حسین الحق کی متصوفانہ تحریروںاور کتابوں پر گفتگوکرنے سے قبل بہتر معلوم ہوتا ہے کہ ہم تصوف اور اردو ادب پر روشنی ڈالتے چلیں ۔تصوف کیا ہے؟’’ تصوّف‘‘کے لغوی اشتقاق اور اصل کے بارے میں محققین وعلمائے تصوف کی رائے مختلف ہیں۔ اشتقاق: تصوف عربی زبان کا لفظ ہے ۔ اس کا مادہ ’’صوف ‘‘ہے اور یہ باب تفعل سے آتا ہے ۔جس کامعنی ہے اون اور ’’تصوف ‘‘کا لغوی معنی ہے’’ اون کا لباس پہننا ‘‘۔تصوف۔ اسم مذکر ۔ خواہش نفسانی سے پاک ہونا ۔وہ علم جس کے وسیلے سے صفائی قلب حاصل ہو۔تذکیئہ نفس کا طریقہ ۔اشیاء عالم کو مظاہرصفات حق جاننا۔(فرہنگ آصفیہ صفحہ نمبر۶۱۰)۔صوفیا کی اصطلاح میں اس کے معنی ہیں : اپنے اندر کا تزکیہ اور تصفیہ کرنا ، یعنی اپنے نفس کونفسانی کدورتوں اور رذائل اخلاق سے پاک و صاف کرنا اور فضائل اخلاق سے مزین کرنا۔ تصوف کا مقصد انسان کو اس قدر روحانی بلندی عطا کر دینا ہے کہ وہ محبوب حقیقی کی محبت میں فنا ہو جائے اور کیفیت نصیب ہو کہ :
افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر
کرتے ہیں خطاب آخر اٹھتے ہیں حجاب آخر
(علامہ اقبال بال جبریل)
عہد جاہلیت میں صوفی کی اصل تلاش کرنے کی پہلی کوشش حافظ محمد بن طاہر المقدسی (۱۰۵۷۔۱۱۱۳ )نے کی تھی ۔ انھوں نے سلوک وتصوف کے موضوع پر’’صفوۃ التصوف‘‘کے نام سے ایک کتاب لکھی ۔ ان کے بیان کے مطابق کوفہ کے ایک محدث ولید بن قاسم( ۷۰۶ )سے صوفی کی نسبت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے جواب دیاجس کا اردو میں معنی یہ ہے کہ :
’’ جاہلیت میں صوفہ کے نام سے ایک قوم تھی جو اللہ تعالی کے لئے یکسو ہو گئی تھی اور جس نے خانہ کعبہ کی خدمت کیلئے اپنے آپ کو وقف کیاتھا۔ پس جن لوگوں نے ان سے مشابہت اختیار کی وہ صوفیہ کہلائے‘‘۔(اردو ریسرچ جنرل ،25Jul17)
صوفہ کی قوم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ خانہ کعبہ کے مجاور تھے اور حاجیوں کیلئے راحت وسکون کابندوبست کرنا ان کے ذمے تھا۔ شیخ ابو نصر سراج نے کتاب اللمع میں لکھا ہے کہ:
ان ھذا الاسم لیس بمحدث لان الحسن البصري الذي ادر ک جماعت من الصعب را ی صوفیا یطوف بالکعبہ( الشیخ ارسلان دمشقی :۲۵)بے شک یہ اسم (صوفی )نیا نہیں ہے کیونکہ حسن بصری نے جنہوں نے صحابہ کی ایک جماعت کو پایا۔ ایک صوفی کو کعبہ کے طواف میں مشغول دیکھا۔(محمد طاہر القادری ،حقیقت تصوف ،جلد اول ،ص۱۵۴)
لفظ صوفی کایہ بے ساختہ استعمال اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حضرت حسن بصری کے عہد میں ’’صوفی ‘‘
کہلانے والے لوگ اتنا عام ہو چکے تھے کہ لوگ اس لفظ سے پوری طرح واقف اور مانوس تھے۔ اسی لیے آپ نے بغیر کسی تشریح یا تفصیل کے فرمایا کہ میں نے ایک صوفی کو بیت اللہ کا طواف کرتے دیکھا۔ ظاہر ہے کہ یہ بات صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب سامع کو یقین ہو کہ جو کچھ کہا جا رہا ہے، وہ فوراً اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے سمجھ لے گا۔یہ بات تصوف کی ابتدائی شکل کو ظاہر کرتی ہے کہ یہ کوئی بعد کی ایجاد نہیں بلکہ زہد و ریاضت کی وہ روایت تھی جو صحابہ و تابعین سے چلی آ رہی تھی، اور اسے ’’صوفی ‘‘کا نام دے دیا گیا تھا۔
اسلام میں لفظ صوفی کا آغاز دوسری ہجری سے ہوتا ہے اور سب سے پہلے ابو ہاشم کوفی کے لیے صوفی کا لقب استعمال کیا گیا ۔ کچھ لوگوں نے حضرت ذوالنون مصری کو بھی پہلے صوفی بتا یا ہے اور ساتویں صدی بتائی ہے ۔ خواجہ حسن بصری اور رابعہ حسن بصری کے بھی نام آتے ہیں ۔برصغیر پاک و ہند میں اسلام کی اشاعت میں صوفیائے کرام کا کردار نہایت اہم اور بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ تیسری صدی ہجری کے بعد مختلف صوفی بزرگ اس خطے میں تشریف لائے اور اپنی روحانی شخصیت، اخلاقی کردار اور تبلیغی خدمات کے ذریعے یہاں اسلام کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ ان صوفیاء نے نہ صرف دین اسلام کی تعلیمات کو عام کیا بلکہ مقامی معاشرے کی اخلاقی و روحانی تربیت میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ان میں دو ہستیا ں قابل ذکر ہیں۔پہلے حضرت سید علی ہجویری داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ آپ گیارہویں صدی عیسوی میں لاہور تشریف لائے اور یہاں رہ کر تصوف کی تعلیمات کو عام کیا۔ آپ کی مشہور تصنیف کشف المحجوب تصوف کے موضوع پر فارسی زبان کی اولین اور اہم کتابوں میں شمار ہوتی ہے، جس میں صوفیانہ نظریات اور سلاسل کا تفصیلی بیان موجود ہے اور دوسرے بزرگ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ 1124تا 1235ہیں۔ان دو بزرگوںکے علاوہ اور بھی دو بزرگوں کی آمدکی خبر تذکروں سے ملتاہے۔ان میںسے ایک شیخ محمد اسماعیل بخاری رحمتہ اللہ علیہ جو 1005میں تشریف لائے۔دوسرے بزرگ خواجہ ابو محمد بن ابواحمد رحمتہ اللہ علیہ ہیں جو سلطان محمود غزنوی کے ساتھ ہندوستان تشریف لائے۔
حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ،حضرت نظام الدین اولیا ، حضرت بختیار کاکی ، شیخ فرید الدین گنج شکر، شیخ برہان الدین بلخی قاضی حمید الدین ناگوری، شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی ، شیخ نصیر الدین چراغ ،حضرت امیر خسرو، شیخ شرف الدین بوعلی قلند ر پانی پتی ، حضرت سید اشرف جہانگیر سمنانی ،سرا ج الدین آخی ، شرف الدین یحیی منیری، خواجہ بندہ نواز گیسو دراز وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں جو اپنے آپ میں ہندوستان میں صوفی سلسلے کو فروغ دینے اور تصوف کی تعلیمات کو عام کرنے میں پیش پیش رہے ہیں گیارہویں اور بارہویں عیسوی میں جہاں سیاست اپنی کشمکش میں تھی ۔ وہیںصوفیوں اور فقیروں کا طبقہ جد و جہد میں مصروف تھا جو اپنا آفاقی پیغام اس ملک کے عوام تک پہنچانا چاہتا تھا ۔یہ لوگ عربی ،فارسی اور ترکی کے عالم تھے لیکن انہوں نے محسوس کیا کہ اپنے روحانی پیغام کو ہندوستان کے عام لوگوں تک پہنچانا ہے تو انہوں نے ادب کا سہارا لیا اور جن کے روحانی فیوض و برکات سے نہ صرف عوام فیضیاب ہوئے بلکہ ادب کو اس سے فائدہ پہنچااورادب کو بام عروج تک پہونچایا۔
ادب :اسم مذکر کالفظ ہے جس کا لغوی معنی ہر چیز کی حد کو نگاہ رکھنا ۔نگہداشت حد ہرچیز۔طریقئہ پسندیدہ +نگہداشت مرتب خلق،اخلاق ،تہذیب ۔طور،طریقہ ،ڈھنگ ،قائدہ ،ضابطہ۔عربی زبان میںمعنی :حیا،شرم ،لحاظ،لاج۔ تعظیم،تکریم۔عجزونیاز۔عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر ہے ۔ اردو میں سب سے پہلے 1707ء کو ’’گلشن عشق ‘‘میں مستعمل ملتا ہے۔ادب کا اصل معنی شائستگی، تہذیب، حسنِ سلوک، خوش بیانی اور لحاظ و احترام کے ہیں۔ قدیم عرب معاشرے میں یہ لفظ مہمان نوازی، ضیافت اور سلیقے سے دستر خوان سجانے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔وقت کے ساتھ اس کے معنی وسیع ہوتے گئے اور آج کل جب ہم ’’ادب ‘‘کہتے ہیں تو عموماً اس سے مراد ادبی تخلیق ہوتی ہے یعنی ادب انسانی جذبات، خیالات، احساسات اور تجربات کا فنکارانہ اظہار ہے۔ یہ ایسی تخلیقی تحریر یا کلام ہے جو قاری یا سامع کو مسرت، لطف، ادراک اور شعور کی گہرائی عطا کرتی ہے۔ ادب میں تخیل، جمالیات، تشبیہات، استعارات اور زبان کی خوبصورتی کا استعمال ایک لازمی عنصر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ادب وہ فن ہے جو جذبات اور خیالات کو ایسے فنکارانہ انداز میں پیش کرتا ہے کہ قاری یا سامع کے اندر رس پیدا ہو جاتا ہے اور وہ مکمل طور پر لطف اندوز ہوتا ہے۔
ڈاکٹر جمیل جالبی لکھتے ہیں:
’’ادب ایسا اظہار ہے جو زندگی کا شعور و ادراک حاصل کرنے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ادب میں انسان کے تخیلی تجربے کو ابھارنے کی ایسی زبردست قوت ہوتی ہے کہ پڑھنے والا اس تجربے کا ادراک کر لیتا ہے۔ ادب میں متحرک کرنے اور ہماری روح میں موجود خفتہ صلاحیتوں کو بیدار کرنے کی غیر معمولی قوت ہوتی ہے۔ ادب کے ذریعے ہم زندگی کا شعور حاصل کرتے ہیں۔ یہ ادب کا خاص منصب ہے‘‘۔(ماہنامہ ،چشمِ بیدار، لاہور۔ مئی ۲۰۰۹)
ایک اور روایتی بیان ادب زندگی کے تلخ و شیریں تجربات کی کرچیوں کو نگینے بنا کر پیش کرنے کا نام ہے۔وسیع معنی میںکسی قوم کے اخلاق، رسم و رواج، زبان، ماحول اور اجتماعی شعور کا آئینہ۔اردوادب کی دو بڑی اقسا م شعری ادب :غزل، نظم، مثنوی، قصیدہ، رباعی وغیرہ ۔نثری ادب :افسانہ، ناول، ڈراما، انشائیہ، سفرنامہ، سوانح، خطوط، تنقید وغیرہ کچھ لوگ اسے مزید تقسیم کرتے ہیں:(افسانوی ادب تخیلاتی )ناول، افسانہ، داستان غیر افسانوی ادب حقیقت پر مبنی مضامین، رپورٹاژ، خطوط، سوانح ۔مختصر ایوں کہا جاسکتا ہے کہ ادب محض لکھنا یا بولنا نہیں، بلکہ زندگی کو زیادہ گہرائی، خوبصورتی اور معنی کے ساتھ دیکھنے اور دکھانے کا فن ہے۔ یہ معاشرے کا آئینہ بھی ہے، انسان کے اندرونی کرب و طرب کا ترجمان بھی، اور روح کی غذا بھی۔
تصوف اورادب کا تعلق گہرا اور قدیم ہے ۔ دونوں کا مقصد انسانی روح ،اس کی داخلی کیفیات اور حقیقت مطلق کی تلاش ہے ، تصوف ایک روحانی تجربہ اور طرز زندگی ہے، جبکہ ادب اس تجربے کو الفاظ کے ذریعے ایک تخلیقی اظہار دیتا ہے ۔
ادب جہاں زندگی کے ظاہری پہلوؤںکو اجاگر کرتاہے،وہیںتصوف زندگی کے باطنی اور روحانی پہلوؤں کی ترجمانی کرتا ہے۔ تصوف انسانی وجود کی داخلی روشنی کا نام ہے۔ یہ وہ اندرونی چمک ہے جو انسانی پیکر کو منور اور معطر رکھتی ہے ۔ یہ وہ خوشبو ہے جو معاشرے کے پورے وجود کو مہکائے رکھتی ہے ۔تصوف نے ادب کو گہرائی دی تصوف نے ادب میں روحانیت، اخلاق اور محبت کا رنگ بھرا۔دراصل تصوف نے ادب کو وہ داخلی نور اور روحانی حسن عطا کیا ہے جس نے شاعری اور نثر کو ایک ماورائی کیفیت عطا کی ہے۔اردو ادب کی تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تصوف کا اثر اس کے ہر دور پر نمایاں رہا ہے۔صوفی شعرا نے اردو ادب کو مالا مال کیا امیر خسرو ،خواجہ بندہ نواز گیسو دراز ،صدرالدین ،سید محمد اکبر حسینی ،شاہ میرا جی شمس العشاق ،خواجہ میر درد، میرتقی میروغیرہ جیسے صوفیوں کی شاعری میں تصوف کے ساتھ ساتھ اعلیٰ ادب بھی موجود ہے۔ان کی شاعری انسان دوستی، صبر ،محبت، اور اللہ سے قربت کا پیغام دیتی ہے۔ ادب نے تصوف کے خیالات کو عام کیاادب کے ذریعے تصوف کے افکار عوام تک پہونچے۔بعض حضرات تصوف کو ادبیات کے دائرے میں شامل نہیںکرتے۔اس حوالے سے ڈاکٹر نفیس اقبال فرماتی ہے ہیں :
’’کہ کچھ لوگ تصوف کو ادب کا موضوع نہیں سمجھتے ان کے خیال میں ادب کا تعلق جمالیات اور تخلیق سے ہے اور تصوف کاصرف مذہب اوردین سے ہے ۔حالانکہ تصوف اخلاقیات کا حامل ہے اور اخلاق جمال ہی کا روپ ہے اور جمال تخلیق کی بنیاد پر ہوتا ہے ۔ مثبت اقدار جمال کی ایک شکل ہیں اور ان کو فروغ دینا جمالیات کو فروغ
دنیا ہے ۔ تخلیقی زندگی محض شعر و ادب نہیں بلکہ وہ زندگی ہے جس میں عقل و حسن، انصاف ومحبت کی مثبت اقدار ہوں ۔ مثبت اقدار زندگی کی خوبصورتی کی ضامن ہیں اور یہ اقدار تصوف میں تعلیم وتربیت کا حصہ ہیں۔کائنات کا وصف خیر ہے اور خیرکے ادراک کے بغیر زندگی بدشکل اور بنجر بن جاتی ہے۔تصوف اسی خیرکی جانب متوجہ کرتا ہے ‘‘۔(تصوف اور ادب کا باہمی رشتہ۔ صفحہ۱۔)
اردو ادب کو تصوف سے الگ کر ہی نہیں سکتے کیونکہ اردو کے اولین شعراء اور مصنفین خود صوفی تھے۔ اردو، فارسی، عربی اور دیگر زبانوں کے ادب میں تصوف نے گہرا اثر ڈالا ہے ،اور اس کی جھلک ،شاعری،نثر، کہانیوں اور تمثیلات میں نمایاں نظر آتی ہے ۔اردو کے اولین شعراء شیخ فرید الدین گنج شکر، گجرات کے شیخ با جن ، خوب محمد چشتی، علی محمد جیو گام دھنی اور قاضی محمود دریائی، بہمنی سلطنت دکن کے دورمیں، خواجہ بندہ نواز گیسو دراز، شاہ شمس العشاق ،بیجاپور کا ادب شاہ برہان الدین جا نم ،شیخ غلام اول اور شاہ امین الدین اعلی کے بغیر ادب نا مکمل ہے۔ نثری ادب میں بھی تصوف کا اثر نمایاں ہے ،خاص طور پر قصے، حکایات ، ملفوظات اور ناولوں میں ۔’’اماوس میں خواب‘‘ (حسین الحق )جدید اردو فکشن میں صوفیانہ عناصر کی مثال – ’’راجہ گدھ ‘‘(بانو قدسیہ )نفسیات ،تصوف اور اخلاقی کشمکش کا امتزاج – پرانے داستانی ادب میں بھی صوفیانہ رنگ نمایاں ہے ، جیسے الف لیلہ و لیلہ (ہزاروں راتوں کی کہانیاں ، جن میں روحانی عناصر موجود ہیں)،قصہ شیخ چلی ، پریم اکبر اور ملک محمد جائسی کی تصوف پر منی داستانیںہیں۔جدید اردو ادب میں بھی تصوف کی روایت جاری ہے، اگر چہ اس کا اظہار روایتی انداز سے مختلف ہے –
ممتاز مفتی ،اشفاق احمد ،بانو قدسیہ ،حسین الحق وغیرہ ،ان کے ناولوں اور افسانوں میں تصوف کا جدید بیانیہ ملتا ہے ۔ اردوکے علاوہ فارسی زبان میں بھی بے شمار ذخیرہ دستیاب ہیں۔ فارسی زبان کے زوال کے بعد اردو کو فروغ ملا اور عربی و فارسی میں موجود تصوف کی کتابوں کا اردو میں ترجمہ ہونے لگا ۔
آٹھویں صدی ہجری سے صوفیا نے اپنے افکار عام فہم انداز میں اردو میں پیش کیے تاکہ عوام الناس تک رسائی حاصل ہو۔ اردو نثر کی ابتدا بھی اسی دور میں ہوئی، جب فضل علی فضلی نے ‘روضتہ الشہداء’ کا اردو ترجمہ کیا۔ مغلیہ سلطنت کے زوال کے ساتھ فارسی زبان کی جگہ اردو نے لے لی، اور یوں تصوف پر مبنی ایک وافر ذخیرہ اردو زبان میں منتقل ہو گیا، جو آج بھی ہمارے لیے ایک قیمتی ورثے کی حیثیت رکھتا ہے۔تصوف اور ادب کا باہمی رشتہ صرف نظریاتی نہیں بلکہ ایک فکری اور تخلیقی عمل ہے ۔ ادب، تصوف کے تجربات کو عام فہم اور موثر انداز میں پیش کرتا ہے، جبکہ تصوف ، ادب کو ایک روحانی اور گہرا زاویہ فراہم کرتا ہے ۔ اردو اور دیگر زبانوں کے ادب میں تصوف کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ انسانی روح ہمیشہ معرفت اور حقیقت کی تلاش میں سرگرداں رہی ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ تصوف اور ادب کا رشتہ روح اور جسم کی مانند ہے ، ایک کے بغیر دوسرے کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔تصوف نے ادب کو روحانی عمق دیا،اور ادب نے تصوف کے خیالات کو اظہار کا حسین پیراہن عطا کیا۔
حسین الحق کی متصوفانہ تحریریں
حسین الحق اردو ادب کے معروف نقاد، محقق اور فکشن نگار ہیں جنہوں نے نہ صرف افسانہ نگاری میں اپنا مقام بنایا بلکہ تنقید اور تحقیق میں بھی اہم خدمات انجام دیں۔ تصوف پر ان کے خیالات اردو ادب میں ایک فکری جہت کا اضافہ کرتے ہیں، جس میں روحانی تجربے، داخلی کشف و شعور اور تخلیقی وجدان کواہم مقام حاصل ہے۔تصوف، جو کہ روحانیت اور باطنی تجربے پر مبنی ایک فکری و عملی نظام ہے، اردو ادب میں ہمیشہ سے ایک موئثر عوامل رہا ہے۔ حسین الحق کے ہاں تصوف صرف ایک موضوع نہیں بلکہ ایک فکری رویہ ہے۔ ان کی تحریروں میں تصوف ایک ایسے معنوی تناظر کے طور پر ابھرتا ہے جو انسان کے باطن، اس کی روحانی تلاش اور وجودی سوالات کا احاطہ کرتا ہے۔حسین الحق کا رجحان تصوف کی اس جہت کی طرف زیادہ ہے جو فرد کے اندرونی تجربات، خاموشی، تنہائی اور خود آگاہی سے جڑا ہوا ہے۔ وہ تصوف کو محض روایتی خانقاہی فکر یا ظاہری رسوم کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ اسے انسان کی تخلیقی اور روحانی صلاحیتوں کا اظہار سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک تصوف ادب کا ایسا زاویہ ہے جو داخلی سچائیوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ان کے افسانوں اور تنقیدی مضامین میں بعض مقامات پر تصوف کا اثر علامتی انداز میں ظاہر ہوتا ہے جہاں کردار کسی روحانی سفر پر گامزن دکھائی دیتے ہیں یا وقت و مکان سے ماورا تجربات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ وہ تصوف کو ایک ذاتی اور شعوری تجربہ سمجھتے ہیں جو تخلیق کار کو نئی جہات میں سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔
سید محمد اشرف حسین الحق کے حوالے سے لکھتے ہیں:ـ
’’کہ حسین الحق کا جو اثر سماج اور ادبی سماج پر تھا یا صوفیانہ سماج پر تھا، ان باتوں پر بہت غور کرنے کے بعد میں ایک بات کہہ سکتا ہوں کہ حسین الحق چاہے گفتگو کریں یا افسانے لکھیں یا ناول لکھیں۔ ان کے یہاں سب سے عمدہ بات جو ابھر کر آتی تھی وہ ہے صوفی کی شخصیت۔ وہ کہیں بھی صوفی ہونے کی نفی کرتے تھے۔ ہر جگہ اپنے صوفی ہونے کا اثبات کرتے
تھے۔وہ صرف نام کے صوفی نہیں تھے، ان کے باطن کی جو فکر تھی اس کے اعتبار سے بھی صوفی تھے۔ 70کے بعد لکھنے والوں میں کتنے چمکے اور ڈوب گییــ‘‘۔(قومی آواز 25دسمبر2022)۔
سید محمد اشرف کے اس اقتباس سے پتہ چلتاہے کہ حسین الحق خود ایک صوفی فکشن نگار تھے ،تبھی تو ان کی تحریروں میں تصوف کے اثرات دیکھنے کو ملتے ہیں ۔اب ہم اپنے اصل موضوع یعنی حسین الحق کی متصوفانہ تحریریں اور کتابوںپر بات کرتے ہیں ۔حسین الحق نے تصوف پر مستقل اور مباحثاتی انداز میں لکھا۔ ان کی چند نمایاں تصانیف یہ ہیں:
آثار حضرت وصی :
یہ کتاب حضرت وصی احمد (معروف بہ وصی الحق مسکین اصدقی چشتی )کی سوانح عمری ہے۔ اسے حسین الحق نے 2001میں لکھاہے،جس کی اشاعت، دائرہ حضرت وصی ۔محلہ شاہ ہارون (برتلہ )سہسرام (بہار)سے ہوئی ہے۔ اور اسے چار ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔پہلے باب کا عنوان ’’شخص ‘‘ ہے جس میں حضرت وصی الحق کی ولادت سے لے کر وفات تک کے واقعات اور زندگی کے اہم حالات تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔دوسرے باب کا عنوان’’شخصیت ‘‘ ہے جس میں وفات کے بعد کے منظوم تاثرات، مرثیے، تاریخی اشعار اور قطعات پر مشتمل ہے جو لوگوں نے پیش کیے۔تیسرے باب کاعنوان ’’پیغام ‘‘ ہے جس میں ان کی زندگی کے سبق آموز واقعات، واقعاتِ زندگی اور تعلیم و تربیت کے اہم پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے۔چوتھے باب کاعنوان ’’تبرکات ‘‘ہے جس میںحضرت وصی الحق کا منتخب کلام پیش کیا گیا ہے اور نعتوں و منقبتوں کے علاوہ چند غزلوں کا بھی انتخاب شامل ہے۔یہ کتاب مجموعی طور پر ایک بزرگ صوفی شخصیت کی زندگی، کردار، تعلیمات اور ادبی خدمات کو محفوظ کرنے کا عمدہ ذریعہ ہے۔یہ حضرت وصی الحق (ان کے روحانی پیشوا یا خاندانی سلسلہ سے وابستہ بزرگ )کی سوانح اور روحانی تعلیمات کا مجموعہ ہے۔ یہ کتاب صوفیائے کرام کی زندگی اور ان کے کلام کو محفوظ کرنے کی ایک کوشش ہے۔
آثار حضرت وحید بنارسی:
یہ کتاب حضرت مسرور کے والد حضرت وحید الحق وحید اصدقی بنارسی کی سوانح عمری پر مشتمل ہے ۔یہ کتاب 2003میں دائرہ حضرت وصی حضرت رحمتہ اللہ محلہ شاہ ہارون ،(برتلہ )سہسرام (بہار) سے شائع ہوئی ہے۔اس کتاب کے مصنف حضرت واعظ الحق مسرور اورنگ آبادی ہیں۔اس کی تالیف وحواشی حسین الحق نے کی ہے۔ حضرت وحید الحق وحید اصدقی کا ذکر ویسے تو متعدد کتابوں میں ملتا ہے ۔مثلاً :مکتوبات اصدقی میں حضرت وحید الحق کا ذکر موجودہے۔اذکار العرفاء مصنفہ حضرت حماد قادری داؤ دنگری میں آپ کا ذکر دستیاب ہے۔حریم شوق (مجموعہ کلام حضرت نازش سہسرامی )میں آپ پر ایک پیرا گراف میسر ہے۔مگدھ یونیورسیٹی بودھ گیا میں جمع شدہ تقریباً نصف درجن تحقیقی مقالات میں آپ کا تذکرہ اور حوالے تحریر کا حصہ ہیں۔حسین الحق کے لئے اس کتاب کی اشاعت میں دلچسپی کی اصل وجہ خود ان کی زبانی سماعت کریں:
’’ یہ کتاب آج سے تقریبا۱۱۵ برس پہلے وفات پا جا نے والے بزرگ ( حضرت وحید اصدقی )پرآج سے۸۰ برس پہلے
لکھی گئی سوانحی تحریر ہے۔اور میری توقع ہے کہ یہ کتاب بہار کے سوانحی ادب میں اضافے کا سبب بنے گی‘‘۔(آثار حضرت وحید بنارسی،ص۸۔۹)
مذکورہ دونوں کتاب میں حسین الحق نے جو سوانح عمری کو بیان کیا ہے یہ دونوں اللہ کے نیک برگزیدہ صوفی بندے تھے۔ہمیںحسین الحق کی فکشن (افسانوں اور ناولوں )میں تصوف کے اثرات نمایاںطورپردیکھنے کوملتے ہیں۔مثلاکربلائیت اور صوفیانہ استعارے ان کے بیشتر افسانوں اور ناولوں میں واقعہ کربلا کی جھلکیاں، کربلائی تلمیحات، کنایے اور استعارے ملتے ہیں۔ یہ عنصر انسانی درد، ظلم کے خلاف مزاحمت اور روحانیت کو نمایاں کرتا ہے۔ناولوں میں صوفیانہ جہت’’ فرات‘‘میں مسائل تصوف اور روحانیت پر گہرا مطالعہ، وجود کی مختلف سطحوں اور روحانی سفر کا بیان۔’’ اماوس میں خواب ‘‘میںاقلیتی ڈسکورس کے ساتھ صوفیانہ نقطہ نظر سے سماجی مسائل کو دیکھنا۔’’بولو مت چپ رہو‘‘میں انسانی ہمدردی اور صبر کی صوفیانہ اقدار۔فرقہ وارانہ فسادات کا تناظرانہوں نے فسادات کے درد کو صوفیانہ لینز سے دیکھا، یعنی ظلم کے سامنے خاموشی نہ کرنے کا درس جیسا کہ ’’بولو مت چپ رہو‘‘کا عنوان ہی بتاتا ہے جو صوفیائے کرام کی تعلیمات سے مطابقت رکھتا ہے۔کربلا حسین الحق کا ایک اہم افسانہ ہے۔اس افسانہ میں کرفیو کی صورت حال کی نوحہ گیری پیش کی گئی ہے ۔پورا افسانہ فساد کے وقت پولس کی کارکردگی اور اس کی بربریت کو بیان کرتا ہے ۔کربلا کو استعارہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے ۔اگرچہ کربلا کا سانحہ صدیوں پرانا ہے، مگر آج کے دور میں ہر دوسرے دن کہیں نہ کہیں کربلا جیسا منظر دیکھنا کوئی عجیب یا حیران کن بات نہیں رہی۔ بلکہ موجودہ زمانے کا کربلا اکثر ماضی کے کربلا کو بھی شرمندہ کر دیتا نظر آتا ہے۔اندرونِ ملک بھاگلپور، ملیانہ، میرٹھ اور گجرات جیسے علاقوں میں جو آگ اور خونریزی ہوئی، کیا وہ موجودہ دور کے کسی کربلا سے کم تھی؟ جب افسانہ نگار آج کے دور میں پیش آنے والے ایسے کربلا کا نقشہ کھینچتا ہے تو اس میں پولیس کی ظالمانہ اور دہشت انگیز کردار واضح طور پر سامنے آ جاتا ہے۔حسین الحق کا یہ اقتباس ملاحظہ ہو:
’’چاروں طرف ہو کا عالم ہے۔ دکانیں سر شام بند ہو چکی ہیں۔ رات کا پہلا پہر ہے مگر ایسا سناٹاہے کہ اگر ایک کنکر بھی گر جائے تو شاید چھن کی آواز سے پورا علاقہ گونج اٹھے ، ماؤں نے بچوں کو سویرے سویرے کھلا کر زبردستی سلا دیا ہے۔ گاہے گا ہے کسی گھر سے بکری کے ممیانے یا گائے کے ڈکارنے کی آواز آتی ہے‘‘۔(کربلا)
اسی طرح’’اماوس میںخواب ‘‘ میں تصوف کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے،جہاں صوفیانہ تہذیب کی مثالیں پیش کر کے اتحاد، یکسانیت اور انسانیت کا پیغام دیا گیا ہے۔ اس ناول میں درگاہ کا کا ذکر اور اس میں حاضری دینے والے زائرین کی
بھیڑ اور مختلف جگہوں پر ملنگوں کی ٹولیاں،اوردرگاہ کے آنگن میں قوال لوگ کی نغمہ سرا کا منظر کی عکاسی بہترین انداز میں پیش کیا ہے ،یہ اقتباس دیکھیں:
’’رات سر پر کھڑی تھی ، درگاہ میں قمقمے جل اُٹھے تھے، مختلف جگہوں پر ملنگوں کی ٹولیاں بیٹھی ہوئی تھیں … چاروں طرف اونچی اونچی برجیوں والی دالان، سامنے بلند گنبدوں والا روضہ، میدان کی ایک سمت میں مجاوروں اور زائرین کے رہنے کے لیے کمرے پچھلی مرتبہ انہی کمروں میں سے ایک میں وہ ٹھہر تھا… دوسری سمت مطبخ !‘‘۔(اماوس میںخواب ،ص 65)
حسین الحق نے اس اقتباس میں ایک درگاہ کے رات کے ماحول کی نہایت خوبصورت اور جاندار تصویر کشی کیاہے۔ مصنف نے الفاظ کے ذریعے ایک روحانی، پراسرار اور پرسکون فضا تخلیق کی ہے جس میں روشنی اور اندھیرے کا خوبصورت توازن نظر آتا ہے۔’’رات سر پر کھڑی تھی‘‘، ’’قمقمے جل اُٹھے ‘‘اور "ملنگوں کی ٹولیاں‘‘جیسے الفاظ سے ایک تصوف بھرا، روایتی ماحول فوراً سامنے آ جاتا ہے۔اونچی برجیوں والی دالانیں، بلند گنبد، مجاوروں کے کمرے اور مطبخ سب مل کر ایک مکمل، زندہ اور بصری منظر بناتے ہیں۔یہ سطور قاری کو فوراً اس جگہ لے جاتے ہیں جہاں وقت کچھ سست پڑ گیا ہو، اور روحانیت کی ایک ہلکی سی لہر فضا میں گھل رہی ہو۔ناول میںاسماعیل کے ذریعے صوفیانہ تہذیب کی آخری مثال سماعت کریں:
’’لوگ یہاں بلا تفریق مذہب جوق در جوق آتے تھے اور شاید انہیں تسکین ملتی تھی۔ چار پانچ سیکھوں میں پھیلا احاطہ، چاروں طرف قد آدم دیواریں، آگے کی طرف بڑا سا محراب نما گیٹ ، جس میں شٹر لگا ہوا تھا، مشرق و مغرب کا سنگم، دروازے پردربان، بڑے سے محراب نماد روازے کے بعد اونچی برجیوں والی دالان ، دالان کے دونوں طرف بڑے بڑے کمرے، پھر آگے بہت بڑا میدان، میدان کے بیچوں بیچ بلند و بالا گنبدوں والا روضہ، جس کے چاروں طرف زائرین کے بیٹھنے کے لیے بہت وسیع احاطہ، اور اُس کے بیچ حضرت کا مزار ایک خوب صورت حجرے میں، حجرے کے اندر دیواروں پر آیات اور طغرے ستریت میں گھرا ماحول … اسمعیل کو یہ سارا کچھ اپنی ذراذراسی تفصیلات کے ساتھ یا دتھا،،۔(اماوس میں خواب ،ص63)
اس اقتباس میں مزار کا منظر بہت خوبصورت اور تفصیلی طریقے سے کھینچا گیا ہے۔ بصری تصویر کشی مضبوط ہے، قاری جگہ کے اندر داخل ہونے کا احساس کرتا ہے۔ ’’بلا تفریق مذہب ‘‘اور "تسکین ‘‘کا ذکر رواداری اور روحانیت کو خوب اجاگر کرتا ہے۔ زبان سادہ مگر ادبی اور اثر انگیز ہے۔اقتباس پڑھ کر ایک پرسکون اور پاکیزہ ماحول سامنے آتا ہے۔حسین الحق کی متصوفانہ تحریریں فکشن کی طرح گہری اور فکر انگیز ہیں، لیکن وہ تصوف کو علم اور عمل دونوں کے اعتبار سے پیش کرتی ہیں۔ ان کی کتاب تفہیم تصوف اس سلسلے میں سب سے اہم ہے جو اردو قارئین کے لیے تصوف کی ایک جدید اور جامع تفہیم فراہم کرتی ہے۔ وہ عملی طور پر بھی صوفی تھے ۔دائرہ حضرت وصی الحق کے سجادہ نشین رہے اور اپنی زندگی میں صوفیانہ اخلاق کا مظاہرہ کرتے تھے۔’’تفہیم تصوف ‘‘حسین الحق کی ایک مایہ ناز کتاب ہے اس میں انہوں نے بڑی سنجیدگی ، وسیع النظری اور وسعت علمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تصوف کے مختلف مکاتب فکر، اس کے نظریاتی اور عملی پہلوؤں ، اور اس کی اسلامی روایات میں اہمیت پر روشنی ڈالی ہے ۔ خاص کر تصوف کے حوالے سے ساری پرتیں کھول دی ہیں ۔یہ کتاب 2015 میں ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی سے شائع ہوئی ہے۔ مندرجہ ذیل موضوعات پر بڑی دلکش انداز میں دلیلوں کے ساتھ گفتگو کی ہیں ۔اس میں (۱)تصوف:حقیقت اور ابتدائی ادوار (۲)کیا تصوف ایک عجمی رویہ ہے (۳)عجمیت کا شوشہ (۴) فلسفہ اور تصوف (۵) رہبانیت اور تصوف کا تصور ترک دنیا (۶) تصوف اور تعقل (۷) اشاعت اسلام میں صوفیاء کا حصہ(۸)ملی ومعاشرتی مسائل کا حل(۹) مذہب تصوف اور تہذیب (۱۰)تخلیقی دانش اور تصوف (۱۱)تصوف و شعر کے روابط (۱۲)ہزار راستے ہیں اہل دل کے(۱۳) ۔ کچھ عدم کے حوالے سے (۱۴) اہل تصوف کے تذکروں کی اہمیت وافادیت(۱۵) المجیب اور تصوف(۱۶)تصوف کے باب میں تعصب کی ایک مثال(۱۷) تصوف پر یلغار کا ایک نمونہ (۱۸)شذرات (۱۹)شرح آیت نور (۲۰)مکتوب اصدقی۔جیسے موضوعات کو احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ کتاب اردو میں تصوف کی تفہیم کے لیے ایک اہم اضافہ ہے۔حسین الحق نے تصوف کے اصل مفہوم کو واضح کرنے کے ساتھ ساتھ اس پر ہونے والے سوالات ، اعتراضات اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کی ہے اور بہت ہی معقول اور مدلل اندازمیںجواب دیا ہے ۔ تصوف پر اعتراضات و سوالات کرنے والوں نے طرح طرح کے اعتراضات ا و رسوالات کئے ۔کسی نے کہاکہ تصوف کا اسلام میں کوئی کردار نہیں ہے اسے اسلام میں زبردستی داخل کر دیا گیا ہے ۔ کسی نے کہا عہد رسالت و صحابیت میں لفظ ’’تصوف ‘‘مروج نہیں تھا ،یہ صدیوںبعد کی پیداوار ہے ،اس لئے یہ قابل قبول نہیں۔کسی نے کہاکہ خانقاہ ایک غیر اسلامی اصطلاح ہے یہ قرون ثلاثہ کے بعد کی ایجاد ہے،وغیرہ ۔کہنے والوں نے بہت کچھ کہا اور سننے والوں نے معترضین کے اٹھاتے ہوئے سوالات کے جوابات بھی دیئے۔حسین الحق نے بڑی متانت وسنجیدگی اور بالغ النظری سے جواب دیاہے :
ــ’’ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ بے مثالی تو عہد نبوت ہی تھا، اس وقت فکر نبوی کے علاوہ کسی اور فکر کی اوقات کیا تھی ؟ اس عہد اعجاز کرامت سے آگے بڑھے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کے رفقاء کار اور متبعین میں صحابہ کرام کاعہد گرامی قدر نظر آتا ہے جس کوحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد کا بہترین زمانہ قرار دیا اور جنہیں قرآن کریم نے صاحب اور صحابی کے اشرف ترین لقب سے یاد کیا ظاہر ہے کہ قرآن کریم نے صاحب اور صحابی کے اشرف ترین لقب سے یادکیا ظاہر ہے کہ قرآن کریم نے صاحب اور صحابی کے اشرف ترین لقب سے یاد کیا۔ظاہر ہے کہ قرآن کریم کے اس تخاطب کے بعد [خواہ وہ حضرت علی جیسے ممتازہ و مکرم صحابی ہی کیوں نہ ہوں جن کے واسطے سے تصوف کے تقریبا تمام سلسلے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم تک پہنچتے ہیں ]۔کسی بھی صحابی کو ’’صوفی لقب ‘‘ہونے کی کوئی ضرورت ہی نہ تھی کیوں کہ بہر حال صحابی ہونا صوفی ہونے سے زیادہ بڑا اشرف ہے ‘‘۔ تفہیم تصوف ،صفحہ۱۸۔
اس اقتباس سے مسئلہ پوری وضاحت کے ساتھ نکھر کر سامنے آگیا ۔اس کے باوجود اگر کوئی ہٹ دھرمی پر قائم ہو تو اس کے حق میں دعائے خیرہی کی جا سکتی ہے۔
یا رب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے میری بات دے اور دل ان کوجونہ دے مجھ کوزبان اور
مرزاغالبؔ
اسی طرح خانقاہ کی اصطلاح کے جواز واستحسان کے حوالے سے حسین الحق نے بڑی عمدہ اور بصیرت افروز گفتگوکی ہے ۔ لفظ خانقاہ کے حوالے سے کچھ افراد اور ادارے نے خانقاہ پر انگشت نمائی کیں ہیںاور کہا کہ خانقاہ ایک غیر اسلامی اصطلاح ہے یہ قرون ثلاثہ کے بعدکی ایجاد ہے۔ پروفیسر حسین الحق نے قرآن مقدس سورۃ الحج کی آیت۴۵ سے معتر ضین کو جواب دیا ہے۔
’’ اگر اللہ تعالی لوگوں کو آپس میں ایک دوسرے سے نہ ہٹاتارہتاتو خانقاہیں، گرجے، یہودیوں کے معبد اور وہ مسجد بھی ڈھائی جا چکی ہوتیں جہاں اللہ کا نام بکثرت لیاجاتا ہے ۔ (پارہ ،۱۷، الحج ،۴۵) میں مسجد کے ساتھ صوافع کا ذکر بھی مذکور ہے اور غیاث الغات میں وضاحت کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ ’’عبادت خانہ اہل اسلام را نیز گویند ‘‘۔ظاہر ہے کہ مساجدکے علاوہ وہ مراکز جہاں اللہ کا نام لیا جاتا ہے ، وہ خانقاہ کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ‘‘ ۔ اس پس منظر میں کوئی بھی مصنف مزاج یہ بات بہ آسانی سے تسلیم کر سکتا ہے کہ قرآن میں خانقاہ کا ذکر موجودہے ‘‘۔تفہیم تصوف،صفحہ۲۱)۔
’’اسی طرح خانقاہ دوسری زبان یا دوسری قوم کا لفظ ہو سکتا ہے لیکن اس سے اس لفظ کے خلاف اسلام ہونے کا جوازکہاں سے پیدا ہوتاہے ؟اصل چیز نام نہیں ہے، اصل چیز کام ہے ۔دیکھنے کی بات یہ ہے کہ خانقاہ سے موسوم مراکز نے کیا کام کیا‘‘۔ایضا صفحہ۲۲)۔
تصوف پر ایک الزام یہ بھی لگایا جاتا ہے کہ اسلام میں رہبانیت گوتم بدھ کی تعلیمات سے آئی ہیں جس طرح وہ تخت و تاج ٹھکرا کر جنگل کی راہ لی اور خلوت گزیں ہو گیا مسلم صوفیا بھی یہی کام کرتے ہیں، اسلام میں رہبانیت ممنوع ہے اور اس کا تصور ترک دنیا بھی خلاف شرع ہے ۔ یہ لوگ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ گوتم بدھ توخداکے وجود کا ہی منکر تھا وہ تو خدا کو مانتا ہی نہیں تھا۔ جب کہ صوفیا کی منزل تو صرف اورصرف بارگاہ الہی تک رسائی ہے،جہاں خود کو تراش وخراش کر اور اندرونی بیرونی طہارت کے بعد بارگاہ الہی میں کھڑاکرتا ہے ۔پروفیسر حسین الحق نے اس بھیانک غلط فہمی کا ازالہ بڑے سلیقے اور شائستگی سے کیا ہے وہ رقمطراز ہیں :
’’صوفیاسنت نبوی کی پیروی میں اپنی راتیں نوافل میں گزارتے تھے اور دن فرائض پنجگانہ اور سلسلے کے ا وراد ووظائف کے ساتھ خلق خدا کی خدمت میں گزارتا تھا زیادہ ترصوفیا نے متاہلانہ زندگی بسر کی، بال بچوں کی پرورش اور نگہداشت کا فریضہ انجام دیا ،بیمار کی عیادت کی ،پڑوسی سے شفقت سے پیش آئے ، اشاعت اسلام کی خاطر کی خاطر جہانیاں گشت بنے، غریبوں کی مدد کی اور غریب نواز بنے ، اللہ کے بندوں کی دم سازی کی اور بندہ نواز بنے اور یہ سارا عمل خدا کی رضا اور رسول کی تابعداری کے لیے تھا اسی لئے یہ دنیا میں شامل بھی تھے اور دنیا سے الگ بھی’’ باہمہ بے ہمہ ‘‘یہی وہ ترک دنیا جو دراصل زہدمن ا لدنیا ہے اور جس کی ہدایت و تاکید قرآن وسنت کے
ذریعے باربارہوتی رہی ہے اورجن پرنصرانی رہبانیت کے اثرات تلاش کرنا ایک کار عبث بھی ہے اور کاربغض بھی‘‘۔(ایضا ،ص:۸۶)
ان تمام حقائق کوپیش نظررکھتے ہوئے دیکھاجائے توتصوف کے حوالے سے یہ تمام الزامات بے بنیاد نظرآتے ہیں ۔ ایسے لوگوں میں ایک نام پروفیسر عبد المغنی کا بھی ہے انہوں نے اپنے ایک مضمون میں ’’اردو ادب میں مشرق کی بازیافت ‘‘ میںتصوف کے خلاف گیارہ نکاتی فارمولا تیار کیا ہے ۔ان میں سے حسین الحق نے ہر نکتہ کا ناقدانہ جائزہ لیتے ہوئے مدلل اور تشفی بخش جواب دیا ہے۔صرف ایک مثال ملاحظہ کریں:
’’(۷) بیان ۷میں مغنی صاحب کا خیال ہے کہ مولانا اشرف علی تھانوی نے مثنوی مولانا روم کی جو شرح کی ہے وہ شرعی نقطہ نظر سے محل نظر ہے ۔ میں مغنی صاحب کے اس بیان کے سلسلے میں اپنی جانب سے کچھ کہنا نہیں چاہتاصرف یہ عرض کرنا ہے کہ مولانا روم کے سلسلے میں جو نقط نظر مولانا اشرف علی تھانوی کا ہے وہی نقطہ نظر مولانا شاہ اسمعیل دہلوی، حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز ، حضرت مولانا شاہ ولی اللہ دہلوی ، حضرت شیخ محدث دہلوی اور مجدد الف ثانی امام ربانی حضرت احمد سرہند کا بھی ہے مغنی صاحب زندہ ہوتے تو پوچھتا حفت ! پتہ ہے آپ کا جملہ کتنی دور تک مار کر رہا ہے ؟ ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسمان کیوں ہو ؟ ‘‘۔(ایضا،ص:۱۸۹)
مجموعی طور پر دیکھا جائے توتمام الزامات (غیر اسلامی داخل، بعد کی ایجاد، رہبانیت، وغیرہ )بے بنیاد ہیں۔ حسین الحق نے تصوف کو قرآن، سنت اور صوفیاء کی عملی زندگی سے ثابت کیا کہ یہ تزکیہ نفس، اخلاقی کمال اور اللہ کی رضا کا راستہ ہے ۔نہ کہ بدعت یا خارجی چیز۔ حسین الحق کی کتاب’’ تفہیم تصوف ‘‘تصوف فہمی میںایک معیاری اور دفاعِ تصوف کی عمدہ مثال ہے۔حسین الحق نے اردو ادب کو ایک ایسی جہت دی جہاں ترقی پسندی، جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے ساتھ صوفیانہ فکر کا خوبصورت امتزاج ہے۔ ان کی تحریریں نہ صرف سماجی شعور بیدار کرتی ہیں بلکہ قاری کو روحانی سفر کی طرف بھی راغب کرتی ہیں۔ وہ اردو فکشن کو درد کی زبان، فکر کی زبان اور روح کی زبان بنانے والوں میں سے ایک ہیں۔
حواشی:
1۔ علی حق ،سید عینین ، مسافرکا خواب، ایم۔آر۔پبلی کیشنز،نئی دہلی،2o25ء
2۔ آہنگ ،گیا؛جولائی،اگست،1972ء ،ص28تا29
3۔اشرفی ،وہاب،بہار میں اردو افسانہ نگاری ،بہار اردو اکادمی ،1989ء،ص53
4۔حسین الحق ،اردو فکشن ہندوستان میں(جلداول)،ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس،دہلی،2014ء،ص9
5۔حسین الحق ،نثر کی اہمیت ،ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس،دہلی،2013ء ص43
6۔عالمی فلک،دہلی،شمارہ نمبر 07,08،اپریل تاستمبر،2022ء ص111
7۔اشرفی،وہاب،تاریخ ادب اردو(جلدسوم)،ص1344
8۔صغیر افراہیم ،حسین الحق کے منتخب افسانے ،ص8
10۔نفیس اقبال،تصوف اور ادب کا باہمی رشتہ،پاکستان رائٹر زکوآپریٹوسوسائٹی،لاہور2022 ء،ص1
11۔ایضاص14
12۔حسین الحق ،تفہیم تصوف،ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس ،دہلی ،2015ء ،ص18
13۔ایضاص21
14۔ایضاص86
15۔ایضاص189
16۔کوثرمظہری ،امتیاز احمد علیمی ،نیا ناول نیاتناظر (اکیسویں صدی میں)،بھارت آفیسٹ،نئی دہلی،2021ء،ص194
17۔اردو آوازدی وائس ،ویب سائٹ،اکتوبر،2022ء
18۔نقیب الہند،جنوری تامارچ،2021ء
19۔ایضاص13
20۔عبدالرحیم،حسین الحق کے افسانے ایک تنقیدی نظر،ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس،دہلی،2015ء
21 ۔ اردو ریسرچ جنرل،جولائی،(آنلائن)،۲۰۱۷ء
22 ۔ ایوان اردو،دہلی ،جلد۲۷،شمارہ ۵،ستمبر 2013ء،ص۲۶
23۔ثالث،بہار،جلد۴،شمارہ ۱۴،جنوری تادسمبر 2019ء،ص۱۲تا۱۴
Abdul Hakim
Research Scholar
Centre of Indian Languages
SLL&CS
J.N.U, New Delhi
Mob: 9508963789
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

