غزالہ قمر اعجاز، دہلی
"بابا تم کتنی دیر سے چلتے جا رہے ہو
تھکے نہیں۔”
عقب سے اچانک آئی آواز نے میرے اٹھے ہوئے قدم کو روک دیا۔۔۔ میں نے دائیں طرف گردن موڑتے ہوئے آواز کی سمت دیکھنا چاہا مگر بائیں جانب سے وہ میرے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ دس گیارہ سال کا دھول مٹی میں اٹا ہوا وہ بچہ میلی قمیض اور نیکر پہنے ہوئے تھا ۔ آستین پھٹی اور بٹن ٹوٹے ہوئے تھے۔ میری کمزور نگاہیں اس کے کپڑوں کے رنگ کا صحیح اندازہ نہیں لگا سکیں ۔ وہ منہ پھاڑے حیرت سے مجھے دیکھ رہا تھا اس کا ایک ہاتھ بالوں میں پھنسا تھا اور دوسرا ٹھوڑی پر ٹکا تھا زور سے ہوا چلی ۔ فضا میں خنکی تھی آسمان میں چھائے بادل کبھی سورج کو چھپا لیتے تو کبھی اسے عیاں کرتے ہوئے دھیرے دھیرے سرکتے ہوئے دور چلے جاتے۔ بارش ہوگی یا نہیں بادلوں کی عجیب سیاست تھی ۔ سیاست زمین پر ہوتی ہے تو انسانیت کو شرمسار کر دیتی ہے کسی کو رسوا کرتی ہے کسی کو ننگا کرتی ہے تو کسی کو دانے دانے کے لیے محتاج کرتی ہے تو کسی کسی کو قسمت کی بلندیوں پر پہنچا دیتی ہے مگر یہی سیاست جب آسمان پر ہوتی ہے تو انسانوں کے لیے یہ زمین بھی تنگ ہو جاتی ہے۔
لڑکے نے دونوں ہاتھوں کو آپس میں رگڑتے ہوئے گرمی پیدا کرنے کی کوشش کی اس کے چہرے پر بلا کی معصومیت تھی مجھے دیکھ کر وہ خوش بھی ہو رہا تھا اور حیرت سے بھی دوچار تھا شاید میرا حلیہ ہی کچھ ایسا ہے نیم برہنہ لاغر جسم آنکھوں پر گول فریم کا چشمہ ۔۔۔ایک لاٹھی کے سہارے چلتا ہوا میرا کمزور وجود ۔۔۔میں چل رہا ہوں کب سے مجھے تو یہ بھی یاد نہیں۔ برسوں گزر گئے شاید ۔۔۔پہلے میرے ساتھ ساتھ ایک ہجوم چلتا تھا لوگ غول درغول اکٹھا ہو کر انقلاب کا نعرہ بلند کرتے ہوئے میرے چھوڑے ہوئے نشان پر اپنے قدم رکھتے ہوئے آگے بڑھتے میری ایک پکار پر اپنا سب کچھ نچھاور کر دیتے تھے ۔مجھ پر اعتبار بھی کرتے اور اعتماد بھی جتاتے تھے یہ کب کی بات ہے میں سوچ ہی نہیں پا رہا ہوں پھر پھر پتہ نہیں کیا ہوا انسانوں کے جنگل سے ہوتا ہوا میں اس ویرانے میں آگیا اس بھیڑ سے الگ ہو گیا ۔کب؟ میں اپنے ذہن پر زور ڈالتا ہوں مگر کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پاتا میں چل رہا ہوں مگر اب میرے ساتھ کوئی نہیں آتا کوئی مجھے نہیں روکتا مگر آج یہ بچہ۔۔۔ میں جذبات سے خالی تھا اس کے ملائم ہاتھوں کے لمس نے پتہ نہیں کہاں سے حرارت پیدا کر دی میں اس کا ہاتھ تھامے نیم کے گھنے پیڑ کے نیچے بنے چبوترے کی طرف آگیا ۔
” کیا نام ہے بیٹا۔”
اس کے گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہی وہاں جمی گرد بکھرنے لگی ۔
"میرا نام… تم بتاؤ میرا نام کیا ہے.”
"میں۔۔۔ میں کیسے بتا سکتا ہوں.”
"کون سا نام بتاؤں”.
منھ پر ہاتھ رکھ کر وہ گہری سوچ میں گم ہو جاتا ہے۔ مجھے تعجب ہوا بھلا کوئی اپنا نام بھی سوچتا ہے مگر یہ بچہ۔
"پہلے یہ بتاؤ تم ہندو ہو یا مسلمان .”
اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا اس کے بھولے بھالے منہ سے ایک ایسا سوال نکلا جو سیدھے میرے سینے کو چیرتے ہوئے میرے دل پر لگا۔ میرا دبلا پتلا جسم لڑکھڑانے لگا۔ منہ میں آئے تھوک کو میں نے اندر نگل لینے کی کوشش کی۔ آسمان زور سے گرجا جیسے زمین پر ہو رہی سیاست پر قہقہہ لگا رہا ہو۔ نیم کا پیڑ کپکپا اٹھا ۔ اس کی شاخیں زور زور سے ہلتے ہوئے احتجاج کرنے لگیں ۔اپنا سوال بھول کر وہ بچہ ایک شاخ کو پکڑ کر جھولنے لگا میں نے لاچاری سے اپنا سر پیڑ کے تنے سے لگا دیا ۔ نیم شاید اسی لیے کڑوا ہوتا ہے۔ سکون کے متلاشی لوگوں کی تمام تلخی وہ اپنے اندر جذب کر لیتا ہے مگر آج شاید اس کی ہمت بھی جواب دے چکی تھی ۔ اسی لیے وہ زور زور سے ہل رہا تھا ۔ خود سے اور حالات سے تھک کر میں نے پتہ نہیں کتنی راتیں ایسے ہی نیم کے چبوترے پر گزاری ہیں بڑے بڑے رشیوں اور منیوں نے پیڑوں کی چھاؤں میں اپنے اپ کو کھوجا ہے اور انسانیت کا پیغام دنیا کو دیا ہے مگر آج اس چھوٹے سے بچے کے سوال کو سن کر یہ درخت بھی شاید تڑپ اٹھا تھا ۔
” بتاؤ نا بابا تم ہندو ہو یا مسلمان”.
اسے اپنا سوال پھر یاد آیا . وہ جھولتے جھولتے شاید تھک گیا تھا اور اب زمین پر بیٹھ کر انگلی سے مٹی کریدنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میرا سنسناتا ہوا جسم ایک بار پھر ڈولنے لگا پتہ نہیں کیوں اب مجھے اس بھولے بھالے دس گیارہ سال کے بچے سے خوف سا آنے لگا ۔ میں اسے کیا جواب دوں مجھے کیا جواب دینا چاہیے۔ میرے اندر کا سیاستدان جاگ اٹھا میں ایک جھٹکے سے کھڑا ہوتا ہوں اور چپکے سے پیڑ کی اوٹ سے ہوتا ہوا وہاں سے نکلنے کی کوشش میں تیز تیز بھاگنے لگتا ہوں کہیں وہ مجھے روک نہ لے۔
"بابا… بابا”.
میرا خدشہ صحیح تھا وہ میرے پیچھے پیچھے چل رہا تھا اور میری انگلی پکڑنے کی کوشش کر رہا تھا میں نے مڑ کر دیکھا۔
” تم کہاں رہتے ہو”.
میں نے اس کے سوال سے اسے بھٹکانے کی کوشش کی۔
” اپنا تو نہ کوئی گھر ہے اور نہ ہی ماں باپ جب بہت چھوٹا تھا اتنا۔۔۔”
وہ بیٹھے بیٹھے ہاتھ اپنے سر کی اونچائی تک لے گیا.
” تب ایک عورت عبدل عبدل کرتے میرے پاس آئی اور مجھے زور سے جکڑ لیا ۔ میں نے اس سے بہت کہا کہ میں عبدل نہیں ہوں پر وہ مانی ہی نہیں۔ ہر وقت مجھے اپنے ساتھ رکھتی کھانا کھلاتی منہ دھلاتی ۔ میں اسے مائی کہتا اور وہ مجھے اپنے گلے سے لگا لیتی۔ ہم ساتھ ساتھ بھیک مانگتے اور جہاں بھی جگہ ملتی ہم سو جاتے پھر ایک دن ایک ٹرک والا اسے کچل گیا میں بہت رویا اور روتا ہی رہا۔ دو دن سے کھانا بھی نہیں ملا تھا پھر میں موچی کاکا کے پاس آگیا ۔ وہ مجھے کہیں لے کر گیا جہاں سب لوگ لائن میں کھڑے تھے اور کھانا بٹ رہا تھا کھانا بانٹنے والے نے موچی کاکا سے پوچھا۔
” یہ آج اپنے ساتھ کسے لے ائے۔”
"یہ… یہ رامو ہے مائی باپ آج ہی گاؤں سے آیا ہے.”
پوری سبزی کھانے کے بعد میں نے کاکا سے کہا میرا نام تو عبدل ہے تم نے رامو کیوں بتایا۔
رامو بتایا جبھی تو کھانا ملا۔ دھیرے دھیرے تم بھی سب سمجھ جاؤ گے۔
میں کاکا کے ساتھ رہنے لگا ۔ مگر ایک دن وہ بھی پتہ نہیں کہاں غائب ہو گیا میں پھر اکیلا ہو گیا میں پھر رویا ادھر ادھر ڈھونڈا ۔ مگر وہ ملا ہی نہیں پھر دھیرے دھیرے مجھے معلوم ہو گیا کہ جہاں پوری سبزی ملے وہاں میرا نام رامو ہے اور جہاں پلاؤ ملے وہاں میرا نام عبدل ہے پھر میں ایک ڈھابے پر آگیا ۔۔۔بڑا ہو گیا ہوں نا ۔ برتن دھونے سے لے کر میز صاف کرنے کا سب کام میں کر لیتا ہوں وہاں سب مجھے چھوٹو بلاتے ہیں تو اب وہ لفڑا ہی ختم۔
وہ خوش تھا پھر اداس ہوتے ہوئے بولا۔
” آج ڈھابے والے نے مجھے بہت مارا تو میں وہاں سے بھاگ آیا اور پھر تمہارے پیچھے پیچھے آگیا ۔”
” مگر ڈھابے والے نے تمہیں کیوں مارا کیا قصور تھا تمہارا۔”
اپنے پاس بٹھاتے ہوئے میں نے اس سے پیار سے پوچھا.
” وہ کہہ رہا تھا اپنے ماں باپ کا نام پتہ اور ان کے کاغذ لے کر آ ۔۔۔ ورنہ تمہیں جیل میں بند کر دیا جائے گا۔ اب تم ہی بتاؤ بابا میں نے کوئی چوری کی ہے کیا جو مجھے جیل میں بند کر دیا جائیگا ۔ مائی ملی تو اسے ٹرک نے کچل دیا۔ کاکا غائب ہو گیا اب تم ہی بتاؤ مجھے کاغذ کون دے گا یہ مالک کہتا ہے ایسے تو میں ہی پھنس جاؤں گا تیرے چکر میں اور کام سے نکال دیا میں پھر بھی وہیں بیٹھا رہا تو مجھے مارا۔
اس نے آستین اٹھا کر اپنا نیلا ہاتھ دکھایا میں دنگ رہ گیا۔
” بابا آپ میرے کاغذ بنوا دو گے۔”
میرا ہاتھ پکڑ کر وہ مجھ سے کہہ رہا تھا سیاست کا یہ پتہ نہیں کون سا نیا کھیل تھا جہاں انسانیت دم دوڑ چکی تھی میں لڑکھڑایا… ناک پر ٹکا میرا چشمہ کہیں دور جاگرا ۔ میرے چاروں طرف اندھیرا چھا گیا ۔ تبھی آسمان زور سے گرجا شاید زمین پر ہو رہی سیاست نے اسے بھی للکارا تھا اس کے کمزور ہاتھ مجھے سنبھالنے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔
کون ہے یہ عبدل نہیں نہیں رامو نہیں عبدل ۔ نام آپس میں گڈ مڈ ہونے لگے نفرت کا یہ پتہ نہیں کون سا انداز تھا جہاں رنگ اور کھانے زندگی کا تول مول کر رہے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

