by adbimiras
0 comment

 رشک قمر اگر نہ ہو /محمد عالم صدیقی(عالم گورکھپوری) -ڈاکٹر ابوالبشر

زیر تبصرہ کتاب’’رشک قمر اگر نہ ہو۔۔۔۔۔۔‘‘( شعر ی مجموعہ)جناب عالم گورکھپوری کا یہ پہلا شعری مجموعہ ہے جو عمدہ اور خوبصورت غزلوں،نظموں اور مختلف قطعات پر مشتمل ہے۔ یہ صرف شعری مجموعہ ہی نہیں بلکہ شاعر کی پوری زندگی یعنی نصف صدی پر محیط ان کی جمع پونجی ہے۔ اس کتاب میں مصنف کی زندگی کے تمام رنگ و روپ کی کارفرمائی نظر آتی ہے۔شاعر نے اپنے اس مجموعے کے ذریعہ دنیا میں واقع ہونے والے اتارچڑھاؤ ، ہنسی خوشی ،رنج و غم اور زندگی میں واقع ہونے والے تمام حوادث کو اس میں جمع کرنے کی حتی الامکام کوشش کی ہے جس میں کامیاب بھی رہے۔
سرزمین گورکھپور اردو ادب کی خدمت کرنے میں ہمیشہ کسی نہ کسی طریقے سے لگا رہتا ہے چاہے وہ تحقیق،تنقید نگا ریا شاعروں کے حوالے سے ہو۔اس خطے نے عظیم ،شہرت یافتہ ادباء اور شعراء کو پروان چڑھایا ہے ان میں شہرت کے حامل شخصیت میں سے مجنون گورکھپوری ،فراق گورکھپوری،شبنم گورکھپوری دور حاضر میں ماہر سرسید پروفیسر اصغر عباس ،عظیم ناقد پروفیسر قاضی افضال حسین،پروفیسر جمال حسین وغیرہ اہمیت کے حامل ہیں ان ہی کی کڑی میں یہ شاعر عالم گورکھپوری بھی شامل ہوگئے ہیں۔
عالم گورکھپوری کی کتاب کے مطالعے سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف ابتدائی عمر سے ہی شاعری میں دلچسپی رکھتے تھے۔ ان کے مقبول شاعر غالبؔو مومنؔ تھے۔ سائنس کے طالب ہونے کے باوجود اردو ادب سے بہت ہی زیادہ دلچسپی رکھتے تھے جس کی وجہ سے وقت بہ وقت موقع بہ موقع مشاعروں میں شرکت فرماتے تھے۔بعض اوقات شعر بھی سناتے تھے جس پر داد تحسین ملتا۔ مصنف نے اس کتاب میں پروفیسر ظفر احمد صدیقی کا شکریہ بحیثیت شاگرد علامہ اقبال کے اس شعر سے ادا کیا:۔
انھیں کے فیض سے میری نگاہ ہے روشن
انھیں کے فیض سے میری سبو میں ہے جیحوں
(علامہ اقبال)
عالم گورکھپوری نے اپنے شعری مجموعے میں حمد، غزلیں،نظمیں اور کچھ قطعات بھی شامل کیے ہیں۔ اس مجموعے میں شاعر نے تمام موضوعات پر طبع آزمائی کی ہے جیسے،عشقیہ اشعار حقیقی یا مجازی،ہجر ووصال،محبت و نفرت،زندگی کے اتار چڑھاؤ،طنز ومزاحیہ اشعاروغیرہ ۔ کچھ اشعار پیش کئے جاتے ہیں:
اللہ اپنی رحمت ، سے سرفراز کردے
دنیائے غم سے مجھ کو ، تو بے نیاز کردے
اپنی اطاعتوں کا ، مجھ کو شعور دینا
لیکن عبادتوں پر ، کچھ نہ غرور دینا
عشق کے انجام سے واقف نہیں ہوں میں مگر
بس میں اتنا جانتا ہو ابتدا اچھی لگی
اک اجنبی سے پھر مجھے پیار ہوگیا
بیٹھے بٹھائے عشق کا ، آزار ہوگیا
آشیاں کی یاد بھی ، مجھ کو اب آتی نہیں
ہوگیا ہوں میں قفس سے ، اب تو اتنا آشنا
افسانہ میرے غم کا ، جس نے بھی سنا ہوتا
ممکن ہی نہیں سن کر ، وہ رو نہ دیا ہوتا
لائے تھے کچھ نہ ساتھ گئے خالی ہاتھ ہی
یا رب ترے جہاں سے بھلا ہم نے کیا لیا
عالم گورکھپوری دور حاضر کے منجھے ہوئے کلاسیکی شاعر ہیں۔ ان کی شاعری میں مابعد جدیدیت کی اثر انگیزی نظرآتی ہے۔انہوں نے اپنی شاعری سادہ وسلیس اندازِ بیان میں کی ہے جو شہرت کی پہلی سیڑھی ہے۔ ان کی شاعری عام فہم و فکر انگیز ہے جس کی وجہ سے انسانی احساسات و انسان دوستی کی سچی عکاسی نظر آتی ہے۔ انہوں نے اپنے مجموعے میں تشبیہ،استعارہ،کنایہ،مجاز مرسل،حسن تعلیل، علت، مراۃالنظیر، تجاہل عارفانہ وغیرہ کا استعمال بڑی ہی خوش اسلوبی سے کیا ہے۔قافیہ و ردیف کی مکمل پابندی بھی نظر آتی ہے۔چند اشعار دیکھئے:۔
آمد سے تیری گھر میرا ، گلزار ہو گیا
باغ و بہار دل بنا ، سرشار ہو گیا
وہ کررہا تھا وصل کا ، وعدہ ابھی ابھی
دل سے زبان تک آتے آتے ہی انکار ہوگیا
غم نہ کر عالمؔ گزر جا ، امتحان کے دور سے
رنج و غم دیتا خدا ہے آزمانے کے لئے
ان تمام اشعار کو دیکھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ عالم گورکھپوری کے وہاں جذبات کی شدت کے ساتھ تسلسل اور نغمگی کا خاص خیال رکھا گیا ہے ۔انہوں نے اپنی شاعری میں عام بول چال کی زبان کا استعمال بھی کیا ہے۔
عالم گورکھپوری کے اس مجموعے جس کانام ’’رشک قمر اگر نہ ہو۔۔۔۔‘‘بہت ہی عمدہ ہے۔ جو ان کے مجموعے کے مطالعے سے واضح ہو جاتا ہے۔کتا ب کے ابتدامیں مختصر سوانحی کوائف اور تعارف کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر عزیز احمد، ڈاکٹر قلیم قیصر اور ڈاکٹر سعدیہ سالم کے مختصر مضامین ہیں جو کہ خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ اس مجموعے کے سرورق پر عالم گورکھپوری کی مختلف اور ان کے خانوادے کی تصاویر مجموعے کو جاذب بناتی ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ اس شعری مجموعے سے قارئین کے علم میں اضافہ اور ذوق کی تسکین کا سبب ہوگا۔ میں مصنف کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کی ان کایہ مجموعہ لائق تحسین ہے اور ادبی حلقوں و شعرا کی محفلوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔

(تبصرے میں پیش کردہ آرا مبصر کے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

You may also like

Leave a Comment