اقبال حسن آزاد کا شمار 1980ء کے آس پاس کے افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ آپ کے افسانوں میں سماج کا کرب عام انسان کی زندگی کے لیے جدوجہد اور فن پختگی ملتی ہے جو آپ کو اپنے ہم عصروں میں ممتاز کرتی ہے۔آپ کے افسانے تواتر سے ہندو پاک کے رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ ناقدین کی گروہ بندی نے آپ کو خاطر خواہ مقام نہیں دیا۔جس کے آپ مستحق تھے،لیکن اقبال حسن آزاد نے کبھی اس کی پروا نہیں کی۔وہ اپنے طور پر افسانے تخلیق کرتے رہے۔
اقبال حسن آزاد کے تین افسانوی مجموعے ”قطرہ قطرہ احساس“(1987ء)مردم گزیدہ (2005ء)پورٹریٹ (2017ء) میں شائع ہو چکے ہیں۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ اقبال حسن آزاد کا شمار 1980ء کے آس پاس کے افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔اقبال حسن آزاد نے نہ تو جدیدیت،نہ مابعد جدیدیت اور نہ کسی اور رجحان کو اپناآئیڈیل بنایا بلکہ خود جو محسوس کیا اور اپنے آس پاس کے کرداروں کا ظاہر اور اندرون پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی۔ ان کے زیادہ تر افسانے اختصار کے جوہر سے متصف ہیں۔ ان کے افسانوں کے تعلق سے کافی لکھا جا چکا ہے۔ان کے بزرگوں اور معاصرین نے ان پر متعدد مضامین قلم بند کیے ہیں۔میں یہاں دو اقتباسات فیصل اقبال اور ڈاکٹراقبال واجد کے پیش کرنا چاہوں گا:
”اقبال حسن آزاد ذاتی مشاہدے اور مطالعہ کے نتیجے میں انسانی نفسیات کا جو تجزیہ کرتے ہیں خواں وہ ”پیچ در پیچ“میں مضمر جنسی نفسیات ہو یا ”ڈوبتا ابھرتا آدمی“ یا ”مردم گزیدہ“ کے تحت اخلاقی دیوالیہ پن کا المیہ۔داخلی اور خارجی تمام موضوعات کو وہ اس گہرائی اور گیرائی کے ساتھ اپنے افسانوں سے ہم آہنگ کرتے ہیں کہ ان کی دروں بینی اور پختہ فنی پر کبھی کبھی حسرت ہوتی ہے۔ وہ نہ صرف آس پاس کے واقعات و حادثات پر نظر رکھتے ہیں بلکہ عالمی پیش رفت کو بھی پوری بصیرت کے ساتھ افسانوں کے آئینہ خانے میں اُجاگر کرتے ہیں۔نہیں ممی نہیں، شو پیس اور رونے والے، ایسے افسانے ہیں جن کے مطالعہ سے مذکورہ حقائق پوری طرح واضح ہو جاتے ہیں۔
(مردم گزیدہ، اقبال حسن آزاد، ایجوکیشنل پبلی شنگ ہاؤس دہلی ص، 8-9، 2005ء)
”اقبال حسن آزاد اپنے ہم عصروں میں ان معنوں یں مختلف ہیں کہ افسانوی تخلیق کا دست یزان کے پاس ہے۔ ان کے افسانوں کے مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ اس ہنر سے واقف ہو گئے ہیں جو افسانے کو افسانہ بناتا ہے۔ افسانوی تخلیق کی ہنرمندی ان کا وہ تخلیقی اعجاز ہے جو ان کے افسانوں میں چھایا ہوا ہے۔اس دست ہنر کی وجہ سے ان کے ہر افسانے سے قاری کا ایک اٹوٹ رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔ افسانہ قاری کو نہیں چھوڑتا نہ اسے اکتاہٹ کا شکار ہونے دیتا ہے۔“ ( یہ بھی پڑھیں قیدی:کرب ناک المیوں کی داستان – ڈاکٹر جمیل حیات )
(ڈاکٹر اقبال واجد،ص،11-12، پورٹریٹ،اقبال حسن آزاد، ایجوکیشنل پبلی شنگ ہاؤس دہلی، 2017ء)
جیسا کہ اوپر کے اقتباسات سے واضح ہوتا ہے کہ اقبال حسن آزاد کے پاس نہ مواد کی کمی ہے نہ ہنر کی۔ افسانے کی رگ رگ سے بہتر طور پر واقف ہیں۔اس لیے وہ ایسے افسانے بھی قلم بند کرتے ہیں جس میں وہ انسان تو انسان خدا سے بھی مکالمہ کرتے ہیں۔ایسے بہت سے افسانے ہیں جو ان کی فنی مہارت کے سبب انسان کے اندرون کو بے نقاب کردیتے ہیں اور اقبال حسن آزاد کو اپنے معاصرین میں فوقیت عطا کرتے ہیں۔
جہا ں تک اقبال حسن آزاد کے معروف افسانوں کا سوال ہے تو اس میں، چاندی کے تار، شجرہ، پیچ در پیچ، ڈوبتا اُبھرتا آدمی، مردم گزیدہ، رونے والے، قطرہ قطرہ احساس،پورٹریٹ، دھند میں لپٹی ایک صبح، کاٹنے والے جوڑنے والے، عید کا چاند، پھر کب آؤگے، جلتی ریت پر ننگے پاؤں سفر، گملے میں اُگی ہوئی زندگی،لامکاں، جیسے افسانوں کا شمار ضروری ہوگا۔ اقبال حسن آزاد بطور افسانہ نگار ایک مستحکم شناخت رکھتے ہیں۔انہیں فن افسانہ نگار ی پر بھی عبور حاصل ہے۔وہ ہمارے عہد کے ایسے افسانہ نگار ہیں جنہوں نے کبھی نہ مصلحت سے کام لیا اور نہ کسی قسم کا سودا کیا،بس افسانے اور افسانے لکھتے رہے،کبھی خود اشتہاریت کا شکار نہیں ہوئے۔ ( یہ بھی پڑھیں شوکت حیات:اردو افسانے کا سنگِ میل – ڈاکٹر وصیہ عرفانہ )
اقبال حسن آزاد کے بہت سے افسانے تفصیلی مطالعہ کا تقاضا کرتے ہیں۔ان کا افسانہ ”خدا سے مکالمہ“اور ”لامکاں‘ تقریباً ایک جیسی روح رکھتے ہیں۔”خدا سے مکالمہ“میں اقبال حسن آزاد نے کچھ نیاپن لانے کی کوشش کی ہے۔ افسانے کا مرکزی کردار صیغہ واحد متکلم یعنی میں کو پتہ ہے کہ خدا دل میں بستا ہے وہ اپنے دل میں اتر کر خدا کو تلاش کرتا ہے اور سوال کرتا ہے۔جواب آنے پر وہ حیران تو ہے لیکن پھر دنیا بھرکے سوالات کرتا ہے،نیکی، بدی، اچھا انسان، بُرا انسان، آسودہ انسان،ناآسودہ انسان، الغرض وہ ایسے عام سوالات کرتا ہے جو ایک عام مسلمان کے دماغ میں آسکتے ہیں۔ایسے ہی سوال و جواب میں افسانہ ختم ہو جاتا ہے اور آخر میں یہ ہی تاثر بنتا ہے کہ خدا دل میں بستا ہے اور اسے کبھی کبھی پکارا جا سکتا ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں انجم عثمانی کے افسانوں میں قصباتی زندگی کی عکاسی – ڈاکٹر عزیر احمد )
افسانہ مکالموں میں ہی ختم ہوجاتا ہے۔ افسانے میں قصہ پن کی کمی نظر آتی ہے اور اصلاحی رنگ اتنا عالب ہے کہ افسانہ کوئی پندو نصیحت جیسی چیزلگتا ہے۔اور افسانے میں وہ بات پیدا نہیں ہوتی جو قاری کو بے چین کر دے۔
اس کے برعکس ”لا مکاں“ میں ایک نیا شادی شدہ جوڑا ہے جو اپنے دوکمرے کے مکان کو سلیقہ سے سجاتا ہے اور بالآخر مذہبی کتاب کے علاوہ سب چیزیں اپنی جگہ سلٹ ہوجاتی ہیں لیکن اس مقدس کتاب کے لئے کوئی جگہ نظر نہیں آتی۔بالآخر اسے مسجد میں رکھے جانے کا مشورہ ہوتا ہے۔کہانی ختم ہو جاتی ہے۔لیکن بڑی سنجیدگی کے ساتھ قاری کے اندر اتر جاتی ہے اور اسے سوچنے پرمجبور کر دیتی ہے کہ مذہبی چیزوں کی اہمیت ہماری زندگی میں دیگر اشیاء سے کتنی کم ہو گئی ہے۔
”ڈرائنگ روم میں یاتو اسے ٹی وی کے اوپر رکھا جا سکتا ہے یا پھر کتابوں کی الماری میں،لیکن دونوں ہی جگہوں پر اس کی بے حرمتی ہوتی کیونکہ ٹی وی پر تصویریں آتی ہیں اور الماری میں جنسی کتابیں رکھی ہوئی تھیں۔دونوں کافی دیر تک سر جوڑے اس مسئلہ کا حل سوچتے رہے۔آخر عورت نے تھکے تھکے لہجہ میں کہا۔
”کیوں نہ اسے مسجد میں بھیج دیا جائے۔“
مرد نے کوئی جواب نہ دیا۔اس کے پاس کہنے کو اب رہا ہی کیا تھا۔
(افسانہ لا مکاں،اقبال حسن آزاد)
”مردم گزیدہ“ اقبال حسن آزاد کی بہت اچھی کہانی ہے جس سے میں تجسس اور تحیر ہر وقت قائم رہتا ہے اور انسان کی دوسرے انسان سے بیزاری،اپنے آپ میں مگن رہنا اور بے فکری شامل ہے۔انسان دوسرے کو اذیت میں گھرا دیکھ کر اس کی مدد نہیں کرتا بلکہ خوش ہوتا ہے۔یہ انسانی فطرت ہے جسے افسانہ نگار نے افسانے میں عمدگی سے پیش کیا ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار جب مکان کی تلاش میں صبح صبح ایک گلی میں کتّوں سے گھر جاتا ہے تو پاس میں چائے کی دکان پر بیٹھے لوگ تماشا دیکھتے ہیں۔ کوئی اس کی مدد کو پاس نہیں آتا۔ہاں جب وہ شخص کتّوں پر قابو پا لیتا ہے او ر ان کو مار بھگا دیتا ہے تو وہی لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں۔اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ انسان کو کسی سہارے کی امید نہیں کرنی چاہیے اور اپنی لڑائی خود لڑنی چاہیے۔
”آپ ڈرتے نہیں؟ بڑے بہادر ہیں آپ!“
”وہ کالی چمڑی والا تو بڑا حرامی کتّاہے۔کئی لوگوں کو کاٹ چکا ہے۔“پان کی دکان پر بیٹھے ہوئے بانکے نے وہیں سے کہا۔تبھی مکان کا گیٹ کھلا اور پانی بھرنے والا آدمی باہر نکلا۔
”میں سوچ رہاتھا کہ یہ کتّے کیوں بھونک رہے ہیں۔“
مالک مکان نے بالکنی میں کھڑے کھڑے ہاتھ ہلا کر کہا۔
”آجائیے،آجائیے!آب خطرے کی کوئی بات نہیں،اوپر آجائیے۔“
اس کے ہاتھ میں اب بھی چند ڈھیلے بچ رہے تھے۔اس نے حقارت کے ساتھ ڈھیلوں کو سڑک کے کنارے پھینکا اور واپسی کے لیے مڑ گیا۔
(افسانہ مردم گزیدہ،اقبال حسن آزاد)
کہانی میں کلید کی حیثیت جملہ ”واپسی کے لیے مڑ گیا“ہے یہ جملہ واضح کرتا ہے کہ افسانہ نگار نے مکان کی تلاش کے مسئلہ کو ترک کر دیا ہے۔کیونکہ اس نے دیکھ لیا تھا کہ مالک مکان بھی بالکنی میں کھڑا اسے اُوپر بلا رہا تھا اس نے بھی نیچے آکر کتّوں سے لڑائی میں اس کا ساتھ نہیں دیا۔اسی لیے افسانہ نگار نے آخر میں جس جذبے کا اظہار کیا ہے وہ بہت فطری ہے۔حقارت کے ساتھ،ڈھیلوں کو پھینکنا اور واپسی کے لیے مڑ جانا یہ کردار کے مصمم ارادے کو ظاہر کرتا ہے۔ یوں تو اقبال حسن آزاد کی بہت سی ایسی کہانیاں ہیں جن پر تفصیل سے گفتگو ہونی چاہیے لیکن میں یہاں ان کی ایک خاص کہانی ”جلتی ریت پر ننگے پاؤں سفر“ کا ذکر ضرور کرنا چاہوں گا۔چار صفحہ کی یہ چھوٹی سی کہانی ہے،لیکن اس میں راوی کی تنہائی اور تنہائی کے صلہ میں ملنے والی پریشانیوں کا ایسا بیان ہے کہ قاری مجبور ہو جاتا ہے کہ وہ اس کی مدد کرے۔آخر میں اپنی طبیعت کی خرابی سے مجبور ہوکر وہ غش کھا کر گر جاتا ہے۔تب اسے اپنا ماضی،اپنا گھر، اپنے اور عزیز واقارب سب یاد آتے ہیں۔یہ تنہائی کا وہ عالم ہے کہ جس میں کردارحال سے ماضی کی طرف سفر کرتا ہے۔کہانی میں معاون کردار کے طور اس کا نوکر رامو بہترین کردار ادا کرتا ہے۔اور بالآخر اس کی ڈائری سے اس کا پتہ نوٹ کرکے اس کے گھر اس کی بیماری کی اطلاع بھیج دیتا ہے اور کہانی ختم ہو جاتی ہے۔لیکن بہت سارے سوال قاری کے لیے چھوڑ جاتی ہیں۔ زندگی کا یہ کیسا سفر ہے؟ راوی کیوں ایسی تنہائی کا شکار ہے؟اچھے دنوں میں اس نے اپنے گھروالوں کو کیوں یاد نہیں کیا؟ کہانی اقبال حسن آزاد کی فنی پختگی پر دال ہے۔اور ایسا لگتا ہے کہ افسانہ نگار کے ساتھ ساتھ قاری بھی جلتی ہوئی ریت پر ننگے پاؤں سفر کررہا ہے اور اسے پیروں کے ذریعہ ریت کی جلن اپنے دماغ میں محسوس ہونے لگتی ہے۔یہ ایک کامیاب کہانی کی پہچان ہے۔ (یہ بھی پڑھیں عصمت چغتائی: کھلے پنکھ والی افسانہ نگار – ڈاکٹرپرویز شہریار )
اقبال حسن آزاد کے زیادہ تر افسانے عام انسانوں کے دردو و غم سے بھرے ہیں،جن میں اکثر افسانہ نگار خود بھی شامل نظر آتاہے۔ان کے زیادہ تر کردار ہمارے آس پاس کے کردار ہیں جو ہمیں جھنجھوڑتے بھی ہیں اور زمانے تک ہمیں یاد رہتے ہیں۔
٭
Prof. Aslam Jamshedpuri
HOD, Urdu, CCS University, Meerut
aslamjamshedpuri@gmail.com
09456259850,/8279907070(Whatsapp)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

