبادل الفاظ تک نہیں پہونچ سکا تو بلا تکلف دوسری زبان کے الفاظ استعمال کرتے ہیں اور یہ سوچ کرمطمئن بھی ہوجاتے ہیں کہ اس سے اردو کے ذخیرہ الفاظ میں اضافہ ہوتاہے۔ دوسری زبانوں کی ترکیب ، لغت اورقواعد کے اثرات سے زبان مالال مال ہوتی ہے، پروفیسر ثوبان فاروقی نے ایک بار کہا تھا کہ

’’ آج بنیادی مسئلہ اردو کے لیے کچھ کھونے اور پانے کا نہیں، اردو کی بقا کاہے، اردو جو ایک زبان ہی نہیں، مستقل تہذیب کلچر اور طرززندگی ہے، پچھلے پچاس سالوں میں اردو کہیں گم ہوگئی ہے، وہ نسل اٹھ گئی، جس کے احساسات ، تخیلات ، جس کی سوچ اور فکر جس کی وضع قطع، اورطرز زندگی اردو تھی، اب جو نسل ہمارے سامنے ہے وہ اردو کے مترجمین کی نسل ہے، ہمارے خیالات کو منتقل کرنے کے لیے جوالفاظ اچھلتے کودتے ہمارے سامنے آتے ہیں وہ اردو میں دوسری زبان کے الفاظ ہوتے ہیں، ہم ان کو دباتے ہیں، پھراس کا متبادل تلاش کرتے ہیں، ہمارے محاورے اور تلفظ تک بگڑرہے ہیں، بلکہ بگاڑنے کی منظم کوشش ہورہی ہے‘‘۔

لسانیات کے طلبہ کو اس صورت حال سے کس قدر پریشانیاں ہوتی ہیں، اور عجیب عجیب لسانی گتھیوں کے سلجھانے میں کتنا وقت صرف ہوتا ہے، اس کا اندازہ انہی لوگوں کو ہے جو اس کام سے لگے ہوئے ہیں؛ اس لئے اردو کو عوامی بنانے کے لیے ہمیں اپنی اس سوچ کو بھی بدلنا ہو گا اور یقینا اس سوچ کو بدلنے میں عوام کاحصہ کم، ہمارے اردو کے اساتذہ، تنقید نگار اور ادیب وشاعر کا حصہ زیادہ ہے ، اگر ان حضرات نے اپنی ذمہ داری کو نبھایا تو اردو کو عوامی بنانے کی مہم کامیاب ہو سکتی ہے۔ اگر یہ مہم کامیاب ہوتی ہے تو ہمیں یہ شکایت نہیں رہے گی کہ دوکانوں کے بورڈ زیادہ تر اردو میں نہیں لکھے جاتے ، کیوں لکھے جائیں ؟ دوکاندار سوچتے ہیں کہ اردو پڑھنے والے جب موجود ہی نہیں ہیں یا اقل قلیل ہیں تو اس زبان میں سائن بورڈ لگانے کا حاصل کیا ہے ، اردو عوامی بنے گی تو لوگ سائن بورڈ اور نیم پلیٹ اردو میں لگانے لگیں گے اور دوسری زبانوں کے ساتھ اردو کا استعمال بھی عوامی سطح تک ہو سکے گا ۔

اردو کو عوامی بنانے میں دوسرا بڑا مسئلہ مادری زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے کا ہے ، مادری زبان میں ہم اپنے بچوں کو تعلیم دینے میں ناکام ہو گیے ہیں،ہمارے زیاہ تر بچے اب گھرمیں تعلیم نہیں پاتے، نہ ماؤں کے پاس انہیں دینے کے لیے وقت ہے اور نہ باپ کو اس کی فکر ہے ، کم عمری میں ہی اسے کسی کنونٹ میں ڈال دیا جاتا ہے ، جہاں اسے جو زبان اور تہذیب سکھائی جاتی ہے وہ کم از کم نہ تواردو زبان ہوتی ہے اور نہ اس سے متعلق تہذیب، یہ بچے جنہوں نے اپنے ابتدائی درجات میں اردو سے کسی درجہ میں واقفیت نہیں بہم پہونچائی ہے، آگے چل کر اردو کی طرف ان کی رغبت ہو ہی نہیں سکتی، ایک شاعر نے کہا ہے   ؎

ہماری قوم کے بچوں کو انگلش سے محبت ہے

ہمیں غم ہے کہ مستقبل میں اردو کون بولے گا

اس معاملے میں اگر کسی درجہ میں استثناء ہے تو مولویوں کا ، ان کے بچے مدارس اور مکاتب میں پڑھتے ہیں ، جہاں اردو ہی ان کا اوڑھنا بچھونا ہوتا ہے ، وہ دوسرے معاملات میں دنیاوی اعتبار سے جس قدر ناکام ہوں، لیکن اگر صد فی صد کہیں سے اردو زبان کو عوامی آکسیجن مل رہا ہے تو وہ مدارس دینیہ اسلامیہ ہیں،جن کا ذکر سمینار سمپوزیم میں کم ہوتا ہے، اور اردو کی سب سے زیادہ خدمت کرنے والا یہ طبقہ سرکاری سطح کے انعامات اور اس سے حاصل ہونے والے مفادات سے کوسوں دور ہوتا ہے ، بہت دور جانے کی ضرور ت نہیں ہے، بہار اردو اکیڈمی کے ذریعہ تقسیم انعامات کی  شروع سے آج تک کی فہرست ہی اٹھا کر دیکھ لیں تو معلوم ہو گا کہ اردو کے اس زمرہ کے خدام کی کس قدر ان دیکھی کی گئی ہے، سرکاری روپیوں سے چلائے جانے والے دوسرے اداروں کی صورت حال بھی اس سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔اردو کو عوامی بنانے کے لئے اس طبقے کی خدمات کی پذیرائی اور اس کا کھل کر اعتراف کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف اکیڈمیوں اور اداروں کے ذریعہ ان کی حوصلہ افزائی کی بھی ضرورت ہے، کیونکہ یہ اردو کے بے لوث خادم ہیں،انہوں نے اس نام پر نہ عوام سے کچھ لیا ہے اور نہ سرکار سے، صرف خدمت کیے جا رہے ہیں۔اردو کے دانشور اور اردوکی روٹی کھانے والے افسران اور ذمہ داران کہتے ہیں کہ مدارس میں تو چار فی صدہی بچے پڑھتے ہیں ، وہ اپنی نا کامی کو چھپانے کی فکر میں یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ چار فی صد بچے سو فی صد اردو پڑھتے ہیں، بقیہ چھیانوے فی صد میں اردو پڑھنے والے کا تناسب دو فی صد بھی نہیں ہے۔

اردو کے سرکاری اسکول بھی اس زبان کو عوامی بنانے میں اہم رول ادا کر سکتے ہیں، لیکن سرکاری اداروں کا اپنا ایک طریقہ کار ہوتا ہے ، اور بحالی کے سلسلے میں اپنی ترجیحات ہوتی ہیں، اس لیے کہیں تو اردو کے استاذ ہی سر ے سے دستیاب نہیں ہیں اور جہاں ہیں بھی ان کی دلچسپی اس زبان کو عوام تک پہونچا نے سے کم ہی ہے، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اردو کے نام پر بحالی تو ہو گئی ہے؛ لیکن خود استاذ کی اپنی زبان اردو نہیں ہے، وہ اردو سے زیادہ ہندی پر قدرت رکھتے ہیں، ایسے استاذ کے ذریعہ جو بچے اردو سیکھتے ہیں ان کا املا، جملہ ، تلفظ سب کچھ غلط ہوتا ہے ،کبھی کبھی تو بعض الفاظ کے لکھتے اور بولتے وقت مضحکہ خیز صورت حال ہو جاتی ہے ، اس کی وجہ سے بھی اردو کو عوامی استعمال کی زبان بنانے میں مشکلات کا سامنا ہے ، مشکل کاحل استاذ کے اپنے پاس ہے،جو طلبہ ان کے پاس آگیے ہیں، ان کو امانت سمجھیں اور طلبہ پر اپنی توجہ صرف کریں ، اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے کی بھی کو شش کرتے رہیں، اس کا حل صرف اور صرف مطالعہ کی کثرت ہے ، مطالعہ کی کمی کی وجہ سے اردو کی معلومات کمزور ہوتی ہے اور کمزور معلومات جب ہم طلبہ کو منتقل کرتے ہیں تو منتقلی اس سے بھی کمزور ہوتی ہے، اور کار طفلاں تمام ہوجاتا ہے۔

اردو پڑھانے کے ساتھ اردو بولنے اور لکھنے کی مشق بھی طلبہ کو کرانی چاہیے، لیکن اگر استاذ خود اردو بولنے کے بجائے ’’وجیکا‘‘اور دوسری بولیوں کا استعمال کرتے ہوں تو طلبہ کس طرح اردو بولنے پر قدرت پائیں گے ، اسی طرح اردو لکھنے کی مشق کا معاملہ ہے، لکھنے میں املا کی صحت کے ساتھ خوبصورت تحریر کا بھی بڑا دخل ہے ، اور عوامی طور پر یہ خوبصورتی بھی باعث کشش ہوتی ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ تلفظ اور املا کی صحت کے ساتھ تحریر بھی خوبصورت بنائی جائے ، یوں تو سیکھنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی ، ہر عمر میں اپنے سے فائق لوگوں سے سیکھنے کے عمل کو جاری رکھاجا سکتا ہے ، لیکن بڑی عمر میں یک گونہ حجاب آتا ہے اور اس حجاب کی وجہ سے ہم شرمندگی محسوس کرتے ہیں، اس لیے بڑی عمر میں تحریر کی درستگی کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ تھن پیپر لیکراسے مطبوعہ اردو کتابوں پر رکھ کر قلم پھیرا جائے اور روزانہ دو تین صفحہ اس طرح لکھا جائے تو ہاتھ بیٹھ جائے گا اور تمام حروف اور ا س کے مرکبات کے لکھنے کی مشق ہو جائے گی ۔

عوامی بیداری کے لیے کرنے کا ایک بڑا کام یہ بھی ہے کہ سرکار کے ذریعہ سابقہ اعلانات کو عملی طور پر نافذ کرنے کی جد وجہد کی جائے ، سرکار نے بار بار اعلان کیا ہے کہ دس طالب علم ہوں تو ایک استاذ بحال ہوں گے ، ہمارا کہنا یہ ہے کہ استاذ بحال کیجئے ،لڑکے ا ٓئیں گے ، یہ پہلے انڈا یا پہلے مرغی والا معاملہ ہے ،ہم پہلے مرغی کے قائل ہیں، مرغی موجود ہو اور وہ دیہاتی مرغی ہو، چکن نہ ہوتو انڈا تو آئے گا ہی، لیکن سر کار بغیر مرغی کے انڈا چاہتی ہے یہ تو کسی بھی حال میں ممکن نہیں ہے ۔ ( یہ بھی پڑھیں اردو محاورے کی حقیقت اور اس کی ادبی و سماجی حیثیت – طفیل احمد مصباحی )

عوامی سطح پر اردو کو درپیش مسائل میں ایک یہ بھی ہے کہ اردو میں لکھی ہوئی درخواستیں سرکاری محکموں میں ردی کی ٹوکری میں ڈال دی جاتی ہیں،اس کی وجہ سے عوام اردو میں درخواست دینے سے گریز کرنے لگی ہے ، ڈاکٹر شکیل خاں صاحب کا یہ بیان بہت پہلے نظر سے گزرا تھا کہ انہوں نے سینکڑوں درخواستیں اردو میں ارسال کیں اور ان کا کوئی جواب اردو میں انہیں موصول نہیں ہو سکا۔اور اب درخواستوں کا تو مسئلہ ہی نہیں ہے ، سارے فارم ہندی میں چھپے ہوئے ہیں، آپ ان کی خانہ پُری لازما ہندی ہی میں کریں گے، اردو میں فارم دستیاب ہویا کم از کم اسی فارم میں اردو کا اضافہ کر دیا جائے تو فارم اردو میں بھرے جا سکیں گے ، اردو سے متعلق سرکاری اداروں کو اس طرف پہل کرنی چاہیے۔دوسرے کام کے لیے عوامی سطح پر درخواستیں ہی اردو میں کم پڑتی ہیں ، یا نہیں پڑتی ہیں،اس لیے جن جگہوں پر مترجم بحال ہیں وہ بھی دوسری فائلوں پر لگادیے گیے ہیں، اور وہ بخوشی اس کام میں لگ گیے ہیں ، کیونکہ دوسری فائلیں زیادہ ’’بار آور‘‘ ہیں، انہوں نے اس تبدیلی پر کوئی احتجاج کبھی درج نہیں کرایا ، اور مطمئن ہو گیے کہ وہ سرکاری ملازم ہیں،اس صورت حال کی وجہ سے بھی عوامی طور پر اردو کا استعمال سرکاری دفاتر میں کم ہواہے ، واقعہ یہی ہے ،چاہے جس قدر بھی تلخ ہوکہ ہم نے ارد وکے نام پر روٹیاں زیادہ سینکی، ہیں کام کم کیا ہے ۔

اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اردو ہائی پروفائل اعلی سطح کے لوگوں کے یہاں سے غائب ہے، ان کے یہاں ہندی انگریزی کے اخبارات ورسائل تو آتے ہیں،اردو اخبارات ورسائل کی بات کیجئے تو کہتے ہیں کہ اردو کے اخبارات ورسائل کا معیار ہی کیا ہے، باسی خبریں، غیر ضروری اور غیر معیاری مضامین ، طباعت ایسی کہ چھونے سے ہاتھ کالے ہو جائیں، جتنی کمی  کوتاہی ممکن ہے نکال دی جاتی ہے اور نئی نسل کو ان سے دور رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے ایسے میں اردو کو عوامی بنانا کس طور ممکن ہو سکتا ہے۔

یہ مسائل سرکار کے پیدا کردہ نہیں ہیں، یہ تو ہماری ذہنی پستی کے نتیجے میں در آئے ہیں، اس کو دورکرنے کے لیے ہمیں خود ہی جد وجہد کرنی ہوگی ، آج تک ہماراطریقہ  یہ رہا ہے کہ ہم ہر کمی کو تاہی کے لیے دوسروں کو مورد الزام ٹھہراتے رہے ہیں، اس موقع سے داخلی طور پر جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ہم نے  اپنے عمل سے اردو کوعوامی بنانے میں کتنی رکاوٹیں پیدا کی ہیں، اصل معاملہ یہ ہے کہ خارجی سطح پر بھی اردو کوعوامی بنانے میں جو رکاوٹیں ہیں وہ ہماری بے حسی کے نتیجے میں ہیں ، ہم نے ہمیشہ سرکار کی طرف دیکھا ہے،اپنے گریبان میں جھانکنے کی نوبت کم آئی ہے،یاد رکھیے زندہ قومیں اپنے مسائل خود حل کرتی ہیں،انہیں چار لوگوں اور چار کاندھوں کی ضرورت نہیں ہوا کرتی ، چارکاندھے مُردوں کے لیے ہوتے ہیں، زندہ قوموں کو اپنا بوجھ، اپنے مسائل ، اپنی پریشانیاں خود اٹھانے ہوتے ہیں، جس دن ہم نے یہ طے کر لیا کہ اردو کا مسئلہ ہم خود حل کریں گے اس دن سے اردو کوعوامی بنانے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہوگی، کیونکہ

ع۔    کسی دیوار نے سیل جنوں روکا نہیں اب تک

 

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

 نائب ناظم

امارت شرعیہ بہا ر، اڈیشہ وجھارکھند

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
adabi meerasadabi miraasadabi mirasادبی میراثاردومفتی محمد ثناالہدیٰ قاسمی
2 comments
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
بہار میں اردو افسانہ – ڈاکٹر احمد صغیر
اگلی پوسٹ

یہ بھی پڑھیں

ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب...

جولائی 1, 2023

عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان...

فروری 21, 2023

اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:...

مئی 22, 2022

کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –...

مئی 22, 2022

خطرہ میں ڈال کر کہتے ہیں کہ خطرہ...

مئی 13, 2022

مادری زبان’ اردو‘ کی اہمیت – حافظ معراج...

فروری 20, 2022

بہار کی درس گاہوں میں اردو تعلیم کے...

جنوری 4, 2022

گوشہ گوشہ مہک رہا ہے اردو زباں کی...

نومبر 9, 2021

شیریں زبان اردو: ماضی، حال اور مستقبل کے...

نومبر 8, 2021

 یومِ اردو: اردو زبان و ادب کے فروغ...

نومبر 8, 2021

2 comments

تحفظ اردو:سرکا ری سطح سے کرنے کرانے کے کچھ کام - مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی - Adbi Miras فروری 3, 2021 - 6:50 صبح

[…] متفرقات […]

Reply
بہار میں اردو کی صورت حال - ڈاکٹر ریحان غنی - Adbi Miras فروری 14, 2021 - 5:47 شام

[…] تحفظ مادری زبان […]

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں