اجتماعیت کا دور جس میں ادیب کو کوئی الگ شناخت حاصل نہ تھی ایسے دور میں پیدا ہونے والا ادب اجتماعیت پر مبنی تھا اسے کسی ایک فرد کے ساتھ موسوم نہیں کیا جاتا تھا۔ ۔
جب کہ دوسرے دور کا ادب جسے ہم کلاسیکی ادب کا نام دیتے ہیں اس میں ہمیں ادیب تین حصوں میں بٹا دکھائی دیتا ہے
پہلے نمبر پر ایسا ادیب جو دربار اور درباری روایت سے براہ راست جڑا ہوا ہوتا ہے
دوسرے نمبر پر ایسا ادیب جو دربار سے براہ راست جڑا ہوا تو نہیں ہوتا لیکن اس روایت سے ضرور وابستہ ہوتا ہے جس کو ہم درباری روایات کا نام دیتے ہیں جب کہ تیسرے نمبر پر ایسا ادیب جو نہ تو کسی دربار سے براہ راست جڑا ہوتا ہےاور نہ ہی اس روایت کا حصہ ہوتا ہے بلکہ اس کے ہاں ایک عوامی رنگ نظر آتا ہے جس کی بہترین مثال نظیر کی ہے.
اس دور میں تخلیق ہونے والا ادب کو اگر موضوعاتی حوالے سے دیکھا جائے تو زیادہ تر ایسے موضوعات سامنے آتے ہیں جو اشرافیہ کے موضوعات ہوتے ہیں عوامی رنگ قدرے کم نظر آتا ہے اس میں زبان و بیان کے حوالے سے بھی اشرافیہ کا طرز اپنایا جاتا ہے ایسا ادیب شعوری طور پر اشرافیہ کی زبان میں ادب تخلیق کرتا ہے کیونکہ ہر دور میں تخلیق ہونے والے ادب کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں کلاسیکی دور میں تخلیق ہونے والے ادب کے تقاضے ہمیں درباری تقاضوں سے ملتے جلتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ کلاسیکی دور میں ہمیں چند موضوعات کی اہمیت واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔
اس دور کا ادیب اپنے سماج سے اٹچ یعنی جڑا ہوا دیکھائی دیتا ہے اس کو ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ اس کے ہاں انفرادی شناخت اور اجتماعیت کا تصور بیک وقت پایا جاتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ ہما شیرازی )
وہ ایک سطح پر انفرادی اظہار بھی کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اجتماعیت کا پرچار بھی کرتا ہے جبکہ اس کے برعکس اگر اجتماعیت کے عہد کو دیکھا جائے تو اس میں صرف ہمیں اجتماعیت ملتی ہے فرد کی شناخت اس طرح نظر نہیں آتی جس طرح کلاسیکی دور میں نظر آتی ہے۔
تیسرے دور میں ادیب کی حیثیت یکسر بدلتی ہوئی دکھائی دیتی ہے اس کے پیچھے کہیں محرکات موجود ہیں اگر نوآبادیاتی عہد کی بات کی جائے تو اس دور کا مصنف اور ادب استعماری پالیسیوں سے براہ راست متاثر نظر آتا ہے۔
نو آبادیاتی دور کا تخلیق کار دربار اور مشاعرے کی محدود و مخصوص فضا سے نکل کر نسبتا وسیع عوامی منطقے میں داخل ہوا شاعر اور مربی میں جو تعلق تھا اس نے مصنف اور قاری کے رشتے میں ایک نئی جہت حاصل کی جس نے نے مصنف کا نیا سماجی کردار متعین کیا وہ جو پہلے مربی کا دست نگر تھا اب قاری کا اصلاح، رہنما بن کر سامنے آیا یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ اس کردار کے تعین میں ادیب آزاد نظر نہیں آتا بلکہ یہ راستہ استعمار سے ہوکر استعماری محکموں سے ہو کر گزرتاہے کتاب کی اشاعت کے حوالے سے مخصوص پالیسیز اور کتاب کی اشاعت کے بعد انہیں سالانہ رپورٹ میں جمع کروانا اپنے من چاہے رجحانات اور موضوعات کی ترویج کے لیے انعامی سلسلہ کا اجراء نے بالواسطہ یا بلاواسطہ ادبی پیداوار کو متاثر کیا اس کے علاوہ نئی اصناف میں ادب کی تخلیق جن میں نظم اور ناول سرفہرست ہیں اس نے بھی مصنف کی تخلیقی عمل پر گہرا اثر ڈالا اس دور میں ایک خاص اسلوب اختیار کروایا گیا جو کہ استعماری قوتوں کے مفادات کے عین مطابق تھا۔
اگر استعماری دور کے ادب یا ادیب کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے ایک وہ ادیب جس کو ہم پیڈ یا کرائے کے ادیب کہہ سکتے ہیں جس کی مثال فورٹ ولیم کالج میں ہونے والی عملی سرگرمیاں اور اس میں شامل تخلیق کار ہیں جس کی مثال میر امن کی باغ و بہار اور اس جیسی تخلیقات ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں نسخۂ عرشی – سیدہ ہما عرشی )
اس کے برعکس ہمیں دوسرے حصے میں وہ ادیب نظر آتے ہیں جو براہ راست تو استعمار کے کسی خاص ادارے سے جڑے نظر نہیں آتے لیکن وہ اپنی تخلیقات میں کہی کہی استعماری بیانیہ کو اہمیت دیتے ہوئے نظر آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایسی تخلیقات کو استعمار کے حکمران انعام و اکرام سے نوازتےنظر آتے ہیں جس کی مثال ڈپٹی نذیر احمد کا ناول توبتہ النصوح ہے
نوآبادیاتی عہدکے بعد ادیب کی سماجی حیثیت مزید بدلتی ہوئی دکھائی دیتی ہے جس کو جدید دور یا ما بعد نوآبادیاتی دور کہا جاتا ہے ادیب کی اس سماجی حیثیت کے بدلنے میں بھی بہت سے نظریات اور تحریکوں کا عمل دخل شامل ہے
سرمایہ دارانہ نظام کے نتائج ،رومانوی ،علامتی ،حقیقت پسندانہ ،جدیدیت ،مابعد جدیدیت ساختیات، پس ساختیات، لسانی تشکیلات، تاریخیت ،نو تاریخیت اور ایسی مختلف تھیوریز اور تحریکوں نے ادیب کے سماجی اور انفرادی سطح پر حیثیت کو متعین کیا
ان میں سے ہر ایک تحریک اور تھیوری اپنے اپنے ساتھ مختلف اور دلچسپ اسالیب اور موضوعات لے کروارد ہوئیں اس دور میں تخلیق کا وہ مثلث جس کا ایک زاویہ مصنف، ایک تخلیق اور ایک قاری تھا ختم ہوگیا۔ ابھی تک معنی آفرینی کے لئے تخیل آرائی، جذبے، تجربے اور محسوسات کا مطالعہ کیا جاتا تھا اور معنیاتی تہہ داری کی تفہیم کی جاتی تھی۔ اب ساری معنی آفرینی کا انحصار صرف قرأت پر کردیا گیا۔ نہ مصنف کچھ ہے اور نہ منشائے مصنف، رولاں بارتھ نے تو ادیب کی موت کا اعلان ہی کردیا ہے کہ تخلیق کے بعد مصنف سے اس کا کوئی تعلق نہیں رہتا۔ تحریر خود لکھتی ہے، یعنی مصنف ایک ذریعہ ہوا اور ذریعے کا اپنا منشاء نہیں ہوتا اس لئے وہ اسے کوئی معنی نہیں دے سکتا۔ معنی قاری طے کرے گا اور اس کی قرأت طے کرے گی۔ (یہ بھی پڑھیں غلام باغ اور بدلتی ہوئی سماجی صورتحال – سیدہ ہما شیرازی)
اس طرح مصنف اجتماعیت اور سماج سے کٹ کر انفرادیت کا حامل ہو گیا اور وہ روایت جو پچھلے دو ادوار میں ہمیں نظر آتی ہے جسے ہم نے اجتماعیت اور کلاسیکی دور کا نام دیا وہ یہاں یکسر بدلتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں آج کی سماج کے مسائل موضوعات اور فکری منظر نامہ اس حد تک بدل چکا ہے کہ جس نے ادیب اور اس کے تخلیقی کو براہ راست متاثر کیا ہے آج ادب بھی ایک پروڈکٹ کی شکل اختیار کر گیا ہے اور اس کے ساتھ بھی وہی حربے استعمال کیے جاتے ہیں کہ جو ایک پروڈکٹ کے ساتھ کیے جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج کا ادیب بھی ایک آجر کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

