Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      ستمبر 9, 2026

      کتاب کی بات

      اگست 24, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جون 6, 2026

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کلیاتِ فراقؔ گورکھپوری کے چند نسخوں کا تنقیدی…

      اگست 21, 2026

      تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سیرت النبی ﷺ اور اِنفرادی جواب دہی – ڈاکٹر…

      اگست 24, 2026

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      جیسا گمان ویسا انسان: مترجم ڈاکٹر عثمان غنی…

      جولائی 31, 2026

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

      خبر نامہ

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خصوصی مضامین

      حسین الحق تصوف اور اردو ادب – عبد…

      ستمبر 9, 2026

      خصوصی مضامین

      حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی: حیات اور ادبی…

      جولائی 18, 2026

      خصوصی مضامین

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      مُحَرَّم اور اسلامی اخوت کا تصور – فیض…

      اگست 8, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      حسین الحق تصوف اور اردو ادب – عبد…

      ستمبر 9, 2026

      متفرقات

      مُحَرَّم اور اسلامی اخوت کا تصور – فیض…

      اگست 8, 2026

      متفرقات

      جیسا گمان ویسا انسان: مترجم ڈاکٹر عثمان غنی…

      جولائی 31, 2026

      متفرقات

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      ستمبر 9, 2026

      کتاب کی بات

      اگست 24, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جون 6, 2026

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کلیاتِ فراقؔ گورکھپوری کے چند نسخوں کا تنقیدی…

      اگست 21, 2026

      تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سیرت النبی ﷺ اور اِنفرادی جواب دہی – ڈاکٹر…

      اگست 24, 2026

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      جیسا گمان ویسا انسان: مترجم ڈاکٹر عثمان غنی…

      جولائی 31, 2026

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

      خبر نامہ

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خصوصی مضامین

      حسین الحق تصوف اور اردو ادب – عبد…

      ستمبر 9, 2026

      خصوصی مضامین

      حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی: حیات اور ادبی…

      جولائی 18, 2026

      خصوصی مضامین

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      مُحَرَّم اور اسلامی اخوت کا تصور – فیض…

      اگست 8, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      حسین الحق تصوف اور اردو ادب – عبد…

      ستمبر 9, 2026

      متفرقات

      مُحَرَّم اور اسلامی اخوت کا تصور – فیض…

      اگست 8, 2026

      متفرقات

      جیسا گمان ویسا انسان: مترجم ڈاکٹر عثمان غنی…

      جولائی 31, 2026

      متفرقات

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
نظم فہمی

اویسی کا شعری جمال – پروفیسر کوثر مظہری

by adbimiras ستمبر 15, 2026
by adbimiras ستمبر 15, 2026 0 comment

نئی اردو شاعری جو ۸۰ء کے آس پاس شروع ہوئی اور اب جس کی ایک الگ شناخت بن چکی ہے، اس پر اب بھی کم ہی توجہ کی گئی ہے۔ اکا دکا مضامین یا کہیں اداریے میں ذکر ملے گا۔ یہ کام کلکتہ سے نکلنے والے رسالے ’مژگاں‘ اور ’ترکش‘ نے کیا تو دوسری طرف پروفیسر وہاب اشرفی نے اپنے رسالے ’مباحثہ‘ میں نئی نسل کو جی کھول کر Promote کیا۔ ’تکمیل‘ ممبئی نے یہ کام کیا اور ساجد رشید کے رسالے ’نیا ورق‘ نے بھی اس طرف توجہ کی۔ سیفی سرونجی نے ’انتساب‘ کے صفحات نئی نسل کے لیے وقف کیے۔  بقیہ بیشتر رسالوں پر بڑے بزرگوں کا دست تطاول دراز رہا۔ خیر یہ موقع نہیں کہ اس موضوع پر وقت ضائع کیا جائے۔

جمال اویسی کی شعری کائنات میں ایک طرح کا تنوع ہے۔ بہ الفاظ دگر یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ان کے شعری اُفق پر ایک ایسا فکری کینوس ہے جس پر قوس قزح کی سی بوقلمونی دیکھی جاسکتی ہے۔ غزلیں بھی، نظمیں بھی اور رباعیات بھی۔ رکا ہوا سیل، شور کے درمیان، نظم نظم اور مصباح یہ ہیں ان کی شاعری کی جہتیں۔ ان کی غزلوں کے جو فکری ابعاد ہیں وہ جدید بھی ہیں اور روایات کے قریب بھی۔ ایک منجھا ہوا فنکار ہے جو اپنے برش قلم سے ایسی آڑی ترچھی لکیریں کھینچتا جاتا ہے جو اقدار حیات اور فلسفۂ  زندگی کے ساتھ ساتھ اپنے عہد کے سماجی سروکار کو بھی اپنے حصار میں لے لیتی ہیں۔ ان کا طنز دیکھیے:

کم و بیش ہر شخص عیار ہے

بظاہر مہذب ہے میلان میں

نئے زمانے میں بے گھری اور بے مکانی کو پیش کرنے کا ایک نیا انداز:

کہیں بھی جائے اماں نہیں ہے

خلا میں انسان بھر گیا ہے

دو منزلہ، سہ منزلہ… ہفت منزلہ عمارتیں، گویا خلا میں زندگی گزارنا آج کا المیہ بن گیا ہے۔ زمین ندارد، بے گھری اور بے مکانی کو شہریار نے یوں پیش کیا:

گھر کی تعمیر تصور ہی میں ہوسکتی ہے

اپنے نقشے کے مطابق یہ زمیں کچھ کم ہے

یہ شعر بہت مشہور ہے۔ لیکن زمین کے ہوتے ہوئے گھر کی تعمیر تصور ہی میں کیوں ہوسکتی ہے؟ بس ذرا سا یوں کرلیا جائے کہ نقشہ زمین کے مطابق بنایا جائے پھر تو آرام سے گھر کی تعمیر ہوسکتی ہے۔ عطا عابدی نے بے گھری کو اس طرح مثبت انداز میں دیکھا:

نئی زمین نیا آسمان رکھتا ہے

وہ اپنے دوش پہ اپنا مکان رکھتا ہے

چھوڑیے اس بے گھری اور بے مکانی کے بکھیڑے کو، آئیے جمال اویسی کے غزلیہ متون کی دوسری جہتوں کی طرف جھانکیں۔ اویسی نے نئی تہذیبی قدروں میں جینے کے لیے کہیں کہیں حوصلہ بھی بخشا ہے اور کہیں کہیں طنز بھی کیا ہے۔ وہ کبھی ماضی پرستی کو بزدلی سے موسوم کرتے ہیں تو کبھی شہر سے اکتائے ہوئے لوگوں کو گاؤں جاکر کچی سڑکوں پر کھڑے ہوکر پیڑوں کے گننے کا مشورہ دیتے ہیں۔ زندگی کو اویسی نے کئی زاویے سے اپنی غزلوں میں پیش کیا ہے۔ ہر جگہ ایک طرح کی دردمندی اور کرب آمیز فکرمندی نظر آتی ہے۔ آئیے زندگی کی نئی نئی کروٹیں دیکھتے ہیں:

زیست بے مایہ ہوئی ہے

سارے رشتے کھوچکی ہے

ہر گھڑی جینا اویسی

آدمی کی بے بسی ہے

پل میں سو زاویے بدلتی ہے

زندگی میری دیکھی بھالی ہے

انسان ابھی مرا نہیں ہے

کچھ جھانک رہی ہے زندگی سی

زیست کو ہر پل ہمارا امتحاں مقصود تھا

دشت سے نکلے تو راہ پرخطر پر آگئے

ہمیشہ چین سے بیٹھا نہ جائے گا یارو

یہ زندگی تو بہرحال جنگ جو ہوگی

میرے ہاتھوں میں ہے پیمانۂ زیست

مختصر کتنا ہے افسانۂ زیست

(رکا ہوا سیل)

———

گھر سے مسجد تک گلی پڑتی ہے چھوٹی سی جمال

اس کو میں نے زندگی کا استعارہ کرلیا ہے

(شور کے درمیاں)

اس طرح اور بھی بہت سے اشعار ہیں جن میں زندگی کے مختلف Shades دیکھے جاسکتے ہیں۔ یوں تو پوری شاعری زندگی ہی کو پیش کرتی ہے لیکن پیش کش کا انداز بدل جاتا ہے۔ اویسی نے انسانی حرمت اور قیمتی ساعتوں کو اپنے طور پر سمجھا اور پیش کیا ہے۔ ان کے یہ شعر خستہ حالی اور کس مپرسی کے عالم میں بھی جینے کا حوصلہ دیتے ہیں :

میں زمیں پر رینگتی مخلوق میں شامل نہ تھا

تنگ گلیوں میں بھی رہ کر آسماں پیدا کیا

سحر کی امید جاگتی ہے

دُھند شاید غبار شب ہو

ہمارے دامن خالی میں جھانکنے والو

خوشی ہے ہم کو کہ خانہ خراب ہوکے چلے

مجھ کو ضمیر ٹوکتا رہتا ہے ہر گھڑی

لوگوں کا دل بھی شیشہ نما کیوں نہیں ہوا

کچھ لوگ (شاعر، نقاد، فکشن نگار، موسیقار، بڑھئی، بلڈر) یہ سمجھتے ہیں کہ شاعری اصلاح کا درس نہیں دیتی یا اخلاقیات یا تہذیبی قدروں کے تحفظ یا ان کے سجونے کی بات نہیں کرتی۔ ایسے لوگوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ شاعری زندگی ہی کو پیش کرتی ہے، لہٰذا زندگی کی تمام جہتیں اس میں پیش ہوسکتی ہیں۔ شاعری میں پیش ہونے والا کوئی بھی تجربہ ایسا نہیں جو زندگی سے الگ ہو۔ خود جمال اویسی نے کہا ہے اور ٹھیک ہی کہا ہے:

نوائے بیدل و غالب سے سیکھ اے نقاد

غزل ہے آئینہ زندگی نظریہ نہیں

ظاہر ہے نظریہ وہی لائق توجہ ہے جو زندگی کا ساتھ دے سکے۔ زندگی کسی نظریے کی محتاج نہیں۔ زندگی کی کروٹیں ہزاروں نظریات جنم دے سکتی ہیں۔ اویسی نے انسانی زندگی میں ساعتوں، وقت اور لمحوں کو شعری پیکر عطا کیا ہے۔ ان کی غزلوں میں جا بہ جا اس نوع کے اشعار مل جائیں گے جو ’وقت‘ کو نشان زد کرتے ہیں:

میرے مستقبل کی ضمانت لے گا کون

میں لمحہ ہوں مجھ کو امانت لے گا کون

میں نے اک نامہ لکھا ہے وقت کے نام

کیسے اس کو پوسٹ کروں خط لے گا کون

ممکن ہے کسی غیر کا احسان بھی ہوگا

ہر ساعتِ ماضی کو سرعام سزا دو

امید و یاس میں ٹھہرا ہوا اویسی ہے

کسی کو آنا تھا اور وقت پر نہیں آیا

موت ہر لمحہ نزد جاں ہے مگر

نیند راتوں میں خوب آتی ہے

پرندہ وقت کا مائل بہ پرواز

سکوں میں بھی غضب کی ایک آواز

وقت پھیلاتا ہے دامن اپنا

آگ کا دریا رواں ہوتا ہے

وقت کو ہم نے جھٹلایا تھا

خود کو اب جھٹلایا ہم نے

ایک دو ساعت ہے اور جینے کو میرے

قصۂ دنیا ہی پاک دیکھ رہا ہوں

میں ابد سمت ہوں لمحہ لمحہ

خود کو کرتا ہوا بیگانۂ زیست

سنائی دیتی ہے آواز جیسے صدیوںکی

مگر سکوت ہے کیسا زوال آمادہ

کئی صدی سے تری جستجو ہے جان غزل

ہزار دشت چلے تیرا گھر نہیں آیا

مذکورہ بالا اشعار ان کے پہلے مجموعۂ کلام ’رُکا ہوا سیل‘ سے ماخوذ ہیں۔ اس کے علاوہ ’شور کے درمیان‘ میں بھی ’وقت‘ کے تلازمے کو پیش کرنے والے اشعار مل جاتے ہیں :

گڑی ہیں میری آنکھیں کس کے استقبال کو یارب

یہ ہر لمحہ مضافات زماں میں کون رہتا ہے

یہ امروز نہیں میرا

آئندہ ادوار میں گُم ہوں

پھر سے اک بار تو جھلک دکھلا

پھر زمان و مکان روشن ہو

جمال اویسی کی شاعری میں ایک طرح کا مابعدالطبعیاتی رنگ نظر آتا ہے۔ خلا اور موجود سے لاموجود کی طرف مستقل سفر میں رہنے والا ایک شعری کردار ہے جس کی شناخت گرچہ واضح طور پر نہیں کی جاسکتی مگر ایسے اشعار پر غور و فکر کرنے سے میرے اس موقف کی توثیق ہوتی ہے۔ کسی انجانی اور ان دیکھی منزل کی تلاش کرنے والا ایک مضطرب ذہن کام کرتا ہوا نظر آتا ہے:

پیچھے مڑ مڑ کے نہیں دیکھتا میں

بھاگتا رہتا ہوں آگے آگے

غرق ہوتا ہوا دریاؤں میں صحرائے وجود

بے زمیں کرتا ہوا چاروں طرف پانی ہے

بھرتا ہوں میں زقند خلائے بسیط میں

اس کے علاوہ میری نہ منزل نہ جادہ ہے

میں چلا جاتا ہوں کس جانب مجھے معلوم ہے

امر ہستی بھی جہاں پر نقطۂ موہوم ہے

حدامکاں کو پار کرتے ہوئے

یک بیک ناگہاں کی گرد اڑی

دُھند میں کھوگئے اسرار ازل کے جویا

ہے افق تا بہ افق سارے کا سارا مجھ میں

مابعد الطبیعیاتی تفکر کو سنبھالنا اور شعری پیکر میں ڈھالنا آسان نہیں ہے۔ اویسی نے اپنے شعروں کے توازن کو ایسے تفکرات سے بوجھل نہیں ہونے دیا ہے۔ افق کی بیکرانی، خلائے بسیط، نقطۂ موہوم، حد امکاں کا ذکر، اسرار ازل، امرہستی کا نقطہ موہوم ہونا وغیرہ ایسے تلازمے ہیں جو اویسی کی شاعری کو Metaphysical thoughts کے بہت قریب کردیتے ہیں۔ اس حوالے سے جدید غزل گویوں میں بانیؔ کو نہیں بھلایا جاسکتا۔ ان کے یہاں وسعت اور بیکرانی کے ساتھ ساتھ خلاؤں اور فضاؤں کو اپنے تخلیقی تجربے سے ہم آہنگ کرنے کا عمل  ملتا ہے:

ہم ہیں منظر سیہ آسمانوں کا ہے

اک عتاب آتے جاتے زمانوں کا ہے

سانس خلاؤں نے لی سینہ بھر

پھیل گیا آسماں اور میں

کہاں تلاش کروں اب افق کہانی کا

نظر کے سامنے منظر ہے بے کرانی کا

جمال اویسی سے ذرا پہلے ہم عصر شاعروں میں عبدالاحد ساز، شمیم طارق، فرحت احساس، منظر اعجاز وغیرہ کے یہاں ایسے افکار کی موجودگی سے ایک طرح کی تازگی اور تخلیقی اُپج کا احساس ہوتا ہے۔ بعد کے شاعروں میں ریاض لطیف کے یہاں اس کی مثالیں مل جاتی ہیں۔ یہ اشعار دیکھیے:

میں رہنے والا شام و سحر کے پرے کا ہوں

ڈالا گیا ہوں شام و سحر کے حساب میں

 

رکاب خاک میں الجھے ہیں آسماں کے پاؤں

مرا خیال ہوا پر ہے اور پیدل میں

فرحت احساس

——

شباہتیں سی غبار حد نگاہ میں ہیں

پس فلک کہیں اہل زمیں بھی رہتے ہیں

اک توقف زار میں گم ہے تسلسل

لمحۂ موجود گویا عمر بھر ہے

(عبدالاحد ساز)

——

کہیں ہے آب کے دھوکے میں زندگی کا شعور

کہیں وجود کا صحرا سراب کا منظر

حریم فکر میں ہے عالم قیاس میں ہے

ترا وجود مری چشم خودشناس میں ہے

(منظراعجاز)

——

ہم جہاں تھے اسی نقطے سے فلک پھیل گیا

ہم نے چاہا تھا بہت آخری منزل ہونا

 

نئے امکاں میں ڈھلنے کی فضا تعمیر ہوتی ہے

مرے انجان پیکر میں خلا تعمیر ہوتی ہے

ریاض لطیف

——

اویسی نے اپنی غزلو ںکے لہجے کو کہیں کہیں باغیانہ رنگ بھی دیا ہے جس سے Intellect کے ساتھ ساتھ ولولہ انگیزی اور اشیاء کائنات اور معاشرے کے تئیں ان کا خالص رویہ اور رجحان سمجھ میں آتا ہے۔ شاعر کے لیے ضروری ہے کہ چیزوں کو صرف دیکھے نہیں بلکہ انھیں اپنے خون میں حلول کرکے دیکھے کہ دوران خون پر کیا اثر ہوتا ہے۔ یعنی تب خون کی روانی میں جوش آتا ہے یا انجماد کی صورت پیدا ہوجاتی ہے۔ اگر روانی برقرار ہے یا تیز تر ہوگئی ہے تو فبہا اور اگر انجماد کا احساس ہوتا ہے تو شاید یہ کام اس شاعر کے بس کا نہیں۔ اویسی کے یہ اشعار ان کے اسی شعری رجحان کا پتہ دیتے ہیں:

میں نے کہا تھا مذہب سے انساں ہے بڑا

شیخ و برہمن مجھ سے صفائی چاہتے ہیں

میں خانقاہ سے بیگانہ بن کے لوٹ آیا

اُسے قبول نہیں ہوسکی مری ہستی

تمھیں دکھاؤں میں شہر جدید کا نقشہ

یہ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد ہے یہ شوالہ ہے

نیا انساں ترقی کررہا ہے

ستاروں میں لڑائی ہورہی ہے

اویسی کے یہاں ایسے اشعار بھی مل جاتے ہیں جو جسم اور روح کے رشتے کو ظاہر کرتے ہوئے ہمیں سوچنے کی دعوت دیتے ہیں:

خاک کا اک ڈھیر ہوں اور بوریے میں بند ہوں

مرتے دم تک بوجھ اپنے جسم کا ڈھونا بھی ہے

مری نوا سے پریشان زندگی ہے عبث

تلاش میں ہے خود اپنی ابھی مری ہستی

اس پہ قبضہ ہے دست قدرت کا

میری کشتی بھی اب نہیں میری

میں بدن کے دار پر جس روز لٹکایا گیا

ہر ستارہ سرنگوں تھا یاد آتا ہے مجھے

واردات عشق و محبت اور جذبات قلبی اردو شاعری میں ہر زمانے میں اپنے اپنے طور پر پیش کیے جاتے رہے ہیں۔ اس کے لیے جس تخلیقی آنچ اور تحرک کی ضرورت ہوتی ہے، اس سے ہم سب واقف ہیں۔ اس نوع کے مضامین اویسی کی غزلوں میں بھی ملتے ہیں، لیکن نوعیت ذرا مختلف نظر آتی ہے۔ اکثر ایک طرح کی اکتاہٹ یا پھر ایک لطیف سا پردہ نظر آتا ہے۔ یہ اشعار پیش کیے جاسکتے ہیں:

غلط سمجھتے ہو مجھ میں نہاں نہاں ہے وہ

کہیں بھی ہوگا مگر اب یہاں نہیں ہے وہ

تم کو آواز دی بہت میں نے

درمیاں درمیاں کی گرد اڑی

آرزو تھی، گل کو میں نے روبرو تو کرلیا

تیری ناموجودگی پر کچھ ہمیں رونا بھی ہے

تیرتے رہتے ہیں ہر سمت غزالوں کے بدن

دور سے دیکھتی رہتی ہے مری تشنہ لبی

اک بڑا فاصلہ ہونا ہے تیرے میرے بیچ

پھر بھی اک دوسرے سے دور نہیں ہونا ہے

جمال اویسی کی خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو کسی ایک صنف میں قید نہیں کرتے۔ شروع میں یہ عرض کیا گیا تھا کہ انھوں نے نظمیں، غزلیں اور رباعیاں کہی ہیں۔ ’نظم نظم‘ کے عنوان سے صرف نظموں پر مشتمل ایک مجموعہ ۲۰۰۵ء میں شائع ہوچکا ہے۔ یہ مجموعہ ۲۴۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ یوں بھی خالص نظموں کے مجموعے کم ہی منظرعام پر آتے ہیں۔

اویسی کی نظمیں پڑھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ن م راشد اور اقبال سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔خود راشد کے ڈکشن میں اقبال کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ اویسی نے محض چربہ پیش نہیں کیا ہے بلکہ ان کی اپنی تخلیقیت اور اپنا شعری تجربہ کچھ ایسا پختہ اور کیف انگیز ہے کہ سب کچھ ان کا اپنا ہوگیا ہے۔ متاثر تو کوئی بھی ہوسکتا ہے اور یہ کوئی بری بات بھی نہیں ہے۔ یوں بھی بین متنی (Intertextual) تخلیقی عمل دانستہ اور غیردانستہ طور پر ادب میں جاری رہتا ہے اور صرف اردو ہی میں نہیں دوسری زبانوں کے ادب میں بھی یہ رویہ ناگزیر طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ اویسی نے ماورائی اور Metaphysical expression کو بروئے کار لاکر اپنی نظموں کی ایک دنیا آباد کی ہے۔ کہیں کہیں داستانی فضابندی سے کام لیا ہے۔  ان کی کچھ اہم نظمیں اس طرح ہیں۔ ایک روحانی سفر کی روداد، دل کی موت، اے زماں، اے لامکاں، زندگی: سراب آفریں، مری روح سے نہ حذر کرو، تحیّر، ماضی کی طرف، لفظوں کے سمندر جاگ ذرا، خودکُشی، مستقبل کا خوف، چراغوں کا مدفن، آگ کا رزمیہ وغیرہ ایسی ہی نظمیں ہیں جن کے آہنگ میں ایک مستحکم اسلوب کی گونج سنائی دیتی ہے۔ نظم اے زماں اے لامکاں کے یہ حصے دیکھیے:

اے زماں اے لامکاں/ تاریخ تیری صید ہے

چاروں طرف باندھی ہوئی حالات کی ٹٹّی/ ترے کار تغیّر کی دلیل

اک طرف قعر جہاں حامد ترا/ اور/ ثابت و سیّار سب تیرے غلام

اک طرف خوف اجل سے/ دہشت و عرفان میں انسان غرق

زندگی محکوم ہے تیری ازل سے/ تو خدا کی طرح سے چھایا ہوا ہے

مشرق و مغرب تری پہنائی میں گم/ اور زمیں پر

لوگ یہ سمجھے ہوئے ہیں/ اک خدا ہے

روز محشر جس کو لینا ہے حساب/ اے زماں اے لامکاں

(نظم نظم : ص  ۸۳)

مذکورہ بالا نظموں کے علاوہ جمال اویسی نے احمد الاحمد سیریز کی نظمیں بھی کہی ہیں۔ یہ نظمیں پڑھ کر ذہن داستانی تصور میں کھو جاتا ہے۔ راشد کے علاوہ زبیررضوی کی ’پرانی بات ہے‘ سیریز کی نظمیں اسی داستانی اسلوب کو استحکام بخشتی ہیں۔ آج نثری اور ادھ کچری نظموں نے نظم کے سنجیدہ مزاج کو بگاڑ دیا ہے۔ لیکن کچھ نوجوان دوستوں کے سنجیدہ متون کو پڑھ کر قدرے طمانیت سی ہوتی ہے کہ انھوں نے نظم کے بیانیہ، اساطیری، داستانی، عجمی اور ہندی اسلوب کو پورے آب و تاب کے ساتھ اپنی تخلیقی حسّیت کا ناگزیر حصہ بنا رکھا ہے۔ جمال اویسی کی  احمد الاحمد سیریز کی ایک نظم کا یہ حصہ بھی دیکھیے:

احمدالاحمد/ ترے کشکول میں اک سانپ/ پھن کاڑھے ہوئے بیٹھا ہوا ہے

اور تو/ دنیا کے کسی گوشے میں جاکر چھپ گیا ہے/ درک میں آتا نہیں

احمدالاحمد/ ترے کشکول پر صدیوں کے جالے پڑ گئے ہیں

وقت کا تاریک سایہ کھا چکا ہے/ ایک تاریخ عظیم

احمدالاحمد/ تری وہ مثنوی کیا ہوگئی/ جس نے کئی اقبال پیدا کردیے تھے/ اور

تیری داستان غزلیہ سے/ مشرق و مغرب کے دل میں

عشق کی گرمی ہوئی پیدا/ بتوں میں جان آئی

احمدالاحمد/ ترے کشکول میں رکھی ہوئی/ ان عظمتوں کا کیا ہوا؟

اوپر کی مثالوں کی روشنی میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ Subject matter ہی اسلوب وضع کرنے میں معاون ہوتا ہے۔ نظم میں موضوع کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ نئے نظم نگاروں میں کچھ نے اپنے پیش رو نظم نگاروں کی پیروی کی ہے۔ یہ پیروی محض نقالی نہیں بلکہ اپنے عہد کے کرب کو بھی سابقہ اسلوب میں پیش کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ مذکورہ بالا نظموں کے ٹکڑوں سے موضوع اور مواد سے اسلوب کی ہم آہنگی کا پتہ بھی چلتا ہے۔ نظم میں عنوان اور اس کے ذیل میں آنے والے Subject matter سے اسلوب کا گہرا رشتہ ہوتا ہے۔ نظم کی شناخت کے حوالے سے John Crowe Ransom نے اپنے مضمون A Poetry : A note on ontology کے پہلے جملے ہی میں لکھا ہے:

"A Poetry may be distinguished  from a Poetry by virtue of Subject-matter, and Subject matter may be differentiated with respect to its ontology, or the reality of its being.”  ۷؎

نظم کے وجود میں اس کے اسلوب کا خاصا عمل دخل ہے۔ لیکن یہ اسلوب آسانی سے نہیں بنتا۔ راشد اور میراجی دونوں کے یہاں مکالماتی انداز ملتا ہے۔ یہ انداز علامہ اقبال سے مستعار ہے۔ نئے شاعروں میں بھی یہ انداز کبھی خودکلامی تو کبھی کرداروں کے درمیان گفتگو کے طور پر ملتا ہے۔ اوپر جمال اویسی کی نظم میں اے زماں اے لامکاں یا احمدالاحمد پڑھ کر ایک طرح کی ڈرامائی فضابندی کا احساس ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بہت سی نظمیں ہیں جو یوں شروع  ہوتی ہیں:

مجھے اے زندگی/ تجھ سے/ گلہ کچھ بھی نہیں ہے، تجھے اے زندگی

محسوس کرکے جی رہا ہوں، تجھے اے زندگی صدیاں لگیں گی، اے خدا

خواب کی تعبیر کی آسودگی دے، کون ہو تم مرے قریب آؤ، لفظوں کے سمندر جاگ ذرا

گویا جمال اویسی نے اس طرزِتخاطب سے ایک طرح کا حرکیاتی نظام وضع کرنے کی کوشش کی ہے۔ طرزِ تخاطب کو پُراثر بنانے کے لیے لسانی نظام کا شعور ہونا لازمی ہے۔ جمال کی نظمیں پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اظہار کی سطح پر ان کے یہاں لسانی شعور مستحکم اور بیدار ہے۔ تخلیقی وژن اور لسانی نظام نے ان کی نظموں کو ایک اسلوب عطا کردیا ہے۔

اویسی نے بھی دوسرے کامیاب نظم نگاروں کی طرح اپنا رشتہ اپنے ماضی سے استوار رکھا ہے۔ یہی سبب ہے کہ ان کے یہاں مختلف شکلوں میں ماضی کی تصویریں، یادیں اور کچھ کٹے پھٹے نشانات نظر آتے ہیں۔ دُھند، غار، شہر گمشدہ، گھناجنگل، شہر کا نوحہ وغیرہ ایسے تلازمے ہیں جن سے اویسی کی نظموں میں ماضی ایک مرکزی حیثیت کے ساتھ ابھرتا ہے۔ اسی ماضی میں تہذیبی لوازم بھی پیوست نظر آتے ہیں۔ ان کی نظم ’’ماضی کے غار‘‘ ملاحظہ کیجیے:

اُدھر آسماں پر ستارے بہے جارہے ہیں/ فلک گردبن کر اب اڑنے لگا ہے

مرے غار میں اک بدن/بے خبر سورہا ہے/ جو مجھ سے ذرا مختلف ہے

میں اتنا سمجھتا ہوں/ شب اور جنگل/ مری ذات میں گھل گئے ہیں

میں اُن سے الگ کوئی ہستی نہیں ہوں/ خوشا مجھ کو تاریکی راس آگئی ہے

اویسی نے غار، شب اور جنگل، روح اور بدن، پیڑ اور آسماں وغیرہ سے اپنی اس نظم کو پُراسراریت سے بھر دیا ہے۔ ہر ایک Code اپنی الگ شناخت رکھتا ہے۔ اس کے اپنے مفاہیم اور اپنا پس منظر ہے۔ پھر یہ کہ شاعر آخر میں اعلان کرتا ہے— ’’خوشا! مجھ کو تاریکی راس آگئی ہے!‘‘ یعنی یہ تاریکی جو ماضی کے متراد ف ہے اب شاعر کے جینے کا بہانہ ہے یا یہ تاریکی اسکی آئندہ زندگی کے لیے شمع کی مانند  ہے۔ یہ ایک شاعر کا Optimistic approachہے۔ یوں بھی شاعر مرکے بھی کبھی خوشبو بکھیرتا ہے اور کبھی روشنی عطا کرتا ہے۔ شاعر جب یہ کہتا ہے :

فضا میں خوشبو…/ بکھری رہی ہوگی میرے تن کی

میں ایک شاعر ہوں/ مر کے بھی شاعری کروں گا                  (کتبہ)

تو شاعر اور شاعری دونوںکی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔

اویسی کی نظموں میں ایک ایسا کردار بھی ابھرتا ہے جو اکثر آسماں یا خدا سے مخاطبے میں مصروف نظر آتا ہے۔ اس میں تیکھا انداز اور طرز ادا نظر آتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کی تخلیق جبر کے سائے میں ہوئی ہے۔ وہ خود کو ازل یاب تصور کرتا ہے:

میں ترے جبر سے قائم ہوا تھا/ اور ترے خوف سے آمادۂ پیکار ہوں اب

میری لہروں میں جو بیتابی ہے چھو لینے کی/ کون سی چیز ہے خود مجھ کو یہ معلوم نہیں

میں ازل یاب، ابد میرا نشاں/ تو عجب پیس کے رکھتا  ہے مجھے!

(سمندر آسماں سے: نظم نظم، ص ۱۹۱)

شاعری میں یوں بھی چرخ نیلی فام یا آسمان کو ہمیشہ جبر کرنے والا یا ستم پیشہ ہی بتایاگیا ہے۔ یہ سب خالص بشری محسوسات کی لسانی تعبیریں ہیں۔ اگر اسے یوںدیکھیں کہ جو کچھ بھی ہوتا ہے اس میں آسمان یعنی خدا کی مرضی شامل ہوتی ہے تو پھر اس میں اعتراف کا پہلو بھی نکل آتا ہے۔ اویسی کا زندگی سے جو مخاطبہ ہے وہ دل چسپ ہے اور لائق توجہ ہے۔ اے زندگی کے نام سے کئی غیرمسلسل ٹکڑوں میں ایک نظم ہے۔ شاعر زندگی سے کہتا ہے کہ وہ زندگی سے بہت چھوٹا ہے، کم رتبہ ہے لیکن اس میں بلا کی تندی ہے۔ وہ باد صرصر کو للکارتا ہے۔ شعلے کو اپنے ہاتھوں سے مسلتا ہے۔ موجوں کے مقابل ہونا اس کی خصلت میں شامل ہے۔ زندگی کے کئی Shades کو اویسی نے مختلف انداز میں پیش کیا ہے۔ وہ زندگی کو متنبہ بھی کرتے ہیں۔  یہ حصہ:

ترا ہر رنگ سادہ ہے/ کسیلے پن میں/ اصلی ذائقہ پنہاں ہے/ یہ کوئی نہ سمجھے گا

ترا آہنگ فطری ہے/ تجھے/عریانیوں سے پیار ہے/ مجھ کو بھی ہے/ لیکن

یہ دنیا اک طوائف ہے/ جو میک اَپ سے سنورتی ہے!

بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک سرسری سا تبصرہ ہے لیکن اس کے لیے دروں بینی اور بروں بینی دونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ زندگی کبھی عفریت کبھی چڑیل یا ڈائن، تو کبھی اس کا چہرہ گردآلود اور ہراساں ہے اور کبھی اس کے ہاتھوں میں رعشہ ہے۔ سرخ آنکھوں میں بھوکی خواہش ہے اور آس پاس ریت سی اڑتی نظر آتی ہے۔ شاعر نے اسے پہچان لیا ہے۔ یہ زندگی ہے:

ہم سمجھتے تھے پری چہرہ جسے/ بے نقاب آج ہوئی تو جانا/ زندگی ہم نے تجھے پہچانا

(زندگی:  سراب آفریں، ص ۵۷)

خوشی کی بات یہ ہے کہ اویسی کے یہاں زندگی کے کڑوے کسیلے حقائق سے گریز پائی یا چشم پوشی کے بجائے ایک طرح کا فطری اُنس نظر آتا ہے۔ یہ بڑی بات ہے۔ زندگی کی پُراسراریت اور اس کے حقائق کو مختلف علائم کے ذریعے پیش کیا گیا ہے۔ اردو شاعری میں ’سمندر‘ بھی ایک بہت ہی اہم علامت کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ کبھی ماضی کی اتھاہ گہرائی کے لیے، کبھی زندگی کے اسرار و رموز کے لیے، کبھی گہری تاریکی کے لیے، کبھی لاشعور کے لیے، کبھی تبحر علمی کے لیے۔ اردو شاعری میں اور بالخصوص نظم میں ن م راشد نے سمندر کو بطور علامت کے سب سے زیادہ استعمال کیا ہے۔ راشد نے اسے بطور اسطور کے بھی استعمال کیا ہے۔

اسی طرح آگ اور ریت بھی ن م راشدکی نظموں میں کہیں استعارہ بن کر تو کہیں علامت بن کر اُبھری ہیں۔ جمال اویسی کے یہاں بھی شعوری یا لاشعوری طور پر ایسی اسطوری علامتیں آئی ہیں۔ جنگل اور صحرا بھی اسی پس منظر میں آئے ہیں۔ جمال اویسی کی ایک نظم ہے جس میں آگ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے لیکن اس کی جہتیں مختلف ہیں:

صاحبو کھیل شرع کیسے ہوا/ آگ کا کھیل شروع کیسے ہوا/ سر میں لپٹی ہوئی ہے آگ

دل میں دہکی ہوئی ہے آگ/ اور اس آگ کا کیا کہنا ہے

جو لہکتی ہے تن و جان سے اور بجھتی نہیں/کھول کر بند قبا/ چین نہیں ملتا ہے

آگ کے کھیل میں سب جائز ہے/ جس طرح جنگ میں سب جائز ہے

سر میں لپٹی ہوئی اس آگ نے/ دانش کو جلا ڈالا ہے/ دل میں دوزخ سے زیادہ ہے آگ

جو بھڑک اٹھتی ہے پینے سے آب (آب میں آگ کی پیدائش ہے)/ جسم میں

خون نہیں، آب نہیں/ آگ کی افزائش ہے/ اور بدن ایک دہکتی بھٹی

روح طائر ہے چلا جائے گا/ اس طرح آگ نہ پیدا کرو تن میں لوگو

آخری مصرع اصلاحی ہوگیا ہے جو غیرضروری ہے۔ یہ مصرع اویسی کے بجائے کوثرمظہری کا ہوگیا ہے۔ کسی کو مخاطب کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ جس شدت احساس کو اور جس جنسی بھوک کو جس سچائی اور بیباکی سے اویسی نے یہاں آگ میں ملفوف کرکے پیش کیا ہے وہ ایک خوبصورت تخلیقی فن پارہ بن گیا ہے۔ پوری نظم پیش کرنا اس لیے ضروری تھا کہ نظم کی تنظیم اور اس کا کساؤ (Compactness) اس کی اجازت نہیں دیتا تھا کہ ایک آدھ مصرعے یا ٹکڑے پیش کرکے چھوڑ دوں۔

اویسی کے شعری اسلوب کا ایک اہم اختصاص ان کا استفہامیہ انداز بھی ہے۔ استفہام اوراستعجاب کے عمل دخل نے ان کے شعری کردار کوپر پیچ اور تہہ دار بنا دیا ہے۔ یہ دونوں خوبیاں جنھیں مل جاتی ہیں وہ امکانات کی دولت سے بھرپور فنکار ہوتا ہے۔ اویسی میں یہ خوبیاں موجود ہیں۔ جستجو، کرید اور سوالات کے تانے بانے سے ان کی نظمیہ شاعری کا نظام بنتا ہے۔ سوال خدا سے، آسمان سے، احباب سے، معاشرے سے، خود سے یا پھر اپنے اطراف سے۔ جستجو خود کی، اپنے وجود کے کھوجانے یا انسانی اقدار کی کرید اسما و صفات کی، کرید ذات اور کائنات کی۔

اس نوع کی بہت سی نظمیں ان کے یہاں ملتی ہیں۔ کبھی کوئی پوری نظم تلاش و جستجو بن جاتی ہے تو کبھی ایک آدھ ٹکڑا۔ کبھی پوری نظم سوال بن کر کھڑی ہوجاتی ہے تو کبھی درمیان یا آخر کا ٹکڑا۔ ایسے ٹکڑے مختلف نظموں سے:

میری بکھری ہوئی نظم کا/ مدعا/ کچھ سمجھ پائے ہو/ تو بتاؤ مجھے

زندگی کیا ہے؟/ انسان کیا؟/ موت کیا؟/ اور خدا…/ بیکراں/ یا نہاں/ یا گماں؟

(نہاں یا گماں)

——

کہاں اور کدھر / ہم بھٹکتے چلے جارہے ہیں/ بتا اے خدا/ کیا کریں ہم، کہ اب

نہ ہمت/نہ عزم سفر ہے/ بتا/ کیا یہی منزل آخری ہے؟

(فریاد)

——

اے میرے خدا تونے خدا بن کے یہ پھیلا ہوا افلاک بنایا

افلاک کے دامن میں کئی پھول سجائے

اور پھول کی خوشبو سے معطر کیے اسمات/ اے میرے خدا تونے پُراسرار جہاں کیسے بنایا

اور کیسے خلاؤںمیں رکھی خشت عمارت/ اس خشت عمارت پہ ترا کیسے تصرف ہوا

کیا تونے بنائی؟/ نادان ہوں میں جان نہ پایا/ تری آقائی کا قائل ہوں

مگر کیا کروں فطرت سے ہوں مجبور

افلاک کی پرتوں کو عبث توڑنا چاہوں/ دیوار کی اس سمت میں کیا دیکھنا چاہوں

اسرار کے پردوں کو اٹھانے میں لگا ہوں/ کیا ڈھونڈتا ہوں سہل نہیں خود بھی سمجھنا

(تحیر)

اس طرح اویسی کی پوری شاعری اور بالخصوص نظم میں ایک طرح کی اضطراری کیفیت نظر آتی ہے۔ ایک ایسا شخص ہے جو اسرار حیات اور رموزکائنات کی جستجو میں سرگرداں ہے۔ کہیں کچھ سمجھتا ہے کہیں نہیں۔ سمجھنے پر خالق کائنات سے سوال کربیٹھتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اویسی کی نظمیں ہمیں سوچنے اور غور کرنے اور اپنے  اندروں میں اترنے کی دعوت دیتی ہیں۔  ان کی نظمیں انجماد کے بجائے تحرک کی طرف لے جاتی ہیں۔ کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اویسی رات کے سنّاٹے میں سونے والوں کو بیدار کرنے کی کوشش کررہے ہوں۔ شاید انھیں گہری نیند میں سونا کسی خطرے کی گھنٹی کا اشارہ معلوم ہوتا ہو۔ کہیں کہیں انسانی زندگی کے رموز و نکات ان کی نظموں میں علائم کی صورت میں موجود ہوتے ہیں۔ دراصل اویسی کو پتہ ہے کہ راست بیانی تخلیق کو نرے Statement میں بدل دیتی ہے۔ یہ نظمیں محض تفنن طبع کا سامان نہیں ہیں۔ بلکہ مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی تامل نہیں کہ جو سستے ادب کے قاری ہیں وہ اگر اویسی کے متن کے ادراک اور تفہیم کی کوشش کریں تو مشکل ہوگی کہ ان میں پرتیں بہت ہیں اور ان کی اپنی تہذیبی اور تخلیقی جڑیں ہیں جہاں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے تحمل اور غور و فکر کی ضرورت ہے۔ آخر میں یہ کہوں گا کہ نئی اردو شاعری میں جمال اویسی کی نظمیں اور غزلیں دونوں اضافے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ایسے وہ نظم کی جہتوں سے واقف زیادہ ہیں اور اس کی ریاضت اور مجاہدے کے اہل بھی ہیں۔ اسی لیے ان کا اپنا ایک اسلوب وضع ہوچکا ہے۔

 

 

 

(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں    https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

adabi meerasadabi miraasadabi mirasادبی میراث
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
ناول ”اُمراؤ جان ادا“ نامیاتی وحدت کا عظیم شاہکار – عمیر یاسر شاہین

یہ بھی پڑھیں

آزادی کے بعدکی نظمیہ شاعری کا اسلوب –...

نومبر 19, 2024

جدید نظم : حالی سے میراجی تک (مقدمہ)...

ستمبر 29, 2024

الطاف حسین حالؔی کی "مولود شریف "پر ایک...

اگست 27, 2024

نظم کیا ہے؟ – شمس الرحمن فاروقی

جولائی 23, 2024

ساحر کی نظمیں: سماجی اور تہذیبی تناظر –...

جولائی 9, 2024

فیض کا جمالیاتی احساس اور معنیاتی نظام –...

جون 2, 2024

طویل نظم سن ساٹھ کے بعد – پروفیسر...

جون 2, 2024

نظم ’’ابو لہب کی شادی ‘‘ایک تجزیاتی مطالعہ...

فروری 11, 2024

ساحر لدھیانوی کی منتخب نظموں میں امن کا...

جنوری 28, 2024

اخترالایمان کی نظموں میں رومانی عناصر – نہاں

اکتوبر 30, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (61)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (187)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (121)
  • تخلیقی ادب (603)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (204)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (145)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,059)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (542)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (220)
      • غزل شناسی (208)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (89)
    • صحافت (47)
    • طب (20)
    • فکشن (408)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (149)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (13)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (482)
  • گوشہ خواتین و اطفال (100)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,144)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (35)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (901)
    • خصوصی مضامین (129)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (230)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں