مہوش کو کوئی شوق نہیں تھا کہ وہ ٹکے ٹکے کے لوگوں کے آگے ذلیل ہوتی پھرے۔ بس اس کے گھر کے حالات ٹھیک نہیں تھے۔ باپ نشہ کرتا تھا، جس کی وجہ سے اسے بارہویں جماعت پاس کرنے کے بعد ایک پرائیویٹ اسکول میں کام ڈھونڈنا پڑ رہا تھا۔ گاؤں میں تو بیچاری مہوش کو کوئی نوکری مل نہیں رہی تھی۔
تتلے منجھاں گاؤں میں تین پرائیویٹ اسکول تھے۔ وہ تینوں اسکولوں میں گئی، مگر تینوں نے ہی یہ کہہ کر نوکری دینے سے انکار کر دیا کہ:
"بی بی،تمہارا باپ نشہ کرتا ہے۔”
معاشرے میں یہ بہت پرانی رسم چلی آ رہی ہے کہ اگر گھر میں ایک بندہ گناہ گار ہو تو باقی سب کو بھی گناہ گار کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ باپ نشہ کرے تو بیٹی کو بری نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ بیٹا چوری کرے تو باپ کو بری نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
مہوش بھی اسی معاشرے کا حصہ تھی۔ اس کے تین چھوٹے بہن بھائی تھے۔ انہیں پڑھانے کی ذمہ داری بھی مہوش کے سر پر تھی۔
جب اسے اپنے گاؤں میں نوکری نہ ملی تو اس نے تتلے منجھاں سے بیگ پور کا رخ کیا۔ بیگ پور، تتلے منجھاں سے دس کلومیٹر دور تھا۔ جیسے ہی مہوش کو پتہ چلا کہ ‘دارارقم اسکول’ والوں کو ایک فی میل ٹیچر کی ضرورت ہے تو وہ انٹرویو دینے چل پڑی۔
اسکول مالک نے مہوش سے پہلا سوال کیا:
"آپ کے والد صاحب کیا کام کرتے ہیں؟”
مہوش نے ہونٹوں پر پھیکی سی ہنسی سجا کر کہا:
"سر، وہ نشہ کرتے ہیں۔ گھر کے حالات خراب ہیں، اس لیے میں نوکری کے لیے آئی ہوں۔”
اسکول مالک نے اسے پہلے چائے کا کپ پلایا اور پھر خوشی کی خبر دی:
”آپ سلیکٹ ہو گئی ہیں۔ آج سے آپ کے نام کے آگے ‘مس’ لگے گا۔ اب آپ کا نام ‘مس مہوش’ ہے۔“
مہوش بہت خوش ہوئی۔ اسے حیرت بھی ہوئی کہ انہوں نے مجھے اتنی جلدی رکھ لیا ہے۔ پھر اس نے اسکول مالک سے تنخواہ کے بارے سوال کیا:
”سر، میری تنخواہ کتنی ہو گی؟“
اسکول مالک بولا:
”ہم ایک مہینہ ٹیچر کو کوئی تنخواہ نہیں دیتے۔ پہلا مہینہ ٹریننگ کا ہوتا ہے۔ دوسرے مہینے کے آخر میں ہم ٹیچر کو اس کی تنخواہ کے بارے میں بتاتے ہیں۔“
مہوش کا دل چاہا کہ ایک بار اسکول کے مالک سے منت کرے، مگر پھر وہ خاموش رہی۔ اس نے دل میں سوچا: "چلو، اسکول تو دارِارقم ہے۔ ایک برانڈ میں پڑھانے کا موقع مل رہا ہے۔ نام کے ساتھ ‘مس’ بھی لگ جائے گا، جس کا خواب میں بچپن سے دیکھتی آئی ہوں۔“
مہوش نے ہاں کر دی۔ ٹرانسپورٹ اسکول کی اپنی تھی۔ مس مہوش کو بھی اسکول والوں نے ویگن کی سہولت دی۔
اگلے دن مس مہوش کو اسکول کی ویگن تتلے منجھاں سے بیگ پور، دارارقم اسکول لے آئی۔ اسکول پہنچتے ہی اسے ٹائم ٹیبل تھما دیا گیا۔ باقی سب ٹیچرز کے حصے میں سات پیریڈ تھے، مگر مس مہوش کے حصے میں نو پیریڈ ڈال دیے گئے۔ ساتھ ہی اسے ٹرانسپورٹ کا انچارج بھی بنا دیا گیا۔
مس مہوش دل ہی دل سوچتی کہ: "میرا کام باقیوں سے زیادہ ہے، تو تنخواہ بھی زیادہ ہی ہو گی۔”
نو پیریڈ پڑھانے کے بعد وہ باہر جا کر ایک ایک بچے کو سڑک پار کروا کر ویگن میں بٹھاتی۔ جب ساتوں ویگنیں بچے لے کر چلی جاتیں، پھر وہ اسکول کے اندر آ کر اگلے دن کی پلاننگ کرتی۔
یوں دن گزرتے گئے۔ مس مہوش کا ایک مہینہ پورا ہو گیا۔ اسکول والوں کے مطابق یہ سیکھنے کا مہینہ تھا اور نام کے آگے ‘مس’ لگنے کا مہینہ تھا۔
دوسرے مہینے کے پندرہ دن گزر گئے۔ مس مہوش نے چھٹی کے بعد اسکول مالک سے پوچھا:
"سر، میری تنخواہ کتنی ہو گی؟”
"دس ہزار۔”
"سر، کتنی؟”
اسکول مالک، غصے سےبولا: "دس ہزار! دس ہزار! دس ہزار!”
مس مہوش نے آنکھوں میں آنسو بھرتے ہوئے پھر اسکول مالک سے کہا کہ :
"سر، یہاں باقی ٹیچرز کی تنخواہ بیس ہزار سے اوپر ہے۔ انہیں سات پیریڈ دیے ہیں۔ میرے نو پیریڈ ہیں۔ ٹرانسپورٹ کا کام بھی میرے پاس ہے۔ میرے ساتھ یہ انصاف کیوں ہے؟”
اسکول مالک، جسے اسکول بنائے پندرہ سال ہو گئے تھے۔ہنستے ہوئے بولا
"مس، پہلی بات – آپ بارہویں پاس ہیں۔ دوسری بات جنہیں ہم بیس ہزار دیتے ہیں، وہ ایم.اے پاس ہیں۔ تیسری بات – آپ دارارقم اسکول میں پڑھا رہی ہیں۔ یہاں ایک بچے کی فیس چار ہزار روپے ہے۔ یہاں سے پڑھا کر آپ کہی بھی جائیں گی تو کوئی بھی اسکول ہنستے ہوئے آپ کو رکھ لے گا۔”
اسکول مالک کی باتیں سن کر مس مہوش کا سانس رک گیا۔
وہ بولی:
"سر، بارہویں پاس ہوں تو کیا ہوا؟ نو پیریڈ میں پڑھاتی ہوں، سات وہ پڑھاتی ہیں۔ ٹرانسپورٹ کا بوجھ بھی میرے سر پر ہے۔ بچوں کو سڑک پار کرواتے کرواتے دوپہر کا کھانا بھی نہیں کھا سکتی۔ پھر بھی میری تنخواہ دس ہزار؟”
اسکول مالک کرسی سے اٹھتے ہوئے بولا:
"دیکھیں مس، آپ کے والد کا بیک گراؤنڈ بھی دیکھنا پڑتا ہے۔ ہم نے رسک لے کر آپ کو رکھا ہے۔ دوسرا، آپ نئی ہیں، تجربہ نہیں ہے۔ اور تیسرا، اگر منظور نہیں تو دروازہ کھلا ہے۔ باہر ٹیچرز کی لائن لگی ہے۔”
بات ختم ہوتے ہی مس مہوش کے سامنے گھر کے حالات گھومنے لگے۔ اس نے سوچے بغیر ہی کہہ دیا:
"ٹھیک ہے سر، میں کر لوں گی۔ کوئی بات نہیں اگر تنخواہ دس ہزار ہے تو۔”
مس مہوش کو دارارقم اسکول میں کام کرتے ایک مہینہ اٹھائیس دن ہو گئے تھے۔ دو دن رہ گئے تھے تنخواہ ملنے میں۔ وہ بہت خوش تھی۔ دو دن بھی اللہ اللہ کر کے گزر گئے۔
آج تنخواہ والا دن تھا۔ تنخواہ چھٹی کے بعد ملنی تھی۔
معمول کے مطابق مس مہوش نے پہلے اسمبلی کی ڈیوٹی دی۔ پھر نو پیریڈ پڑھائے۔ اس کے بعد ویگن میں بچے بٹھانے چلی گئی۔ پہلی ویگن بھری، روانہ کی۔ دوسری ویگن بھری، روانہ کی۔جب تیسری ویگن میں بچے بٹھانے کی باری آئی تو ایک سات سال کے بچے نے ضد کی:
"میڈم جی، میں نے ٹافیاں لینے جانا ہے۔”
مس مہوش مان گئی۔ وہ اس کے کو سڑک پار کروا کر دوسری طرف جانے لگی تو اچانک سامنے سے بریک فیل ٹرک آ گیا۔
مس مہوش خود تو نہ بچ سکی، مگر اس بچے کو بچا لیا۔ مس مہوش نے بچے کو دھکا دے کر آگے پھینک دیا اور خود ٹرک کے نیچے آ گئی۔
ٹکر کے بعد سڑک پر شور مچ گیا۔ ویگنیں رک گئیں۔ بچے چیخیں مار کر رونے لگے:”میڈم جی! میڈم جی!”
اسکول مالک دوڑتا ہوا آیا۔ جب اس نے مس مہوش کو خون میں لت پت دیکھا تو سب سے پہلے اس کی نبض چیک کی۔ سانسیں ختم ہو چکی تھیں۔
اسکول مالک نے مس مہوش کو شہادت کی موت قرار دیا۔ گھر والوں سے درخواست کی کہ مس مہوش کا جنازہ اسکول میں ہی پڑھایا جائے گا۔
ایسا ہی ہوا۔ مس مہوش کا جنازہ اسکول میں ہی پڑھا گیا۔
جنازے کے اگلے دن اسکول مالک نے مس مہوش کی ایک بڑی تصویر فریم کروانی اور اوپر شہید مس مہوش لکھ کر دفتر کے سامنے والی دیوار پر لگا دی۔
تصویر کے ساتھ ایک چھوٹی سی تحریر بھی لکھ کر لگادی۔ اس پر لکھا تھا:
"ہم شہید مس مہوش کو اس کی زندگی میں اس کی ستر ہزار تنخواہ نہیں دے سکے۔ جو اب ہم شہید مس مہوش کی تصویر کے ساتھ بائیں طرف لگا رہے ہیں۔ تاکہ جو بچہ شہید مس مہوش کی زیارت کرے، اسے مس مہوش کی تنخواہ کی بھی زیارت ہو جائے گی۔”
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

