مرزا محمد ہادی رسوا کا ناول ”اُمراؤ جان ادا“پہلی بار1901ء میں منظرعام پر آیا۔اس پراب تک بہت کچھ لکھاجاچکاہے اور اس کو کئی حوالوں سے پرکھا اورجانچا گیا ہے۔اُردو ناول کی روایت میں یہ ناول اپناثانی و ہمسرنہیں رکھتا،رسوا نے اس ناول کو جس اندازمیں پرویا ہے یہ اُنھی کاخاصہ تھا۔اب اس ناول کی تخلیق کوکم وبیش 125سال ہوچکے ہیں مگراب بھی پڑھتے ہوئے عہد حاضر کا سماجی المیہ بیان کرتے دکھائی دیتاہے۔اس ناول کو جب بھی پڑھاجائے نئی سے نئی پرتیں کھلتی دکھائی دیتی ہیں اور یہی کسی بڑے فن پارے یا متن کاکمال ہوتاہے۔رسوا نے اس ناول کو لکھا نہیں بلکہ موتی پروئے ہیں ۔اس ناول کو اُردو ادب کاپہلا باقاعدہ ناول کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کیوں کہ یہ ناول کے فکری وفنی معیارات پرپورا اُترتا دکھائی دیتاہے۔
ناول ”اُمراؤ جان ادا“میں نامیاتی وحدت کے حوالے سے آج تک بحث نہیں کی گئی۔ وحدت تاثر پر چند تحریریں ملتی ہیں مگرنامیاتی وحدت کے حوالے سے کوئی چیزدکھائی نہیں دیتی۔اس مضمون میں اس ناول میں نامیاتی وحدت کے حوالے سے بحث کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ اس ناول کی اس اہم خوبی کو زیر بحث لایاجاسکے۔نامیاتی وحدت بنیادی طورپرکیمسٹری کی اصطلاح ہے جوکہ نامیہ سے اخذکی گئی ہے۔نامیاتی وحدت سے مرادیہ ہے کہ تمام اجزا کا اپنی الگ پہچان کے باوجود مرکز سے مضبوط رشتہ ہونا ہے۔ادب میں نامیاتی وحدت سے مرادیہ ہے کہ فن پارے کے تمام اجزا،اکائیوں اورٹکڑوں کاایک کل میں ڈھلتے نظرآنانامیاتی وحدت کہلاتا ہے۔ نامیاتی وحدت کے حوالے سے راقم نے اپنے ایک مضمون ”اُردونظم میں نامیاتی وحدت ایک مطالعہ“میں اس کی تخصیص اورادب سے اس کے تعلق کوبیان کرتے ہوئے لکھاتھا۔
”نامیاتی وحدت کی طرف آتے ہیں کہ اس سے کیا مراد ہے اورنامیاتی وحدت کاادب سے کیارشتہ ہے؟نامیہ ایک زندہ اورثابت وجود کو کہا جاتا ہے۔اسی سے نامیاتی کا وجود نکلتا ہے جیسے اقبال سے اقبالیاتی ادب یعنی اقبال پر لکھا جانے والا ادب،غالب سے غالبیات یاغالبیاتی ادب یعنی غالب پرلکھا جانے والا ادب لیا جاتا ہے۔اسی طرح نامیاتی سے مراد نامیہ سے متعلق معلومات وعلم کوکہا جائے گا۔نامیہ کی خوبی یہ ہے کہ اس کے تمام اجزاء اپنی منفردحیثیت اورپہچان بھی رکھتے ہیں اورجب وہ کسی ساخت سے ملتے ہیں توساخت کے ساتھ مل کرایک اکائی میں ڈھلتے نظرآتے ہیں جس سے وہ اجزاء پوراایک نظام بناتے ہیں ۔یعنی ایک زندہ جسم بناتے ہیں اوراس کااثراجزاء سے زیادہ ہوتاہے۔“(1)
نامیاتی وحدت کیمسٹری کی اصطلاح ہے مگرادب میں اس کی بازگشت اورادب سے اس کاتعلق بھی کوئی اچنبھے کی بات نہیں ،کیوں کہ ادبی متون اورفن پاروں میں نامیاتی وحدت کا ہونا بہت ضروری ہے۔فن پاروں اور متون کے اجزاء کی بنت کاری،جڑت اوراجزاء کے درمیان ساجھے داری اور تعلق ہی فن پاروں کو مضبوط، توانا اور معنی خیز بناتا ہے۔ اگرکسی فن پارے کے اجزاء میں تعلق اور جڑت نہ ہو تو وہ فن پارہ معنی خیز اور بڑا فن پارہ کہلانے کا مستحق نہیں ہوتا،فن پارے کو بڑا اور تادیر زندہ رہنے کے لیے تمام اجزاء میں ایک مضبوط تعلق ہونا از حدضروری ہے ۔اجزاء کے درمیان یہی ربط،جڑت،سانجھے داری ،تعلق،فن پاروں اور متون کی کیمسٹری کاآپس میں میچ ہونا نامیاتی وحدت کہلاتاہے۔
ناول ”اُمراؤجان ادا“کے اجزاء کی کیمسٹری آپس میں میچ کرتی ہے اورتمام اجزاء ایک دوسرے میں گوندھے ہوئےاور گتھے ہوئے نظر آتے ہیں ،جو اس ناول کونامیاتی وحدت کا بہترین شاہکار بنا تے ہیں ۔ناول کاعنوان ،ناول کے مرکزی کردار”اُمراؤجان ادا“پررکھاگیاہے اورپھرپوراناول اس کردارکے گرد گھومتا نظر آتا ہے۔مرزا رسوا نے کرداری عنوان رکھ کراس کو خوب نبھایا ہے ،ناول کے پلاٹ کو اس سلیقے سے تیارکیاہے کہ کوئی واقع بھی اضافی یا غیرضروری دکھائی نہیں دیتا جو کہ ناول کو مضبوط اورتوانا بناتا ہے۔ناول کے پلاٹ میں توازن واعتدال پربحث کرتے ہوئے ڈاکٹرسلیم اختر لکھتے ہیں ۔
”مرزا رسوا نے خانم کے کوٹھے کو طوائفیت کے ادارے کی علامت میں تبدیل کرنے میں جس فنی بصیرت ،ناول کی ہئیت کے شعور اور اسلوب پر ماہرانہ گرفت کاثبوت دیا،ناول کے ناقدین نے اسے بطورخاص سراہا ہے۔اس ضمن میں ناول کے پلاٹ کابطورخاص ذکر کیا جاسکتا ہے جس کی صورت پذیری میں مرزا رسوا نے ریاضی جیسی قطیعت سے کام لیتے ہوئے افراد اور وقوعات میں جذباتی توازن پیداکیا اور اس خوبصورتی سے کہ پلاٹ کوگویا ”موزیک“میں تبدیل کردیا۔ “(2)
مرزا رسوا نے ناول کے پلاٹ میں بڑی عرق ریزی سے واقعات کی کڑیاں ملائی ہیں ۔کوئی واقعہ ایک دوسرے سے جدا نہیں دکھتا اور نہ یہ محسوس ہوتاہے کہ اس بات کی ضرورت نہ تھی۔تمام واقعات اپنی الگ حیثیت کے باوجود مرکزی واقع سے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔واقعات کے درمیان یہی علت ومعلول کارشتہ پلاٹ کو مضبوط بناتاہے ۔رسوانے تمام واقعات کو بڑے سلیقے سے ایک لڑی میں پرو کر گویا موتیوں کا ہار بنایا ہے۔واقعات کے اندر علت و معلول کے حوالے سے اُمراؤ کو اٹھانے والے دلاورخاں کی امراؤ کے والد سے عداوت کاحال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔
”دلاور خاں جس کا مکان ہمارے مکان سے تھوڑی دوری پر تھا۔موا ڈکیتوں سے ملاہواتھا۔لکھنئو میں برسوں قیدرہا۔اسی زمانے میں نہیں معلوم کس کی سفارش سے چھوٹ آیا تھا۔ابا سے سخت عداوت رکھتا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ جب فیض آباد سے گرفتار ہوا تو محلے سے اس کے چال چلن کی تحقیقات کے لیے لوگ طلب ہوئے۔اُن میں ابا بھی تھے۔آہ بیچارے یوں بھی دل کے سادے اور زبان کے سچے تھے۔اس پرطرہ یہ رانی والے صاحب نے اُن کے ہاتھ میں قرآن دے کے پوچھا۔”ول جمعدار!تم سچ مچ کہے یہ کیساآدمی ہے؟“ابانے صاف صاف جو اس کاحال تھا کہہ دیا۔وہی کینہ اس کے دل میں چلا آتا تھا اب کی جب قید سے چھوٹ کر آیا تو اس نے ابا کی ضد پر کبوتر پالے۔ایک دن اس نے ابا کا کبوتر مارا، لینے گئے،نہ دیا۔ابا چار آنے دیتے تھے وہ آٹھ آنے مانگتا تھا۔ اباتونوکری پرچلے گئے۔جھٹ پٹے وقت خداجانے میں کیوں نکلی تھی ۔دیکھتی کیا ہوں ،املی کے نیچے کھڑا ہوا ہے کہنے لگا۔چلو بیٹا تمہارے اباپیسے دے گئے تھے۔کبوترلے لو۔ “(3)
واقعات کے درمیان علت ومعلول کارشتہ پلاٹ کی بنت کو سنوارنے اورنکھارنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے ۔زیرنظر ناول کا پلاٹ گوندھاہوا اور علت ومعلول سے مزین ہے۔جس وجہ سے عنوان اورپلاٹ کارشتہ مضبوط اورجڑا ہوا ہے جس سے عنوان اورپلاٹ میں نامیاتی وحدت دکھائی دیتی ہے،کیوں کہ واقعات اور عنوان کی کیمسٹری میچ ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ ناول کے پلاٹ میں کہیں بھی ایسا دکھائی نہیں دیتاکہ پلاٹ عنوان سے ہٹ رہا ہے بلکہ ایک مضبوط جڑت دکھتی ہے جو نامیاتی وحدت کی مثال ہے۔پلاٹ کے علاوہ ناول کا اُسلوب بھی شاندار ہے۔واقعات،کردار،زمان ومکاں اورتہذیب وثقافت کے مطابق اسلوب ناول کے اجزاء میں جڑت کو مزید نکھارتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ رسوا نے کمال مہارت سے اسلوب تیار کیا ہے،کرداروں کی ذہنی سطح اورعلمی نوعیت کے مطابق اُن سے بات نکلوائی ہے۔امراؤ کی عمر کم ہے اور وہ اتنی پڑھی لکھی بھی نہیں لہذا درج بالا اقتباس میں جہاں بھی وہ باپ کانام لیتی ہیں ،باپ،پاپا،ابوجان کی بجائے وہ ابا پکارتی دکھائی دیتی ہیں جوکہ اس کردارکے مطابق لفظ ہے نہ کہ رسوانے اپنی علمیت کے مطابق لفاظی اپنائی ہے بلکہ کرداروں کے مطابق لفاظی کاچناؤ کیا گیا ہے۔
ناول کااسلوب اس ناول کو مزید چار چاند لگاتا دکھائی دیتا ہے۔اسلوب کی بنت میں لفاظی، شاعرانہ لفاظی،مکالمات،دیسی الفاظ کا چناؤ اور دیگر اہم لسانی باریکیاں ناول کے اُسلوب کو مزید نکھارتی دکھائی دیتی ہیں ۔مرزا رسوا کو اپنے کرداروں کی شخصیت،زبان اورتہذیب وثقافت کے حوالے سے اچھی جان کاری ہے جس وجہ سے وہ اسلوب میں ڈگمگانے کی بجائے ،سرخرو ہوتے دکھائی دیتے ہیں ۔شاعرانہ وسائل ناول کے اسلوب کو مزید جاندار بناتا ہے،کیوں کہ شاعرانہ وسائل سمندر کو کوزے میں سمونے کا ہنر رکھتے ہیں اوریہی کام رسوا نے خوب ادا کیا ہے۔شاعرانہ وسائل کی جھلک اسلوب کو کس قدر توجہ طلب بناتی ہے اور سمندر کوزے میں بند دکھائی دیتاہے ایک جھلک ملاحظہ کیجیے۔
”گوری گوری رنگت جیسے گلاب کا پھول،سوتواں ناک،پتلے پتلے ہونٹ،خوبصورت بتیسی، گھونگھر والے بال،کتابی چہرہ،اونچا ماتھا تھا۔بڑی آنکھیں ،بھرے بھرے بازو،مچھلیاں پڑی ہوئی، چوڑی کلائیاں ،بلند بالا کسرتی بدن،خدانے سر سے لے کر پاؤں تک تمام بدن نورکے سانچے میں ڈھالا تھا۔“(4)
مرزا رسوا نے اُسلوب کو بہترین مہارت اور کمال ہنرمندی سے سجایا ہے۔عنوان،پلاٹ اوراسلوب میں حددرجہ تعلق داری،سانجھے داری اورجڑت دکھتی ہے ۔اسلوب کہیں بھی پلاٹ اورعنوان سے مختلف دکھائی نہیں دیتا،شاعرانہ وسائل لفظوں میں جان ڈالنے،جذباتی کیفیات کوبیان کرنے اورنفسیاتی الجھنوں کو سمونے میں انتہائی برق رفتاری سے واقعات کو جوڑتے آگے بڑھتے ہیں ۔تمام اجزاء میں ایک خوب صورت تعلق بنتاہے جو نامیاتی وحدت کا عمدہ نمونہ ہے۔مکالمات اور اشعار اسلوب میں مزید جان ڈالتے دکھائی دیتے ہیں ۔نواب اور امراؤ کے درمیان مکالمات اوراشعارکی جھلک دیکھیے۔
”نواب:اوہو! آپ تو خواندہ معلوم ہوتی ہیں ۔
میں:جی ہاں کچھ شدبد پڑھا تو ہے۔
نواب:اور لکھنا بھی جانتی ہو؟
میں :جی ہاں لکھ بھی لیتی ہوں ۔
نواب: تو وہ غزل آپ ہی کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے؟
میں :مسکراکے چپ ہورہی۔
نواب: واللہ! کتنا پیارا خط ہے۔اس بات سے توبہت ہی جی خوش ہوا۔ خدمتگاروں سے دل کاحال کہتے نہیں بنتا۔اب زبان قلم سے گفتگو ہوا کرے گی۔ہم تو ایسا چاہتے ہی تھے۔جہاں تک ہوسکے ایسے معاملے میں غیرکی وساطت نہ ہو۔
؎نہ غیروں کی وساطت ہونہ یاروں کی شماتت ہو
جوہیں آپس کی باتیں رازداروں کے ہمیں تم ہو
میں :یہ آپ ہی کاشعرہے؟
نواب:جی نہیں ۔والد مرحوم نے فرمایا تھا۔
میں :کیا خوب فرمایا ہے۔
نواب:ماشاءاللہ آپ کو شاعری کامذاق بھی ہے۔
؎اچھی صورت جوخدادے تویہ اوصاف بھی دے
حسن تقریربھی ہوخوبی تحریربھی ہو“(5)
عنوان ،پلاٹ،اسلوب اورمکالمات میں ایک خوب تعلق اورجڑت ہے۔اس کے علاوہ جزئیات نگاری، مناظر نگاری ،خاکہ نگاری اورکردارنگاری میں بھی جڑت اورتعلق ہے تمام اجزاء ایک دوسرے سے اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ اُن کو ایک دوسرے سے جدا کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہیں ۔جزئیات نگاری میں بھی رسوا نے کمال مہارت سے بال کی کھال اتاری ہے مگراُن کی جزئیات نگاری غیرضروری اوربوجھل نہیں دکھتے بلکہ ناول کو آگے بڑھاتے دکھائی دیتی ہے۔ نذیر احمد کی جزئیات نگاری اضافی نظر آتی ہے مگر رسوا کی جزئیات نگاری اضافی نہیں بلکہ ضروری نظر آتی ہے۔جزئیات نگاری کے حوالے سے ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے۔
”مرزارسواصاحب!آپ سمجھے یہ کون سا بازار تھا؟یہ وہ بازارتھا۔جہاں میری عزت فروشی کی دوکان تھی یعنی چوک،اوریہ وہ مکان تھا جہاں سے ذلت،عزت،بدنامی،نیک نامی،زردروئی، سرخروئی جوکچھ دنیامیں ملنا تھا ملا۔یعنی خانم جان کے مکان کادروازہ کھلا ہواتھا۔تھوڑی دورپرزینہ تھا۔زینہ پرسے چڑھ کراوپرگئی۔“(6)
جزئیات نگاری کے علاوہ خاکہ نگاری بھی ناول کو مزید آگے بڑھاتی اورواقعات کو جوڑتے دکھائی دیتی ہے،تمام کرداروں کے خاکے اوراُن کے اوصاف بھی رسوانے بڑے سلیقے سے بیان کیے ہیں ۔خاکہ نگاری زینوں سے زینے ملاتی اوراجزاء میں جڑت پیداکرتی دکھائی دیتی ہے۔خانم کے کوٹھے پرآنے والے مولوی صاحب کا خاکہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔
”مولوی صاحب کا نورانی چہرہ،سفید کترواں داڑھی،صوفیانہ لباس،ہاتھ میں عمدہ فیروزے اور عقیق کی انگوٹھیاں۔خاک پاک کی تسبیح اس میں سجدہ گاہ بندھی ہوئی ہردتی کی جریب چاندی کی شام بہت ہی نفیس۔ڈیڑھ خمہ حقہ،افیون کی ڈبیا،پیالی غرض کہ جملہ تبرکات آج تک نظرمیں ہیں ۔کیاستھرا مذاق تھا۔“(7)
جزئیات نگاری،خاکہ نگاری اورمنظرنگاری رسواکی کمال دکھتی ہے ،لیکن ان تمام اجزاء میں اضافیت اورغیرضروری اشیا نہیں دکھتی ،اُن کی ہرجزو مکمل اور ضروری نظرآتی ہے جس سے تمام اجزاء میں میچنگ اور جڑت بنتی ہے ۔امراؤ کے کمرے کے میں نواب سے راز و نیاز کی گفتگو کا منظرملاحظہ کیجیے۔
”اتنے میں کمرے کادروازہ دھڑاک سے کھلا اورایک صاحب پچاس پچپن برس کاسن ،سیاہ رنگت، بڑی داڑھی،ترچھی پگڑی باندھے،کمربندھی ہوئی کٹار لگی ہوئی۔کمرے کے اندر گھس گئے اور آتے ہی نہایت بے تکلفی سے میرا زانو دبا کے بیٹھ گئے۔نواب صاحب نے میری طرف دیکھا۔میں نے سرجھکالیا کاٹو تو بدن میں لہو نہیں ۔کہاں تو نواب صاحب سے یہ اقرار تھا کہ بالکل تخلیہ ہوگا۔ کمرے میں کوئی نہ ہوگا۔کس مزے کی گفتگو،کیاستھرامذاق تھا۔کیاراز ونیاز ہورہا تھا۔کہاں یہ بلائے مہیب نازل ہوئی ۔سنگ آمدوسخت آمد۔“(8)
اسی طرح ایک اورمنظر ملاحظہ کیجیے۔
”ساون کامہینہ ہے۔سہ پہرکاوقت ہے۔پانی برس کے کھل گیاہے۔چوک کے کوٹھوں اور بلند دیواروں پر جابجا دھوپ ہے۔ ابر کے ٹکڑے آسمان پر ادھر آتے جاتے نظرآتے ہیں ۔پچھم کی طرف رنگ رنگ کی شفق پھولی ہوئی ہے۔چوک میں سفید پوشوں کا مجمع زیادہ ہوتا جاتا ہے۔آج زیادہ ترمجمع کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جمعہ کادن ہے لوگ عیش باغ کے میلے کو جلد جلد قدم اٹھائے چلے جاتے ہیں ۔خورشید، امیرجان ،بسم اللہ اورمیں میلے جانے کے لیے بن ٹھن رہی ہیں ۔“(9)
رسوا نے کردار نگاری میں بھی کمال مہارت کامظاہرہ کرتے ہوئے تمام کرداروں کو مرکز سے جوڑے رکھا ہے۔کوئی کردار ایسا نہیں جو مرکزی کردار امراؤ سے جڑا ہوا نہ ہو،تمام کردار امراؤ سے وابستہ اور اس کی سہولت کاری کے لیے تخلیق کیے گئے ہیں ۔ناول کا عنوان ،ناول کے مرکزی کردار امراؤ جان ادا پر ہے اور باقی تمام کردار اس سے وابستہ ہیں ۔امراؤ کے والدین،والدین سے عداوت کرنے والے،کوٹھے سے وابستہ کردار حتی کہ ناول کے تمام کردار امراؤ جان ادا سے وابستہ ہیں ،کوئی کردار بھی ایسا بہیں دکھتا کہ اس کا امراؤ جان سے کوئی واسطہ یاتعلق نہیں اور یہ ناول میں در آیا ہو۔ رسوا نے کرداروں کو تخلیق کرتے ہوئے ان کی زبان اوردیگر اہم امور پر بھی کمال ہنرمندی دکھائی ہے ۔یہ تمام اجزاء ایک دوسرے سے اس قدر وابستہ،منسلک اور گوندھے ہوئے ہیں کہ کسی کو کسی سے جدا کرنا تو درکنار جدا کرنے کا سوچنا بھی ممکن نہیں ،کیوں کہ کڑی سے کڑی اس طرح ملائی گئی ہے کہ ایک کڑی کو توڑنے سے پورا ناول کمزور اور ادھورا دکھائی دے گا۔یہی جڑت اور وابستگی ،یہی سانجھے داری اوررشتہ داری اور اجزاء کی کیمسٹری کی یہی میچنگ اس ناول میں نامیاتی وحدت کامنہ بولتا ثبوت ہے۔کوٹھے سے وابستہ کرداروں میں خانم،بسم اللہ جان،خورشید اور دیگر اہم کردار بھی ایک دوسرے سے جڑے دکھائی دیتے ہیں ،کوٹھے پربسم اللہ اورخورشید کے کردار میں تبدیلی پرامراؤ جان ادا کے جذبات ملاحظہ کیجیے۔
”جب سے بسم اللہ کی مسی ہوئی۔خورشید جان اور امیر جان کے کارخانے دیکھے۔میرے دل میں ایک خاص قسم کی امنگ پیدا ہوئی۔میں نے دیکھاکہ ایک خاص رسم (جس سے بالکل ناواقف تھی)کے ادا ہونے کے بعد بسم اللہ سے بسم اللہ جان اور خورشید سے خورشید جان ہوگئیں ۔میں ان کی نگاہوں میں حقیر سی معلوم ہوتی تھی۔ وہ مردوں کے ساتھ بے تکلف ہنسی مذاق کرنے لگی تھیں ۔ان کے کمرے جداجدسج گئے تھے۔“(10)
مرزا ہادی رسوا نے فکر و فن میں اس قدر ربط،تسلسل اور توازن قائم کیاہے کہ ناول کے تمام اجزاء یک جان اور یک قالب دکھائی دیتے ہیں ۔فنی سطح کے علاوہ فکری و موضوعاتی اعتبار سے بھی ناول میں ایک مضبوط ربط دکھتا ہے۔ناول میں جس سماجی المیے کو بیان کیا گیا ہے اس کی کڑیاں خوب ملتی نظر آتی ہیں ۔ناول کی کہانی ایک سماجی انتقام پر استوار دکھائی دیتی ہے جس کے تانے بانے برصغیر پاک و ہند کے سماج کا آج بھی نشان اور علامت دکھتے ہیں ۔آج بھی یہی انتقام اور انتقامی رویے ہمارے ہاں ملتے ہیں ۔اس عہد کے ساتھ کہانی کی جڑت اور ہر سماج، عہد اور عہد حاضر سے اس کی جڑت اس کہانی کو مزید بامعنی اوروسعت وگہرائی عطا کرتی ہے۔یہی زمانی ومکانی جڑت کسی تخلیق کو تادیر زندہ رکھتی ہے اور یہی بنت کاری ،جڑت، ربط و تسلسل نامیاتی وحدت پیدا کرکے منتشر پاروں کو فن پارہ بناتے ہیں ۔
سماجی المیے کے ساتھ دوسرا اہم پہلو جسم فروشی اور کوٹھے کا تصور ہے جس نے اس ناول کو مزید وسیع معنی عطا کیے ہیں ۔جسم فروشی اور اس سے وابستہ لوزامات کو جس قدر رسوانے سلیقے سے بیان کیاہے وہ ناول کے ربط وتسلسل کو مزید نکھارتے ہیں ۔کوٹھے کے رسم ورواج، کوٹھے پروڈیروں ،جاگیرداروں ،نوابوں ،دولت مندوں اور بڑے لوگوں کی آمد،ٹھاٹھ باٹھ اور دیگر امور بڑے سلیقے اور ہنرمندی سے جوڑے گئے ہیں ۔کہیں کوٹھے کے آداب سے دوری اور انتشار وخلا دکھائی نہیں دیتا۔ رسوا نے کوٹھے پرکسی غریب کو نہیں دکھایا بلکہ صرف وڈیروں کی موجودگی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ رسوا کو اس کی مکمل جان کاری تھی اوروہ آداب محفل سے مکمل طور پر آگاہ تھے۔ وہاں کی محفلوں،اداکاری اوردل بہلانے کی محفلوں کوجس اندازمیں سجایا گیا ہے یہ ناول کے اجزاء کی ایک دوسرے سے جڑت اور تعلق داری کو مزید مضبوط کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔
کوٹھے پر طوائفوں کے لیے نوابوں،امراء،وڈیروں اورجاگیرداروں کے جھگڑے اوراُن پرملکیت ظاہر کرنا، ناول کو جذباتی انداز عطا کرتا ہے۔مگر یہ جذباتی فضا ناول میں اضافی ، غیر ضروری، فضول اور بے موقع دکھائی نہیں دیتی بلکہ یہ واقعات کو جوڑنے،کرداروں میں آگے بڑھنے ،رشک وحسد اور مقابلے کی فضا کو جنم دیتی ہے جس سے ناول کے اجزاء آپس میں گہرے روابط قائم کرتے دکھتے ہیں ۔عورت کی خواہشات اور عشق و محبت کی باتیں ،بہترین مرد کی تلاش اورعشق کی پینگیں بڑھانا بھی ناولاتی فضا کو جوڑتا اور منتشرپاروں کو فن پارے کا روپ عطا کرتا دکھائی دیتا ہے۔امراؤ جان اداکی ادائیں،خواہشات اور محبت کے تعلقات کی جھلک ملاحظہ کیجیے۔
”گوہر مرزا بے شک میرا چاہنے والا موجود تھا۔مگر اس کی چاہت اور قسم کی تھی۔اس کی چاہت میں ایک بات کی کمی تھی جسے میرا دل ڈھونڈھتا۔مردانہ ہمت کواس کی طینت میں لگاؤ نہ تھا۔ماں کا ڈومنی پنااس کے خمیر میں شامل تھا۔وہ جو کچھ پاتا تھا مجھ سے چھین جھپٹ کے لے لیتا تھا۔خود ایک روپیہ کے سوا جس کو میں کہہ چکی ہوں کبھی نہیں دیا۔اب میرا دل ایسا عاشق ڈھونڈھتا تھا جو میری ناز برداری کرے۔ روپیہ خرچے، کھلائے پلائے،نواب سلطان صاحب(نواب صاحب کابھی نام آدمی نے بتایاتھا) صورت شکل کے اچھے تھے۔ ان کے چہرے پراس قسم کا رعب تھا جس پرعورت ہزاردل سے فریفتہ ہوجاتی تھی۔ بعض لوگ غلطی سے یہ خیال کرتے ہیں کہ عورت کوصرف خوشامد اور اظہار عشق پسند ہے۔ بے شک پسند ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ اس میں ذرا بھی کمینہ پن نہ ہو۔“(11)
مرزا محمدہادی رسوا نے ناول کے تمام اجزا کو ایک دوسرے سے ایساسلیقے سے مربوط کیاہے کہ ان کو ایک دوسرے سے جدا کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ فکری اورفنی دونوں حوالوں سے تمام اجزا میں جڑت اورربط وتسلسل اس ناول کو اُردو ناول کی روایت میں منفرد مقام عطاکرتی ہے۔کہیں بھی کوئی جزو دوسرے سے الگ دکھائی نہیں دیتا۔ناول میں موقع و مناسبت سے اشعار ناول کو مزید نکھارتے دکھائی دیتے ہیں ۔اشعارکی آمد ناول یا اجزائے ناول کوکمزور نہیں ،بلکہ فنی وجذباتی ہر دونوں حوالوں سے منظم ومربوط کرتی دکھائی دیتی ہے۔
مرزا محمد ہادی رسوا نے زیر نظر ناول ”اُمراؤ جان ادا“میں ایک معاشرتی انتقام جیسی برائی سے ناول کا خمیر اٹھایا اور اُردو ادب کو ایک لازوال ناول عطا کیا جو کہ اُن کے کمال فن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ایک فن کار اور تخلیق کار ایسے ہی چھوٹے چھوٹے موضوعات کو زندہ کردیتا ہے۔ ناول فکری وفنی دونوں صورتوں میں ایک بہترین اورکمال درجے کاناول ہے۔رسوا نے تمام اجزا کو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کرتے ہوئے کہانی کو آغازسے اوج کمال اورپھر اختتام تک جس طرح پہنچایا ہے یہ ناول میں نامیاتی وحدت کو پیدا کرنے میں کامیاب رہے ہیں ۔وگرنہ بہت سے ناول ایسے ہیں جن کے اجزا میں ربط وتسلسل نہ ہونے کے برابر ہے۔جس طرح شاعری میں موسیقیت کا ہونا شاعری کو عظیم بناتا ہے ،اسی طرح ناول میں فلمیت کا ہونا ناول کو درجہ کمال پرلے جاتا ہے ۔ناول ”اُمراؤجان ادا“میں فلمیت بھی ہے اور روانی و تسلسل بھی جو کہ اس ناول کو باقی اس عہد کے ناولوں سے جدا اور منفرد بناتے ہیں ۔
مختصراً ناول ”اُمراؤ جان ادا“بیسویں صدی کے آغاز کا ایک عظیم تحفہ ہے جو مرزا رسوا نے اُردو دنیا کو دیا جس کی خوش بو،مہک،انفرادیت،عظمت اور پذیرائی آج اکیسویں صدی میں بھی جوں کی توں محسوس کی جارہی ہے۔یہ ناول اپنے فکری وفنی ہر دو حوالوں سے ایک شاہکار ہے،تمام اجزا کی ایک دوسرے کے ساتھ جڑت، تسلسل، ربط، مماثلت، توازن اور تہہ داری اس میں وحدت تاثر اور نامیاتی وحدت پیدا کرتی نظر آتی ہیں ۔کسی فن پارے کے اجزا میں اس قدر ربط وتسلسل ہونا انتہائی ضروری ہے مگربہت سوں کے ہاں یہ چیز دکھائی نہیں دیتی جس کی وجہ سے ہم اُن میں نامیاتی وحدت کو تلاش کرسکیں ۔نامیاتی وحدت کے حوالے سے ناول ”اُمراؤ جان ادا“ایک نمونہ،مثال اور شاہکار ہے۔
حوالہ جات:
1)۔عمیریاسرشاہین،”اُردونظم میں نامیاتی وحدت ایک مطالعہ“،مشمولہ : ”ادبی میراث“،آئن لائن ویب گاہ،29جولائی 2021ء
2)۔سلیم اختر،ڈاکٹر،”تعارف“،مشمولہ: ”اُمراؤجان ادا“،مرزامحمدہادی رسوا،(لاہور:سنگِ میل پبلی کیشنز،2008ء)،ص3،4
3)۔محمدہادی رسوا،مرزا،”اُمراؤجان ادا“،(لاہور:سنگِ میل پبلی کیشنز،2008ء)،ص27
4)۔ایضاً،ص66
5)۔ایضاً،ص66،67
6)۔ایضاً،ص34
7)۔ایضاً،ص 41
8)۔ایضاً،ص68
9)۔ایضاً،ص 100
10)۔ایضاً،ص52
11)۔ایضاً،ص 65
عمیر یاسر شاہین
پی۔ایچ۔ڈی (اسکالر)
شعبہ اُردوزبان وادب،یونی ورسٹی آف سرگودھا
03037090395
umairyasir28@gmail.com
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

