کورونا کے دور میں مطالعے کی طبی و نفسیاتی قدر و قیمت الیزابیتھ بیمسٹن (کالم نگار وال اسٹریٹ جرنل) – ترجمہ:نایاب حسن

by adbimiras
0 comment

پچھلے سال میرے ذہن میں بار بار امیلی ڈکنسن ( Emily Dickinson)کی نظم کا یہ مصرعہ گونجتا رہا کہ’’کتاب سے زیادہ بڑا جہاز کوئی نہیں ہے‘‘۔

بہت سے لوگوں کے مانند مجھے بھی پچھلے سال مطالعے کے طبی اثرات محسوس ہوئے ۔جیسا کہ نیورو سائنٹسٹ اور ماہرینِ نفسیات(اور ہائی اسکول کے اساتذہ) بھی آپ سے کہتے ہیں کہ کتابیں انسانی دماغ کے لیے بہت مفید ہوتی ہیں ، ان کے فائدے خاص طورپر موجودہ حالات میں زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ کتابیں ہماری دنیاؤں کو وسعت بخشتی ہیں،ہمیں نجات عطا کرتیں اور وقار و اعتبار بخشتی ہیں،ہمیں چونکاتی ہیں اور ہمارے دل دماغ میں تجسس پیدا کرتی ہیں،جس سے ہمارے Dopamine میں تیز روی آتی ہے۔ کتابیں ہمارے نظریے کو وسعت بخشتی ہیں اور دوسروں کے تئیں ہمیں نرم دل و شفیق بناتی ہیں۔ ہمیں اپنے آس پاس کے لوگوں سے مربوط ہونے کا جواز فراہم کرتیں اور ہماری معاشرتی زندگی کو بہتر بناتی ہیں۔

کتابیں تکلیف دہ مسائل سے ہماری توجہ ہٹاتیں اور ذہنی تکدر کو کم کرتی ہیں۔ براؤن یونیورسٹی کے ’مائنڈفل سینٹر ‘کے ریسرچ ڈائریکٹر اور ماہر نفسیات جوڈ بریور(Jud Brewer) کا کہناہے کہ جب ہم کسی کتاب کو پڑھتے ہوئے اس میں پوری طرح محو ہوجاتے ہیں تو ہمارے ذہن کا ڈیفالٹ موڈ نیٹ ورک شانت ہوجاتا ہے۔ یہ دماغ کے اندر پایا جانے والا ایسا نیٹ ورک ہے جو اس وقت متحرک ہوتا ہے، جب ہم بالکل خالی ہوتے  ہیں اور اس کی وجہ سے ہم قلق و اضطراب میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔

میامی بک سٹور (Books & Books)کے مالک اور میامی کتاب میلہ کے بانی مشل کیپلن کا کہنا ہے کہ دنیا میں اس وقت بہت زیادہ شور و غوغا ہے ، ایسے میں مطالعہ ایک قسم کا مراقبہ (Meditation)ہے۔

این پی ڈی گروپ(امریکن مارکیٹ ریسرچ کمپنی) کے مطابق 2004 سے اب تک 2020 میں سب سے زیادہ کتابیں چھپی اور فروخت ہوئی ہیں۔ مطبوعہ کتابوں کی شرح 2019کے مقابلے میں 8.2فیصد زیادہ رہی جبکہ ای-کتابوں کی شرحِ اشاعت و فروخت پچھلے سال کے مقابلے میں 17فیصد زیادہ رہی۔ خریدو فروخت کی یہ شرح مختلف کٹیگریز کی کتابوں پر مشتمل ہے۔ این پی ڈی کے بک انالسٹ کرسٹن میکلین کے مطابق ان میں بچوں کا ادب،غیر افسانوی ادب،خصوصا صنفی و شہری حقوق،سوانح اور یاد داشتوں پر مبنی کتابیں شامل ہیں۔

حالاں کہ اسی دوران جبکہ بہت سے لوگ زیادہ سے زیادہ کتابیں خرید رہے ہیں،کچھ لوگوں کے لیے انھیں پڑھنا مشکل بھی ہورہا ہے۔ برمنگھم(انگلینڈ) کی آسٹن یونیورسٹی کے اسکالرز نے پچھلے موسمِ گرما میں وبا کے دوران برطانوی شہریوں کے مطالعے کے حوالے سے ایک اسٹڈی کی تھی،اس میں یہ پایا گیا کہ کچھ لوگ مطالعہ تو بہت زیادہ کر رہے ہیں اور ان کا کہناہے کہ  گھروں میں بند ہونے کی وجہ سے انھیں پڑھنے کا زیادہ سے زیادہ وقت مل رہا ہے، وہ چاہتے ہیں کہ اپنا دھیان دوسری چیزوں میں بھی  لگائیں،بچوں کے ساتھ پڑھتے ہوئے بھی وہ کافی وقت بتا رہے ہیں،مگر ان کی مطالعے کی رفتار دھیمی ہے۔ سروے میں شامل ساڑھے آٹھ سو لوگوں کا کہنا تھا کہ دورانِ مطالعہ ان کا ذہن یکسو  نہیں رہتا اور انھیں رفتارِ مطالعہ بڑھانے میں پریشانی ہورہی ہے۔

بلاشبہ ایسے وقت میں جبکہ آپ کا ذہن مسلسل آپ کی جان کو درپیش خطرات کے بارے میں سوچ رہا ہوتو اس کا کتاب پر مرتکز ہونا ذرا مشکل ہے۔پچھلے سال کے مارچ سے تاحال ہم میں سے زیادہ تر لوگوں کا یہی حال ہے،ہم تب سے اب تک مستقل ایک غیر محسوس بیماری سے لڑ رہے  یا اپنا دفاع کر رہے ہیں۔(مجھے  کبھی کبھی اپنا دماغ  ایک کارٹون برین  لگتا ہے جس کے چھوٹے چھوٹے ہاتھ پاؤں ہیں ،وہ میرے ہاتھ سے کتاب لے کر بھاگنا چاہتا ہے اور کہتا ہے کہ تم دیکھتی نہیں کہ میں بزی ہوں؟)الجھن اور تھکان کی وجہ سے بھی ہمارے دماغ میں تناؤ کے ہارمونز پیدا ہوتے ہیں اور ارتکاز مشکل ہوتا ہے۔

ایسی حالت درپیش ہو تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟اپنے مطالعے کے حوالے سے پہلے سے زیادہ حساس،بیدار اور ہوشیار ہوجائیں۔اس کے طریقے یہ ہیں:

مراقبہ:مطالعے سے پہلے اپنے ذہن کو بالکل خالی کرلیں۔ پانچ منٹ تک ایک دم یکسو ہوکر بیٹھیں،ذہن کو پرسکون ہونے دیں ۔

پہلے مختصر چیزیں پڑھیں:براؤن یونیورسٹی کے ڈاکٹر بریور کا کہنا ہے کہ ہمارا دماغ انعام و اکرام کو پسند کرتا ہے اور جو کچھ آپ پڑھ رہے ہیں اسے مکمل کرنا اس کے لیے انعام جیسا ہےـ یہ ہمارے دماغ کو اچھا لگتا ہے اور وہ اس عمل کو دہرانا چاہتا ہے۔ ان کا مشورہ ہے کہ ابتدا میں کسی پسندیدہ تخلیق کار کا ایسا مختصر افسانہ پڑھیں،جو آپ کو پوری طرح اپنا اسیر بنالے، اس کے مطالعے میں غرق ہو جائیں۔ پھراس سے فارغ ہونے کے بعد غور کریں کہ اس کے مطالعے کے دوران آپ کی کیفیت کیا تھی؟

کچھ ایسا پڑھیں جس کی عصری معنویت ہو: مسٹر کیپلین کہتے ہیں کہ اگر آپ کے ذہن پر سیمابی کیفیت طاری ہے،مختلف خیالات کے ہجوم سے پریشان ہیں،تو آپ کو ایسی کتابیں پڑھنی چاہئیں جن سے یہ معلوم ہو کہ آپ کے ارد گرد کیا چل رہا ہے۔ اگر موضوع آپ کی زندگی یا واقعاتِ زندگی سے متعلق ہے تو آپ کا ذہن اس پر مرکوز ہوجائے گا۔ ٹورنٹو یونیورسٹی کے پروفیسر ایمرٹس کیتھ آٹلی کی ریسرچ یہ بتاتی ہے کہ بیانیہ اسلوب میں لکھی گئی کتابیں(مثلاً فکشن، سوانح، یادداشتیں اور تاریخ) ہم جتنا زیادہ پڑھتے ہیں ہمارے اندر اتنے ہی  زیادہ نرمی و رحمدلی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کسی (مصنف)نے آپ کو دوسرے کے دماغ میں پہنچانے کے لیے بڑی محنت کی ہوتی ہے۔

کسی معمول کے کام میں لگ جائیں:جب غیر یقینی اور خوفناک  حالات سے سابقہ ہو تو کسی مانوس اور معمول کے کام کے ذریعے ذہنی تسلی حاصل کی جاسکتی ہے۔ آسٹن یونیورسٹی کے اسکالرز کے ذریعے وبا کے دوران مطالعے پر جو اسٹڈی کی گئی اس میں یہ پایا گیا کہ پڑھنے والے دو قسم کے ہوتے ہیں: وہ جو اپنی معلومات میں اضافے کے لیے کچھ نیا پڑھنا چاہتے ہیں اور کچھ وہ لوگ ہیں جو اپنے ذہن کو سکون و استقرار بخشنے اور تحیرات سے بچنے کے لیے مانوس کتابیں پڑھتے ہیں۔

پینتھون اینڈ شاکین بکس (Pantheon and Schocken Books)کی ہیڈ اور نیشنل بک فاؤنڈیشن (امریکہ)کی سابق ایگزیکیٹو ڈائریکٹر لیزا لوکاس عام دنوں میں ہفتہ بھر میں ایک یا دو کتابیں پڑھتی تھیں۔ مگر وبا کے دوران وہ مطالعے پر بالکل اپنا ذہن مرکوز نہ رکھ سکیں اور انھیں مسلسل دشواریوں سے دوچار ہونا پڑا۔ پھر دسمبر کے مہینے میں چھٹی والے ایک دن موبائل اسکرول کرتے ہوئے ان کے ذہن میں  آیا کہ انھیں “The House of Mirth” پڑھنا بہت زیادہ پسند ہے اور وہ ہر سال چھٹی کے دنوں میں اس کتاب کو پڑھتی رہی ہیں۔ اس یاد نے انھیں کتاب کی طرف متوجہ کیا،انھوں نے اپنے قریب پڑی ہوئی ایک کتاب اٹھائی،اسے کھولا اور بس پڑھنے لگیں۔کہتی ہیں’’ایک بار جب میں نے شروع کیا تو اسے پڑھ کر جو اطمینان،لطف اور ذہنی کشادگی کا تجربہ حاصل ہوا اس سے اندازہ ہوا کہ یہ تو میرے ذہنی عمل کا حصہ ہے اور یہ انقلاب انگیز تھا،اس سے بہت سکون حاصل ہوا‘‘۔

ذہنی استحضار و یکسوئی  کے ساتھ مطالعہ کرنے کے  کچھ مزید طریقے:

اپنے فون کو دور رکھ دیں: کسی دوسرے کے حوالے کردیں، مگر ساتھ ہی اسے یہ بھی کہہ دیں کہ اس سے چھیڑ چھاڑ نہ کرے یا کسی دوسرے کمرے کے ڈراور میں چھپا دیں۔

پڑھنے کا ایک خاص معمول بنالیں ـ ایک خاص جگہ فکس کرلیں۔ روزانہ طے شدہ وقت میں ہی مطالعہ کریں۔ کتاب کے اندرون میں گھس جائیں۔ اس سال بہت سی کتابوں نے اپنے قارئین کو پہلے سے زیادہ پرسکون بنادیا ہے۔ جیسے یادداشتوں،ذہنی یکسوئی (Mindfulness) اور شاعری کی کتابیں۔ مشیل کیپلین کا کہنا ہے کہ جب انسان ذہنی انتشار و پراگندگی سے دوچار ہوتا ہے تو ایسے میں شاعری اس کے لیے ذہنی کتھارسس کا کام کرتی ہے۔

بچپن میں آپ جیسے پڑھا کرتے تھے ویسے پڑھیے:بستر پر لیٹ کر،پشت کے بل ٹیک لگاکر،کمبل میں گھسے ہوئے فلیش لائٹ آن کرکے(میں اپنی کوٹھری میں پڑھتی ہوں)ـ معصومیت،حیرت اور جذب  و انجذاب کے اس احساس کی توسیع کی کوشش کریں۔ براؤن یونیورسٹی کے جوڈ بریور کا کہنا ہے کہ اگر آپ پڑھنےکے لیے ایک جگہ متعین کرلیتے ہیں تو وہاں پڑھنے میں خاص قسم کا احساسِ تحفظ ہوتا ہے۔

صبح ہوتے ہی سب سے پہلے کچھ نہ کچھ پڑھنے کی کوشش کریں،دن کی شروعات کا یہ سب سے بہترین طریقہ ہے۔اس طرح خود کو زیادہ توانا محسوس کریں گے۔

کتابیں سننے کی بھی کوشش کریں،کسی آڈیو بک کا انتخاب کریں اور  کچھ کام پڑھنے والے کوکرنے دیں،اگر آپ گاڑی ڈرائیو کررہے ہیں یا ورزش کررہے ہیں یا اسی طرح کا کوئی کام کررہے ہیں تو اس دوران آڈیو بک سن سکتے ہیں۔ اس سے آپ کی تنہائی بھی دور ہوگی۔ چونتیس سالہ الیزا فورٹیونیٹو جو نیویارک کی کمپنی Croton-on-Hudson کی پبلسٹی ڈائریکٹر ہیں،ان کے لیے وبا کے دوران باقاعدہ کتابوں کا مطالعہ مشکل ہورہا تھا تو انھوں نے آڈیو بکس سننا شروع کیا اور اس سے انھیں غیر متوقع فائدے حاصل ہوئے۔ ان کا کہناہے کہ تنہائی کے دنوں میں مجھے دوسرے کی آواز سننا بہت اچھا لگا۔ اگر آپ مطبوعہ کتاب نہیں پڑھ پاتے تو چھوڑ دیں۔ آج کل زندگی تو ویسے بھی انتشار،بوریت اور ناخوشگواریوں سے بھری پڑی ہے، مطالعے کو اس صف میں نہیں ہونا چاہیے۔

ایک کتاب سے فارغ ہونے کے فوراً بعد دوسری کتاب شروع کردیں۔ میں تو اسی نشست میں دوسری کتاب شروع کر دیتی ہوں۔اس سے میں اس کشمکش میں وقت ضائع کرنے سے بچ جاتی ہوں کہ اب کونسی کتاب پڑھنی ہے؟ کتاب میں مستغرق رہنا میرے لیے نہایت مسرت بخش عمل ہے،پس میں یہ سلسلہ ٹوٹنے نہیں دیتی ۔

Leave a Comment