اسکالر نفیس اکبر بھٹو
ادب اور فکری تاریخ میں "ترجمہ” محض ایک زبان کے الفاظ کو دوسری زبان کے لغات سے بدل دینے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک زبان کی روح اور اس کے افکار کو دوسری زبان کے مزاج میں منتقل کرنے کا ایک خوبصورت فن ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ کوئی بھی فکر اس وقت تک اپنی ہی زبان کے قید خانے میں اسیر رہتی ہے جب تک کوئی مترجم اسے اپنی محبت اور مہارت سے ایک نیا لبادہ نہ اڑائے۔ ترجمہ اصل میں لفظوں کا نہیں، بلکہ جذبوں اور تہذیبوں کا ہوتا ہے، جہاں مترجم اصل مصنف کے اسلوب اور اس کی سوچ کی گہرائی کو برقرار رکھتے ہوئے اسے اپنی زبان کے رگ و پے میں اتارتا ہے۔ یہ عمل صرف لسانی منتقلی نہیں ہے بلکہ ایک گہرا تہذیبی مکالمہ ہے۔
اسی فنی باریکی اور تخلیقی اجتہاد کی وضاحت کرتے ہوئے معروف بھارتی نقاد اور محقق شمس الرحمن فاروقی لکھتے ہیں کہ:
"ادب میں ترجمہ صرف متن کی منتقلی نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک زبان کے مزاج کو دوسری زبان کے مزاج کے سانچے میں ڈھالنے کا ایک تخلیقی اور اجتہادی عمل ہے۔”
فاروقی صاحب کے اس قول سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مترجم کا کام کسی میکانکی مشین کی طرح نہیں ہوتا، بلکہ اسے دونوں زبانوں کے تہذیبی مزاج اور نفسیات کا گہرا ادراک ہونا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ نامور نقاد اور دانشور وارث علوی نے مترجم کے اس منصب کو تخلیق کے برابر قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ:
"ترجمہ کرنا اصل تخلیق سے کم درجہ نہیں رکھتا۔ ایک اچھا مترجم دراصل دوسری زبان کے شاہکار کو اپنی زبان میں دوبارہ جنم دیتا ہے۔”
ان آراء کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک اچھا مترجم دراصل ‘شریکِ تخلیق’ ہوتا ہے، جو اصل مصنف کی روح کے ساتھ اس طرح یکجا ہوتا ہے کہ ترجمہ شدہ متن اجنبی لگنے کے بجائے اپنی ہی زبان کا شاہکار معلوم ہونے لگتا ہے۔
اگر ہم کلاسیکی اور جدید دور کے عالمی افکار پر نظر ڈالیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہر عہد کے مایہ ناز ذہنوں نے ترجمے کو انسانی شعور کی بقا اور علم کی بقائے دوام کے لیے ناگزیر مانا ہے۔ یہ فکری سفر بہت قدیم ہے۔ کلاسیکی عہد میں جہاں رومی خطیب اور مفکر سیسرو کا ماننا تھا کہ:
"میں نے ان کے خطبات کا ترجمہ ایک عام مترجم کی طرح نہیں بلکہ ایک ادیب اور خطیب کی طرح کیا ہے، جہاں الفاظ کی گنتی کے بجائے ان کے وزن اور فکری طاقت کو برقرار رکھا گیا ہے”
وہیں کلاسیکی جرمن روایت کے عظیم شاعر اور مفکر گوئٹے نے بھی ترجمے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے لکھا تھا کہ:
"مترجم کو اپنی زبان کی حدود کو وسیع کرنا چاہیے اور دوسری زبان کے رنگ کو اس طرح اپنانا چاہیے کہ اس کا اپنا ادب ایک نئے تمدنی افق سے روشناس ہو سکے”
گویا قدیم دور سے ہی یہ اصول طے پا گیا تھا کہ ترجمہ اپنی زبان کے دامن کو وسیع کرنے اور اپنے قارئین کو بین الاقوامی فکر سے جوڑنے کا سب سے بڑا وسیلہ ہے۔ اسی فکری تسلسل کو آگے بڑھاتے ہوئے فرانسیسی مفکر ژاک دریدا نے جدید دور میں کتنی خوبصورت بات کہی کہ:
"ترجمہ اصل کتاب پر کوئی احسان نہیں، بلکہ یہ اس کتاب کی اپنی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے لسانی دائرے سے نکل کر دنیا بھر میں وسعت پا سکے۔”
اسی طرح جرمن مفکر مارٹن ہیڈیگر کا بھی ماننا تھا کہ:
"ترجمہ دو زبانوں کے مابین محض لفظی میل جول نہیں ہے، بلکہ یہ ایک سوچ کی دوسری سوچ کے ساتھ نئی ملاقات ہے، جو کسی بھی فلسفے کو ایک نیا افق اور نئی زندگی عطا کرتی ہے۔”
اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اگر دنیا کی عظیم کتابوں کے ترجمے نہ کیے جاتے، تو انسانیت کا آدھے سے زیادہ فکری سرمایہ اپنی ہی جغرافیائی حدود میں دم توڑ دیتا۔ مترجمین کی اسی اہمیت پر بات کرتے ہوئے مشہور برطانوی مصنفہ ورجینیا وولف نے انہیں انسانیت کا گمنام محسن قرار دیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ
"مترجمین وہ گمنام ہیرو ہیں جو ہمیں ان جزیروں کی سیر کرواتے ہیں جن کے ساحلوں پر ہم خود کبھی قدم نہیں رکھ سکتے تھے، ان کے بغیر علم کا سمندر ناقابلِ عبور رہتا۔”
تاریخ گواہ ہے کہ جب ارسطو کی اخلاقیات اور افلاطون کی الجمہوریہ جیسی عظیم کتب اپنے اصل یونانی قالب سے نکل کر دوسری زبانوں میں منتقل ہوئیں، یا جب مارکس اوریلیئس کی لافانی فکری یادداشتیں عالمی تراجم کا حصہ بنیں، تو انہوں نے پوری انسانیت کے اخلاقی اور نفسیاتی شعور کا دھارا بدل دیا۔ علم کا یہ پھیلاؤ قوموں کی زندگی کے لیے آبِ حیات کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس علمی سچائی کی تائید کرتے ہوئے نامور پاکستانی نقاد و مصنف ڈاکٹر سلیم اختر رقم طراز ہیں:
"علم کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور اس سرحد کو توڑنے کا نام ترجمہ ہے۔ دنیا کی عظیم قومیں وہی بنیں جنہوں نے دوسری زبانوں کے علوم کو اپنی زبان میں ڈھالا۔”
اس کے برعکس، جو قومیں ترجمے کی اہمیت سے منہ موڑ لیتی ہیں، وہ فکری تنہائی اور جمود کا شکار ہو جاتی ہیں۔ تراجم کے فقدان کو قومی ذہن کی پسماندگی سے تعبیر کرتے ہوئے ممتاز محقق اور مفکر ڈاکٹر جمیل جالبی یوں خبردار کرتے ہیں:
"جس قوم کے پاس اعلیٰ درجے کے تراجم کا ذخیرہ نہیں، اس کا ذہنی ارتقا رک جاتا ہے۔ ترجمہ قومی ذہن کو وسعت دینے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔”
جالبی صاحب کا یہ اشارہ دراصل ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے کہ اگر ہمیں اپنے قومی اور ذہنی شعور کا ارتقا کرنا ہے، تو ہمیں عالمی ادب اور فلسفے کو اپنی زبان میں لانا ہی ہوگا۔ ہسپانوی فلسفی ہوشے اورتیگا نے اسی لیے ترجمے کو ایک ایسی مہم جوئی کہا ہے کہ:
"ترجمہ ایک ایسی مہم جوئی ہے جو بظاہر ناممکن لگتی ہے، لیکن یہی وہ عمل ہے جو انسان کو اس کی لسانی اور فکری تنہائی کے قید خانے سے نکال کر عالمی برادری کا حصہ بناتا ہے۔”
یہی وجہ ہے کہ مشہور اطالوی ماہرِ لسانیات اور ناول نگار امبرٹو ایکو نے یہاں تک کہہ دیا کہ دنیا کو جوڑنے والی اصل طاقت ترجمہ ہی ہے، ان کے بقول:
"ترجمہ صرف الفاظ کا تبادلہ نہیں، بلکہ یہ ایک تہذیب کو دوسری تہذیب کی زبان میں ‘دوباره تخلیق’ کرنے کا نام ہے۔ دنیا کی اصل زبان ترجمہ ہی ہے۔”
ترجمہ نگاری کی اسی اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے جب ہم کسی ایسی بیرونی فکری کتاب کا تصور کرتے ہیں جس نے اپنی زبان میں تو دھوم مچائی، لیکن دوسری زبانوں کے قارئین تک پہنچنے کے لیے اسے ایک مخلص مترجم کی ضرورت تھی، تو ہمارے سامنے فلسفے اور نفسیات کی دنیا کا ایک لافانی شاہکار آتا ہے۔ یہ شاہکار بیسویں صدی کے آغاز میں ابھرنے والے مایہ ناز برطانوی مفکر اور مصنف جیمز ایلن (1864–1912) کی تحریر ہے، جن کا نام فکری افق پر ایک روشن ستارے کی طرح چمکتا ہوا نظر آتا ہے۔
جیمز ایلن محض ایک مصنف نہیں تھے، بلکہ وہ انسانی نفس کے نباض اور فکری تحریک (Self-Help Movement) کے اولین معماروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا اسلوبِ تحریر انتہائی سادہ، دلنشین، مگر گہرا اور جادوئی ہے، جو قاری کو مابعدالطبیعاتی الجھنوں میں ڈالنے کے بجائے سیدھی اور سچی عملی حکمت سکھاتا ہے۔ انہوں نے اپنی لافانی اور شاہکار کتاب "As a Man Thinketh” کے ذریعے انسانی سوچ کی لاامتناہی طاقت، خود اختیاری اور کردار سازی کے ایسے بنیادی اصول پیش کیے جنہوں نے جدید نفسیات کے دھارے کو بدل کر رکھ دیا۔ ان کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ انسان کا ذہن ایک باغ کی مانند ہے اور انسان خود اس کا مالی ہے؛ وہ جیسے افکار کی آبیاری کرے گا، اس کی شخصیت، ماحول اور تقدیر ویسے ہی قالب میں ڈھل جائے گی۔ ان کی تحریروں کا یہ جادو آج ایک صدی گزرنے کے بعد بھی برقرار ہے اور وہ انسانی ذات کی اندرونی ترقی اور روحانی رہنمائی کے لیے ایک مشعلِ راہ کا درجہ رکھتی ہے۔
جیمز ایلن کی اسی فکری عظمت اور ان کی اس منفرد تحریر کی تعریف کرتے ہوئے بیسویں صدی کے عظیم امریکی خطیب اور مصنف ڈیل کارنیگی (Dale Carnegie) لکھتے ہیں:
"جیمز ایلن کی تحریریں الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ذہنی انقلاب ہیں۔ خاص طور پر ان کی کتاب ‘As a Man Thinketh’ انسانی تاریخ کی ان چند گنتی کی کتابوں میں سے ہے جو انسان کو اپنی تقدیر کا خود مالک بننا سکھاتی ہے۔”
کارنیگی کے اس اعتراف سے اندازہ ہوتا ہے کہ جیمز ایلن نے فلسفے کو کتابوں سے نکال کر انسانی رویوں پر نافذ کر دیا تھا۔ اسی طرح جدید دور کے مایہ ناز فکری معمار اور فلسفی ڈاکٹر وین ڈائر (Dr. Wayne Dyer) اس کتاب کے اسلوب اور گہرائی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
"میں نے اپنی زندگی میں جیمز ایلن کی کتاب ‘As a Man Thinketh’ کو بیس بار سے زیادہ پڑھا ہے۔ یہ مختصر سی کتاب اپنے اندر وہ ابدی سچائیاں چھپائے ہوئے ہے جو انسان کو ذہنی غلامی سے نجات دلا کر حقیقی خود شناسی کے راستے پر گامزن کرتی ہیں۔”
جیمز ایلن کا یہی وہ اسلوب تھا جو ظاهری طور پر انتہائی سہل اور باطن میں سمندر کی طرح گہرا تھا۔ اسی گہرائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مشہور برطانوی ادبی نقاد اور سوانح نگار آرتھر رینسم (Arthur Ransome) نے جیمز ایلن کی وفات پر ان کی فکری و ادبی خدمات کو یوں سراہا تھا:
"جیمز ایلن کے پاس ایک ایسا قلم تھا جو سیدھا روح پر دستک دیتا تھا۔ ان کی کتاب ‘As a Man Thinketh’ علمِ نفس کا ایک ایسا شاہکار ہے جس نے فلسفے کو عام انسان کے لیے قابلِ عمل اور عام فہم بنا دیا۔”
اب یہاں آ کر ترجمے کی وہی ضرورت اور اہمیت دوبارہ زندہ ہوتی ہے جس کا ذکر ہم نے اوپر کیا تھا؛ کیونکہ کسی ایسی کتاب کو اردو کے مزاج میں منتقل کرنا جو اپنے اندر اتنے گہرے فلسفیانہ مفاہیم, ادبی چاشنی اور نفسیاتی باریکیاں چھپائے ہوئے ہو، ہر تخلیق کار کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ اس کٹھن مہم جوئی کا بیڑا نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوئجز (NUML)، اسلام آباد میں اردو ادب کے استاد، معروف شاعر، افسانہ نگار اور ناول نگار عثمان غنی رعد نے اٹھایا ہے، جن کا شمار اردو کے ان سنجیدہ اور گہرے تخلیق کاروں میں ہوتا ہے جن کی نظر زبان و ادب کے تنقیدی نظریات اور تقابلی مطالعہ پر بہت گہری ہے۔ عثمان غنی رعد اپنے ناول "چراغ ساز” (2023ء) اور دیگر فکری شہ پاروں جیسے "لوٹ آؤ” (2013ء)، "کتستان” (2014ء) اور "انسانے” (2017ء) کے ذریعے ادبی حلقوں میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں۔
جب انہوں نے جیمز ایلن کی اس مایہ ناز کتاب کو اپنے اردو قالب میں ڈھالا، تو سب سے پہلا تخلیقی اور اجتہادی کمال اس کے عنوان کے انتخاب میں دکھایا۔ یہ عنوان "جیسا گمان، ویسا انسان” دراصل اس مشہور حدیثِ قدسی کی گہری عکاسی کرتا ہے جس میں اللہ فرماتا ہے: "أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي” (میں اپنے بندے کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں جیسا وہ مجھ سے گمان رکھتا ہے)۔ اس ایک عنوان کے انتخاب سے مترجم نے مغربی مابعد الطبیعات (Western Metaphysics) اور جدید نفسیات کے نظریات کو مشرق کے روحانی اور اسلامی تصورِ گمان کے اتنے قریب لا کھڑا کیا ہے کہ یہ کتاب ترجمہ ہونے کے باوجود اردو کے اپنے تہذیبی مزاج کا حصہ محسوس ہوتی ہے۔
کتاب کے ابتدائی صفحات کا جائزہ لیا جائے تو مترجم نے شروعات میں ہی قارئین کو فکرِ اقبال سے جوڑنے کی ایک انتہائی خوبصورت اور معنویت سے بھرپور کوشش کی ہے۔ کتاب کے بالکل پہلے صفحے پر علامہ محمد اقبال کا مصرع "رہنے دے جستجو میں خیالِ بلند کو” درج ہے، جو صرف ایک شعری ذوق کی عکاسی نہیں کرتا بلکہ جیمز ایلن کی کتاب کے بنیادی فلسفے، یعنی انسان کی فکر اور خیالات کی عظمت سے گہری ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔ علامہ اقبال کے ہاں بھی بلند خیالی اور خودی کی بیداری ہی انسان کو رفعت بخشتی ہے، اور مترجم نے اس مصرعے کے ذریعے اردو قارئین کو پہلے ہی قدم پر کتاب کے اصل موضوع کی طرف متوجہ کر دیا ہے۔
اس فکری انتساب کے فوراً بعد اگلے صفحے پر جیمز ایلن کی پیش لفظ نظم کا انگریزی متن اور اس کے نیچے مترجم عثمان غنی صاحب کا خوبصورت منظوم ترجمہ دیا گیا ہے۔ جیمز ایلن کی اصل نظم "Mind is the Master power that moulds and makes” کا محض نثری ترجمہ کرنے کے بجائے مترجم نے اسے منظوم روپ دیا ہے اور اردو شاعری کے سانچے میں ڈھالا ہے۔ مترجم لکھتے ہیں:
ذہن ہے اک قوتِ اعلیٰ بناتا ہے جہاں
آدمی خود ذہن ہے سیلِ رواں تا بہ گراں
فکر کو اوزار کر کے ڈھالتا ہے آرزو
رنج و راحت دونوں اس کے ذہن میں پاتے نمو
ہو کے تنہا جو یہ سوچے، بن حقیقت ہو عیاں
آدمی کا ذہن ہی ہے پرتوِ کون و مکاں
یہ منظوم ترجمہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ مترجم نے نہ صرف لفظی معنی کو منتقل کیا ہے بلکہ اصل انگریزی نظم میں موجود روانی، وزن اور آہنگ کو بھی اردو میں برقرار رکھا ہے۔
کتاب کی فہرستِ ابواب کا اگر اصل انگریزی متن سے موازنہ کیا جائے تو عثمان غنی صاحب کا اسلوبِ ترجمہ بے حد سلیس، سادہ اور اصل کے عین مطابق نظر آتا ہے۔ پہلے باب کا عنوان انہوں نے "خیالات اور کردار” رکھا ہے جو اصل انگریزی عنوان "Thought and Character” کا سلیس متبادل ہے۔ دوسرے باب "Effect of Thought on Circumstances” کے لیے "خیالات کے حالات پر اثرات”، تیسرے باب "Effect of Thought on Health and the Body” کے لیے "خیالات کے جسم و صحت پر اثرات” اور چوتھے باب "Thought and Purpose” کے لیے "خیالات اور مقصد” کے عناوین اختیار کیے گئے ہیں جو متن کی روح کو مکمل طور پر برقرار رکھتے ہیں۔ پانچویں باب "The Thought-Factor in Achievement” کا لفظی ترجمہ کرنے کے بجائے مترجم نے "کامیابی میں خیالات کا کردار” لکھا ہے، جس سے اردو زبان کا فطری مزاج قائم رہتا ہے۔ چھٹے باب "Visions and Ideals” کے لیے "نقطہ ہائے نظر اور خواب” کی تعبیر اختیار کی گئی ہے، جبکہ ساتویں اور آخری باب "Serenity” کے لیے، جس کے معنی قلبی سکون اور پرسکون ذہن کے ہیں، مترجم نے قرآنی و عربی اصطلاح "طمانیت” کا انتہائی جامع انتخاب کیا ہے۔
فہرست کے بعد کتاب کے اگلے حصے میں مترجم کا پیشِ لفظ "حرفے چند از مترجم” شامل ہے، جس میں عثمان غنی صاحب نہایت عاجزی سے لکھتے ہیں کہ انہوں نے یہ ترجمہ کسی لمبی چوڑی وجہ یا عظیم مقصد کے تحت نہیں بلکہ دل کے قریب پانے کی وجہ سے کیا، جو انہیں ان کے دوست ہارون عارف نے تحفتاً دی تھی۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس کتاب کے ساتوں ابواب اپنے اندر ایک مکمل نظریے کے حامل ہیں اور ہر انسان کو اسے ایک بار ضرور پڑھنا چاہیے تاکہ خیالات کی تنظیم و تربیت ہو سکے، کیونکہ ذہن کا کام سوچنا ہے اور یہ کتاب انسان کو اپنے، اپنے اقربا اور معاشرے کے لیے سودمند بنانے میں مدد دیتی ہے۔ اس ترجمے کو نکھارنے اور رموزِ ترجمہ نگاری کی تفہیم کے لیے وہ جناب ادریس آزاد، ڈاکٹر الیاس بابر اعوان، جناب رفاقت قاضی اور جناب علی رضا کے ممنون نظر آتے ہیں۔
اس کے فوراً بعد مصنف جیمز ایلن کا اپنا پیشِ لفظ "پیشِ لفظ از مصنف” شامل کیا گیا ہے، جس میں وہ واضح کرتے ہیں کہ غور و فکر اور تجربے کی روشنی میں لکھا گیا یہ چھوٹا سا کتابچہ خیالات کی طاقت پر ایک جامع یا مفصل تحریر کے طور پر پیش نہیں کیا گیا، بلکہ اس کا مقصد خواتین و حضرات کو اس حقیقت کی طرف راغب کرنا ہے کہ وہ اپنے منتخب کردہ خیالات سے اپنے وجود کو تعمیر کرتے ہیں۔ ذہن ہی وہ اصل تخلیق کار ہے جو کردار کی داخلی سوچوں کے ذریعے بیرونی حالات کو ترتیب دیتا ہے، اور جو لوگ جہالت اور دکھ میں جی رہے ہیں، وہ اس کتاب کی بدولت روشنی اور خوشی سے جینا سیکھ سکیں گے۔ یوں یہ ابتدائی صفحات، مترجم کا موقف اور مصنف کا اپنا پیشِ لفظ مل کر قاری کو کتاب کے اصل فکری سفر کے لیے مکمل طور پر تیار کر دیتے ہیں۔
کتاب کے پہلے باب "کردار اور خیالات” کا بنظرِ غائر جائزہ لیتے ہوئے ایک قاری اور نقاد کے طور پر جو چیز سب سے پہلے توجہ کھینچتی ہے، وہ مترجم عثمان غنی صاحب کا اسلوب اور زبان کے انتخاب میں ان کا جمالیاتی ذوق ہے۔ وہ جیمز ایلن کی باریک فکری باتوں کو عام فہم اور روانی کے ساتھ اردو کا پیراہن پہنانے میں تو کافی حد تک کامیاب نظر آتے ہیں اور انھوں نے اصل متن کی روح کو قابو کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے، لیکن تنقیدی نظر سے دیکھا جائے تو کہیں کہیں محض ترجمے کی قید کی وجہ سے زبان کی خوبصورتی، بیان کی چاشنی اور لفظوں کے انتخاب میں وہ اثر پذیری قائم نہیں رہ سکی۔
اگر اصل متن اور ترجمے کا آمنے سامنے موازنہ کیا جائے تو چند مقامات پر الفاظ کے الٹ پھیر اور بہتر انتخاب سے بات میں مزید نکھار اور علمی وزن لایا جا سکتا تھا۔ مثال کے طور پر، جیمز ایلن جب انسان کے داخلی سفر کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "Man is the master of thought, the moulder of character, and the maker and shaper of condition, environment, and destiny” تو عثمان غنی صاحب نے اس کا ترجمہ کرتے وقت انسان کو "خیالات کا مالک” اور "اپنی تقدیر کا خالق” لکھا ہے۔ اگرچہ یہ ترجمہ مفہوم کو بخوبی واضح کرتا ہے، لیکن لفظ moulder کے لیے "ڈھالنے والا” اور shaper کے لیے "تراشنے والا” جیسے الفاظ استعمال کیے جاتے، تو اردو کی محاوراتی چاشنی اور مصنف کی تمثیلی تصویر کشی زیادہ نکھر کر سامنے آتی۔ اسی طرح جہاں متن میں subconscious کا ذکر آتا ہے، وہاں مترجم نے "لا شعوری” کا لفظ برتا ہے۔ زبان و بیان کے لحاظ سے یہ بالکل درست ہے، مگر نفسیاتی و فکری اصطلاحات کے تناظر میں اگر یہاں "تحت الشعور” یا "نہاں خانۂ ذہن” کا انتخاب کیا جاتا تو عبارت میں زیادہ علمی اور ادبی وزن پیدا ہو جاتا۔
ترجمے کی قید اور جملوں کی ساخت بعض اوقات عبارت کی روانی کو بھی متاثر کرتی ہے۔ جیمز ایلن کی ایک بہت ہی خوبصورت اور مشہور کوٹیشن ہے: "As the plant springs from, and could not be without, the seed, so every act of a man springs from his hidden seeds of thought, and could not have appeared without them.” مترجم نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے: "جیسے ایک پودا بیج سے پیدا ہوتا ہے اور اس کے بغیر عالمِ وجود میں نہیں آ سکتا، اسی طرح انسان کا ہر عملِ خیالات کے پیچھے چھپے ہوئے بیج سے جنم لیتا ہے…”۔ یہاں مفہوم تو بالکل برقرار ہے، لیکن "عملِ خیالات کے پیچھے چھپے ہوئے بیج” کی ترکیب تھوڑی الجھی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ اگر اس کا ترجمہ یوں کیا جاتا: "جیسے کوئی پودا بیج کے بغیر وجود میں نہیں آ سکتا، بالکل ایسے ہی انسان کا ہر عمل اس کے ذہن میں چھپے خیالات کے بیج ہی سے پھوٹتا ہے” تو یہ قاری کے لیے پڑھنے میں زیادہ رواں، سلیس اور اثر انگیز ثابت ہوتا۔
اسی طرح ایک اور مقام پر جب اصل متن میں کہا جاتا ہے: "Only by much searching and mining are gold and diamonds obtained, and man can find every truth connected with his being if he will dig deep into the mine of his soul.” تو مترجم اس کا ترجمہ کرتے ہیں: "ہر سچائی کو پانے کے لیے بہت تلاش اور کوشش درکار ہوتی ہے بالکل اسی طرح جیسے قیمتی دھاتیں اور جواہرات زمین سے نکالے جاتے ہیں۔ انسان اپنی روح کے خزانوں کو اسی وقت دریافت کر سکتا ہے جب وہ اپنے خیالات کا باریک بینی سے تجزیہ کرے۔” یہاں مترجم نے کم سے کم الفاظ میں سمیٹنے اور سادہ انداز اپنائے رکھنے کی کوشش کی ہے تاکہ قاری پر مصنف کی گرفت قائم رہے، تاہم اصل متن میں جیمز ایلن نے زبان کی جو چاشنی، سادگی اور تاثر قائم کیا تھا، وہ ترجمے کی پابندی کے باعث کچھ حد تک پھیکا پڑ جاتا ہے، حالانکہ تحریر میں جان مناسب اور بہترین الفاظ کے انتخاب ہی سے پڑتی ہے۔
ان تمام تر تنقیدی و اسلوبیاتی پہلوؤں کا احاطہ کرنے کے بعد اگر اس پورے باب کا فکری خلاصہ اور نچوڑ نکالا جائے، تو جیمز ایلن اور مترجم عثمان غنی دونوں کا حتمی پیغام بالکل واضح اور مؤثر ہے۔ اس باب کا اصل لبِ لباب یہ ہے کہ انسان اپنے خیالات کا مجموعہ اور اپنے کردار کا خود معمار ہے۔ ہماری خوشی، غم، کامیابی یا ناکامی جیسے نتائج خارجی حالات کے مرہونِ منت نہیں بلکہ ہماری اپنی داخلی سوچوں کی پیداوار ہیں۔ انسان کے خیالات ہی اس کے کردار کو مثبت یا منفی رنگ دیتے ہیں، اور اس خیال و کردار کے بندھن کو باب میں انتہائی خوبصورت مثالوں سے واضح کیا گیا ہے۔
اس باب کو پڑھتے ہوئے یہی احساس ہوتا ہے کہ چند مقامات پر اسلوبیاتی جھول کے باوجود عثمان غنی صاحب نے خشک لفظی ترجمے کے راستے کو چھوڑ کر با محاورہ اور فصیح زبان اختیار کرنے کی بہترین کوشش کی ہے۔ وہ عام اردو قاری کو جیمز ایلن کے فلسفۂ فکر سے بلا واسطہ جوڑنے میں کامیاب رہے ہیں اور قاری پر یہ حقیقت روشن کر دیتے ہیں کہ اگر انسان اپنے خیالات کی آبیاری درست سمت میں کرے، تو وہ نہ صرف اپنے کردار کو رفعت دے سکتا ہے بلکہ اپنی تقدیر کا بااختیار ناخدا بھی بن سکتا ہے۔
کتاب کے دوسرے باب "خیالات کے حالات پر اثرات” کا بنظرِ غائر مطالعہ کرنے پر یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ مترجم ڈاکٹر عثمان غنی صاحب نے جیمز ایلن کے فلسفۂ خود شناسی اور خارجی حالات و داخلی افکار کے تعامل کو اردو میں منتقل کرنے کے لیے سنجیدہ علمی کاوش کی ہے۔ اس باب میں مصنف نے یہ بنیادی نظریہ قائم کیا ہے کہ انسان کے خارجی حالات محض اتفاق نہیں بلکہ اس کے اندرونی خیالات کا پرتو اور عکس ہوتے ہیں۔ مترجم نے اس فکر کو عام فہم بنانے میں کافی حد تک سلیس زبان برتی ہے، تاہم ایک نقاد اور قاری کے نقطۂ نظر سے اسلوبیاتی، نحوی اور اصطلاحی بنیادوں پر اس ترجمے میں تحسین اور اصلاح دونوں کے پہلو موجود ہیں۔
اس باب کی شروعات میں مترجم نے جیمز ایلن کی مشہورِ زمانہ "باغ اور مالی” والی تمثیل کو بہت خوبصورت، روانی اور محاوراتی اردو کا پیراہن پہنایا ہے، جہاں وہ انسانی ذہن کی تشبیہ ایک باغ سے دیتے ہیں جسے یا تو سمجھداری سے سنوارا جائے یا بے پروائی کے ساتھ چھوڑ دیا جائے۔ یہاں مترجم کا انتخابِ الفاظ، جیسے باغ کو سنوارنا، خودرو جڑی بوٹیاں اور مالی کی دیکھ بھال، اردو زبان کے مزاج کے بالکل عین مطابق ہے اور قاری کو فکر سے جوڑنے میں مکمل کامیاب رہتا ہے۔ اسی طرح جب مترجم افکار کے عمل اور ردِعمل کا موازنہ گندم و بوٹیوں کی فصل سے کرتے ہیں، تو بیان کا تسلسل اور عام فہم انداز قاری پر اصل مضمون واضح کر دیتا ہے۔
تاہم، جہاں مترجم نے مفہوم کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے، وہاں چند مقامات پر ترجمے کی لفظی قید اور جملوں کی ناہمواری سے اردو کی چاشنی متاثر ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر عبارت میں جب یہ لکھا جاتا ہے کہ "انسان کی زندگی کی ترتیب میں کوئی عنصر محض اتفاقیہ نہیں ہوتا” تو لفظ "اتفاقیہ” کے بجائے اگر "محض اتفاق” یا "تصادف” استعمال کیا جاتا تو جملے کی روانی بہتر ہو جاتی۔ اسی طرح بعض مقامات پر جملوں کی بناوٹ میں ناہمواری بھی دکھائی دیتی ہے، جیسے "انسان صرف چاہنے سے کی چیز نہیں پا سکتا” کے بجائے اگر "انسان صرف چاہنے سے کوئی چیز حاصل نہیں کر سکتا” لکھا جاتا تو قاری کا تسلسل برقرار رہتا۔ مزید برآں، متن کے بیچ میں انگریزی اصطلاح Employer کا بریکٹ میں اندراج ایک ادبی و فکری کتاب کے شایانِ شان نہیں لگتا، یہاں بریکٹ کے بغیر "کارفرما” یا "مالکِ روزگار” کا لفظ استعمال کرنا زیادہ باوقار ہوتا۔
باب کے اختتام پر جیمز ایلن کی نظم کا اردو منظوم ترجمہ بھی شامل کیا گیا ہے، جس میں یہ پیغام دیا گیا ہے کہ انسان کا ارادہ ہی اس کی تقدیر کا حتمی فیصلہ کرتا ہے۔ اگرچہ عروض اور قافیہ بندی کے لحاظ سے نظم کا ترجمہ تھوڑا ناہموار معلوم ہوتا ہے، لیکن بصیرت اور پیغام کے نقطۂ نظر سے یہ منظوم ٹکڑا باب کے اختتام کو ایک مؤثر اور دلنشین تاثر فراہم کرتا ہے۔
اگر اس پورے باب کا فکری خلاصہ اور حاصلِ کلام نکالا جائے تو مصنف اور مترجم یہ حقیقت روشن کرتے ہیں کہ انسان اپنے حالات کا خود ذمہ دار ہے اور حالات انسان کو نہیں بناتے بلکہ اس کے اندرونی سچ کو ظاہر کرتے ہیں۔ کائنات کا نظام کسی ظلم پر نہیں بلکہ علت و معلول اور عدلِ الٰہی پر قائم ہے، جہاں پاکیزہ سوچ کا نتیجہ بالآخر سکون اور برکت ہی کی صورت میں نکلتا ہے۔
کتاب کے تیسرے باب "خیالات کے جسم و صحت پر اثرات” کا جائزہ لیتے ہوئے مترجم عثمان غنی صاحب کی اس کاوش پر نظر پڑتی ہے جہاں انہوں نے جیمز ایلن کے جسمانی صحت اور ذہنی افکار کے باہمی تعلق کے فلسفے کو اردو میں ڈھالا ہے۔ اس باب کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ جسم دراصل ذہن کا خادم ہے اور انسان کی فکر، خواہ وہ ارادی ہو یا غیر ارادی، اس کی صحت، شادابی یا بیماری پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ مترجم نے اس پیغام کو عام فہم اور روانی کے ساتھ قارئین تک پہنچانے کی بہترین کوشش کی ہے، لیکن ایک ادبی اور تنقیدی زاویے سے جائزہ لیا جائے تو یہاں بھی زبان کی ساخت اور متبادل الفاظ کے حوالے سے کچھ باتیں قابلِ توجہ ہیں۔
باب کے ابتدائی حصوں میں مترجم کا اسلوب کافی رواں اور اثر انگیز ہے، خاص طور پر جہاں وہ یہ واضح کرتے ہیں کہ خوف، اضطراب اور ناپاک خیالات کس طرح انسانی اعصابی نظام کو فلج کر دیتے ہیں اور خوشگوار سوچیں کس طرح جسم کو توانائی فراہم کرتی ہیں۔ "جسم ایک حساس اور لچک دار آلہ ہے” جیسی تمثیل کا ترجمہ اردو میں بہت خوبصورتی سے کھپتا ہے۔ اسی طرح صفحہ ۲۷ پر جب مترجم یہ لکھتے ہیں کہ "اگر چشمہ صاف ہو تو سب کچھ صاف ہوگا” تو تمثیلی تاثر قاری پر فوراً واضح ہو جاتا ہے۔
تنقیدی نظر سے دیکھا جائے تو چند مقامات پر الفاظ کا انتخاب مزید شائستہ اور باوقار بنایا جا سکتا تھا۔ مثال کے طور پر، صفحہ ۲۶ اور ۲۷ پر "گندے خیالات” اور "گندا خون” جیسے الفاظ کا بار بار استعمال سلیس تو ہے، لیکن فکری و فلسفیانہ کتاب کے تحریری معیار میں یہ تھوڑا عامیانہ معلوم ہوتا ہے۔ اگر ان کی جگہ "آلودہ افکار”، "فاسد خیالات” یا "غیر متوازن سوچ” کے الفاظ برتے جاتے تو عبارت میں زیادہ علمی گہرائی اور شائستگی پیدا ہو جاتی۔
اسی طرح صفحہ ۲۷ پر ایک جگہ لکھا ہے: "کھٹا چہرہ قسمت کی مہربانی سے نہیں، بلکہ ترش خیالات کی وجہ سے بنتا ہے”۔ اگرچہ یہ ترجمہ اصل مفہوم کو ادا کر دیتا ہے، لیکن "کھٹا چہرہ” کے بجائے اگر "مضمحل چہرہ” یا "بجھا ہوا چہرہ” لکھا جاتا تو محاوراتی انداز زیادہ نکھر کر سامنے آتا۔ مزید برآں، صفحہ ۲۸ پر عمر رسیدہ افراد کے چہروں کی جھریوں کی تشریح کرتے ہوئے "کچھ جذباتِ خواہشات کے ذریعے کندہ ہوئی ہیں” جیسی ساخت تھوڑی الجھی ہوئی معلوم ہوتی ہے، جسے "خواہشات کی کشمکش سے ابھری ہیں” کے طور پر زیادہ سلیس انداز میں بیان کیا جا سکتا تھا۔
باب کے آخری حصے میں مترجم نے جیمز ایلن کے اس فکری نچوڑ کو بہت عمدگی سے سمیٹا ہے کہ جسمانی بیماریوں کو دور کرنے کے لیے خوشگوار اور پاکیزہ افکار سے بہتر کوئی معالج یا دوا نہیں ہے۔ بدگوئی، کینہ، بغض اور حسد انسان کے ذہن کو مقید کر دیتے ہیں، جبکہ خیر خواہی، صلہ رحمی اور بے غرض خیالات انسان کی روح اور جسم دونوں کو لامتناہی سکون اور خوشحالی عطا کرتے ہیں۔
مجموعی طور پر، یہ باب سلیس اور با محاورہ انداز میں قارئین کو یہ سمجھانے میں کامیاب رہتا ہے کہ جسمانی صحت کی حقیقی چابی انسان کے اپنے ذہنی رویوں اور خیالات میں پنہاں ہے۔ مترجم نے خشک طبی یا فلسفیانہ مفاہیم کو سادہ زبان میں بیان کر کے عام اردو قاری کے لیے اس باب کی افادیت کو دوچند کر دیا ہے۔
کتاب کے چوتھے باب "خیالات اور مقصد” کے مطالعے سے یہ بات پوری طرح واضح ہوتی ہے کہ مترجم ڈاکٹر عثمان غنی صاحب نے جیمز ایلن کے فکر انگیز نظریۂ عمل اور عزمِ مصمم کو اردو کا پیراہن عطا کرنے میں اہم کاوش کی ہے۔ اس باب کا مرکزی خیال یہ ہے کہ جب تک فکر کو کسی متعین مقصد کے ساتھ منسلک نہ کیا جائے، تب تک کوئی بھی اعلیٰ یا پائیدار کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔ بے مقصدی زندگی کو منتشر اور خوف و وہم کا شکار بنا دیتی ہے، جبکہ ایک واضح اور جائز مقصد انسان کے بکھرے ہوئے افکار کو مجتمع کر کے اسے منزل کی سمت گامزن کرتا ہے۔ مترجم نے اس پیغام کو عام فہم اور مؤثر انداز میں پیش کیا ہے، تاقتیکہ کچھ لغوی اور ترکیبی پہلوؤں پر نکھار کی مزید گنجائش محسوس ہوتی ہے۔
باب کے آغاز میں ہی مترجم نے فکر اور مقصد کے باہمی تعامل کو بہت روانی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ یہ تشبیہ کہ "بے مقصدیت کے ساتھ جینا ایک ایسی خالی اور جوکھم کشتی کی طرح ہے جو سمندر کی لہروں پر رحم و کرم پر چھوڑ دی جائے” قاری کے ذہن پر گہرا اثر چھوڑتی ہے۔ اسی طرح صفحہ ۳۱ پر جسمانی ورزش اور ذہنی طاقت کے موازنے کا ترجمہ انتہائی سلیس اور اثر انگیز ہے۔ مترجم کا یہ بیان کہ جس طرح ایک کمزور انسان مسلسل مشق اور صبر سے جسمانی طور پر مضبوط بن سکتا ہے، بالکل اسی طرح منفی افکار کا حامل شخص بھی اپنے خیالات کو صحیح سمت دے کر ذہنی و فکری طور پر خود کو بااختیار بنا سکتا ہے، قاری میں ایک مثبت امید اور ترغیب پیدا کرتا ہے۔
تاہم تنقیدی زاویے سے جائزہ لیا جائے تو متن میں چند جملوں کی بناوٹ اور اصطلاحات کا انتخاب اسلوبیاتی ناہمواری کا سبب بنتا ہے۔ مثال کے طور پر صفحہ ۳۰ پر "دنیاوی مقصد یا اس کی موجودہ فطرت کے مطابق لیکن جو بھی ہو، اسے اپنی سوچ کی تمام طاقتوں کو اس مقصد پر مرکوز کرنا چاہیے” جیسی طویل اور پیچیدہ نحوی ساخت سے جملے کا ربط متاثر ہوتا ہے۔ اگر اسے یوں لکھا جاتا کہ "خواہ مقصد مادی ہو یا روحانی، انسان کو اپنی تمامتر فکری صلاحیتیں اسی ایک نقطے پر مرکوز کر دینی چاہئیں” تو مضمون میں زیادہ صفائی اور روانی آ جاتی۔
اسی طرح صفحہ ۳۲ اور ۳۳ پر شک اور خوف کے منفی اثرات پر بحث کرتے ہوئے "بے کار بنا دیتے ہیں”، "بغیر حاصل نہیں کر سکتے” اور "ایک کھلی چیز ہے” جیسے تعبیرات قدرے سادہ اور لفظی ترجمے کا احساس دلاتی ہیں۔ یہاں "تلف کر دیتے ہیں”، "حاصل کرنا ناگزیر ہے” یا "ایک واضح حقیقت ہے” جیسے مناسب ادبی الفاظ کا استعمال تحریر کو زیادہ باوقار اور پختہ بنا سکتا تھا۔
حاصلِ کلام کے طور پر، اس باب کا بنیادی فکری نچوڑ یہ ہے کہ شک اور خوف انسان کی کامیابی کے سب سے بڑے دشمن ہیں، اور جو شخص اپنے اندر سے ان دو منفی عناصر کو نکال پھینکتا ہے، وہی کامیابی کا حقیقی حقدار بنتا ہے۔ بغیر مقصد کے بکھری ہوئی فکر انسان کو بے سمتی کی طرف لے جاتی ہے، جبکہ عزم و ہمت کے ساتھ کسی مقصد سے جڑا ہوا خیال ایک تخلیقی قوت میں ڈھل جاتا ہے۔ عثمان غنی صاحب کا یہ ترجمہ قارئین کو اپنے خیالات اور مقصدِ حیات کا ازسرِ نو جائزہ لینے اور زندگی میں پختگی اختیار کرنے کی بھرپور دعوت دیتا ہے۔
کتاب کے اس پانچویں باب "کامیابی میں خیالات کا کردار” کا مطالعہ کرتے ہوئے مترجم ڈاکٹر عثمان غنی صاحب کی اس کاوش پر نظر پڑتی ہے جہاں انہوں نے جیمز ایلن کے اصولِ کامیابی اور انسانی افکار کے مابین تعامل کو اردو کے سانچے میں ڈھالا ہے۔ اس باب کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ انسان دنیا میں جو کچھ حاصل کرتا ہے یا جس ناکامی کا سامنا کرتا ہے، وہ اس کے اپنے اندرونی خیالات کا براہِ راست نتیجہ ہوتا ہے۔ کائنات کا نظام عدل اور توازن پر قائم ہے جہاں مظلومیت اور جابریت دونوں کا اصل سرچشمہ انسان کی داخلی کمزوریاں اور فکری عدم توازن ہیں۔ کوئی بھی کامیابی بغیر قربانی اور خود غرضانہ افکار کے ترک کیے ممکن نہیں ہوتی۔ مترجم نے اس مضمون کو زیادہ تر مقامات پر سلاست کے ساتھ پیش کیا ہے، تاہم کچھ اسلوبیاتی اور نحوی پہلوؤں پر نکھار کی مزید گنجائش محسوس ہوتی ہے۔
باب کے اہم اور شاندار پہلوؤں میں مترجم کا وہ بیان شامل ہے جہاں وہ ظالم و مظلوم کے باہمی تعلق پر فکری گفتگو کرتے ہیں۔ صفحہ ۳۴ اور ۳۵ پر "جابر اور مظلوم دونوں جہالت کے شریک کار ہیں” کا ترجمہ اور فلسفہ انتہائی اثر انگیز اور عمیق ہے۔ یہاں مترجم نے قاری کو یہ باور کرایا ہے کہ کامل علم اور محبت کی نظر میں ظالم اور مظلوم دونوں ایک ہی قانون کے دو رخ ہیں اور حقیقی آزادی تبھی ممکن ہے جب انسان اپنے اندر کی خود غرضی اور کمزوری پر قابو پا لے۔ اسی طرح صفحہ ۳۶ اور ۳۷ پر حیوانی خیالات کی قربانی اور راست بازی کے ذریعے عروج حاصل کرنے کا ذکر انتہائی شائستہ زبان میں کیا گیا ہے جو اصل کتاب کا روحانی و علمی تاثر مکمل طور پر قائم رکھتا ہے۔
تاہم تنقیدی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو چند تعبیرات میں بوجھل پن اور لغوی ترجمے کا احساس ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر صفحہ ۳۵ پر یہ فقرہ کہ "وہ انسان جس کا پہلا خیال حیوانی لذت کی طرف مائل ہو، نہ تو واضح طور پر سوچ سکتا ہے اور نہ ہی منظم طریقے سے منصوبہ بندی کر سکتا ہے” نحوی لحاظ سے کچھ بوجھل معلوم ہوتا ہے۔ اگر یہاں "حیوانی خواہشات کا اسیر انسان نہ تو واضح فکر رکھتا ہے اور نہ ہی کوئی منظم منصوبہ بندی کر سکتا ہے” کا اسلوب اپنایا جاتا تو جملہ زیادہ مؤثر ہو جاتا۔ علاوہ ازیں، صفحہ ۳۷ پر "بیدار مغزی” اور "مرتکز خیالات” کی جگہ اگر "فکری بیداری” اور "یکسوئی” جیسے جامع اور بلیغ الفاظ کا انتخاب کیا جاتا تو متن میں ادبی نکھار مزید بڑھ جاتا۔
خاص طور پر صفحہ ۳۷ کے اختتام اور ۳۸ کے آغاز پر مترجم نے ایک اہم فکری نقطے کو بریکٹ کی وجہ سے قدرے الجھا دیا ہے۔ جب انسان درست خیالات کے ذریعے کامیابی کی منزل کے قریب پہنچتا ہے، تو اکثر لوگ مزید محنت اور صبر کا دامن چھوڑ کر ناامیدی کا شکار ہو جاتے ہیں اور یوں جیت کے دہانے پر پہنچ کر بھی دوبارہ ناکامی سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ مترجم کو چاہیے تھا کہ وہ اس نازک فکری پہلو کو بریکٹ کے بغیر، متن کی روانی میں ڈھال کر بیان کرتے تاکہ قاری کے مطالعے کا تسلسل برقرار رہتا۔
اس باب کے آخری حصے میں مترجم نے جیمز ایلن کا حتمی نتیجہ بے حد مؤثر اور دو ٹوک انداز میں سمیٹا ہے کہ چھوٹی کامیابی کے لیے چھوٹی قربانی اور اعلیٰ و عظیم کامیابی کے لیے عظیم قربانی اور بے پایاں ایثار کی ضرورت ہوتی ہے۔ تمام تر کامیابیاں خواہ وہ تجارتی ہوں، علمی ہوں یا روحانی ایک ہی قانونِ قدرت کے تحت حرکت کرتی ہیں۔ عثمان غنی صاحب کا یہ ترجمہ چند لفظی و نحوی اصلاحات کے امکانات کے باوجود قاری کو ایک زبردست فکری جلا اور عمل کی ترغیب فراہم کرتا ہے۔
کتاب کے چھٹے باب "نقطہ ہائے نظر اور خواب” کا جائزہ لیتے ہوئے مترجم ڈاکٹر عثمان غنی صاحب کی اس ادبی و علمی کاوش پر نظر پڑتی ہے جہاں انہوں نے جیمز ایلن کے خوابوں، آدرشوں اور تخیل کی طاقت سے متعلق فلسفے کو اردو کا پیراہن عطا کیا ہے۔ اس باب کا بنیادی تصور یہ ہے کہ خواب دیکھنے والے دراصل دنیا کے نادیدہ نجات دہندہ اور معمار ہوتے ہیں۔ انسان اپنے دل میں جو خوبصورت وژن یا آدرش سجایا رکھتا ہے، بالآخر اس کی زندگی اور خارجی حالات اسی سانچے میں ڈھل جاتے ہیں۔ دنیا جن عظیم الشان کامیابیوں کو دیکھتی ہے، وہ کسی زمانے میں محض اک بکھرا ہوا خواب تھیں جو تسلسل، مشقت اور پختہ عزم کے نتیجے میں حقیقت کی شکل اختیار کر گئیں۔ مترجم نے اس پیغام کو عمومی طور پر انتہائی مؤثر، جذباتی اور فصاحت سے پر انداز میں پیش کیا ہے، تاہم کچھ اسلوبیاتی اور لغوی بنیادوں پر نکھار کے پہلو سامنے آتے ہیں۔
باب کے بہترین پہلوؤں میں مترجم کا وہ اسلوب ہے جہاں وہ تاریخ کے عظیم مفکرین اور مستکشفین کی مثالیں دیتے ہیں۔ کولمبس، کوپرنیکس اور گوتم بدھ کے وژن کا تذکرہ اردو متن میں نہایت روانی اور تاثیر کے ساتھ سمویا گیا ہے۔ اسی طرح صفحہ ۴۰ پر "بلوط ایک بیج میں چھپا ہوتا ہے؛ پرندہ انڈے میں انتظار کرتا ہے” جیسی شاعرانہ اور بلیغ تشبیہات کا ترجمہ قاری کے دل پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔ صفحہ ۴۱ پر ایک غریب ورکشاپ میں کام کرنے والے نوجوان کی مثال، جو اپنے معاشی حالات کے باوجود بہتر زندگی اور ترقی کا خواب دیکھتا ہے اور بالآخر اپنی محنت و قابلیت سے وقت کو بدل دیتا ہے، مترجم کے قلم سے بے حد شائستہ اور ترغیب آمیز انداز میں ادا ہوئی ہے۔
تنقیدی نظر سے دیکھا جائے تو اس باب کے ترجمے میں متن کے اندر انگریزی الفاظ اور بریکٹ کا لغوی استعمال ایک بار پھر اسلوبیاتی ناہمواری کا سبب بنتا ہے۔ صفحہ ۳۹ پر شخصیات کے ناموں کے ساتھ بریکٹ میں (Christopher Columbus) اور (Nicolaus Copernicus) کا یوں اندراج ادبی نثر کے تسلسل کو گرا دیتا ہے۔ اردو زبان کے روایتی مزاج میں ان ناموں کو سلیس اردو رسم الخط میں ہی بغیر بریکٹ شامل کرنا زیادہ شایانِ شان ہوتا۔
علاوہ ازیں، صفحہ ۴۰ اور ۴۲ پر انگریزی الفاظ Vision اور Ideal کا ترجمہ کرنے کے بجائے بار بار "ویژن” اور "آئیڈیل” کو اردو متن میں جوں کا توں لکھ دیا گیا ہے۔ اگر مترجم ان کے بجائے اردو کے روایتی اور جامع الفاظ جیسے "تخیل”، "تصور”، "نصب العین” یا "آدرش” کا انتخاب کرتے تو تحریر میں بلا کا ادبی نکھار اور حسن پیدا ہو جاتا۔ نیز، صفحہ ۴۲ اور ۴۳ پر جب سطحی فکر رکھنے والے لوگوں اور جاہلوں کی تنقید پر گفتگو کی جاتی ہے کہ وہ محض ظاہری نتائج دیکھ کر اسے "قسمت” کا نام دے دیتے ہیں، وہاں جملوں کی بناوٹ قدرے لفظی ترجمے کا احساس دلاتی ہے، جسے محاوراتی زبان کے ذریعے مزید برجستہ بنایا جا سکتا تھا۔
حاصلِ کلام کے طور پر، اس باب کا مرکزی فکری پیغام یہ ہے کہ تمام انسانی معاملتوں میں کوشش ہی اصل بیج ہے اور نتیجہ اس کا لازمی ثمر ہے۔ جسے دنیا قسمت یا اچھے نصیب کا نام دیتی ہے، وہ دراصل طویل اندھیروں، دل ٹوٹنے کے لمحات، قربانیوں اور بے خوف کوششوں کا نتیجہ ہوتی ہے۔ عثمان غنی صاحب کا یہ ترجمہ چند اصطلاحی اصلاحات کے قطعِ نظر، قاری کو اپنے آدرشوں کی حفاظت کرنے اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی زبردست فکری و معنوی جلا فراہم کرتا ہے۔
کتاب کے ساتویں اور آخری باب "طمانیت” (Serenity) پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ جیمز ایلن کے فلسفے کا نقطۂ عروج ہے۔ اس باب میں مصنف یہ واضح کرتا ہے کہ ذہنی سکون اور طمانیت محض ایک اتفاقی حالت نہیں بلکہ نفس پر طویل ضبط، صبر اور فکر کی مسلسل تطہیر کا حتمی پھول ہے۔ مترجم ڈاکٹر عثمان غنی صاحب نے اس اختتامی باب کے ترجمے میں غیر معمولی فصاحت اور ادبی چاشنی کا مظاہرہ کیا ہے۔ صفحہ ۴۴ پر "ذہنی سکون حکمت کے خوبصورت جواہرات میں سے ایک ہے” جیسے جملے سے آغاز کرتے ہوئے، مترجم نے پرسکون انسان کی شخصیت کا جو نقشہ کھینچا ہے کہ وہ کسی پیاسے علاقے میں سایہ دینے والے درخت یا طوفانی موسم میں پناہ دینے والی چٹان کی مانند ہوتا ہے، وہ قاری کے دل پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔ صفحہ ۴۶ پر جذباتی انسانوں کی تمثیل اور روح کی کشتی میں موجود حاکم ملاح کا استعارہ اردو متن میں بے حد روانی اور اثر انگیزی کے ساتھ ادا ہوا ہے۔ اس باب میں مترجم کا اسلوب مجموعی طور پر شائستہ اور فکر انگیز ہے، اگرچہ صفحہ ۴۶ پر لفظ Ideal کو اردو اصطلاح کے بجائے انگریزی انداز میں "آئیڈیل” ہی تحریر کیا گیا ہے، جس کی جگہ "نصب العین” یا "آدرش” کا استعمال تحریر کی شائستگی کو مزید دوبالا کر سکتا تھا۔
جیمز ایلن کی اس مایہ ناز تصنیف "جیسا گمان، ویسا انسان” کا تمام ساتوں ابواب کی روشنی میں مجموعی محاکمہ کیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ یہ کتاب انسان کی داخلی کائنات کو بدلنے کی ایک مؤثر کوشش ہے۔ خیالات کی قوت سے لے کر حالات پر ان کے اثرات، جسمانی صحت اور فکر کا تعلق، مقصدِ حیات کی اہمیت، کامرانی میں آدرشوں کے نقش اور بالآخر روح کی طمانیت تک، تمام موضوعات ایک ہی نُکتے کے گرد گھومتے ہیں کہ انسان اپنے افکار کا خالق اور اپنے مقدر کا خود معمار ہے۔ جیمز ایلن کا فلسفہ خشک اخلاقیات کے بجائے ایک سائنسی اور طبیعیاتی قانون کی طرح سامنے آتا ہے جہاں انسان کی سوچ اس کے عمل اور نتائج کی قطعی ضامن بنتی ہے۔
مترجم ڈاکٹر عثمان غنی صاحب کی اس کاوش کو دیکھا جائے تو بطور مترجم ان کا یہ پہلا قدم نہایت قابلِ تحسین اور وقیع ہے۔ ایک انگریزی سیلف ہیلپ اور فلسفیانہ متن کو اردو کے سانچے میں ڈھالنا، خصوصاً جہاں خیالات کی باریکیوں کو قائم رکھنا ہو، کوئی آسان کام نہیں تھا۔ انہوں نے اپنی اس پہلی پیشرفت میں زبان کی سلاست، جملوں کی بناوٹ اور پیغام کی معنوی روح کو بڑی حد تک محفوظ رکھا ہے۔ البتہ ایک باوقار اصلاحی نقطۂ نظر سے یہ بات قابلِ غور ہے کہ آئندہ کی علمی و ترجماتی کاوشوں میں متن کے اندر بریکٹ کے استعمال، انگریزی الفاظ کے براہِ راست اندراج اور بعض جگہوں پر لغوی ترجمے کے بجائے مقامی محاوراتی اردو اور مستند علمی اصطلاحات کا انتخاب کیا جائے تو ان کی تحریر کی فنی پختگی اور جمالیات میں بے پناہ اضافہ ہوگا۔
ڈاکٹر عثمان غنی صاحب کی اس پہلی ترجماتی کاوش اور علمی سفر پر وہ دلی مبارکباد اور تحسین کے مستحق ہیں۔ ان کا یہ اقدام اردو ادب کے قارئین کے لیے ایک گراں قدر تحفہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے قلم میں مزید روانی، فکر میں گہرائی اور بصیرت عطا فرمائے تاکہ وہ ان جیسے فکر انگیز اور اصلاحی شاہکاروں کو اردو زبان کا پیراہن عطا کرتے رہیں۔ ان کے روشن اور کامیاب مستقبل کے لیے نیک تمنائیں اور خلوصِ دل سے دعائیں کہ وہ علمی و ادبی افق پر اسی طرح درخشاں رہیں۔
کتاب: لفظ و معنی، مصنف: شمس الرحمن فاروقی، سالِ اشاعت: 1993ء، صفحہ نمبر: 204
کتاب: ادبی تنقید اور اسلوب، مصنف: وارث علوی Defense، سالِ اشاعت: 1991ء، صفحہ نمبر: 153)
کتاب: De Optimo Genere Oratorum، مصنف: Cicero، پبلشر: Harvard University Press، تاریخِ اشاعت: 1949ء، صفحہ نمبر: 365
کتاب: West-östlicher Divan، مصنف: Johann Wolfgang von Goethe، پبلشر: Cotta، تاریخِ اشاعت: 1819ء، صفحہ نمبر: 211۔
کتاب: Difference in Translation، مصنف: Jacques Derrida، پبلشر: University of Chicago Press، تاریخِ اشاعت: 1985ء، صفحہ نمبر: 121
کتاب: Der Satz vom Grund [اصولِ علت]، مصنف: Martin Heidegger، پبلشر: Neske، تاریخِ اشاعت: 1957ء، صفحہ نمبر: 38۔
مضمون: "The Russian Point of View”، مصنفہ: Virginia Woolf، کتاب: The Common Reader، پبلشر: Harcourt Brace، تاریخِ اشاعت: 1925ء، صفحہ نمبر: 182
(کتاب: تنقیدی دبستان، مصنف: ڈاکٹر سلیم اختر، سالِ اشاعت: 2002ء، صفحہ نمبر: 315
کتاب: پاکستانی کلچر: قومی تشخص کی تلاش، مصنف: ڈاکٹر جمیل جالبی، سالِ اشاعت: 1984ء، صفحہ نمبر: 112
کتاب: The Translation Studies Reader، تاریخِ اشاعت: 1937ء
کتاب: Experiences in Translation، مصنف: Umberto Eco، پبلشر: University of Toronto Press، تاریخِ اشاعت: 2001ء
کتاب: The Quick and Easy Way to Effective Speaking، مصنف: ڈیل کارنیگی، پبلشر: Pocket Books، سالِ اشاعت: 1962ء، صفحہ نمبر: 88
کتاب: Wisdom of the Ages، مصنف: ڈاکٹر وین ڈائر، پبلشر: HarperCollins، سالِ اشاعت: 1998ء، صفحہ نمبر: 145
مضمون: "The Philosophy of James Allen”، مصنف: آرتھر رینسم، جریدہ: The Literary World [لندن]، تاریخِ اشاعت: مئی 1912ء، صفحہ نمبر: 14
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کا ان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

