(حافظ)افتخاراحمدقادری، ایم اے اردو
گنا کرسک اسناتکوتر مہاودیالیہ پورن پور
اردو شاعری کی تاریخ میں بعض نام ایسے ہیں جو محض شاعر نہیں بلکہ ایک عہد، روایت اور تہذیبی شناخت بن جاتے ہیں۔ شکیل بدایونی کا شمار انہی ممتاز اور مقبول شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے نہ صرف عوام و خواص کے دلوں میں جگہ بنائی بلکہ اردو زبان کی لطافت، موسیقیت اور تہذیبی وقار کو بھی نئی جہت عطا کی۔ اگرچہ شکیل بدایونی کو عمومی طور پر ایک کامیاب فلمی شاعر کے طور پر یاد کیا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کی شخصیت کا ایک نہایت اہم اور منفرد پہلو وہ نعتیہ شاعری ہے جس نے انہیں اردو ادب اور اسلامی عقیدت کی دنیا میں ایک خاص مقام عطا کیا۔ فلمی دنیا میں نعت شامل کرنے والے پہلے شاعر کی حیثیت سے ان کا نام اردو ادب اور برصغیر کی فلمی تاریخ دونوں میں ہمیشہ احترام کے ساتھ لیا جائے گا۔
یکم اگست 1916ء کو اتر پردیش کے تاریخی اور ادبی شہر بدایوں میں پیدا ہونے والے شکیل بدایونی ایک ایسے علمی و دینی ماحول میں پروان چڑھے جہاں زبان و بیان کی چاشنی اور مذہبی اقدار دونوں موجود تھیں۔ ان کے والد جمیل احمد سوختہ قادری مذہبی مزاج کے حامل تھے اور یہی سبب تھا کہ شکیل بدایونی کے دل میں ابتدا ہی سے عشقِ رسول ﷺ کی شمع روشن ہوگئی تھی۔ بعد کے زمانے میں جب انہوں نے فلمی دنیا میں قدم رکھا تب بھی ان کے دل میں مذہبی وابستگی اور روحانی عقیدت کی وہی کیفیت برقرار رہی جو ان کی نعتیہ شاعری میں جگہ جگہ جھلکتی ہے۔
شکیل بدایونی کی شعری تربیت میں جگر مرادآبادی کی صحبت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ جگر کی سرپرستی نے ان کے ذوقِ شعر کو جلا بخشی اور انہیں کلاسیکی شعری روایت سے گہری وابستگی عطا کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں زبان کی شیرینی، جذبے کی سچائی اور موسیقیت کی وہ کیفیت نظر آتی ہے جو بڑے شعرا کا خاصہ ہوتی ہے۔ جب فلمی صنعت کو ایسے شاعروں کی ضرورت محسوس ہوئی جو ادبی وقار اور عوامی مقبولیت کے درمیان توازن قائم کرسکیں تو شکیل بدایونی اس میدان میں ایک روشن ستارے کی طرح ابھرے۔ فلمی شاعری میں ان کی آمد محض ایک پیشہ ورانہ فیصلہ نہیں تھی بلکہ اردو شاعری کی ایک نئی جہت کا آغاز تھی۔ اس زمانے میں فلمی شاعری کو سنجیدہ ادبی حلقوں میں بہت زیادہ وقعت حاصل نہیں تھی لیکن شکیل بدایونی نے اپنے فن کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ فلمی گیت بھی اعلیٰ شاعری کا درجہ حاصل کرسکتے ہیں۔ ان کے گیتوں میں زبان کی پاکیزگی، خیال کی لطافت اور جذبات کی صداقت ایسی نمایاں تھی کہ وہ عوام کے دلوں میں گھر کرگئے۔ شکیل بدایونی کی سب سے بڑی اور تاریخی ادبی خدمت یہ ہے کہ انہوں نے فلمی دنیا میں نعتیہ شاعری کا آغاز کیا۔ 1947ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’’درد‘‘ میں ان کی لکھی ہوئی نعت شامل کی گئی جسے ثریا نے اپنی آواز دی۔ یہ فلمی تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ تھا کیونکہ اس سے قبل فلموں میں اس نوعیت کا نعتیہ اظہار شاذ و نادر ہی نظر آتا تھا۔ شکیل بدایونی نے عشقِ رسول ﷺ کو فلمی دنیا کے پردے تک پہنچا کر ایک نئی روایت قائم کی۔ اس نعت کے اشعار ملاحظہ ہوں:
بیچ بھنور میں آن پھنسا ہے
دل کا سفینہ شاہِ مدینہ
بگڑی ہوئی تقدیر بنادو
ڈوبتی نیا پار لگا دو
ایک نظر مجھ پر بھی خدارا
مشکل ہے اب جینا شاہِ مدینہ
بیکس کے غم خوار تم ہی ہو
جو کچھ ہو سرکار تم ہی ہو
جی کا سکوں جی کا سہارا
دنیا نے سب چھینا شاہِ مدینہ
ان اشعار میں ایک بے بس انسان کی التجا، ایک عاشقِ رسول ﷺ کا عقیدہ اور ایک درماندہ دل کی فریاد پوری شدت کے ساتھ نمایاں ہے۔ شاعر نے نہایت سادہ مگر مؤثر زبان میں حضور اکرم ﷺ کی بارگاہ میں مدد کی درخواست پیش کی ہے۔ یہی سادگی اور اخلاص اس نعت کو عوامی سطح پر مقبول بنانے کا سبب بنا۔ شکیل بدایونی کی نعتیہ شاعری کا کمال یہ ہے کہ اس میں تصنع اور بناوٹ نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے اٹھنے والی محبت کی صدائیں سنائی دیتی ہیں۔ وہ محض لفظوں کے ذریعے عقیدت کا اظہار نہیں کرتے بلکہ ان کے اشعار میں قلبی وابستگی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نعتیں فلمی دنیا کی حدود سے نکل کر مذہبی محافل اور نعتیہ اجتماعات کا حصہ بن گئیں۔
جب شہرہ آفاق فلم ’’مغلِ اعظم‘‘ منظر عام پر آئی تو اس نے برصغیر کی فلمی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا۔ اس فلم کے گیت شکیل بدایونی نے تحریر کیے تھے۔ انہی میں ایک نعت بھی شامل تھی جسے لتا منگیشکر نے اپنی دلکش آواز میں گایا۔ یہ نعت آج بھی عقیدت اور محبت کے جذبوں کو تازہ کر دیتی ہے۔
بے کس پہ کرم کیجیے سرکارِ مدینہ
گردش میں ہے تقدیر بھنور میں ہے سفینہ
ہے وقتِ مدد آئیے بگڑی کو بنانے
پوشیدہ نہیں آپ سے کچھ دل کے فسانے
زخموں سے بھرا ہے کسی مجبور کا سینہ
بے کس پہ کرم کیجیے سرکارِ مدینہ
چھائی ہے مصیبت کی گھٹا گیسوؤں والے
الله میری ڈوبتی کشتی کو بچالے
طوفان کے آثار ہیں دشوار ہے جینا
بے کس پہ کرم کیجیے سرکارِ مدینہ
یہ نعت محض ایک فلمی گیت نہیں بلکہ عقیدت و محبت کا ایک روحانی مرقع ہے۔ اس میں شاعر نے انسانی بے بسی اور حضور ﷺ سے امیدِ کرم کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا ہے۔ الفاظ کی سادگی، جذبات کی گہرائی اور موسیقیت کی دلکشی نے اس نعت کو لازوال بنادیا۔ شکیل بدایونی کی نعتیہ شاعری کا سب سے مقبول نمونہ وہ نعت ہے جو آج بھی برصغیر کے طول و عرض میں پڑھی جاتی ہے اور نعتیہ محافل کی جان سمجھی جاتی ہے:
نہ کلیم کا تصور نہ خیالِ طورِ سینا
میری آرزو محمد میری جستجو مدینہ
مجھے دشمنو نہ چھیڑو میرا ہے جہاں میں کوئی
میں ابھی پکار لوں گا نہیں دور ہے مدینہ
میں مریضِ مصطفیٰ ہوں مجھے چھیڑو نہ طبیبو
میری زندگی جو چاہو مجھے لے چلو مدینہ
مرے ڈوبنے میں باقی نہ کوئی کسر رہی تھی
کہا "المدد محمد” تو ابھر گیا سفینہ
سوا اس کے میرے دل میں کوئی آرزو نہیں ہے
مجھے موت بھی جو آئے تو ہو سامنے مدینہ
کبھی اے شکیل دل سے نہ مٹے خیالِ احمد
اسی آرزو میں مرنا اسی آرزو میں جینا
یہ نعت دراصل عشقِ رسول ﷺ کا ایک مکمل منشور ہے۔ اس میں مدینہ منورہ کی محبت، حضور اکرم ﷺ کی غلامی پر فخر اور روحانی وابستگی کی وہ کیفیت موجود ہے جو ہر عاشقِ رسول کے دل کی آواز بن جاتی ہے۔ شکیل بدایونی کی شاعری کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ان کی اصل قوت محض نعت گوئی یا فلمی گیت نگاری تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ایک قادر الکلام غزل گو بھی تھے۔ ان کی غزلوں میں کلاسیکی روایت کی خوشبو بھی ہے اور جدید احساسات کی لطافت بھی۔ ان کے ہاں عشق محض ایک رومانوی کیفیت نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر انسانی تجربہ بن کر سامنے آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی غزلیں آج بھی مشاعروں، ادبی نشستوں اور محافلِ سماع میں یکساں مقبول ہیں۔ ان کی مشہور غزل کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:
وہی آبلے ہیں وہی جلن کوئی سوزِ دل میں کمی نہیں
جو لگاکےآگ گئےتھے تم وہ لگی ہوئی ہے بجھی نہیں
میری زندگی پہ نہ مسکرا مجھے زندگی کا الم نہیں
جسےتیرےغم سےہوواسطہ وہ بہارخزاں سےکم نہیں
تیری یاد ایسی ہے باوفا پسِ مرگ بھی نہ ہوئی جدا
تیری یاد میں ہم مٹ گئے تیری یاد دل سے مٹی نہیں
وہی کارواں وہی راستے وہی زندگی وہی مرحلے
مگر اپنے اپنے مقام پر کبھی ہم نہیں کبھی تم نہیں
نہ فنامیری نہ بقا میری مجھے اے شکیل نہ ڈھونڈیے
میں کسی کاحسنِ خیال ہوں میراکوئی وجودوعدم نہیں
اس غزل میں شکیل بدایونی کے فنی کمال کا بھرپور اظہار ملتا ہے۔ درد و الم کی تصویریں، یاد کی شدت، ہجر کی کسک اور انسانی جذبات کی نزاکت جس انداز سے ان اشعار میں سمٹ آئی ہے وہ ان کی شاعرانہ عظمت کی دلیل ہے۔ یہی سبب ہے کہ ان کی غزلیں صرف پڑھی ہی نہیں جاتیں بلکہ گائی بھی جاتی ہیں اور سامعین کے دلوں میں اتر جاتی ہیں۔ شکیل بدایونی کی فلمی شاعری پر گفتگو ان کے رفیقِ کار موسیقار نوشاد علی کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔ اردو ادب اور فلمی موسیقی کی تاریخ میں نوشاد اور شکیل کی جوڑی ایک مثالی حیثیت رکھتی ہے۔ دونوں نے مل کر ایسے شاہکار تخلیق کیے جنہوں نے فلمی موسیقی کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ ’’مغلِ اعظم‘‘ ’’بیجو باورا‘‘ ’’کوہ نور‘‘ ’’گنگا جمنا‘‘ اور متعدد دیگر فلموں کے نغمات آج بھی کلاسیکی حیثیت رکھتے ہیں۔ شکیل بدایونی کا ایک بڑا کارنامہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے فلمی شاعری کو بازاری پن سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی۔ ان کے یہاں تہذیب، شائستگی اور زبان کی نزاکت ہمیشہ برقرار رہی۔ وہ ایسے دور میں فلمی گیت لکھ رہے تھے جب فلمی صنعت تیزی سے تجارتی تقاضوں کے زیرِ اثر آرہی تھی، لیکن شکیل نے اپنے فن کو محض تفریح کا ذریعہ نہیں بننے دیا بلکہ اسے ادب اور ثقافت کی خدمت کا وسیلہ بنایا۔
ان کے شعری مجموعے ’’رعنائیاں‘‘ ’’رنگینیاں‘‘ ’’شبستاں‘‘ ’’غمِ فردوس‘‘ اور ’’صنم و حرم‘‘ ان کے فکری تنوع کے آئینہ دار ہیں۔ ان مجموعوں میں جہاں عشق و محبت کے مضامین ملتے ہیں وہاں روحانی واردات، مذہبی عقیدت اور انسانی زندگی کے مختلف پہلو بھی جلوہ گر نظر آتے ہیں۔ شکیل بدایونی نے اپنے تخلیقی سفر میں کبھی ایک ہی موضوع کو مرکز نہیں بنایا بلکہ زندگی کے مختلف رنگوں کو اپنی شاعری کا حصہ بنایا۔ ’’صنم و حرم‘‘ کا عنوان ہی اس حقیقت کی نشان دہی کرتا ہے کہ ان کے دل میں دنیاوی محبت اور روحانی عقیدت دونوں کے لیے جگہ موجود تھی۔ ان کی شاعری میں ایک طرف محبوب کے حسن کا ذکر ہے تو دوسری طرف مدینہ منورہ کی محبت بھی۔ ایک طرف انسانی جذبات کی ترجمانی ہے تو دوسری طرف عشقِ رسول ﷺ کا والہانہ اظہار بھی۔ شکیل بدایونی کی شخصیت کا سب سے نمایاں وصف ان کا اخلاص تھا۔ انہوں نے کبھی شہرت کو اپنا مقصد نہیں بنایا بلکہ فن کی خدمت کو ترجیح دی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے انتقال کے کئی دہائیاں گزر جانے کے باوجود ان کا کلام آج بھی زندہ ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ بہت سے نام تاریخ کے صفحات میں گم ہو جاتے ہیں، لیکن جو فنکار اپنے فن میں صداقت اور اخلاص شامل کر دیتے ہیں، ان کی یاد کبھی ماند نہیں پڑتی۔ 1969ء میں ان کی کلیات کی اشاعت اس بات کا ثبوت تھی کہ وہ اپنی زندگی ہی میں اردو شاعری کے معتبر اور اہم شاعر تسلیم کیے جاچکے تھے۔ یہ اعزاز ہر شاعر کو نصیب نہیں ہوتا کہ اس کے مجموعی شعری سرمایہ کو اس کی حیات ہی میں اس قدر اہمیت حاصل ہو۔ ان کی کلیات دراصل ان کے پورے فکری اور فنی سفر کا آئینہ ہے جس میں ایک حساس دل، ایک عاشقِ رسول روح اور ایک عظیم شاعر کی شخصیت پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔
20 اپریل 1970ء کو انہیں دل کا شدید دورہ پڑا جس کے بعد ان کی صحت مسلسل متاثر رہی۔ بالآخر 20 اپریل 1971ء کو اردو شاعری کا یہ روشن ستارہ غروب ہوگیا۔ ممبئی میں ان کی تدفین عمل میں آئی، لیکن ان کا فن آج بھی زندہ ہے۔ ان کی نعتیں آج بھی عقیدت مندوں کی زبان پر ہیں، ان کی غزلیں آج بھی مشاعروں میں پڑھی جاتی ہیں اور ان کے فلمی نغمات آج بھی موسیقی کے شائقین کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ اردو ادب کی تاریخ میں شکیل بدایونی کا نام کئی حوالوں سے یاد رکھا جائے گا لیکن ان کی سب سے منفرد شناخت یہ رہے گی کہ انہوں نے فلمی دنیا میں نعتیہ شاعری کا دروازہ کھولا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ عشقِ رسول ﷺ کا پیغام ہر ذریعے سے عام کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ اظہار میں اخلاص اور فن میں پختگی موجود ہو۔ ان کی نعتوں نے فلمی دنیا اور مذہبی ادب کے درمیان ایک ایسا خوبصورت رشتہ قائم کیا جو آج بھی قائم ہے۔ شکیل بدایونی دراصل اس روایت کے امین تھے جس میں ادب محض الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ تہذیب، عقیدت، احساس اور انسانیت کا آئینہ ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے محبت کو وقار بخشا، عقیدت کو زبان دی اور اردو ادب کے دامن میں ایسے نادر موتی شامل کیے جو آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ سرمایہ افتخار رہیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی اردو شاعری، فلمی ادب یا نعتیہ شاعری کی تاریخ لکھی جائے گی تو شکیل بدایونی کا نام ایک درخشاں باب کی حیثیت سے ہمیشہ زندہ و تابندہ رہے گا۔
رابطہ:8954728623
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

