ڈاکٹر مجیر احمد آزاد کی کتاب ’’تحریر و تفہیم‘‘ : ایک تنقیدی جائزہ – ڈاکٹر احسان عالم
ڈاکٹر احسان عالم
پرنسپل الحراء پبلک اسکول ، دربھنگہ
اردو تنقید و تحقیق کے افق پر’’تحریر و تفہیم‘‘ ڈاکٹر مجیر احمد آزاد کی ایک گراں قدر علمی اور فکری کاوش ہے۔اردو تنقید کے میدان میں کسی بھی کتاب کا’تنقیدی جائزہ‘ دراصل اس مصنف کی فکری صلاحیتوں اور اس کے اسلوب کی پیمائش کا ایک عمل ہوتا ہے۔ ڈاکٹر مجیر احمد آزاد کی کتاب ’’تحریر و تفہیم‘‘ کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ یہ کتاب محض مضامین کا مجموعہ نہیں، بلکہ اردو ادب کے مختلف پہلوؤں پر ایک گہری اور تحقیقی نظر ہے۔ ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے اپنی اس تصنیف میں ادب کے فنی اور فکری لوازمات کو جس مہارت سے پرکھا ہے، وہ ان کی علمی گہرائی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کتاب میں شامل 39 مضامین نثر، نظم، غزل، داستان، ناول، ڈراما، ادبِ اطفال اور علاقائی ادبی تاریخ (خصوصاً متھلا و بہار) کے موضوعات پر محیط ہیں۔ ان کی مطبوعہ کتابیں ’’ڈوم (افسانوی مجموعہ)، اندھیرے کا کرب(افسانوی مجموعہ) ،جھکی ہوئی شاخ(افسانوی مجموعہ)، ٹھہری ہوئی صبح (افسانوی مجموعہ) ، آئو کہانی سنتے ہیں (بچوں کے لئے کہانیاں)، دور دیس میں (افسانوی مجموعہ) ، کلاس ٹاپر (افسانوی مجموعہ)، دربھنگہ میں اردو افسانہ نگاری (تحقیق و تدوین) ، معاصر اردو افسانہ : فکری جہات( ادبی مضامین)، شاداں فاروقی: حیات اور خدمات (تحقیق و انتخاب)، مقالات طرزی( ترتیب) ، منظوم مقالے (ترتیب) ، دارجیلنگ کا سفر (سفرنامہ) ، آستھا اور دوسری کہانیاں (ہندی میں افسانے)، مجیر احمد آزاد کے دیہی افسانے (مرتب : اسد اللہ احمد)،کشمیر کا ادھورا سفر اور زیر نظر کتاب ’’تحریر و تفہیم‘‘ ہیں۔
ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے پیش لفظ میں اپنے تنقیدی و تجزیاتی اصولوں کو واضح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ بے جا فلسفیانہ الجھاؤ اور مصنوعی عبارتوں سے پرہیز کرتے ہیں اور تنقید کے بنیادی اصولوں پر کاربند رہ کر تخلیق کی اصلیت اور فنکار کی کارکردگی کا احتساب کرتے ہیں۔ ان کا تنقیدی رویہ سائنٹفک، متوازن اور متن کی بنیادی روح کو سمجھنے (قاری اساس و تخلیقی تفہیم) پر مبنی ہے۔
کتاب میں شامل چند اہم مضامین کی جھلکیاں حسب ذیل ہیں:
پہلا مضمون ’’رشید النساء کا ناول اور تعلیمِ نسواں‘‘کے عنوان سے ہے ۔مصنف نے اردو کی پہلی خاتون ناول نگار رشید النساء کے 1894ء میں شائع ہونے والے ناول’’اصلاح النسا‘‘ کا تفصیلی عمیق جائزہ لیا ہے۔انیسویں صدی کے مسلم معاشرے میں عورتوں کی ناخواندگی، توہم پرستی، بدعات اور غیر شرعی رسومات کا موازنہ پیش کرتے ہوئے تعلیمِ نسواں کی اہمیت اجاگر کی گئی ہے۔یہ مضمون نہ صرف ادبی ہے بلکہ عملی تاریخ کا احاطہ کرتا ہے کہ کس طرح رشیدن بی بی نے عملی طور پر گھر گھر جا کر لڑکیوں کا اسکول قائم کیا جو آگے چل کر’’بادشاہ نواب رضوی گرلز اسکول/کالج‘‘(پٹنہ) بنا۔
کتاب میں شامل دوسرا مضمون ’’مقدمہ شعر و شاعر : عصری معنویت‘‘ ہے۔ اپنے اس مضمون میں ڈاکٹر مجیر احمد آزاد لکھتے ہیں کہ عالمی ادب کے زیر اثر اردو تنقید نے کئی کروٹیں بدلی ہیں۔ نئے نظریات اور رجحانات کی شمولیت سے اردو تنقید کا دامن وسیع ہوا ہے۔ معتدد دبستان تنقید کی روایت مستحکم ہوچکی ہے۔ اردو تنقید کی اتنی ترقی کے باوجود ’’مقدمہ شعر و شاعری‘‘ کی اہمیت و افادیت ہنوز برقرار ہے۔ اس کی حیثیت اردو تنقید کے بنیادی زینے کی سی ہے۔
ڈاکٹر مجیر احمد آزاد کا ایک مضمون ’’ڈپٹی نذیر احمد کی ناول نگاری‘‘ہے۔ نذیر احمد کے ناولوں مراۃ العروس، بنات النعش، توبۃ النصوح، ابن الوقت، فسانہ مبتلا، ایامی کا محاکمہ کرتے ہوئے داستانوی فلکیات سے نکل کر واقعی زندگی کے مسائل اور اصلاحِ معاشرہ کی طرف اولین سفر کو نشان زد کیا گیا ہے۔ان کے ناول سماجی مسائل پر مبنی موضوعات اور اس کے عمدہ پیش کش کی بناپر نہ صرف پڑھے جاتے ہیں بلکہ قاری کے ذہن پر دیرپا اثرات مرتب کرتے ہیں۔
’’مولانا ابوالکلام آزاد کا اسلوب (غبارِ خاطر کے حوالے سے)‘‘کے عنوان سے ڈاکٹر مجیر احمد آزاد لکھتے ہیں کہ مولانا آزاد نے اپنی تحریر کے ذریعہ علمی حلقے میں نئی توانائی بخشی اور فکر و دمل کے لئے تڑپ کا جواز پیدا کیا ۔ مولانا آزاد کی نثر میں جلال و جمال کے نادر امتزاج، سحر بیانی، شگفتگی اور غبارِ خاطر کے خطوط کی ادبی و فکری سربلندی کو عالمانہ انداز میں تجزیہ کیا گیا ہے۔غبار خاطر سے مولانا آزاد کی شخصیت کے مختلف جہات کا علم ہوتا ہے جو علم و آگہی کے دفتر ہیں ۔ ان کا طرز بیان اردو نثر میں منفرد و ممتا ز حیثیت رکھتا ہے۔
’’مجنوں گورکھپوری – ایک اعتدال پسند ناقد‘‘ کے موضوع سے کتاب تحریر و تفہیم کے مصنف ڈاکٹر مجیر احمد کے ذریعہ ترقی پسند تحریک، مارکسی اور سائنٹفک تنقید کے فریم ورک میں مجنون گورکھپوری کے متوازن تنقیدی رویے کا جائزہ لیا گیا ہے، جو ادب کو’’زندگی کی ترجمانی‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’زندگی کی تنقید‘‘ اور جدلیاتی ارتقا مانتے ہیں۔مجنوں کا نظریہ واضح ہے، وہ توازن پر زور دیتے ہیں ۔ جن کی کمی ان کے ہم عصروں کے یہاں نظریہ عصری آگہی اور سماجی شعور سے بیدار ہوتا ہے۔ سماجی شعور اور عصری آگہی کے بغیر ادب کی ابدیت ممکن نہیں۔ سماجی شعور کے بغیر فنکار صرف ہیولہ تیار کر سکتا ہے اس کو ایک شکل دینے کے لئے اسے سماجی شعور کی ضرورت پڑتی ہے۔
’’محبت کا شاعر: مجروح سلطان پوری‘‘ کے عنوان سے قلم فرسائی کرتے ہوئے ڈاکٹر مجیر احمد لکھتے ہیں کہ مجروح سلطان پوری نے غزل کو غزل کے معنی میں استعمال کیا ۔ ناقدین ادب کی بے اعتنائی سے وہ ہمیشہ نالاں رہے۔ انہوں نے مارکس کے اصلوں کو اپنایا ۔ فیض احمد فیض ، سردار جعفری، کیفی اعظمی وغیرہ ان کے دوستوں میں سے تھے۔ ان کو کئی بار متنازعہ نظموں کی وجہ سے جیل بھی جانا پڑا۔ اس کے انہوں نے شاعری کی یہ راہ نہیں چھوڑی ۔
’’شاداں فاروقی:بحیثیت شاعر‘‘جائزہ لیتے ہوئے ڈاکٹر مجیر احمد آزادلکھتے ہیں کہ شاداں فاروقی کاکلام ظاہری اور معنوی خوبیوں سے آراستہ ہے۔ ان کے یہاں پیچیدہ تراکیب سے گریز ہے۔ طرز ادا سادہ ہے لیکن سادگی کے باوجود دلکش اور دل آویز ہے۔ وہ صاحب دل ہونے کے ساتھ زندہ دل بھی تھے۔ ان کی شاعری کا ایک خاص وصف یہ ہے کہ ہیئت اور فکر دونوں اس طرح ہم آہنگ ہوگئے ہیں کہ غزل کی خوبصورتی دوبالا ہوگئی ہے۔
’’مظہر امام : قاری اساس نقاد‘‘کے عنوان سے مجیر احمد آزاد لکھتے ہیں کہ مظہر امام بحیثیت شاعر ایک چھتناور درخت کی مانند ہیں۔ شعر ی فکر اور فن میں تجرید کے قائل رہنے والے فن کار نے جس طور پر تنقید کو اپنایا اس کی ضرورت 1967ء میں ’’آتی جاتی لہریں‘‘ شائع ہونے کے وقت بھی تھی اور آج بھی ہے۔
’’عبدالمنان طرزی کی اردو نثر‘‘ کے حوالے سے مجیر احمد آزادلکھتے ہیں کہ ایک کامیاب نثر نگار کی طرح انہوں نے الفاظ کو حسن معی کا جادو عطا کیا ہے۔ ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ موضوع نے صورت اختیار کرلی ہو اور محسوسات مشکل سامنے آگئے ہوں۔ ہوں۔ ان کی خامہ فرسائی صحیح معنوں میں نئے طرز کا جواز رکھتی ہے۔
ڈاکٹر مجیر احمد آزاد کا ایک جامع مضمون ’’اویس احمد دوراںؔ۔ شخص اور شاعر‘‘ ہے۔ اویس صاحب کی شخصیت اور شاعری کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ انہوں نے دبے کچلے ، ناداروں، مفلسوں، مظلوموں ، چوٹ زدہ انسانوں ، آہ بھرتی انسانیت، ٹوٹتی قدروں ، نابرابری ، جبریت، دہشت ، جنگ اور دوسرے ہنگامی حالات کے خلاف آواز اٹھائی ۔ احتجاج کی لے ایک الگ طنطنہ کے ساتھ ان کے یہاں جلوہ گر ہے۔ ا س میں بھونڈا پن نہیں ہے بلکہ گہری ایمائیت موجود ہے۔
پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی کی شخصیت اور فن کا جائزہ ادب اطفال کے معتبر فنکار کی حیثیت سے لیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی کہانی کی ابتدا سے ہی بچوں پر ایسا رنگ جماتے ہیں کہ وہ کہانی کی گرفت میں آجاتاہے۔ وہ خوبصورت بیانیہ کے ذریعہ دلوںمیں اترتے ہیں ۔ بعض کہانیاں ایسی ہوتی ہیں کہ ابتدائی حصہ اتنا من موہک ہوتا ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی بچوں کا کہانی کی جانب راغب ہونا فطری ہوتا ہے۔ یہ ہرگانوی صاحب کا کمال فن ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ وہ ادب اطفال کے مقاصد اور پیشکاری سے پوری طرح واقف ہیں اور بڑی بات یہ ہے کہ بچوں کے لئے لکھی جانے والی زبان پر ان کو دسترس حاصل ہے۔ کہیں بھی ثقالت نہیں ، روز مرہ کے الفاظ اور تراشیدہ جملے بھلا بچوں کو کیوں نہ پسند آئے۔
پروفیسر منصور عمر اردو ادب بالخصوص تنقید، تحقیق اور تدریس کی دنیا میں ایک نمایاں اور معتبر نام ہیں ۔ ان کا شمار ان نقادوں میں ہوتا ہے جنہوں نے روایتی نظریات اور جدید تنقیدی زاویوں کا بہترین امتزاج پیش کیا ہے۔ بحیثیت ناقد ان کی خدمات اور تنقیدی بصیرت کا جامع جائزہ ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے لیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ موصوف کے تنقیدی مزاج کو سمجھنے میں ان کی کتاب ’’مابعد جدیدیت :مضمرات اور ممکنات ایک جائزہ‘‘ کافی معاون ہے۔ یہاں ان کا اندازہ تجزیاتی نیز تبصراتی ہے۔ انہوں نے مابعد جدیدیت کے نظریہ سازوں میں سے معتبر نام اور قدآور ناقد پروفیسر وہاب اشرفی کی تصنیف ’’مابعد جدیدیت مضمرات اور ممکنات‘‘ کا جائزہ لیا اورجہاں انہیں بے جا اعتراف و اقرار کی صورت لگی تو غیر جانبداری سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
’’ڈاکٹر ارشد جمیل اوران کی اردو نثر‘‘کے عنوان سے مجیر احمد آزاد لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر ارشد جمیل کا نثری سرمایہ غیر افسانوی نثر پر محیط ہے۔ انہوں نے علمی وادبی مضامین لکھے، تذکرہ نگاری کی، علاقائی تاریخ کے حوالے سے شخصیات کے خاکے وضع کئے اور سوانح نگاری و سفرنامہ نگاری کے ذریعے تشنگان علم وادب کو اپنی تحریروں سے روشناس کرایا۔ ان کی نثر میں معلومات بہم پہنچانے کا احسن انداز موجود ہے۔
’’شعری منصب کا فرض شناس: رفیع الدین راز‘‘ کے حوالے سے مجیر آزاد لکھتے ہیں کہ رفیع الدین کی غزلوں کا مجموعہ ’’اتنی تمازت کس لئے‘‘ کا مطالعہ خوش گوار احساس سے دو چا رکرتا ہے۔ اشعار ٹھہر کر سوچنے کو مجبور کرتے ہیں۔ ان کی شاعری میں موجود ایک دنیا ہمیں احسا س کی لذت سے ہمکنار کرتی ہے جہاں خواب و خیال بھی حقیقت سے کم نہیں ہے۔
’’بی ایس جین جوہرؔکے شعری امتیازات‘‘ پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر آزاد لکھتے ہیں کہ بی ایس جین جوہر کی شاعری ہمہ رنگ ہے۔ فنی طور پر روایت سے بھرپور استفادہ ہے تو فکری طور پر زندگی کے اہم موضوعات پر احاطہ کی کاوش ہے۔ ان کی شاعری ان کے شخصیت کو جاننے کا ذریعہ ہے جو ظاہری دکھاوے ، شہرت، مقبولیت کی چاہ سے پر ے ہے۔
سرزمین دربھنگہ کے ایک معتبر استاذ شاعر رہبر چندن پٹوی ہیں۔ ان کی شاعری کے حوالے سے ڈاکٹر مجیر احمد آزاد لکھتے ہیں کہ رہبر چندن پٹوی کی شناخت استاد شاعر کے طور پرمستحکم ہے۔ وہ بے پناہ تخلیقی قوت کے مالک ہیں۔ انہیں فن شاعری پر قدرت حاصل ہے۔ وہ شاعری کے رموز و نکات سے پوری طرح واقف ہیں اور زبان و بیان پر خلاقانہ قدرت رکھتے ہیں۔ انہوں نے مختلف اصناف سخن میں طبع آزمائی کی ہے ۔
’’مہکتے پھولوں سے گلشن سجا گیا ہے کوئی‘‘کے موضوع سے ڈاکٹر آزاد ڈاکٹر مینا نقوی کی شاعری پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر مینا نقوی کی شاعری تازگیٔ احساس سے عبارت ہے۔ روایت کی پاسداری اور آج کی سنگلاخ زندگی کی سچائیاں اس ہنر مندی سے ان کی شاعری میں یکجا ہیں کہ کچھ کبھی پرایا نہیں لگتا۔ ان کی شاعری میں زندگی کا حسن صرف مسرت کے شادماں لمحے تک قید نہیں ہے۔ بلکہ درد کا جلوہ ان کے تخلیقی وفور کا خاص حصہ بن گیا ہے۔
’’لفظ تم بولتے کیوں ہو؟ تخلیقی تنقید کی تمثال‘‘ کے عنوان سے مجیر احمد آزاد خورشید حیات کے تعلق سے لکھتے ہیں کہ خورشید حیات ایک تخلیقی فن کار ہیں۔ ان کی نثری کاوشوں کے خاص وعام دلدادہ ہیں۔ مشاہیر ادباء نے ان کی تحریری توانائی اور تخلیقی جیوتی کا اعتبار و اقرار کیا ہے۔ یہ ان کی بے پناہ ادبی ذوق و شوق کی کئی مثال ہے کہ ’’لفظ تم بولتے کیوں ہو؟‘‘ میں ان کا قلم رواں دواں گفتگو سرا نظر آرہا ہے۔
’’فلک پہلو میں ‘‘ کے حوالے سے خورشید اکبر کی شاعری پر اپنے ایک عمدہ مضمون میں مجیر احمد آزاد لکھتے ہیں کہ خورشید اکبر کی شاعری میں لفظوں کا انتخاب ایک ایسی دنیا کی تعمیر سے عبارت ہے جہاں احساس کی فراوانی ہے۔ یہ سماعت پر خوشگوار اثرات مرتب کرتی ہے۔ شعر کا مزاج دو امیجری پیش کرتا ہے جس کی حقیقت صدیوں سے چلی آرہی ہماری تہذیب و تاریخ کا حصہ ہے۔
ان مضامین کے علاوہ ڈاکٹر امام اعظم، ڈاکٹر شیخ عقیل ، عطا عابدی، عثمان جوہری، اشرف گل، سلطان شمسی ، عابد مغز، انور آفاقی، راقم الحروف (ڈاکٹر احسان عالم) ، منصور خوشتر اور متھلامیں اردو افسانہ سمت و رفتار وغیرہ مضامین شامل ہیں۔
اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ ڈاکٹر مجیر احمد آزاد کی ’’تحریر و تفہیم‘‘ اردو تنقیدی ادب میں ایک قابلِ قدر اضافہ ہے۔ یہ کتاب ان لوگوں کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے جو اردو ادب کے فہم و فراست کے خواہاں ہیں۔ ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے جس عرق ریزی اور دیانتداری سے ادب کی خدمت کی ہے، اس کا اعتراف اس کتاب کے ہر ورق سے ہوتا ہے۔ یہ تصنیف نہ صرف ان کی ادبی بصیرت کی غماز ہے بلکہ آنے والے وقت میں اردو تنقید کے حوالے سے ایک حوالہ جاتی کتاب کے طور پر بھی یاد رکھی جائے گی۔
٭٭٭
Dr. Ahsan Alam
Ahmad Complex, Al-Hira Public School
Moh: Raham Khan, Darbhanga – 846004
Mob: 9431414808, Email: ahsanalam16@yahoo.com
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

