مُحَرَّم اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے اور اسلامی تہذیب و تاریخ میں ایک غیر معمولی روحانی، اخلاقی اور تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ قرآن مجید نے اسے ان چار مہینوں میں شامل کیا ہے جنہیں "اشہرِ حرم” قرار دیا گیا ہے۔ یہ وہ مہینے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے خصوصی تقدس اور حرمت رکھی ہے اور جن کے دوران ظلم، زیادتی اور گناہوں سے بچنے کی تاکید عام دنوں کے مقابلے میں زیادہ شدت کے ساتھ کی گئی ہے۔ مُحَرَّم صرف ایک نئے قمری سال کے آغاز کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسی یاد دہانی ہے جو مسلمانوں کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا محاسبہ کرنے، اپنے ایمان کی تجدید کرنے، اخلاقی اصولوں کو مضبوط بنانے اور امتِ مسلمہ کے باہمی رشتوں کو مستحکم کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ اس مہینے کی سب سے نمایاں تاریخی نسبت واقعۂ کربلا سے ہے، جس نے اسلامی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے اور حق و باطل، عدل و ظلم، وفاداری و غداری، صبر و استقامت اور قربانی و ایثار کے معانی کو نئی وسعت عطا کی۔ تاہم مُحَرَّم کی حقیقی روح صرف غم اور یاد تک محدود نہیں بلکہ یہ اسلامی اخوت، باہمی احترام، اجتماعی ذمہ داری اور انسانی ہمدردی جیسے عظیم اصولوں کی تجدید کا بھی ایک بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔
اسلام کا پورا تصورِ معاشرہ اخوت اور بھائی چارے کی بنیاد پر قائم ہے۔ قرآن مجید نے مسلمانوں کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا ہے اور ان کے درمیان تعلق کو محض ایک سماجی یا نسلی رشتے کے بجائے ایک ایمانی اور روحانی رشتے کی حیثیت دی ہے۔ دنیا کی تاریخ میں بے شمار قومیں نسل، زبان، رنگ، جغرافیہ یا مشترکہ مفادات کی بنیاد پر متحد ہوئیں، لیکن اسلام نے انسانوں کو ایمان کی بنیاد پر جوڑ کر ایک ایسی عالمی برادری تشکیل دی جس کی مثال انسانی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے مبارک دور میں اس اخوت کو صرف نظریاتی سطح پر نہیں چھوڑا بلکہ اسے عملی شکل بھی عطا فرمائی۔ ہجرتِ مدینہ کے بعد مہاجرین اور انصار کے درمیان قائم ہونے والا معاہدۂ مؤاخات اس کی روشن ترین مثال ہے۔ مختلف قبائل، مختلف علاقوں اور مختلف معاشی پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا گیا۔ انصار نے مہاجرین کو اپنے گھروں میں جگہ دی، اپنے کاروبار اور اموال میں شریک کیا اور ان کی ضروریات کو اپنی ضروریات پر ترجیح دی۔ اس بے مثال ایثار اور محبت نے ایک ایسا معاشرہ وجود میں لایا جو اخوت، قربانی اور باہمی تعاون کا عملی نمونہ بن گیا۔
مُحَرَّم مسلمانوں کو اسی اخوت کی یاد دلاتا ہے۔ یہ مہینہ امت کو اس حقیقت کا احساس دلاتا ہے کہ اس کی اصل طاقت اس کے اتحاد میں پوشیدہ ہے۔ جب مسلمان اپنے مشترکہ عقائد، اقدار اور مقاصد کو سامنے رکھتے ہیں تو وہ ایک ناقابلِ تسخیر قوت بن جاتے ہیں، لیکن جب وہ معمولی اختلافات، فرقہ وارانہ تعصبات اور سیاسی مفادات کی بنیاد پر تقسیم ہو جاتے ہیں تو ان کی اجتماعی قوت کمزور پڑ جاتی ہے۔ واقعۂ کربلا کا ایک اہم سبق بھی یہی ہے کہ حق اور انصاف کے لیے متحد ہونا اور اصولوں کی حفاظت کے لیے قربانی دینا ایمان کا تقاضا ہے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ کی جدوجہد کسی مخصوص گروہ یا طبقے کے لیے نہیں تھی بلکہ اسلامی اقدار اور امت کی اخلاقی بنیادوں کے تحفظ کے لیے تھی۔ ان کا موقف اس بات کا اعلان تھا کہ مسلمان اپنی روحانی اور اخلاقی شناخت کو کسی بھی قیمت پر قربان نہیں کر سکتے۔
کربلا کا واقعہ اسلامی تاریخ کے ان چند واقعات میں سے ہے جنہوں نے صدیوں بعد بھی انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ رکھا ہے۔ 61 ہجری میں پیش آنے والا یہ واقعہ محض ایک سیاسی تنازع یا اقتدار کی کشمکش نہیں تھا بلکہ اصول اور مفاد، حق اور باطل، انصاف اور جبر کے درمیان ایک عظیم معرکہ تھا۔ امام حسین رضی اللہ عنہ نے اس وقت کے سیاسی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے یہ محسوس کیا کہ خاموشی اسلامی معاشرے میں اخلاقی انحطاط اور ظلم کے فروغ کا سبب بن سکتی ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی جان، اپنے اہلِ خانہ اور اپنے وفادار ساتھیوں کے ساتھ قربانی کا راستہ اختیار کیا، لیکن اصولوں پر سمجھوتہ قبول نہ کیا۔ ان کی یہ قربانی اسلامی تاریخ کا ایک ایسا باب بن گئی جس نے آنے والی نسلوں کو یہ سکھایا کہ حق کی خاطر کھڑے ہونا اور ظلم کے سامنے سر نہ جھکانا ایمان کی معراج ہے۔
امام حسین رضی اللہ عنہ کی شخصیت اسلامی اخوت اور انسانی ہمدردی کا بھی ایک درخشاں نمونہ ہے۔ وہ نبی کریم ﷺ کے محبوب نواسے تھے اور اپنے اخلاق، عبادت، علم اور کردار میں اپنے نانا کی تعلیمات کے امین تھے۔ کربلا کے سفر کے دوران ان کے طرزِ عمل میں شفقت، درگزر، مہربانی اور انسان دوستی نمایاں تھی۔ انہوں نے اپنے مخالفین کے ساتھ بھی انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کیا اور ہر مرحلے پر اسلامی اخلاقیات کی پاسداری کی۔ ان کے ساتھ موجود افراد مختلف قبائل، علاقوں اور معاشرتی طبقات سے تعلق رکھتے تھے، لیکن سب کو ایک چیز نے متحد کر رکھا تھا اور وہ تھی حق کے ساتھ وفاداری۔ اس منظر میں اسلامی اخوت کی وہ عملی تصویر نظر آتی ہے جو رنگ، نسل، زبان اور سماجی حیثیت کی تمام دیواروں کو گرا دیتی ہے۔
مُحَرَّم کا پیغام مسلمانوں کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ امت کی اصل شناخت فرقہ وارانہ وابستگی نہیں بلکہ ایمان ہے۔ افسوس کہ مسلم دنیا میں بعض اوقات تاریخی اختلافات، سیاسی مفادات اور سماجی تعصبات نے ایسے تنازعات کو جنم دیا ہے جنہوں نے امت کی وحدت کو نقصان پہنچایا۔ فرقہ واریت نے نہ صرف مسلمانوں کی اجتماعی قوت کو کمزور کیا بلکہ انہیں باہمی دشمنیوں اور نفرتوں میں بھی مبتلا کر دیا۔ اس پس منظر میں مُحَرَّم مسلمانوں کے لیے ایک موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ کربلا کے حقیقی پیغام کو سمجھیں اور اسے تفرقہ و انتشار کے بجائے اتحاد و اخوت کے فروغ کا ذریعہ بنائیں۔ امام حسین رضی اللہ عنہ کی قربانی کسی اختلاف کو گہرا کرنے کے لیے نہیں بلکہ حق، انصاف اور اخلاقی اقدار کی حفاظت کے لیے تھی۔ اگر مسلمان اس پیغام کو صحیح طور پر سمجھ لیں تو مُحَرَّم ان کے درمیان محبت، احترام اور باہمی اعتماد کے فروغ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
قرآن مجید بار بار مسلمانوں کو اتحاد کی تلقین کرتا ہے اور تفرقے سے بچنے کا حکم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو۔ یہ ہدایت صرف ایک مذہبی نصیحت نہیں بلکہ ایک سماجی اور سیاسی اصول بھی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مسلمان متحد رہے، انہوں نے علم، تہذیب، اخلاق اور ترقی کے میدانوں میں عظیم کارنامے انجام دیے، اور جب بھی وہ باہمی اختلافات میں الجھے، ان کی قوت کمزور ہو گئی۔ مُحَرَّم مسلمانوں کو اس حقیقت کا شعور عطا کرتا ہے کہ اختلافات کے باوجود مشترکہ ایمان اور مشترکہ مقصد انہیں ایک دوسرے کے قریب لا سکتے ہیں۔
اسلامی اخوت کا ایک اہم تقاضا ہمدردی اور سماجی ذمہ داری بھی ہے۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو صرف عبادات تک محدود نہیں رکھتا بلکہ انہیں معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کی خدمت کا بھی پابند بناتا ہے۔ مُحَرَّم کے دوران دنیا بھر میں مسلمان مختلف انداز میں خدمتِ خلق کے کام انجام دیتے ہیں۔ غریبوں کو کھانا کھلانا، مسافروں کی مدد کرنا، اجتماعی دسترخوان قائم کرنا، ضرورت مندوں کی مالی معاونت کرنا اور سماجی بہبود کے منصوبوں میں حصہ لینا اسی جذبۂ اخوت کی عملی شکلیں ہیں۔ یہ اعمال اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ اسلامی اخوت محض زبانی دعووں کا نام نہیں بلکہ دوسروں کی ضروریات کو محسوس کرنے اور ان کے لیے عملی اقدام کرنے کا نام ہے۔
نبی کریم ﷺ نے مومنین کی مثال ایک جسم سے دی ہے جس کا ایک عضو تکلیف میں مبتلا ہو تو پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے۔ یہ حدیث اسلامی اخوت کی جامع ترین تشریح ہے۔ اس کے مطابق مسلمان صرف اپنے ذاتی مفادات کے ذمہ دار نہیں بلکہ پوری امت کے دکھ درد میں شریک ہونے کے پابند ہیں۔ آج دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمان غربت، جنگ، بے گھری، تعلیم کی کمی اور سماجی ناانصافی جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ مُحَرَّم کا پیغام مسلمانوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ ان مسائل کو محض خبروں کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ اپنے بھائیوں اور بہنوں کے درد کو اپنا درد سمجھیں اور اس کے ازالے کے لیے کردار ادا کریں۔
مُحَرَّم کا پیغام صرف مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ اس کی ایک وسیع انسانی جہت بھی ہے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ کی قربانی نے دنیا بھر کے انصاف پسند لوگوں کو متاثر کیا ہے۔ مختلف مذاہب اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے ان کی استقامت، شجاعت اور اصول پسندی کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ ان کی جدوجہد اس بات کی علامت بن چکی ہے کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا اور حق کے لیے قربانی دینا ایک عالمگیر انسانی قدر ہے۔ اسی لیے کربلا کا پیغام مذہبی حدود سے نکل کر پوری انسانیت کے لیے امید، حوصلے اور اخلاقی جرات کی علامت بن گیا ہے۔
عصرِ حاضر میں نوجوان نسل اسلامی اخوت کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ موجودہ دور میں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ نے معلومات کے حصول کو آسان بنا دیا ہے، لیکن اسی کے ساتھ نفرت، تعصب اور غلط فہمیوں کے پھیلاؤ کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ نوجوان اگر مُحَرَّم کے حقیقی پیغام کو سمجھیں اور اسے اپنی زندگیوں میں عملی شکل دیں تو وہ معاشرے میں اتحاد اور ہم آہنگی کے سفیر بن سکتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے مشترکہ اقدار کو فروغ دیں، مکالمے اور برداشت کی ثقافت کو مضبوط کریں اور امام حسین رضی اللہ عنہ کی زندگی سے سچائی، انصاف اور انسانی وقار کے اصول سیکھیں۔
آج کا مسلمان جس دنیا میں زندگی گزار رہا ہے وہاں چیلنجز کی نوعیت بدل چکی ہے۔ غربت، معاشی ناہمواری، ماحولیاتی بحران، تعلیمی پسماندگی، جنگیں اور ثقافتی کشمکش جیسے مسائل پوری انسانیت کو متاثر کر رہے ہیں۔ ان حالات میں مُحَرَّم کا پیغام پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے کیونکہ یہ مسلمانوں کو یاد دلاتا ہے کہ ان کی ذمہ داری صرف اپنے ذاتی معاملات تک محدود نہیں بلکہ انہیں پوری انسانیت کی بھلائی کے لیے کردار ادا کرنا ہے۔ اسلامی اخوت کا تقاضا ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کی مدد کریں، انصاف کا ساتھ دیں، ظلم کی مخالفت کریں اور انسانیت کے دکھ درد میں شریک ہوں۔
مُحَرَّم دراصل ایک آئینہ ہے جس میں مسلمان اپنی اجتماعی اور انفرادی زندگی کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ یہ مہینہ انہیں دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنے تعلقات، اپنے کردار، اپنی ترجیحات اور اپنی ذمہ داریوں پر غور کریں۔ امام حسین رضی اللہ عنہ کی قربانی انہیں یاد دلاتی ہے کہ عزت، دیانت اور حق پسندی وہ اقدار ہیں جن پر کسی بھی حال میں سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح اسلامی اخوت انہیں یہ سکھاتی ہے کہ اختلافات کے باوجود محبت، احترام اور تعاون کے رشتوں کو برقرار رکھنا ایمان کا تقاضا ہے۔
چنانچہ مُحَرَّم صرف تاریخ کا ایک باب نہیں بلکہ ایک زندہ پیغام ہے۔ یہ پیغام مسلمانوں کو ایمان کی تازگی، اخلاقی استقامت، سماجی ذمہ داری، انسانی ہمدردی اور اسلامی اخوت کی طرف بلاتا ہے۔ اگر امت اس مہینے کے حقیقی اسباق کو اپنی زندگیوں میں جگہ دے تو وہ نہ صرف اپنے داخلی اختلافات پر قابو پا سکتی ہے بلکہ دنیا کے سامنے ایک متحد، باوقار اور ہمدرد معاشرے کی مثال بھی پیش کر سکتی ہے۔ مُحَرَّم کی اصل روح یہی ہے کہ مسلمان اپنے مشترکہ ایمان کی بنیاد پر ایک دوسرے کے قریب آئیں، انصاف اور سچائی کو اپنا شعار بنائیں، انسانیت کی خدمت کو اپنا مقصد بنائیں اور اس اخوت کے رشتے کو مضبوط کریں جسے اسلام نے اپنی تہذیب کی بنیاد قرار دیا ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو کربلا کی سرزمین سے آج بھی پوری امت اور پوری انسانیت کو سنائی دیتا ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو ایک زیادہ پرامن، منصفانہ اور متحد دنیا کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

