شاعری کے لیے رہنما چاہئے
ہم نے صابرؔ چنا ہے تقی میرؔ کو
اس شعر سے آپ کو بخوبی اندازہ ہو گیا ہوگا کہ یہاں موضوع گفتگو کون ہیں اور ان کا نسبت کس سے اور کیسی نوعیت ہے۔ جدید دور میں شاعری خوب کی جا رہی ہے اور اردو کی ایسی بستی جہاں اس کی جائے پیدائش نہیں ہے لیکن اس سے نہ صرف محبت کرنے والے بلکہ اس سے جنونی طور پر خود کو وابستہ کرنے والے جیالے موجود ہیں وہاں کی صورت حال مختلف ہے۔ ہاں بعض اوقات اردو کی قدیم بستیوں کے نقاد حوصلہ افزائی کے لیے ان کی تخلیقات پر چند مستحسن کلمات کیا کہہ دیتے ہیں ان کے سر آسمان پر نظر آنے لگتے ہیں۔ ایسے کئی شاعر و ادیبوں اور نقادوں کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں لیکن چند قلم کار ایسے ہوتے ہیں جو خاموشی سے اپنے جذبات کو صفحہ قرطاس پر محفوظ کرتے جاتے ہیں اور جنھیں’ نہ ستائش کی تمنا نہ صلحے کی پرواہ‘ ہوتی ہے شہرت و ناموری کا نشہ ہوتا ہے، ایسے ہی فنکاروں میں سے ایک صابر گودڑ ہیں۔
صابر گودڑ جنت نشان جزیرہ موریشش کے جیالوں میں سے ہیں۔ ماریشش میں اردو کی ترویج و اشاعت کرنے والی پہلی نسل سے ان کا تعلق ہے۔ انھوں نے اپنی ادبی زندگی کی ابتدا ڈراما نگاری سے کی۔ ماریشش میں 1974 سے وزارت فن و ثقافت کی جانب سے ہر سال اردو ڈراما مقابلے کا انعقاد کیا جاتا ہے ۔ صابر صاحب کے کئی ڈرامے بشمول انقلاب (۱۹۸۱)، نیا زمانہ نئے خیال (۱۹۹۷) اس مقابلے میں نہ صرف شامل ہوئے بلکہ انھیں انعام و اکرام سے بھی نوازہ گیا۔ لیکن جب صابر گودڑ صاحب کی شاعری کا مطالعہ کیا تو احساس ہوا کہ ان کا اصل میدان تو غزل گوئی ہے۔ ان سے کئی ملاقاتیں ماریشش اور ہندوستان میں ہوئیں، ان کے ڈرامے ، تنقید اور انتظامی امور کے حوالے سے خوب گفتگو ہوئی لیکن کبھی انھوں نے ظاہر نہ ہونے دیا کہ وہ غزل بھی کہتے ہیں۔خیر اب یہ راز مجھ پر کھل گیا ہے اور بہت جلد اردو زبان و ادب کے عام قارئین پر بھی آشکار ہو جائے گا۔ پھر ان کی غزل کا جادو سر چڑھ کر بولے گا اور کیوں نہیں بولے گا ، انھوں نے اپنا زانوئے تلمذ میرؔ کے سامنے جو تہہ کیا ہے۔ انھوں نے رہنمائی کے لیے تو میر کا انتخاب کیا لیکن کم و بیش تمام کلاسیکی شاعروں کے کلام کا مطالعہ کیا ہے۔ میرؔ تو کچھ زیادہ ہی ان کی شاعری میں نظر آتے ہیں۔ ہم سب واقف ہیں کہ میرؔ اپنے معشوق کو کبھی رسوا نہیں کرنا چاہتے تھے حالاں کہ اس کوشش میں انھیں ظلم و ستم کے ساتھ رسوائی کا بھی سامنا کر ناپڑا۔ میر ؔ کہتے ہیں:
کیوں مسکرا کے دیکھ لیا آپ نے ہمیں
دنیا تمام واقف حالات ہو گئی
رات مجلس میں تری ہم بھی کھڑے تھے چپکے
جیسے تصویر لگادے کوئی دیوار کے ساتھ
غیروں پہ کھل نہ جائے کہیں راز دیکھنا
اے میری طرف غمزئہ غماز دیکھنا
میر ؔ کی رہنمائی میں اسی موضوع پر صابرؔ گودڑ کا شعر دیکھیں:
ترا سامنا ہو اگر انجمن میں
کسی اجنبی کی طرح چپ رہیں
صابرؔ گودڑ ایک حساس دل کے مالک ہیں۔ انھوں نے کلاسیکی شاعری کا مطالعہ کیا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں غزل کی روایت کی پاسداری ، غزل کے خالص موضوعات کیساتھ ساتھ نئے زمانے کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔ میر ؔ ، غالبؔ اور ذوقؔکے کئی مضامین ان کی شاعری کا حصہ ہیں۔ میرؔ نے کہا تھا:
عہد جوانی رو رو کاٹا، پیری میں لیں آنکھیں موند
یعنی رات بہت تھے جاگے صبح ہوئی آرام کیا
اور ذوقؔ کا کہنا ہے:
کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں
بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں
اسی موضوع کو صابرؔگودڑ نے اپنے شعر میں نہایت خوبی سے باندھا ہے لیکن ان کا اپنا انداز بیان ہے۔ شعر دیکھیں:
ہوچکی ہے سحر، کوچ کا وقت ہے
اٹھیے صابرؔ میاں لوگ تیار ہیں
اردو غزل کا بنیادی موضوع عشق و عاشقی یا عاشق و معشوق کا جذبات کا اظہار رہاہے۔ ابتدا میں شاعر نے خود کو عاشق کے طور پر پیش کیا اور معشوق کے سارے مظالم جھیلتا رہا۔ بعد میں غالب کے دور تک آتے آتے عاشق و معشوق کو برابری کا درجہ حاصل ہو گیا اور اب عاشق ظلم سہنے کے بجائے اپنے معشوق سے سوال و جواب کرنے لگا یہاں تک کہ اس کے وجود کو اپنے وجود کی وجہ قرار دینے لگا ۔ اور بیسویں صدی آتے آتے تو معشوق کی حرمت اور اس کی عزت کا پاس تو جاتا ہی رہا یہاں تک کہ معشوق کوٹھے پر بیٹھا نظر آیا۔ صابرؔ گودڑ کی غزلوں میں پہلے دو قسم کا عاشق و معشوق نظر آتا ہے ۔ انھوں نے بھی معشوق کے غم کی حفاظت کو اپنا اثاثہ سمجھا ہے تو انھیں قدرت کی عطیہ ہر چیز میں معشوق کا وجود نظر آتا ہے۔گویا ایک جانب وہ معشوق مجازی کو پیش کرتے ہیں تو دوسری جانب غزل کی کلاسیکی روایت کی مانند معشوق کو وہ تصور پیش کرتیہیں جن میں مجازی اور حقیقی دونوں نظر آتے ہیں۔ صرف دو اشعار دیکھیں:
جان لے لے مجھے قبول ہے یہ
اے خدا میرے غم کی شام نہ لے
مری دیوانگی کی اس سے بڑھ کر کیا سند ہوگی
تری آواز سنتا ہوں گلوں میں آبشاروں میں
تذکرہ کرکے غیر کا ہر وقت
جان کر بھی مجھے ستاتے ہو
غیر سے ان کے مراسم بڑھ گئے ہیں اس قدر
راستہ ڈھونڈا ہے صابرؔ کو ستانے کے لیے
آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ صابرؔ گودڑ غزل کی کس روایت کے پاسدار ہیں۔ کس طرح عاشق و معشوق کے ساتھ ساتھ غیر یعنی رقیب کے وجود کو بھی قائم رکھتے ہیں۔اسی طرح شاعر بے خودی ، ساقیا، ہوش، سرشار، جام، محبت جیسے الفاظ کیفنکارانہ استعمال سے غزل کو کلاسیکی رنگ عطا کرتیہیں بلکہ اکثر کلاسیکی شاعری کی یاد دلا دیتے ہیں۔ چند اشعار دیکھیں:
بے خودی میں پائوں میرے لڑکھڑاتے ہی نہیں
ساقیا مے کو بڑھا دے ہوش آنے کے لیے
کس کی مجال ہوش میں کوئی لائے مجھے
سرشارہوں میں تیری محبت کے جام سے
کل چھت پہ گیا تھا تو ایسا لگا مجھے
آواز دے رہا ہو کوئی اپنے بام سے
آخری شعر کو پڑھنے کے بعد فوراً غالبؔ آجاتے ہیں اور ان کا یہ شعر ذہن میں کوند جاتا ہے: یاد
مانگے ہے پھر، کسی کو لبِ بام پر ہوس
زلفِ سیاہ، رخ پہ پریشاں کیے ہوئے
ماریشش کی تاریخ پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہانیسویں صدی کے آخر میں سبز باغ دکھا کر ہندوستان کے مختلف علاقوں سے لوگوں کو وہاں لے گئے اور پھر ان سے مزدوری اور جسمانی محنت کا کام لیا جاتا رہا۔ جس طرح ہندوستان میں کالا پانی یعنی انڈومان ایک جزیرہ ہے ویسے ہی ماریشش ایک جزیرہ ہے جہاں سے واپسی اس وقت کے ظالم حکمراں کی مرضی کے بغیر ناممکنات میں سے تھی۔ صابر ؔ گودڑ اپنے آبا و اجداد کے مشکل زمانے کو خود یاد کرتے ہیں۔ نہ صرف آج بلکہ اس زمانے کی ستم ظریفی کو یاد کرتے ہوئے اس فنکاری سے اپنے اشعار میں پیش کرتیہیں کہ بعض اوقات ترقی پسند شاعروں کی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ ان کے اشعار میں بھی وہی زنجیر، شام و سحر، قفس، گل و بلبل، باغ اور باغباں کے ساتھ صیاد وغیرہ موجود ہیں۔ نمونے کے طور پر چند اشعار دیکھیں: (یہ بھی پڑھیں آشوب جان وجہان اور احمد محفوظ کی غزل – تفسیر حسین )
اب رہائی سے بھی فائدہ کچھ نہیں
رہنے دو پائوں میں مرے زنجیر کو
آج صابرؔ ہوں میں شب کی تحویل میں
پر یقیں ہے مجھے آئے گی کل سحر
مقامِ سکوں ڈھونڈ کر تھک چکا ہوں
لہو سے بھری ہر طرف یہ زمیں ہے
کسی نے ماحول کو خون سے بھر دیا
آئو سوچیں پھر اس کا مداوا کریں
کل مٹادے نہ دنیا ہمیں اس لیے
اپنے ہونے کا بھی کوئی چرچا کریں
ہر طرف بے حسی کا ہے عالم یہاں
چل کے اب جنگلوں میں بسیرا کریں
ان اشعار سے ایک جانب شاعر کی سرزمین پر ظلم و بربریت کا بازار گرم نظر آتا ہے تو دوسری جانب آج کی دنیا میں کس طرح کسی کا خون بہانا عام سی بات ہو چکی ہے۔ دنیا میں زمین کا شاید ہی کوئی حصہ ہو جہاں خون بہانا عام سی بات نہ ہو۔ کہیں دہشت گردی کے نام پر، تو کہیں فساد کے نام پر، کہیں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش میں تو کہیں زمین کے ٹکڑے پر اپنا تسلط قائم کرنے یا مضبوط رکھنے کی غرض سے خون بہارہے ہیں۔ موجودہ دور میں اگر سب سے سستی کوئی شئے ہے تو وہ انسان کی جان ہے۔ یہاں تک کہ انسان اپنے وجود کو بچانے کی کوشش میں کیا کیا نہیں کرتا۔اس کے بر خلاف ایک دوسرے کے وجود کو مٹانے کی کوشش میں دویا لگی ہوئی ہے۔ ایسے میں شاعر جو ترقی کی راہ ہموار کرتے ہوئے جنگلوں سے شہر کی جانب آیا تھا واپس جنگلوں میں لوٹ جانے کی تمنا کرتا ہے۔ بلکہ ہر بڑے شہر میں رہنا والا اب سکون حاصل کرنے کے لیے جنگل کا رخ کرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔آج ہم اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ دوسرے کی تکلیف دیکھ کر ہمیں ذرہ برابر بھی فرق نہیں پڑتا ۔ شاعر اس بے حسی کو محسوس کرتے ہوئے اپنے معشوق کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے:
بے حسی ہے بری، تم بھی اک دن صنم
سنگ مرمر کے بت میں بدل جاؤگے
موجودہ دور کے مزاج پر نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم اتنے مفاد پرست ہو چکے ہیں کہ اپنی فائدے کے لیے دوسرے کے نقصان تک کی پرواہ نہیں کرتے۔ بلکہ اب ہمارا مزاج یہ بن چکا ہے کہ اپنا فائدہ نہیں بھی ہے تو دوسرے کا نقصان کرکے سکون محسوس ہوتا ہے۔ ایسے دور میں ایک حساس اور دردمند دل رکھنے والا شاعر زمانے کی نبض پر انگلیا ں رکھ کر اسے آئینہ دکھانے کا کام بھی کرتا ہے۔ اب ہمارا عاشق سب کچھ جاننے کے باوجود پہلے کے عاشق کی طرح خاموش نہیں رہتا بلکہ اپنے دل کی بات کہہ دیتا ہے۔ وہ یہ بتانے میں عار محسوس نہیں کرتا کہ تمھاری یہ محبت فریب ہے ، تم دھوکہ دینے والے ہو یا مجھ کو برا بھلا کہنے سے پہلے آئینہ دیکھ لو۔یعنی اب ہمارا عاشق خاموشی سے معشوق کے ظلم نہیں سہتا بلکہ اس سے ترکی بہ ترکی بات کرتا ہے اور اس کی کمزوریوں کو عیاں بھی کرتا ہے۔ صابر ؔ گودڑ کے الفاظ میں دیکھیں:
ہیں لب پر تمہارے محبت کی باتیں
میں سب جانتا ہوں دغا دے رہے ہو
بندہ پرور ذرا دیکھ لیں آئینہ
بزم میں آپ پھر ہم کو رسوا کریں
اور ایسے میں اگر ان کا معشوق ان کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے تو بھی اب عاشق کو غم نہیں ہوتا بلکہ معشوق کو اس کا احساس ہوتا ہے اور وہ اس کے ذکر کے بغیر رہ نہیں پاتا۔ گویا اب عاشق و معشوق کا تصور اس قدر بدل گیا ہے کہ معشوق کا ظلم تو درکنار عاشق کی برتری تک کا علم ہوتا ہے۔ صابرؔ کا شعر دیکھیں:
تیرے لبوں پہ اب بھی ہمارا ہی ذکر ہے
یہ اور بات ہے کہ ترے ساتھ ہم نہیں
صابر ؔ گودڑ نے اپنا تخلیقی سفر تو بیسویں صدی میں شروع کیا تھا لیکن وہ اکیسویں صدی کی حس اور ذہنیت سے بخوبی واقف ہیں۔ انھیں لوگ استاد اور تنقید نگار کی حیثیت سے جانتے ہیں ۔ ماریشش میں ڈراما نگار اورایک اچھے منتظم کی حیثیت سے بھی جانے جاتے ہیں۔وہ ایک نہایت سنجیدہ شخصیت کے مالک ہیں لیکن ان کے اندر سماج کی اصلاح اور انسانیت کو فروغ دینے والا دل کے ساتھ ساتھ طنز و مزاح سے پر مزاج بھی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ سماج کے کڑوے سچ کو سامنے لانے کیلیے اکثر شاعروں نے طنز و مزاح کا سہارا لیا ہے۔ اسی روایت کو قائم رکھتے ہوئے صابرؔ گودڑ نے اس پیرائے میں زمانے کی حقیقت اور لوگوں کی سچائی کو نہایت فنکاری سے پیش کیا ہے۔ چند اشعار دیکھیں: (یہ بھی پڑھیں علامہ شوق نیموی کی غزل گوئی – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم )
وہ لوگ جن کو خود بھی اپنا پتہ نہیں ہے
بھٹکے ہوئوں کو بڑھ کر رستہ د کھارہے ہیں
جس دور پہ نازاں تھے ہم اے ہم نفس
کرلیتے ہیں اس کا بھی ماتم کیا کریں
ستم ڈھائے ہیں دشمنی نے بھی لیکن
بہت لوگ مارے گئے دوستی میں
بدل سی گئی ہے مرے گھر کی صورت
وہ جب سے یہاں آنے جانے لگا ہے
کاسئہ صبر مفلس کی میراث ہے
کم سوادوں کے ہاتھوں میں ہے مال و زر
زخم تیروں کے کچھ بھی نہیں ہیں مگر
یار لوگوں کے طعنے جگر پارہیں
اکیسویں صدی ظلم و بربریت کی صدی بھی مانی جاتی ہے۔ نئی صدی نے دنیا میں بہت ساری تبدیلیوں کے ساتھ دستک دی ہے۔ بیسویں صدی کے آخر میں ہم عالم کاری کی جانب تیزی سے قدم بڑھانے لگے تو اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کے ختم ہوتے ہوتے ہی ہم اس سے بیزار نظر آنے لگے۔ آج بڑی بڑی عمارتیں بیکار لگنے لگی ہیں اور ہم ایک بار پھر کچے مکانوں کی جانب بڑھنے لگے بلکہ اس کی حفاظت بھی کرنے لگے ہیں۔ یعنی شہروں کی جانب سے دیہات کی جانب ہم رخ کرنے لگے ہیں۔ شہر کی بھاگتی دوڑتی مصروف زندگی میں آرام سے بیٹھ کر ہنسنا بولنا بھول چکے ہیں۔ زندگی بھر دوڑ بھاگ تو کرتے رہتے ہیں لیکن اپنے لیے سکون کا انتظام بھی نہیں کرپاتے ، ایک ایسا گھر نہیں بناپاتے جہاں سکون سے بیٹھ کر گھر کے افراد کے ساتھ خوشی کے لمحات گزار سکیں۔آج ہماری حالت بالکل اس مزدور کی سی ہو چکی ہے جو دوسروں کے لیے بڑی بڑی خوبصورت عمارتیں تو بنا دیتے ہیں ، اپنا سر چھپانے کی جگہ اس کے پاس نہیں ہوتی۔ اور رہی بات اچھا کھانے پینے کی تو وہ مانگے کا اجالا ہوتا ہے یا پھر کسی کہمان کے آنے پر میسر ہوتا ہے۔ صابرؔ گودڑ کے اشعار دیکھیں:
پھوس کے اک جھونپڑے کی شان باقی رہ گئی
اس برس بارش میں جب پکے مکاں تک بہ گئے
گونجتے تھے قہقہے جن میں سدا
آج لگتے ہیں وہ گھر ویران سے
زندگی بھر بساتے رہے بستیاں
صابرؔ اپنے لیے گھر بنائے نہیں
کیا کوئی مہمان آیاتھا یہاں
خوشبوئیں آتی ہیں دسترخوان سے
موجودہ دور مشینی دور بھی کہلاتا ہے۔ اس مشینی دور میں ایک جانب مشینوں کی انسان پر حکومت قائم ہو چکی ہے تو دوسری جانب انسان کا بدل بھی ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اب مشینوں سے انسان کا کام لیا جارہا ہے۔ بعض اوقات تو انسان پر مشینوں کو فوقیت دی جاتی ہے۔ گویا چہار جانب مشین کا شور اور اسی کا بول بالا ہے۔ اس شور میں انسان کی آواز ایسے گم ہو چکی ہے جیسے اس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ یہ مشین نہ صرف آہنی ہیں بلکہ گوشت پوشت کے بنے ہوئے بھی ہیں۔ ان کے اندر ایک دھڑکتا ہوا دل ، غور و فکر کرنے والا دماغ اور محسوس کرنے والے حواس بھی موجود ہیں لیکن وہ اس سے کام نہ لے کر مشینی انداز میں کام کرتا ہے ، اسی کی ایک شِق سیاست بھی ہے جس میں عام انسان سب سے کم اہمیت رکھتا ہے۔ایسی مشینوں کے سامنے انسان کی آواز نہیں سنائی دیتی اور انسان مشینی انداز میں پیش آتا ہے۔صابر ؔ گودڑ کے اس مجموعہ غزلیات میں ایسے بہت اشعار موجود ہیں۔دو اشعار دیکھیں:
ہے شور مشینوں کا صدا بھی نہیں آتی
اس درجہ گھٹن ہے کہ ہوا بھی نہیں آتی
یہ سیاست تمہیں مبارک ہو
ہم محبت کو عام کرتے ہیں
یہی وجہ ہے کہ شاعر کا حساس دل اور غور و فکر کرنے والا دماغ محسوس کرتا ہے اور اپنے ان محسوسات اور خیالات کو ایک خاص عزم کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ موجودہ دور میں کبیر کے الفاظ میں:
دیکھو رے جگ بورانا
ساچ کہو تو مارن لاگے
جھوٹ کہو پتیانہ
کے مصداق لوگ خوشامد پسند ہی نہیں خوشامد پرست ہو چکے ہیں۔ سچ بولنے والوں کی زبان کاٹ لی جاتی ہے اور انصاف کرنے والوں کی آنکھوں پر کالی پٹی باندھ کر یہ بتا دیا جاتا ہے کہ جو میں کہوں اسے ہی سچ مان کر اس پر انصاف کی مہر لگا دیا جائے۔ یہاں تک کہ اب عدالتوں میں انصاف کے بجائے فیصلے ہونے لگے ہیں۔ ایسے میں کسی کا نفرت کے بجائے محبت کی شمعیں جلانا، ظالم کو ظالم کہنا، حق کی آواز بلند کرنا، سچ کو سچ کہتے رہنے کی دیوانگی ناپید نہیں تو نہایت کمیاب ضرور ہے اور ایسے ہی دیوانوں کی فہرست میں صابرؔ گودڑ نظؔر آتے ہیں۔ وہ نہ صرف محفلوں میں سچ بولتے ہیں بلکہ اپنے فن کے ذریعے بھی سچ کی آواز کو بلند کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ تبھی تو کہتے ہیں:
زمانے میں پھیلی ہے نفرت مگر ہم
محبت کی شمعیں جلاتے رہیں گے
حق بیانی خون میں شامل ہے ہمارے آج تک
ہم بھرے دربار میں ظالم کو ظالم کہ گئے
سزائیں عمر بھر دیتے رہے باطل پرست اس کو
مگر دیوانہ سچ کہتا رہا آخر دوانہ تھا
صابرؔ گودڑ کے اس مجموعے کے مطالعے کے بعد اردو کی نئی بستیوں کی ایک اہم آواز کا احساس ہوتا ہے۔ وہ اپنی شاعری میں نہ صرف اپنے خوبصورت جزیرے کا عکس پیش کرتے ہیں بلکہ اس کی تاریخی صورت حال اور ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کی بھی فنکارانہ عکاسی کرتے ہیں۔ان قدرتی نظاروں کا بیان ہے تو غزل کی روایت کی پاسداری بھی نظر آتی ہے۔ کلاسیکی معنویت اور روایت کے ساتھ ساتھ غزل کے نئے موضوعات بخوبی دکھائی دیتے ہیں۔ شاعر ی کی روایت اور اس کی ترقی کا دور اس میں شامل ہے تو شاعر کا اپنا زمانہ اور دنیا کی بے ثباتی بھی موجود ہے اور ان تمام چیزوں کو دیکھنے اور پیش کرنے کے شاعر کے نظیے سے بھی ہم واقف ہوتے ہیں۔ کہیں کہیں یا کسی کسی غزل میں وہ پختگی نہیں دکھائی دیگی جس کا تقاضا ہم غزلوں میں عام طور پر کرتے ہیں لیکن یہ شاعر کا اپنا نظریہ اور نکتہ نظر یا مواد کو پیش کرنے کا طریقہ ہو سکتا ہے۔ میں اس مجموعے کی اشاعت پر صابرؔ گودڑ کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اردو کے سنجیدہ قارئین فراخ دلی سے اس کا مطالعہ کریں گے اور اس پر اپنی رائے بھی پیش کریں گے۔ (یہ بھی پڑھیں نئی شاعری کانمائندہ شاعر:طارق متین -ڈاکٹرخان محمد رضوان )
٭٭٭
Prof. Mohammad Kazim
Department of Urdu
University of Delhi, Delhi – 110007
Mobile: +91 9868188463
Email: kazimdu@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

