آج کے دور میں اُردو شاعری ایک نئے عہد میں داخل ہو چکی ہے جہاں نوجوان شعرا اپنے انفرادی انداز فکری وسعت اور فنی مہارت کے باعث نمایاں ہو رہے ہیں۔ ان میں تین نام ایسے ہیں جو دل و ذہن کو اپنی جانب کھینچتے ہیں اور دیر تک اپنے اثر میں رکھے رہتےہیں: سفر نقوی، سفیر صدیقی اور ناصر مصباحی۔
ناصر مصباحی کا ذکر ہو تو سب سے پہلے ان کی فنی پختگی اور کلاسیکی رچاؤ ذہن میں آتا ہے۔ ان کے اشعار میں عروضی ہم آہنگی اور بیان کی تہہ داری دونوں ایک ساتھ جلوہ گر ہوتی ہیں۔ ناصر نے کلاسیکی میراث کو نئے لب و لہجے میں زندہ رکھا ہے۔ مثال کے طور پر کچھ اشعار ملاحظہ کریں:
خرد شعور کی حد سے نکل کے ناچتی ہے
جنوں طلسم گہ رقص بسملاں ٹھہرا
لہو لہو کیے جاتا ہے میری مٹی کو
مرے لیے مرا آنسو وبال جاں ٹھہرا
برق بن کر گر جلا کر جاویداں کر دے مجھے
لن ترانی تیری زد پر طور جاں رکھتا ہوں میں
زندگی ڈھلتی رہی یہ نہ مگر ختم ہوا
نبض ٹھہری تو کہیں درد جگر ختم ہوا
کبھی دریا کبھی در شکل حباب آتا ہے
ہم پیاسوں کو یہی نیند میں خواب آتا ہے
لگی جو آنکھ مرا خواب بن گیا پھر وہ
اٹھے تو اڑ گیا ہائے بہ شکل طائر وہ
دوسری طرف سفیر صدیقی کا اسلوب اور ڈکشن قابل داد ہے۔ ان کی زبان دورحاضر کے مزاج سے ہم آہنگ ہےجبکہ اظہار کا سلیقہ ایسا ہے جو کلاسیکی اثرات کو بھی برقرار رکھتا ہے۔ سفیر کی شاعری میں ندرت بیان اور زبان کا چمکتا ہوا حسن نمایاں ہے۔ مثال کے طور پر کچھ اشعار ملاحظہ کریں:
دیکھتی رہتی ہے شب بھر میری بے خوابی اسے
مستقل جاری ہے یادوں کا سفر دیوار پر
شور کرتا رہتا ہے تنہائیوں کا اضطراب
رقص کرتی رہتی ہے بے بس نظر دیوار پر
فنا سے بولو کے اب وہ اپنا ہنر دکھائے
مجھے جو لمحہ سنوارنا تھا ،گزر گیا ہے
بول اے کش مکش شدت تنہائی جاں
رقص بسمل کروں یا لطف ستم پر ناچوں
جی میں آتا تو ہے مر جائیں مگر کیسے مریں
سیکڑوں مشورے ہیں ایسے مریں ایسے مریں
گھیرے جائیں کسی دن اور کہیں مارے جائیں
سر پٹکنے سے تو بہتر ہے اتارے جائیں
سفر نقوی اپنی تخلیقی سوچ اور جدت فکر کے باعث متاثر کرتے ہیں۔ ان کا کلام روایت سے ہٹ کر ایک نیا زاویہ پیش کرتا ہے جو قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ خیالات کی یہ نرالی اور تازہ روشنی ان کی پہچان ہے۔ مثال کے طور پر کچھ اشعار ملاحظہ کریں:
جانے کیوں اور بکھرتا ہی چلا جاتا ہوں
ان سمٹتی ہوئی بانہوں کی طرف جاتے ہوئے
مشکیزۂ ہستی پہ بہت تیر لگے ہیں
اور چاروں طرف تشنہ لبی تشنہ لبی ہے!
اک روح مری روح سے دوران تکلم
رہ رہ کے یہ کہتی ہے ترا جسم کہاں ہے
اُن کو سجدے میں تو ان کو سر نوک نیزہ
سب کو بس ایک ہی دھن ہے مرا سر چاہیے ہے
ذرۂ خاک بھی جھڑنے نہیں دیتا ہے کہ وہ
لمس در لمس مرا جسم جواں چاہتا ہے
اب کون یہ سمجھے گا سفرؔ بر سر مقتل
ہم لرزہ بر اندام ہیں یا جھوم رہے ہیں
کب تلک تو بھی ہمیں گریہ کناں دیکھے گا
کب تلک ہم بھی تجھے تخت نشیں دیکھیں گے
یہ تینوں شعرا اردو ادب میں امید کی کرن ہیں جو نہ صرف روایت کو سمجھتے ہیں بلکہ اسے نئے رنگوں میں ڈھال کر عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کر رہے ہیں۔ ان کی شاعری آنے والے وقت میں ادب کا روشن باب بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

