Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      ستمبر 9, 2026

      کتاب کی بات

      اگست 24, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جون 6, 2026

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کلیاتِ فراقؔ گورکھپوری کے چند نسخوں کا تنقیدی…

      اگست 21, 2026

      تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سیرت النبی ﷺ اور اِنفرادی جواب دہی – ڈاکٹر…

      اگست 24, 2026

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      جیسا گمان ویسا انسان: مترجم ڈاکٹر عثمان غنی…

      جولائی 31, 2026

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

      خبر نامہ

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خصوصی مضامین

      حسین الحق تصوف اور اردو ادب – عبد…

      ستمبر 9, 2026

      خصوصی مضامین

      حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی: حیات اور ادبی…

      جولائی 18, 2026

      خصوصی مضامین

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      مُحَرَّم اور اسلامی اخوت کا تصور – فیض…

      اگست 8, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      حسین الحق تصوف اور اردو ادب – عبد…

      ستمبر 9, 2026

      متفرقات

      مُحَرَّم اور اسلامی اخوت کا تصور – فیض…

      اگست 8, 2026

      متفرقات

      جیسا گمان ویسا انسان: مترجم ڈاکٹر عثمان غنی…

      جولائی 31, 2026

      متفرقات

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      ستمبر 9, 2026

      کتاب کی بات

      اگست 24, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جون 6, 2026

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کلیاتِ فراقؔ گورکھپوری کے چند نسخوں کا تنقیدی…

      اگست 21, 2026

      تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سیرت النبی ﷺ اور اِنفرادی جواب دہی – ڈاکٹر…

      اگست 24, 2026

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      جیسا گمان ویسا انسان: مترجم ڈاکٹر عثمان غنی…

      جولائی 31, 2026

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

      خبر نامہ

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خصوصی مضامین

      حسین الحق تصوف اور اردو ادب – عبد…

      ستمبر 9, 2026

      خصوصی مضامین

      حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی: حیات اور ادبی…

      جولائی 18, 2026

      خصوصی مضامین

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      مُحَرَّم اور اسلامی اخوت کا تصور – فیض…

      اگست 8, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      حسین الحق تصوف اور اردو ادب – عبد…

      ستمبر 9, 2026

      متفرقات

      مُحَرَّم اور اسلامی اخوت کا تصور – فیض…

      اگست 8, 2026

      متفرقات

      جیسا گمان ویسا انسان: مترجم ڈاکٹر عثمان غنی…

      جولائی 31, 2026

      متفرقات

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
غزل شناسی

شہپر رسول  کی تنقید نگاری – کلدیپ آنند

by adbimiras ستمبر 13, 2026
by adbimiras ستمبر 13, 2026 0 comment

              

شہپر رسول عصر حاضر کے ان ممتاز ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں جن کی ادبی شخصیت شاعری، تحقیق، تنقید، تدوین اور تدریس کے متنوع حوالوں سے تشکیل پاتی ہے۔اکیسویں صدی کے بنیاد گزار ناقدین میں شہپر رسول کا نام لیا جائے تو بیجا نہ ہوگا،  انھوں نے تحقیق و تنقید کے میدان میں  اپنی ایک مستقل اور معتبر شناخت قائم کی ہے۔ ان کی تنقید کسی ازکارِ رفتہ تنقیدی سانچے کی تقلید نہیں بلکہ ان کے اپنے وسیع مطالعے، شاعرانہ حسّاسیت اور فنی ادراک کا نتیجہ ہے ۔شہپر رسول کی تنقید ان کی شاعری سے الگ کوئی خارجی سرگرمی نہیں بلکہ ان کے شاعرانہ شعور کا ایک علمی اور فکری تسلسل ہے۔ ان کی شاعری میں امکان، ادراک، داخلی تجربہ اور جمالیاتی احساس جس طرح اظہار پاتے ہیں، ان کی تنقید میں یہی عناصر تجزیاتی اور تحقیقی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ چنانچہ شہپر رسول کو صرف ایک شاعر کی حیثیت سے دیکھنا ان کی ادبی شخصیت کو محدود کرنا ہوگا؛ وہ شاعر تو ہیں، البتہ اس کے علاوہ  عصر حاضر کے بڑے ناقد ین میں سے ایک  ہیں،  ان کی شاعری  پر تو بہت کچھ لکھا گیا لیکن تنقید کے حوالے گفتگوں نہیں ہوئی لہذا  میری یہ کوشش ہے کہ   عصر حاضر کے فکری منظر نامے میں ان کی تنقید نگاری پر بھی بحث ہوں ان کی تنقید میں جو جمالیاتی حس، فنی باریک بینی اور معنوی جستجو دکھائی دیتی ہے، اس کی بنیادی جڑیں ان کی شاعری اور ان کے حساس تخلیقی مزاج میں پیوست ہیں۔ان کے کچھ اشعار ملاحظہ ہوں :

بے انتہا ہونا ہے تو اس خاک کے ہو جاؤ

امکاں کی مسافت کرو افلاک کے ہو جاؤ

سب قصوں کو چھوڑو دل صد چاک کے ہو جاؤ

اس دور جنوں خیز میں ادراک کے ہو جاؤ

(شہپر رسول)

شہپر رسول کا تعلق بنیادی طور پر درس و تدریس سے رہا۔ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ اردو میں پروفیسر رہے اور 2021ء میں سبک دوش ہوئے۔ بعد ازاں جامعہ کے Centre for Distance and Open Learning میں تین برس تک سینئر کنسلٹنٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور وہاں ایم اے اردو کے آغاز میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی ادبی زندگی کا آغاز 1970ء کے آس پاس ہوا اور اس کے بعد انہوں نے شاعری، تحقیق، تنقید اور تدوین کے میدان میں مسلسل کام کیا۔ان کی اہم تصانیف میں ’’صدف سمندر‘‘ (1988)، ’’اردو غزل میں پیکر تراشی: آزادی کے بعد‘‘ (1999)، ’’چشمِ دروں‘‘ (2000)، ’’سخن سراب‘‘ (2002)، ’’نقش و رنگ‘‘ (2007)، ’’کارنامۂ شوق‘‘ (2009)، ’’خطبات‘‘ (2012)، ’’قصیدے کی شعریات‘‘ (2017)، ’’کچھ بھی نہیں بدلا‘‘ (2018)، ’’معنی و معانی‘‘ (2021) اور ’’اردو کی کلاسیکی شعری اصناف‘‘ (2026) قابلِ ذکر ہیں۔

شہپر رسول کی تنقید نگاری:

شہپر رسول کی ادبی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی تحقیق و تنقید ہے۔ ان کی تنقید محض نظری گفتگو یا ادبی تصورات کی تکرار نہیں بلکہ شعری متن، اس کے فنی عناصر اور اس کے تہذیبی و جمالیاتی پس منظر کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کا تحقیقی کام ’’اردو غزل میں پیکر تراشی: آزادی کے بعد‘‘ اس سلسلے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے آزادی کے بعد اردو غزل میں پیکر، تصویر، علامت اور شعری اظہار کے مختلف طریقوں کا جائزہ لیا ہے۔ اس سے ان کی تنقیدی بصیرت اور شعری جمالیات سے گہری وابستگی کا اندازہ ہوتا ہے۔شہپر رسول کی تحقیقی و تنقیدی کتاب ’’اردو غزل میں پیکر تراشی‘‘ ان کے ادبی مطالعے کی اہم کڑی ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے اردو غزل کے ایک بنیادی فنی وصف یعنی پیکر تراشی کو موضوعِ تحقیق بنایا ہے۔ کتاب قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی سے شائع ہوئی اور اس کی قیمت 205 روپے درج ہے۔ کتاب کی فہرستِ مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف نے پیکر تراشی کے مسئلے کو اردو غزل کی مختلف تاریخی اور فکری ادوار کے حوالے سے منظم انداز میں پیش کیا ہے۔ جدید غزل میں فرد کی داخلی تنہائی، وجودی کرب، بے یقینی، اجنبیت، شہری زندگی، سیاسی اضطراب اور بدلتی ہوئی تہذیبی صورتِ حال جیسے موضوعات داخل ہوئے۔شہپر رسول کے نزدیک تخلیق کار ہمیشہ اپنے جذبات و احساسات کو براہِ راست بیان نہیں کرتا۔ وہ اپنی داخلی کیفیت کو کائنات کی کسی شے، منظر یا کیفیت سے مماثلت دے کر ظاہر کرتا ہے۔ اس طرح خارجی شے دراصل داخلی احساس کی نمائندہ بن جاتی ہے۔مثلاً شکیب جلالی کا شعر:

یہ برف سی  ترے چہر پہ کیو ں  پگھلنے لگی

 مری نگاہ میں خواہش کا شائبہ بھی نہ تھا

یہاں ’’نگاہ میں برف کا پگھلنا‘‘ کوئی حقیقی منظر نہیں بلکہ ایک داخلی کیفیت کا پیکر ہے۔ برف کا پگھلنا خواہش، جذبے یا کسی پوشیدہ احساس کے بیدار ہونے کی علامت بن جاتا ہے۔ شہپر رسول اسی قسم کے بالواسطہ اظہار کو پیکر تراشی کے بنیادی عمل سے وابستہ کرتے ہیں۔شہپر رسول پیکر تراشی کے مطالعے میں یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ فن پارے کی مجازی، تخلیقی اور جمالیاتی زبان کس نوعیت کی ہے۔ عام زبان اور شعری زبان میں فرق کرتے ہوئے وہ یہ واضح کرتے ہیں کہ شاعر جب لفظ کو اس کے معمول کے معنی سے ہٹا کر نئے تخلیقی رشتے میں استعمال کرتا ہے تو اس سے نیا پیکر تشکیل پاتا ہے۔مثلاً بانی کا شعر:

نہیں ہے آنکھ کے صحرا میں ایک بوند سراب
مگر یہ رنگ بدلتا ہوا سا کچھ تو ہے

’’آنکھ کا صحرا‘‘، ’’سراب‘‘ اور ’’رنگ بدلنا‘‘ تینوں مل کر ایک ایسی شعری کیفیت پیدا کرتے ہیں جو صرف کسی خارجی منظر کی تصویر نہیں بلکہ داخلی اضطراب، بے یقینی اور احساس کی پیچیدگی کو مجسم کرتی ہے۔

کتاب کا آغاز ’’حرفِ آغاز‘‘ سے ہوتا ہے، جس کے بعد ’’ادبی پیکر کا مفہوم‘‘ کے عنوان سے پیکر کی بنیادی اصطلاحی اور ادبی حیثیت پر گفتگو کی گئی ہے۔ یہ حصہ اس اعتبار سے اہم ہے کہ کسی بھی فنی اصطلاح کے تجزیے سے قبل اس کے مفہوم اور حدود کا تعین ضروری ہوتا ہے۔ شہپر رسول نے پیکر کو محض لفظی تصویر یا منظر نگاری تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے شعری اظہار کے ایک اہم وسیلے کے طور پر دیکھنے کی کوشش کی ہے۔پیکر کے متعلق فرماتے ہیں :

"تخلیق کار بسا اوقات اپنی باطنی کیفیات کا براہ راست اظہار نہیں کرتا بلکہ کائنات کی بعض اشیا واحوال سے ان کی مماثلت و مناسبت پیدا کر کے نفس مضمون کو روشن کرتا ہے ، اس طرح اس کے مافی الضمیر کی بالواسطہ ترسیل ہوتی ہے۔ اس عمل کو تخلیق کار کی مخصوص پیکر تراشی کہا جا سکتا ہے۔ قاری یا ناقد کی حیثیت سے جب ہم کسی تخلیق یا فن پارے کو مطالعہ و تنقید کا نقطہ آغاز بناتے ہیں تو اس کا ایک رد عمل ہوتا ہے یا یوں کہئے کہ اس کے متعلقہ عناصر ہمارے جو اس کو متاثر کرتے ہیں۔ اس عمل میں سب سے پہلے ہم تخلیق کو ایک لسانی پر کی حیثیت سے سامنے رکھتے ہیں اور پھر اس کے مفہوم تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔”

(اردو غزل میں پیکر تراشی ص:31)

کلاسیکی اور نوکلاسیکی غزل میں پیکر تراشی کے مطالعے میں اس عہد کے شعری اسلوب، تخیل اور جمالیاتی شعور کے حوالے سے پیکروں کی تشکیل کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔اس کے بعد ترقی پسند غزل میں پیکر تراشی کا مطالعہ کتاب کو ایک نئے فکری مرحلے میں داخل کرتا ہے۔ ترقی پسند تحریک کے زیرِ اثر اردو شاعری میں فرد کے ذاتی احساسات کے ساتھ سماجی، سیاسی اور معاشی مسائل بھی نمایاں ہوئے،

کتاب کا چوتھا باب ’’جدید غزل میں پیکر تراشی‘‘ شہپر رسول کی تحقیق کا نہایت اہم حصہ ہے۔ اس میں جدیدیت کے مختلف نظریات کی روشنی میں جدیدیت کے مفہوم کو واضح کیا گیا ہے اور جدید اردو غزل کے مخصوص رنگ و آہنگ کی نشان دہی کی گئی ہے۔

شہپر رسول نے جدید غزل کے تقریباً بیس اہم شعرا کی غزلوں کا تجزیہ کیا ہے۔ ان میں ناصر کاظمی، خلیل الرحمن اعظمی، ابنِ انشا، منیر نیازی، ظفر اقبال، شکیب جلالی، سلیم احمد، شاذ تمکنت، حسن نعیم، وزیر آغا، شہزاد احمد، شہریار، ساقی فاروقی، بانی، نشتر خانقاہی، مخمور سعیدی، محمد علوی، ندا فاضلی اور زیب غوری وغیرہ شامل ہیں۔شہپر رسول کے نزدیک جدید شاعروں کے یہاں پیکر تراشی اپنی تازگی، توانائی اور انفرادیت کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ جدید غزل میں شاعر کے داخلی تجربے، تنہائی، احساسِ بےگانگی، تہذیبی اضطراب اور پیچیدہ نفسیاتی کیفیات کے اظہار کے لیے نئے پیکر تشکیل پاتے ہیں۔ اس لیے جدید غزل کے پیکر کلاسیکی اور نوکلاسیکی روایت سے بھی مختلف ہیں اور ترقی پسند شعری پیکروں سے بھی۔ شہپر رسول کے مطالعے کا ایک اہم نتیجہ یہ ہے کہ اردو غزل میں منفرد اور جدید پیکر تراشی کو ایک نئی شعری شناخت جدید شعرا نے عطا کی۔شہپر رسول کی ’’اردو غزل میں پیکر تراشی‘‘ ان کی تنقیدی بصیرت کا ایک اہم ثبوت ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے پیکر تراشی کو محض ایک شعری صنعت کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے تاریخ، تہذیب، سماج، نفسیات، تخیل اور شعری جمالیات سے مربوط کیا ہے۔ ان کا یہ تحقیقی رویہ اردو غزل کے مطالعے کو ایک مخصوص فنی زاویہ فراہم کرتا ہے۔

اس اعتبار سے شہپر رسول کی تنقید تحقیق اور تنقید کے امتزاج، متن فہمی، تاریخی شعور، نفسیاتی بصیرت اور فنی تجزیے کی نمائندہ ہے۔ انہوں نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ غزل کے پیکر محض خوب صورت الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ شاعر کے داخلی تجربے اور اس کے عہد کے اجتماعی شعور کو محسوس اور مجسم بنانے کا ذریعہ ہیں۔ یہی خصوصیت شہپر رسول کو عصرِ حاضر کے ان نقادوں میں شامل کرتی ہے جنہوں نے اردو غزل کے فنی وسائل کو ایک نئے اور نسبتاً منفرد زاویۂ نظر سے سمجھنے کی کوشش کی۔شہپر رسول کی تنقید کا ایک نمایاں وصف متن پر توجہ ہے۔ وہ شاعر یا ادیب کے کلام کو اس کے فنی محاسن، زبان، اسلوب، پیکر تراشی اور اظہار کے مختلف وسائل کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔ ان کے یہاں تنقید میں نہ تو غیر ضروری نظریاتی پیچیدگی غالب آتی ہے اور نہ محض تاثراتی انداز اختیار کیا جاتا ہے؛ بلکہ وہ ادبی تخلیق کے اندر موجود فنی اور معنوی امکانات کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

’’چشمِ دروں‘‘  کے حوالے سے  شہپر رسول کی تنقید نگاری

شہپر رسول کا مجموعۂ مضامین ’’چشمِ دروں‘‘ ان کی تنقیدی شخصیت کو سمجھنے کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ کتاب کے مضامین کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ شہپر رسول کا تنقیدی دائرۂ کار وسیع ہے۔ وہ ایک طرف اختر انصاری، حکیم احمد شجاع اور انتون چیخوف جیسی ادبی شخصیات کے فن اور شخصیت کا مطالعہ کرتے ہیں تو دوسری طرف اردو غزل میں پیکر تراشی، مابعد جدید غزل، افتخار عارف، پروین شاکر، عرفان صدیقی، اسعد بدایونی، خالد محمود اور اکبر حمیدی جیسے موضوعات کو بھی اپنی تنقید کا حصہ بناتے ہیں۔

اس کتاب کا پہلا مضمون ’’اختر انصاری: آئینے سے عکس تک‘‘ ہے۔ شہپر رسول نے اختر انصاری کی ہمہ جہت ادبی شخصیت کو موضوع بنایا ہے۔ ان کے نزدیک اختر انصاری صرف شاعر نہیں بلکہ غزل، قطعہ، رباعی، نظم، افسانہ، انشائیہ اور تنقید سمیت مختلف اصناف میں اپنی تخلیقی صلاحیت کا اظہار کرنے والے ادیب تھے۔ اس مضمون میں شہپر رسول کا تنقیدی رویہ محض سوانحی تعارف تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ اختر انصاری کے ادبی مقام اور ان کے ساتھ روا رکھے گئے رویے کا بھی جائزہ لیتے ہیں۔ اس سے شہپر رسول کے یہاں ادبی انصاف اور شخصیت کے مجموعی ادبی کارنامے کی بازیافت کا رجحان ظاہر ہوتا ہے۔دوسرا مضمون ’’حکیم احمد شجاع‘‘ کے حوالے سے ہے۔ یہاں شہپر رسول نے شاعر اور ڈرامہ نگار حکیم احمد شجاع کی ادبی شخصیت اور خدمات کو موضوع بنایا ہے۔ ان کے مشہور ڈراموں اور آغا حشر کاشمیری سے ان کے تعلق کا ذکر کرتے ہوئے شہپر رسول نے ان کے ادبی مقام کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس طرح ان کی تنقید میں ادبی شخصیت کے تخلیقی تنوع کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

تیسرا مضمون انتون پاولووچ چیخوف کے بارے میں ہے۔ اس مضمون کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ شہپر رسول نے چیخوف کی شخصیت اور فن کو ’’شخصی اور ادبی آئینوں‘‘ میں دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ اس سے ان کے تنقیدی طریقۂ کار میں تاثر، مطالعہ، شخصی تجربے اور ادبی تجزیے کا امتزاج ظاہر ہوتا ہے۔ وہ چیخوف کو محض ایک غیر ملکی ادیب کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ اس کے فن کے اسرار اور تخلیقی جہات تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

’’اردو غزل میں پیکر تراشی‘‘: تنقید کا اہم باب

’’چشمِ دروں‘‘ کا چوتھا مضمون ’’اردو غزل میں پیکر تراشی‘‘ شہپر رسول کی تنقیدی فکر کا ایک اہم مظہر ہے۔ اس مضمون میں پیکر، پیکر تراشی اور غزل کے احیا کے باہمی تعلق پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس ضمن میں حسرت موہانی، جگر مرادآبادی، یگانہ چنگیزی اور فراق گورکھپوری کے بعد ترقی پسند، جدید اور مابعد جدید شعرا کی پیکر تراشی کا جائزہ لیا گیا ہے۔

شہپر رسول کے نزدیک ترقی پسند شعرا نے اردو غزل کے موضوعات میں وسعت پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ پیکر تراشی کے ذریعے اس کے لسانی اظہار کو زیادہ مستحکم، معنی خیز اور دلکش بنایا۔ اس کے بعد جدید اور مابعد جدید شعرا کے یہاں پیکر تراشی مزید پیچیدہ، معنی آفریں اور ہمہ جہت صورت اختیار کرتی ہے۔یہاں شہپر رسول کی تنقید کا ایک اہم اصول سامنے آتا ہے کہ ادبی رجحان کی تبدیلی کے ساتھ شعری پیکر کی نوعیت بھی تبدیل ہوتی ہے۔ یعنی پیکر محض جمالیاتی آرائش نہیں بلکہ اپنے عہد کے فکری اور تخلیقی تجربے کا آئینہ بھی ہے۔

مابعد جدید غزل کا مطالعہ

’’چشمِ دروں‘‘ میں ’’مابعد جدید غزل یا نئی غزل‘‘ کے عنوان سے مضمون بھی شہپر رسول کے تنقیدی شعور کا اہم نمونہ ہے۔ وہ مابعد جدید غزل کے خدوخال واضح کرتے ہوئے اس کی الگ شناخت قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک زندگی کی تیز رفتار تبدیلیوں کے نتیجے میں اقدار، فکر، طرزِ عمل اور انسانی تجربے کی سطح پر جو تغیرات رونما ہوئے، ادب نے بھی انہیں قبول کیا۔اسی لیے مابعد جدید شعرا کے یہاں غزل کے موضوعات، لفظیات اور مزاج میں وسعت، ندرت اور توانائی پیدا ہوئی۔ شہپر رسول کا یہ مطالعہ اس اعتبار سے اہم ہے کہ وہ مابعد جدیدیت کو محض ایک نظری اصطلاح کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ اس کے اثرات کو غزل کی زبان، موضوع اور شعری مزاج میں تلاش کرتے ہیں۔

جدید اور مابعد جدید شاعری میں پیکر تراشی

شہپر رسول کی تنقید میں جدید اور مابعد جدید شعری رجحانات کے مطالعے کا ایک بنیادی پہلو پیکر تراشی ہے۔ ان کے نزدیک جدید اور مابعد جدید شعرا نے اپنے تخلیقی و جمالیاتی تجربات اور بدلتے ہوئے افکار و اقدار کو شعری شکل دینے کے لیے پیکر تراشی کا زیادہ بامعنی اور ہمہ جہت استعمال کیا۔ان شعرا کے یہاں رمزیہ پیرایۂ اظہار کی وجہ سے پیکر تراشی کو خاص فروغ ملا۔ رمز اور علامت کے ذریعے جب شاعر اپنے پیچیدہ تجربے کو بیان کرتا ہے تو پیکر صرف ایک تصویر نہیں رہتا بلکہ متعدد معنوی امکانات پیدا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہپر رسول کے نزدیک اردو غزل کا تخلیقی سفر مسلسل نئے امکانات کی طرف بڑھتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

انفرادی شعرا کا تنقیدی مطالعہ

’’چشمِ دروں‘‘ میں شہپر رسول نے افتخار عارف، پروین شاکر، عرفان صدیقی، اسعد بدایونی، خالد محمود اور اکبر حمیدی کی شاعری کے مختلف پہلوؤں کو بھی موضوع بنایا ہے۔ اس سے ان کی تنقید کی ایک اور خصوصیت سامنے آتی ہے کہ وہ کسی شاعر کے پورے فن کو ایک ہی زاویے سے دیکھنے کے بجائے اس کی نمایاں فنی خصوصیت تلاش کرتے ہیں۔مثلاً پروین شاکر کے حوالے سے رنگ، روشنی اور خوشبو جیسے حسی پیکروں کو ان کے شعری مزاج سے مربوط کیا جا سکتا ہے، جب کہ عرفان صدیقی کے یہاں پیکر تراشی کو غزل کے حوالے سے دیکھنا شہپر رسول کے اس طریقۂ کار کی مثال ہے جس میں شاعر کے فنی امتیاز کو اس کے مخصوص شعری وسیلے کے ذریعے سمجھا جاتا ہے۔

’’چشمِ دروں‘‘ شہپر رسول کی تنقید کا ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ان کی علمی، جمالیاتی اور تخلیقی بصیرت بیک وقت جلوہ گر ہوتی ہے۔ اس کتاب سے واضح ہوتا ہے کہ شہپر رسول کے لیے تنقید محض خامیوں کی نشان دہی یا ادبی نظریات کی توضیح کا نام نہیں، بلکہ تخلیق کے باطن میں اتر کر اس کے فنی اسرار، جمالیاتی حسن، لسانی ساخت اور معنوی جہات کو دریافت کرنے کا عمل ہے۔

خصوصاً پیکر تراشی کے حوالے سے ان کی تنقید میں ایک مستقل فکری ربط دکھائی دیتا ہے۔ کلاسیکی غزل سے ترقی پسند، جدید اور مابعد جدید غزل تک پیکر کی تبدیلی کو دیکھتے ہوئے وہ دراصل اردو غزل کے بدلتے ہوئے شعری شعور کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اس طرح شہپر رسول کی تنقید میں تحقیق، متن فہمی، جمالیات، نفسیات، تاریخ اور شعریات ایک دوسرے سے مربوط ہو جاتے ہیں۔ یہی جامع تنقیدی رویہ ان کی ادبی شخصیت کو عصرِ حاضر کی اردو تنقید میں نمایاں مقام عطا کرتا ہے۔نقش و رنگ میرے مضامین کا دوسرا مجموعہ ہے۔ اس سے پہلے اردو غزل میں پیکر تراشی: آزادی کے بعد (۱۹۹۹ء) تحقیقی اور تنقیدی کتاب اور چشم دروں (۲۰۰۰ء) مجموعہ مضامین منظر عام پر آچکا ہے۔ لیکن میں بنیادی طور پر شاعر ہوں، نقاد نہیں۔

’’نقش و رنگ‘‘ کے حوالے سے  شہپر رسول کی تنقید نگاری

شہپر رسول کا مجموعۂ مضامین ’’نقش و رنگ‘‘ ان کی تنقیدی شخصیت کے مطالعے میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ کتاب پہلی مرتبہ 2007ء میں اور دوسری بار 2008ء میں شائع ہوئی۔ خود شہپر رسول نے پیش گفتار میں واضح کیا ہے کہ یہ ان کے مضامین کا دوسرا مجموعہ ہے؛ اس سے قبل ’’اردو غزل میں پیکر تراشی: آزادی کے بعد‘‘ (1999ء) اور ’’چشمِ دروں‘‘ (2000ء) شائع ہو چکی تھیں۔ تاہم وہ اپنی بنیادی شناخت شاعر کی حیثیت سے قائم کرتے ہیں اور خود کو باقاعدہ نقاد قرار دینے سے گریز کرتے ہیں۔یہ خود احتسابی شہپر رسول کے تنقیدی مزاج کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ وہ اس بات کے قائل نہیں کہ نقاد اپنے نظریے کو فن پارے پر مسلط کرے اور پھر اسی نظریے کی بنیاد پر اس کے حسن و قبح کا فیصلہ کرے۔ ان کے نزدیک فن پارے کی اپنی داخلی قدر و قیمت اور جمالیاتی حیثیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اس لیے ان کی تنقید میں نظریاتی جبر کے بجائے تخلیق کے ساتھ ایک حساس قاری کا تعلق زیادہ نمایاں دکھائی دیتا ہے۔

’’نقش و رنگ‘‘ کے پیش گفتار سے شہپر رسول کے تنقیدی نظریے کا ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے۔ وہ اس تنقید کے قائل نہیں جس میں نقاد اپنے مخصوص نظریے کو فن پارے پر غالب کردے۔ ان کے خیال میں نظریات بدلتے رہتے ہیں اور اگر فن پارے کی قدر و قیمت کا پیمانہ بھی ہر نظریاتی تبدیلی کے ساتھ بدلتا رہے تو تخلیق کی اپنی جمالیاتی خودمختاری متاثر ہوتی ہے۔دوسری طرف وہ تنقید کو ایک نہایت وسیع اور ہمہ جہت علم سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک تنقید کا تعلق فلسفہ، جمالیات، عمرانیات، نفسیات، معاشیات، سیاست، تہذیب، تاریخ، سائنس اور دوسرے علومِ انسانی سے ہے۔ اس لیے وہ اپنے تنقیدی مضامین کو کسی حتمی یا جامع تنقیدی نظام کے طور پر پیش کرنے کے بجائے ایک حساس اور باشعور قاری کے ردِعمل کے طور پر دیکھتے ہیں۔یہ بات شہپر رسول کی تنقید کے اسلوب کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ ان کے یہاں تاثراتی تنقید اور تجزیاتی تنقید دونوں عناصر موجود ہیں۔ وہ تخلیق سے ذاتی اور جمالیاتی سطح پر متاثر بھی ہوتے ہیں اور اس کے فنی و معنوی پہلوؤں کا تجزیہ بھی کرتے ہیں۔

’’نقش و رنگ‘‘ کے مضامین کا تنوع

’’نقش و رنگ‘‘ کو شہپر رسول نے چار حصوں میں تقسیم کیا ہے، جس سے ان کے تنقیدی مطالعے کی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔پہلے حصے میں ’’اردو ادب میں پیروڈی کی روایت‘‘، ’’اردو صحافت کے فروغ میں حسرت موہانی کی خدمات‘‘، ’’کچھ ادبی رویے اور مسئلے: ایک تاثر‘‘ اور ’’تخلیقی عمل اور اس کی جہات‘‘ شامل ہیں۔ ان مضامین میں ادبی روایت، صحافت، ادبی رویوں اور تخلیقی عمل جیسے مختلف موضوعات پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ شہپر رسول کی تنقید صرف شاعری یا غزل تک محدود نہیں۔

دوسرے حصے میں شعری مطالعے کو زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ اس میں ’’آغا حشر کاشمیری کی شاعری غزل کے حوالے سے‘‘، ’’گوپال متل بحیثیت غزل گو‘‘، ’’عنوان چشتی کی غزل کا ایک پہلو‘‘ اور ’’شباب للت کی غزل: ایک مطالعہ‘‘ جیسے مضامین شامل ہیں۔ یہاں شہپر رسول مختلف شعرا کے فن کی کسی نہ کسی مخصوص جہت کو مرکز بنا کر ان کی شاعری کا جائزہ لیتے ہیں۔تیسرے حصے میں جواں مرگ شاعر اسعد بدایونی سے متعلق شخصی مضمون شامل ہے۔ اس مضمون سے شہپر رسول کے تنقیدی مزاج کا وہ پہلو سامنے آتا ہے جس میں شخصی تعلق، محبت اور ادبی قدر شناسی باہم مل جاتے ہیں۔چوتھے حصے میں مختلف کتابوں پر تحریر کردہ مضامین شامل ہیں، جن میں ’’کارنامۂ شوق‘‘، اجیت کور کا ناول ’’گوری‘‘ اور ڈاکٹر قمر الہدیٰ فریدی کی ’’اردو داستان: تحقیق و تنقید‘‘ قابلِ ذکر ہیں۔ اس حصے سے ان کی کتاب شناسی اور تنقیدی مطالعے کی صلاحیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

’’تخلیقی عمل اور اس کی جہات‘‘ کے عنوان سے مضمون شہپر رسول کے نظریۂ ادب کو سمجھنے میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ چونکہ وہ خود شاعر بھی ہیں، اس لیے تخلیقی عمل کو محض خارجی یا نظریاتی سطح پر نہیں دیکھتے۔ ان کے یہاں تخلیق ایک پیچیدہ انسانی اور ذہنی عمل ہے جس میں تجربہ، احساس، تخیل اور اظہار ایک دوسرے سے مربوط ہوتے ہیں۔یہی رجحان ان کی پیکر تراشی سے متعلق تنقید میں بھی نظر آتا ہے۔ ’’اردو غزل میں پیکر تراشی‘‘ سے لے کر ’’نقش و رنگ‘‘ کے مضامین تک ان کی کوشش رہتی ہے کہ تخلیق کے ظاہری حسن کے ساتھ اس کے اندرونی تخلیقی عمل تک بھی رسائی حاصل کی جائے۔

’’نقش و رنگ‘‘ میں غزل سے متعلق مضامین شہپر رسول کی تنقیدی بصیرت کا اہم حصہ ہیں۔ آغا حشر کاشمیری، گوپال متل، عنوان چشتی اور شباب للت کے حوالے سے ان کے مطالعات میں یہ بات نمایاں ہے کہ وہ شاعر کے پورے کلام کو محض ایک عمومی فیصلے کے تحت نہیں رکھتے بلکہ اس کے مخصوص فنی امتیاز کو تلاش کرتے ہیں۔یہی طریقۂ کار ان کی سابقہ کتاب ’’اردو غزل میں پیکر تراشی‘‘ میں بھی نظر آتا ہے، جہاں انہوں نے پیکر تراشی کو غزل کی مختلف شعری روایتوں اور ادوار کے ساتھ مربوط کرکے دیکھا تھا۔ اس اعتبار سے ’’نقش و رنگ‘‘ میں شامل غزلیہ مطالعات ان کی تنقیدی فکر کے تسلسل کو ظاہر کرتے ہیں۔

شہپر رسول خود اپنے مضامین کو ’’ادب کے ایک قاری کے ردِعمل‘‘ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اس اعتراف سے ان کی تنقید کے تاثراتی پہلو کو سمجھا جا سکتا ہے۔ تاہم ان کا تاثر محض ذاتی پسند یا ناپسند تک محدود نہیں رہتا۔ وہ تخلیق کے فنی پہلو، زبان، شعری کیفیت، موضوع اور اسلوب کی بنیاد پر اپنے تاثر کو معنی دینے کی کوشش کرتے ہیں۔اس لیے ان کی تنقید کو خالص تاثراتی تنقید کہنا بھی درست نہیں ہوگا۔ اس میں تاثراتی، جمالیاتی، تجزیاتی اور تحقیقی عناصر ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔

’’نقش و رنگ‘‘ شہپر رسول کی تنقید نگاری کے اس پہلو کو نمایاں کرتی ہے جس میں ایک شاعر کی نظر سے تخلیق کو دیکھا گیا ہے۔ وہ خود کو نقاد کہنے سے گریز کرتے ہیں، لیکن ان کے مضامین میں موجود فنی شعور، جمالیاتی بصیرت، شعریات سے واقفیت، متن فہمی اور ادبی روایت کا احساس انہیں ایک اہم تنقیدی مقام عطا کرتا ہے۔ان کی تنقید کا بنیادی رویہ یہ ہے کہ نقاد کو تخلیق پر مسلط ہونے کے بجائے تخلیق کے باطن میں داخل ہوکر اس کے حسن، معنی اور فنی انفرادیت کو دریافت کرنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ ’’چشمِ دروں‘‘ اور ’’نقش و رنگ‘‘ کے مضامین کو ’’اردو غزل میں پیکر تراشی‘‘ کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو شہپر رسول کی تنقیدی شخصیت کا ایک مربوط تصور سامنے آتا ہے: وہ بنیادی طور پر شاعر ہیں، لیکن شاعرانہ حسیت، جمالیاتی شعور اور تحقیقی مطالعے کے امتزاج سے انہوں نے اردو تنقید میں اپنا ایک منفرد زاویۂ نظر پیدا کیا ہے

حاصل بحث

شہپر رسول کی ادبی شناخت اگرچہ بنیادی طور پر ایک شاعر کی حیثیت سے قائم ہوتی ہے، لیکن یہ کہنا بھی درست ہوگا کہ ان کا نام صرف شاعری تک محدود نہیں رہے گا؛ اردو تنقید میں بھی ان کی ایک مستقل اور قابلِ ذکر شناخت موجود ہے۔ انہوں نے تنقید کے میدان میں اگرچہ خود کو باقاعدہ نقاد قرار دینے سے گریز کیا ہے، لیکن ’’اردو غزل میں پیکر تراشی: آزادی کے بعد‘‘، ’’چشمِ دروں‘‘ اور ’’نقش و رنگ‘‘ جیسی کتابیں ان کی تنقیدی صلاحیت اور وسیع ادبی مطالعے کا واضح ثبوت ہیں۔شہپر رسول کی تنقید نگاری کا سفر ان کی کتابوں کی اشاعت پر ختم نہیں ہوتا۔ ان کے تنقیدی کام کی معنویت اس وقت بھی برقرار رہے گی جب آنے والی نسلیں اردو غزل، پیکر تراشی اور جدید شعری جمالیات کا مطالعہ کریں گی۔ میرے جیسے ادیب اور محقق ان کی تنقید نگاری پر گفتگو کرتے رہیں گے، ان کے نظریات کو نئے تناظر میں پرکھیں گے اور ان کے تنقیدی کارناموں کی اہمیت کو اجاگر کرتے رہیں گے۔ بڑے ادیب صرف اپنے عہد کے لیے نہیں ہوتے؛ ان کا اصل ادبی مقام اس وقت متعین ہوتا ہے جب بعد کی نسلیں ان کے فن کو دوبارہ پڑھتی، سمجھتی اور نئے معنی دریافت کرتی ہیں۔ اس اعتبار سے شہپر رسول کی شاعری کے ساتھ ساتھ ان کی تنقید بھی آنے والے اہلِ قلم کے لیے مطالعے اور گفتگو کا ایک اہم موضوع بنی رہے گی۔

 

شعبہ اردو ، دہلی یونیورسٹی

موبائل نمبر : 8210715459

 

 

(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں    https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

 

adabi meerasadabi miraasadabi mirasjamiajamia millia islamiashehpar rasoolادبی میراثجامعہ ملیہ اسلامیہ
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
سنگھاردان – شموئل احمد

یہ بھی پڑھیں

جون ؔ ایلیا اور اس کی غزلیہ شاعری...

جولائی 30, 2026

طنزیہ اسلوب کا انوکھا شاعر: ظفر صدیقی –...

جولائی 4, 2026

برگِ سخن کی بات ہے دل تھام لیجیے...

جنوری 31, 2026

نوجوان شعراء کی نئی نسل: سفر، سفیر اور...

اکتوبر 11, 2025

صاحب ذوق قاری اور شعر کی سمجھ –...

مئی 5, 2025

 ایک اسلوب ساز شاعر اور نثر نگار شمیم...

جنوری 20, 2025

حسرت کی سیاسی شاعری – پروفیسر شمیم حنفی

جنوری 15, 2025

غالب اور تشکیک – باقر مہدی

جنوری 15, 2025

غالب: شخصیت اور شاعری: نئے مطالعے کے امکانات...

دسمبر 17, 2024

غالب اور جدید فکر – پروفیسر شمیم حنفی

دسمبر 9, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (61)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (187)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (121)
  • تخلیقی ادب (603)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (204)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (145)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,057)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (541)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (220)
      • غزل شناسی (208)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (47)
    • طب (20)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (13)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (482)
  • گوشہ خواتین و اطفال (100)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,144)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (35)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (901)
    • خصوصی مضامین (129)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (230)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں