’’شاہراہ ‘‘کی اشاعت اس وقت عمل میں آئی جب ترقی پسند تحریک اپنے ۱۳؍سال مکمل کر چکی تھی۔اس تحریک نے بڑی حد تک اپنے مقاصد میں کامیابی بھی حاصل کرلی تھی ،لیکن ۱۹۴۹ میں شاہراہ کا جب پہلا شمارہ منظر عام پر آیا تو ترقی پسند تحریک اس وقت ایک انتشار کی کیفیت سے دو چار تھی ،ترقی پسند تحریک کی شدت پسندی سے ناراض ہو کر بعض اہم شاعروں اور ادیبوں نے خود کو اس تحریک سے الگ کرلیا اور’’ حلقہ ارباب ذوق ‘‘سے وابستہ ہوگئے۔ ترقی پسند تحریک سے وابستہ چند شاعروں کی شدت پسندی نے ادب کو ایک پروپیگنڈہ بنادیا اور دوسرے ادیب بھی آہستہ آہستہ اس تحریک سے دور ہونے لگے۔یہاں تک کہ ادیبوں کی ایک جماعت نے تحریک کو بند کرنے تک کا مشورہ بھی دے دیا۔ایسے وقت میں شاہراہ کا منظر عام پر آنا اور ترقی پسند تحریک کی ترویج واشاعت از سر نو کرنا ایک غیرمعمولی کارنامہ ہے۔ شاہراہ ایک ادبی رسالہ تھا جس کے ابتدائی شماروں کے سر ورق پر ’’ترقی پسند مصنفین کا دوماہی ترجمان ‘‘درج ہوتا تھا جس سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ شاہراہ ایک ترقی پسندرسالہ تھا ۔
شاہراہ میں شائع ہونے والے مضامین ’ترقی پسند تنقید‘ کی سمت و رفتار کا پتہ دیتے ہیں۔ ترقی پسند تنقید کی کوئی گفتگو شاہراہ کے مضامین کے حوالے کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔اس وقت کے تمام اہم نقادوں کے مضامین شاہراہ کی زینت ہوا کرتے تھے۔احتشام حسین، ممتاز حسین، علی سردار جعفری،محمد حسن، عبادت بریلوی، وارث علوی، وامق جونپوری،مسیح الزماں،دیویندر اسّر، ظ۔ انصاری، خلیل الرحمن اعظمی اور باقر مہدی وغیرہ کے مضامین خاص طور پر اہمیت رکھتے ہیں۔مجموعی طور پر ان کی تحریریں ہی ترقی پسند تنقید کا سرمایہ ہیں۔شاہراہ کے مضامین کااہم مقصد ایک صحت مند ادبی فضا کوقائم کرنا تھا۔
’ترقی پسند مصنفین‘ کی چھٹی کانفرنس کی روداد ڈاکٹر رام بلاس شرما نے انگریزی زبان میں لکھی تھی اور اسے ۶؍مارچ ۱۹۵۲ کو تقسیم کیا گیا تھا، بعد میں اس مضمون کا اردو ترجمہ ’’شاہراہ‘‘ میں شائع ہوا۔ڈاکٹر رام بلاس شرما کی یہ رپورٹ اس معنی میں اہم ہے کہ انہوں نے اس میں ترقی پسند تحریک کی کارگزار یوں کا ابتداسے ترقی پسند مصنفین کی چھٹی کانفرنس تک کا ذکر تفصیل سے کیا ہے۔ رپورٹ میں ترقی پسند تحریک کی بے پناہ مقبولیت کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہا گیاہے کہ ترقی پسند تحریک ایک ادبی تحریک تھی مگر اس نے زیادتیوں اور مظالم کے خلاف آواز بلند کی اور عوام کی بہادری کو سراہا۔
اس رپورٹ میں کچھ ضمنی عنوانات قائم کئے گئے ہیں۔ ان میں پہلا عنوان ’’بنیادی کام یہ ہے‘‘ ہے۔ مشہور فلسفی ’’زادونوف ‘‘نے کہا تھا کہ ’’کلچر اور آرٹ کے جو نمائندے خود کو نہیں پہچانتے اور جو لوگوں کی ضروریات کو پورا نہیں کرتے وہ لوگوں کا اعتماد کھو بیٹھتے ہیں۔ ‘‘ترقی پسند ادیبوں نے زادونوف کے اس نظریے کی حمایت کی ۔ظاہر ہے جب ہر طرف ظلم وزیادتی کا دور دورہ ہو، سامراجی طاقتیں ظلم اور دہشت پھیلا رہی ہوں اور وہی سامراجی طاقتیں جب ہماری قومی تہذیب کی محافظ بن گئی ہوں تو ایسے میں ایک ادیب کا خاموش تماشائی بنے رہنا ممکن نہیں تھا۔آزادی سے قبل اور آزادی کے بعد بھی انگریزی زبان کو شاہی اقتدار حاصل تھا اور ہمیشہ یہ خیال کیا گیا ہے کہ انگریزی کی لیاقت میں کمی سے تعلیم کا معیار پست ہوجاتا ہے ۔ترقی پسند ادیبوںنے انگریزی زبان کی مقبولیت کو ادب کی پستی تصور کیا ۔ڈاکٹر رام بلاس شرما نے اپنی رپورٹ میں اس کا ذکر بھی کیا ہے ۔وہ لکھتے ہیں :
’’وہیں انگریزی کو اب بھی شاہی اقتدار حاصل ہے ایسے لوگ بھی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ انگریزی کی قابلیت کم ہو تو تعلیمی معیار گرجاتا ہے۔جہاں تک ادب کا تعلق ہے برطانیہ اور امریکہ میں ادب پر زوال آچکا ہے جو عام پسند فن کار ی اور خوبصورتی پیش کرے ،گھٹیا درجے کے ناول،دہشت وقتل،غارت گری اور جاسوسی کے قصے تیزی سے بڑھتے جارہے ہیں اور وہی ادب ہمارے یہاں بکھیرا جارہا ہے ۔‘‘
(رپورٹ، ڈاکٹر رام بلاس شرما کل ہند انجمن ترقی پسند کانفرنس نمبر ۱۹۵۳)
اس اقتباس سے دوباتیں سامنے آتی ہیں، اول یہ کہ ترقی پسند ادیب انگریزی زبان وادب کی مقبولیت کو برا سمجھتے تھے کیونکہ ان کے مطابق انگریزی ادب کے نام پر غیر معیاری چیزیں بھی اپنائی جارہی تھیں۔ دوسری بات یہ کہ لوگ اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے مگر انگریزی تعلیم ان پر زبردستی تھوپی جارہی تھی۔ اہم سوال یہ ہے کہ ترقی پسند ادیب کی انگریزی سے بے اعتنائی کس حد تک ٹھیک تھی ؟دراصل ترقی پسند ادیب ایک خاص نظریے کے حامل تھے ۔وہ ایک خاص قسم کا ادب پسند کرتے تھے اور وہ ادب جو ان کے نظریے کے خلاف تھا، عموماََ اس کے معیار پر سوالیہ نشان لگادیتے۔ ایسے میں انگریزی ادب کے معیار پر ڈاکٹررام بلاس شرما کا یہ کہنا کہ یہ غیر معیاری ہے پوری طرح صحیح نہیں ۔ مذکورہ رپورٹ کا دوسرا حصہ’’ امن اور قومی آزادی‘‘ کی حمایت میں ہے۔ ترقی پسند ادیب نے خود کو امن اور جمہوری آزادی کا پیامبر بتایاہے ۔ ڈاکٹر رام بلاس شرمالکھتے ہیں :
’’ترقی پسند ادیب جنگ اور امن کے مقابلے میں غیر جانب دار نہیں ہیں اپنے پیش رو رابندر ناتھ ٹیگور ،اور پریم چند کی طرح ہم بھی اس کی حمایت میں ثابت قدم ہیں ،کچھ لوگ عجیب عجیب اعتراض کرتے ہیں کہ ترقی پسند ادب کا اور امن یا قومی آزادی کے سوال کا کیا رشتہ ہے؟کچھ اسے کمیونسٹوں کا نمائندہ کہتے ہیں اور کچھ کہتے ہیں کہ سیاسی معاملہ ہے ۔کچھ کا کہنا ہے کہ اس سوال پر تمام ادیب متحد نہیں ہوسکتے ۔کمیونزم کی دشمنی کے نام پر ایسے تمام کام جو کیے جاتے ہیں وہ ترقی پسند ادیبوں کو ادب میں امن وآزادی کی حمایت کرنے سے نہیں روک سکتے ۔‘‘
(رپورٹ ،ڈاکٹر رام بلاس شرما کانفرنس نمبر ۱۹۵۳)
امن کی حمایت کرنے والے ادب سے بھلا کون انکار کرسکتا ہے مگر رابندر ناتھ اور پریم چند کو اپنا پیش رو بتانے والے ترقی پسند ادیب نے صرف امن کی حمایت کی ہو ایسا نہیں ہے۔ڈاکٹر رام بلاس شرما کے اس خیال سے سوال قائم کیے جاسکتے ہیں کہ آخر ان کی نظر میں امن سے کیا مراد ہے؟موجودہ دور میںامریکہ پوی دنیا کو اپنے بموں اور میزائل سے تباہ کرنے پر آمادہ ہے مگر امریکہ کی دلیل ہے کہ وہ اس طرح دنیا میں امن و امان قائم کرنا چاہتا ہے ۔ اہم سوال یہ ہے کہ رام بلاس شرما کس طرح کے امن کی وکالت کررہے ہیں؟کیونکہ ترقی پسندوں کے یہاں بھی خون خرابے کا ذکر ممنوع نہیں تھا۔مجاز کے اس شعر پر غور فرمائیے :
شراب کھینچی ہے سب نے غریب کے خوں سے
تو اب امیر کے خوں سے شراب پیدا کر
اس شعر پر غورکرنے سے تو یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ترقی پسند شاعروں نے سرمایہ داروں کے خلاف زہر افشانی اور خون خرابے کی بات کی ہے۔ ترقی پسندوں کے یہاں ایسے بہت سے اشعار مل جائیں گے جن میں سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے خلاف سخت لہجہ اختیار کیا گیا ہے۔
رپورٹ کا سب سے اہم حصہ ’’ترقی پسند ادب کیوں ؟‘‘ہے۔مضمون کے اس حصے میں یہ جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ ادب ترقی پسند ہی کیوں ہو؟ صرف ادب کیوں نہیں؟ اور انجمن ترقی پسند مصنفین کیوں؟ انجمن مصنفین کیوں نہیں ۔ ڈاکٹر رام بلاس شرمالکھتے ہیں :
’’ادب ترقی پسند بھی ہے رجعت پرست بھی، عوام کا حامی بھی ہے،اور ان کو دبانے والوں کا حامی بھی ،یہ سمجھنا غلط ہے کہ ادب سب کی برابر خدمت کرتا ہے اور اس کے درمیان امتیاز یا تفہیم نہیں ہوسکتی ۔ جو لوگ جمہوری اور غیر جمہوری ادب کے درمیان فرق ہونے سے انکار کرتے ہیں وہ دراصل ادب میں خیالات کی اہمیت کے منکر ہیں۔ایسے لوگ فن برائے فن کے حامی ہوتے ہیں جو نہ ہماری ادبی روایت سے میل کھاتا ہے اور نہ عوام کے لیے مفید طلب ہے۔ ‘‘
(رپورٹ ،ڈاکٹر رام بلاس شرما کانفرنس نمبر ۱۹۵۳)
ایک سوال جو ترقی پسند ادیبوں سے کیا جاسکتا ہے کہ فن برائے فن سے انہیں اتنی نفرت کیوں تھی؟ ادب برائے زندگی کے نام پر چند ترقی پسند تخلیق کاروں نے جس طرح ادب کو نقصان پہنچایا وہ ناقابل بیان ہے۔سوال اب بھی قائم ہے کہ ادب برائے زندگی ہی کیوں؟ پریم چند کے افسانوں اقبال اور فیض کی شاعری میں بھی عوام کی حمایت اور ان کی طرفداری نظر آتی ہے مگرمجموعی طور پر اس سے فن مجروح نہیں ہوتا ہے۔
یہ بات تکرار کے ساتھ کہی گئی ہے کہ ’’شاہراہ ‘‘ترقی پسند وں کا ترجمان تھا۔ لہذا شاہراہ میں شائع ہونے والے مضامین کا مزاج بھی ترقی پسند انہ تھا ۔اس میں ایسے بہت سے مضامین شائع ہوئے جو دوسری زبانوں سے ترجمہ کیے گئے تھے ۔ان مضامین کی اشاعت سے ترقی پسند نظریے کوقوت ملی۔ ان ترجمہ شدہ مضامین کی فہرست میں وی لیسس کا مضمون بھی شامل ہے جو شاہراہ میں ’’ادیب اور نئی حقیقت‘‘کے عنوان سے شائع ہوا۔وی لیسس کتھونیا کے مشہور ادیب ہیں ۳۵۔۱۹۳۰ کے قریب ان کے مضامین منظر عام پر آنا شروع ہوئے۔ ان کی دو تحریریں طوفان (Storm) اور نئے ساحل کی طرف (To the new shore)شائع ہوکر مقبولیت حاصل کرچکی ہیں ۔وی لیسس کا مذکورہ مضمون جسے مسعود الحق نے ترجمہ کرکے ’’ادیب اور نئی حقیقت ‘‘کے عنوان سے شائع کیا۔یہ مضمون بنیادی طور پر ترقی پسند تحریک سے متعلق ہے ۔مذکورہ مضمون میں روسی ادب کا تفصیل سے جائزہ لیاگیا ہے ۔اس مضمون کو پڑھ کریہ پتہ چلتا ہے کہ روسی عوام اپنے ادب سے باخبر تھے،روسی عوام کسی فن پارے پر جس طرح کی تنقید کرتے تھے اس سے ان کے تنقیدی شعور کا اندازہ لگانا آسان ہوتاہے۔ تخلیق کے منظر عام پر آتے ہی عوام ادیب سے فن پارے کے متعلق مختلف قسم کے سوالات کرتے تھے اور ادیب کی یہ ذمہ داری ہوتی تھی کہ وہ عوام کے سوالوں کا جواب دیں ۔لہذا اگر کوئی ادیب محض رسمی طور پر لکھنے کی کوشش کرتا تو اسے کوئی خاص توجہ یا اہمیت نہیں دی جاتی تھی۔
وی لیسس نے اپنے مضمون میں کردار نگاری پرخاص توجہ دی ہے ان کے مطابق سوویت ادب میں مثبت اور منفی کرداردراصل سوویت سماج کے ترقی پسند عناصر کی عکاسی کرتا ہے۔ سوویت ادب میں ہیرو کے کردار کو مثبت دکھانے کی ایک بڑی وجہ سماج کی از سر نو تشکیل ہے ۔بقول وی لیسس :
’’مثبت کرداروں کے ذریعہ ہم پورے سماج خاص طور پر نوجوانوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہمارے سماج میں کس قسم کے انسانوں کی ضرورت ہے۔ ‘‘
(مضمون،ادیب اور نئی حقیقت :مترجم مسعود الحق،اگست ۱۹۵۳ )
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اصل زندگی کے کردار یک رخہ ہوتے ہیں ؟سوویت ادیب کے پیش نظر مثبت کرداروں کو پیش کرنے کی خواہ کوئی بھی وجہ رہی ہو مگر جب سماج میں مثالی اور جامد لوگ نہیں ہوتے تو افسانے اور ناول میں مثالی کردار کو پیش کرنے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے ؟ہم ناول اور افسانے کے کردار کو حقیقی زندگی میں بھی تلاش کرتے ہیں ایسے میں یک رخہ کردار پیش کرکے ادب اور عوام کے رشتوں کو کس حد تک مضبوط کیا جاسکتا ہے اس پر بھی غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔
ادب کی زبان کیسی ہو؟اس سلسلے میں بھی وی لیسس نے جو باتیں اپنے مضمون میں پیش کی ہیں وہ اہم ہے۔ان کے مطابق ناول اور افسانے کی زبان آسان اور عام فہم ہونی چاہئے جس سے عام آدمی کو کسی طرح کی دشواری پیش نہ آئے۔وی لیسس نے ان ناقدوں پر بھی تبصرہ کیا ہے جو ادب میں صحافتی زبان کے استعمال کو غلط مانتے ہیں وی لیسس کا ماننا ہے کہ زبان کو خوبصورت بنانے کی کوشش میں اسے مشکل نہیں بنانا چاہئے اقتباس ملاحظہ کیجئے:
’’اچھا صحافتی طرز تحریر ہر طرح کے خیالات کے اظہار کے لئے بہترین ذریعہ ہوتا ہے ۔اس کے ذریعہ ہم ادبی خوبیوں کو دھکا پہنچائے بغیر تفصیل اور اختصار دونوں کے ساتھ خیال کو پیش کرسکتے ہیں ۔اگر ادیب اپنے خیالات کو مشکل اور بے تکی خوبصورتی کی خاطر صیقل نہ بنادے تو اس طرح پیش کرتے ہوئے خیالات لوگوں کی سمجھ میں زیادہ اچھی طرح اور آسانی سے آجاتے ہیں ۔‘‘
(مضمون،ادیب اور نئی حقیقت :مترجم مسعود الحق،اگست ۱۹۵۳ )
وی لیسس کی یہ بات ایک حدتک صحیح ہے کہ ادب کی زبان عام فہم ہونی چاہئے بے جا استعارات وتشبیہات کے استعمال سے کبھی کبھی پیچیدگی آجاتی ہے ۔ وی لیسس کا مذکورہ مضمون ترقی پسند تحریک کی ضرورت اور اہمیت کو واضح کرتا ہے ۔
ڈاکٹر عبدا لعلیم کا شمار ترقی پسند ناقدوں میں ہوتا ہے۔مضمون ’’اردو ادب کاجدید تصویر ‘‘ڈاکٹر عبد العلیم کا ایک مختصر انگریزی مضمون ہے جسے یوسف شکیل نے رسالہ شاہراہ کے لیے خاص طور پر ترجمہ کیا۔ یہ مضمون شاہراہ کے مئی ۱۹۶۰ کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔رسالہ شاہراہ کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس رسالے میں انگریزی کے ساتھ دنیا کی دوسری اہم زبانوں کے مضامین کے تراجم شائع کیے جاتے تھے ۔ان تراجم سے بھی اردو ادب کے ذخیرے میں اضافہ ہوا۔ عبد العلیم نے اس مضمون میں اردوادب کی مختصر تاریخ پیش کی ہے۔شاید یہ مضمون انگریزی داں طبقہ کے لیے انگریزی زبان میں لکھا گیا تھا ۔ ڈاکٹر عبد العلیم نے جدید اردو کا آغاز فورٹ ولیم کالج سے کیا ہے ۔ڈاکٹر عبد العلیم نے اپنے مـضمون میں فورٹ ولیم کالج کا ذکر تو کیا ہے مگر ان کے مصنفین اوران کی تصانیف کا ذکر نہیں کیا اگر انہوں نے فورٹ ولیم کالج کے مصنفین اور تصانیف کا ذکرکیا ہوتا تو بہتر ہوتا۔ کسی ادارے یا کسی تحریک کوصرف اہم کہہ دینا کافی نہیں ہے،اس کے لیے ان وجوہات پر بھی روشنی ڈالنے کی ضرورت ہوتی ہے جن کی وجہ سے وہ اہم ہوجاتی ہیں ۔میر امن کے باغ وبہار کا ذکر خاص طور پر کیا جانا چاہئے تھا ۔علی گڑھ تحریک سے وابستہ ادیبوں اور ان کی تصانیف کا ذکر تو ڈاکٹر عبد العلیم نے ـضرور کیا ہے لیکن مضمون مجموعی طور پر انتشار کے نذر ہوگیا ہے۔ سر سید کا ذکر کرتے ہوئے انہیں غالب اور مومن کی یاد آتی ہے اور فوراً حالی،نذیر اور شبلی کا ذکر آجاتاہے۔ پورے مـضمون میں ایک بات جو باربارکھٹکتی ہے وہ ہے تسلسل کا فقدان اور تفصیل سے اجتناب۔مگر مجموعی طور پر یہ مضمون ان لوگوں کے لیے مفید اور کار آمدہے جو تاریخ ادب اردو سے کم یا بالکل واقف نہ ہو ۔
شاہراہ میں عبد العلیم کا ایک مضمون بعنوان ’’ترقی پسند ادیب آج کیا کریں ‘‘بھی شائع ہوا تھا۔ یہ مضمون اکتوبر،نومبر ۱۹۴۹ کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔ڈاکٹر عبد العلیم نے اپنے مضمون کے ذریعہ ترقی پسندوں کو فرضی وطن پرستی پروپیگنڈہ سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے ۔یہ مضمون اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ عبدالعلیم نے اس مضمون کے ذریعے ترقی پسندوں کو آگاہ کیا کہ مقاصد کی حصولیابی ضروری ہے مگر قدیم ادبی اور تہذیبی روایت کو نظر انداز کرنا غیر مناسب ہے۔ انہوں نے ترقی پسند وں کو مشورہ دیا کہ وہ ترقی پسند ادب کا جائزہ غیر جانب دار ہوکر لیں ۔
ممتاز حسین اہم ترقی پسند نقاد ہیں ۔ان کے مضامین سے ترقی پسند تنقید کو نظری اساس بھی ملی اور بہت سی غلط فہمیاں بھی دور ہوئیں۔ان کے علمی و ادبی مضامین سے ترقی پسندفکر کی وضاحت بھی ہوئی اور ان غلط فہمیوں کا ازالہ بھی ہوا جو ترقی پسند ادب پر لگائے گئے تھے ۔ مضمون ’’ٹکنیک‘‘اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ اس مضمون میں ممتاز حسین نے شاعری کے اہم عناصر کا ذکر کیا ہے۔ان کے مطابق شعر وادب ایک تخلیقی عمل ہے لیکن اس کے کچھ اصول بھی ہیں جن کا خیال رکھنا ضروری ہے ۔ممتاز حسین اپنے مضمون کے آغاز میں لکھتے ہیں :
’’فنون لطیفہ ہو یا شعرو ادب ان میں سے کوئی بھی تو اضطراری تخلیق ہے اور نہ جبلی :بلکہ ایک شعوری تخلیق ہے جو پابند ہوتی ہے ان قوانین کی جو صورت ومعنی کی باہمی کشمکش یا اندرونی تضاد کی بنا پر ارتقا کرتے رہتے ہیں ۔اگر وہ قوانین خارج میں انسان کی نیت سے آزاد ہوکر عمل پیرا ہیں۔ تخلیق مظہر کے ادراک کا نتیجہ ہیں اور کسی پارلیمنٹ کے قوانین نہیں ہیں تو ان سے آزاد ہوکر یا بزعم خود انہیں منسوخ کرکے اول تخلیق وجود میں نہیں آسکتی ہے ۔اگر اس موقع پر کوئی ساتھی اس بات کی طرف توجہ دلائے کہ ادب مخصوص اقتصادی بنیاد کے اوپر ی ڈھانچے (Super structure)کا جزو ہے جو اپنی اقتصادی بنیاد کی تنسیخ کے ساتھ ڈھ پڑتا ہے تو اسے تسلیم کرنا چاہئے لیکن اسی کے ساتھ عرض کرنا چاہئے کہ اس موقع پر ہمیں چند باتوں کو فراموش نہیں کرنا چاہئے ۔پہلی بات تو یہ کہ ڈھہتا وہی حصہ ہے جو انحطاطی ہوتا ہے ورنہ تہذیبی ورثے کو تنقیدی انداز سے ہضم کرنے کے کوئی معنی نہیں ہیں ۔ دوسری چیز یہ کہ جس طرح آئیڈ یلوجی کی تشکیل میں صورت کو کافی اہمیت حاصل ہے تیسری بات یہ کہ ادب جو طبقاتی مظہر ہونے کی جس حد تک خارجی صداقت یا سائنس کی اسپرٹ سے قریب ہوتا ہے وہ طبقاتی مظہر ہونے کے باوجود مظہر بن جاتا ہے ۔‘‘
(ٹکنیک۔ممتاز حسین۔جنوری،فروری ۱۹۵۳)
یہ حقیقت ہے کہ ادب ہو یا زندگی کی دوسری چیزیں زوال اسی پر آتا ہے جس کی بنیاد کمزور ہوتی ہے اور ادب بنیادی طورپر سماج سے وابستہ ہوتا ہے ۔ شاعری کے بارے میں اکثر کہا جاتا رہا ہے کہ یہ الہام ہوتی ہے اورجو شاعری کسی خاص مقصد کی تکمیل کے لیے کی جاتی ہے اس میںاکثر وہ فنی رچاؤ نہیں ہوتاجو اچھی شاعری کے لیے ضروری ہے۔ جس شاعری میںخیال کے بجائے لفظوں پرزور دیا جائے وہ محض لفظوں کا کھیل بن کر رہ جاتی ہے۔
ترقی پسند وں کا معاملہ ذرا الگ تھا،ان کے پیش نظر ایک خاص مقصد تھا جس کی حصولیابی کے لیے انہوں نے ایک خاص قسم کے ادب کو پیش کیا،لہذااس مقصد ی ادب کے نام پر بہت سے ترقی پسند شعرا نے ایسی تخلیقات پیش کیں جن میں فنی لوازم کا خیال پوری طرح نہیں رکھا گیا۔مگر ترقی پسندتحریک سے وابستہ تمام ادیبوں نے فنی لوازمات کو نظر انداز کیا ہو ایسا نہیں ہے۔ اس وقت ایک ایسا طبقہ موجود تھا جو ادب کے سماجی سروکار کو اہمیت دینے کے ساتھ ساتھ ادبیت اور شعریت کو بھی یکساں اہم قرار دیتا تھا۔
ممتاز حسین کا مضمون ’’ٹکنیک‘‘ان بنیادوں پر قائم ہے کہ ترقی پسند نظریہ ادب میں’’ادب‘‘ کا مطالعہ کن اصولوں کے تحت کیا جاتا ہے۔شاعری کیسی ہو ،ناول اور افسانے کاپلاٹ ،کردار، اور انداز بیان کیسا ہو اس بات کی وضاحت بھی اس مضمون میں موجود ہے ۔مگر تکنیک کا جاننا اور اس کو فنی انداز میں پیش کردینا دو مختلف بات ہے ۔ممتاز حسین نے تکنیک کے سلسلے میں جو بات کہی وہ ان کے ترقی پسند نظریات سے بے پناہ لگاؤ کا پتہ دیتی ہے ۔وہ لکھتے ہیں :
’’۔۔۔۔جس طرح صرف زبان پر مہارت حاصل کرنے سے کوئی شخص ادیب نہیں بن سکتا حالانکہ ادیب بننے کے لیے زبان پر مہارت حاصل کرنا ضروری ہے اسی طرح صرف تکنیک پر مہارت حاصل کرنے سے کوئی شخص ادیب نہیں بن سکتا گو بعض وقت ادب کا تاجر کسی نہ کسی صنف میں بن جاتا ہے لیکن ادب کا تاجر ادیب نہیں ہواکرتا کیونکہ ادبی تخلیق سماجی ضرورتوں کے فوری دبائو سے آزاد ہوکر وجود میں آتی ہے یہ اس وقت وجود میں آتی ہے جب کہ اس میں اپنے سماج میں کسی کو ٹوکنے ،کسی کو روکنے اور کسی کے ساتھ ہوکر آگے بڑھنے اور مجموعی حیثیت سے بنی نوع انسان کے ساتھ محبت کرے ۔۔۔۔۔‘‘
(ٹکنیک۔ممتاز حسین۔جنوری،فروری ۱۹۵۳)
اگر چہ ممتاز حسین کا انداز خالص ترقی پسندانہ ہے مگر اس کے باوجود ادبی نقطہ نظر سے یہ ایک اہم مضمون ہے۔ شاہراہ میں ممتاز حسین کے کئی دوسرے مضامین بھی شائع ہوئے ان میں ’’نئی اور پرانی شاعری کا فرق ‘‘ بھی ہے۔اس مضمون میں ممتاز حسین نے فلسفیانہ انداز اختیار کرتے ہوئے نئی اور پرانی شاعری کے فرق کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ ممتاز حسین کے نزدیک نئی شاعری سے مراد ترقی پسند شاعری ہے ۔اس مضمون کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس میں ممتا ز حسین نے جہاں نئی اور پرانی شاعری کے فرق کو واضح کیا ہے وہیں انہوں نے ترقی پسند شعرا کو کلاسیکی سرمایے سے استفادہ کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے ۔
ممتاز حسین کا ایک مضمون بعنوان’’تنقید اور نئی تنقید‘‘بھی ہے ۔رسالہ’ نقوش ‘کا آزادی نمبر شائع ہوا تھا اس خصوصی شمارے میں محمد مہدی کا ایک تنقیدی مضمون شامل تھا۔محمد مہدی کا مضمون دراصل ممتا ز حسین کے مضمون ’’ادب عالیہ سے متعلق ‘‘پر ایک تفصیلی نوٹ تھا۔ محمد مہدی نے اپنے نوٹ میں ممتاز حسین کے مضمون پر کچھ سوالات قائم کیے تھے اور کہیں کہیں اختلاف بھی کیا تھا۔ ممتا ز حسین نے اپنے مضمون ’’تنقید اور نئی تنقید‘‘میں محمد مہدی کے سوالات اور اعتراضات کا جواب دینے کے ساتھ ساتھ اپنے نظریات کی وضاحت بھی کی ہے ۔
ممتاز حسین کا ایک اہم مضمون ’’انسان اور حیوان ‘‘ ہے۔اس میں انہوں نے ترقی پسند تحریک کی حمایت کرتے ہوئے ان ادیبوں کے نقطۂ نظر کی تردیدکی ہے جس میں ترقی پسند عناصر کو غیر ضروری بتایا گیا ہے ۔ممتا ز حسین نے رجعت پسندوں کے اس نظر یے کورد کیا ہے جس میں انسان کو بنیادی طور پر حیوان بتایا گیا ہے ۔اس نقطہ نظر کے مطابق چونکہ انسان بنیادی طور پر حیوان ہے لہذا ظلم اور تشدد اس کی سرشت میں داخل ہے۔ اس خیال کی پرزور تردید کرتے ہوئے ممتا ز حسین نے آزادی اور انسانی حقوق کی وکالت کی ہے۔
شاہراہ میں ممتاز حسین کے بہت سے مضامین شائع ہوتے رہے تھے ۔ممتاز حسین کا شمار ان ترقی پسند نقادوں میں ہوتا ہے جنہیں بقول خلیل الرحمٰن اعظمی صحیح معنوں میں مارکسی نقاد کہا جاسکتا ہے ۔ یوں تو مارکسی ہونے کا دعویٰ بہت سے لوگوں نے کیا مگر ممتاز حسین کے بارے میں یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے کارل مارکس کی تھیوری کو سمجھا ۔شاہراہ میں شائع ان کا مضمون ’’نیا ادبی فن ‘‘ہے۔ اس مضمون میں ممتا ز حسین نے ادب کے موضوع اور مواد کی اہمیت کو واضح کرنے کے ساتھ ساتھ طرز اد ا اور اس کی قدر وقیمت کی وضاحت کی ہے ۔
ادب اور شاعری محض دل لگی کا سامان نہیں ۔اچھا ادب وہی ہے جس میں وہ تمام خصوصیات موجود ہوں جن کا براہ راست تعلق ہماری زندگی،ہماری تہذیب اورہماری ثقافت سے ہو۔ترقی پسند شاعرو ادیب نے ’’ادب برائے زندگی ‘‘کے اپنے قول کو برقرار رکھنے کی ہمیشہ کوشش کی ۔ ڈاکٹر سلامت اللہ کا مضمون ’’اردو کی شاعری میں امن کا موضوع‘‘اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ڈاکٹر سلامت اللہ نے ادب کی افادیت ، ضرورت اور اہمیت پر روشنی ان لفظوں میں ڈالتے ہوئے وہ لکھتے ہیں :
’’ادب صرف زندگی کی جھلکیوں کو ہی نہیں دکھاتا ،وہ اس کی نوک بھی سنوارتا ہے اور ادب زندگی کو نکھارنے اور حسن کو نکھارنے کا ایک کار آمد آلہ ہے وہ خضر راہ بنکر ان غاروں ،دلدلوں سے بھی آگاہ کرنا ہے جو زندگی کی شاہراہ میں حائل ہیں اور لہلہاتی وادیوں اور سخن زاروں سے بھی روشناس کراتا ہے اور انہیں حل کرنے کا شعور بھی بخشتا ہے کسی ادب کی پختگی کو پرکھنے کی یہی ایک کسوٹی ہے کہ وہ کتنی سچائی اور شدت کے ساتھ اپنے اس اہم فریضے کو پورا کرتا ہے ۔‘‘
(اردو شاعری میں امن کا موضوع ،ڈاکٹر سلامت اللہ ،جنوری،فروری ۱۹۵۳)
ڈاکٹر سلامت اللہ کا مضمون ’’اردو شاعری میں امن کا موضوع‘‘تاریخی لحاظ سے بھی اہمیت رکھتا ہے، کیوں کہ جس وقت یہ مضمون لکھاگیاتھا اس وقت پوری دنیا دوسری جنگ عظیم سے متاثر تھی۔ڈاکٹر سلامت اللہ نے انتشار اور بے چینی کو ایک سنگین مسئلہ قرار دیا۔وہ لکھتے ہیں :
’’موجودہ عہد کا سب سے بڑا مسئلہ امن ہے اس وقت دنیا کی امن کی نائو پھر ڈانواں ڈول ہو رہی ہے ۔دنیا کی رجعت پرست قوتیں اسے ڈبونے کی سازش کررہی ہیں اگر یہ سازش کامیاب ہوگئی تو ساری انسانی زندگی تباہ ہوجائے گی ۔‘‘
(اردو شاعری میں امن کا موضوع ،ڈاکٹر سلامت اللہ ،جنوری،فروری ۱۹۵۳)
جس وقت کا ذکراس مضمون میں کیا گیا ہے پوری دنیا ایک خوف کے عالم میں زندگی گزار رہی تھی ۔ اس وقت بھی ادیبوں کا ایک ایسا گروہ تھا جو امن کی بات کررہا تھا اور ڈاکٹر سلامت اللہ بھی ادیبوں کی اسی فہرست کا حصہ تھے ۔انہوں نے اردو شاعری میں امن کے موضوع کو عنوان بنایا، مگر پوری اردو شاعری کا جائزہ لینا ایک مضمون میں مشکل ہے،انہیں بھی اپنے موضوع کی وسعت کا اندزاہ تھا۔وہ لکھتے ہیں :
’’اس مـضمون میں امن کے اتنے وسیع مفہوم کو لے کر نظموں کا تجربہ کرنا ممکن نہیں ہے ،یہاں ہم صرف ان نظموں تک اپنے مباحثے کو محدود رکھیں گے جن کا موضوع براہ راست عالمی امن کے کسی پہلو سے متعلق ہے یعنی جن میں دنیا کے مختلف ملکوں کے درمیان امن قائم رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے ۔‘‘
(اردو شاعری میں امن کا موضوع ،ڈاکٹر سلامت اللہ ،جنوری،فروری ۱۹۵۳)
دوسری عالمی جنگ (1939-45)کے بعد حالات ناسازگار تھے اور جن ملکوں میں نئی جنگ چھڑنے کا خطرہ بدستور قائم تھا وہاں کے دانشوروں اور ادیبوں نے وقت کی نزاکت اور عالمی جنگ کے خطرے کے پیش نظر امن کے مسئلے پر غور وخوض شروع کیا۔وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ علم وفن سے بھی انسانی زندگی بچائی جاسکتی ہے اور امن کا ماحو ل قائم کیا جاسکتا ہے۔ہندوستان چونکہ غلامی کی زنجیر میں جکڑا ہوا تھا لہذا یہاں کے ادیبوں نے بھی اس مسلئے پر سنجیدگی سے غور کیا اور امن کے موضوع پر مضامین قلم بند کیے۔رسالہ‘‘نقوش ‘‘ کاعالمگیر امن نمبر ‘‘(جون ۱۹۴۹)بھی شائع ہوا جس کی ادارت ہاجرہ مسرور اور احمد ندیم قاسمی جیسے ادیبوں نے کی تھی۔اس شمارے میں احمد ندیم قاسمی کی مشہور نظم ’’جنگ کنگ سے چلی تک‘‘اورمخمور جالندھری کی نظم ’’رن بھومی چیخ اٹھی ‘‘شامل تھی ۔ڈاکٹر سلامت اللہ کے مضمون میں احمد ندیم قاسمی کی نظم ’’جنگ کنگ سے چلی تک ‘‘مخمور جالندھری کی نظم ‘‘رن بھومی چیخ اٹھی‘‘، ن ۔ م ۔ راشد کی نظم ’’جہان ِامن‘‘، نیاز احمد کی نظم ’’شانتی دوست بنگال‘‘،حبیب تنویر کی نظم ’’کل ہند امن کا نفرنس کلکتہ‘‘،کیفی اعظمی کی نظم’’اٹل فیصلہ‘‘ ، نیازحیدر کی نظم ’’تیسری جنگ نہیں ہوگی‘‘ ،سلیمان اریب کی نظم ’’عزم ‘‘، غلام ربانی کی نظم ’’کوریا کے جاںبازوں سے ‘‘ا ور خلیل الرحٰمن اعظمی کی نظم ’’امن ‘‘ کا تجزیہ بھی اس میں موجود ہیں۔ڈاکٹر سلامت اللہ نے ان تجزیوں سے اس بات کی وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ اردو شاعری میں امن کے موضوع کو کس طرح برتا گیا۔ وہ مذکورہ نظموں کے مطالعہ سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اردو شاعرنے امن سے متعلق اپنی ذمہ داری کوایک حد تک پورا کیا۔ان کا مضمون اردو شاعری میں امن کے موضوع کو جاننے اور سمجھنے کا اہم وسیلہ ہے ۔اس مضمون سے اردو کا تعمیری کردار بھی سامنے آتا ہے۔
شاہراہ میں شاعری کی مختلف اصناف کے تعلق سے کئی مضامین شائع ہوئے۔ڈاکٹر اعجاز حسین کا مضمون ’’کچھ غزل کے بارے میں ‘‘ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ ڈاکٹر اعجاز حسین کا یہ مضمون غزل کے مختلف پہلوؤں کو پیش کرتا ہے۔غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف سخن ہے ۔ اس کی مقبولیت کے پیش نظر پروفیسر رشید احمد صدیقی نے غزل کو اردوشاعری کی آبرو کہا تھا ۔ غزل کی مقبولیت کے باوجود ناقدین کا ایک طبقہ غزل سے مطمئن نظر نہیں آتا ۔حالی ،عظمت اللہ خاں، کلیم الدین احمد اور دوسرے کئی نقادوں نے غزل پر اعتراضات کیے مگر غزل کی مقبولیت اپنی جگہ قائم رہی۔ ڈاکٹر اعجاز حسین نے غزل کی مقبولیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے مضمون کا آغاز ہی ان جملوں سے کیا ہے:
’’ابتدا ئے آفرینش سے غزل کا ہماری شاعری میں اتنا غلبہ تھا کہ کبھی کبھی لوگوں کو دھوکا ہوا کہ اردو شاعری کا دوسرا نام غزل ہے جو شاعر میدان میں آیا غزل کا سہارا لیے ہوئے دکھائی دیا ،شاعری کا کارنامہ غزل سے شروع ہوتا تھا اور عموماً غزل ہی پر ختم ہوتا تھا گویا غزل ہی ابتدا تھی اور غزل ہی انتہا۔‘‘
(کچھ غزل کے بارے میں ،ڈاکٹر اعجاز حسین،جنوری فروری ۱۹۵۳ )
یہ حقیقت ہے کہ اردو میں غزل کی مقبولیت ابتدائی زمانے سے رہی ہے ،جب کہ غزل کے علاوہ دوسری اصناف مثلاََ قصیدہ، مثنوی،مرثیہ اور رباعی وغیرہ کا چلن تھی۔ شعرانے ان اصناف کو بھی اپنے اظہار کا وسیلہ بنایا مگر اس بات کو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ قصیدہ ،مرثیہ ، مثنوی اور رباعی وغیرہ غزل کی طرح ہمارے حافظے کا حصہ نہیں بن سکیں۔
ڈاکٹر اعجاز حسین کا مضمون ’’کچھ غزل کے بارے میں ‘‘غزل کے متعلق بعض اعتراضات اور غلط فہمیوں کے ازالہ کے لئے تحریر کیا گیا ہے۔ غزل پر ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا رہا ہے کہ اس میں خیال کا تسلسل نہیں ہوتا ۔اس سوال کا جواب بھی ڈاکٹر اعجاز حسین نے منطقی اندازمیں دیا ہے۔وہ لکھتے ہیں:
’’اول تو یہ سوچنا ہے کہ کیا ہماری زندگی میں تسلسل ہے کیا روزمرہ کی بات چیت میں تسلسل ہوتا ہے اگر نہیں ہے تو پھر غزل بھی زندگی کی ترجمانی ہے اس پر تسلسل نہیں تو کیا خرابی آگئی۔ ہم روز مرہ جب آپس میں گفتگو کرتے ہیں تو کیا ایک ہی مسئلہ پر مسلسل گفتگو کرتے ہیں ،شاید اسے کوئی بھی تسلیم نہ کرے ایک خاص موقع پر یادرس گاہ میں تو تسلسل کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے لیکن ہر موقع پر اور خاص کر بے تکلف صحبتوں میں یہ مطالبہ نا مناسب بلکہ غیر فطری ہوگا اپنی روز مرہ کی صحبتوں میں ہم تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد عنوانات اور گفتگو بدلا کرتے ہیں ،کبھی گرمی کا ذکر آتا ہے ،کبھی سردی کا ،کبھی مفلسی کا کبھی کسی برلا اور ٹاٹا کی،امارت وفرعونیت کا کبھی کسی بیماری زیر بحث ہوتی ہے کبھی کسی کا حسن اور کبھی کسی کی فن کاری ،غرض کہ ایک ہی نشست میں سینکڑوں باتیں ایسی ہوجاتی ہیںکہ جن کو ایک دوسرے سے لگائو نہیں ہوتا اور کوئی سنجیدہ آدمی ان باتوں یا موضوعات کو غیر فطری یا بیہودہ نہیں سمجھتا،بلکہ ہر شخص اپنی دلچسپی کااظہاراپنے طورپرکرتاہے۔‘‘ (کچھ غزل کے بارے میں ،ڈاکٹر اعجاز حسین،جنوری فروری ۱۹۵۳ )
غزل پر ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ اس کے موضوعات کا دائرہ محدود ہے ،حسن وعشق کا موضوع اس کی پہچان ہے۔ مگر اس سے اتفاق ممکن نہیں کیونکہ ولی سے لے کر آج تک کے شاعروں کے کلام کا جائزہ لیا جائے تو یہ نتیجے درآمد ہوں گے کہ غزل نے ابتدا ہی سے حیات اور کائنات کے مختلف مسائل کواپنے دامن میں سمیٹنا شروع کردیا تھا، ہاں یہ ضرور ہے کہ حسن وعشق غزل کا غالب موضوع رہاہے۔مگر حسن و عشق کا مسئلہ بہت وسیع ہے،اس میں حیات و کائنات کے رمز و اسرار پوشیدہ ہیںیہ سارا مسئلہ غزل کی قراٗت اور تفہیم و تعبیر کا ہے ہم اگر کسی شعر سے صرف عشقیہ مفہوم نکالنا چاہیں تو اس کے دیگر پہلو خود ہی نگاہوں سے اوجھل ہوجائیں گے۔ ڈاکٹر اعجاز حسین غزل کی حمایت کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’۔۔۔۔اگر غزل اپنی جگہ پر ناقص یا عاجز تھی تو اور کون صنف شاعری تھی جس نے اردو میں زندگی کے مختلف پہلوئوں کو پیش کرنے میں کامیابی حاصل کی ۔ قصیدہ ، مثنوی ،رباعی،کس کو آپ اس اصول پر جانچ سکتے ہیں کہ جس میں حیات عامہ پوری طرح نظر آنے لگے ۔‘‘
(کچھ غزل کے بارے میں ،ڈاکٹر اعجاز حسین،جنوری فروری ۱۹۵۳ )
ڈاکٹر اعجاز حسین کی باتیں اپنی جگہ درست ہیں۔ اگر غزل نے زندگی کے مختلف پہلوؤں کو پیش نہیں کیا تو دوسری اصناف شاعری نے بھی کوتا ہی برتی ۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ ابتدا میں جب تک اردوغزل کا زور رہا ہندوستان میں سیاسی شعور بیدار نہیں ہوا تھا کہ شعرا سماجی، سیاسی اور معاشی مسائل کو اس طرح موضوع بناتے جس طرح انہیں بعد میں موضوع بنایا گیالیکن اگر ہم اردو غزل پر ایک نظر ڈالیں تو ہمیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہوجائے گا کہ اردو غزل میں سیاسی اورسماجی صورت حال کو استعاروں میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے یہ اور بات ہے کہ غزل کے ان اشعار کی آواز مدھم ہے۔
ڈاکٹر اعجاز حسین اردو غزل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ غزلوں کے ذریعے جو ذخیرہ اردو ادب کو ہاتھ لگا اس کا زیادہ حصہ قلم زد کردینے کے قابل ہے ،مگر اس کی ذمہ داری شاعروں پر عائد ہوتی ہے نہ کہ غزل پر۔ اقتباس ملاحظہ کریں :
’’ہزاروں آدمیوں نے غزلیں کہی ہوں گی مگر زیادہ تر تیسرے درجہ سے آگے نہ بڑھ سکے دوسرے درجہ میں بہت سے غزل گو شمار کئے جاسکتے ہیں اور اول درجے میں توغالباً ابتدا سے لے کر آج تک دس بارہ شعراء سے زیادہ نہ ہوں گے اس لحاظ سے زیادہ حصہ خرافات ہے لوگوں نے وقت ضائع کیا ہے کاغذاور سیاہی فریادی ہیں ان کا مصرف بہت بے جا ہوا لیکن اس تضیع اوقات وصرف بے جا سے فن کو نقصان پہنچ سکتا ہے ادب بھی مجروح ہو سکتی ہے مگر کسی صنف شاعری کو گردن زنی قرار نہیں دیا جاسکتا ۔شعراء کو برا بھلا کہا جاسکتا ہے ان کی طرز تخیل کو بد نما دھبہ بنایا جاسکتا ہے ان کی ذہنی پستی کو بدمذاقی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے لیکن ان کی کوتاہیوں کا کفارہ صنف غزل کو نہیں بنایا جاسکتا۔‘‘
(کچھ غزل کے بارے میں ،ڈاکٹر اعجاز حسین،جنوری فروری ۱۹۵۳ )
میر ،سودا،درد ،غالب،اکبر الہ آبادی،اقبال اور فیض وغیرہ ایسے شعراء ہیں جن کے کلام میں حسن وعشق کے موضوعات کے علاوہ زندگی کے دوسرے پہلوئوں کا بھی ذکر ملتا ہے ، کیونکہ ابتدا سے دور حاضر تک ایسا ہرگز نہیں ہوا کہ غزل میں محض حسن وعشق کا ہی بیان ملتا ہو،دوسری اہم بات یہ ہے کہ غزل کے معنی ہی محبوب کی باتیں کرنا یا محبوب سے باتیں کرنا ہے۔ ایسے میں اگرغزل میں حسن و عشق کا بیان ملتا بھی ہے تو غلط نہیں کیونکہ دوسرے کاموں کے لیے شاعری میں دوسری اصناف موجود ہیں۔باوجود اس کے ابتدا سے ہی غزل میں ہر طرح کے مسائل کو پیش کیا گیا ہے۔غزل کی مخالفت کرنے والے ناقدین اگران ہی شعرا کے کلام کو بطور نمونہ پیش کرتے ہیں جن کے یہاں عشق کے فرسودہ مضامین اور محبوب کے ظاہری خدوخال کا ذکر ملتا ہے ۔اگر یہ غلط ہے تو اس کی ذمہ داری شاعر پر آتی ہے نہ کہ صنف غزل پر۔ہمیں ان شاعروں اور ان کے کلام کو بھی نظر میں رکھنا چاہئے جن کے یہاں زندگی کے مختلف مسائل ہیں ۔
غزل کی ہیئت کو لے کر بھی اکثربحث ہوتی رہی ہے کہ غزل میں صرف دو مصرعوں میں بات مکمل کرنی ہوتی ہے جبکہ دوسرے اصناف سخن میں ایسی بندش نہیں ۔اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر اعجاز حسین نے جو باتیں کہی ہیں وہ بھی قابل توجہ ہیں :
’’ہیئت کی اہمیت اس لحاظ سے بھی ہے کہ جملہ اصناف سخن میں ہمارے پاس صرف یہی ایک اہم صنف ہے جس میں بات صرف دو مصرعوں میں کہی جاسکتی ہے اور ظاہر ہے کہ نہ تو ہر شاعر مفکر ہے کہ لمبی چوڑی گفتگو کرنا ضروری سمجھے اور نہ ہر شخص کے پاس ایسا موضوع ہوتا ہے کہ تسلسل کے ساتھ دیر تک اس پر گفتگو کرے اوراظہار خیال کے لئے دو مصرعوں سے زیادہ کی ضرورت محسوس کرے۔کبھی کبھی چھوٹی چھوٹی باتیں بڑی کارآمد اور پر تاثیر ہوتی ہیں ۔‘‘
(کچھ غزل کے بارے میں ،ڈاکٹر اعجاز حسین،جنوری فروری ۱۹۵۳ )
یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتیں کبھی کبھی پراثر ہوتی ہیں کچھ موضوعات ایسے بھی ہوتے ہیں جن پر تفصیلی گفتگو کی جائے تو اس کے لیے دوسری اصناف سخن موجود ہیں ۔ غزل پر طرح طرح کے الزامات لگائے گئے ۔غزل سے کسی کو سنڈاس کی بو آئی اور کسی نے اسے قابل گردن زدنی قرار دیا۔خود ترقی پسندوں کے یہاں غزل سے بے اعتنائی نظر آتی ہے انہیں یہ لگتا ہے کہ چونکہ غزل میں کسی خیال کو تسلسل کے ساتھ پیش نہیں کیا جاتا لہذا اس سے مقصدی ادب کی تکمیل نہیں ہوسکتی۔ا یسے وقت میں ڈاکٹر اعجاز حسین کایہ مضمون بہت اہم ہے۔ انہو ںنے اس مضمون کے ذریعے غزل کے متعلق پیدا ہورہی غلط فہمی کے ازالے کی پوری کوشش کی ہے ۔ اگرچہ غزل بھی بہت ریزہ خیالی پائی جاتی ہے مگر یہ شرط نہیں۔غزل کو تسلسل سے پرہیز نہیں۔
’’اقبال پر ایک تنقیدی نوٹ ‘‘ظہیر کا شمیری ہے۔یہ مضمون مارچ اپریل ۱۹۵۳ کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔اس مضمون میں ظہیر کاشمیری نے اقبال کوعصری اور سماجی سیاق میں دیکھنے کی کوشش کی ہے۔اقبال کا عہد کئی معنوں میں فکری تضاد کا شکار رہاہے۔ اس تضاد کی جھلک اقبال کی شاعری میں بھی نظر آتی ہے ۔اقبال کی شاعری کے سماجی اور تاریخی کردار کے متعلق نقادوں کی رائے بہت مختلف ہے۔ ظہیر کا شمیری اقبال کی فکر کا جائزہ لیتے ہوئے لکھتے ہیں ۔
’’اقبال بحیثیت مجموعی نہ تو جاگیرداروں کی آئیڈیا لوجی کا حمایتی ہے اور نہ ہی انہیں ہم عوام کے حمایتی تصورات کا نمائندہ ۔۔۔۔وہ ان سب جماعتوں کے تصورات ونظریات کا امتزاج ہے ۔اس کا فکری اور فنی تضاد اس کے سیاسی اور معاشرتی ماحول کا تضاد ہے جسے اس نے شاعرانہ مہارت اور جمالیاتی صناعی سے پیش کیا ہے ۔اقبال اپنے دور کے معاشرہ کی منظم ہوئی شکست کھائی اور جنم لیتی ہوئی معاشرتی تحریکوں کا ادبی عکس ہے اور یہی امن کی تاریخی اور فنی حیثیت ہے ۔‘‘
(ظہیر کاشمیری ،اقبال پر ایک تنقیدی نوٹ ،مارچ اپریل ۱۹۵۳)
ظہیر کاشمیری نے اقبال کی شاعری کے تضادات کو اقبال کے عہد کا لازمی نتیجہ قرار دیا ہے۔اس رویے کو یوں تو ترقی پسندانہ کہہ کر نظر انداز کیا جاسکتا ہے مگر کوئی بھی باشعور شخص انکار نہیں کرسکتا کہ وقت کے جبر سے کوئی بھی شاعر یا ادیب خود کو بچا نہیں سکتا۔
مضمون’’ادبی تحریک کے تنظیمی مسائل‘‘ ج۔ر۔ساہنی نے تحریر کیا۔یہ مضمون کئی معنوں میں اہم ہے ۔عام طور پر ترقی پسند تحریک سے وابستہ ادیب و شاعر کے ساتھ ایک عام قاری بھی یہ سمجھتا ہے کہ ترقی پسند ادب ۹۳۶ا کی کانفرنس کے بعد وجود میں آیا۔ مگرمقصدی ادب کی ابتدا بہت پہلے سرسید احمد خاں اور ان کے رفقاء نے علی گڑھ میں کردی تھی۔لہذا مقصدی ادب کی ابتدا ترقی پسند تحریک کی ابتدا سے قبل ہی ہو چکی تھی۔اس ضمن میں سر سید او ر ان کے رفقا کی کا وشوں کو نظر انداز کردینا غیر مناسب معلوم ہوتا ہے۔ سر سید او ر ان کے رفقاء نے ادب کو ایک مقصد کے طور پر استعمال کرنے کی وکالت کی تھی ۔یہ الگ بات ہے کہ علی گڑھ تحریک سے وابستہ ادیبوں کا مقصد ترقی پسند مصنفین سے مختلف تھا ۔سر سید ادب کے مقصد ی ہونے پر زور دیتے ہوئے اسے آفاقی بنا دیتے ہیں جب کہ ترقی پسندوں کا نظریہ یہ ہے کہ چونکہ سرمایہ داروں اور امیروں نے غریبوں ، مزدوروں اور محنت کشوں پر بہت ظلم ڈھائے ہیں لہذاادب میں ان ہی کرداروں کو بنیادی حیثیت ملنی چاہیے اوران مظالم کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔
’’ادبی تحریک کے تنظیمی مسائل ‘‘کے ابتدا ئی حصے میں مضمون نگار نے ترقی پسند تنظیم کے وجود پر سوالیہ نشان لگادیا ہے۔ان کے مطابق تنظیم کے سکریٹری اور دوسرے اہم عہدیدار اپنی ذمہ داریوں کو اداکرنے میں ناکام ثابت ہورہے ہیں ۔
’’دہلی کانفرنس کے بعد ان تین سالوں میں ان رہنماؤں اور خاص کر جنرل سکریٹری صاحب کی کسی کاروائی کا ذکر تک نہیں سناگیا ۔مجھے یقین ہے کانفرنس کے بعد کانفرنس کے فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرنا تو کجا عہدیداروں کی ایک میٹنگ نہیں بلائی گئی ۔ددر اصل کانفرنس کے اختتام پر بھی اکثر ادیبوں نے کچھ دبی زبان میں یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ یہ کانفرنس انجمن ہذا کے جنرل سکریٹری کے عہدے کو ایک فرد کی حیثیت سے نکال کر دوسرے کی جیب میں ڈالنے کے سوا دورِحاضر کے کسی اہم مسئلہ میں رہنمائی کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی ہے ۔‘‘
(ادبی تحریک کے تنظیمی مسائل:ج۔ر۔ ساہنی،ستمبر ۱۹۵۶)
ظاہر ہے کسی پارٹی یا تنظیم کا ہر فیصلہ کوئی ایک شخص لینے لگے اوردوسروں سے مشور ہ نہ کر ے توایسے میںبدنظمی پیداہو جاتی ہے ۔ترقی پسند تحریک نے ابتدا سے ہی اجتماعیت پر زور دیا تھا۔ ج۔ر۔ ساہنی اپنے مضمون ’ادبی تحریک کے تنظیمی مسائل‘ میں ترقی پسند ادبی تحریک کی اہمیت وافادیت پر زور دیتے ہوئے ان خامیوں کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔وہ ترقی پسند تحریک کے زوال کے اسباب کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ترقی پسند نقاد ادب اور تخلیق سے زیادہ رکنیت کو اہم سمجھنے لگے۔
’’۔۔بعض ترقی پسند نقادوں نے ترقی پسندی کو کسی ادیب کی ترقی پسند تخلیق کے بجائے ترقی پسند مصنفین کی رکنیت سے منسوب کرنا شروع کردیا لہذا ان کے مقالوں میں جب کبھی ترقی پسند ادب کی مثال پیش کی جاتی تو اس میں محض ان ناموں کو گنوا یا جاتا تھا جو اس تحریک کے ممبر تھے ان لوگوں کی تخلیقات کا ذکر تک نہیں کیا جاتا تھا جو اگر چہ بعض مجبوریوں کی بنا پر اس انجمن کے ممبر تو نہ تھے لیکن بعض ایسی تخلیقات کے خالق تھے جو ادبی نقطہ ٔنظرسے صحت مند اور ترقی پسند تھیں ۔۔۔۔‘‘
(ادبی تحریک کے تنظیمی مسائل:ج۔ر۔ ساہنی،ستمبر ۱۹۵۶)
کسی بھی تحریک یا تنظیم میں رکنیت کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا،اراکین کے بغیر کسی بھی تحریک کا تصور نہیں کیا جاسکتا مگر ادبی تنظیم میں رکنیت سے زیادہ ادبیت درکار ہے۔ظاہر ہے اگر آپ تخلیق سے زیادہ رکنیت کو اہمیت دیں گے تو مقاصد کی حصولیابی میں دشواری کا ہونا لازمی ہے ۔اس سے جانب داری کو فروغ ملتا ہے جو کسی بھی تنظیم بلکہ پورے ادب کے لیے نقصان دہ ہے ۔ترقی پسند تحریک جو ابتدا میں یکجہتی ،جماعتی تنظیم واتحاد ،وسعت اور تنوع کی مثال تھی رفتہ رفتہ انتشار کا شکار ہوتی چلی گئی جس کے سبب ادیبوں کی ایک بڑی جماعت نے آہستہ آہستہ خود کو تنظیم سے الگ کرنا شروع کردیا۔
انور عظیم’’کا مضمون ‘‘ایک ناقابل فراموش افسانہ نگار ’’تاثراتی ہونے کے باوجود منٹو کی افسانہ نگاری کی خصوصیات کا بہت حد تک احاطہ کرتا ہے ۔یہ مضمون منٹو کے انتقال کے بعد لکھا گیا تھا ۔
مضمون’’ایک ناقابل فراموش افسانہ نگار‘‘ کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ انور عظیم نے منٹو کی خوبیاں گنوانے کے ساتھ ساتھ ان کی کچھ خامیوں کا بھی ذکر کیا ہے ۔مضمون نگار نے پوری کوشش کی ہے کہ غیر جانب دار ہوکر منٹو کے فن پر گفتگو کی جائے ۔منٹو کے تخلیقی سفر کے بارے میں انور عظیم لکھتے ہیں :
’’جہاں ’’نیا قانون ‘‘اور’’ ٹوبہ ٹیک سنگھ ‘‘جیسی کہانیاں اردو افسانہ نگاری کو جگمگاتی ہیں ’’بو‘‘اور’’ سرکنڈوں کے پیچھے ‘‘جیسی کہانیاں ان کی ادبی عظمت پر داغ بن جاتی ہیں ۔ہمارا فرض ہے کہ منٹو کی ادبی تخلیقات کا تجزیہ اس طرح کریں کہ ان کی عظمت کے نشان پر سیاہیاں نچوڑنے والی تخلیقات ان کی اچھی اور خوبصورت تخلیقات سے الگ نظر آئیں ۔‘‘
(ایک ناقابل فراموش افسانہ نگار ،مئی ۱۹۵۵)
سماج کے جن تلخ حقائق کی جانب منٹو اشارہ کرتے ہیں ان کا مقصد خود کو مصلح ثابت کرنے کا نہیں ہے لیکن ان کے افسانوں میں سماجی تعمیر کا ایک پہلو پوشیدہ ضرور ہے ۔منٹو کے افسانوں پر ان کے ہم عصر نقادوں اور افسانہ نگاروں نے مختلف الزامات لگائے۔ منٹو کو فحش نگار بھی کہا گیا ان پر مقدمہ چلایا گیا اور ان کے بعض افسانوں پر پابندی لگانے کی سفارش بھی کی گئی۔الزامات کی تعداد اور حالات اس قدر بگڑ گئے کہ منٹو کو خود سامنے آکر صفائی دینی پڑی۔ منٹو نے واضح لفظوں میں کہا کہ میرے افسانے میں وہی چیزیں ہیں جو سماج میں رائج ہیں۔ ان کے مطابق اگر آپ ان کے افسانوں کو برداشت نہیں کرسکتے تو اس سماج کو بھی برداشت نہیں کرسکتے جس میں اس وقت کا سماج سانس لے رہا تھا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ منٹو ایک انا پرست انسان تھے مگر کیا ان کی اسی انانیت نے انہیں اپنے افسانوں کے موضوعات کو بدلنے نہیں دیا ؟آخر وہ کونسی با ت تھی کہ الزامات اور مقدمات کے باوجود منٹو کے مزاج ان کے کردار اور اسٹوری لائن اپ میںکوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ؟اصل میں منٹو ایک وجودی انسان تھے ۔منٹو نے اس مرض کی تشخیص کرلی تھی جس کے سبب سماج میں جنسیت کو فروغ مل رہا تھا ۔ منٹو یقینا ایک حقیقت نگار تھے اور انہوں نے اپنے افسانوں میں سماج کی اس حقیقت کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی جسے اشرافیت نے چھپا رکھا تھا۔جن افسانوں کی متعلق انوار عظیم یہ کہتے ہیں کہ وہ منٹو کی ادبی زندگی پر داغ ہیں،وہ افسانے بھی دراصل موضوع کے لحاظ سے اہم اور نئے ہیں۔سماج کے تلخ حقائق کی جانب اشارہ کرنے سے منٹو کا مقصد خود کو مصلح ثابت کرنے کا نہیں ہے۔ منٹو افسانہ تخلیق کرتے وقت ڈاکٹر بن کر سماجی برائیوں کو دور کرنا چاہتے ہیں وہ مرض کی دوا تجویز کرتے ہیں ۔اب آپ کی مرضی ان کا استعمال کریں یانہ کریں ۔یہ بات بڑی مضحکہ خیز ہے کہ ڈاکٹر کی موجود گی میں ہمیں ننگا ہونا پڑے تو ہمیں فحش اور بے شرمی کا احساس نہیں ہوتا مگر جب منٹو اس ننگے پن کو اپنے افسانوں میں پیش کرتے ہیں تو سماج کا ایک طبقہ ان پر فحش نگار ہونے اور سماج میں بے شرمی پھیلانے کا الزام لگاتا ہے ۔منٹو پر مقدمات درج کرائے جاتے ہیں اور سماجی بائیکاٹ کیا جاتا ہے۔ مگر ان باتوں سے بے پرواہ منٹو پوری قوت کے ساتھ اپنے ادبی اور تخلیقی سفر کو جاری رکھتے ہوئے افسانے تخلیق کرتے ہیں ۔ منٹو پر الزامات لگانے والے بیشتر حضرات منٹو کی مقبولیت سے خائف تھے۔مثال کے طور پر منٹو کا ایک مشہور افسانہ’’ کھول دو ‘‘ ہے۔ پورے افسانے کو پڑھنے کے بعد بھی کسی قسم کا اشتعال پیدا نہیں ہوتا ۔افسانہ ’’دھواں‘‘کو پڑھ کر منٹو کی دور اندیشی کا علم ہوتا ہے۔ان افسانوں میں ایک تازگی کا احساس ہوتا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے یہ افسانہ ابھی لکھا گیا ہو۔ منٹو پرلگے اس الزام کے بارے میں کہ وہ محض جنسی موضوعات ہیں کے متعلق انور عظیم لکھتے ہیں۔
’’منٹو محض جنسی کہانیاں لکھتا ہے ایک تو یہ بیان غلط ہے دوسرح جنسی کہانیاں جرم نہیں اگر اس سے ترغیب کے بجائے موجودہ سماج میں زندگی کے ایک اہم انسٹی ٹیوشن کی ابتری اور سر بضانہ پیچیدگی کی تنقید ہوتی ہے ۔میرا خیال ہے کہ منٹو کے افسانے موجودہ سماج میں جنسی زندگی کی گھٹن ناآسودگی اور ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں اور موجودہ سماج کی قلعی کھولتے ہیں ۔‘‘
(ایک ناقابل فراموش افسانہ نگار ،مئی ۱۹۵۵)
انور عظیم نے انہی نکات کی طرف اشارہ کیا ہے جن کا ذکر میں اوپر کرچکا ہوں ۔منٹو کے جن افسانوں پر فحش نگاری کے الزامات لگائے گئے ان کا مطالعہ بھی از سر نو ضروری ہے۔ آج جب کہ منٹو کے انتقال کو۵۰ سال سے زائد کا عرصہ بیت گیا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان افسانوں کو ایک مرتبہ پھر سے پوری توجہ کے ساتھ پڑھیں اور یہ بھی دیکھیں کہ آج منٹو اور ان کے افسانے کی سماجی اور سیاسی اہمیت کس حد تک باقی ہے ؟
محمد عقیل رضوی کا مضمون’’اکبر اور ان کا پیغام ‘‘ اس اعتبار سے مختلف ہے کہ اس میں ان اشعار پر اظہار خیال کیا گیا ہے جن کا تعلق جدید تعلیمی نظام سے ہے۔اکبر الہ آبادی کی پیدائش الہ آباد میں ۱۸۴۶میں ہوئی۔وہ ایک پیامی شاعر تھے ۔ان کی شاعری جدید تعلیم کے اثرات سے بچنے اور اپنی تہذیب سے رشتہ استوار کرنے کا سبق دیتی ہے ۔ وہ شاعری کو اصلاح کا ذریعہ تسلیم کرتے تھے انہوں نے غزلیں بھی کہیں مگر نو آبادیاتی ہندوستان کی سماجی اور سیاسی صورت حال کے اظہار کے لیے انہیں نظم گوئی زیادہ مناسب معلوم ہوئی۔ا کبر نے اپنی نظمیہ شاعری کے ذریعے ہر نئی چیز کو نشانہ بنایا، بالخصوص مذہبی رسوم وعقائد میں ذرہ برابر بھی تبدیلی اکبر کو ناگوار گزرتی تھی ۔ ڈاکٹر محمد عقیل کا مضمون اکبر کی شاعری کے ان موضوعات کی طرف اشار ہ کرتا ہے جس میں اکبر نے جدید علوم اور سائنسی نظریہ فکر کی پر زور مخالفت کی ہے ۔
اکبر کی شاعری کا مجموعی جائزہ لیتے ہوئے محمد عقیل نے اسے تین خانوں میں تقسیم کیا ہے ۔
(۱) مذہب کی زبر دست پاسداری
(۲)نئی تعلیم وتہذیب سے حددرجہ کی مخالفت
(۳)فیشن اور ہر نئی ایجاد وتحریک سے منافرت
۱۸۵۷کی بغاوت اور اس کے لیے مسلمانوں پر کئے گئے ظلم کواکبر الہ آبادی نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا ،اس وقت ان کی عمر ۱۱۔۱۲ برس رہی ہوگی۔اکبر کے ذہن پر بغاوت کے نقوش اس درجہ ابھرے کہ ساری زندگی اسے مٹا نہ سکے ۔گرچہ وہ خود سرکاری ملازم تھے مگر انگریزوں کو وہ ہندوستان اور مسلمان کے ساتھ قدیم مشرقی تہذیب وتمدن کا دشمن سمجھتے تھے ،لہذا انہوں نے انگریزوں اور انگریزی ایجادات کی کھل کر مخالفت کی ۔ڈارون کے نظریہ ارتقا (جسے اس زمانے میں بڑی شہرت ملی ) کی مخالفت اکبر نے اسی زمانے میں کی تھی ۔
عوض قرآن کے اب ہے ڈارون کا ذکر یاروں میں
جہاں تھے حضرت آدم وہاں بندر اچھلتے ہیں
اکبر کے مذکورہ شعر کا تجزیہ کرتے ہوئے محمد عقیل رقمطراز ہیں :
’’اور وہ لوگ جو اس طرح کی تحقیق وتدقیق میں جان لڑاتے ہیں ۔جو انسان کو ارتقا ئے حیات کا صحیح مفہوم اور خدا کا صحیح مطلب بتانا چاہتے تھے ،اکبر کو دہریہ نیچری اور معلوم نہیں کیا کہتے تھے ،اکبر اضافیت کے قائل نہ تھے ان کا خیال تھا کہ دنیا کا ہر ذرہ خدا کے حکم کا منتظر رہتا ہے اور بغیر اس کے حکم کے کوئی کام ہوہی نہیں سکتا ۔‘‘
(اکبر کا پیغام :محمد عقیل،مئی جون ۱۹۵۳ )
یقینا اکبر کا یہ خیال کہ بغیر اللہ کے حکم کے کچھ بھی ممکن نہیں خالصتا ً اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے اور اس تعلیم کی نفی کرنے والا اسلام سے خارج تسلیم کیا جائے گا،مگر کوئی عقلی بنیادوں پر اللہ اور اس کے احکام اور تعلیم کو جانچنا اور پرکھنا چاہے تو اسے گنہگار نہیں کہنا چاہئے ۔اکبر کی انتہا پسندی تھی کہ وہ سائنسی علوم کی بنیادر پر اسلام کو پرکھنا نہیں چاہتے تھے جب کہ آج سائنس نے ایسی بہت سی باتوں کو صحیح ثابت کیا ہے جن کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔مگر محمد عقیل نے اکبر کے کلام کا جائزہ لیتے ہوئے جو بات کہی ہے کہ اکبر اضافیت کے قائل نہیں۔تواس کی تردید وہ خود اسی مضمون میں کرتے ہیں جب وہ اکبر کا یہ شعر پیش کرتے ہیں ۔
قلزم کی تہہ ٹٹولو یا امیر شب میں جھولو
پھر بھی یہی کہوں گا اللہ کو نہ بھولو
اس شعر کا تجزیہ کرتے ہوئے محمد عقیل لکھتے ہیں کہ:
’’وہ خدا سے انکار کے مخالف نہ تھے بلکہ ان کی نظر میں مذہب میں ذراسی تبدیلی کھٹکتی تھی وہ اسلا م کو خاص طور سے بالکل اسی شکل میں دیکھنا چاہتے تھے جس میں اسے علماء دین نے ڈھال دیا تھا ۔‘‘
(اکبر کا پیغام ۔محمد عقیل،مئی جون ۱۹۵۳)
مگر مذکورہ شعر اور محمد عقیل کے تجزیے میں بہت فرق ہے۔ اس شعرکی تشریح اس طرح بھی ہوسکتی ہے کہ اکبر خدا کی وحدانیت کے قائل بھی تھے اور سائنسی علوم سے انہیں کوئی بیر بھی نہیں تھا،بلکہ وہ قلزم کی تہہ میں جاکر اللہ کی نشانیوں کوتلاش کرنے کی بات کرتے ہیں ۔ جس خدانے دنیا کو پیدا کیا ہے اسے نہیں بھولنا چاہئے ۔ اکبر الہ آبادی پر ایک الزام یہ بھی لگایا گیا ہے کہ وہ جدید تعلیم کے مخالف ہیں۔ اس ضمن میں محمد عقیل لکھتے ہیں :
’’انہیں (اکبر)قوم کی اس حالت زار پر افسوس معلوم ہوتا تھا کہ وہ کالج اسکول اور یونیورسٹیوں کے جال میں پھنس کر اپنا سب کچھ کھو بیٹھی ان کے نزدیک جدید تعلیم اور جدید تہذیب سے کوئی تعمیری کام ممکن ہی نہ تھا۔‘‘
(اکبر کا پیغام ۔محمد عقیل،مئی جون ۱۹۵۳)
محمد عقیل اسی مـضمون کے ایک پیراگراف میں لکھتے ہیں :
’’اکبر جدید تعلیم وخیالات کے زبردست مخالف تھے اور چونکہ اس وقت یہ دونوں چیزیں براہ راست انگریزی زبان سے ہی حاصل ہورہی تھیں اس لئے وہ انگریزی کے بھی مخالف ہوگئے ۔‘‘ (اکبر کا پیغام ۔محمد عقیل،مئی جون ۱۹۵۳)
مذکورہ دونوں اقتباسات سے معلوم ہوتا ہے کہ اکبر جدید تعلیم سے خائف اور اس کے مخالفین میں سے تھے،۔مگر ایسا بالکل نہیں تھا بلکہ اکبر تو تعلیم نسواں کے حامیوں میں سے تھے۔ اتنی بات ضرور ہے کہ اکبر جدید تعلیم سے کچھ شاکی ہیں ۔ ان کو یہ خدشہ لاحق تھا کہ انگریزی اور سائنسی علوم حاصل کرنے کے بعد ہم اور ہمارے بعد کی نسلیں اپنی مشترکہ مشرقی تہذیب سے دور نہ ہوجائیں۔ اکبر ان تمام علوم کے مخالف تھے جن سے مذہب اور تہذیب پر کوئی حرف آتا ہو۔اکبر کے چند اشعار دیکھئے۔
ان سے بیوی نے فقط اسکول کی ہی بات کی
یہ نہ بتلایا کہاں رکھی ہے روٹی رات کی
تعلیم دختراں کی ضرورت تو ہے مگر
خاتون خانہ ہو وہ سبھا کی پری نہ ہو
اکبر کے ان اشعار کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔اکبر تعلیم نسواں کے حامیوں میں سے تھے،مگر مخلوط نظام تعلیم یا لڑکیوں کے عصری تعلیم حاصل کرنے پر انہیں ذرا اعتراض تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کسی بھی طرح اپنی مشترکہ مشرقی تہذیب پر حرف آنے نہیں دینا چاہتے تھے۔ اکبر کے دوسرے شعر میں ’سبھا‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سبھا سے اکبر کی مراد کیا ہے۔اکبر کی عہد میں انگریزوں کی ایک محفل سجتی تھی جس میں جوان لڑکیاں اور عوتیں نیم عریاں حالت میں مردوں کے ساتھ ڈانس وغیرہ کرتی تھی ممکن ہے اکبر نے سبھا کا لفظ استعمال کرکے دراصل اسی جانب اشارہ کررہے ہیں۔
رسالہ شاہراہ کے چند خصوصی نمبر بھی منظر عام پر آئے۔ان خصوصی شماروں میں مارچ ۱۹۵۶ کا مجاز نمبر بھی ہے۔ بہت سے شعرا جو ایک زمانے میں بہت مقبول تھے دھیرے دھیرے ان کے نام ذہن سے محو ہوتے گئے، مگراردو شاعری کے افق پر ایسے ستارے بھی نمودار ہوئے جو ایک طویل عرصہ گزرجانے کے بعد بھی اپنی چمک برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئے،ان ہی مشہور ومعروف اور اپنے متن سے قاری کے دلوں میں جگہ بنانے والے چند شاعروں کی فہرست میں اسرار الحق مجاز کا نام بھی آتا ہے ۔
جس زمانے میں مجاز نے اپنی شاعری کا آغازکیا وہ ادبی،سیاسی ،اور سماجی انتشار کا زمانہ تھا۔ مجاز کی تعلیم وتربیت جس علمی ماحول میں ہوئی وہاں بھی ادب اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ رہا ۔ لہذا مجازکی شاعری میں سیاسی ،سماجی مسائل کی جھلک مل جاتی ہے۔
’’شاہراہ‘‘کے جتنے بھی شمارے منظر عام پر آئے ان کے بیشتر مضامین ترقی پسند ادبی تحریک کی حمایت میں تھے۔مجاز نمبر شائع کرنے کی ایک وجہ یہ تھی کہ مجاز بہر حال اردو کے ایک مشہور ومعروف شاعر تھے ساتھ ہی ترقی پسند تحریک سے عملی طور پروابستہ تھے۔مجاز کی شاعری میں ترقی پسند فکر کے عناصر موجود ہیں۔کبھی کبھی ان میں انتہا پسندی بھی در آتی ہے،مگر مجموعی طور پر مجاز کی شناخت رومانی قسم کے شاعر کی ہے۔
شاہراہ کے مجاز نمبر میں عصمت چغتائی ،ممتاز حسین ،فیض احمد فیض کے علاوہ فکر تونسوی اور فیض الرحمٰن اعظمی اوروقارعظم وغیرہ کے مضامین شائع ہوئے۔مجاز کی شاعری کے موضوعات میں تنوع ہے۔ کبھی تو وہ انقلاب کا سرخ پرچم بنانے کا مشورہ دیتے ہیں تو کبھی وہ محبوب کی کلائی اور آنچل میں پناہ لینا چاہتے ہیں ۔ فیض الرحمٰن اعظمی نے مضمون ’’مجاز کی شاعری‘‘میں تفصیل کے ساتھ مجاز کے فکر وفن پر گفتگو کی ہے۔ مجاز کی رومانیت کے متعلق وہ لکھتے ہیں :
’’مجاز کی رومانیت مریضانہ اور غیر صحت مند نہیں وہ اسے انقلاب کے موضوع پر قلم اٹھانے سے روکتی نہیں گو یہ احساس اس سے دور نہیں ہوتا:
کیا تجھ کو خبر ہے ہم کیا کیا اے شورش دوراں بھول گئے
وہ زلف پریشاں بھول گئے وہ دیدۂ گریاں بھول گئے
(مجاز کی شاعری،فیض الرحمٰن اعظمی،مارچ ۱۹۵۶)
دراصل مجاز کی شاعری کا خمیر ترقی پسند تحریک کے زیر سایہ تیار ہوا ۔ان کی شاعری میں انقلاب کا عنصر نمایاںہے ۔
بھڑکتی جارہی ہے دم بدم اک آگ سی دل میں
یہ کیسے جام ہیں ساقی یہ کیسا دور ہے ساقی
مجاز کی نظم ’’آوارہ ‘‘میں رومان اور انقلاب کا حسین امتزاج نظرآتا ہے ’’پیام نو‘‘جو خالص ترقی پسند افکار پر مشتمل نظم ہے ،اس میں بیداری کا ایک پیغا م موجود ہے ۔مجاز کی شاعری پر گفتگو کرتے ہوئے فیض احمد فیض انھیں ایک غنائی شاعر قرار دیتے ہیں :
’’مجاز بنیادی طو ر پر اور طبعا ً غنائی شاعر ہے ۔اس کے کلام میں خطیب کے نطق کی کڑک نہیں ،باغی کے دل کی آگ نہیں نغمہ مجاز کے شعر کی بڑی خوبی ہے ۔‘‘
(انقلاب کا مطرب ،فیض احمد فیض،مارچ ۱۹۵۶)
ایسا نہیں کہ مجاز کے مزاج میں کڑک نہیں تھی ۔مجاز کے مزاج میں کڑک اور غصہ دونوں تھے۔ شعر دیکھئے۔
شراب کھینچی ہے سب نے غریب کے خون سے
تو اب امیر کے خون سے شراب پیدا کر
ہماری اردو شاعری میں اس وقت انقلاب برپا ہوا جب اشتراکیت نے اپنے پروں کو پورے ادب پر پھیلا دیا ۔مزدور ،کسان ،غربت وافلاس،بغاوت،سرمایہ داری ،اور سیاست وغیرہ جو اب تک ادب کا حصہ نہیں بنے تھے اب وہ باضابطہ ادب کا حصہ بننے لگے ۔مجازکی شاعری کی ابتدا رومانی شاعری سے ہوئی مجازکی رومانیت کے بارے میں فیض الرحمٰن اعظمی لکھتے ہیں:
’’مجاز کی رومانیت مریضانہ اور غیر صحت مند نہیں وہ اسے انقلابی موضوع پر قلم اٹھانے سے روکتی نہیں ۔‘‘
(مجاز کی شاعری،فیض الرحمٰن اعظمی،مارچ ۱۹۵۶)
مجاز کی شاعری پر رومان حاوی ہے مگر ترقی پسند تحریک سے عملی وابستگی نے ان کے شاعرانہ افکار کو ضرور متاثر کیا ۔ مجاز کے ابتدائی اشعار دیکھئے:
نور ہی نور ہے کس سمت اٹھاؤں آنکھیں
حسن ہی حسن ہے تاحد ِنظر آج کی رات
چھلکے تری آنکھوں سے شراب اور زیادہ
مہکیں ترے عارض کے گلاب اور زیادہ
اس طرح کے بہت سے اشعارہیں جو مجاز کے عشق ِمجازی کی نشاندہی کرتے ہیں مگر جب اشتراکیت کا زور ہوا اور مجاز ترقی پسند تحریک سے قریب ہوئے، تو ان کی شاعری کے مزاج میں تبدیلی آئی۔اس تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فیض الرحمٰن لکھتے ہیں :
’’مجاز کی ایک دوسری خصوصیت جو اسے دوسرے نئے شعراء سے ممتاز کرتی ہے ، اس کے نفسیاتی تجزیے ہیں ۔انقلابی قدروں میں سے اس نے آزادی نسواں پر بہت زور دیا ہے۔ ‘‘
(مجاز کی شاعری،فیض الرحمٰن اعظمی، مارچ ۱۹۵۶)
اپنے مذکورہ مضموں میں ٖفیض الرحمٰن اعظمی نے مجاز کے چند اشعار بھی پیش کیے ہیں جن کی روشنی میں مجاز کے شعری رنگ و آہنگ کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
تری نیچی نظر خود تیری عصمت کی محافظ ہے
تو اس نشتر کی تیزی آزمالیتی تو اچھا تھا
اگر خلوت میں تو نے سر جھکایا بھی تو کیا حاصل
بھری محفل میں آکر سرجھکالیتی تو اچھا تھا
تیرے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن
تو اس آنچل سے اک پرچم بنالیتی تو اچھا تھا
مجاز لکھنوی کے یہاں شدت کی لے تیز ہے ،وہ اکثر خون خرابے کے بیان سے اپنی شاعری کو بچانے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ مجازکے کلام کا مطالعہ کرنے کے بعد ایسے بہت سے اشعار ہمیں مل جاتے ہیں جن میں ایک قسم کی سختی ، کڑک ،غصہ ،اور ان کے شدت پسند انہ نظریات حاوی نظر آتے ہیں، ہاں یہ سچ ہے کہ مجاز نے سرمایہ داری اور ظلم وستم کے خلاف آواز بلند کی اور عوام کی حوصلہ افزائی کی ہے۔
کلیجہ پھونک رہا ہے اور زبان کہنے سے عاری ہے
بتاؤں تمہیں کیا چیز یہ سرمایہ داری ہے
مبارک دوستو لبریز ہے اب اس کا پیمانہ
اٹھاؤ آندھیاں کمزور ہے بنیاد کا شانہ
’شاہراہ ‘ میں ’طلسم خیال‘ ،’نظارے‘،’ ٹوٹے ہوئے تارے‘ ،’ہم وحشی ہیں‘ ،’اجنتا سے آگے ‘، ’شکست کے بعد‘،’ میں انتظار کروں گا‘ ،’کتاب کا کفن‘ جیسے افسانوی مجموعوں کے مصنف کرشن چندر کے افسانوں کا جائزہ ظ ۔انصاری نے لیا ہے۔کرشن چندر کی اصل شناخت ایک ترقی پسند افسانہ نگارکی ہے مگر ان کے افسانوں میں رومانیت بھی نظر آتی ہے۔ اگر ہم کرشن چند رکی بہترین کہانیوں کا انتخاب کریں تو ان میں بیشتر وہ افسانے شامل ہوں گے جن میں حقیقت نگاری کے ساتھ رومانی جذبہ بھی شامل ہے۔
ظ ۔انصاری کا مضمون ’’کرشن چندر اور ان کے افسانے ‘‘ کرشن چندر کی افسانہ نگاری اور ان کے فکر وفن کے حوالے سے بہت اہمیت رکھتا ہے ۔ اس مضمون میں ظ۔انصاری نے کرشن چندر کی افسانہ نگاری کو تین مختلف ادوار میں تقسیم کر کے اس کا جائزہ پیش کیا ہے۔ مضمون کے پہلے حصہ میںکرشن چند ر کی ابتدائی زندگی اور افسانہ نگاری سے ان کی رغبت اور دلچسپی کے واقعات کو قلمبند کیے ہیں۔کرشن چند رکا پہلا افسانوی مجموعہ ’طلسم خیال ‘ہے۔ اس مجموعہ کا پہلا افسانہ ’’جہلم میں نائوپر‘‘ہے۔ ظ انصاری’’جہلم میں نائو پر‘‘ کو کرشن چندر کے ادبی سفر کا نقطہ آغاز گردانتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’اور اس نقطہ آغاز میں کرشن چندر تینوں مقناطیسی طاقتوں کے درمیان ڈول رہے ہیں پہلے انہیں بد صورت عورت کی بے بسی کھینچی ہے، پھر شہری تعلیم یافتہ حسن ملول اور پھر دریا کا منظر اور مانجھی کا نغمہ ۔ بالآخر مانجھی کا نغمہ اور خوبصورت لڑکی کی اداس آنکھیں ہم آہنگ ہوجاتی ہیں اور مصنف پورے افسانے میں ادھر ہی جھکا رہتا ہے۔ ‘‘
(کرشن چندر اور ان کے افسانے،ظ۔انصاری ،اکتوبر ۱۹۵۳ )
کرشن چندر کے ابتدائی افسانوں کا سرسری طور پر جائزہ لیا جائے تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ بیشتر ابتدائی افسانوں میں ان کا جھکائو خوبصورت نو عمر لڑکی اور اس کی دردمندی کی طرف ہے۔کرشن چندر کے پہلے افسانوی مجموعہ ’’طلسم خیال‘‘کے کرداروں کا جائزہ لیتے ہوئے ظ۔انصاری لکھتے ہیں :
’’طلسم خیال‘‘کے افسانوں میں ایک نکتہ اور قابل غور ہے ۔وہ یہ کہ ان میں گائوں کی الھڑ دو شیزائیں ہی گھومتی پھرتی نظر نہیں آتیں بلکہ وہ باپ (جسے بعض ترقی پسند ابھی تک غیر ت مند کہیں گے)جاہل اور جابر باپ بھی ہے جو ایک غیر آدمی کے ساتھ رات بھر غائب رہنے پر اپنی جوان بیٹی کا خون کردیتا ہے وہ باپ بھی ہے جو بیٹے کے حسن کی لاگ پر ایک نوجوان سے روپیہ اینٹھتا رہتا ہے اور آخر میں دو دھان کے کھیتوں کے عوض اسے بوڑھے جاگیر دار کے ہاتھوں بیچ دیتا ہے ،قصبے کا وہ ڈاکٹر ہے جو کسان اور بد حال مریضوں کو سڑک پر بھیک مانگنے کے لئے چھوڑ دیتا ہے ۔وہ بد صورت اور کردار کا بلیوں جیسی عورتوں کے شوہر ہیں جو ایک بے آسرا لڑکی سے وقتی ہمدردی بھی بے غرض ہوکر نہیں کرسکتے،وہ پنڈت جی ہیں جو گائوں کی ایک خوبصورت شادی شد ہ عورت ’’گومال‘‘پر ڈورے ڈالتے رہتے ہیں وہ سادھو ،مہنت اور پجاری ہیں جو رام نام جپتے میں اور لڑکیوں کو ورغلاتے ہیں۔ ‘‘
(کرشن چند راور ان کے افسانے،ظ۔انصاری ،اکتوبر ۱۹۵۳ )
اقتباس اگر چہ ذرا طویل ہے مگر کرشن چند کے ابتدائی زمانے کے افسانوں کے موضوعات بالخصوص کرداروں کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے ۔کرشن چندر کے کرداروں کے تعلق سے پہلی بات تو یہ ہے کہ کرشن چندر نے پریم چند، سرشار اور سدرشن کا مطالعہ کیا تھا۔ ٹیگور کی تصانیف بھی ان کی نظر سے گزری تھیںاور ان قلم کاروں کا اثر کرشن چندر کے افسانوں میں صاف دیکھا جاسکتا ہے ۔دوسری بات کرشن چندر عملی طور پر ترقی پسند تحریک سے وابستہ تھے اس لیے ان کے افسانوں میں اس طرح کے کردار کا نظر آنا کوئی عجیب بات نہیں۔ کرشن چندر نے’ طلسم خیال‘ کے افسانوں کے ذریعے سماج میں موجود ان کرداروں کو پیش کیا ہے جن سے ہمارا روز سابقہ پڑٹا ہے۔‘ترقی پسند مصنفین نے ہمیشہ ظلم اور بربریت کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ کرشن چندر کے افسانوں میں مجموعی طورپر درد ناکی اور حسن ومحبت کی تلاش ہے۔
مضمون کے دوسرے حصہ میں مضمون نگار نے کرشن چند کے ان افسانوں پر گفتگو کی ہے جو انہوں نے ۱۹۴۰کے بعد لکھے۔مضمون نگار نے کرشن چند کے دوسرے دور کی افسانہ نگاری کو پہلے دور کی توسیع قرار دیا ہے ۔ظ۔انصاری نے کرشن چند کے افسانوی سفر کا دوسرا دور ۱۹۴۰ کے بعد کے افسانوں سے شروع کیا ہے ۔یہ وہی دور ہے جب دوسری عالمی جنگ چھڑگئی تھی پوری دنیا خوف و ہراس سے درچار تھی۔ انگریزوں نے ہندوستانی عوام کی مرضی کے خلاف جنگ میں شریک ہونے کا اعلان کردیا تھا۔اس سیاسی اور سماجی حالات نے کرشن چند پر اداسی طاری کردی ۔اس زمانے کے بیشتر افسانہ نگار وں کے یہاں اس سیاسی صورت حال کی جھلک نظر آتی ہے۔ ظ۔انصاری کہتے ہیں کہ اس زمانے کے اکثر افسانہ نگار جھلّائے ہوئے معلوم ہوتے ہیں ظ۔انصاری کہتے ہیں :
’’کرشن چندر اور ان کے اکثر ہم عصروں کے پاس زندگی کی اس کڑی دھوپ میں ٹھنڈا دل اور ٹھنڈا دماغ موجود نہیں تھا ۔ان کے دل ودماغ میں زندگی پر بہار دیکھنے کی تمنا تھی اور اس تمنا کی تشنگی نے ان میں غم وغصہ بھر دیا تھا ۔۔۔۔اس زمانے میں کرشن چند کا مشاہدہ تیز ہوتا ہے ،نگاہ کی پہنچ بڑھتی ہے اور زبان کی تلخی اور طنز کے دھارے تیز تر ہوجاتی ہے ۔ مگر ان سب کے باوجود شاعرانہ فضا کا ہلکا ہلکا کہرا اب بھی ان پر طاری ہے۔‘‘
(کرشن چند اور ان کے افسانے،ظ۔انصاری ،اکتوبر ۱۹۵۳ )
سماجی تبدیلیوں کا اثر ادیب وفنکار کے ذہن پر کتنا اور کس نوعیت کا ہوتا ہے اس سلسلے میں کوئی حتمی بات نہیں کہی جاسکتی۔تخلیقات ہی اول و آخر ادبی اور سماجی معنویت کو طے کرتی ہیں۔دوسری عالمی جنگ کے اثرات سے کوئی بھی ادیب بے نیازنہیں رہ سکتا تھا۔کرشن چندر کی افسانہ نگاری کے بارے میں خالص ادبی نقادوں کی جو بھی رائے ہو ان کے سماجی سروکار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ظ۔انصاری کا مذکورہ مضمون ’’کرشن چند را ور ان کے افسانے ‘‘کرشن چندر پر لکھا گیا ایک اہم مضمون ہے۔
مضمون ’’فیض کی شاعری‘شکیل الرحٰمن کا ایک اہم مضمون ہے جس میں فیض کی شاعری کا تنقیدی جائزہ لیا گیاہے ۔فیض احمد فیض کی شاعری پر تبصرہ کرتے ہوئے ن،م،راشد نے لکھا تھا کہ ’’فیض کی شاعری رومان اور حقیقت پسندی کا حسین امتزاج ہے‘‘ ۔ ن،م،راشد کا یہ قول یقینا فیـض کی شاعری پر صادق آتا ہے ۔فیض کی نظموں میں زندگی کا درد بھی ہے اور سوز بھی، حوصلہ بھی ہے اور رنج و ملال بھی ،ایک درد انگیز پرامید اور طاقتور جدت بھی ہے اور ساتھ ہی غزل جیسا کلاسیکی رچاؤ بھی ۔فیض کی ابتدائی نظموں میں رومانی جذبے اور عشق ومحبت کا زور ہے نقش فریادی کی چند نظمیں ایسی بھی ہیں جن میں سماجی کش مکش اور حالات کی ناسازگار ی کا احساس ملتا ہے ۔فیض کی شاعری کی خصوصیت بیان کرتے ہوئے شکیل الرحمٰن لکھتے ہیں :
’’فیض اردو کے ایک بہت اہم شاعر ہیں ۔ان کی شاعری ایک موڑ بن کر سامنے آتی ہے جہاں سے ایک پختہ اور ہموار راستہ بلندیوں کی طرف جاتا ہے ۔راستے بل بھی کھاتے ہیں اور راستے میں پیچ وخم بھی ہیں لیکن کہیں پیچیدگی اور نشیب وفراز نہیں ہے جن سے جھٹکے محسوس ہوں ۔‘‘
(فیض کی شاعری:شکیل الرحمٰن، دسمبر ۱۹۵۳ )
فیض کی شاعری میں فکر کی گہرائی تو ہے مگر پیچ وخم اور الجھاؤ نہیں ہے ۔فیض نے اپنی شاعری میں نغمگی ، امیجری ،تشبیہ واستعارہ جیسی فنی تراکیب کا ہنر مندی کے ساتھ استعمال کیا ہے جس سے ان کی شاعری میں ایک دلکشی پید ا ہوگئی ہے ۔
رات یوں دل میں تیری کھوئی ہوئی یاد آئی
جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے
جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے با دِ نسیم
جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آجائے
(فیض احمد فیض)
ابتدامیں فیض نے غزلیں کہیں یہ سلسلہ بعد تک جاری رہا مگر ان کے شعری سرمایہ کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے زیادہ تر نظمیں ہی کہی ہیں ۔ فیض کی غزلیہ شاعری کا جائزہ لیتے ہوئے شکیل الرحمٰن لکھتے ہیں :
’’فیض نے بہت غزلیں کہی ہیں پھر بھی جو سرمایہ ہے اس کے متعلق باتیں کرنے کو جی چاہتا ہے اس لئے کہ ان غزلوں میں نفاست ،رچاؤ شگفتگی ہے ۔ان میں نغمگی ہے ۔جو تغزل کی نغمگی سے مختلف ہوتے ہوئے بھی بڑے سوزوگداز اور بڑی سرمستی کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے ان ساری نفاست ۔شگفتگی ،رنگینی اور چاشنی کے ساتھ فیض نے قدیم اور روایتی کو برقرار رکھا ہے ۔‘‘
(فیض کی شاعری :شکیل الرحمٰن ۔ دسمبر ۱۹۵۳ )
تم آرہے ہو کہ بجتی ہیں میری زنجیریں
نہ جانیں کیا مرے دیوار وبام کہیں ہیں
مقام فیض کوئی راہ میںجچاہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے
فیض کی غزلوں کا ذکر کرتے ہوئے شکیل الرحمٰن مزید لکھتے ہیں کہ فیض کی شاعری میں مواد کی کمی ہے۔
’’فیض کی غزلوں کی زبان صاف ہے ،ستھراپن اور لطافت بھی موجود ہے لیکن موادمیں کوئی ترقی نہیں ہے ان کی غزلوں میں محسوس ہوتا ہے جیسے زندگی اپنی پرچھائیاں ان پر ڈالتی ہوئی تیزی سے گزر گئی ہے۔زندگی کے ہنگاموں کا بھر پور احساس کہیں نہیں ملتا ان کی غزلوں میں نہ تو ان کے عشق و محبت کا تصور صاف ہے اور نہ زندگی کا تصور ،زندگی میں جد وجہد کرنے کا کوئی انداز نہیں ملتا ،طنز میں کوئی تیکھا پن نہیں اور جذبات کے اظہار میں بھی کوئی گہرائی نہیں ۔‘‘
(فیض کی شاعری :شکیل الرحمٰن۔ دسمبر ۱۹۵۳ )
شکیل الرحمٰن کے مذکورہ اقتباس کے پیش نظر دو باتیں خاص توجہ طلب ہیں۔ اول تو یہ کہ شاعری میں پختگی وقت اور مشق کے ساتھ آتی ہے اور جب یہ مضمون لکھا گیا تھا اس وقت تک فیض کا پورا شعری سرمایہ شکیل الرحمٰن کے پیش نظر نہیں تھا اس کے باوجود شکیل الرحمٰن کا یہ کہنا فیض کی شاعری کو پڑھتے ہوئے یوں لگتا ہے جیسے زندگی اپنی پرچھائیاں ان پر ڈالتی ہوئی بڑی تیزی سے نکل گئی اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ فیض کی ابتدائی شاعری میں بھی زندگی اور اس سے متعلق کیفیات واحساسات کی جھلک نظر آتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ شکیل الرحمٰن ایک ترقی پسند ناقد ہونے کی وجہ سے فیض کی شاعری میں ان عناصر کی تلاش کرتے ہیں جو ترقی پسندی کا لازمہ ہیں اور ساحر اور مجاز کے یہاں کثرت کے ساتھ نظر آتے ہیں ۔ اگر فیض کی شاعری کا مطالعہ شکیل الرحمٰن ترقی پسند نقطہ ٔ نظر سے نہ کرتے تو شاید انہیں فیض کی شاعری میں تیکھے پن کی کمی کاگلہ نہیں ہوتا۔ جہاں تک عشق و محبت اور زندگی کے واضح تصور نہ ہونے کی بات شکیل الرحمٰن نے کہی ہے تو فیض کی یہی خوبی انہیں ایک اہم ترقی پسند شاعر بناتی ہے کہ انہوں نے انہی علامتوں اور استعاروں سے اپنی شعری کائنات کو آباد کیا ہے۔مگر یہاں ان کی معنویت عصری حسیت سے ہم آمیز ہوگئی ہے جو اس سے قبل اردو شاعری کا حصہ تھیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ فیض احمد فیض اردو کے ایک اہم شاعر ہیں ۔علامہ اقبال کے بعد جس شاعر نے غزل اور نظم دونوں صنفوں میں ایک خاص مقام حاصل کیا ان میں فیض کانام سر فہرست آتاہے ۔کلام فیض کے مطالعہ کے بعد اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ فیض نے فن کو مجروح نہیں ہونے دیا اور یہی خوبی انہیں دوسرے ترقی پسند شعرا سے ممتاز کرتی ہے۔ فیض کی ابتدائی شاعری اور اس کی نفسیات کو سمجھنے میں شکیل الرحمٰن کا مذکورہ مضمون ’’فیض احمد فیض ‘‘بہت ہی معاون ثابت ہوسکتا ہے ۔
’’ترقی پسند تنقید کے اصول‘‘ پرکاش چند گپتا کا مضمون ہے جسے دیویندر ا سرّ نے ترجمہ کر کے شاہراہ میں شائع کیا۔ ترقی پسند تحریک سے وابستہ ادیبوں میں وہ لوگ بھی تھے جنہوں نے تحریک کا غلط استعمال کیا اور مواد کوہی اہمیت دینے لگے ،جس کا اثر یہ ہوا کہ ادب کا بہت نقصان ہوا ساتھ ہی ترقی پسندوں پر پروپیگنڈہ پھیلانے کا الزام بھی لگا۔ پرکاش چند ر گپتا کا یہ مضمون ان معنوں میں بھی اہم ہے کہ انہوں نے ترقی پسند ناقدوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ فن اور مواد کا ایک رشتہ ہے اگر ترقی پسندوں نے مواد کو ہی سب کچھ سمجھ کر فن کو نظر انداز کیا تو اس سے ادب کا بہت نقصان ہوگا ۔پرکاش چند ر گپتا کا مذکورہ مضمون فن اور اس کے باہمی رشتے کی اہمیت کی وضاحت کرتا ہے ۔
مضمون ’’بلزاک اور عصر حاضر ‘‘شاہراہ کے جون ۱۹۵۰کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔ اس کے مضمون نگار ایم باختن ہیں اور ترجمہ سیدہ یحییٰ نے کیا ہے۔اس مضمون میں فرانس کے مشہور ومعروف ناول نگار بلزاک کی ناول نگاری پر اظہار خیال کیا گیا ہے ۔بلزاک کے ناولوں میں انسانی ہمدردی اور اخوت کا درس ملتا ہے۔مضمون نگار نے بلزاک کے ناولوں کو ایک خاص تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ایم باختن نے عصر حاضر(بالخصوص جس وقت یہ مضمون تحریر کیا گیا تھا)میں بلزاک اور ان کے ناولوں کی ضرورت اور اہمیت پر روشنی ڈالی ہے۔ بلزاک ایک محبت پسند،پر خلوص اور انسانیت پسند شخص تھا اور اس کے ناولوں میں یہ خوبی بدرجہ اتم موجود ہے ۔ایم باختن نے اپنے مضمون میں بڑے ہی فنکارانہ اندازمیں بلزاک اور ان کی ناول نگار ی پر تبصرہ پیش کیا ہے ۔
’’شاہراہ ‘‘کے مضامین کی مختلف النوع تھے ۔ادب ،ادب کی تنقید ،شخصیات اور صحافت کے علاوہ افسانہ نگاروں ،ناول نگاروں اور ان کے فن پر گفتگو بھی کی جاتی تھی۔ شاہراہ کے ستمبر ۱۹۵۰ میں قاضی عبد الغفار کا ایک مضمون بعنوان ’’اردو صحافت کا ابتدائی دور ‘‘شائع ہوا تھا ۔قاضی عبد الغفار نے اپنے اس مضمون میں اردو صحافت کی تاریخ پر گفتگو کی ہے ۔
’’ شاہراہ‘‘ میں سری نواس لاہوٹی کے کئی مضامین شائع ہوئے ۔ان میں سے ایک مضمون’’دور وسطی کا ہندوستان اور تلسی داس ‘‘ بھی ہے۔اس مضمون میں تلسی داس کی شاعری کا تنقیدی جائزہ پیش کیا ہے ۔سری نواس لاہوٹی نے اس مضمون میں تلسی داس کی شاعری کا جائزہ لیتے ہوئے اسے سبق آموز بتایاہے۔سری نواس لاہوٹی کے مطابق تلسی داس نے اپنی شاعری سے اصلاح معاشرہ اور سماج کے نوجوانوں میں اعلی اخلاقی اقدار پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔سری نواس لاہوٹی کہتے ہیں کہ اپنے مقاصد کی حصولیابی کی خاطر تلسی داس نے اپنی شاعر ی کا محور رام چند کو بنایاتھا۔ سری نواس لاہوٹی کا مذکورہ مضمون دور وسطی کی سماجی صورت حال اور تلسی داس کی شاعری کا بھرپور احاطہ کرتی ہے۔
مضمون ’’ابدیت حقیقت اور ادب ‘‘سری نواس لاہوٹی کا مضمون ہے۔ سری نواس لاہوٹی حقیقی ادب اور ترقی پسند تحریک کے علمبرداروںمیں شمار کیے جاتے ہیں ۔ان کا مذکورہ مضمون ان اشخاص کی تردید میں لکھا گیا ہے جو حقیقی ادب میں ابدی عناصر کی تلاش کرتے ہیں ۔سری نواس لاہوٹی کے مطابق حقیقی ادب کا مقصد سماج کی بہتر ڈھنگ سے ترجمانی کرنا ہے اور سماجی قدریں ہمیشہ بدلتی رہتی ہیں، لہذا ادب میں ابدی جیسے عناصر کی تلاش کرنا مناسب نہیں ہے ۔
اکتوبر ۱۹۵۰ کے شمارہ میں فیض احمد فیض کا ایک مضمون بعنوان ’’خدیجہ مستور کے افسانے ‘‘ شائع ہوا تھا۔ فیض احمد فیض کا شمار اردو کے اہم شاعروں میں ہوتا ہے۔ فیض نے اپنی شاعری کے ذریعہ ترقی پسند تحریک کو ایک نیا مقام عطا کیا ۔مذکورہ مضمون ’’خدیجہ مستور کے افسانے ‘‘ میں فیض احمد فیض نے ان کے افسانوی مجموعہ ’’انتظار ِسحر ‘‘پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کی افسانہ نگاری کا بھر پور جائزہ لیا ہے۔ فیض نے اپنے مضمون میں خدیجہ مستور کی افسانہ نگاری کو نچلے طبقے کے عوام کی حقیقی زندگی کا ترجمان بتایا ہے ۔
ہنس راج رہبر کا ایک مضمون بعنوان ’’عشقیہ شاعری اور ہمارا ماضی ‘‘ہے۔ اپنے مضمون میں قدیم عشقیہ روایت کو مسترد کرتے ہوئے مرزا شوق کی شاعری کا جائزہ لیا ہے ۔ہنس راج رہبر نے ’’ زہر عشق‘‘ اور ’’بہار عشق‘‘ پرتبصرہ کرتے ہوئے انہیں تاثیر اور لطف کے اعتبار سے منفرد مثنوی تسلیم کیا ہے۔ان کے مطابق مرزا شوق کی ان مثنویوں میں عشق کی پاکیزگی توانائی اور شائستگی کا فقدان نظر آتا ہے ۔
شاہراہ میں ہنس راج رہبر کا ایک مضمون بعنوان ’’پریم چند گھر میں ‘‘شائع ہوا تھا ۔اسی عنوان سے پریم چند کے بیٹے نے پریم چند کے بارے میں ایک اہم کتاب لکھی ہے۔جو اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں دستیاب ہے۔ہنس راج رہبر نے اپنے مذکورہ مضمون ’’پریم چند گھر میں ‘‘کے حالات زندگی کے ساتھ ساتھ ان کے فنی ارتقا کی نشاندہی کی ہے ۔
خواجہ احمد عباس کا مضمون’’ فن اور انقلاب کا معمار ملک راج آنند ‘‘جنوری ۱۹۵۱کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔ ملک راج آننداردو میں فکشن کے حوالے سے مشہور ہیں اس کے علاوہ انگریزی ناول نگار کی حیثیت سے بھی جانے جاتے ہیں۔ شاہراہ میں اکثر وبیشتر ان تخلیق کاروں پر مضامین شائع ہوئے تھے جن کی تخلیقات میں حقیقت نگاری ، مظلوموں سے ہمدردی اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کا زور ملتا تھا۔خواجہ احمد عباس نے ملک راج آنند کے فن پر گفتگو کرتے ہوئے ان کو حقیقی ناول نگار تسلیم کیا ہے ۔ خواجہ احمد عباس کے مطابق ملک را ج آنند ایک حقیقت پسند تخلیق کار تھے اور ان کے یہاں عوام کی سچی اور جیتی جاگتی تصویریں ابھر کر سامنے آتی ہیں ۔
شاہراہ کا ایک مضمون بعنوان ’’اردو شاعری میں امرد پرستی اور میر ‘‘ہے۔جسے شمیم احمد نے تحریر کیا ہے۔اردو شاعروں پر ایک الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ اس سے امرد پرستی کو فروغ ملا، مگر شمیم احمد نے اپنے مضمون میں اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے اس جانب اشارہ کیا ہے کہ چونکہ اردو شاعروں نے فارسی شاعروں سے کسب فیض کیا ہے اور وہاں ایران میں امرد پرستی کی ایک روایت رہی ہے لہذا جب اردو شاعروں نے فعل مذکر کا استعمال اپنی شاعری میں کیا تو لوگوں نے یہ مفروضہ بنالیا کہ اردو میں بھی امرد پرستی رہی ہوگی ۔ شمیم احمد نے اپنے مذکورہ مضمون میں میر کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف کیا ہے ۔
شاہراہ کا ایک مضمون ’’نظیر کی عوامی شاعری پر چند خیالات ‘‘ہے۔ اسے آل احمد سرور نے تحریر کیا۔ نظیر اکبر آبادی پہلے عوامی شاعر ہیں۔اردوشاعری جب محض حسن وعشق کی داستان سے بھری تھی تب نظیر نے عوامی مسائل کو اپنی شاعری کا حصہ بنایا ۔بنجارہ نامہ ،روٹی نامہ آدمی نامہ وغیرہ ایسی نظمیں ہیں جس میں نظیر کی انسانی دوستی کا پتہ چلتا ہے ۔آل احمد سرور نے اپنے مضمون ’’نظیر کی عوامی شاعری پر چند خیالات ‘‘میں نظیر کی شاعری کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں عوامی شاعر قرار دیا ہے۔
’’شاہراہ‘‘ میں کرشن چندر کا ایک مضمون ’’سرمایہ ادب افسانہ اور ناول ‘‘شائع ہوا تھا۔ کرشن چند خود ایک افسانہ نگار ہیں، ناول نگاری میں بھی ان کی اہمیت مسلم ہے۔ وہ ناول اور افسانہ کے اسرار و رموز اور فنی باریکیوں سے واقف ہیں۔ایک تخلیق کار کا تخلیقی اصناف کے سلسلے میں کچھ کہنا دراصل اپنے فنی موقف کا اظہار ہوتا ہے۔کرشن چندر نے مذکورہ مضمون ’’سرمایہ ادب افسانہ اور ناول ‘‘میں اردو افسانہ اور جدید ناول کا سرسری جائزہ پیش کیا ہے ۔ اردو ناول کا آغاز تو ڈپٹی نذیر احمد کے ناول مراۃ العروس (۱۸۶۹)سے ہوتا ہے۔ جدید اردو ناول کا آغاز مرزا ہادی رسوا کے ناول امراء جان ادا سے ہوتا ہے۔ کرشن چندرنے پریم چند کو اردو کا پہلا افسانہ نگار بتاتے ہوئے حقیقت پسند تسلیم کیا ہے ۔ مذکورہ مضمون میں کرشن چند نے پریم چند کی حقیقت نگاری کا جائزہ لتے ہوئے عصمت چغتائی اور قر ۃ العین حیدر کی ناول نگاری کابھی سر سری طور پر جائزہ لیا ہے ۔
’’ شاہراہ‘‘ میں نظیر اکبر آبادی، مومن خاں مومن ،اکبر الہ آبادی ،حسرت موہانی ،علامہ اقبال ، پریم چند ، جوش ملیح آبادی ،فیض احمد فیض ،کرشن چندر ،مجاز لکھنوی ،خلیل الرحمٰن اعظمی ،قر ۃ العین حیدر ،سعاد ت حسن منٹو ،کلیم الدین احمد وغیرہ کی تخلیق اور تنقید پر مضامین شائع ہوئے۔ان کے علاوہ چند مضامین اردو ادب کی مختلف اصناف کے فنی پہلوؤں ،ادبی رجحانات پر بھی شائع ہوئے۔ ان مضامین میں جدید اردو شاعری (محمد حسن ) اردو شاعری کے جدید رجحانات (عباد ت بریلوی )کچھ ادب کے بارے میں(دیوندر اسر) اردو ادب کا جدید دور (احتشام حسین ) تقسیم کے بعد ناول (وقار عظیم)ٹکنیک (ممتاز حسین ) اور کچھ غزل کے بارے میں (ڈاکٹر اعجاز حسین )وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔
عبادت بریلوی کا مضمون ’’اردو شاعری کے جدید رجحانات ‘‘دراصل اردو نظم کے جدید رجحانات پر تبصرہ ہے۔جدید اردو نظم کاآغاز محمد حسین آزاد اور مولانا الطاف حسین کے ذریعے ہوا۔ عباد ت بریلوی نے ان دونوں بزرگوں کی کا وشوں کو سراہتے ہوئے انہیں جدید شاعری کا بانی قرار دیا اور یہ لکھاکہ انہی کی کوششوں سے نظم میںنئے نئے موضوعات پر طبع آزمائی کا رویہ عام ہوا۔
شاہراہ میں محض اردو تخلیق کاروں کی ادبی خدمات کا جائزہ پیش نہیں کیا جاتاتھا بلکہ غیر ملکی شعر و ادب اور معاصر ادبی رویوں کا جائزہ بھی میں پیش کیا جاتا تھا ۔ جس کا بین ثبوت ڈاکٹر سلامت اللہ کا مضمون ’’ڈان ویسٹ ‘‘ہے۔ ڈان ویسٹ امریکہ کے مشہور عوامی شاعرتھے۔ مذکورہ مضمون میں ڈاکٹر سلامت اللہ نے ڈان ویسٹ کی زندگی اور ان کی شاعری پر گفتگو کی ہے ۔
محمد حسن کا مضمون ’’جدید اردو شاعری ‘‘ فروری مارچ ۱۹۵۱ کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔ مضمون میں محمد حسن نے جدید شعرا کے کلام میں تلخی ،الجھن اور خود سپردگی کے عناصر عام ہونے کی سب سے بڑی وجہ دنیا کے سنگین حقائق کو بتایا ہے۔محمد حسن نے اپنے اس مضمون میں مجموعی طور پر جدید اردو شاعری کے رجحانات پر تبصرہ کیا ہے ۔
وامق جونپوری کا ایک خط شاہراہ میں اگست ۱۹۵۲کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔اس خط میں وامق جونپوری نے اردو شاعری کے رنگ روپ کو بدلنے کا مشورہ دیا تھا ۔ان کے مطابق ترقی پسند شاعری کا بڑاحصہ وہ ہے جس میں عوام کے مسائل پر گفتگو کی گئی ہے، مگر شاعری کی زبان ادبی ہے لہذا متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے کسان اور مزدور تک پیغا م نہیں پہنچ پاتا ۔وامق جونپوری کے مطابق عوام کے لیے لکھی جانے والی شاعری عوامی ہونی چاہیے:
’’ہر دور میں دوسری چیزوں کی طرح شاعروں کا بھی معیار اور اس کی قدریں بدلتی رہتی ہیں ۔موجودہ دور زندگی کا جمہوری دور ہے جو عوامی جد وجہد کی آغوش میں پرورش پارہا ہے ۔وہ چیز ہر گز عوامی نہیں کہی جاسکتی جس سے عوام کو فائدہ نہ پہنچ سکے یا جس کو عوام اپنا نہ سکیں اس لئے آج کے معیار پر وہی اصلی ترقی پسند شاعر ی ہے جو عوامی شاعری کہی جاسکے ۔عوامی شاعری وہی شاعری ہے جس کو عوام سمجھ سکیں جس کو عوام گاسکیں ۔‘‘
(عوامی شاعری ۔وامق جونپوری ،جولائی اگست ۱۹۵۲)
وامق جونپوری کے مطابق ترقی پسند شاعری کا اصل مقصد عوام کی باتیں عوام تک پہنچانا ہے لہذا شاعری کی زبان بھی عوامی ہونی چاہئے تاکہ عوام اسے اپنا سکیں ۔ایک اقتباس اور ملاحظہ کریں تاکہ وامق جونپوری کے نظریے کی وضاحت ہوسکے ۔
’’اگر سختی کے ساتھ ترقی پسند ادب کا جائزہ لیا جائے تو افسوس کے ساتھ کہنا پڑے گا کہ ۱۹۳۶ سے لے کر آج تک اردو میں صرف تین یا چار ایسی عوامی نظمیں لکھی گئی ہیں جن کو قبول عام کی سند حاصل ہے ۔مثلا مخدوم کی نظم ’’جنگ آزادی ‘‘ ’’میرا گیت ‘‘’’بھوکا بنگال ‘‘اور عمر شیخ کا ’’نیا ترانہ ‘‘۔عوامی تحریک کے سلسلے میں ان تین مختصر نظموں نے جادو کا کام کیا ہے مگر اب تحریک کو ایسے متعدد جادوؤں کی ضرورت ہے۔ ‘‘
(عوامی شاعری،عوامی زبان ۔وامق جونپوری ،جولائی ۔اگست ۱۹۵۲)
وامق جونپوری کے ان خیالات پر رد عمل کا سامنے آنا ضروری تھا۔لہذا سب سے پہلے علی سردار جعفری نے وامق جونپوری کے نظر یے پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ایک مضمون تحریر کیا جس میں وامق جونپوری کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے علی سردار جعفری لکھتے ہیں:
’’اگر وامق سنجیدگی سے غور کر یں گے تو انہیں اپنا بیان خود ہی بڑا مضحکہ خیز معلوم ہوگا ۔ذرا سوچئے کہ جس تحریک نے سترہ برس میں صرف تین عوامی نظمیں دی ہوں اور ان میں سے بھی ایک مراٹھی شاعرکی لکھی ہوئی ہو ،وہ تحریک دوکو ڑی کی ہے ۔اس پر لعنت بھیجئے اور کوئی اور تحریک شروع کیجئے ۔‘‘
(عوامی شاعری اور عوامی زبان ،علی سردار جعفری اکتوبر ۱۹۵۲)
علی سردار کے مضمون کے جواب میں وامق جونپوری نے ایک مضمون لکھ کر اپنا موقف واضح کیا کہ آخر کیوں وہ عوامی زبان میں شاعری کی بات کرتے ہیں ۔وامق جونپوری کے خط نے ایک بحث چھیڑ دی کہ شاعری کی زبان کیا ہو ؟وامق جونپوری نے جن نکات کو شاعری کے لئے اہم قرار دیا وہ کلاسیکی اندازفکر سے مختلف تھا ۔دوسری بات وامق خود ایک شاعر تھے اور ان کا یہ کہنا کہ تحریک کے سترہ سالہ دور میں محض کچھ نظمیں ایسی لکھی گئی جو سچ میں ترقی پسند تحریک کی نمائندگی کرتی ہیں تو سوال یہ پیداہوتا ہے کہ آخر وامق جونپوری جو عوامی زبان سے واقف تھے انہوں نے کیوں نہیں ایسی نظمیں لکھیں جو خود ان کے بنائے اصول پر کھڑی اترتی ۔ علی سردارجعفری کی اس بات سے اتفاق کیا جاسکتا ہے کہ جس تحریک کا بنیادی مقصد غریبوں ،مزدورں کی بات کرنا ان کے دکھ درد کو اپنا سمجھنارہا ہو باوجود اس کے سترہ سال کی مدت گزر جانے کے بعد بھی چند ہی عوامی نظمیں ملتی ہیں،ایسی تحریک کو بند کردینا چاہیے۔
وامق جونپوری نے گل وبلبل کے استعاروں پر بھی اعتراض کیا۔ ان کے مطابق گل وبلبل جاگیر دارانہ علامتیں ہیں۔ لہذا اس گل و بلبل کے استعاروں سے گریز کرتے ہوئے مزدور ں کے دکھ درد اور عوامی جدجہد کا بیان ہونا چاہئے ۔شاعری کی زبان آسان اور عام فہم بلکہ فلمی نغموں جیسی ہونی چاہئے تاکہ عوام اسے بآسانی یاد کرسکیں۔وامق جونپوری نے مائو زی تنگ کے اس قول کو بھی پیش نظر رکھا جس میں مائوزی تنگ نے عوامی زبان کی اہمیت پر زور دیا ہے ۔ماؤسی تنگ نے کہا تھا ۔
’’(ادیب اور فن کار)دانشوروں کی زبان بولتے ہیں عوام کی زبان نہیں ۔۔۔اگر ہم عوام زبان نہیں جانتے تو ہمارے لئے ادب اور فن کی تخلیق ممکن نہیں ہوسکتی ۔‘‘
(مائوزی تنگ ۔بحوالہ عوامی شاعری اور عوامی زبان ،وامق جونپوری،جولائی،اگست ۱۹۵۲)
مذکورہ اقتباس وامق جونپوری نے اپنے موقف کی حمایت میں پیش کیا ہے۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ وامق کی نظر میں عوامی زبان کیا ہے ؟ وامق جونپوری کہتے ہیں کہ عوام الناس جس میں غریب ، مزدور ،محنت کش لوگ شامل ہیں ان ہی کی بولی دراصل عوامی زبان ہے ۔وامق خود بھی ترقی پسند شاعر تھے اس لیے وہ اس امر سے واقف تھے کہ ترقی پسند شاعری چونکہ عوام کے لیے ہے، لہذا ضروری ہے کہ شاعری کی زبان اتنی سہل اور آسان ہوکہ اسے آسانی سے سمجھا جا سکے۔زبان کے متعلق وامق جونپوری کا خیال تھا کہ چونکہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ زیادہ تر شعرا متوسط اور اعلی متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ طبقہ اپنے کلچر اور کردار کے اعتبار سے بنیادی طور پر رجعت پسند ہے اس لیے وہ عوام کی زبان میں شعر نہیں کہتے بلکہ آباء و اجداد سے ورثے میں ملی زبان کو شاعری کے لئے زیادہ بہتر سمجھتے ہیں ۔مجموعی طور پر وامق جونپوری کا خیال تھا کہ ترقی پسند شاعروں کو عوام کے لیے عوامی زبان میں شاعری کرنی چاہئے۔ عوامی زبان میں شاعری پر زور تو تحریک نے بھی دیا تھا، مگر عوامی زبان کی ضرورت پر جس قدر وامق جونپوری نے زور دیا اس میں ایک ایسی شدت تھی کہ ترقی پسند شاعر وادیب تلملا اٹھے۔ لہذا پہلے سردار علی جعفری بعد ازاں ظ۔انصاری نے وامق جونپوری کے نظریہ کے خلاف محاذقائم کیا ۔علی سردارجعفری اور ظ۔انصاری خود بھی ترقی پسند شاعر تھے اور عوام کی ضرورتوں کے ساتھ زبان کی اہمیت سے بھی واقف تھے۔ وامق جونپوری نے شاعری میں گل وبلبل کے تذکرے کو جاگیر داری نظام کا نمونہ ٹھہرایا تھا اس کے متعلق ظ۔انصاری لکھتے ہیں :
’’گل وبلبل کی شاعری ٹھیک ہے اس کی حیثیت جاگیرداری دور میں زیادہ تر ایسی تھی جیسے قلعہ معلی کے نقش ونگار کی ہوتی ہے ۔وہ صرف جی کا بہلاوا اور وقت کاٹنے کا ایک مشغلہ تھا مگر کیا گل وبلبل کی شاعری محض اتنا ہی تھا !گل ، بلبل،کانٹے ، چمن،صیاد،باغباں،بجلی، نشیمن، بہار ،خزاںکی شاعری اگر چہ جاگیر داری دور کی ہی شاعر ی ہے لیکن جاگیر داری دور میں صرف جاگیر داراور ان کا مفاد ہی سب کچھ نہیں ہوتا بلکہ عوام بھی جسے ماس کہتے ہیں ان کی نبضوں میں بھی لہو حرکت کرتا ہے۔ ان کی زندگی کے مسائل بھی ادب اور شعر میں فن تہذیب میں اپنا رنگ چھلکاتے ہیں۔ ‘‘
(عوامی شاعری اور عوامی زبان ۔ظ۔انصاری )
یہاں ایک اور قابل ذکر بات ہے کہ فیض احمد فیض جیسے بڑے ترقی پسند شاعر نے بھی انھیں تشبیہوں واستعاروں کا استعمال کیا جنہیں وامق جونپوری نے جاگیر دارانہ شاعری کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے مگر فیض نے ان تشبیہات اور استعارات کا استعمال وطن عزیز ،محب وطن اور دشمنان وطن کے لیے کیا ہے ۔وامق جونپوری کاعوامی زبان میں شاعری کرنے کے مشورے کو پوری طرح مسترد نہیں کیا جاسکتا کیونکہ جب ہم کسی مقصد کی حصولیابی کے لیے شاعری کرتے ہیں تو مشکل زبان مقاصد کی حصولیابی میں دشواری پیدا کرتی ہے ۔لیکن کیا کلاسیکی لفظیات اور استعاروں سے انحراف کر کے اچھی شاعری کی جاسکتی ہے؟ظاہر ہے ہر لفظ کی اپنی ایک تاریخ اور تہذیب ہوتی ہے،اس کے استعمال کے ساتھ ساتھ وہ تمام عناصر ہمارے ذہن کے نہاں خانوں میں ابھرنے لگتے ہیں جن کا تعلق اس لفظ کی روایت اور تہذیب سے رہا ہے۔اس طرح وامق جونپوری سے مکمل اتفاق ممکن نہیں۔
’’ شاہراہ‘‘ میں شاعری اور اس کے موضوعات سے متعلق کئی مضامین شائع ہوئے۔ کبھی زبان کی صحت پر زور دیا گیا تو کبھی موضوعات پر۔ علی سردور جعفری کا مضمون’’ ترقی پسند شاعری کے بعض بنیادی مسائل ‘‘ ان ہی مسائل سے تعلق رکھتا ہے۔علی سردار جعفری نے اپنے ادبی سفر کا آغازایک افسانہ نگارکی حیثیت سے کیا تھا، اور ۱۹۳۸ میں ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’منزل‘‘شائع ہوا بعد میں انہوں نے شاعری ہی کو اپنے اظہار کا ذریعہ بنایا ۔ترقی پسند تحریک سے وابستگی کے بعد انہو ں نے تنقید میں نمایاں کردار ادا کیا۔علی سردار کا شمار ترقی پسند تحریک کے بے حدپرجوش ،سرگرم اور فعال کارکنوں میں ہوتا ہے ۔ ان کے مذکورہ مضمون ’’ترقی پسند شاعری کے بعض بنیادی مسائل ‘‘کا آغاز ہی ان جملوں سے ہوتا ہے ۔
’’۔۔۔۔کسی بھی زمانے کی شاعری پر اس وقت کی زندگی ،سماج اور ادب کے دھاروں سے واقف ہوئے بغیر تنقید نہیں کی جاسکتی ۔‘‘
(ترقی پسند شاعری کے بعض بنیادی مسائل ،علی سردار جعفری،مارچ،اپریل ۱۹۴۹ )
ظاہر ہے کہ کسی بھی شعری تخلیق کو بہتر ڈھنگ سے سمجھنے کے لئے اس کے سماجی اور سیاسی پس منظر کا جاننا ضروری ہے ۔میر اور غالب کے یہاں بھی ایسے بہت سے اشعار مل جاتے ہیں جن کو بہتر طور پر سمجھنے کے لئے میر وغالب کی حالات زندگی اور اس دور کے سیاسی اور سماجی پس منظر کا جاننا ضروری ہے۔ علی سردار جعفری ترقی پسند شاعر اور افادی ادب کے حامی سے ہیں ۔تحریک کا ایک خاص مقصد تھا اور جس زمانے میں تحریک کا آغاز ہوا اس زمانے کے سیاسی ،سماجی اور معاشی حالات نے بھی تحریک کو تقویت پہنچائی ۔علی سردار کا یہ کہنا کہ کسی بھی شاعر پر اس وقت تک تنقید نہیں کی جاسکتی جب تک اس زمانے کی سماجی،سیاسی اور معاشی صورت حال سے واقفیت نہ ہو، ان کی ترقی پسند فکر کو بھی ظاہر کرتا ہے ۔ میر وغالب کے بہت سے اشعار کوآج بھی پڑھ کر تروتازگی کا احساس ہوتا ہے، دراصل یہی آفاقیت ہے مگر ترقی پسند شاعری میں ایسی غزلیں کم ملتی ہیں جنہیں آفاقی درجہ حاصل ہو ۔
ترقی پسند تحریک پر ہمیشہ یہ الزام لگایا جاتا رہا کہ اس نے ادب وشاعری کی روح کو مجروح کیا ہے اور مقصدیت کی خاطر فنی ضرورتوں کو نظر انداز کیا ہے ۔اس کا جواب دیتے ہوئے علی سردار جعفری لکھتے نے شاہراہ کے ابتدائی شمارے میں ہی ایک مضمون لکھا تھا جس میں انہوں نے ترقی پسند شعری نظریات کی حمایت کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’تم سے یہ کس مسخرے نے کہہ دیا ہے کہ ہم نظریات کو نظم کرتے ہیں ۔یہ گناہ تو ہم سے پہلے وہ اساتذہ کر گئے ہیں جن کی شاعری ہمارے لیے مشعل راہ ہے (زادراہ نہیں بلکہ ’’مشعل راہ ‘‘) ہم نظریات اور عقائد کے پرستار نہیں ہیں ۔ہم تو زندگی اور حقیقت کے جویا ہیں ۔‘‘
(علی سردار جعفری ،مضمون ،ترقی پسند شاعری کے بعض بنیادی مسائل،مارچ،اپریل ۱۹۴۹ )
یہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ علی سردار جعفری کے نزدیک مشعل راہ اور زاد راہ میں کیا فرق تھا؟دراصل علی سردار جعفری ادب کے ذریعے سماج کی تشکیل کرنا چاہتے تھے مگر ادب میں نعرہ بازی کے وہ قائل نہیں تھے،جیسا کہ اوپر کے اقتباس سے ظاہر ہوتا ہے حالانکہ علی سردار جعفری کے یہاں شدت پسندی پائی جاتی ہے۔بہرحال علی سردار جعفری نے اس وضاحت کے بعد حافظ ،غالب اور اقبال کے کچھ اشعار درج کیے ہیں ۔علی سردار کی اس بات سے اتفاق کرنا مشکل ہے کہ و ہ’ نظریات اور عقائدکے پرستار نہیں‘کیوںکہ ترقی پسندوں نے جس شدت کے ساتھ اپنے نظریات کو اپنی تخلیقات میں برتا جس شدت کے ساتھ اسے اپنایا اسے قطعاً نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ہاں یہ بات ضرور ہے کہ ترقی پسندوں نے ادب برائے زندگی کے پیش نظر ایسی تخلیقات پیش کیں جن سے زندگی کی ترجمانی ہوتی ہے ۔ترقی پسند وں نے دل کے مقابلے دماغ کو زیادہ ترجیح دی اور عشق وعاشقی کے موضوعات کے ساتھ زندگی کی بے ثباتی بھوک ، افلاس،سماج اور سیاسی مسائل کو اپنی تخلیقات میں پیش کیا ہے ۔علی سردار کا مذکورہ مضمون جہاں ترقی پسند شاعری کی چند بنیادی خامیوں کو اجاگر کرتا ہے وہیں ترقی پسند اور غیر ترقی پسند شاعری کا تقابل بھی پیش کرتا ہے ۔
’’شاہراہ‘‘ میں اور بھی کئی مضامین شائع ہوئے جن کا مطالعہ یہاں پیش نہیں کیا جاسکا ۔ان مضامین کے ذریعے ترقی پسند نظریے کی حمایت کا احساس ہوتا ہے۔بہر حال ’ شاہراہ کے ان مضامین کا مطالعہ کرکے میں اس نتیجے پر پہنچا کہ شاہراہ کا اصل مقصد ترقی پسند تحریک کو نظری اور عملی طور پر استحکام بخشنا تھا،اور شاہراہ نے اس ذمہ داری کو نہ صرف پورا کیا بلکہ ترقی پسند ادبی تحریک سے متعلق بعض غلط فہمیوں کا ازالہ بھی کیا ۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

