Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
غزل شناسی

آشوب جان وجہان اور احمد محفوظ کی غزل – تفسیر حسین

by adbimiras مئی 15, 2021
by adbimiras مئی 15, 2021 0 comment

وبا کے موسم میں تاثراتی وبائیہ شاعری کا ایک سلسلہ  شروع ہوا۔ وبا کے موسم کا ادب بھی مرتب کیا گیا۔ شاعری یا ادبی اظہار کا معاملہ یہ ہے کہ یہ ہنگامی حالتوں سے نباہ کم کم کرتا ہے۔ ہنگامی ضروتوں کے مدنظر لکھے گئے ادب کا بڑا ذخیرہ اردو میں موجود ہے ۔ آزادی کے زمانے میں حریت کی شاعری اور ملی نسبتوں سے مغلوب ادب کا وافر ذخیرہ موجود ہے ۔ اس ذخیرے کی ماہیت پر غور کریں تو کم چیزیں ہی ایسی باقی بچتی ہیں تو وقت کے گزران کو سہار اپنے اثر ومعنی کو باقی اور پائیدار رکھنے میں کامیاب رہی ہوں۔ شاعری کی معنویت اور قوت اس کی معنی آفرینی اور تعمیمی انسلاک میں ہے۔ اسے انسان کے بنیادی احساس و عرفان کی ترجمانی اور اس سے ہم آہنگی کا کڑا کوس وقت کے جبر سے آزاد ہوکر طے کرنا ہوتا ہے۔ اپنے حال سےہم رشتہ ہوکر حال پر قانع اور ہم عصرصورت حال میں محدود ہوجانا معیاری ادب کامطمح نظر نہیں رہاہے۔ یہ ایک طرح سے ادب کی کمزوری ہی ہے کہ وہ وقت کی گرد سے محفوظ نہ رہ سکے اور ایک خاص صورت حال کے نشاط یاغم کو انگیز کرتے ہوئے ٹمٹما کر تما م ہوجائے۔ یہ بات دستاویزی  وموضوعی اور تجریدی و تجسیمی مضامین کونبھانے والے ، ہر دو طرح کی تخلیقات کے بارے میں کہی جاسکتی ہے۔ دستاویزیت پر مبنی، وقت کے چوکھٹے میں قید ادب میں حصار وقت سے آزاد ہونے والے اوصاف ہوتے ہیں۔ یہ اوصاف اظہار اور انسانی توکائناتی تعامل کی عکاسی سے حاصل ہوتے ہیں۔ غزل اردو کے جملہ اصناف میں شہہ سخن ہے ؛ اس صنف سخن میں وقت اور دستاویزیت کی قید اگرچہ نہیں لیکن لفظی نظام کی تشکیل وترتیب میں بے احتیاطی اور ہنگامی ترغیب وعوامی طلب کے ساتھ فیشن کی پیروی ایسی غزلوں کاموجب بنتی ہے جو وقت کے حصار میں دم توڑنے کومجبور ہیں۔ اس کی ایک سامنے کی مثال اس زخمی کبوتر سے دی جاسکتی ہے جوامن کے مجروح اور لب جاں سفیر کی حیثیت اختیار کر سکتا تھا لیکن وہ گجرات کے منظر میں قربان ہوکر ایک تاریخ اور وقت کی ایک تصویر کا پابند ہوگیا۔ یہ ہنگامی ترغیب اور عوامی طلب کے شرائط پر پورااترتا تھا اس لیے خوب خوب نچایا اور گھمایا گیا لیکن آج اس کا انجام کیا ہے؟ یہ سب کو معلوم ہے۔ بات یہ کہنی ہے کہ وبا کی صورت حال بھی ایسے ایک ادب اور غزلیہ شاعری کوناگزیرکیے ہوئے ہے اور یہ ناگزیر ی نہ زیادہ بھلی نہ بری ؛ طلب اور کھپت کا مسئلہ ہےجو چلتا آرہا ہے اور چلتا رہے گا۔ ایسی صورت حال میں کسی ایسے کلام کو منظر عام آنا جواپنے لفظی نظام اور معنیاتی جہان میں تازہ کاری کی مثال ہوتے ہوئے وقت کی آنچ سے محفوظ رہنے کی قوت رکھتاہو؛ اہل ذوق کے لیے شوق وتحیر کی خبر سے کم اہمیت نہیں رکھتا۔ اس وقت احمد محفوظ صاحب کی غزل پیش نظر ہے۔  (یہ بھی پڑھیں جلتے ہوئے جنگل کی روشنی میں۔ایک تعبیر- تفسیر حسین )

یہ غزل محض غزل نہیں ہے۔ یہ اپنے آپ میں ایک معنیاتی وصوتی آہنگ کی تشکیل ہے۔ صوتی آہنگ تو بالکل سامنے کی چیز ہے۔ اسے بنانے میں سہولت اور پرکاری کوجس طرح پیش نظر رکھاہے وہ اپنے آپ میں صناعی وفنکاری کی دلیل ہے۔دیکھنے میں سہل اور سوچ کر دیکھیے تو ممتنع کی کیفیت سے دوچارکرتی ہے۔ پوری غزل غنائی ماتم کے تاثر سے لبریز ہے

۱۔ کیا سینہ ہے گلستاں کی صورت

ہر گل ہے چراغ جاں کی صورت

 

پہلا‌شعر یعنی مطلع اپنے ترکیبی نظام میں مانوس الفاظ رکھتاہے لیکن یہ مانوس الفاظ مانوس معنی کے حامل نہیں ہیں۔ اس کی معنیاتی ترکیب ذرا دور کے معنی سے کی گئی ہے اوراس کے معنی مصرعۂ ثانی سے طے ہوتے ہیں۔ اسے طے کرنے میں’ چراغ جاں ‘کا لفظ کلیدی کردار ادا کرتاہے۔ یہی لفظ گل کے معنی بھی متعین کرتا ہے اور مصرعۂ اول میں گلستان کے معنی تک ہمیں رسائی دیتاہے۔ گل بمعنی پھول کے نہیں ؛فلیتہ یاجلی ہوئی چراغ کی بتی کے معنی میں مستعمل معلوم ہوتاہے۔ انسانی نفوس کی رحلت اور ان سے ہماری قربت نے غم کو سینے کا داغ بنا لیا ہے۔ یہ داغ ایک کا نہیں ہے اس میں سینکڑوں شامل ہیں۔ اس لیے اب سینے نےگلستان کی صورت اختیار کرلی ہے۔ زندگی سے رہا ہونے والا ہر فرد جلی ہوتی بتی کی صورت ہے اور یادوں  میں زندہ  ہے ۔ اس کا بخشا ہوا داغ مفارقت تازہ ہے؛ سو چراغ جاں کی صورت ہونا خوب ہے۔ میر کہتے ہیں:

نور چراغ جان میں تھا کچھ یوں ہی نہ آیا لیکن وہ

گل ہو ہی گیا آخر کو یہ بجھتا سا دیا افسوس افسوس

اب” ہر گل ہے چراغِ جاں کی صورت ” شعر کی قرأت میں آسانی پیدا ہو گئی۔ یہاں گل اور گلستان کے متداول معنی سے گریز کی صورت روشن ہوجاتی ہے۔ شعر شدت تاثر سے لبریز ہے۔

۲۔رہرہ کےزمین  دیکھتا  ہوں

میں دیکھ کے آسماں کی صورت

دوسرا شعر اپنے معنیاتی نظام میں کلاسیکی غزل سے ہم رشتہ ہے۔ آفت اور حادثے کی نسبت آسمان کی طرف کرنا  کلاسیکی شعراء کا عام وطیرہ رہا ہے۔ شعر میں کسی آفت ، حادثے یا آسمان کی ستم رانی کا کوئی مذکور نہیں۔ ایک منظر ہے مشاہدے کا اور اس میں ساری بے کسی وافسردگی کا قصہ خاموشی سے بند کردیا گیا ہے۔ میر کے اشعار ہیں:

اول زمینیوں میں ہو مائل مری طرف

جو حادثہ نزول کرے آسمان سے

اور

ہر صبح میرے سر پر اک حادثہ نیا ہے

پیوند ہو زمیں کا شیوہ اس آسماں کا

 

اب زیر بحث شعر پر غور فرمائیے کہ یہ بیک وقت منظر وکیفیت کا حامل ہے۔ یہ ذاتی تاثر کاشعر ہے لیکن وہ ذاتی تاثر صورت حال کے سیاق میں ذاتی نہیں رہتا کُرّہ جاتی بن جاتا ہے۔ یہاں آسمان کی ستم ظریفی پر واضح  نوحہ گری سے احتراز ہے۔ شعر خاموش کیفیت کے اظہار سےتأسف کی ایسی زنبیل بن گیا ہے جو ہر ایک کے کام کی ہے۔ اس سلسلۂ الفاظ کا ایک شعر آتش کا بھی دیکھیے:

نہ چھوڑے گا کسی کو آسمان بے گور میں بھیجے

سمجھ  زیر زمیں  اس  کو جو  بالائے  زمیں  آیا

شعر بہت واضح ہے اور رائج مضمون کی پیروی کرتا ہے۔ ایک بار اور زیر بحث شعر ایک نظر دیکھیے:

رہرہ  کے  زمین     دیکھتا  ہوں

میں دیکھ کے آسمان کی صورت

شعر کی خوبی یہ ہے کہ یہ توضیح وتصریح سے اجتناب کرتا ہے۔ یہ زمین وآسمان کا کوئی واضح کردار متعین نہیں کرتاکہ آسمان کی سمت گری ملاحظہ کی جارہی ہے یا پھر اہل زمیں کی بے کسی وبے بسی ہی اس ملاحظے کی اصل وجہ ہے۔ اس طرح شعر کے امکانی‌معانی‌ کئی طرح سے اخذ کیے جاسکتے ہیں۔ یہ مرگ انبوہ کی صورت حال کو واضح کرتاہے۔ یہ مشاہدہ سے ہونے والی حیرت وتأسف کی ترجمانی کرتا ہے؛ عاجزی کےدعائیہ طرز اظہار کی اک صورت بھی شعر میں پوشیدہ ہے۔ زمین وآسمان ایسے مقابل علائم میں بدل گئے ہیں جو معنی‌کے پھیلاؤ اور توسیع کو ناگزیر کرتے ہیں۔

٣۔جان تیر کی طرح کیوں نہ نکلے

جب تن ہو کڑی کمان کی صورت

کمان کوابرو اور خمیدہ جسم دونوں کے مقابل لایا جاتاہے۔ یہاں تو کمال ہی ہو گیا ہے۔ روح وجسم کے مقابل جس تیر وکمان کو رکھا ہے ، وہ اپنے آپ میں لا جواب وبے مثال ہے۔ یہاں بھی ایک طرح سے لفظیات کی معنوی توسیع ہے۔ تیر وکمان کے الفاظ جسم کے عام تجربے ،حسن ودید اور عشقیہ مضمون کے بجائے ایک ایسے تجربے کو بیان کرنے میں صرف ہوئے ہیں جوموت کا تجربہ ہے۔  یہی پہلو شعر کی تب وتاب کو دوبالا کردیتا ہے۔ میر جی کہتے ہیں:

شوق میں تیر سے چلے اودھر

ہم خمیدہ قداں کمان سے لوگ

جاتے ہیں اس کی جانب مانند تیر سیدھے

مثل کمان حلقہ قامت خمیدہ مردم

احمد محفوظ صاحب کا شعر حسن کے حضور حاضری یاحسن کی طرف کھنچنے کا مضمون سامنے نہیں لاتا۔ وہ راست طورپر قفس عنصری سے روح کی پرواز کو کیفیت دیتا ہوا معلوم ہوتا ہے؛اس لیے کمان وتیر کی پائمال راہ سے الگ رستہ بناتاہے۔ روح کے نکلنے یا جان کے جانے کی ایسی کیف آور تعبیر ہے کہ بن کہے اپنی داد وصول کرتا ہے۔

۴۔     دیکھی تھی یقین کی ایک جھلک سی

پھرتا ہوں  عجب  گماں کی  صورت

اضداد کا کیا ہی خوب استعمال ہے۔ زندگی کی  رمق اور موت کی بے چہرگی کے درمیان ہراساں رہنے کی کیفیت کو کس خوبی سے نظم کیا ہے۔ یقین کو گمان کے مقابل میر نے بھی نظم کیا ہے وہ کہتے ہیں:

ہے مجھ کو یقیں تجھ میں وفا ایسی جفا پر

گھر چاک برابر ہوئے اس میرے گماں کا

ہم کہہ سکتے ہیں کہ زمانی بعد یا پھر غالب شعری فضا کے زیر اثر پیدا ہونے والا لہجاتی فرق زیر بحث شعر میں دیکھا جاسکتاہے۔ شعر متکلم کی خودکلامی اور انکشاف کی جس واردات کو سامنے لاتا ہے وہ ذات کے آشوب سے قاری کو دوچار کرتی ہے۔

اگلے شعر میں غیر یقینی صورت حال کی توسیع ہے۔ زندگی کرنے کے عام طور کا مفقود ہونا، غم کے آسیب اور خوف وخدشے کے آشوب کا بدستور قائم رہنا صبح کی روشنی کی کیفیت تو نہیں ہو سکتا ،اسے شب درمیاں کی صورت ہی کہا جاسکتاہے۔

٥۔پھرشاموسحرکہاںکہجبہے

ہستی شب درمیاں کی صورت

صورت حال کی ابتری نے وحشت کو اوج کمال پر پہنچا دیا ہے گو ضبط کی آزمائش انتہا کوپہنچ کر این آں کرتے کرتے چیں بول جاتی ہے اور ناطقہ چیختا ہے:

٦۔اباورنہیں ہے تاب  وحشت

بس دیکھ چکے جہاں کی صورت

اوپر غزل کے معنیاتی آہنگ کا ذکر ہوا تھا۔ اس غزل کے معنیاتی آہنگ کو بیان کرنا ہو تو اسے کس طرح بیان کیا جائے۔ یہ معاملہ ہرقاری کی صوابدید ،اس کے بیدار احساس ،افتاد طبع اور سخن فہمی پر مبنی ہے کہ وہ غزل کی داخلی معنیاتی  تسلسل کو کس طرح دریافت کرتا ہے۔ میں اپنی بساط بھر غزل کے مجموعی تاثر کو بیان کرتاہوں۔

زندگی کے چراغ لو دے رہے تھےکہ اچانک بھبھکنے لگے۔ہوا تیز ہوگئی یا پھر ہوا رک رک کے پہنچ رہی تھی۔ انھیں ٹھیک کرنے کی تدبیریں ہوئیں۔ بہتیرے ٹھیک ہوئے اور بہت سے بجھ گئے۔ ان کی بتیاں مردہ  گردنوں کی طرح جھول گئیں۔ یا زمین پر ٹوٹ کر گر پڑیں۔ اب انھیں چراغ کی گردن پہ سجانا ممکن نہ رہا۔ چراغ کے ساتھ تو کوئی میکانیکی تدبیر ممکن تھی لیکن یہ روشنی اور نور کے بقعے بنانے والے چراغ تو چراغ نہیں ،چراغ جاں تھے، جن کی بتیوں کو کھینچنے اور روشنی کو بحال کرنے کا کوئی نسخہ ہمارے پاس نہیں۔ کیا کریں اس غم کو سجائے سینے پر گلستاں کا منظر دیکھتے ہیں۔ گل یعنی بجھ کر ٹوٹی اور گری ہوئی بتیوں سے آراستہ گلستاں۔ اس گلستاں کو دیکھنے کی سکت اور اسے گلستاں بلانے کا حوصلہ سب میں کہاں۔  ایسی بے سرو سامانی اور مرگ انبوہ کی صورت ہے کہ صاحب عرش کی طرف نگہ اٹھتی ہے اور اس سے بے کسی کا شکوہ کرتا ہوں۔ مالک یہ کیا صورت ہو گئی زمین کی ، قافلے والےسب اپنی ہستی کو زمین کا پیوند کرتے جاتے ہیں۔ یہ چرخ‌کیوں کر دشمن ہوا ہے یہ کب تک دشمنی نباہے گا۔ پیرفلک زمانے سے زمین پر حادثوں کا سازشی چرخہ کاتتا رہا ہے۔ اس بوڑھے کی ستم سامانیاں تمام ہونے کا نام نہیںلیتیں۔ یہ سلسلہ کب تلک جاری رہے گا۔ صاحب عرش کب اہل فرش پر مہرباں ہوں گے؟ ہو جائیے۔ جانیں کس کسم پرسی سے قفس سے رہا ہورہی ہیں۔ یہ سانسیں اٹک اٹک کر انسانوں کوخمیدہ بنائے دیتی ہیں۔ وہ کھانس کھانس کرکمان ہوا جاتاہے۔ زندگی وجود میں چھبتے چھبتے آخر خود تیر ہو گئی ہے اور جسم کی کماں سے کس سرعت سے رہاہوئی۔ آہ انسان خود ہی تیر ہے خود ہی کمان اور خود ہی قتیل۔ سارے اثاثے زندگی سے موت کی طرف بڑھنے کے اسی میں دھرے ہوئے ہیں۔ زندگی یقین کی صورت جگمتاتی اور چہچہاتی ہے اور اب تو بس ایک ڈھڑکا ہے کہ کب یہ جاتی رہے۔ بس زندگی کا وہم بچ رہے۔ یقین کا تابناک چہرہ سرابی گمان میں بدل گیا ہے۔ غیر مستحکم ہونے کا  ہولناک تجربہ ہے جو ہم پر ہو رہا ہے ۔ ہم تو تماشائی بھی نہیں۔ ایک مجبور مشاہد ہیں جسے بہر صورت گماں سے گزرتے رہنا ہے۔ کیفیت واحساس سے معمول بے دخل ہوگیاہے۔ کو ئی صبح طلوع نہیں ہوتی۔ سورج نہیں چڑھتا اور نہ ہی شام کے منظر سے رابطہ بچا ہے۔ یہ بیچ رات کی تاریکی حصے میں رہ گئی۔ اندھیرے میں ٹامک ٹو ئیاں مارتا ہوں۔ معلوم نہیں کون کون اس نامعلوم اور نادیدہ شب خون کا شکار ہوکر بسترمرگ پر جا پہنچا ہے۔‌ زندگی کا یہ کیسا قحط ہے؟ جہاں شکم سیر دنیا موت کی ارزانی سے گزرتی جاتی ہے۔ یہ نادیدہ قحط زندگی کو ارزاں کیے ہوئے قحط الرجال بپا کرنے کے درپہ ہے۔ایسی وحشت ، ایسوں ایسوں کے بچھڑنے کا غم ، اب اس سے سوا نہیں۔دنیا‌کا یہ چہرہ دیکھنے کا اب حوصلہ نہیں۔ اس طرح پوری غزل میں معنیاتی کا آہنگ کا ایک تسلسل قائم ہوجاتا ہے۔ صوتی ومعنیاتی آہنگ مل کر غزل کی کیف آفرینی تیز تر کردیتے ہیں۔

غزل کے اندر موجود معنیاتی وصوتی آہنگ سے کیف آوری اور معنی آفرینی کی جو صورت کسب ہوتی ہے۔حسیات پر جس طرح وہ اثر انداز ہوتی ہے؛ نثر میں اس کیفیت ومعنویت کے ممزوج کو تیار کرنا  بہت ہی مشکل کام ہے۔ میں ناممکن اس لیے نہیں کہتا کہ نادر الوجود کاوجود میں آجانا بہر صورت امکان میں ہے۔اس غزل کے معنیاتی امکانات وسیع ہیں۔ یہ قدرتی آفات کی مختلف صورتوں میں انسانی احساس کی ترجمانی کرتی ہے۔ کسی غالب طاقت کے ذریعے مغلوب آبادی کی کسم پرسی پر منطبق کی جاسکتی ہے ؛ اس میں زمان ومکان کی کوئی قید نہیں ہے۔ اس غزل کا ہر شعر مختلف موقع ومحل کا ترجمان بننے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اس طرح اس غزل کی خوبیاں ظاہر وباہر ہیں۔

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

ahmad mahfuztafseer hussainاحمد محفوظتفسیر حسین
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اقبال حسن آزاد کی افسانہ نگاری – پروفیسر اسلم جمشید پوری
اگلی پوسٹ
اردو شاعری کا آغاز و ارتقاء‎ – ساجد حمید

یہ بھی پڑھیں

برگِ سخن کی بات ہے دل تھام لیجیے...

جنوری 31, 2026

نوجوان شعراء کی نئی نسل: سفر، سفیر اور...

اکتوبر 11, 2025

صاحب ذوق قاری اور شعر کی سمجھ –...

مئی 5, 2025

 ایک اسلوب ساز شاعر اور نثر نگار شمیم...

جنوری 20, 2025

حسرت کی سیاسی شاعری – پروفیسر شمیم حنفی

جنوری 15, 2025

غالب اور تشکیک – باقر مہدی

جنوری 15, 2025

غالب: شخصیت اور شاعری: نئے مطالعے کے امکانات...

دسمبر 17, 2024

غالب اور جدید فکر – پروفیسر شمیم حنفی

دسمبر 9, 2024

اردو شاعری میں تصوف کی روایت – آل...

دسمبر 5, 2024

غالب کی شاعری کی معنویت – آل احمد...

دسمبر 5, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (119)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں