گھٹن بڑھتی جارہی تھی۔ کمرے کی بے رنگ فضا سے تنگ آکر وہ باہر کی دنیا کا نظارہ کرنے لگی۔آسمان میں بے شمار تارے جھلملا رہے تھے۔ ان کی جھلملاہٹ کانچ کی کھڑکی کے راستے اس کی آنکھوں میں نفوذ کرتی ہوئی معلوم ہورہی تھی۔اس نے اکتاکر آنکھیں بند کر لیں۔
شاید یہ جھلمل کرتی روشنی اس کے لیے بے معنی تھی۔ روشنی بھی اسی وقت خوب صورت محسوس ہوتی ہے جب آنکھوں میں تاب نظارہ ہو!”کیا یہ وہی آنکھیں ہیں؟“ اس نے اپنے آپ سے سوال کیا، ”یا آج کی رات مشیت نے تاروں کی آب تاب میں اضافہ کردیا ہے؟“
زندگی کے تعلق سے پہلی بار اس کے دل میں منفی خیال پیدا ہو رہا تھا۔ وہ اس قدر مایوسی کا شکارکیوں ہورہی تھی؟ زندگی کی بے ثباتی کااحساس اس کے لیے شدیدسے شدید تر کیوں ہوتا جارہا تھا؟ اس طرح کے اور بھی کئی سوال تھے جواس وقت اس کے لیے پریشانی کا باعث تھے۔
اسے معلوم تھا کہ اس کاماضی بڑا تابناک، خوب صورت اور سایہ دار تھا؛ خوب صورت ایسا کہ ہر کس و ناکس کو اپنی طرف مائل کرلیتا، اور سایہ دار ایسا کہ ہر مریض کو اس کی چھاؤں میں زندگی سانس لیتی نظر آتی تھی۔ پھر اس کا حال اسے مایوسی کے غار میں کیوں ڈھکیلنا چاہتا تھا!
دفعتاً اسے احساس ہوا کہ اس کا سینہ اندرسے تنگ ہوا جارہا ہے۔ اس نے جلدی جلدی اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرنا شروع کیا۔ اس نے محسوس کیا کہ چہرہ بھی اس کا اپنا نہیں ہے۔ اس کا چہرہ پہلے کبھی اتنا گداز نہیں تھا۔
پریشان ہوکر کچھ لمحوں کے لیے اس نے اپنے حال اور مستقبل دونوں کو یکساں طور پر نظر انداز کردیا،اور اپنے ماضی میں جاکر اپنے حسین اور خوش آئندایام کو تلاش کرنے لگی۔
اس نے ہوش و حواس کے عالم میں ان ایام کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا تو بے شمار مسرت آگیں لمحے اور امید افزا ساعتیں مچلتی ہوئی نظر آئیں،جو اس کے ذہن و دل کو جلا بخش رہی تھیں۔
ابھی تو کل کی بات ہے کہ پورا ہال،جسے لوگوں کی حفاظت کے پیش نظر قرنطینہ کے طور پر استعمال کیا جارہا تھا،مریضوں سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔قوانین صحت عامہ کی روشنی میں دو دو گزکی دوری پر تخت لگے ہوئے تھے۔دو تین نرسیں ان کا معائنہ کررہی تھیں، اورمریضوں کا ان کے مرض کی سنگینی کے حساب سے علاج کیا جارہا تھا۔
اچانک ایک مریض نے سینے میں بے چینی کی شکایت کی، اوروہ بستر پر تڑپنے لگا۔دو نرسیں اس کی طرف تیزی سے دوڑیں۔ نرسیں کیا جیسے دو روبٹ تیمارداری کے فرائض انجام دے رہے ہوں۔ایک نے آگے بڑھ کر اس کے گلے میں ایک خاص قسم کا محلول ڈالنے کی کوشش کی،لیکن مریض اتنے زور سے اوکنے لگا کہ وہ محلول سارا کا سارا باہر آگیا۔ بُرے وقت میں شایداکسیر بھی زہر معلوم ہوتی ہے!
یکایک ایک گھنٹی کی آواز سنائی دی،اوراس کے فوراً بعدزینے پر کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دینے لگی۔ وہ نرس جو مریض کی مددکر رہی تھی چونک کر دوہاتھ کی دوری پر کھڑی ہوگئی۔”مونیکا!“ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔
”آرام سے،“ مونیکا نے داہنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا،اور اپنا ماسک پیچھے کی طرف کھینچتی ہوئی مریض سے ایک دم قریب ہو گئی۔ اس نے سارے تکلفات بالائے طاق رکھتے ہوئے مریض کے منہ میں پھر سے کوئی محلول ڈالا، اور مریض لمبی لمبی سانسیں بھر نے لگا۔ ”کوئی پریشانی کی بات نہیں،آپ ایک دم ٹھیک ہیں۔“
مونیکا نے اپنی با ت ختم کی،اورایک خاص انداز سے مسکراتے ہوئے مریض کی طرف دیکھا۔مریض کے چہر ے پر بھی ایک ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔اس نے دوتین بار اور جلدی جلدی سانس لینے کی کوشش کی۔پھرآہستہ آہستہ اس کی سانسیں معمول پر آنے لگیں۔
مونیکا مریض کوکچھ دیر تک ترحّم آمیز نظروں سے دیکھتی رہی،اور وہ بھی افاقہ محسوس کرتے ہوئے اس کی طرف تشکّر آمیز نظروں سے دیکھتا رہا۔
”زندگی سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔“ مونیکا نے اسے ایک بار اورمخاطب کیا، ”پہلی بات یہ ہے کہ دل سے سوچیں، اور دماغ پر قابو رکھیں۔اس طرح ڈر آپ کے دل سے نکل جائے گا،اور دل سے ڈر نکل جانے کا مطلب یہ ہے کہ بدن سے بیماری نکل گئی۔“
اپنی بات سے فارغ ہوکر مونیکا نے مسکراتے ہوئے مریض کے چہرے پر اپنی نظریں جما دیں۔ یہ مسکراہٹ پچھلی تمام مسکراہٹوں کا نچوڑ تھی۔چند لمحوں میں نہ صرف یہ کہ وہ مریض خود کو شفایاب محسوس کرنے لگا، بلکہ آس پاس موجود دیگر مریضوں کے چہروں پر بھی مسکراہٹ کی ایک لہر دوڑ گئی۔
مونیکا نے پورے ہال پر ایک نظر ڈالی، اورحسب عادت پیچھے کی طرف مڑکر بالائی منزل کی طرف جانے لگی۔ پہلی سیڑھی پر قدم رکھتے ہی اسے زور کی چھینک آئی۔ اس نے اپنا ہاتھ منہ پر رکھ لیا،اور”الوداع دوستو“ کہتی ہوئی بالائی منزل پر چلی گئی۔
مونیکا کا پورا نام مونیکا فرنانڈیز تھا۔ وہ فلپین کے دارالحکومت منیلا کے ایک خاص اسپتال میں نرس کے فرائض انجام دے رہی تھی۔اس کے تعلق سے یہ بات مشہور تھی کہ وہ ماضی میں کسی کلیسا میں بھی کچھ دن گزار چکی ہے۔ شکل و صورت سے تو عام فلپینی خواتین جیسی پستہ قد، لیکن حوصلہ اس قدر بلند کہ عملی میدان میں ہر کوئی اس کے سامنے بونا نظر آتا۔
بہ مشکل چند لمحے گزرے ہوں گے کہ وہ ہوا کی رفتار سے زینے سے اترتی ہوئی آدھمکی، اور چہکتے ہوئے اسی مریض کے پاس جاکر کھڑی ہوگئی۔ ”کیسے ہیں آپ سب؟“ اس نے مسکراتے ہوئے ہاتھ کے اشارے سے سب کو مخاطب کرنا چاہا۔
اکثر لوگوں نے مسکراہٹ کا جواب مسکراہٹ سے دے دیا۔کچھ نے ہاتھ کے اشارے سے بھی جواب دینے کی کوشش کی۔ پل بھر کے لیے دوسرے مریضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اس نے اپنی نگاہیں سامنے کے مریض پر مرکوز کردیں۔ ”ابھی کیسا محسوس کررہے ہو؟“
”پہلے سے بہتر۔“ مریض کے چہرے پر خوشی اور غم کی آمیزش صاف نظر آرہی تھی۔
”شادی شدہ ہو؟“
”پانچ سال کا ایک بیٹا ہے۔“
”بہت خوب۔“ مونیکا نے کھلکھلا کرہنس دیا۔ ”میرے بارے میں بھی کوئی پیشین گوئی کرسکتے ہو؟“
وہ مریض کشمکش میں پڑگیا۔پھر وہ دوسرے مریضوں سے مخاطب ہوئی۔”آپ میں سے کوئی؟“وقفہ سوال میں ذرا دیر کے لیے اس نے ماسک اپنے چہرے سے نیچے سرکالیا، اور سوالیہ نظروں سے باری باری ہر ایک کی طرف دیکھتی رہی۔آنکھوں میں ہلکی ہلکی نمی،ہونٹوں پر خفیف تبسم،خود اعتمادی سے دمکتا ہوا خوب صورت چہرہ، اور چہرے پر سیاہ بالوں کا عکس، جیسے کوئی جھیل چاندنی رات میں چمک رہی ہو۔ اس پر مستزاد اس کا دل فریب انداز! مریض جواب کیا دیتے اس کی شخصیت ہی میں کھوئے جارہے تھے۔
برابر میں کھڑی نرسوں میں سے ایک کے ہونٹ پر ہلکی سی جنبش ہوئی، مگرمونیکا نے اسے اشارے سے منع کردیا۔
پھرکچھ مریضوں نے اپنے اپنے انداز میں جواب دینا شروع کیا۔کسی نے شادی شدہ، کسی نے غیر شادی شدہ، اور کسی نے ان سے ذرا الگ جواب دینے کی کوشش کی، مگر مونیکاسب کا جواب سنتی رہی اورکھڑی مسکراتی رہی۔”میری بیٹی اِمّا ابھی ۱نیس برس کی ہے۔ وہ گریجویشن میں ہے۔کیا آپ یقین کرسکتے ہیں؟“
ہر ایک نے اپنے طور پر حیرت کا اظہار کیا، اوروہ سبھی کی نظروں میں کچھ سوال چھوڑ کرمسکراتی ہوئی آب دار خانے میں داخل ہوگئی۔ سامنے ہی ایک بڑی سی الماری تھی۔ ٹھیک اس کے سامنے دوکرسیاں رکھی ہوئی تھیں۔ایک گوشے میں ڈسپینسر رکھا ہوا تھا۔وہ آنکھیں موند کرایک کرسی پر بیٹھ گئی۔بیٹھتے ہی اسے عجیب قسم کا سکون محسوس ہوا۔
استراحت کا یہ وقفہ ذرا طویل کرنے کی غرض سے اس نے بدن کو اور ڈھیلا چھوڑ دیا۔ بدن جس قدر ڈھیلاہوتا گیا،دل مزید آرام کا تقاضا کرتا گیا۔یہاں تک کہ اسے لگا کہ اس کے بدن میں عجیب سا تشنج ہے،اور درد سے بدن ٹوٹ رہا ہے،مگر کسی خیال کی ہلکی سی ایک لہر نے اسے کرسی پرسے اٹھنے پر مجبور کردیا۔
اس نے الماری کھول کردواکی ایک گولی منہ میں ڈالی،اور ڈسپینسر کے پاس جاکرایک گلاس پانی پیا، اور کمرے سے باہر نکل گئی۔ باہرموجود نرسوں کو اپنی مادری زبان میں اس نے کچھ نصیحتیں کیں،اور ایک مریض کا بہت قریب سے جائزہ لیا،اوراپنا داہنا ہاتھ فضا میں لہراتے ہوئے صدر دروازے کی جانب بڑھ گئی۔اس نے موبائل نکال کربہت مختصر گفتگو کی، اور اندر کی طرف واپس آنے لگی۔”تمھیں تھوڑاآرام کرلینا چاہیے۔“ نگراں نرس جیکلین نے کہا۔
”ہاں…پر کیا کروں،کام جو ادھورا رہ جاتا ہے۔“
”اِمّا کیسی ہے؟“
”ابھی اسی کا فون آیا تھا۔ رو رہی تھی۔“ جواب دیتے ہوئے مونیکا کے چہرے کی مسکراہٹ روپوش ہونے لگی،اور مسکراہٹ کی جگہ فکر کی لکیریں دکھائی دینے لگیں۔اس نے کہا ”کیا کروں جیکلین! ایک طرف زندگی کا فرض اور ایک طرف منصب کا؛ آخریہ لوگ بھی توہماری اولاد جیسے ہیں۔“
جیکلین نے اثبات میں سر ہلا دیا، لیکن اس وقت اس کے چہرے پر عجیب سی مایوسی جھلک رہی تھی۔ ایسا لگتا تھاکہ یہ مایوسی مونیکا کو بھی اپنی گرفت میں لے گی۔پھر بھی اس نے خود پر قابو پالیا۔
”اگر ڈاکٹر کو خدا کا روپ مانا جاسکتا ہے تو کیا ہم نرسوں کو ماں کاروپ نہیں مانا جاسکتا!“ یہ کہتے ہوئے اس نے جیکلین کے دونوں کندھوں کو پکڑ کر زور سے ہلا دیا، اورایک غیر متوقع مسکراہٹ کے سبب اس کے چہرے پر تازگی کے آثار نمایاں ہونے لگے۔اسی درمیان اس نے اپنی بیٹی اِمّا کو اوڈیوپر مشتمل ایک پیغام بھی بھیجا۔اس کا کہناتھا کہ”ایسا کام جس سے انسان کے ذہن ودل کو سب سے زیادہ سکون ملتا ہے، اور دونوں جہان میں کامیابی ملتی ہے، وہ ہے انسانیت کی خدمت،اور اس کار خیر میں میرے ساتھ تم بھی شامل ہو۔تمھارے بہت سارے بھائی بہن یہاں بھی موجود ہیں۔ابھی میں ان کی خدمت میں مشغول ہوں۔اس لیے آج دو تین گھنٹے کی تاخیر بھی ہوسکتی ہے۔مجھے یقین ہے کہ میرے اس عمل سے تمھیں رنج کے بجائے خوشی محسوس ہوگی۔“
ادھر اس نے یہ پیغام بھیجا،ادھراِمّا کا جواب بھی آگیا۔”یقینا امی جان! خدا آپ کو اور توفیق دے“۔
بسا اوقات مونیکا روزنامچے کی شکل میں بھی کچھ نہ کچھ لکھتی رہتی تھی۔ وہ جو کچھ بھی لکھتی اسے صوتی یا تحریری پیغام کی شکل میں اِمّا کے ”واٹس ایپ“ پر ضرور بھیجتی۔ آج کا پیغام بھی شاید اسی روزنامچے کا ایک حصہ تھا۔
یک لخت وہ چونک سی گئی۔ایسا محسوس ہوا جیسے اسے کو کوئی بھولی بسری بات یاد آگئی ہو۔ اس نے جیکلین سے معذرت کی، اورتیز قدموں سے بالائی منزل کی طرف چلی گئی۔
گردوپیش سے بے خبر وہ اپنے کام میں اس طرح مشغول رہی کہ وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا،اور جب وہ گھر پہنچی تو اِمّاگہری نیند میں تھی۔لب و رخسار ایسے کھلے ہوئے تھے جیسے سر شام ہی سے کسی سر سبز شاخ پر ننھی کلیاں اور گلاب کھل گئے ہوں۔ اس نے کاغذکے ایک ٹکڑے پر ”امی مجھے آپ سے محبت ہے“ لکھ کر اس کے سرہانے رکھ دیا تھا۔
مونیکا نے جھٹ اپنے کپڑے اتارے،غسل کیا،اورکاغذکا وہ ٹکڑاجس پراِمّا کی تحریر تھی بوسہ دیا،اوربہ حفاظت تمام اسے اس نے اپنے تھیلے میں رکھ لیا۔
ایک جست میں وہ شوہر کے پاس چلی گئی،اور تاخیر کے اسباب بیان کرنے لگی۔ شوہر نے ناراضی کا بھی اظہار کیا،مگر اس نے پیار سے اس کے کندھے کو دبانا شروع کردیا۔وہ ناراضی کا اظہار کرتا رہا،مگر یہ خاموشی کا دامن تھامے آہستہ آہستہ اس کے کندھے کو گدگداتی رہی۔مسکراہٹ تو اس کے چہرے کا جزو لاینفک تھی؛ اس لیے شوہر کو رام کرنے میں اس مسکراہٹ نے بھی کچھ کردار ادا کردیا۔
ضروریات سے فارغ ہوکر اس نے بستر کا رخ کیا۔ اس کے بدن میں عجیب سی بے چینی تھی۔وہ دیر تک کروٹیں بدلتی رہی۔ ایک تو بدن میں درد، اوپر سے تیز بخار۔ بخار اتنا بڑھا کہ اس کے بدن سے بھپکا سا اٹھنے لگا۔پھر بھی اس نے شوہر کو بیدار کرنا مناسب نہ سمجھا۔سب سے زیادہ پریشان کرنے والی بات یہ تھی کہ گلے میں خراش تھی، اور خراش کے ساتھ کسی شے نے اس کے سینے کو بری طرح جکڑ رکھا تھا۔
اِمّا کے بیدار ہونے سے پہلے ہی وہ اسپتال چلی گئی۔ اس کی یہ حالت دیکھ کرپورے اسپتال میں دہشت سی پھیل گئی۔آناً فاناً کورونا کی جانچ شروع ہوئی، اور اسے ایک علحدہ کمرے میں منتقل کردیا گیا۔
لمحہ لمحہ اس کی صحت گرتی رہی۔ ڈاکٹروں نے کچھ دوائیں تجویز کیں، اور انجکشن بھی دیا، لیکن بدن پر کوئی خاص اثر نہیں تھا۔اس کی تکلیف کو دیکھتے ہوئے جانچ کے لیے اس کے خون کا بھی نمونہ لیا گیا۔
جانچ کے نتیجے سے یہ معلوم ہوا کہ اس کے پھیپھڑے میں انفیکشن ہے، جس کی رسائی بدن کے دوسرے اعضاء رئیسہ تک ہوچکی ہے۔دوسری اہم بات یہ تھی کہ دیگر مریضوں کے بالمقابل اس کے جسم میں جراثیم کی سطح زیادہ بڑھی ہوئی تھی، جس کو بنیاد بناکر کچھ نرسوں نے اندرونی سطح پر کورونا کے انتشار کا الزام بھی اسی کے سرتھوپ دیا۔
فرطِ غم سے مونیکا کا کلیجہ پھٹا جارہا تھا۔ اپنا غم غلط کرنے کے لیے اپنے شوہر سے اس نے ایک مختصرسی گفتگو کی، اور پھراپنا تھیلا کھول کر اِمّا کی وہ تحریر نکالی جس کے الفاظ تھے”امی مجھے آپ سے محبت ہے“اور اسے ایک معنی خیز بوسہ دے کر اس نے تکیے کے نیچے رکھ لیا۔ کاغذ کے ایک ٹکڑے میں نہ جانے ایسی کیا جاذبیت تھی کہ وقفے وقفے سے یہی عمل اس نے کئی بار دہرایا۔
شاید ماں کا دل بیٹی کے دل میں بھی دھڑک رہا تھا،کیونکہ اسی لمحہ اوڈیو پر مشتمل اس کا ایک پیغام موصول ہوا، ”امی جلدی آنا۔“
”میری بچی میں شاید کچھ دن گھر نہ آسکوں۔“مونیکا نے بھی جواباً ایک صوتی پیغام بھیج دیا، اور پھردونوں طرف سے سوال و جواب کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔
”کیوں امی،کیا ہوا؟“
”میری پیاری اگر میں چلی آئی تو بہت سارے لوگوں کی جانیں بھی جاسکتی ہیں،اور تمھیں معلوم ہی ہے کہ ہمارا فرض…“
”انسانیت کی خدمت اور لوگوں کی جان بچاناہے۔“ اِمّا نے اپنی ماں کا جملہ مکمل کرتے ہوئے، اپنی بات جاری رکھی، ”پھر بھی آنے کی کوشش کرنا۔ میں انتظار کروں گی۔“
”ضرور میری جان۔“
”مقدس ذات تمھاری حفاظت کرے امی جان۔“
”ہر برائی تم سے دور رہے میری جان“ مونیکانے سینے پر صلیب کا نشان بناتے ہوئے کہا۔
درمیان گفتگو اس کی آنکھیں خود بہ خود نم ہوئی جارہی تھیں۔ پھربھی اعصاب پر قابو رکھنے میں وہ بڑی حد تک کام یاب رہی، مگر جب سانسوں میں گرانی کا احساس زیادہ ہونے لگاتوصوتی پیغام بھیجنے کے بجائے اس نے تحریری پیغامات بھیجنے شروع کردیے۔ یہی بات اِمّاکے لیے بے چینی کا باعث ہوگئی۔ انجام کار اس نے اپنی ماں کی شکایت اپنے والد سے کرنی چاہی، لیکن والد کی طرف سے کوئی خاطر خواہ جواب نہ پاکراس نے اپنی خالہ سے رابطہ کیا۔اس سے پہلے کہ خالہ کی طرف سے کوئی جواب ملتا، خالہ زاد بہن نے سارا واقعہ بیان کردیا۔
کورونا کا نام سنتے ہی اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاگیا۔دل دو دو ہاتھ اچھلنے لگا۔اس نے موبائل ایک طرف پھیکا،اور اپنے باپ سے چمٹ کر رونے لگی۔باپ نے دلاسہ دینے کی بھرپور کوشش کی،مگر اسے کسی طور اطمینان نہ تھا۔ بالآخراس نے ویڈیو پر مشتمل ایک پیغام بھیجا،جو شکایتوں کا ایک پلندا تھا۔ پیغام دیکھتے ہی جذبات کا ایک سیلاب مونیکا کے اعصاب کو بہا لے گیا۔یہاں تک کہ اس کا دیرینہ تبسم جسے وہ اوروں میں بانٹتی پھرتی تھی اس سے گریز کرنے لگا، اور وہ بستر پر پڑی تڑپنے لگی۔
سانسوں میں موجود گرانی کے سبب وہ ہنسنے بولنے پرگرچہ قادر نہیں تھی، پھر بھی اس کے اعضا اور حواس اب بھی کام کررہے تھے؛اسی وجہ سے لمحہ لمحہ اس کے جسم اور بالخصوص سینے میں پیداہونے والی تکلیف کو وہ مکمل طور سے محسوس کررہی تھی۔ اس تکلیف سے خود کو نکالنے کے لیے وہ ایک بار پھر اپنے خوب صورت ماضی میں جانا چاہتی تھی، بلکہ وقتی طور پر چلی بھی گئی تھی، مگر اس کی شکستہ حالی اس کے تصور میں بار بار حائل ہورہی تھی۔ پریشان ہوکر اپنے ذہن کے منتشرخیالات کواس نے یک جاکرنے کی کوشش کی، اورموبائل اٹھاکر روزنامچہ لکھنے لگی۔
”سرمایۂ حیات!
مجھے یقین ہے کہ تم بخیر ہو، اور سدا بخیر رہوگی۔ابھی تو تم نے اپنی زندگی کی انیس بہاریں ہی دیکھی ہیں۔اگر میں تمھاری ماں مونیکا کی بات کروں تو وہ اب تک چالیس بہاریں دیکھ چکی ہے! ابھی اور کتنی بہاریں اس کے نصیب میں ہیں اس کا علم صرف اور صرف مالک بہار تک محدود ہے۔
میری پیاری اِمّا! زندگی سے مایوسی زندگی دینے والے کی نعمتوں کی ناشکری ہے۔میں نے تمھارے سامنے جس لفظ بہار کا ذکر کیا ہے یہ غم، مصیبت اور مرض کے مقابلے میں خوشی، صحت اور آسودگی سے عبارت ہے۔زندگی کی مثال ایسی ہی ہے۔
یہی زندگی ہم پیڑپودوں میں بھی دیکھتے ہیں۔ نہ صر ف دیکھتے ہیں، بلکہ محسوس بھی کرتے ہیں۔ایک وقت وہ ہوتا ہے جب سارے کے سارے درخت ایک دم سے بے لباس ہوجاتے ہیں۔ اس بے لباسی کو ہم اپنی عام بول چال میں خزاں سے تعبیر کرتے ہی، جو درحقیقت خیر کے مقابلے میں شر کے غلبے سے عبارت ہے،اور موت کی ایک علامت بھی۔پھر بھی یہ اشجار و نباتات مایوس نہیں ہوتے،بلکہ مالک بہارسے خیر کی توقع تادیر قائم رکھتے ہیں، اوراس کا شکر ادا کرتے ہیں؛ چنانچہ چند ہی دنوں میں ان کے جسموں کی کھوئی ہوئی چمک لوٹ آتی ہے، اوریہ پہلے سے بھی زیادہ خوب صورت شکل میں نمودار ہوتے ہیں۔
تمھاری ماں کا یہ مرض بھی اس کی صحت یابی کا استعارہ ہے۔ یعنی بہار کا آنا یقینی ہے،اور جب بہار آئے گی تو تمھاری ماں کے خد و خال اس قدر ترو تازہ، نرم اور خوش نما ہوجائیں گے کہ ہم خزاں کے ایام بھول جائیں گے۔
کیا تم نے کتابوں میں نہیں پڑھاجب قطبی ریچھ پورے چھ مہینے برف کی تہوں میں گزارتا ہے، تواسے زندگی کون عطا کرتاہے؟اس جان لیوا برفیلی وادی میں اس کے لیے غذا کا انتظام کون کرتا ہے؟ وہ مقام جہاں پہنچ کر انسان چند لمحوں میں اس دار فانی سے کوچ کرجاتا ہے،وہ کون سی ذات ہے جو اسے وہاں بھی زندہ اور تابندہ رکھتی ہے، اور پھر برف پگھلنے کے بعد اس کے لاغر جسم کو اس قدر توانائی عطا کرتی ہے کہ وہ پہلے سے بھی زیادہ توانا اور طاقتور نظر آنے لگتا ہے!
یہ سمجھ لوکہ کس پھول کو کتنی زرخیزی مطلوب ہے اس کا صحیح علم صرف باغبان ہی کو ہے۔ اس کی ضرورت ہی کے حساب سے وہ اس کی آبیاری کرتا ہے؛ صرف آبیاری ہی نہیں کرتا، بلکہ آبیاری کے ساتھ ساتھ اس کے آس پاس موجود خود رو پودے جو اس کی نشو نما میں حائل ہوتے رہتے ہیں، انھیں بھی کھرچ کھرچ کر صاف کرتارہتا ہے۔اگر وہی خودرو پودے وافر مقدار میں موجود ہوں تو اس کے پاس کچھ دیگر کارآمد طریقے بھی ہوتے ہیں،جیسے کہ فصل میں جب گھاس زیادہ اگ جاتی ہے، اور گھاس کو نیست و نابود کرنے کے لیے کھرچنا ناکافی معلوم ہونے لگتا ہے،تو کاشت کار جراثیم کش یااس قبیل کی دوسری دوائیں بھی استعمال کرنے پر مجبور ہوتا ہے…
میرے خیال سے میری یہ بیماری بھی خدا کی طرف سے عطاکی جانے والی ایک دوا ہے،جو میرے جسم سے ہر قسم کی غلاظت کو صاف کردے گی۔
ہاں! میں تم سے اتنا ضرور کہنا چاہتی ہوں کہ میری بیماری، کورونا ہے، یا وباؤں کا ایک نمونہ، یا صرف ایک معمہ ہے!خود صاحب فراش ہونے کے باوجودمجھے اس کا صحیح علم نہیں ہے۔پھر بھی مجھے یہ پورا یقین ہے کہ آنے والے دنوں میں تم اس کی حقیقت سے ضرور واقف ہوجاؤ گی۔
ایک بات اور عرض کرنی ہے کہ ایک ماں اور ایک بیٹی….“
مونیکاکی طبیعت ابتر ہوئی جارہی تھی۔جیسے کہ جسم کا اندرونی تانا بانا بکھر رہا ہو؛اسی لیے روز نامچہ اِمّا کو بھیجنے کی غرض سے اس نے انگلیوں کو تیزی سے حرکت دینی چاہی، مگر اس سے پہلے کہ وہ ارسال کرپاتی اس کا پورا بدن مفلوج ہونے لگا،اور سانسوں کی ڈوربھی ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوئی۔پھر بھی معجزاتی طور پر وہ اسے اِمّا کے واٹس ایپ پر بھیجنے میں کامیاب ہوگئی۔
سانسوں کے اتار چڑھاؤ کی کیفیت کو دیکھتے ہوئے اس نے اپنی ٹوٹی پھوٹی سانسوں کے امتزاج سے ایک قدرے طویل اور مضبوط سانس پیدا کرنے کی کوشش کی،مگر یک لخت اندرون جسم کسی دھماکے کی سی کیفیت کا احساس ہوا، اور ایک زور دار جھٹکے نے اس کے پورے بدن کو توڑ مروڑ کر رکھ دیا۔ موبائل ہاتھ سے چھوٹ کردروازے سے جا ٹکرایا۔دروازے پر شور سن کر دونرسیں سورماؤں کی طرح سینہ نکالے دوڑتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئیں۔
”مونیکا کیاتم ٹھیک ہو؟ بس ایک منٹ،ابھی وینٹیلیٹر کا بندو بست ہوجائے گا“ ایک نرس نے ہانپتے ہوئے کہا۔
مونیکا نے کوئی جواب نہ دیا۔نرسیں فوراً باہر نکل گئیں۔کمرے سے باہر ایک دوسری نرس ہاتھ اٹھائے دعا میں مشغول نظر آرہی تھی۔
وینٹیلیٹرکا انتظام ہوتے ہوتے کافی رات گزر چکی تھی۔ وینٹیلیٹرپربھی اسے کوئی افاقہ محسوس نہیں ہوا،کیونکہ حواس اب اس کاساتھ چھوڑرہے تھے۔یادوں کے آئینے سے اِمّا کی تصویر بھی غائب ہوتی نظر آرہی تھی۔اس کے برعکس اِمّا اپنی ماں کا شدت سے انتظار کررہی تھی۔ وہ اس کی صحت کے حوالے سے مختلف طرح کی کیفیات سے دوچار تھی۔ کبھی تھوڑی سی پُر امید ہوجاتی،اورکبھی پوری طرح مایوس۔
نیندسے بیدار ہوتے ہی واٹس ایپ پر اسے ماں کا وہ مراسلہ نظرآیا۔ اس نے ایک ایک حرف کا گہرائی سے مطالعہ کیا۔آنسؤوں کی لڑیاں بھی جاری ہوئیں،لیکن اس نے اپنے آنسو خشک کرلیے، اور بسترپرسے اتر کر سیدھی بالائی دالان میں آگئی۔
باہر کاموسم بڑا خوش گوار تھا۔ حد نظر تک بہت سارے لوگ اپنے اپنے بالائی دالان میں کھڑے صبح کا استقبال کررہے تھے۔سورج کی ارغوانی روشنی گرد و نواح کو منور کررہی تھی۔”کیایہ روشنی میری ماں کے خدو خال کو روشن نہیں کرسکتی؟“ اس نے دل ہی دل میں کہا، اور آسمان کی طرف پر امید نظروں سے دیکھنے لگی۔”صرف ایک بوند روشنی…میری ماں کے حلق میں،اور پھر…..“
لمحہ بھر کے لیے جذبات کے سمندر میں ذرا سی ہلچل مچی، اور یادوں کی ہلکی ہلکی لہریں بھی اٹھیں، لیکن ساحل دل سے ٹکراکر واپس چلی گئیں۔ پھر بھی آنکھوں سے آنسؤوں کے چند قطرے چھلکے،جوموتیوں کی طرح صاف شفاف اور تازہ تھے؛ البتہ اس صاف شفاف فضا کے برعکس اس کے اپنے ذہن کی فضا کالے کالے بادلوں سے معمور تھی، مگر یہ سارے کے سارے بادل اتنے ہی بے اثر تھے جتنی ایک گہری دھند، جو نہ برسنے کی صلاحیت رکھتی ہے، نہ کھلنے کی۔ غالباً اسی وجہ سے وہ اس وقت ایک کشمکش کی سی کیفیت سے دوچار تھی۔ رو دھو کر دل کا غبار نکالنا چاہتی تو ماں کی نصیحت یاد آنے لگتی۔ ”میری پیاری اِمّا زندگی سے مایوسی زندگی دینے والے کی نعمتوں کی ناشکری ہے“، اور ضبط کی صورت میں شدتِ غم سے دل بیٹھنے لگتا، مگر جذبات پر اتار چڑھاؤ کی یہ کیفیت بہت دیر تک قائم نہ رہ سکی۔
آخر موسم میں تیزی آہی گئی، اور دیکھتے ہی دیکھتے سمندر کی خفیف لہریں پرشور موجوں کی شکل اختیار کرنے لگیں۔ عین اسی وقت موافق ہوائیں اتنی تیزی سے چلیں کہ دھند جیسے جامد بادل ابرِ تر میں تبدیل ہوتے گئے، اور ذہن میں موجود سارا گردوغبار خذف ریزے کی طرح بہنے لگا۔ پھر بھی دل کا بوجھ صحیح معنوں میں ہلکا نہ ہوسکا۔
زندگی میں پہلی بار ماں سے دوری کا احساس…وہ بھی ایسے نازک موڑ پر،اور ایسے نازک مرحلے میں…!دل کا بوجھ جس تناسب سے کم ہوا تھا، اسی تناسب سے بڑھ بھی گیا۔ خدائی مصلحت بشری مصلحت سے اکثرو بیشتر مختلف ہوتی ہے۔ ایک سراسر قوت، اور ایک سراسرضعف…!
اس لمحاتی کشمکش سے آزاد ہوتے ہی اس نے آسمان کی طرف ایک بار پھر دیکھا۔ وہی امید و بیم کی سی کیفیت…اس نے بلا تاخیر اپنے ہاتھ دعاکے لیے اٹھا دیے۔
اسی اثنا میں اس کے والد کے فون کی چیخ سنائی دی، اوردوسرے ہی پل دالان کا دروازہ ایک دھماکے کے ساتھ کھلا۔اس نے چونک کر پیچھے کی طرف دیکھا۔ اس کے والد کسی لُٹے ہوئے شخص کی طرح گھبرائے ہوئے اس کی جانب بڑھ رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں آنسو، اور چہرے پر بے بسی تھی۔
”یہ کوئی غروب کا وقت تھا…!“اس نے سسکیاں لیتے ہوئے کہا، اور باپ کے سینے سے لپٹ کر رونے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وصی الحق وصیؔ
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

