مولانا امتیاز علی خاں عرشی نے ’’دیوانِ غالب‘‘ مرتب کیا جس کا پہلا ایڈیشن انجمن ترقی اردو ہند علی گڑھ سے 1958ء میں شائع ہوا۔ دوسری بار اضافوں کے ساتھ جون 1992ء میں مجلس ترقی ادب لاہور سے شائع ہوا۔ ہمارے زیرِ نظر یہی نقشِ ثانی ہے۔ اس مجموعے میں مولانا عرشی کا دعویٰ ہے کہ غالب کا اردو کلام تاریخی ترتیب سے مرتب کیا گیاہے۔
دیوانِ غالب نسخہ عرشی کا مقدمہ159صفحات پر مشتمل ہے۔ مقدمے کا آغاز فارسی خط کے اقتباس سے ہوتا ہےمقدمے میں غالب کے حالاتِ زندگی، تعلیم و تربیت، عربی و فارسی میں مہارت، شاعری کے ادوار، فارسی نگاری، شعری اوصاف کو غالب کے خطوط کے حوالے دے کر واضح کیا ہے۔ کلکتہ میں ہونے والے مشاعروں کا احوال بھی درج کیا ہے۔
قلمی اور مطبوعہ نسخوں کا تعارف تفصیل سے دیا گیا ہے، مخففات کا اندراج ہے اور تدوین کے طریق کار اور حواشی کی تفصیلات درج ہیں ۔ عرشی کا دعویٰ ہے کہ کل اکیس (21)قلمی و مطبوعہ نسخوں کو مدِ نظر رکھ کر متن کی تحقیق کی ہے۔
اردو تدوینِ متن کے نقطہ نظر سے نسخہ عرشی کی چند اہم خصوصیات درج ذیل ہیں :
دیوان کی ترتیب
"میں نے اپنے نسخے کی ترتیب نسخہ رام پور جدید کے انداز پر یہ رکھی ہے:
دیباچہ،قطعات،مثنوی،قصائد ،غزلیات ،رباعیات ،تقریظ۔” (1)
دیوان غالب کے دیگر نسخوں میں مختلف اصناف شعر کی ترتیب یہ نہیں ہے ۔ غالب کے متداول دیوانِ اُردو کو دو بار مرتب کیا گیا ۔پہلی بار ۱۲۴۸ھ بمطابق ۱۸۳۳ء میں اور دوسری بار ۱۲۷۱ھ بمطابق ۱۸۵۵ءمیں ۔ اولین ترتیب کچھ یوں ہے:
دیباچہ ، غزلیات، قصائد ،مثنوی ،قطعات ،رباعیات، تقریظ۔
1855ء سے قبل متعدد نسخے 1833ء کے نسخے کی ترتیب پرنقل ہوئے ۔یہاں تک کہ 1841ء میں پہلی مرتبہ دیوان کی طباعت ہو ئی تو اس میں بھی 1833ء کی ترتیب کی ہی پیروی کی گئی۔ 1855میں غالب نے ایک نسخہ لفظی ،معنوی اور ترتیبی لحاظ سے از سر نومرتب کیا ،جو بعد ازاں 1857ءسے قبل نواب یوسف علی خاں بہادر ناظم والیِ رام پور کو بطور تحفہ پیش کیا گیا ۔اس نسخے کو عرشی نے "نسخہ رام پور جدید”کہا ہے اور چونکہ یہ زمانی اعتبار سے متاخر کی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے عرشی نے اس ترتیب کی پیروی کو اہمیت دی ۔اس سےیہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ دوران تدوین عرشی کے نزدیک متاخر ترتیب جو مصنف نے اپنے ہاتھ سے دی اسے پچھلی ترتیب پر فوقیت ہو گی خواہ وہ کیسی ہی ہو عرشی نے "نسخہ احمدی ” کی ترتیب کو نظر انداز کیا حالانکہ اس نسخہ کی طباعت کے دوران غالب نے اس کی پرانی ترتیب کوہی برقرار رکھا تھا اور اسے نسخہ رام پور جدید کی ترتیب سے نہیں بدلا تھا۔اس کے پیچھے عرشی جو وجہ بیاں کرتے ہیں وہ یہ ہے :
"چونکہ آخری زمانے میں میرزا صاحب بہت شکستہ خاطر اور بیمار رہنے لگے تھے ،اس لیے نسخہ احمدی کی طباعت کے وقت اُن کاا ُس کی پرانی ترتیب کو نہ بدلنا،اُن کی آخری تجویز نہیں کہلا سکتا۔ یہ صرف حالات کے دباؤکے تحت پیش آمدہ سہل انگاری ھے اور بس”(2)
نسخہ رام پور سے پہلے کی ترتیب کو رَد کرنے کی ایک اور اہم وجہ عرشی مقدمے میں یوں بیان کرتےہیں:
"یہ ترتیب ،سنتِ شعرا ہی کے خلاف نہیں،نسخہ رام پور جدید سے بھی مطابقت نہیں رکھتی ،جو دیوان کا آخری مستند ایڈیشن ہے۔”(3)
یوں عرشی نے متاخر کے ساتھ ساتھ روایت کو بھی اہم سمجھا ہے اور روایت کے مطابق کی گئی آخری ترتیب کو اپنی تدوین کے دوران اپنایا ہے ۔ (یہ بھی پڑھیں غلام باغ اور بدلتی ہوئی سماجی صورتحال – سیدہ ہما شیرازی )
دیوان کی چار عنوانات میں تقسیم
مولانا کے مرتب کردہ دیوان کی سب سے بڑی اور پہلی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں انھوں نے اس وقت تک دستیاب غالب کے متداول اور غیرمتداول تمام کلام کو یکجا کردیاہے ۔ مولانا نے اس نسخے میں غالب کے کلام کو چار عنوانات کے تحت جمع کیاہے :
1١) گنجینۂ معنی
(2) نواے سروش
(3) یادگارِ نالہ
(4) بادآورد
گنجینۂ معنی:
اس میں وہ اشعار درج کیے گئے ہیں جو نسخہ بھوپال اور نسخہ شیرانی میں تھے لیکن 1833ء کے مرتبہ دیوان میں غالب نے شامل نہیں کیے تھے۔ یعنی ان میں سے اول الذکر حصے میں غالب کے ابتدائی زمانے کا کلام ہے جس کو غالب نے دیوان مرتب کرتے وقت نہیں چھپوایا تھا وہ شامل ہے
نواے سروش:
اس میں متداول کلام ہے جسے غالب نے اپنی زندگی میں لکھ اور چھپوا کر تقسیم کیا تھا یعنی مروجہ دیوانِ غالب یہی وہ کلام ہےجس کے بارے میں میرزا صاحب نے یہ دعوا کیا تھا کہ:
؎آتے ھیں غیب سے یہ مضامین خیال میں
غالبؔ صریرِ خامہ نواے سروش ھے
اس لیے اسے ” نواے سروش” سے موسوم کیا گیا ہے
یادگارِنالہ:
اس میں وہ کلام ہے جو دیوانِ غالب کے کسی نسخے کے متن میں نہ تھا لیکن بعض نسخوں کے حاشیوں یا خاتمے میں یا غالب کے خطوط میں یا ان کے نام سے دوسروں کی بیاضوں میں پایا گیا تھا یا وقتاً فوقتاً اخبارات و رسائل میں چھپ کر اہلِ ذوق تک پہنچ چکا تھا۔ (یہ بھی پڑھیں پروفیسر رضوان قیصر : جن کی رخصت نے ہمارا شہر سونا کر دیا – محمد علم اللہ)
بادآورد:
نسخۂ عرشی کی اشاعت ثانی میں درج بالا تین حصوں ”گنجینۂ معنی”،”نواے سروش”اور”یادگارِ نالہ” کے علاوہ ایک چوتھا حصہ”بادآورد”کے نام سے شامل ہے اس حصے میں غالب کا وہ کلام ہے جو غالب صدی تقریبات کے موقع پر 1969ء میں دستیاب ہوا تھا۔ اکبرعلی خاں عرشی زادہ نے اس حصے سے قبل اپنی تمہیدی تحریر میں لکھاہے کہ اس حصے کی دستیابی کے وقت نسخہ عرشی اشاعت ثانی کے لیے پریس میں جاچکا تھا اوراس کااکثرحصہ چھپ بھی چکاتھا اس لیے اس حصے کے کلام کو اصل متن میں اس کی ترتیب سے شامل کرنے کی بجائے علیحدہ سے شامل کردیا گیا ہے
تاریخی ترتیب:
ان چاروں حصوں میں ترتیب اصناف کے تحت کلام کو تاریخی اعتبار سے ترتیب دیا گیا ہے جو اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ دوران تدوین مدون نے تاریخی ترتیب کو اہمیت دی ہے مگر اس میں ایک گنجائش غزلوں کے معاملے میں برتی گئی ہے جس کی وضاحت عرشی مقدمے میں ان الفاظ میں کرتے ہیں:
"میرزا صاحب نے نسخہ بھوپال کے متن کی اکثر غزلوں میں 1237ھ کے بعد نئے شعر بڑھائے تھے۔بعض دوسرے نسخوں میں بھی اس قسم کے اضافے پائے جاتے ہیں۔ان اشعار کو مذکورہ غزلوں سے جدا کر کے اُن کی تاریخی جگہ پر رکھنے کی جرأت نہیں کی ، کہ اس طرح غزلوں کے ٹکڑے ہو جاتے۔ ہاں انھیں دوسرے اشعار سے ممتاز کر دیا ہے ،اور اس غرض کے لیے اس طرح کا پھول(۔۔)شعر کے محاذ میں بنا دیا ہے ۔”(4)
منشائے مصنف:
عرشی صاحب نے غالب کے کلام کو غالب کی منشا کے مطابق پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے جوکہ تدوین کاپہلا اصول بھی ہے ۔مولانا نے خوداپنے مقدمے میں صراحت کی ہے کہ املااوررسم الخط کے معاملے میں موجودہ اصول اور غالب کے اختیار کردہ اصول دونوں سے کام لیاگیاہے ۔ مثلاً غالب کایہ اصول مشہور ہے کہ وہ ‘خورشید ‘کو بحذف الواو یعنی ‘خُرشید’لکھتے تھے چنانچہ مولانا نے بھی اس نسخے میں ‘خُرشید’ ہی لکھاہے۔مثلاً نسخۂ عرشی حصۂ قصائدمیں صفحہ نمبر٧ کے پہلے شعرمیں لفظ ‘خورشید’آیاہے اوراُس کومولانا نے ‘خُرشید’لکھاہے ۔شعراس طرح ہے:
؎درست اس سلسلۂ ناز کے ،جوں سنبل وگل
ابرِ میخانہ کریں ساغرِ خُرشید شکار
اسی طرح غالب فارسی و اردو الفاظ میں ‘ذ’لکھناغلط قرار دیتے تھے اوراس کی جگہ ‘ز’لکھتے تھے مثلاً زرا،گزر، رہگزر،گزارش وغیرہ ۔چنانچہ نسخۂ عرشی میں ان جیسے الفاظ غالب کی منشاکے مطابق لکھے گئے ہیں ۔اس کے علاوہ غالب ‘ہاے مختفی'(ہ)پرختم ہونے والے الفاظ کو ”ے’کے ساتھ لکھتے تھے مثلاً ‘رتبہ’کو ‘رتبے’،’کوچہ’کو’کوچے’اور ‘زمانہ’کو’زمانے’وغیرہ ۔ یہ تمام وہ مثالیں ہیں جن کے اس طرح کے املا پر غالب اصرار کرتے تھے اورمولانا نے ان کا ہی خیال رکھاہے ،لیکن بعض مقامات پرموجودہ دور کے املا کا بھی لحاظ رکھاگیاہے جیسے پچھتاتااوراس جیسے الفاظ میں غالب ‘ہاے مخلوط'(ھ)کوحذف کرکے صرف ‘چ’لکھتے تھے جیسے ‘پچتاتا’، ‘پچتایا’ اور’پچتاوا’وغیرہ یااس کے برعکس ‘تڑپنا’،’تڑپتا’ اور’تڑپا’میں غالب’پ’کے ساتھ ہائے مخلوط کااضافہ کرتے تھے اوراس طرح لکھتے ‘تڑپھنا’، ‘تڑپھتا’اور’تڑپھا’وغیرہ ۔مولانا نے ان الفاظ کو لکھنے میں رائج الوقت رسم الخط کالحاظ کرتے ہوئے ‘ پچھتانا’ اور ‘تڑپنا’لکھا ہے ۔ (یہ بھی پڑھیں موجودہ حالات اور ہماری ذمہ داریاں – مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی)
غالب کے کسی شعریاغزل کی تشریح خود غالب کے الفاظ میں
اس نسخے میں اگرغالب کے کسی شعریاغزل کی تشریح خود غالب کے الفاظ میں دستیاب ہوگئی ہے تواس کوبھی پیش کردیاگیاہے اوراس کے لیے باقاعدہ ایک عنوان ”شرحِ غالب”کے نام سے قائم کیاہے یعنی شرحِ کلامِ غالب بالفاظِ غالب ۔تشریح شعر کے علاوہ اگرکسی شعرکے سلسلے میں اس کا سببِ تحریر بھی معلوم ہوگیاہے تو انھوں نے اس کو بھی پیش کردیاہے دونوں جزئیات کی ایک ایک مثال یہاں پیش کی جاتی ہے۔غالب کے متداول دیوان اوراس نسخے کے حصۂ دوم ”نواے سروش’کی پہلی غزل کاپہلاشعرہے:
؎نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا؟
کاغذی ہے ، پیرہن ہرپیکرِ تصویر کا
مولاناعرشی نے ‘عودِ ہندی’کے ایک خط کے حوالے سے اس شعر کی تشریح اس طرح نقل کی ہے:
”ایران میں رسم ہے کہ داد خواہ کاغذ کے کپڑے پہن کر حاکم کے سامنے جاتاہے ،جیسے مشعل دل کوجلانا، یاخون آلود کپڑا بانس پرلٹکا کرلے جانا”
اس طرح کی دیگرمثالیں بھی موجود ہیں جن میں غالب نے خوداپنے اشعار کا مفہوم یاوجہِ تحریر کسی کے نام خط میں لکھی ہے ۔ اسی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مولاناعرشی نے ان کے مفہوم تک رسائی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اس شعر کی تاریخی اورزمانی ترتیب کا بھی اندازہ لگایااوراس کوبروے کارلائے ۔یوں کلام پر مشتمل حصے کا ورق تین بڑے حصوں میں منقسم نظر آتا ہے ۔پہلا حصہ جس میں غالب کا کلام مختلف حوالہ جاتی نمبروں کے ساتھ موجود ہے، پھر ایک خط کھینچ کر دوسرے حصے میں خط خفی کے ذریعے حواشی ترتیب دیے گئے ہیں اور پھر ایک اَور خط اس کے نیچے کھینچ کر جہاں ضرورت تھی وہاں ایک تیسرا حصہ خط جلی کا ہے جس میں تشریحی حواشی رکھے گئے ہیں۔اس کی تفصیلات "دیوان غالب” نسخہ عرشی میں مختلف مقامات مثلاَ ص: 154،221،245 ،وغیرہ پر ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔
تضمینات کے بارے میں تلاش وجستجو:
پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ مولانانے تاریخی ترتیب کوقائم رکھنے کے لیے اوران کاپتالگانے کے لیے ان تضمینات کے بارے میں تلاش وجستجو کی جو غالب کے کلام پر کی گئیں تواس سے معلوم ہواکہ جس غزل پر وہ تضمین ہوئی ہے یقینا وہ غزل اس تضمین سے قبل کہی گئی ہوگی ۔ لہٰذا تلاشِ تضمین بر کلامِ غالب بھی اس دیوان کااہم خاصہ ہے
موضوعات میں یکسانیت کا بیان:
اگرکسی غزل یاشعرمیں بیان کردہ مضمون یاموضوع کسی دوسری غزل یاشعرمیں بھی بیان کیاگیا ہو خواہ وہ فارسی کلام میں ہو یا اردومیں ،حاشیے میں ”نیز ملاحظہ ہو” کی سُرخی کے تحت وہ دوسراشعربھی نقل کردیا گیا ہے ۔اس کی مثال درجِ ذیل ہے :
‘نواے سروش’ صفحہ نمبر 231پردوسراشعرہے :
کم نہیں جلوہ گری میں ترے کوچے سے بہشت
یہی نقشہ ہے ،ولے اس قدرآباد نہیں
حاشیے میں اسی مضمون کادوسراشعر اس طرح نقل کیاگیاہے:
کیا ہی رضواں سے لڑائی ہوگی!
گھر ترا، خلد میں گر، یاد آیا
فہرست اشعار”اور دیگر تین اشاریے :
”فہرست اشعار”کے بعد تین اشاریے ہیں ۔
پہلے اشاریے میں اشخاص، اقوام اورفرقوں کے متعلق وضاحتیں ہیں ۔
دوسرے اشاریے میں مقامات کاذکرہے
اورتیسرے اشاریے میں کتب ورسائل کاذکرہے
الف ،ب اور ج کے ان حصوں کو حروف تہجی میں مزید تقسیم کیا گیا ہے اور ہر لفظ کے اول حرف کو اس کے متعلقہ حرف تہجی میں لکھا گیا ہے ۔ جس کے سامنے ان کے متعلقہ صفحات نمبر لکھے گئے ہیں ،اشتراک سے بچنے کے لیے مقدمے کے صفحات کو قوسین میں لفظ کے سامنے درج کیا گیا ہے جبکہ دیگر کو قوسین سے باہر۔مثال کے طور پر ” قدر بلگرامی (39،37،12،)19۔” (12)میں قدر بلگرامی کو حرف تہجی "ق” کی ذیل میں درج کیا گیا ہے ۔ اس کے سامنے قوسین میں درج نمبر (39،37،12،)دراصل مقدمے کے صفحات کے نمبر ہیں اور قوسین سے باہر لکھا نمبر "190” مقدمے کے بعد آنے والا صفحہ نمبر 190ہے۔
حواشی
پیش نظر نسخے میں حواشی کے دو حصے ہیں پہلے حصے میں اختلاف۔ نسخ کو جگہ دی گئی ہےاور اُس کا خط خفی رکھا ہے دوسرے حصے میں جس کا خط جلی ہےاشعار کی وہ تمام تشریحیں جمع کی گئی ھیں جو مرزا صاحب نے احباب کے استفسار پر تحریر کی تھیں نیز اُن کے خطوں کے وہ حصے بھی اسی زمرے میں شامل کر لیے گئے ہیں جن میں انھوں نے اپناکوئی شعر استشہادا لکھا تھا کچھ مضامین شعری میرزا صاحب کو اس درجہ پسند تھےکہ انہیں بار بار مختلف پیرایوں میں باندھا ہے عرشی صاحب نے ان کے تمام ایسے متحد المضمون فارسی و اردو اشعار کو بھی حواشی میں درج کیا ہے کیونکہ ان شعروں کے تقابلی مطالعے سے مرزا صاحب کا مدعا سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہےاور اشعار کا فنی مرتبہ متعین کرنا بھی آسان ہو جاتا ہے
بہت سے اشعار کے دائیں بائیں گ یا خ یا گخ لکھا ہوا ملے گا یہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ اشعار گلِ رعنا یا انتخاب غالب (1844ء)یا ان دونوں میں پائے جاتے ہیں اس طرح نسخہ عرشی کا مطالعہ کرنے والوں کو تقابل کے لیے الگ سے” گلِ رعنا "یا ا”نتخاب غالب” کے جداگانہ کی ضروت پیش نہیں آئے یا۔ اسی طرح ان علامتوں کے ذریعے محقق یا قاری کو مختلف ادوار میں غالب کے شعری رجحانات کو دیکھنے اور سمجھنے میں آسانی ہو گی ۔مثال کے طور پر دیوان میں ص:۲۵۹ کی غزل نمبر 137اور 138کے پہلے اشعار کے سامنے "خ” کی علامت ہے جو واضح کرتی ہے کہ یہ اشعار انتخاب غالب کا(1844ء)حصہ بھی ہیں ۔اسی طرحص:۲۹۳ پر غزل نمبر 188کے مقطع کو ملاحظہ کیجیے:
گخ بیخودی بے سبب نہیں ،غالبؔ کچھ تو ھے جس کی پردہ داری ہے
یہاں "گخ” کی علامت واضح کرتی ہے کہ یہ شعر گل رعنا اور انتخاب غالب(1844ء) میں بھی شامل ہے ۔اسی طرح کی دیگر مثالوں کو دیوان میں ملاحظہ کیا جاسکتاے۔
فہرست اشعار
: "آخر میں ایک فہرست اشعار ھے جس میں دیوان کی تمام چھوٹی بڑی نظموں کا پتا ان کے پہلے شعر سے دیا گیا ہے اس کی ترتیب حروف تہجی پر رکھی گئی ہے، مگر بناے ترتیب ردیف کا آخری حرف ھے اور اشتراک دور کرنے کی خاطر الٹی چال چلی گئی ہے ردیفیں مفرد اور مرکب دونوں طرح کی ہوتی ھیں عرشی صاحب نے مفرد پہلے اور مرکب پیچھےرکھی ہیں مشترک ردیفوں کی صورت میں تقسیم و تمیز کی بنا قافیوں پر ھے اور اُن کے اشتراک کی حالت میں بھی الٹی چال چلی ہے ۔ترتیب ردیف و قوافی کے وقت ”جھ” چھ” وغیرہ مخلوط التلفظ حرفوں کو مرکب تسلیم کر کے انھیں ردیف ھاے ھوز میں داخل کیا ہے
"دیوان غالبؔ” نسخہ عرشی میں بعد از حواشی "فہرست اشعار” کی سرخی کی ذیل میں نظموں کی ردیفانی ترتیب اور پھر اشتراک سے بچنے کے لیے قافیہ کی تمیز و تقسیم نے اس دیوان کو مزید جلا بخشی ہے ۔ اس کی مدد سے قاری و محقق مطلوبہ نظم تک اس کےمطلع کے ردیف و قافیہ کی مدد سے، اس فہرست کا استعمال کرتے ہوئے ،باآسانی پہنچ سکتا ہے ۔مثال کے طور پر اگر ہمیں غالب کی معروف غزل "آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک” کو اس فہرست کی مدد سے تلاش کرناہے تو ہم فہرست اشعار میں ،حرفِ تہجی "ک” کی ذیل میں ردیف "ہوتے تک” کو تلاش کریں گے، جوفہرست میں اس طرح درج ہے:
” اثر، ہوتے تک 2 53، 3: 213″
یہاں ص:53 کا شعر نمبر ۲ یوں ہے:
تاقیامت شبِ فرقت میں گزر جاے گی عمر سات دن ہم پہ بھی بھاری ہیں ،سحر ہوتے تک
جبکہ ص:213 پر ہمارا مطلوبہ شعر نمبر3 یوں ہے:
آہ کو چاہیے اک عمر، اثر ہوتے تک کون جیتا ہے ، تری زلف کے سر ہوتے تک
اس فہرستِ اشعار کے ذریعے ہم ایسے ہی مطلوبہ کلام تک باآسانی پہنچ سکتے ہیں اور فرداََ فرداََ ورق گردانی سے بچا جا سکتا ہے ۔
ماخذوں کی تاریخی ترتیب:
نسخہ عرشی کی ترتیب کے دوران زیر مطالعہ نسخوں کا تاریخ وار اجمالی جائزہ بھی پیش کیا گیا ہے تا کہ مطالعہ کرنے والے حضرات بیک نظر ی ان کی علامتوں اور عہد سے واقف ھوجائیں
مخطوطہ شناسی :
مخطوطہ شناسی تدوین کے عمل میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ۔اگر مدون مخطوطہ شناس نہیں تو اس کی تدوین ممکن حد تک غیر مستند اور غیر معیاری ہو گی ۔مخطوطہ شناسی کو اگر ہم دیوان غالبؔ نسخہ عرشی کی روشنی میں دیکھیں توعرشی نے ہر قلمی و مطبوعہ نسخے کو مندرجہ ذیل سطح پر پرکھا ہے:
کاغذ کا طول وعرض، تحریر کا طول و عرض،روشنائی کا نام و رنگ، کاغذ کا نام اور مقام استعمال ،نسخے کے اول و آخر صفحے کا تفصیلی حلیہ ،اول و آخر تحریر کا متن ، نسخے میں اشعار کی تعداد ، خط وخطاط کی تفصیل، نسخے میں مختلف دستخط و مہر کی تفصیلات ، تصحیح و تنسیخ کے دوران استعمال کی گئی املا، روشنائی، دو غزلوں کے درمیان کے فاصلے کی حالت، صفحات کی تعداد،نسخے کی فہرست، کاتب اور سنین کا بیان (اگر موجود ہے تو)، ناقص الاول و آخر و وسط کا تفصیلی حلیہ وغیرہ۔
اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ امتیاز علی خاں عرشی ایک اعلا پائے کے مخطوطہ شناس ہیں اس قدر باریک بینی سے مخطوطہ شناسی ،مخطوطہ شناسی کا دائرہ کار بھی وضع کرتے ہیں۔ نسخہ بھوپال کے متعلق اسی طرز کی ایک مثال ملاحظہ کیجیے:
” اس مخطوطے(نسخہ بھوپال) کا ناپ ۲۲×۲۹/۸اور کاغذ عمدہ کشمیری ھے۔جدولین رنگین اور طلائی اور باریکا لاجوردی ہے ۔روشنائی سیاہ اور عنوانات شنجرفی ہیں۔تعداد ِاوراق ۷۵اور مسطر گیارہ سطری ہے ۔ان اوراق کے علاوہ اول و آخر میں کھردرے دیسی کاغذ کے سادہ اوراق بھی ہیں جن پر تکمیل کتابت کے بعد کچھ اضافے کیے گئے ہیں۔”(۱۷)
مندرجہ بالا حوالے کے پیراگراف میں عرشی نے جس خوب صورتی سے کاغذ و روشنائی کی تفصیل دی ہے یہ اپنی مثال آپ ہے۔اس جیسی مزید تفصیلات عرشی نے دیگر نسخوں کے حوالے سے بھی دیوان کے مقدمے میں شامل کی ہیں،جو مخطوطہ شناسی کے اصول وضع کرنے میں خاصی معاون ثابت ہو سکتی ہیں ۔
علامات وقف
یوں تو اس نسخے میں وقف کی کئی عام علامتیں استعمال کی ھیں ،مگر ان میں سے ‘کامے’ کو حدِّ افراط تک برتا گیا ہےچونکہ میرزا صاحب جیسے تعقید پسند استاد کے کلام کا مطلب سمجھنے اور سمجھانے کے لیےایسا کرنا ناگزیر ہے
؎بروے قیس، دست۔شرم،ھے مژگان آھو سے
مگر روز عروسی گم ھوا تھا شنانہ لیلی کا
اس شعر کے مصرعہ اول میں اگر کامے نکال دیے جائیں یا ان کی ترتیب بدل دی جائے تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ یہ مصرعہ اپنا مفہوم کھو دے گا ۔اب یہ مدون کی مہارت ہے کہ وہ کیسے منشائے مصنف کے مطابق اس کے کلام کی تاثیر و تفہیم کو اجاگر کرتا ہے ۔
نسخوں کے نام اور مخففات :
عرشی صاحب کا دعویٰ ہے کہ کل اکیس (۲۱) قلمی و مطبوعہ نسخوں کو مدِ نظر رکھ کر متن کی تحقیق کی ہے۔ لیکن ان نسخوں کے ناموں اور مخففات میں کوئی مطابقت قائم نہیں کی۔ ’’عز، ق، قا، گل، قب، خب، قبا، م، قبج، قبد، ما، قج، قد، مب، مج، مد، خ، ح، لط، حم، عش‘‘جیسے مخففات اور نسخوں کی خصوصیات اور نام اتنے گنجلک ہیں کہ متن کا مطالعہ کرتے ہوئے بار بار مقدمے کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے کہ فلاں مخفف سے کون سا نسخہ مراد ہے ؟ مخففات کا اصول یہ ہے کہ یہ آسان فہم اور نسخے سے مناسبت اور مطابقت لیے ہونے چاہیں ۔ مثلاً نسخہ عرشی زادہ کا مخفف ’’عز ‘‘ رکھا گیا ہے اور نسخہ بھوپال کا ’’ق‘‘ اب قارئین، طالب علموں اور محققین کے لیے یہ سمجھنا محال ہے کہ ’’عز ‘‘ اور ’’ق‘‘ کے مخففات کی وجہ تسمیہ کیا ہے، اس کی وضاحت بھی مقدمے میں کہیں نہیں کی گئی۔
حوالہ جات:
1- دیوان غالب نسخہ عرشی ،مرتبہ: امتیاز علی خاں عرشی،مجلس ترقی ادب ،لاہور ،طبع دوم، دسمبر ۲۰۱۱ء، ص:۷۶۔
2- ایضاَ،ص:120
3- ایضاَ،ص:118
4- ایضاَ، ص:74
کتابیات:
1-دیوانِ غالبؔ (نسخہ عرشی)،مرتبہ: امتیا ز علی خاں عرشی،مجلس ترقی ادب ،لاہور۔
سیدہ ہما شیرازی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


2 comments
ماشاء اللہ ہما شیرازی صاحبہ
بڑی عرق ریزی سے دیوانِ غالب نسخۂ عرشی کا احاطہ کیا ہے۔
مگر روزِ عروسی گم ہوا تھا ’’شانہ‘‘ لیلیٰ کا
مصرعے میں شانہ شنانہ ٹائپ ہوگیا ہے اسے درست کرلیں۔
شکریہ
’’دوست‘‘ اس سلسلۂ ناز کے، جوں سنبل و گل
دوست مصرعے میں غلطی سے درست ٹائپ ہوگیا ہے۔